غالب: نئی تنقید کی زد میں (پیروڈی) — وحید الرحمن خان

0

ہندوستان کی عوامی کتابیں دو ہیں___ آئینِ ہند اور کوک شاستر۔ ’’دیوانِ غالب‘‘ خواص کی کتاب ہے لیکن دورِ حاضر میں ہر بوالہوس نے غالب پرستی شعار کر رکھی ہے اور ہر کم فہم غالب کا طرف دار بن کر اتراتا پھرتا ہے جس طرح ذوق، شہ کا مصاحب بن کر اتراتے پھرتے تھے۔ خاص طور پر مدرس ناقدین نے وہ غالب شکنی کی ہے کہ یگانہ کی روح بھی شرماتی ہو گی۔ مدرس ناقدین کا مبلغِ علم محض ’’نوائے سروش‘‘ تک محدود ہے اور وہ تفہیمِ غالب کے لیے صرف اپنے ذوق پر انحصار کرتے ہیں۔ انہیں خبر نہیں ہے کہ اکیسویں صدی کی جدید دنیا نے ذوق سے مصنوعی ذہانت کا سفر چشمِ زدن میں طے کر لیا ہے اور تنقیدی تصورات و نظریات کے سرکش گھوڑے شمال اور مغرب سے ہوتے ہوئے اب تیزی سے جنوب کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر ان ناقدین کا دل ابھی تک مشرق میں اٹکا ہوا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ذوقِ سلیم کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیا جائے اور مصنوعی ذہانت کا تاج سر پر رکھا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تحقیق کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور گوگل کو پیش نظر رکھا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ’’نوائے سروش‘‘ کو نذرِ آتش کر دیا جائے بل کہ ’’دیوانِ غالب‘‘ کو بھی غرقِ دریا کر دیاجائے اور ان اشعار کے معانی کی جستجو کی جائے جو سوشل میڈیا پر غالب کے نام سے منسوب ہیں لیکن تنگ نظر مدرس ناقدین انہیں ’الحاقی کلام‘ قرار دیتے ہیں۔ انہیں یہ بات معلوم نہیں کہ اگر زندگی میں غالب کے خیال میں غیب سے مضامین آسکتے تھے تو بعد از مرگ بھی یہ معجزہ رونما ہو سکتا ہے کہ ہم ایک خلائی دور میں سانس لے رہے ہیں، جہاں اشعار بھی روشنی کی رفتار سے سفر کرکے عالمِ ارواح سے عالمِ اجسام تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ شاعری کی راکٹ سائنس ہے۔ یہ نئی صدی کا سائنسی شعور ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مارک زکربرگ یا کیون سسٹرام تو سوشل میڈیا پر غالب کے اشعار چسپاں نہیں کرتے۔ یہ غالبِ خستہ ہی ہے جس نے رضوان سے سازباز کرکے انٹرنیٹ کی سہولت حاصل کر رکھی ہو گی۔ مرنے کے بعد بھی اس کی شاعرانہ روح کو چین حاصل نہیں اور وہ اب بھی عالمِ بالا میںنسخۂ ہائے وفا تالیف کرتا رہتا ہے۔ اکیسویں صدی میں تفہیم غالب کے لیے ایک نئے پیراڈائم کی ضرورت ہے۔ تفہیم غالب کے لیے ہمیں ایک نئے تنقیدی معاہدے پر دست خط کرنا ہوں گے۔

غالب حیوانی ہستی کی انتہائی صورتِ حال کی آگہی رکھتے تھے، اس لیے کہ وہ خود حیوانِ ناطق تھے۔ یہ صورتِ حال کسی ایک علاقے کے حیوانوں تک محدود ہے نہ کسی خاص نسل یا بولی بولنے والی حیوانی دنیا سے عبارت ہے۔ غالب کی آہِ آتشیں سے بال عنقا جل کر داغوں کی بہار دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اڑنے سے پیش تر ہی اس کا رنگ زرد رہتا ہے۔ اس کا ذہن و تخیل جوہرِ آئینہ کو طوطیٔ بسمل باندھنے کی جرات رکھتا ہے۔ وہ لاشعوری سطح پر بلبل کے کاروبار کو خندۂ ہائے گل سے تعبیر کرتا ہے جس کا تعلق فلسفے، مذہبی فکر یا اخلاقی نظام سے ہرگز نہیں ہے۔ فریب نظر کے لافانی تصور کے باعث وہ زنگار کو طوطی کا عکس خیال کرتا ہے۔ حیوانی وجود کی طاقتِ پرواز امکانات کی ایک دنیا ہے جس کا تماشا شب و روز اس کے آگے ہوتا رہتا ہے جب کہ مرغِ گرفتار، حیوانی وجود کی تحدید و تخفیف کی علامت ہے۔ غالب خش عمر کو زمان و مکاں سے ماورا تصور کرتے ہیں اور رزم گہِ حیات میں اسے حریفِ شیر کمیں سمجھتے ہیں۔ اسے دہنِ شیر میں جا بیٹھنا منظور ہے مگر حیوانی حقوق سے غفلت اسے قبول نہیں کیوں کہ وہ خود حیوانِ ناطق ہے۔ بے چہرگی کا بیانیہ اسے سر کے بل کوچۂ رقیب میں لے جاتا ہے اور شناخت کا بحران اسے عرش سے پرے کرائے کا مکان لینے پر مجبور کرتا ہے۔ کرایوں میں اضافہ ایک عالم گیر مسئلہ ہے کیوں کہ دنیا اب عالمی گائوں بن چکی ہے۔ عالم گیریت نے اہلِ زمین پر زمین تنگ کر دی ہے۔ غالب یہ جان چکا ہے کہ آفرینش کے تمام اجزا زوال آمادہ ہیں اور مہرِگردوں کی حیثیت چراغِ رہ گزر سے زیادہ نہیں۔ ایسے عالم میں چاند اور مریخ پر نوآبادیات کی ضرورت ہے چناں چہ وسائل پر قبضے کے لیے انسان نے وہاں نوآبادیاتی نظام کی تشکیل کے لیے آمدورفت شروع کر دی ہے۔ یہ اور با ت ہے کہ ایڈورڈ سعید نے چاند اور مریخ پر نوآبادیاتی نظام کے مضمرات پر بحث نہیں کی۔

غالب پر مردم گزیدگی کا خوف اس طرح مسلط ہے کہ وہ آئینے سے بھی خوف کھاتا ہے جس طرح سگ گزیدہ پانی سے ڈرتا ہے۔ یہ پانی اگرچہ آبِ زر یا آبِ زم زم نہیں ہے مگر اس کی بھی قیمت ہے اور یہ بازار میں بند بوتلوں میں فروخت ہوتا ہے۔ صارف معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ پانی کی بوتلوں کے اتنے برینڈ مارکیٹ میں آ گئے ہیں کہ انتخاب مشکل ہو جاتا ہے۔ غالب کے مطابق صارفیت زدہ عہد میں شاہدِ گل کو باغ سے بازار میں آنا پڑتا ہے اور اشیا جب تک مارکیٹ میں نہیں آتیں، فروختنی نہیں ہوتیں۔ صارفیت کی کام یابی یہی ہے کہ وہ صارف کو باور کرا دے کہ پانی کا ہوا ہو جانا کہ ایک فطری عمل ہے جس سے بچنے کے لیے اسے بوتلوں میں بند کرنا ضروری ہے لیکن بازار سے خریداری کے لیے گرہ میں مال کا ہونا بھی لازمی ہے، اس لیے تو غالب نے کہا تھا:

گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا

یہ شعر دراصل صارفیت کے خلاف غالب کا احتجاج نامہ ہے۔ غالب جب جامِ سفال کو اس لیے اچھا قرار دیتا ہے کہ ٹوٹنے کی صورت میں بازار سے اور لایا جا سکتا ہے تو دراصل وہ ایک صارف معاشرے کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی ردِ تشکیل ضروری ہے۔ غالب کی ابتدائی شاعری دریدا کی ردِ تشکیلیت کی طرح مبہم اور پیچیدہ ہے۔ غالب کے بقول صارف معاشرے میں جامِ سفال کی طرح ہر چیز قابلِ ترک (Disposable) ہے۔ لفظ ’’ترک‘‘ کے آخری اور حتمی معنی کو اس کی کثیر معنویت سے برامد کیاجا سکتا ہے اور یہ لفظ اپنے روحانی معنی سے آگے جو مادی معنی بیان کرتاہے اس کو پسِ ساخیات کے تناظرمیں تلاش کرنا ایک معنی خیز عمل ہے۔ یہ ایک نئے معنیاتی نظام کا ڈسکورس ہے جس کے بارے میں اصغرالہٰ آبادی کا ایک بے وزن شعر ہے:

ڈسکورس تو لفط ہی سکھاتے ہیں
آدمی، آدمی بناتے ہیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20