مسلمان شہریوں کی بے ریاستی اور مودی میکرون گٹھ جوڑ — وحیدمراد

0

بہت سے تجزیہ کار، فرانس کی موجودہ بحرانی صورتحال کے محرکات کو صرف مذہبی شدت پسندی میں تلاش کر رہے ہیں حالانکہ یہ اس بحران کا صرف ایک محرک ہے واحد محرک نہیں۔ فرانس حکومت کے عہدیداروں اور سفید فام نسلی انتہا پسند پارٹیوں کے لیڈران کے بیانات اور فرانس کے میڈیا کا پروپیگنڈا بھی صرف اسلاموفوبیا کے فروغ سے متعلق ہی ہےلیکن مغرب کے کچھ غیر جانبدار تجزیہ کار دیگر محرکات پر بھی گفتگو کر رہے ہیں۔ ان دیگر محرکات میں سب سے اہم فرانسیسی ریاست اور قوم کا سخت گیر سیکولر مزاج ہے جو چرچ اور کرائون کے خلاف بغاوت کے نتیجے کے طور پرتشکیل پایا۔ اس مزاج میں موجود اشتعال انگیزی کے عنصر کو مزید تقویت دینے کیلئے مذہبی عقائد و علامات کی توہین اور مذہبی اخلاقیات کی خلاف ورزی کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔ ہر قسم کے تقدس و احترم کو بالائے تاک رکھتے ہوئے جنسی و فحش حرکات سے متعلق کارٹون بنانے کو قومی مشغلے کے طور پر اپنا لیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ فرانس کے طویل ظالمانہ کالونیل ازم کی زہریلی روائیت ہے جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر قبضے کے دوران مسلمانوں کے مال اور جائیدادوں کو لوٹا گیا اوران پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور انہیں غلام بنا کر فرانس بھی لایا گیا۔ اس ظالمانہ روایت میں ایک ہزار سالہ صلیبی جنگوں کا بغض بھی شامل ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات جیتنے کیلئے میکرون کی اولیں ترجیح، دائیں بازو کے انتہاپسندانہ دلائل اور نسل پرستانہ نفرت انگیزحکمت عملی ہے۔ پولیٹیکل، اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ فائونڈیشن انقرہ، کے Enes bayrakli کا کہنا ہے کہ “میکرون، اسلام اور مسلمانوں کو قربانی پر چڑھا کر اپنی ملکی اور خارجہ پالیسی کی پریشانیوں پر قابوپانا چاہتے ہیں” اسی طرح آسٹریا کی سالز برگ یونیورسٹی کے ایک پولیٹکل سائنٹسٹ فرید حفیظ کا کہنا ہے کہ “میکرون کے اقدامات قانون کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا مظہر ہیں اور وہ اصل مسلم شناخت کو ختم کرکے ایک من پسند مسلم شناخت تشکیل کرنا چاہتا ہےجو اسکے لئے سیاسی طور پر بے ضرر ہو”۔

اس بحرانی صورتحال کا ایک اہم محرک فرانس کی موجودہ گرتی ہوئی اکانومی ہےجس میں مہنگائی اور ٹیکسوں سے پریشان حال غریب عوام ایک تحریک کی شکل میں منظم ہو کر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ اور دوسری طرف سفید فام نسلی انتہاپسندوں کی طرف سے صدر میکرون پر شدید دبائو ہے کہ ایشینز کی بڑھتی ہوئی آبادی ہر شعبہ زندگی میں انکے لئے چیلنج پیدا کرتی جا رہی ہے۔ انکے دبائو کے نتیجے میں صدر میکرون اور انکی کابینہ مذہبی منافرت کو ہوا دیتے ہوئے اپنی ناکامیوں کا نزلہ اپنے ملک کی سب سے کمزور مسلم اقلیت پر گرانے کی کوشش کررہی ہے۔ اور ہندوستان کے وزیر اعظم مودی کی طرح اپنی تمام ناکامیوں کو اسلاموفوبیا کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

فرانس، جرمنی کے بعد یورپ کی دوسری بڑی اکانومی اور آبادی کے لحاظ سے بھی دوسرا بڑا ملک ہے لیکن 2008 کے بعد سے معاشی بحران کا شکار ہے۔ فرانس میں پھیلی ہوئی بیروزگاری یورپ کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ فرانس کی درآمدات اسکی برآمدات سے بڑھ چکی ہیں اور15 بلین یورو سے زائد کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ ہے اور اکنامک گروتھ 1 فیصد پر کھڑی ہے۔ ٹیکسوں کے بھرمار نے ملک کے نچلے طبقات کی قوت خرید کو اس حد تک کم کر دیا ہے کہ انکے لئے زندہ رہنا مشکل ہو گیا ہے۔ میکرون کو اپنی صدارت کے اوائل سے ہی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، سستی رہائش کے فقدان، بیروزگاری، پولیس تشدد اور عوامی احتجاجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کرونا وائرس کی وبا میکرون کیلئے جزوی راحت کا سامان لائی کیونکہ اس کی آڑ میں غیر معمولی قوانین، جبر اور مکمل لاک ڈائون متعارف کرایا گیا اورشدید کنٹرول کے خلاف مزاحمت میں دیکھی گئی۔ اس لاک ڈائون میں میکرون کی ناکامیوں پر تو پردہ پڑا رہا لیکن فلاح و بہبود و معاشرتی خدمات کے کام کے فقدان، ، ریاستی فنڈز کی عدم تقسیم، بیروزگاری اورغربت میں مزید اضافہ ہوا اور اس نے عوامی غصے شکل اختیار کر لی۔ صدر میکرون کی مقبولیت اس وقت 26 فیصد سے بھی کم ہے اور دوسال سے بیروزگاری اور ٹیکسوں کے شدید بوجھ سے تنگ آئے عوام پیلی واسکٹ پہن کر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔

پیلی واسکٹ تحریک Yellow Vests Movement فرانس کے اندر ایک احتجاجی تحریک ہے جس میں نچلے اور پسے ہوئے طبقے کی عوام شامل ہے۔ یہ تحریک معاشی انصاف Justice Social کے حصول کیلئے 2018 میں شروع ہوئی۔ مئی 2018 میں انہوں نے ایک آن لائن پٹیشن کے بعد دستخطی مہم چلائی جس میں دس لاکھ افراد نے اس تحریک کی حمایت کی۔ 17 نومبر 2018 کو اس تحریک نے بڑے پیمانے پر مظاہرے شرع کئے۔ اس تحریک کے شروع ہونے کے محرکات میں فرانس میں اشیائے ضرورت کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، عوام کی پہنچ سے بالاتر معیار زندگی، اور ٹیکس کی اصلاحات کے نام پر محنت کش اور درمیانے طبقے پر ٹیکسوں کا غیر متناسب بوجھ شامل ہیں۔ 29 نومبر 2018 کو 42 مطالبات کی ایک فہرست کو عوامی طو پر منظر عام پر لایا گیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور پھر وہ اس تحریک کے بنیادی مطالبات کا ایجنڈہ بن گئی۔ اس تحریک کی مقبولیت کے پیش نظر اب دنیا بھر میں اور خاص طور پر تمام یورپی ممالک میں، پیلی ویسٹ کوٹ کو احتجاج کی پہچان کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ مارچ 2020 کے بعد اس تحریک نے کرونا لاک ڈائون کی وجہ سے اپنے احتجاج روک لئے تھے لیکن اب ستمبر 2020 سے دوبارہ فرانس کے تمام شہروں میں اس تحریک کے احتجاج شروع ہو گئے ہیں۔ 12 ستمبر کو ایک احتجاج کے دوران اس تحریک کے ڈھائی سو سے زائد افراد کو پولیس نے حراست میں لیا۔ اکتوبر میں اس تحریک کے لوگوں کے پیرس میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کے طور رپ فائر ورک بھی کیا۔

عوامی احتجاج خواہ وہ پیلی ویسٹ کوٹ تحریک کی طرف سے ہوں یا پریشان حال مسلمانوں کی طرف سے ہوں، انکے جواب میں جب فرانسیسی صدر اعلان کرتا ہے کہ وہ “جمہوریہ اور اسکی اقدار کا دفاع کرے گا اور مساوات اور آزادی کے وعدوں کا احترام کرے گا” تو وہ صرف سفید فام اشرافیہ کو یقین دلا رہا ہوتا ہے۔ اسکے اس ایجنڈے اور پالیسی میں غریب عوام اور ساٹھ، ستر لاکھ مسلمان شہری شامل نہیں ہوتے۔ انکی زندگیوں پر آج تک فرانس کی کسی پالیسی کا کوئی مثبت اثر نہیں پڑا۔ انکے محلے اسی طرح پسماندہ ہیں جیسے پہلے تھے، ان پر اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے دروازے اسی بند ہیں جیسے پہلے تھے۔ ان پر ظلم اور بربیت اسی طرح ہو رہا ہے جیسے پہلے ہو رہا تھابلکہ میکرون کے سیاسی ایجنڈے نے انکی مشکلات میں مزید اضافہ ہی کیا ہے۔ یہ لوگ نہ فرانس کہ شہریت کی خواہش لیکر یہاں آئے تھے اور نہ آتے وقت انہوں نے فرانس کو ویزے کے حصول کیلئے کوئی درخواست کی تھی۔ ان لوگوں کے آبائواجداد کو فرانس کی اشرافیہ ا س وقت غلام بنا کر یہاں زبردستی لائی تھی جب الجیریا پر فرانس کا قبضہ تھا۔ جنگ عظیم اول میں مارے جانے والے کثیر محنت کشوں کے بعد فرانس میں افرادی قوت کی کمی ہو گئی تھی اور فرانس کو اپنےصنعتی انفراسٹرکچر کی تشکیل کیلئے ایسے لوگ درکار تھے جو سارا دن کام کاج میں اپنا جسم جلائیں اور کھانے تک کا مطالبہ بھی نہ کریں۔

الجیریا کے لاکھوں مسلمان نوجوان مزدوروں کو فرانس کے جدید تمدن کا ایندھن بنانے کیلئے یہاں لا کر بسایا گیا۔ ان محنت کشوں نے فرانس میں ریل کی پٹڑیاں بچھائیں، سرنگوں میں کام کئے، انتہائی گرمی اور سردی میں سڑکیں ہموار کیں، مگر اسکے ساتھ ساتھ تنہائی اور غربت میں شہروں کے مضافات میں خیموں میں زندگی بسر کی۔ آج بھی افریقن اور عرب نژاد فرانسیسی شہری غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ یہ فرانس کے دیگر شہریوں کی طرح اپنی مرضی کا لباس پہن سکیں، اپنی مرضی کا عقیدہ اپنا سکیں، یا اپنی مرضی کی ثقافت اور رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اب ان لوگوں کی کئی نسلیں یہاں پیدا ہو کر جوان ہو گئیں اور اب ان کو سیاسی شعور آ چکا ہے اور وہ فرانس کےشہری ہونے کی حیثیت سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو فرانس کی اشرافیہ ان پر دہشت گردی کے الزام لگا کر انہیں اسلامی عسکریت پسندی سے نتھی کرتی ہے۔ اور اپنے ظلم، جبر، تشدد اور ناکامیوں کو اسلام کے خلاف بیان بازی کرکے، توہین رسالت کرکے اور گستاخانہ خاکے شائع کرکے چھپاتی ہے۔

صدر میکرون نے 4 ستمبر 2020 کو ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جومذہب اور رسالت کی توہین کا حق تسلیم نہیں کرتے وہ “اسلامی علیحدگی پسند” ہیں۔ انہیں فرانس کی شہریت اس وقت تک نہیں لینی چاہیے جب تک وہ یہ حق تسلیم نہیں کرتے کیونکہ فرانسیسی ہونے کیلئے یہ ضروری ہے کہ اسے مذہبی اور مقدس شخصیات کے گستاخانہ خاکے بنانے کا حق حاصل ہو۔ مسلم علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کیلئے ہم ایک نئے بل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کیونکہ اسلام پسندوں نے فرانس میں ایک متوازی ثقافت تشکیل دی ہے جو فرانسیسی اقدار، رسم و رواج اور قوانین کو مسترد کرتی ہے۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو پوری دنیا میں بحران کا شکار ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ فرانس کی موجودہ ریاست اب اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ الجیریا نژاد مسلمانوں کی سیاسی طور پر باشعور اولادوں کو مفت کے مزدورں کے طور پر مزید استعمال نہیں کیا جا سکتا اس لئےوہ ان پر بھارت کی طرح الزامات لگا کر انہیں فرانس سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ ان لوگوں کو بے وطن اور بے ریاست بنانے کیلئے کوئی بہانہ درکار ہے اور موجودہ صورتحال میں اسلامی عسکریت پسندی اور اسلاموفوبیا اسکا بہترین بہانہ ہے۔ اسکی آڑ میں ان لوگوں کو بے ریاست بھی کر دیا جائے گا اوراس شور شرابے میں فرانس کی سفید فام غریب آبادی کے احتجاج بھی کنٹرول ہو جائیں گےاور تمام معاشی ناکامیاں بھی چھپ جائیں گی۔ مسلمان شہریوں کو بے دخل کرنے کی باتوں کا اظہار، صدر میکرون تھوڑے ڈھکے چھپے الفاظ میں کر رہے ہیں لیکن وہاں کے سفید فام نسل پرست رہنما علی الاعلان اسکا اظہار کر رہے ہیں۔

فرانس میں ہائی اسکول کے ٹیچر سموئیل پیٹی کے قتل کے بعد نیشل ریلی National Rally کی رہنما میرین لی پین Marine Le Pen نے کہا کہ “Islamism is at war with us. We have to evict it from our country اسلام ازم ہمارے ساتھ جنگ میں ہے اور ہمیں اسے طاقت کے زور پر اپنے ملک سے بے دخل کرنا ہوگا”۔ اس کے بعد میڈیا میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ پہلے مرحلے میں دو سو سے زیادہ مسلمانوں کو ملک بد ر کر دیا جائے گا جن کے بارے میں فرانس حکومت کا خیال ہے کہ وہ مختلف اسلامی تنظیموں میں زیادہ متحرک لوگ ہیں۔

فرانس کے صدر میکرون اور بھارت کے وزیراعظم کی مسلم دشمن اور مسلم کش پالیسوں میں بہت واضح مشابہت اورمطابقت دیکھی جا سکتی ہے۔ بھارت لاکھوں مسلمان شہریوں کو انکی جائیدادوں، املاک اور مال و متاع سے بے دخل کرکے بے وطن کر چکا ہے اور میکرون اسی پالیسی پر عمل کرنے کی تیاری کر رہا ہے اس لئے اس دونوں شائونسٹ لیڈروں میں تعاون کی پینگیں بڑھ رہی ہیں۔ مودی نے صدر میکرون کا دفاع کرتے ہوئے اس پر مسلمانوں کی طرف سے ہونے والی تنقید اور معاشی بائیکاٹ کی مذمت کی ہے اوربھارت کے سیکرٹر ی خارجہ ہر ش وردھن شرنگلہ نے فرانس کے دورے کے دوران فرانس کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ “دونوں ملکوں (بھارت اور فرانس) کو بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا سامنا ہے اور دونوں کے قومی تحفظات کو غیر روایتی اسلامی انتہا پسندی کے خطرات کا سامنا ہے اور مغرب کو چاہیے کہ ہمارے ساتھ مل کر اس اسلامی انتہاپسندی کے خلاف کام کرے۔ ہماری لڑائی اب صرف کسی خاص گروہ یا کمیونٹی کے خلاف نہیں بلکہ اس مذہبی نظریے کے خلاف ہے جو سیکولر جمہوریتوں کو چیلنج کر رہا ہے” بھارت جس مذہبی نظریے کو اپنے اور فرانس کے سیکولر جمہوری نظام کے لئے چیلنج بتاتے ہوئے فرانس سے مدد اور تعاون کی اپیل کر رہا ہے اس مذہبی نظریے کے ماننے والے بیس لاکھ افراد کو پہلے سے ہی اپنی شمال مشرقی ریاست آسام میں ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار دے چکا ہے۔

آسام میں ‘شہریوں کے قومی رجسٹر‘ یا این آر سی کی تازہ فہرست جاری کی گئی ہے جس میں آسام میں برسوں سے رہنے والے مسلمان شہریوں کو بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہ غیر قانونی اور غیر ملکی قرار دیے جانے والے بیس لاکھ افراد عملی طور پر بے وطن ہو چکے ہیں اور اگر وہ اپیل کرنے کے بعد بھی اپنی شہریت ثابت نہ کر پائے تو انہیں ملک بدری، گرفتاریوں اور حراست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ستمبر میں اپنے دورہ آسام کے دوران یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ ”بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ان در اندازوں کو ایک ایک کر کے اٹھائے گی اور انہیں خلیج بنگال میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘

شہریوں کے قومی رجسٹر کو اپ ڈیٹ کرنے کا سلسلہ وزیر اعظم مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے شروع کیا تھا۔ یہ فہرست سن 1951 کے بعد سے جاری نہیں کی گئی تھی تاہم سن 2014 میں بی جے پی کے ایک رکن کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے تازہ فہرست تیار کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ بی جے پی کا مقصد بھارت میں کئی دہائیوں سے مقیم آسامی مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا جنہیں بی جے پی، بنگلہ دیشی تارکین وطن قرار دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک سابقہ خاتون اہلکار اور بھارتی ماہر سماجیات انورادھا سین مکرجی نے کئی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ایک مشترکہ بلاگنگ پلیٹ فارم The Conversation پر لکھا ہے، ”اس بات کا قوی امکان ہے کہ آسام میں این آر سی کی تکمیل کا عمل بے وطنی کی حالت سے جڑے ایسے انتہائی تکلیف دہ مصائب کا سبب بنے گا، جو بہت عرصے تک جاری رہیں گے”۔

بھارت کے اس انسانیت سوز عمل کے خلاف آسام میں فرانس کی طرح کے مظاہرے ہو رہے ہیں اور اب تک لاتعداد مظاہرین کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ مظاہرین کی ہلاکت سے بچنے کیلئے کی گئی مزاحمت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ان مظاہروں میں 50 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون باہر سے آنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو تو سہولت دیتا ہےلیکن یہ قانون انڈیا کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ لیکن اسکے برعکس ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے ان سے ‘انتقام’ لیا جائے گا اور ‘سرکاری املاک کے ہرجانے کے طور پر ان کی جائیداد کی قرقی کی جائے گی۔ ‘پولیس نے ان کے حکم پر عمل کیا ہے اور ‘مطلوب’ افراد کی نشاندہی کے بعد، جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں، ان کے پوسٹر پورے کانپور میں چسپاں کروا دیے ہیں۔

مسلمانوں کو ملک سے بے دخل کرنے اور انہیں بے وطن اور بے ریاست کرنے میں فرانس اور بھارت کے اس گٹھ جوڑ کو پوری دنیا سمجھ رہی ہے لیکن اس پر نہ صرف عالمی ضمیر سویا پڑا ہے بلکہ اسلامی قومی ریاستوں کے سربراہان کی اکثریت بھی خاموش ہے۔ صرف ترکی کے صدر اردگان اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس پر آواز بلند کی ہے۔ صد ر اردگان نے کہا کہ ” یورپی رہنماؤں کو یورپ میں نفرت کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فرانسیسی صدر کی پالیسیوں کو روکنا چاہیے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل جس طرح یہودیوں کے خلاف مہم چلائی جا رہی تھی آج ویسی ہی مہم مسلمانوں کے خلاف چلائی جا رہی ہے”۔

وزیرِ اعظم عمران خان کو فرانسیسی صدر کی طرف سے مسلمانوں کو بے دخل اور بے وطن کرنے کے عزائم کا اندازہ ہو چکا ہے اس لئے عمران خان نے فرانسیسی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اورمیکرون و مودی کے عزائم میں مشابہت تلاش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ “دنیا میں بھارت وہ ملک ہے جہاں ریاست کی معاونت سے اسلاموفوبیا کو بڑھاوا دیا جا رہاہے اس کی وجہ آر ایس ایس کے نظریات ہیں جو بدقسمتی سے بھارت میں حکمران ہے۔ بھارت دنیا میں اسلامو فوبیا کو فروغ دے رہا ہے کیونکہ بھارت میں آر ایس ایس کا نظریہ غالب ہے جبکہ مودی کی حکومت کی جانب سے گاندھی اور نہرو کا نظریہ آر ایس ایس نظریے میں بدل دیا گیا۔ 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور گجرات میں قتل عام نریندر مودی کی سرپرستی میں ہوا۔ آر ایس ایس نے 1992 میں مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کیا جبکہ انتہا پسند نظریے کی تشکیل 1920 کی دہائی میں کی گئی اور اس کے بانی اراکین نازی نظریات سے متاثر تھے، نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے اور آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کیلئے مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور آسام میں 20 لاکھ مسلمان شہریت سے محروم کر دیئے گئے ہیں”۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس سلسلے میں تمام مسلم ریاستوں کے حکمرانوں کو خطوط بھی لکھے ہیں جس میں یقیناً اس بات کا ذکر کیا ہوگا کہ جس طرح بھارت آسام میں بیس لاکھ مسلمانوں کو بے وطن کر چکا ہے اور کشمیر میں ایک سال سے زائد عرصے سے کرفیوں لگا کر معصوم عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے تاکہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کرچلیں جائیں۔ میانمار کی فوج نے سخت مظالم ڈھاتے ہوئے پانچ لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور انکا گھر بار، گاؤں، مویشی جانور اور کھیت تمام نذر آتش کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ ملک میں واپس نہ آئیں۔ یہ لوگ پندرہ روز کا پیدل سفر کرکے بنگلہ دیش پہنچے اور اب ایک ویران جزیرے پر بے آسرا پڑے ہیں۔ اسی طرح فرانس بھی ساٹھ لاکھ مسلمانوں کو بے وطن کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ اگر مسلم حکمرانوں نے اس سے بھی کوئی سبق نہ سیکھا اورمسلم امہ کے اتحاد کی کوششیں نہ کیں توپوری دنیا کے مسلمانوں کا خون ارزاں ہو جائے گا۔

اس موضوع پر مزید مطالعہ کیجئے:

توہین رسالت و مذہب : میکرون کے فرانس کا قومی وتیرہ —- وحید مراد

صدر میکرون : فرنچ مسلم دشمنی کی تاریخ کا عروج ۔۔۔۔ وحید مراد

فرانس میں اسلام بحران کا شکار ہے یا میکرون کا سیکولر شاونزم؟ — وحید مراد

فرنچ مصنوعات کا بائیکاٹ : لبرل دوستوں سے کچھ سوال — وحیدمراد

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20