راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 16) —- یاسر رضا آصف

0

میں جب سکول سے واپس آتا اور اپنی محلے کو جانے والی سڑک پر چلنے لگتا تو اکثر ہی ایک مجذوب شخص وہاں موجود ہوتا۔ کبھی سکول جاتے سمے، کبھی باہر گلی میں کینچے کھیلتے ہوئے، کبھی سکول سے آتے ہوئے تو کبھی چوک میں دوستوں سے خوش گپیاں لگاتے ہوئے وہ دکھائی دے ہی جاتا۔ جیسے وہ کہیں گیا ہی نہیں تھا۔ وہ غیرمحسوس طریقے سے ہمارے رہن سہن کا حصہ بن چکا تھا۔ کوئی بھی عمل اور کوئی بھی بدلائو پہلے پہل انسان کو عجیب لگتا ہے۔ وہ حیرت زدہ ہوتا ہے۔ پچھتاتا ہے، کوستا ہے پر آخر کار وہ اسے قبول کرلیتا ہے۔

ایسے ہی پہلے لوگ حیران ہوئے پھر ترس کھایا اور پچھتائے۔ اسے کوستے بھی رہے لیکن قبول کرلیا۔ کہتے ہیں وہ میٹرک میں تھا تو دماغ پھر گیا۔ گرمیوں میں بھی کئی قسم کے کوٹ پہنے ہوئے ہوتا۔ سر کے بال کچھ جھڑ گئے۔ باقی کاٹ دیے گئے۔ دھوپ چھائوں سے بے نیاز اور ضروریات سے ماورا وہ ہر وقت گلیوں میں ننگے پائوں پھرتا رہتا۔ اسے انڈین اور پاکستانی تقریبًا سبھی گانے ازبر تھے۔ وہ پہلے موسیقار بتاتا، گلوکاروں کے نام لیتا اور پھر فلم کا نام لے کر باقاعدہ ریڈیو کے پروگرام کی طرح گانا شروع کردیتا۔ وائلن، طبلہ اور ہارمونیم کی جگہ مُنھ سے نکلنے والی آوازوں سے پُر کرتا۔

اسے نائی لوٹا کہا جاتا۔ ہر بڑا چھوٹا اسی نام سے پکارتا دیکھا گیا۔ چوں کہ حجامت ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ اس کا والد اور بھائی دونوں حجام تھے اور انھیں نائی کہہ کر بلایا جاتا تھا۔ اس لیے اسے نائی کا نام ملا تھا۔ چوں کہ سر پر بال نہیں تھے اور لوٹے کی طرح چمکتا تھا اس لیے لوٹا بھی کہا جانے لگا۔ پھر یہ دونوں نام باہم ہوگئے۔ یک جان ہوگئے اور اس کی ذات کا حصہ بن گئے۔

سردیاں، گرمیاں جوتی کے بغیر وہ گلیوں میں گشت کرتا رہتا۔ چارپائیوں پر بیٹھے لوگ، گھروں سے نکلتی عورتیں اور گلیوں میں کھیلتے بچے سبھی کے لیے وہ دل لگی کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ وہ کھلکھلا کر ہنستا، قہقہے لگاتا اور کوئی نیا گیت شروع کردیتا۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ اندر سے دکھی آتما ہے۔ ایسی چھلنی روح جس کا دکھ بانٹنے والا کوئی نہیں۔ پھر اچانک وہ غائب ہو گیا۔ جس طرح کوئی تانترک باوا چھومنتر سے غائب ہو جاتاہے۔ شروع شروع میں چہ مگوئیاں ہوئیں۔ عورتیں نے ہاتھوں کو مل مل کر پچھتاوے کا اظہار بھی کیا پھر گھور خاموشی چھا گئی۔

میں اس دیوانے کی باتیں سن کر حیران ہو رہا تھا۔ کبھی تو لہجہ بے حد سنجیدہ ہو جاتا اور کبھی ہنسی کے فوارے نکل پڑتے۔ پھر وہ ہمارے ساتھ رہنے کی ضد کرنے لگا۔ اچانک سے اپنی جگہ سے اچھلا اور چائے کا کپ قالین پر دور تک لڑھکتا چلا گیا۔ میں نے صرف اسی روز اسلام کو غصے میں دیکھا۔ ویسے تحمل مزاج آدمی ہے۔ برداشت کا پیمانہ جب لبریز ہو جائے تو غصہ انتہا درجے پر پہنچ ہی جاتا ہے۔ جذبات سے وابستہ معاملات انسان کے اندر سے زندہ ہونے کی دلیل ہیں۔ وہ ملنگ تو اٹھ کر چلا گیا لیکن مجھے سوچوں کے بے انت سمندر میں اتار گیا۔

میں کھانے کے بعد چہل قدمی لازمی کرتا ہوں۔ پیٹ بھر کر بیٹھ جانا میرے لیے خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ اس طرح پیٹ میں تیزابیت پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ پھر سر میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ اور بھاری پن کا احساس آکٹوپس کی طرح سر کو جکڑ لیتا ہے۔ لہٰذا پیش بندی ضروری سمجھتے ہوئے میں عابد اور سمیر کی معیت میں بازار کی جانب چل پڑا۔ سڑک کے دونوں جانب سجی ہوئی دکانیں مقامی دستکاری کی اشیاء سے لدی پھندی تھیں۔ کہیں گھریلو استعمال کی چیزیں رکھی تھیں۔ کہیں سجاوٹ کے لیے رنگ رنگ کے گلدان پڑے تھے۔ کہیں پیتل اور کانسی کو جھمکوں اور چوڑیوں میں ڈھالا گیا تھا۔ شیشے کے کائونٹر ز سے قیمتی پتھر اور انگوٹھیاں جھانک رہی تھیں۔ میں نے عابد سے خریداری کے متعلق پوچھا تو مثبت جواب ملا۔ میرا خود کا بھی ارادہ بن گیا۔

میں نے ایک بڑی سی دکان کی جانب اشارہ کیا اور ہم سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اندر داخل ہوگئے۔ دکان شیشوں کے کائونٹرز میں پڑی اشیاء سے بھری ہوئی تھی۔ دیواروں پر قالین کے ٹکڑے سجے تھے۔ ادھیڑ عمر روشن آنکھوں والے دکان دار نے ہم سے آنے کا سبب پوچھا۔ میں نے آگے بڑھ کر بدھا کے مجسمے کو اٹھا لیا۔ بدھا سے میری واقفیت انٹرمیڈیٹ دور سے چلی آتی ہے۔ اشوک جیسا یودھا بھی بدھا سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہا تھا وہاں مجھ جیسوں کی کیا بساط تھی۔ میں نے بدھا کے ساتھ نروان کا سفر طے کرنا شروع کردیا۔ مجسمہ پتھر سے تراشا ہوا نحیف و نزار جسم کی عکاسی کررہا تھا۔ میں نے قیمت پوچھی اور انکشاف ہونے پر فورًا ہی بدھا کو اس کے استھان پر بٹھا دیا۔

عابد نے سجاوٹ کی غرض سے کچھ چیزیں خریدیں۔ میں نے بھی اس کی دیکھا دیکھی ایک آدھ شے لے لی۔ مجھے کتابوں کی دکان کی جستجو تھی۔ ہنزہ کی تاریخ سے واقفیت اسی طرح ہی ہو سکتی تھی۔ دوسرا ثقافت اور رہن سہن کو جاننے کے لیے کتاب ہی بہتر ذریعہ بنتی ہے۔ پر اس معاملے میں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ جو بھی کتابیں دستیاب تھیں سبھی سطحی درجہ کی تھیں۔ جن میں معلومات سے زیادہ تصاویر سے کام چلا یاگیا تھا۔ بچوں کی تصویری کہانیوں جیسی کتابیں تھیں جن میں جا بجا رنگین تصاویر تھیںاور ساتھ دو چار سطریں لکھی ہوئی تھیں۔

ہم لوگ دکان سے نکل کر سڑک پر آگئے اور دھواں چھوڑتی سگریٹوں سے جی بہلانے لگے۔ سڑک کے ساتھ ہی نیس کیفے کی دکان تھی۔ کافی کا ارادہ بن گیا۔ سردیوں میں کافی کا لطف ہی الگ ہوتا ہے۔ یہ دماغ کو جگا دیتی ہے۔ ساتھ جسم میں بجلی دوڑا دیتی ہے۔ ایسے موقع پر ہمارے اندر موقع پرستی کی خصلت جاگ گئی اور ہم فورًا کافی کی دکان کے کائونٹر تک پہنچ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ہی ایک ہاتھ میں سگریٹ تو دوسرے ہاتھ میں کافی کے کپ تھامے ہوئے سڑک پر ٹہل رہے تھے۔ خریداری کی چیزیں ہم نے کندھوں پر لٹکا رکھی تھیں۔ سڑک پر ٹریفک نہیں تھی۔ زیادہ تر دکانیں بند تھیں۔ لوگ آ جارہے تھے۔ کچھ لوگ دکانوں کے تھڑوں پر محفل جمائے بیٹھے تھے۔ ہم نے بھی ایک پتھریلے اور مضبوط تھڑے کا انتخاب کیا اور ڈھیر ہو گئے۔

بیٹھتے ہی ہماری زبانیں قینچی کی طرح چلنے لگیں۔ بائیں جانب سڑک مسلسل ڈھلوانی حالت میں تھی اور دائیں جانب سڑک کسی پہاڑ پر چڑھائی جیسی ہمیں دائیں جانب چڑھائی چڑھنی تھی۔ سمیر نے ہنزہ کی خوبصورت اور فطرت سے قربت پر بات کرنا شروع کردی۔ عابد نے فطرت اور ہنزہ کا باہمی رشتہ واضح کیا۔ میں کیسے خاموش رہ سکتا تھا۔ میں نے ہنزہ کی دستکاری اور مقامی کھانوں پر تبصرہ شروع کردیا۔ پھر بدھا کے نظریات اور ان پتھروں کی لکھائی پر بات چل نکلی جن پر کنندہ الفاظ جو صدیوں بعد بھی مدھم شکل میں موجود تھے۔ میں عابد سے مخاطب ہوا کہ دیکھو وہ لوگ پیدل ان خطرناک پہاڑی چٹانوں اور دشوار گزار گھاٹیوں کو پار کرکے آیا کرتے تھے۔ فقط ایک غار میں دھیان لگانے کے لیے، خاموش بیٹھنے کے لیے ؛ عابد میری بات پر مسکرا دیا۔ پھر کافی کا گھونٹ لے کر کر بولا کہ لگن کی بات ہے پھر سچائی کی تلاش بھی ان کی دوست ہوتی تھی۔ سمیر نے اضافہ کیا کہ انھیں گورنمنٹ کی جانب سے واپسی کے فون بھی نہیں آتے تھے۔ موبائل نہیں تھا اور سکون ہی سکون تھا۔ ہم تینوں معنی خیز انداز میں مسکرانے لگے۔ ہم نے کافی ختم کی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم تینوں دوبارہ سڑک پر چلنے لگے۔ میں پہلے کافی چہک رہا تھا مگر اب خاموش سا ہو گیا تھا۔ عابد زیرک نظر ہے اور خوش طبع بھی ہے۔ کسی بھی بات میں مزاح کا پہلو تلاش کرلینا اس کی سرشت میں شامل ہے۔ سمیر بھی اس سے کم نہیں۔ دونوں مل کر مجھے دوبارہ ٹریک پر لانے میں کامیاب رہے۔ میرے اندر بھی بذلہ سنج شخص موجود ہے مگر وہ اکثر بُکل مار کے بیٹھا رہتا ہے۔ اس روز بُکل اتارنی پڑی۔ یوں لطیفوں، چٹکلوں اور جملوں کی پھل جھڑیاں چل پڑیں۔ آسمان پر تاروں کے ساتھ ساتھ قہقہے اپنا رنگ بکھیرنے لگے اور ہم لوگ یوں ہی چلتے چلتے ہوٹل تک آگئے۔

ہوٹل کا سفید گیٹ گارڈ نے بند کر رکھا تھا۔ ہم نے گھنٹی کا بٹن دبایا تو تسلی کرنے کے بعد اس نے دروازہ ہم پر کھول دیا۔ دروازے کا کھل جانا بھی ایک نعمت ہے۔ بعض دروازے انسان کے کھولنے سے بھی نہیں کھلتے۔ ہم تینوں لان میں پڑی پلاسٹک کی کرسیوں پر ڈھیر ہو گئے۔ چوں کہ ہوٹل اونچائی پر تھا اور ہمیں یہاں تک پہنچنے کے لیے خاصی جدو جہد کرنا پڑی تھی۔ جب سانس درست ہوئے اور ہم لوگ نارمل حالت میں آگئے تو راہداری سے ہوتے ہوئے کمروں کی جانب چل دیے۔ جاتے ہی اپنے اپنے بیگ میں سامان کو ٹھونسنے لگے۔ ہال کمرے سے اب بھی آوازیں آرہی تھیں۔

ہال کمرے میں کچھ دوست موبائل سے شغل فرمارہے تھے۔ کچھ تاش کی گیم میں غرق تھے اور کچھ لحاف مُنھ پر لیے سونے کی اداکاری کررہے تھے۔ ہمارے پہنچتے ہی کمرہ جیسے دوبارہ بیدار ہوگیا۔ سبھی بڑھ چڑھ کر گفتگو کرنے لگے۔ میں قالین پر آلتی پالتی مارے بیٹھ گیا اور تاش کا کھیل دیکھنے لگا۔ میں نے بے تکے مشورے دینے شروع کیے اور جیتنے والی ٹیم کو ہرانے میں کامیاب رہا۔ ہار جانے والوں نے مجھے غصے سے دیکھا اور میں نے کندھے اچکا کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیا۔

دوبارہ تاش پھینٹی جانے لگی۔ میں نے جیب سے موبائل نکالا اور سوشل میڈیا سے مستفید ہونے لگا۔ چوکڑی مار کے بیٹھے بیٹھے تھک سا گیا تھا۔ کمر میں درد محسوس ہونے لگا تھا۔ میں نے ایک ہاتھ پیچھے کی طرف قالین پر رکھا اور گیلے پن کو محسوس کرتے ہوئے واپس کھینچ لیا۔ یہ اس دیوانے کے چائے گرانے کی بدولت ہوا تھا۔ قالین کی سطح ابھی تک گیلی تھی۔ دیوانے کا خیال آتے ہی میں خود دیوانہ ہوگیا۔

میرا ذہن دیوانگی اور فرزانگی کی حدود کو متعین کرنے لگا۔ میں اٹھا اور اپنے کمرے میں آ پہنچا۔ بستر میں گھسنے کے بعد بھی دماغ سکون کی حالت میں نہیں آرہا تھا۔ میں مسلسل سوچ کی ڈگر پر چلتا جا رہا تھا۔ کئی باب کھل رہے تھے۔ میں نے سوچا موبائل پر کتاب پڑھنے سے شاید کچھ افاقہ ہو جائے پر پڑھا بھی اسی وقت جا سکتا ہے جب ذہن سکون کی حالت میں ہو۔ یکسوئی نہ ہو تو الفاظ اپنے معانی چھپا لیتے ہیں۔ مفہوم سمجھ ہی نہیں آتا۔ کتاب کی سطریں کسی اور ہی زبان میں لکھی دکھائی دیتی ہیں۔ میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہو رہی تھی۔ ایک ایک سطر بار بار پڑھتا پر مفہوم نہ کھلتا۔

میں جلد ہی اس مشقت سے اکتا گیا اور موبائل کو ایک طرف رکھ دیا۔ اب پسپائی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ بالآخر میں نے سفید جھنڈا لہرا دیا اور ذہن کو آزاد چھوڑ دیا۔ سوچ پرواز کرنے لگی اور مجھے پھر سے ماضی کے کہانی نگر میںلے گئی۔ گھر سے دو تین گلیوں کے فاصلے پر سرکاری ٹینکی ہوتی تھی۔ جس پر انیس سو باسٹھ کا سن درج تھا۔ کسی دور میں پانی بھی فراہم کرتی ہوگی۔ پر ان دنوں خشک تھی اور شہد کی مکھیوں کے چھتوں سے محرابیں بھری بھری لگتی تھیں۔ بعد میں ٹینکی گرادی گئی اور اب وہاں پارک ہے۔ میں شام کے وقت وہاں پہنچ جاتا۔ خالی پلاٹ میں ہم لوگ مارشل آرٹ کی گیم کیا کرتے۔ یہ شوق ہمیں جیٹ لی کی فلمیں دیکھ کر چڑھا تھا۔ ساتھ رات کو کمرے میں موم بتی جلا کر یوگا کی مشق بھی کیا کرتا۔ جس میں یادداشت اور تخیل کی مشق بھی شامل ہوتی۔ میں آنکھیں بند کرکے بیٹھ جاتا۔ تصوراتی طور پر اپنے گھر سے نکلتا اور گلیوں میں مٹر گشت کرنے لگتا۔ یہ سلسلہ ایسا رسا اور پختہ ہوا کہ میں آدھ گھنٹہ تک سیر کرنے لگا تھا۔ پھر صبح سورج کی شعاعیں اپنے اندر جذب کرنا بھی شامل ہوگیا۔ آخر میں سبزے کا تصور لیے مشق کو اختتام پذیر کر دیا کرتا۔

ایسے ہی اوٹ پٹانگ مرحلے جاری تھے کہ میر ی ملاقات اکمل سے ہوئی۔ محلہ دار تھا اور ہم عمر بھی تھا۔ اس لیے جلد ہی علیک سلیک دوستی میں بدل گئی۔ وہ شائولن، وشوکنگ فو اور مونکس کی باتیں کرتا تھا۔ اس کے پاس خاصی معلومات موجود تھیں۔ کچھ کتابچے بھی تھے۔ یوں ہم دونوں اس تصوراتی سفر کے ہم رکاب بن گئے۔ مجھے اس روشنی تک پہنچنا تھا جس کا ذکر میں نے کتابوں میں پڑھا تھا۔ اکمل کا مقصد اندر کی خوابیدہ طاقتوں کو جگانا تھا۔ گو کہ مقصد الگ الگ تھے لیکن راستہ ایک ہی تھا۔ ہم باقاعدگی سے مشقیں کرنے لگے اور اپنے تجربات ایک دوسرے سے بانٹنے لگے۔ دیکھا دیکھی محلے کے اور بھی بہت سے لڑکے اس ڈگر پر چل پڑے۔ ہمیں استاد کہا جانے لگا حالاں کہ ہم دونوں الف ب سے بھی پوری طرح واقف نہیں تھے مگر اس قدر پذیرائی ملنا ہمیں بہت پسند آیا اور اچھا بھی لگا۔ میں اکمل کی ذہانت اور مشق کا قائل ہو چکا تھا اور اسے دلی طور پر استاد مان بیٹھا تھا۔ ہاں اس بات کا اظہار میں نے کبھی برملا نہیں کیا۔ میری انا آڑے آجاتی تھی جب کبھی میں اسے استاد کہنے کا سوچتا۔

جب ہوش مندی کے دن شروع ہوئے تو میں نے سب کچھ ترک کردیا۔ روزی روٹی کے چکر میں پڑ گیا۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ چل نکلا۔ شاعری کا باب کھل گیا اور یوں یوگا کہیں پیچھے رہ گیا۔ پر اکمل اپنی اسی ڈگر پر استقامت سے چلتا رہا۔ وہ جب کبھی مجھے ملتا اپنے تجربات ضرور بتاتا۔ اس کی نگاہ میں ابھی تک میں اسی راہ کا مسافر تھا۔

اکمل کی والدہ وفات پا چکی تھی۔ والد کی بچوں پر کوئی خاص توجہ نہیں تھی۔ اس لیے اپنی دلچسپی کا سامان اس نے تخیلاتی دنیا میں تلاش کرلیا تھا۔ پھر میں ایسا مصروف ہوا کہ مل بیٹھنا تو کجا ملاقات بھی نہ ہو سکی۔ میں اپنے دوستوں کے ہمراہ نگینہ چوک میں چائے پی رہا تھا۔ میری نوکری لگ گئی تھی اور سبھی دوست چائے پر طعنے دے رہے تھے۔ خوشی اور مبارک باد کا ملا جلا ماحول تھا۔ ایک مفلوک الحال شخص بڑھی ہوئی داڑھی کے ساتھ میلے کچیلے ہاتھوں کو ملتا ہوا ہم سے روپے مانگ رہا تھا۔ میری نگاہ جب اس کے چہرے پر پڑی تو میں گڑبڑا سا گیا۔ میں نے اکمل کو سرتاپا دوبارہ دیکھا اس کے پائوں مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔ کپڑے داغوں سے بھرے ہوئے تھے۔ سر کے بالوں اور داڑھی میں گرد پھنسی تھی۔ آنکھوںکے گوشے بھی مٹی سے پر تھے۔ مجھ سے زیادہ دیر دیکھا نہیں گیا۔ میں جس اکمل کو جانتا تھا وہ ایک جیتا جاگتا اور ہنستا کھیلتا نوجوان تھا۔ یہ جھریوں زدہ چہرے والا بوڑھا اکمل نہیں ہو سکتا۔ جو مجھ سے بن پڑا میں نے مدد کی اور وہ شکریہ ادا کرتا ہوا چلا گیا۔

اکمل کا والد سنیاسی قسم کے لوگوں سے میل جول رکھتا تھا۔ کسی دور میں میلوں ٹھیلوں پر کیے جانے والے ڈراموں میں کام بھی کرتا رہا تھا۔ ڈاکٹری پیری مریدی اورتجارت میں ناکامی کے بعد ایک جگہ نائب قاصد کی نوکری کررہا تھا۔ وہ خود کو صحت مند رکھنے کے لیے طرح طرح کے نسخے تیار کرتا رہتا تھا۔ ہم جب بھی اکمل کو بلانے جاتے تو دروازے میں پھٹکڑی، تیزاب اور جلی ہوئی لکڑیوں کی بو ہمیں خوش آمدید کہتی۔ اکمل کو گالیاں پڑ رہی تھیں اور ہم لوگ گلی میں کھڑے سین ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ وہ سرخ چہرے کے ساتھ ہاتھوں کو لہراتا ہوا اور مسلسل بولتا ہوا باہر آگیا۔ ہم سب نے ٹینکی والے میدان کا رخ کیا۔ سبھی خاموش رہے تاکہ اکمل کا ذہن شانت ہوجائے۔ پھر ہنسی مذاق سے اس کا دل بہلانے لگے۔ لڑائی کی وجہ پوچھی تو اکمل نے بتایا کہ ابا سانپ پکائے بیٹھا تھا۔ مجھے کہتا تم بھی کھا لو۔ میں نے فورًا جواب دیا۔ اگر تم بچ گئے تو میں کھالوں گا۔ میرے لیے رکھ دینا۔ بس پھر کیاتھا۔ لگا مجھے گالیاں دینے۔ ہم سب ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو گئے۔

میں ٹوہ میں لگ گیا کہ اسے ہوا کیا ہے۔ خرم، سمیر اور فیصل سے پوچھا لیکن ان کی باتوں سے تشفی نہ ہوئی۔ ان کے کہنے کے مطابق اکمل کا دماغ پھر گیا تو والد نے اسے نکال باہر کیا۔ یوں گلیوں میں آوارہ پھرتا ہے۔ کسی دکان کے تھڑے پر یا برف والے پھٹے پر رات گزار لیتا ہے۔ مانگ تانگ کر کھا پی لیتا ہے۔ سانس چل رہی ہے اور زندہ ہے لیکن مجھے جاننا تھا کہ آخر کیا وجہ رہی ہوگی کہ وہ دماغی مریض بن گیا۔

عابد بھی چوں کہ اکمل کا دوست رہ چکا تھا۔ عابد کے ساتھ ایک نشست کے دوران اکمل کی وفات والے دن مجھ پر راز افشاں ہو ہی گیا۔ اس نے بہت سی باتیں بتائیںاور بہت سے واقعات سنائے۔ میں نے بھی اپنی یادداشت سے بھرپور کام لیا۔ یوں نتیجہ برآمد ہوگیا۔ اکمل دراصل خیالی دنیا میں رہنے والا شخص تھا۔ وہ ویڈیو گیمز کا عمدہ پلیئر بھی تھا۔ سنوکر میں بھی کافی مہارت رکھتا تھا۔ پر یہ سب روزی روٹی کمانے کا ذریعہ نہیں بن سکتا تھا۔ پھر گھریلو حالات کے باعث زیادہ پڑھ بھی نہ سکا۔ وہ جو کچھ سوچتا تھا وہ اس کے اندر ہی رہ گیا۔ اظہار کا ذریعہ نہ ملنے کے باعث گھٹ گھٹ کر مرنے لگا۔ اسے اشیا ڈرانے لگیں۔ وہ خوف زدہ رہنے لگا۔ جب ایسی کیفیت ہوتی تو حکومت، سیاست اور بدعنوانی پر کھل کر تقریر کرنے لگتا۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ جاری رہا پھر وہ ایسی باتیں کرنے لگا جن کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔ اکمل شیزو فرینیا میں مبتلا ہو چکا تھا۔ اسے خوف ہر دم گھیرے رکھتا۔ وہ تنہائی پسند ہوگیا اور گھٹ گھٹ کر مرگیا۔ یوں ایک زرخیز ذہن معاشرے کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ہمارے معاشرے میں ایسے کئی کردار موجود ہیں جو سچائی کی سولی پر ہنس کر جھولتے جھولتے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میں نے لحاف کو چہرے پر ڈالا اور اکمل کی موت پر نوحہ پڑھتے ہوئے کچھ وقت کے لیے عارضی موت مرگیا۔

جاری ہے۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20