انسانیت کا ہیرو “ایڈورڈ سنوڈن”‎ —– منصور ندیم

0

16 ستمبر سنہء 2016 میں ہالی وڈ سے ریلیز ہونے والی فلم، جو امریکی خفیہ اداروں میں کھلبلی مچانے والے ایڈورڈ سنوڈن کی زندگی پر بننے والی فلم ”سنوڈن“ دنیا بھر میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم ”سٹوڈن“ کی کہانی امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ایک سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے گرد گھومتی ہے، ایڈورڈ سنوڈن این ایس اے کی نگرانی کے دو انتہائی خفیہ پروگرام سے میڈیا کو آگاہ کردیتا ہے جس کے بعد امریکی خفیہ اداروں میں کھبلی مچ جاتی ہے اور سنوڈن ملک سے فرار ہوجاتا ہے، اس فلم کی ہدایتکاری الیون اسٹون نے دی تھی۔

یہ کہانی ایک حقیقی امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہلکار 37 سالہ سنوڈن ایڈورڈ کی ہے، جو امریکی حکومت کے خفیہ نگرانی کے منصوبے کی خفیہ فائلز لیک کرکے عوام کے سامنے لایا تھا، ان فائلز میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکہ کی قومی سلامتی ایجنسی نے جہاں وہ کنٹریکٹر تھا، وہاں وسیع پیمانے پر ملکی اور بین الاقوامی آپریشنز کی نگرانی کی گئی تھی۔ اس منصوبے کو افشا کرنے کے بعد سنوڈن 2013 میں امریکہ سے فرار ہو گیا تھا، اور اسے روس میں پناہ دی گئی تھی۔

ایڈورڈ سنوڈن امریکی ایٹیلیجنس کے علاوہ امریکہ کے قومی سکیورٹی کے ادارے میں بھی کام کر چکا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے ملک کے اندر اور باہر لوگوں کے فون، میسیجز اور ای میلز پر نظر رکھنے کے منصوبے کی معلومات لیک کرنے کے بعد سے اس کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے, اسی وجہ سے اس نے روس میں پناہ لے لی تھی۔

17 ستمبر 2019 کو امریکی حکومت کے خفیہ نگرانی کے منصوبے کو عوام کے سامنے لانے والے امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن اپنی کہانی ایک کتاب کی صورت میں شائع کی تھی، ایڈورڈ سنوڈن کی اس کتاب کا نام ’پرمیننٹ ریکارڈ‘ Permanent Record ہے, جسے میک میلن پبلشرز نام کی برطانوی کمپنی نے شائع کیا ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن کے خلاف امریکہ میں جاسوسی کے مقدمات درج ہیں جس کی بنا پر اسے کئی سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایڈورڈ سنوڈن نے پچھلے ہفتے امریکی شہریت کے علاوہ روسی شہریت کے لیے درخواست دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، سنوڈن نے اپنے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ
’مجھے اپنے والدین سے برسوں علیحدگی کے بعد، اب اور اپنی بیوی کو اپنے بیٹے سے الگ رکھنے کی خواہش نہیں ہے۔ اسی وجہ سے، وبائی مرض اور بند سرحدوں کے اس دور میں، ہم امریکہ اور روس کی دہری شہریت کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔‘
روس میں ان کے وکیل نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ سنوڈن کو مستقل رہائشی حقوق دیئے گئے ہیں۔

ایڈورڈ سنوڈن کی لیک کی ہوئی معلومات سب سے پہلے جون سنہء 2013 میں برطانوی اخبار ’دا گارڈین‘ میں شائع ہوئیں جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں قومی سکیورٹی کا ادارہ ’نیشنل سیکیورٹی ایجنسی‘ کروڑوں امریکیوں کے ٹیلیفون ریکارڈ کر رہا ہے۔ اس کے بعد ’دا گارڈین‘ اور امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے خبر شائع کی تھی کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی فیس بک، یاہو، مائیکروسوفٹ اور گوگل سے صارفین کی معلومات لیتی ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن نے ’سی بی ایس دس مورننگ‘ نام کے ایک شو میں انٹرویو کے دوران یہ کہا ہے کہ
“وہ امریکہ واپس جانا چاہیں گے۔ لیکن اگر مجھے اپنی باقی کی عمر قید میں گزارنی پڑے گی تو میرا ایک مطالبہ ہے کہ ہم اس بات پر متفق ہوں کہ مجھے کم از کم منصفانہ عدالتی کارروائی کا موقع دیا جائے۔ منصفانہ عدالتی کارروائی کا موقع وہ واحد مطالبہ ہے جو امریکی حکومت انہیں دینے سے انکار کر رہی ہے۔ ’کیونکہ وہ (امریکی حکومت) عوامی مفاد کے دفاع تک رسائی نہیں فراہم کریں گے۔‘

ایڈورڈ سنوڈن کا کہنا تھا کہ
“میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھے چھوڑ دیا جائے۔ میں جو مانگ رہا ہوں وہ منصفانہ عدالتی کارروائی ہے، اور یہ وہ بنیادی حق ہے جو ہر امریکی لینا چاہے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ لوگوں کو جیل میں پھینک دیا جائے اور عدالت کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع بھی نہ دیا جائے، حکومت الگ قسم کی سماعت کروانا چاہتی ہے، امریکی حکومت خاص طریقے استعمال کرنا چاہتی ہے، وہ نہیں چاہتی کہ عوام عدالت میں جائے اور دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ امریکی حکومت چاہتی ہے کہ عدالت بس یہ بتائے کہ یہ کام قانونی تھا یا غیر قانونی، امریکی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ عدالت یہ پوچھے کہ میں نے جو کیا, وہ کیوں کیا؟ کیا وہ امریکہ کے لیے اچھا تھا؟ اس کا فائدہ ہوا یا نقصان؟ وہ نہیں چاہتے کہ عدالت ان سب کو مدنظر رکھے۔ یہ نہیں کہ وہ صحیح تھا یا غلط۔ اور میں معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ عدالتی کارروائی کا مقصد ختم کر دیتی ہے۔”

ایڈورڈ سنوڈن کا امریکی حکومت کے خفیہ نگرانی کے منصوبے کے بارے میں کہنا تھا کہ
’اب ہم جو بھی کرتے ہیں وہ ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ ہم اسے یاد رکھنا چاہتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں اس کو بھولنے کی اجارت نہیں۔ مجھے سب سے زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ ایسا نظام بنانے میں میرا بھی ہاتھ ہے۔ لیکن میں ایسے معاشرے میں نہیں رہنا چاہتا جہاں اس قسم کا کام کیا جائے، میں ایسی دنیا میں نہیں رہنا چاہتا جہاں ہر وہ چیز جو میں کروں یا کہوں اس کو ریکارڈ کیا جائے۔ میں نے جنیوا میں جو زیادہ تر دیکھا، اس نے واقعی میں مجھے اس فریب سے باہر نکال دیا کہ کس طرح میری حکومت کام کرتی ہے اور اس کا دنیا پر کیا اثر ہوتا ہے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میں ایک ایسی چیز کا حصہ تھا جس کا فائدے کی بجائے بہت زیادہ نقصان ہے، مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے کہ میرا مستقبل کیا ہے، اگرچہ میں اپنا گھر دوبارہ دیکھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے اس کی امید نہیں ہے‘۔

کتاب شائع کرنے والی کمپنی کے چیف ایکزیکٹیو جون سارجنٹ نے ایڈورڈ سنوڈن کے لئے کہا تھا کہ
’ایڈورڈ سنوڈن نے ایسا کر کے بے پناہ ہمت کا مظاہرہ کیا ہے اور اب کوئی پسند کرے یا نہ کرے یہ ایڈورڈ سنوڈن ایک بہترین کہانی ہے۔‘

ایڈروڈ سنوڈن قومی سلامتی ایجنسی کے ادارے میں جو نوکری کرتا تھا وہاں اس کی تنخوا دو لاکھ ڈالر تھی۔ جسے اس نے صرف اخلاقی جواز کی بنیاد پر ٹھکرایا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20