بلوچستان سے آدھی ادھوری کہانیاں — محمد حمید شاہد

0

مجھے بلوچستان کے ایک نوجوان افسانہ نگار اسرار احمد شاکر کے افسانوں پر بات کرنی ہے اور رہ رہ کر دھیان میلان کنڈیرا کے اُس مکالمے کی طرف جارہا ہے جس میں فلپ روتھ نے اُس سے پوچھا تھا کہ آپ کے سبھی ناولوں کی تان جنس اور مباشرت کے مناظر ہی پر کیوں ٹوٹتی ہے؟ میلان کنڈیرانے اس سوال پر سٹپٹانے کی بہ جائے اعتراف کیا تھاکہ اس کے ہاں ایسا ہوتا رہا ہے۔ پھر اِدھر اُدھر کے حوالے دینے کے بعد کنڈیرا نے کہا تھا: ’’میرے خیال میں جسم کی یہ محبت کے اِن منظروں سے ایک تیز روشنی پھوٹتی ہے جو حیرت انگیز حد تک کرداروں کی اصلیت اور ان کی وجودی کیفیت کو منکشف کردیتی ہے۔‘‘ کنڈیرا کی اس بات کی طرف میرا دھیان تب گیا جب میں اسرار کا افسانہ ’’پانچ سیکنڈ کہ کہانی‘‘ پڑھتے ہوئے وہاں پہنچا تھا جہاں محض پانچ سیکنڈ ملاپ کی بات ہوئی تھی اور رحم مادر میں ایک نئے وجود کا تخم پڑ گیا تھا اور وہاں بھی جہاں اسی بچے کے باپ کے آہنی شکنجے میں اپنی زوجہ حاجو کا جسم تھا اور آنکھیں نہ چاہتے ہوئے بھی منے کے چہرے پر تھیں۔ اپنے ننھے منے بیٹے پر نظر رکھنے والی ماں اپنے شوہر کے جسم کو چومتی، چاٹتی اور اپنے گداز اور گرم ہونٹوں کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک گھسیٹتی لے جاتی تھی تو محبت کے اس دوطرفہ جذبے کا سارا علاقہ اس تیز روشنی میں نہا گیا تھا جس کا ذکر کنڈیرا نے اپنے انٹرویو میں کیا تھا۔ خیر، یہیں بتادوں کہ اسرار کے ہاں جنس بہت کم موضوع ہوئی ہے۔ اس کے ہاں وہ تعلق اہم رہا ہے جو اس جنس کے وسیلے سے قائم ہو سکتا تھا، قائم ہوا، یا پھر قائم ہو کر بوسیدہ ہوا اور یوں اُچٹ گیا جیسے کسی پرانی کتاب کی جلد پر لئی سے چپکایا گیا خوشنما کاغذ بدرنگ ہو کر اُچٹ جایا کرتا ہے۔

جس اُچٹی ہوئی محبت کا میں ذکر کر رہا ہوں ’’دو شادیوں کے بیچ، محبت اور موت کا حال‘‘ نامی افسانے کا موضوع ہو گئی ہے۔ سورج نے اپنی جو کہانی روایت کی ہے، اس کے آغاز میں کہانی کا مکمل خیال بیان کر دیا گیا ہے۔ یہ خیال، راگ دیپک میں خیال جیسا نہیں ہے۔ امیر خسرو نے راگ کے خالص پن کو برتنے کے لیے مبہم بول بنائے تھے ’’تنانی دی نی تان دھین دھین تنانانن‘‘، مگر یہاں جس خیال کی بات ہو رہی ہے، اس میں مبہم کچھ نہیں رہتا کہانی کا بھید یہیں کھل جاتا ہے۔ ایک عورت جو اپنے شوہر سے محبت کرتی تھی۔ جی، کوئی وجہ نہیں کہ ہم عورت کی اس محبت کو شک کی نگاہ سے دیکھیں جس نے اپنی شادی کی پہلی رات اپنے دولہا سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ اس کے بغیر نہیں جی سکتی۔ شوہر جو کتابوں کا رسیا تھا اپنے اس جنون میں عورت کو چڑچڑا بنا گیا تھا۔ کتابیں اس کی زندگی میں سوکن تھیں؛ سو کتابیں سو سوکنیں۔ کہانی بس اتنی ہے کہ یہ عورت ایک رات اپنے شوہر کو خواب میں دوسری شادی کرتے دیکھتی ہے تو دُکھ سے نڈھال ہو جاتی ہے۔ مگر جب اسے بتایا جاتا ہے کہ خواب میں عقد کی تعبیر عقد کرنے والے کی موت ہے تو وہی عورت جو سوکن برداشت نہیں کر سکتی تھی خوشی سے کھل اٹھتی ہے۔ اسرار نے یہ افسانہ واحد متکلم راوی (جو آخری سطروں میں نیم مردہ وجود ہو جاتا ہے) کے نقطہ نظر سے لکھا ہے، اسے اوندھا کر عورت کی طرف سے لکھا جاتا تو اُس بوسے تک آتے آتے کہانی بالکل مختلف ہو جاتی جو عورت نے اپنے مرد کی کتاب کو اُٹھا کر پہلی بار دیا تھا۔

ایک افسانے کا نام ہے’’مرد‘‘ اور یہاں جنس پوری طرح دخیل ہے۔ کونجاں کے سرپر ایسے مرد کا خیال سوار تھا جو دھرتی پر پائوں دھرے تو تنکے بھی اڑ کر ایک طرف ہو جائیں۔ یہ دیہی معاشرت میں پلی بڑھی عورت کی نفسیات کا قصہ ہے یہی سبب ہے کہ اس نفسیات میں مرد کی مردانگی اس کے جثے اور طاقت سے آنکی جاتی ہے۔ مرد کودلیر، طاقت ور، بلند قامت ہونا چاہیے۔ ڈاکو ہو اور ایسا بدمعاش کہ تھانے دار اس کی اوطاق پر چاکری کرتے نظر آئیں، تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ کونجاں عورت کا نام ہے اور ساحل مرد کا۔ ساحل باہر سے مضبوط مگر اندر سے سہما ہوا مرد ہے۔ پہلی رات کامیاب رہا مگر جب شہر چلے جانے اور کچھ وقت گزار کر واپس آنے پر اس کا دماغ درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑچکا تھا تو اسے کونجاں کے مقابل ہونا تھا۔ اس عورت کے مقابل جس کا جسم دھونکنی کی طرح دہک رہا تھا۔ تب مرد کی مرادنگی اڑنچھو ہو گئی تھی۔ جی وہی مردانگی جس نے کونجاں کو ساحل سے محبت پر اکسایا تھا وہ اب وہاں نہیں تھی کہ وہاں تو ایک خجل مرد پڑا ہوا تھا۔

’’برسوں بعد‘‘ مثالی محبت کی کہانی ہے۔ ایسی کہانی جس میں محبت زندہ رہتی ہے مگر مرد مر جاتا ہے۔ جی وہی مرد جو بیس سال پہلے شادو نامی الہڑ مٹیار کو دل دے بیٹھا تھا اور جسے بیس سال کے لیے گائوں بدر کر دیا گیا۔ اس پر حیران ہوا جاسکتا ہے کہ کوئی شخص بیس سال شہر میں رہ کر واپس جائے اور اپنی محبت کو گائوں میں نہ پاکر مر جائے، مگر واقعہ یہی ہے کہ وہ مرگیا تھا۔ کہانی کو یوں فلیش بیک میں بیان کیا گیا ہے کہ پہلی ملاقاتوں کی لذت کے ساتھ ساتھ ایک ہر ابھرا منظر نگاہوں میں پھر جاتا ہے کہانی جست لگا کر اجڑے ہوئے گائوں کا منظر دکھاتی ہے۔ پانی کی سیاست میں بڑے زمیندار جو ندی کی اوپر کی طرف زمینیں رکھتے تھے کامیاب رہتے ہیں۔ نصف سے زائد آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔ اس کی اپنی شادو قبیلے کی کچھ دیگر عورتوں کی طرح خون بہا میں دشمن کے ہاں بیاہی جا چکی ہے۔ وہ ایک ایک لمحہ یاد کرتا ہے، گائوں میں بسر ہوا ایک ایک لمحہ؛ اور اپنی شادو کو بھی اور پھر صبح تک اذیت سہتا مر جاتا ہے۔ اگرچہ کہانی کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ جس مٹی سے اس کا وجود ڈھلا تھا اسی میں وہ ایک لاوارث میت کی صورت دفنایا گیا مگر یہ اس کہانی کا موضوع نہیں ہے؛یہ ایک مرد کی کچھ زیادہ ہی مثالی محبت اس کا موضوع ہے۔ یہاں بھی، وہ شادو نامی وہ عورت جس کے کہانی میں آکر کھیتوں کے بیچ پگڈنڈی پر دوڑنے اور قلانچیں بھرنے سے سینہ بند کی عدم موجودگی کے سبب قیامت مچنے سے ایک روشنی سی ہو گئی تھی، جی وہی شادو جو دشمن قبیلے میں بیاہی گئی تھی، اس کی اذیت یا پھر سمجھوتے کی کہانی کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔

’’ بستی کا کرب‘‘ محبت کی نہیں، اُس بے حمیتی اور بے غیرتی کی کہانی ہے جسے پوری بستی نے شعار کر رکھا تھا۔ نازو جس گہرام خان عرف گورے بادشاہ کی چیرہ دستیوں کا قصہ لے کر کڑھ رہی ہے، اس کی بس اتنی سی کہانی ہے جس میں دادن خان کا قدیم طلسماتی قصہ داخل ہو کر ایک طعنے کی صورت بستی کے ان تمام محافظوں کے چہرے پر ایک تھپڑ کی صورت پڑتا ہے جن کی حمیت ایک طوائف جیسی بھی نہیں تھی۔ اصل کہانی کم اور جس کہانی سے معنویت پیدا کی گئی وہ قدرے طویل ہے۔ نازو جیسی بے باک اور ہمت والی لڑکی جو اس کہانی کے آغاز میں توجہ حاصل کر لیتی ہے آخر میں کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ تاہم افسانے کی سیاسی سطح پر ایک معنویت وہاں سے بھی پیدا کر لی گئی ہے جہاں ایک بدمعاش یعنی گورے بادشاہ کو امن اور انسانیت کے علم بردار کے طور پر شناخت بناتے دکھایا گیا ہے۔

ایک مطلقہ اور اس کی چھ برس کی بیٹی کی کہانی’’ بودلی‘‘ اس سوال کے گرد بنی گئی ہے کہ بچوں کی ذہن سازی یا ان کے اطوار کو ایک رُخ پر ڈالنے میں والدین کتنے حق بہ جانب ہیں۔ یوں تو یہ ایسی عورت کی کہانی بھی ہے جو ماں باپ کے گھر سے ایک بار نکلتی ہے تو پھر اس پر واپسی کے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں تاہم افسانہ نگار، بھائی بھاوجوں کی جانب سے تضحیک اور بودلی کے گھر چھوڑ کر شہر آنے جیسے واقعات سے اس جانب اشارہ کرکے آگے نکل جاتا ہے۔ اب ایک طرف وہ مولوی ہے جو گھر سے اپنی بیٹی کا لباس اسے دیتا ہے، اس لباس کا حصہ حجاب ہے۔ دوسری طرف اس سیٹھ کی بیٹی ہے جس کے خالی پلاٹ پر اُس نے جھونپڑی ڈال رکھی ہے اور بدلے میں اس کے گھر میں کام بھی کرتی ہے۔ باہر سے تعلیم پاکر آنے والی جیسمین دوسری طرف ہے، جس کے باریک لباس سے اس کی چھاتیاں اور چوچیاں باہر جھانک رہی ہوتی ہیں کہ اُسے بودلی کی بیٹی کا ملوانی ہو نا پسند نہیں ہے۔ لڑکی کو اکلوتی نکر میں بھاگتے دوڑتے دکھا کر اگرچہ یہ سجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بچوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنی چاہیے مگر یہ سوال بہ ہر حال جواب طلب رہ جاتا ہے کہ کیا یہ ماحول اور تناظر نہیں ہوتا جو ماں باپ کے اختیار کی حد مقرر کرتا ہے اور ان پر کچھ فرائض بھی ڈال دیا کرتا ہے۔

’’حاجی صاحب کے بارہویں حج کی تکمیل کا قصہ‘‘ نامی افسانے کا موضوع لگ بھگ وہی رہتا ہے جو چار سطروں پر مشتمل مائیکرو فکشن یا افسانچے ’’سخی‘‘ کا رہا ہے۔ جی وہی سخی جو آئے روز بیچ بازار خیرات کرکے ایک سخی کی شہرت پاگیا تھا مگر جس کا پڑوسی مجن ملاح اور اس کے بچے بھوکے سوتے تھے۔ حاجی صاحب کا بھی یہ بارہواں حج تھا اور ان کے ہمسائے میں ایک بیوہ بھوک سے مر گئی تھی، ایک بچہ ماں کی لاش کی چھاتی سے چمٹا اسے چچوڑ رہا تھا، دو معصوم بچے پاس بیٹھے بلک رہے تھے اور ایک بڑھیا کے بین سینہ چھلنے کیے دیتے تھے۔ انسانی رویوں کا یہ تضاد، اسرار کے افسانوں میں بہ طور خاص موضوع ہوا ہے۔ جی یہی موضوع مائیکرو فکشن ’’تضاد‘‘ کا بھی ہے۔

’’تھڑے کا افسانہ‘‘ میں بھی معاشرتی رویے تضاد ایک ضمنی موضوع کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔ یہ ایک افسانہ نگار کی کہانی ہے جسے کوئی اخبار چھاپنے کو تیار نہیں تھا حالاں کہ اس نے ایک شاہکار افسانہ لکھ رکھا ہوتا ہے۔ وہی اخبار جس نے اس کا شاہکار افسانہ نہیں چھاپاتھا، ایک بھدی سی کہانی اس لیے چھاپ دیتا ہے کہ اب وہ محض کمال انجم نہیں ڈاکٹر کمال انجم ہے۔ اس کہانی کا راوی، افسانہ نگار کو تب سے جانتا ہے جب وہ محض کمالو تھا، اور اس سے وہ افسانہ بھی سن رکھا ہے جو شاہکار تھا ؛ ادھیڑ عمر گل بانو سے محبت سیکھنے کا افسانہ، اور جانوں جاگردار کا افسانہ بھی جس کی حویلی کے پہلو میں ایک ماں زچگی کا درد سہتے سہتے مر گئی تھی۔ یہ افسانہ اس ماسٹر پیس افسانے کا بھی تو ہے جس کا مسودہ افسانہ نگار اپنی ماں کے غم میں بہتے آنسوئوں سے تلے ضائع کر بیٹھا تھا۔

’’رشتہ کہانی‘‘ میں محبت کی سمت اٹھتے وارفتہ قدم ہیں۔ یہ محبت ہے یا طلب، وہ نہیں جانتا۔ اسلامیہ گرلز کالج کی پرانی عمارت کے اندر سے نکلتی اس لڑکی کو دیکھتے ہی اس کی دھڑکنیں برہم ہو جاتی ہیں۔ وہ دیوانہ وار اس کے آگے آگے مارچ کرتا ہے۔ خیال ہی خیال میں کچھ اور اور آگے بڑھ جاتا ہے اوراس سے پہلے کہ مقدس رشتے کو کوئی نام دے یا انسان سے جانور بنے اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے اور رشتہ بے نام رہ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے یہ کوئی کہانی نہیں بس ایک خواب ہے یا پھر محض ایک واہمہ جسے کہانی میں ڈھال لیا گیا ہے۔ یوں تو میرے نزدیک مائیکرو فکشن کے نام پر لکھی گئی کہانیاں بھی کہیں محض خیال ہیں، کہیں ایک احساس اور کہیں محض ایک واقعہ۔ فکشن کو جو چیز فکشن بناتی ہے وہ زماں اور مکاں کے اندر سے نکل کر تخلیق کار کے لیے قضیہ ہو جانے والے واقعات کا ایسا سلسلہ ہوتا ہے جس کے پیچھے خیال یا فکر ی موادسے کہیں زیادہ احساس محرک کے طور پر کام کر رہا ہوتا ہے۔ خیر ان خُرد کہانیوں کو بھی افسانہ نگار نے ایک قرینے سے خِرد کہانیاں بنا لیا ہے جنہیں میں نے پوری توجہ سے پڑھا ہے۔

اپنی بات ختم کرنے سے پہلے ایک بار پھر میرا دھیان عین آغاز میں توجہ پانے والے افسانے’’پانچ سیکنڈ کی کہانی‘‘ کی طرف چلا گیا ہے۔ میں نے اوپر کہہ دیا تھا کہ اس کہانی میں جنس کا عنصر ہے اور یہاں یہ کہنا ہے اس کا موضوع جنس نہیں ماں کی ممتا ہے کہ کیسے وہ ایک بچے کو پالتی پوستی ہے، کیسے اس کی ایک ایک دھڑکن میں اس کا بیٹا بسا ہوا ہوتا ہے۔ یہ بیٹا ایک اوباش عاشق کے ہاتھوں قتل ہو جاتا ہے تو یہ کہانی محض پانچ سیکنڈ کی نہیں رہتی ایک ماہ پندرہ برس کی ہو جاتی ہے۔ محض ان برسوں کی نہیں جو افسانہ نگار نے گن ڈالے ہیں، ان میں وہ برس بھی شامل کرلیجئے اس ماں کو اپنے مقتول بچے کی یاد میں روز مر مر کے جیتے ہوئے گزارنے ہیں۔ اسرار احمد شاکر نے بالعموم سماجی حقیقت نگاری کی روایت کو مقدم جانا ہے، کہیں کہیں اس میں سیاسی یا جنسی طرفیں بھی رکھ لی ہیں، زباں کو سادہ رکھا ہے اوریہا ں وہاں مقامی الفاظ برت کر بیانیے میں ایک نیا رنگ ایزاد کرکے ایک اضافی خوبی پیدا کر لی ہے۔ اگرچہ اسرار کہانی کو زیادہ چست بنانے کی طرف راغب نہیں تاہم جہاں جہاں وہ اسے چست بنا تے ہیں وہاں وہاں بیانیے کا لطف بھی سوا ہوجاتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اردو کے ادبی مراکز سے دور نصیر آباد ریجن کے ضلع جعفر آباد میں بیٹھ کر ایسے افسانے لکھے ہیں جو ہماری توجہ کھینچ رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان افسانوں کو توجہ سے پڑھا جائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20