راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 15) —- یاسر رضا آصف

0

وادی میں سڑک کے کنارے دیدہ زیب فٹ پاتھ بنے تھے۔ وین رک گئی۔ میں نے اتر کر اردگرد نگاہ دوڑائی۔ مجھے لگا میں کسی جیتی جاگتی پینٹنگ کا حصہ بن گیا ہوں۔ سڑک سے ملحقہ عمارتیں شوخ رنگوں پر مشتمل تھیں پھر ان پر کنندہ نقش و نگار قدامت اور جدت کا حسین امتزاج تھے۔ عمارتوں کے پیچھے خاکستری اور پتھریلے پہاڑ تھے۔ ان کے پیچھے برف پوش نوکیلی چوٹیاں تھیں۔ چوٹیاں اتنی قریب محسوس ہورہی تھیں کہ ہاتھ سے چھو لینے کو جی چاہتا تھا۔ یہ قربت فقط نظر کا فریب تھی۔ قرب اور بُعد کا فرق فاصلوں سے نہیں احساس سے ماپا جاتا ہے۔ میری تمام حسیات بیدار ہو چکی تھیں۔ میں فٹ پاتھ پرکھڑا کچے سیبوں کو دیکھ رہا تھا اور ان کی بھینی بھینی خوشبو سونگھ رہا تھا۔

ہنزہ کی وادی سبزے سے ڈھکی ہوئی وادی ہے۔ جس کے اردگرد برف پوش پہاڑ اسے مزید پر کشش بناتے ہیں۔ جگہ جگہ باغات ہیں۔ سڑک کے کناروں پر آڑو، سیب اور بادام لگے ملتے ہیں۔ میں نے اسلام کے ساتھ سیب کے پودے کے سامنے سیلفی بنائی۔ میں برطانوی طرز کی بنی عمارتوں کو دیکھنے لگا۔ ان کی چھتیں خیمہ نما تھیں اور ان پر کھپریل لگی تھی۔ سڑک کی بناوٹ اور عمارتوں کی دلکشی سے گمان گزرا کہ میں جیسے کسی ترقی یافتہ مغربی ملک میں آگیا ہوں۔ پھر ہوا کی ٹھنڈک نے جیسے خواب سے چونکا دیا۔

ہم سڑک پر موجود ہوٹلوں کے چکر لگانے لگے۔ وہاں جو چہرے دیکھنے کو ملے سبھی کے سبھی ہشاش بشاش اور صحت مند تھے۔ ان کے خدو خال چینیوں کے قریب تر نظر آئے لیکن بعض کے نین نقش اتنے تیکھے تھے کہ چاقو چھریاں تیز کی جاسکتی تھیں۔ ان کے لباس خوشحالی اور دولت کی فراوانی کا ثبوت دے رہے تھے۔ کئی ہوٹلوں میں تلاشی لینے کے بعد بھی ہمیں خالی کمرے نہ ملے۔ سیزن کے دنوں میں یہاں سیاحوں اور مسافروں کی تعداد اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ میلے کا سماں بندھ جاتا ہے۔ اگر کہیں کمرے دستیاب بھی تھے تو ان کا کرایہ اس قدر تھا کہ کرائے کی رقم سے بندہ اپنا ذاتی کمرہ تعمیر کر سکتا تھا۔

ہمارے چہرے پھر سے اترنے لگے۔ میں نے ایک چھوٹی سی دکان سے سگریٹ خریدے اور سلگانے کی تیاری میں لگ گیا۔ دھواں جب دماغ کو چڑھا تو سردی کے ساتھ بھوک کا احساس بھی بیدار ہو گیا۔ صبح کے ناشتے سے اب تک چند بسکٹ اور نمکو کے کچھ دانے ہی معدے کو مل پائے تھے۔ وہ شکایت کر رہا تھا۔بغاوت پر اتر آیا تھا۔ ہمیں رہائش کی تلاش کرتے کرتے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا۔ اب شام پوری طرح وادی میں اتر چکی تھی۔ سڑک کے کنارے لگے لیمپ پوسٹس روشن ہوگئے تھے۔ روشنی میں نہائی سڑک کسی افسانے کا منظر پیش کر رہی تھی۔ دودھیا روشنی میں اردگرد موجود ہوٹلز اور عمارتیں مزید دیدہ زیب لگنے لگی تھیں۔  بالآخر ہماری کوشش کامیاب ہوئی اور ہمیں مطلوبہ ہوٹل مل گیا۔ ہوٹل کا نام ’’دی نورینز‘‘ تھا۔ ایک ہال کمرہ جو کافی کشادہ تھا اور ساتھ چھوٹا کمرہ بھی موجود تھا۔ ہال کمرے میں سبھی نے اپنا سامان ڈھیر کردیا اور فرش پر پڑے میٹرس پر خود کو گرا دیا۔ ہال کمرے میں دو ڈبل بیڈ تھے۔ فرش پر قالین بچھا تھا۔ چھوٹے کمرے میں دو سنگل بیڈ تھے۔ دونوں کمروں کے ساتھ صاف ستھرے واش رومز کی سہولت بھی تھی۔ ہم نے مُنھ ہاتھ دھویا اور کھانے والے کمرے میں آگئے۔

اسلام انتظام کے حوالہ سے عمدہ منتظم ثابت ہوا۔ اس نے بڑے دھیمے اور میٹھے انداز میں ہوٹل کے مالک سے بات چیت کی۔ میں پاس کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا اور محظوظ ہو رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے سنا ہے ہنزہ والوں کے دل بہت کشادہ ہوتے ہیں اگر دسترخوان پر بھی اسی کشادگی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملے تو مزہ آجائے۔ میں زیرِ لب مسکرا رہا تھا اور اسلام کی گفتگو سے لطف اٹھا رہا تھا۔ پھر وہ دونوں کچن کے معائنے کے لیے چلے گئے۔ اسلام صفائی ستھرائی کا حد درجہ قائل ہے۔ ویسے تو ہر انسان ہی گندگی سے نفرت کرتا ہے اور صاف ستھرے ماحول کی خواہش رکھتا ہے لیکن کچھ لوگ حد درجہ اس کا خیال رکھتے ہیں بلکہ نفسیاتی طور پر عارضہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہمارے محلے میں دو استانیاں رہتی تھیں جنھیں صفائی ستھرائی کا بخار چڑھا رہتا تھا۔ ان کے گھر کے ساتھ خالی پلاٹ تھا۔ ہم نے بچوں کے لیے تقریب کا اہتمام کرنے کا سوچا۔ ان دنوں ایسے خیالات آتے رہتے تھے۔ محلے کے بچوں کو بتایا کہ تلاوت، نعت، ملی نغمہ اور تقریر تیار کر لیں۔ جو جیتے گا نقد انعام بھی ملے گا۔ خالی پلاٹ چوں کہ ان استانیوں کی ملکیت تھا اس لیے ان سے اجازت لینا ضروری تھا۔ پلاٹ کے گرد چھوٹی چھوٹی چار دیواری تھی اور بوسیدہ دروازے پر ہر وقت تالہ پڑا رہتا تھا۔ وہ رضامندہو گئیں۔ اجازت ان کے بھانجے کے توسط سے ملی جو کہ ہماری انتظامیہ کا حصہ تھا۔

تقریب شروع ہوئی۔ کالونی کے بچوں نے بھرپور حصہ لیا۔ پلاٹ میں لوگوں کا ہجوم ہماری سوچ سے بھی زیادہ تھا۔ تقریب کے اختتام کے بعد مناسب صفائی ستھرائی کردی اور تالہ لگا کر چابی شکریے کے ساتھ استانیوں کو واپس کردی گئی۔ اگلے دن ان کا بھانجا سائیکل پر سامان رکھے مل گیا۔ اس نے کہا کہ تقریب تم لوگوں نے رکھی اور جان میری عذاب میں پڑی۔ تفصیل پوچھنے پر معلوم ہوا کہ استانیوں نے پائپ لگوا کر اینٹوں کے فرش سے لے کر دیواریں تک اس غریب سے دھلوائی ہیں۔ اور تو اور ڈیٹول سے چھڑ کائو الگ کروایا۔ پھر سینی ٹائزر سے پودوں پر پھوار بھی مارتا رہا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اب ڈیٹول کا بڑا پیک لے کر جارہا ہوں۔ اللہ جانے اس کا کیا کریں گی۔ دستانوں کی درجن الگ سے ہے۔ وہ رونے والا مُنھ بنا کر ہمیں اپنی بے بسی کی روداد سنا رہا تھا اور ہم قہقہے لگا کر حوصلہ افزائی کررہے تھے۔

خیر اسلام اس حد تک صفائی پسند نہیں ہے کہ مبادا لوگوں سے نفرت ہی ہو جائے۔ صفائی پسند ہونا اچھی بات ہے مگر صفائی کو سر پر سوار کرلینا کہ انسان نفسیاتی عارضہ میں ہی مبتلا ہو جائے الگ معاملہ ہے۔ اسلام کچن کا جائزہ لینے گیا اور میں کمرے میں لگی تصویروں کا جائزہ لینے لگا۔ ہنزہ کے خوب صورت مقامات جا بجا تصویروں کی شکل میں آویزاں تھے۔ کہیں وادی میں کھلتے پھولوں کا نظارہ تھا۔ کہیں بہتے چشموں کی شفافیت تھی۔ کہیں ہنزہ کا روایتی رقص تھا تو کہیں مقامی پکوان دسترخوانوں پر دھرے تھے۔

ہنزہ کی وادی کے کتنے ہی رنگ بیک وقت میری آنکھوں کے سامنے تھے۔ یہ وادی ثقافتی ورثے سے مالا مال تھی اور اپنے مقامی نظام کے تحت پر امن بھی تھی۔ وادی میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی۔ دوسری جانب اخلاق اور ملنساری سے بھرپور لوگ تھے جو بانہیں پھیلائے ہر نووارد کو خوش آمدید کہتے تھے۔ موسم ٹھنڈا تھا لیکن قابلِ برداشت تھا۔ مجھے گرمی کی نسبت سردی کا موسم زیادہ اچھا لگتا ہے۔ مجھے وادی جنت کا ٹکڑا لگ رہی تھی۔ میرے دل کو ہنزہ کی وادی چند گھنٹوں میں ہی بھاگئی تھی۔ وادی کی خوش جمال فضا مجھے سب کچھ بھلائے دے رہی تھی سوائے بھوک کے ؛ چوں کہ وہ اپنی جگہ قائم تھی۔

میں سوچ رہا تھا اسلام واپس آئے گا تو کھانے کی خوشبو ساتھ لے کر آئے گا۔ لیکن وہ تو خالی ہاتھ ہی لوٹ آیا۔ اس لمحے مجھے اسلام کے چہرے پر پُر اسرار مسکان زہر لگ رہی تھی۔ بھوک مجھے قتل کرنے پر تلی ہوئی تھی اور میں یوں بھوکا نہیں مرنا چاہتا تھا۔ بھوک مجھے ماضی کی کھائی میں لے گئی۔ میں نے بتھیرے ہاتھ پائوں مارے لیکن گرتا چلا گیا۔

سردیوں کی دھوپ نعمت سے کم نہیں ہوتی۔ میں چوک میں کھڑا دھوپ سینک رہا تھا اور ٹھنڈے جسم کو تقویت پہنچا رہا تھا کہ فیصل مسکراتا ہوا میرے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔ فیصل میرے بچپن کا دوست ہے اور ٹیوب ویل ٹربائن کا کاریگر ہے۔

کاما افسانے میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اس نے آوارہ گردی کا پروگرام ظاہر کیا۔ ہم دونوں چلتے چلتے راجباہ کے کنارے آگئے۔ دل میں کیا دھن سمائی اور ذہن میں عجب خیال نے کروٹ لی کہ راجباہ کا آغاز دیکھنے کی لگن لگ گئی۔

دن دس ایک بجے کا وقت تھا۔ دھوپ بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ ٹنڈ منڈ اشجار اپنی کسالت کا لبادہ اتار رہے تھے۔ راجباہ کے ساتھ نشیب میں ہری بھری فصلیں تھیں۔ ہمارے پاس ایک دوسرے کو سنانے کے لیے کہانیاں تھیں اور فرصت تھی۔ ہم دونوں چلتے گئے۔ کسی منزل کا تعین کیے بغیر مسلسل قدم بڑھاتے ہوئے بس چلتے گئے۔ مجھے گرمی محسوس ہوئی اور میں نے اپنی جیکٹ اتار کر کاندھے پر رکھ لی۔ وہ بھی جرسی ہاتھ میں پکڑے چلنے لگا۔ ہمیں راجباہ کا چھور تو نہیں ملا اور نہ ہم وہاں تک پہنچ پائے مگر راستے میں دلکش مناظر ضرور دیکھنے کو ملے۔ ہم راجباہ کے کنارے سے دور ہو گئے۔ بڑی نہر کے پُل کو پار کرکے ایک انجان گائوں سے گزر کر چوک میں جا پہنچے۔ جہاں درخت کے نیچے لگا نلکا ہمیں پکار رہا تھا۔ اشارے سے نہیں بلکہ بلند آواز دے کر بلا رہا تھا۔ حلق پیاس سے خشک ہو چکا تھا اور زبان تالو سے جا لگی تھی۔

ہم دونوں نے سیر ہو کر پانی پیا۔ رکشے والے سے چن پیر کا کرایہ پوچھا اس کے جواب پر تڑپ کر پیچھے ہٹ گئے جیسے بچھو نے ڈس لیا ہو۔ اس نے کرایہ اڑھائی سو روپے بتایا تھا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب کوکا کولا کی بوتل چھ یا سات روپے کی تھی۔ یعنی ہم چلتے چلتے بہت دور نکل آئے تھے۔ درخت کے نیچے ادھیڑ عمر بڑھئی چارپائیوں کے بازو تراش رہا تھا۔ اس نے ہمیں کچی سڑکی سے جانے کا مشورہ دیا۔ جو اس کے بقول سیدھی چن پیر جاتی تھی۔

چن پیر کا شہر سے فاصلہ سات آٹھ کلومیٹر کا ہے۔ لیکن وہاں سے کتنا فاصلہ تھا ہمیں معلوم نہیں تھا۔ ہم کچی سڑکی پر چلنا شروع ہو گئے۔ اردگرد گندم کی سبز ڈالیاں لہلہا رہی تھیں۔ کئی جگہ مکانات بھی دکھائی دے رہے تھے۔ وہ سڑک ہمیں ایک بوسیدہ گائوں میں لے گئی۔ ہم نے پھر سے پوچھا اور ایک نشیبی سڑک پر چلنے لگے۔ عصرکی اذان ہمارے کان میں پڑی۔ ٹانگیں تھکن سے چور ہو چکی تھیں اور بھوک نے بھنبھوڑنا شروع کردیا تھا۔ وہی رستہ جو پہلے خوش گوار لگ رہا تھا۔ کسی اژدھے کی لکیر لگنے لگا تھا۔ ہم دونوں دل میں پچھتا رہے تھے لیکن ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے ہوئے چلتے جارہے تھے۔ اتفاق سے ہماری جیبیں خالی تھیں۔ رکشہ والے سے کرایہ پوچھنے کا مقصد فاصلے کا اندازہ لگانا تھا۔

سیدھے راستے سے چن پیر جائیں تو دربار کا گنبد مشرق کی جانب موجود ملتا ہے۔ چوں کہ ہم لوگ دوسری طرف سے جا رہے تھے اس لیے وہی گنبد ہمیں مغرب کی جانب دکھائی دیا۔ گنبد کا دیکھنا تھا کہ ہماری جان میں جان آگئی۔ قدم تھکاوٹ کے باوجود تیزی سے اٹھنے لگے۔ دربار کے پچھواڑے کھلے میدان میں دری بچھی تھی اور وہاں لوگ فاتحہ خوانی میں مصروف تھے۔ ہم بھی جا کر بیٹھ گئے اور فاتحہ خوانی کرنے لگے۔ سب لوگ ایک دھوتی کرتا پہنے شخص کو ’’اللہ دا حکم‘‘ کہہ رہے تھے۔ ہم نے بھی رسمی تعزیتی جملے ادا کیے اور پاس پڑی دیگوں کی طرف دیکھنے لگے۔

پراتوں کے اندر چاول ڈالے گئے اور تقسیم کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ ہم دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور اٹھ کھڑے ہو ئے۔ ہم نے انتظامیہ کے فرائض سنبھال لیے اور چاولوں سے بھری پراتیں اٹھائے لوگوں کے سامنے پڑی خالی پلیٹوں میں چاول ڈالنے لگے۔ پانی پلانے والوں کو بھی کاشن دینے شروع کر دیے اور تھوڑی ہی دیر میں منتظمین کے باقاعدہ دستِ راست بن گئے۔ دریوں پر بیٹھے لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ نہ تھی لہٰذا جلد ہی کام ختم ہو گیا۔ دیگ پر بیٹھ ’’ورتارے‘‘ نے ہمیں پرات بھر کر چنے والے چاول دیے اور بیٹھ کر کھانے کا مشورہ دیا۔

ہم نے پلیٹوں کا تکلف نہ کیا اور ہاتھوں کو چمچ بناتے ہوئے ہپڑ ہپڑ کرکے کھانے لگے۔ دو تین پراتیں ختم کرنے کے بعد جب ’’ورتارے‘‘ کی آنکھوں میں ناگواری دیکھی تو ہاتھ کھینچ لیا۔ اللہ کا حکم کہتے ہوئے گھر کی راہ لی۔

ہم لوگ ان وادیوں اور پہاڑوں میں سیر کے ارادے سے آئے تھے کھانا کھانے کی غرض سے نہیں آئے تھے۔ لیکن کھانے کے بغیر زندگی کی گاڑی کا چلتے جانا ممکن بھی تو نہیں تھا۔ میں شکم سیری کے فوائد اور نقصانات کے متعلق سوچنے لگا۔ مجھے لگا کہ انسان کو زمین پر باندھنے کا اچھا طریقہ نکالا ہے وہ فقط پیٹ بھرنے کے لیے انواع و اقسام کی ڈشز تیار نہیں کرتا بلکہ اپنی لذت کے لیے کرتا ہے۔ زبان کا چسکا اسے قسم قسم کی اشیاء کھانے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر کہیں وہ اس زبان پر قابو پالے اور جو مل جائے اسی پر راضی ہونا سیکھ لے تو کیا اس پر کوئی گیان کا دروازہ کھل جائے گا۔

میں اسی ادھیڑ بن میں مصروف تھا کہ کھانا آگیا۔ کھانا ہماری توقع سے بڑھ کر لذیذ اور فراواںتھا۔ مختلف اقسام کی سبزیوں کواپنی تمام تر مخالفت کے باوجود ایک جگہ اکٹھا کرکے پکا دیا گیا تھا۔ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ باورچی کی مہارت کی بدولت لذت سے بھرپور ڈش تیار ہو گئی تھی۔ مٹر، شملہ، گاجر اور آلو کو مناسب نمک مرچ کے ساتھ پکایا گیا تھا۔ روٹی خستہ اور نرم تھی ساتھ سلاد بھی موجود تھا۔ کھانا لذیذ ہو اور بھوک اپنے عروج پر ہو تو ہاتھ روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عام طور پر میں بھوک رکھ کر کھاتا ہوں پر اس روز احتیاط کے سارے پہلو نظر انداز کرتے ہوئے سیر ہو کر کھایا اور خوب مزے لے لے کے کھایا۔ پورے سفر میں ایسا لذیذ کھانا ہمیں پھر نصیب نہیں ہوا۔ کھانے کے بعد سبھی دوست ہال کمرے میں آ گئے۔

اسلام نے سلنڈر پر پتیلی دھرلی اور اپنا عمل شروع کردیا۔ وہ پتیلی سے نکلتے دھوئیں کے اوپر کسی گیانی بابا کی طرح نگاہیں جمائے بیٹھا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اگر مزید کچھ وقت کے لیے وہ یوں ہی بیٹھا رہا تو ہو سکتا ہے کوئی جن حاضر کرلے۔ چائے کی طلب میں کئی بار میںہال کمرے سے اٹھ کر ڈیوڑھی میں آیا کہ جائزہ لے سکوں چائے کا جاپ کہاں تک پہنچا۔ منتر تھا کہ گیانی بابا کے ہاتھ سے بھی نکلا جا رہا تھا۔ آخر میں کسمسائی سی طبیعت کے ساتھ میں کمرے میں آگیا اور تاش کھیلنے والی ٹولی کی ہائو ہو سننے لگا۔ وہ ایک دوسرے پر جملے کس رہے تھے۔ مُنھ چڑا رہے تھے نقلیں اتار رہے تھے اور میں بار بار دروازے کی جانب دیکھ رہاتھا کہ چائے کب آئے گی۔

چائے تو نہ آئی۔ ایک مجنون سا شخص میلے کچیلے لباس کے ساتھ آگیا۔ ہائو ہو تھم گئی۔ سبھی اس کا سراپا تکنے لگے۔ وہ بے تکلفی کے ساتھ قالین پر اپنے کیچڑ زدہ پائوں کے ساتھ بیٹھ گیا اور بے تکی باتیں کرنے لگا۔ ایسی باتیں جن کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔ جن کا مطلب صرف اسے معلوم تھا یا شاید اسے بھی معلوم نہیں تھا۔ سبھی اس کی گفتگو کا لطف لینے لگے۔ کوئی اس سے پہاڑوں کے متعلق پوچھتا تو کوئی شادی کے بارے سوال کرتا۔ امداد اور امجد ٹرے میں چائے لیے اندر داخل ہوئے۔ سب نے اسلام زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ امجد نے کہا کہ چائے ہم لے کر آئے ہیں اور نعرے اسلام کے نام کے لگ رہے ہیں۔ فہیم نے بے ساختہ کہا کہ ہم اسلام اور کفر میں فرق اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا ہنسی کا شور مچ گیا۔ سبھی نے فہیم کو اس جملے پر کھل کر داد دی۔ سمیر تو باقاعدہ رقص کی حالت میں آچکا تھا۔ وہ جھومر ڈال رہا تھااور امجد کومرکز مان کر رقص کا دائرہ سا بنا رہا تھا۔ امجد رونی صورت لیے بس دیکھ رہا تھا۔

اس دھماچوکڑی میں ہم لوگ دیوانے کو یکسر بھلا بیٹھے تھے۔ وہ اب بھی اپنا راگ الاپ رہا تھا۔ کہیں کہیں جب الفاظ بامعنی روپ اختیار کرتے تو ہم اس کی آواز پر کان دھرتے ورنہ تو ہمارے لیے وہ متروک زبان بولنے والا آدمی تھا۔ ایسی زبان جو مبہم اور پوشیدہ اشاروں سے مل کر بنی تھی۔ میں ابہام کی گتھیوں کو سلجھاتا اور الفاظ کو شکل دیتا ہوا ماضی کے جہان میں پہنچ گیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20