توہین رسالت و مذہب : میکرون کے فرانس کا قومی وتیرہ —- وحید مراد

0

توہین رسالت و مذہب صرف مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کیلئے یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ اس لئے تمام الہامی و غیر الہامی مذاہب میں توہین مذہب و عقیدہ کو سنگین گناہ و جرم قرار دیا گیا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز تک، فرانس کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک میں توہین مذہب و توہین رسالت کے قوانین موجود تھے اور انسانی تاریخ کے تمام ادوار میں توہین مذہب کا جرم کرنے والوں کو سزائیں بھی دی جاتی رہی ہیں۔ توہین مذہب Blasphemy میں ہر ایسی توہین آمیز گفتگو، تحریر، اظہار، مظاہرہ یا عمل شامل ہوتا ہے جس سے کسی مذہب، معبود، مقدس شخصیات، کلام یا کسی مقدس چیز کی توہین ہوتی ہو۔ توہین رسالت، توہین مذہب کا ہی ایک پہلو ہے۔ پاکستان اور اسلامی ممالک میں مغرب کی چکا چوند سے مرعوب، کالونیل ازم کی باقیات میں سے ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو مغرب کی ہر چیز کو بلا تنقید و تجزیہ کے چوم کر سینے سے لگاتا ہے اور پھر اپنے سطحی مفادات کے تحت اسکے حق میں پروپیگنڈہ بھی کرتا ہے۔ اسی طبقے میں سے کچھ لوگ مغرب کی ایماء پر پاکستان کے قانون توہین رسالت کو ‘کالا قانون’ کہتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ یہ لوگ مغربی ممالک میں صدیوں سے پائے جانے والے قانون توہین رسالت کا مطالعہ کریں۔

تاریخی اعتبار سے عیسائی اکثریتی آبادی والے ممالک میں توہین مذہب ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا رہا ہے اور اس پر سخت سزائیں دی جاتی رہی ہیں۔ عیسائی مذہب میں توہین رسالت و مذہب کو قتل سے بھی بڑا جرم سمجھا جاتا ہے۔ تھامس ایکناس کے مطابق “توہین مذہب و رسالت جو خدا کے خلاف براہ راست گناہ ہے قتل سے زیادہ سنگین ہے”۔ انجیل (مارک 29:3) میں کہا گیا ہے کہ “روح القدس کی توہین ناقابل معافی جرم ہے”۔ Heidelberg Catechism نے توہین مذہب کے بارے میں سو سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ “کوئی گناہ توہین مذہب و رسالت سے بڑا نہیں کیونکہ خدا کے قہر کو جو چیز سب سے زیادہ اکساتی ہے وہ اسکی توہین کا گناہ ہے”۔ عیسائی اور یہودی مذاہب میں توہین رسالت کی سزا، سزائے موت اور پھانسی تھی (Leviticus 24:13-16)۔

ہندو مذہب میں بھی منو سمرتی کے مطابق ہندو دھرم کو بھول جانا، اسے مسترد کرنا، اس پر تنقید کرنا یا اسکی توہین کرنا گناہ ہے اور اسے ہندو مذہب کے پانچ سنگین گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سکھ مذہب میں گرو گرنتھ کے مطابق توہین مذہب کرنے والا ضرورت سے زیادہ مغرور ہوتا ہے اور نفس کی پانچ گمراہیوں کا شکار ہوتا ہے۔ اور اس سر کو کاٹ ڈالنا چاہیے جو رب کے آگے نہیں جھکتا۔

Blasphemy - Wikipedia2012 میں ہونے والی پیو ریسرچ کے مطابق توہین مذہب کے قوانین تمام مسلم اکثریتی ممالک افغانستان، الجیریا، بحرین، مصر، انڈونیشیا، ایران، اردن، کویت، لبنان، ملائیشیا، مالدیپ، مراکش، عمان، پاکستان، بنگلہ دیش، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، موریطانیہ، سوڈان، ترکی، متحدہ عرب امارات اور دیگر میں موجود ہیں لیکن ان مسلم ممالک کے علاوہ دیگر بے شمار غیر مسلم ممالک میں بھی اس طرح کے قوانین موجود ہیں جن میں ہندوستان، سنگاپور اور کئی عیسائی اکثریتی یورپی ممالک شامل ہیں۔ 87 ممالک ایسے ہیں جن میں اس سے ملتے جلتے قوانین موجود ہیں یعنی جن میں قانون کا نام تو ‘نفرت انگیز تقاریر کے خلاف قانون’ ہے لیکن اس میں مذہب کی توہین اور مذہبی گروہوں کے خلاف نفرت کے اظہار کی ممانعت بھی شامل ہے۔

ہندوستان میں برطانوی قبضے کے دوران 1860 میں توہین رسالت کے جو قوانین بنائے گئے وہ آج تک موجود ہیں۔ برطانوی دور میں دفعہ 295 اے تعزیرات ہند میں شامل کی گئی اور یہ آج تک ہندوستان کے قانون میں موجود ہے اور اسے منسوخ نہیں کیا گیا۔ یہی دفعہ پاکستان اور میانمار کے تعزیراتی ضابطوں میں بھی موجود ہے۔ میانمار نے آرٹیکل 298 کا بعد میں اضافہ کیا۔ اس قانون کے تحت توہین رسالت کے جرم میں ایک سال اور دو سال تک قید اور جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ نیپال میں 2018 میں ضابطہ ایکٹ کی دفعہ 9۔ 156 منظور کی گئی جس کے تحت توہین مذہب کے خلاف دو سال تک کی قید اور بیس ہزار روپے جرمانے کی سز ا دی جا سکتی ہے۔ تھائی لینڈ میں 1956 کے تعزیری ضابطہ کی دفعہ 206 اور 208 کے تحت توہین مذہب پر ایک سے سات سال کی قید اور دو سے چودہ ہزار بھات کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

چین سرکاری طور پر ایک ملحد ملک ہے لیکن 1989 میں بیجنگ میں ایک متنازعہ کتاب کے خلاف احتجاج کے بعد چین نے اس کتاب پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ اس میں مسلمانوں اور اسلام کی توہین کی گئی تھی۔ چینی کیلنڈر کے مطابق 2007 کا سال سور (خنزیر) کا سال تھا لیکن مسلمانوں کی دل آزادی اورتنازعات سے بچنے کیلئے چین نے خنزیر کی تصویروں کی تشہیر پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ چین میں دو کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ اسی طرح چین میں مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے، 2015 میں چارلی ہیبڈو کے گستاخانہ خاکوں کی تشہیر پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

روس میں 2013 میں روسی فوجداری ضابطہ کی شق 114 کے مطابق مذہبی عقائد کی توہین کو وفاق کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے اور مذہبی علامات کی بیحرمتی پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ اسرائیل میں توہین رسالت کا قانون موجود ہے اور اسکے مطابق 1997 میں ایک شخص کو رسالت مآبﷺ کی تصویر بنانے اور بیحرمتی کرنے کے الزام میں دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سائوتھ افریقہ میں 1934 میں ایک اخبار کے ایڈیٹر کو توہین رسالت کے الزام کے تحت سزا سنائی گئی، 1962 میں ہیرالڈ روبین پر بائیبل کے اقوال کی بیحرمتی پر مقدمہ چلایا گیا۔ 1968 میں ورسٹی کے ایڈیٹر پر مقدمہ چلایا گیا کہ اس نے ایک رپورٹ میں خدا کیلئے نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ 2000 کے مساوات ایکٹ میں نفرت انگیز تقریر سے منع کیا گیا جس میں مذہب کے خلا ف نفرت کا اظہار بھی شامل تھا۔ برازیل کے قانون ضابطہ 208 کے مطابق کسی مذہبی عبادت کے کسی فعل یا مقصد کی تضحیک ایک جرم ہے جسکی سزا ایک سال قید تک یا جرمانے کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

ECPMF – Ireland repeals blasphemy law - who's next?آسٹریا میں 2018 میں ایک کیس کے فیصلے میں انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے آسٹریا میں توہین مذہب کے قانون کو ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ریاست کے اندر ضرورت کے تحت اس قانون کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ اس کیس میں Elisabeth Sabaditsch-Wolff پر الزام تھا کہ اس نے پیغمبراسلام ﷺ کی توہین کی ہے۔ آسٹریا کی عدالت کی طرف سے اسے دی گئی سزا کو برقرار رکھا گیا اور یورپین کورٹ نے کہا کہ آسٹریا کی عدالت کے ذریعے سنائے گئے فیصلے سے آزادی اظہار پر انسانی حقوق سے متعلق یورپی کنونشن کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔

پولینڈ میں 2012 میں ایک پاپ گلوکارہ ڈوڈا پر توہین مذہب کے قانون کے تحت 5000 پولینڈ کرنسی کی رقم کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ اس نے اپنے ایک انٹرویو میں بائبل کی بیحرمتی کی بات کی تھی۔ مارچ 2019 میں ایک پولش صحافی Jerzy Urban پر بھی تیس ہزار امریکن ڈالر کے برابر رقم کا جرمانہ عائد کیا گیاتھا اور الزام یہ تھا کہ اس نے اپنے اخبار میں حضرت عیسیٰؑ کی ایک تضحیک آمیز تصویر شائع کی تھی۔

پچھلے بیس سالوں میں توہین رسالت کا ایشو، اقوام متحدہ کیلئے بھی ایک بہت اہم ایشو بنا رہا۔ او آئی سی نے 2011 تک ایک مہم چلائی جس کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے خطوط پر دنیا بھر میں توہین رسالت کے جرائم کے خلاف اقدامات اٹھانے کی کوشش مقصود تھی۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں متعدد قراردادیں بھی منظور کی گئیں جن میں مذہب کے خلاف توہین آمیز اعمال کے خلاف کاروائی کے مطالبے کئے گئے۔ لیکن اقوام متحدہ نے ان قراردادوں کے مخالفین کے پریشر میں آکر ان سے متعلق کسی کاروائی کا حکم نہیں دیا۔ اسلامی تعاون تنظیم نے اقوام متحدہ سے توہین مذہب کا عالمی قانون تشکیل دینے کیلئے درخواست کی لیکن اقوام متحدہ نے یہ کہہ کر اس پر غور نہیں کیا کہ اس سے تمام عقائد کے مابین سنسر شپ لاگو ہو جائے گی اور آزادی اظہار رائے پر قدغن لگ جائے گی جس سے انسانی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے اس لئے عالمی سطح پر اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔ لیکن اقوام متحدہ کے کسی عہدیدار نے یہ نہیں سوچا کہ صدیوں سےجب اس قانون پردنیا بھر کے ممالک میں عمل درآمد ہو رہا تھا تو اس وقت انسانی حقوق کو اس سے کوئی مسئلہ کیوں نہیں تھا؟ اسی طرح آج کچھ ممالک میں حکومتی سطح پر کی جانے والی توہین رسالت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی جو دل آزاری ہو رہی ہے اسکا انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں کوئی شمار کیوں نہیں؟

The Blasphemy Law is a European concept - Naya Daurسچے الہامی مذاہب، نہ جھوٹے مذاہب کو اس دنیا سے زبردستی ختم کرتے ہیں اور نہ انکے ماننے والوں کی دل آزاری کرتے ہیں جیسے اسلام میں جھوٹے خدائوں کو بھی برا بھلا کہنا منع ہے لیکن انسانوں کے وہ گروہ جنہوں نے اپنے نفس کو خدا کا درجہ دے دیا ہے وہ اپنے مذہب) ہیومنزم (کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے وجود کو گوارا کرنے کو تیار ہی نہیں۔ انکے خیال میں انکے جھوٹے مذہب کو مکمل تحفظ صرف اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب دیگر مذاہب، عقائد اور مقدس چیزوں کی حرمت کو پامال کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہاں مذاہب کی حرمت کے قانون کو ختم کرنے کی مہم شروع کر دی اور الہامی مذاہب کی بیحرمتی اور توہین کو اپنا شعار بنا لیا۔ 2015 میں، او آئی سی کے مقابلے میں بین الاقوامی ہیومنسٹ یونین (IHEU) یورپی ہیومنسٹ فیڈریشن (EHF) نے “توہین رسالت کے قانون کے خاتمے” کی مہم چلائی اور بین الاقوامی اداروں کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے کئی یورپی ممالک کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ اس مہم کے تحت یورپ کے کئی ممالک نے اپنے برسوں سے جاری توہین رسالت و مذہب کے قوانین کو منسوخ کر دیا۔

ان ممالک میں سے کچھ نے اپنے ہاں صدیوں سے موجود توہین رسالت کے قانون کو سرے سے ختم اور منسوخ کر دیا، کچھ نے ان میں ترمیمات کرکے انہیں نرم بنا دیا یا انکو ایسا نام دے دیا جو بین الاقوامی ہیومنسٹ یونین اور یورپی ہیومنسٹ فیڈریشن کے لئے قابل قبول ہو۔ اس حوالے سے جو نئے قوانین بنائے گئے ہیں ان کے اندر پرانی شقیں کسی نہ کسی شکل میں اب بھی موجود ہیں جیسے ہتک عزت کا ایکٹ ابھی تک ہر جگہ نافذ ہے یا کچھ ایسی شقیں ہیں جن کے مطابق اگر عدالتیں چاہیں تو توہین رسالت کو ایک جرم قرار دیتے ہوئے توہین کے مجرم کو کچھ نہ کچھ سزائیں ضرور دے سکتی ہیں لیکن یہ سب موجودہ حکومتوں کے چلن پر منحصر ہے۔

آسٹریلیا میں 1780 میں برطانوی کالونی کی حیثیت سے توہین رسالت کا قانون نافذ کیا گیا جو برطانوی ایکٹ 1697 کی طرز پر تھا۔ 1995 میں آسٹریلیا نے وفاقی سطح پر توہین رسالت کے تمام قوانین کو منسوخ کر دیا لیکن ابھی بھی کچھ ریاستوں میں یہ قانون باقی ہے۔ کنیڈا کے ضابطہ فوجداری 1985 میں اس جرم کی سزا دوسال تک قید تھی لیکن 2018 میں اس قانون کو منسوخ کر دیا گیا۔ برطانیہ میں توہین رسالت کے جرم میں جس آخری شخص کو پھانسی دی گئی اسکا نام تھامس ایکن ہیڈ تھا اور اسے اسکاٹ لینڈ میں 1697 میں پھانسی دی گئی۔ اسکے بعد بھی برطانیہ میں اس جرم کے خلاف جرمانہ، قید وغیرہ کی سزا تھی اور 2008 تک اسے سنگین جرم سمجھا جاتا تھا اور اس پر جرمانہ عائد کیا جاتا تھا لیکن 2008 میں انگلینڈ اور ویلز میں یہ قوانین ختم کر دئے گئے۔

فن لینڈ میں توہین رسالت کے قانون کے تحت 1964 میں ایک مصنف Hannu Salama (ناول نویس) کو سزا سنائی گئی اور1969 میں Juhannustanssit (مصور) کو سزا سنائی گئی۔ Jussi Hall-aho کو انکے ایک توہین آمیز بلاگ پر 2008 میں جرمانہ کی سزا سنائی گئی اور وہ بعد ازاں فن لینڈ کی پارلیمنٹ کے ممبر بھی بنے۔ جرمنی میں 2006 میں Manfred Van H. پر توہین مذہب کے تحت ایک مقدمہ چلایا گیا جس میں الزام تھا کہ اس نے لوگوں میں ایک ایسے ٹوائلٹ پیپر کا رول تقسیم کیا جس پر قرآنی آیات دررج تھیں۔ یونان میں اس جرم کے تحت دو سال قید کی سزا تھی اگرچہ اس قانون کے تحت صرف آرتھوڈوکس فرقے کے مذہب کو تحفظ حاصل تھا۔ اس قانون کے تحت دسمبر 2003 میں Gerhard Haderer پر مقدمہ چلایا گیا جس نے حضرت عیسیٰؑ پر ایک مزاحیہ کتاب لکھی تھی لیکن 2019 میں یونان نے ان قوانین کو منسوخ کر دیا۔

اٹلی میں توہین رسالت کے جرم پر 51 یورو سے لیکر 309 یورو تک جرمانےکی سزا دی جاتی تھی۔ یہ قانون 1930 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ آئس لینڈ میں 1940 کو نافذ کئے گئے ضابطہ فوجداری کے تحت توہین رسالت کے جرم میں تین ماہ تک کی قید یا جرمانہ تھا لیکن 2015 کو یہ قانون منسوخ کر دیا گیا۔ آئرلینڈ میں توہین مذہب پر پچیس ہزار یورو کا جرمانہ تھا اور اسکے تحت کئی مقدمات چلائے گئے لیکن یہ قانون جنوری 2020 میں منسوخ کر دیا گیا۔

مالٹا میں 1933 سے ضابطہ فوجداری آرٹیکل 163ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت رومن کیتھولک مذہب کی تبدیلی ممنوع ہے جو مالٹا کا ریاستی مذہب ہے۔ اس مذہب کی گستاخی کی سزا چھ ماہ قید تھی خواہ مجرم نے یہ جرم نشے کی حالت میں ہی کیوں نہ کیا ہو۔ 2008 میں اس قانون کا اطلاق 621 افراد پر کیا گیا۔ لیکن 2016 میں مالٹا کی پارلیمنٹ نے اس قانون کو منسوخ کر دیا۔ نیدر لینڈ میں 1932 کے ضابطہ فوجداری آرٹیکل 147کے تحت توہین رسالت کے قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں تین ماہ کی قید یا 3800 یورو کا جرمانہ تھا۔ 1966 میں ایک مصنف Gerard Reve کو اس جرم کے تحت سزا سنائی گئی لیکن2012 میں اس قانون کو منسوخ کر دیا گیا۔ نیوزی لینڈ میں کرائم ایکٹ 1961 کی دفعہ 123 کے تحت توہین رسالت ایک جرم تھا جسکی سزا ایک سال قید تھی لیکن2019 میں اس قانون کو منسوخ کر دیا گیا۔

اسپین میں 2018، 2019 میں توہین رسالت کے قوانین کو ختم کر دیا گیا۔ سویڈن میں 1563 میں ایک قانون بنایا گیا تھا جس میں مذہب کی حفاظت کی گی تھی، 1949 تک یہی قانون لاگو رہا۔ 1970 میں اس ایکٹ میں تبدیلی کی گئی اور ایک نیا قانون لایا گیا اس کے تحت اقلیتی گروہوں کے مذہبی اعمال اور علامات کی حفاظت کی گئی ہے لیکن یہ قانون کسی مذہب کی حفاظت نہیں کرتا۔ سوئٹزرلینڈ کے قانون کے آرٹیکل 261 کے مطابق عقیدے کی آزادی اور عبادت کی آزادی پر حملے کے نام سے قانون ہے جس کے مطابق دوسروں کے عقیدے یا عبادت پر طنز وغیرہ منع ہے۔

امریکہ کے آئین میں توہین رسالت سے متعلق قوانین بنانے کی وفاقی سطح پر اجازت نہیں ہے۔ اس پر صدر اوباما نے امریکی جنرل اسمبلی میں ایک خطاب کے دوران کہا تھا کہ “امریکیوں کی اکثریت عیسائی ہے لیکن پھر بھی انہیں اپنے مقدس عقائد کے خلاف توہین پر پابندی عائد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں”۔ لیکن امریکہ میں بھی اسکی مختلف ریاستوں مثلاً مشی گن، اوکلاہاما، پینسلوانیا، سائوتھ کیرولینا، Massachusetts اور Wyoming میں توہین رسالت کے قوانین موجود ہیں۔ 1879 کے میری لینڈ کے قانون کے مطابق توہین رسالت میں سو ڈالر سے زائد جرمانہ، یا چھ ماہ قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ امریکی آئین میں 1930 کی ترمیم میں بھی ریاستوں کو اس بات کا پابند نہیں کیا گیا کہ وہ توہین رسالت کے قوانین نہ بنائیں۔

ماڈرن فرانسیسی قوم جو چرچ اور کرائون کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں وجود میں آئی اسکا چلن پوری دنیا سے نرالا ہے۔ اس نے اپنی انقلابی شناخت میں اشتعال انگیزی اور عدم تحفظ کو بھی پسند کیا ہے لیکن اگر یہ بات یہیں تک ختم ہوجاتی تو بھی خیر تھی لیکن انہوں نے اس آزادی میں توہین مذہب اور توہین رسالت کو بھی ضروری عنصر کے طور پر شامل کیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کی فرانس کی ریاست جو توہین رسالت و توہین مذہب کو سرے سے قانون ہی نہیں مانتی اور دنیا کی واحد ریاست ہے جسکے حکومتی نمائندگان خود توہین مذہب و رسالت کرتے ہیں اور ایسا کرنے والوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرتے ہیں لیکن اس اصطلاح یعنی blasphemy کا لفظ فرانسیسی الفاظblasphemare، blasmer اور یونانی لفظ blasphemia سے مشتق ہے جن سے شرانگیز باتیں یا خدا کے خلاف شیطان کی باتیں مراد ہیں۔

فرانس نے 1881 کے قانون کے تحت توہین مذہب کے جرم کو قطعی طور پر ختم کر دیا یہاں تک کہ اس کی مذہبی اخلاقیات کی خلاف ورزی کو بھی قانونی تحفظ دے دیا گیا۔ بعد ازاں 1972 کے Pelven Law کے تحت نسل، زبان، قوم، یا گروہ کی بنیاد پر کی جانی والی گستاخی، بیحرمتی، دل آزاری، نفرت، امتیازی سلوک اور تشددکو غیر قانونی قرار دیا گیا لیکن عدالتوں کیلئے یہ تمیز کرنا ناممکن ہوتا ہے کہ کونسی دل آزاری، نفرت اور گستاخی، زبان، نسل و قوم کی بنیاد پر ہے اور کونسی مذہب کی بنیاد پر کیونکہ ان سب کی ظاہری علامات تو ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح دوسری پیچیدگی یہ پیدا کر دی گئی ہے کہ مذاہب کی توہین کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے اور مذاہب کے ماننے والوں کی توہین کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کسی مذہب کی توہین کو جائز قرار دیتے ہوئے اس مذہب کے ماننے والے کو توہین سے بچا ئیں؟ اس لئے عملی طور پر اس قانون کی کوئی اہمیت نہیں اور فرانس میں مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری بھی باقی دنیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ماڈرن فرانسیسی قوم کے بارے میں عام الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں انکے نزدیک کسی بڑے وچھوٹے، ادب ولحاظ، تقدس واحترام اور عزت و توقیر کی کوئی اہمیت نہیں۔ جنسی اور فحش حرکات سے متعلق کارٹون بنانا انکا قومی وتیرہ ہے اور وہ اپنی بہن، بیٹی، بیوی حتیٰ کہ اپنی ماں اور باپ کے فحش کارٹون بھی بناتے ہیں۔ ویسے تو وہاں ہر کوئی اس کام میں ملوث ہے لیکن رسوائے زمانہ اخبار چارلی پیبڈو ان ییں سرفہرست ہے۔

چارلی ہیبڈو نے پہلی بار 2006 گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے اور اس پر مسلمانوں کی دل آزاری سے پیدا ہونے والے تنازعہ کی وجہ سے یہ میگزین مشہور ہو گیا اور اس کی ایک لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں اور بعد ازاں اسی میگزین کی ڈیڑھ لاکھ کاپیا ں دو مرتبہ شائع ہوکر فروخت ہو گئیں۔ مسلمانوں کی طرف سے اس میگزین کے ایٖڈیٹر پر مقدمہ قائم کیا گیا لیکن عدالت نے اس کو یہ کہہ کر بری کر دیا کہ سب خاکے پیغمبر اسلا م ﷺ کے بارے میں نہیں تھے کچھ مسلمانوں کے بارے میں بھی تھے۔ ستمبر 2012 میں اس اخبار نے گستاخانہ خاکوں کا پورا ایک سلسلہ شائع کیا اس پر پوری دنیا کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا اور دنیا بھر میں احتجاج ہوئے۔ 7 جنوری 2015 کو چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ ہوا اور فائرنگ سے بارہ افراد ہلاک ہو گئے جن میں اسٹاف کے لوگ اور کچھ کارٹونسٹ بھی شامل تھے۔

حملے کے اگلے دن چارلی ہیبڈو کی انتظامیہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ان کارٹونوں کی اشاعت جاری رہے گی اور اگلے ہفتے ساٹھ ہزار کی بجائے اسکی دس لاکھ کاپیاں شائع کی گئیں۔ بعد ازاں اسکی پچاس لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں اورفرانس حکومت نے اسے 10 ملین ڈالر امداد بھی دی، گوگل کے ذریعے اسکے لئے ڈھائی لاکھ یورو کا فنڈ جمع کیا گیا اور گارڈین گروپ نے اسے لاکھوں پونڈ کا عطیہ دیا۔ اسکے بعد فرانس میں اس اخبار کے حامیوں نے ایک کمپین چلائی جس کا نعرہ تھا “میں چارلی ہوں” اور پریس، میڈیا، سوشل میڈیا کے ذریعے اسکی خوب تشہیر کی گئی۔ اسکا مطلب یہ تھا کہ فرانس کا ہر شخص چارلی ہیبڈو ہے اور پیغمبر اسلامﷺ کے خاکے بنانے اور انکی تشہیر کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ یکم ستمبر کو چارلی ہیبڈو نے اعلان کیا کہ وہ اگلے دن جنوری 2015 میں ہونےوالی فائرنگ کے مقدمے کی سماعت سے قبل دوبارہ پیغمبر اسلامﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کرے گا۔ صدر اردگان نے جب چارلی پیبڈو کے اس فعل کی مذمت کی تو اسکے جواب میں صدر اردگان کے کارٹون بھی شائع کئے گئے اور انکا مذاق اڑایا گیا۔

صدر میکرون نے 4 ستمبر 2020 کو ایک تقریب میں خطاب کے دوران چارلی ہیبڈو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ

“وہ لوگ جومذہب اوررسالت کی توہین کا حق تسلیم نہیں کرتے وہ “اسلامی علیحدگی پسند” ہیں۔ انہیں فرانس کی شہریت اس وقت تک نہیں لینی چاہیے جب تک وہ یہ حق تسلیم نہیں کرتے کیونکہ فرانسیسی ہونے کیلئے یہ ضروری ہے کہ اسے مذہبی اور مقدس شخصیات کے گستاخانہ خاکے بنانے کا حق حاصل ہو۔ فرانس میں فریڈم آف ایکسپریش کے تحت کسی مذہب پر یقین کرنے اور نہ کرنے والے دونوں طرح کے افراد کو آزادی ہے اور یقین نہ کرنے والوں کی آزادی، توہین رسالت کے حق تک وسیع ہے اور اس آزادی کو توہین مذہب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ فرانسیسی ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ کسی بھی شخص کی ہنسی اڑا سکتے ہیں، تنقید کر سکتے ہیں، طنز کر سکتے ہیں، جگتیں کر سکتے ہیں، تضحیک کر سکتے ہیں اورگستاخانہ خاکے بھی بنا سکتے ہیں”۔

صدر میکرون نے مزید کہا کہ “اسلام پسند علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کیلئے ہم ایک نئے بل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کیونکہ اسلام پسندوں نے فرانس میں ایک متوازی ثقافت تشکیل دی ہے جو فرانسیسی اقدار، رسم و رواج اور قوانین کو مسترد کرتی ہے۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو پوری دنیا میں بحران کا شکار ہے۔

صدر میکرون سمیت فرانس کے کچھ بڑے سیاستدانوں نے فروری 2020 میں چارلی ہیبڈو کی طرح ایک لڑکی کادفاع بھی کیا تھا جس نے توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اس لڑکی نے سوشل میڈیا پر ایک لائیو براڈ کاسٹ میں اسلا م کے خلاف اپنی نفرت پرمبنی پوسٹ میں کہا تھا کہ ” میں مذہب سے نفرت کرتی ہوں اورقرآن ایک قابل نفرت مذہب کی کتاب ہے”(معاذ اللہ)۔ فرانس کی ایک انتہا پسند پارٹی کے لیڈر Marine Le Pen نے اس لڑکی کی حمایت میں کہا کہ “اس لڑکی نے انتہائی جرات مندی سے جو کچھ کہا ہے اتنا کچھ پچھلے تیس سال میں فرانس کی پوری سیاسی قیادت کو کہنے کی جرات نہیں ہوئی“۔ میکرون نے روزلی ڈوفائن لیبر اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے، اس لڑکی کے دفاع میں کہا کہ ” مذہب کی توہین کرنا، اس پر تنقید کرنا اور مذہبی شخصیات کے خاکے و کارٹون بنانا ہمارا حق ہے“۔

فرانس کا صدر میکرون کوئی پہلا حکمران نہیں جو اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھتا ہے بلکہ یہ فرانس کے سیکولرازم کی پرانی روایت ہے۔ میکرون نے تو صرف نوآبادیاتی زہریلے ورثے پر پڑے ہوئے منافقت کے پردے کو سرکاتے ہوئے اسکے مکروہ چہرے کو پھر سے عیاں کیا ہے۔ میکرون نے اقتدار سنبھالتے ہی فرانس میں سفید فام انتہاء پرستوں کی انسانیت سوز کاروائیوں کے علاوہ ہونے والی ہر انتہاپسندی کو مسلمانوں کے عقیدے، ثقافتی علامات مثلاً داڑھی، برقع، حجاب، نماز اور حلال کھانا وغیرہ سے جوڑتے ہوئے ان علامات پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کیا۔ جب ایک ٹیچر نے چارلی ہیبڈو کے گستاخانہ خاکے اپنی کلاس کے بچوں کودکھائے اوراسکے رد عمل میں اسکا قتل ہوا تو صدر میکرون نے اس ٹیچر کے قتل کے واقعہ کو ‘مسلم دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’صاف ظاہر ہے کہ یہ حملہ اسلامی شدت پسندوں نے کیا ہے اور اس ٹیچر کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ آزادی اظہار کا درس دے رہا تھا۔

صدر میکرون کی جانب سے مسلمانوں پر الزامات لگانے کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور پوری مسلم دنیا نے ترک صدر طیب اردگان کی اپیل پر فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ بائیکاٹ کے دو، تین دن کے اندر ہی فرانس کو محسوس ہونے لگا کہ اس بائیکاٹ سے اسے معاشی طو رپر کوئی بڑا نقصان ہو سکتا ہے اس لئے فرانس نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کی اور پھرایک عرب ٹی وی کو انٹریو دیتے ہوئے میکرون نے یہ بھی کہا کہ” گستاخانہ خاکوں کےحوالے سے مسلمانوں کے جذبات کو سجھتا ہوں۔ یہ حکومتی پروجیکٹ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو سرکاری حمایت حاصل ہے۔ اشتعال کی وجہ میرے حوالے سے منسوب جھوٹی باتیں ہیں جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کا حامی ہوں حالانکہ یہ خاکے نجی صحافتی داروں نے شائع کئے جو حکومتی اجارہ داری سے آزاد ہیں”۔

پوری دنیا کو معلوم ہے کہ صدر میکرون جھوٹ بول رہا ہے۔ اسکی حکومت، وہ خود اوراکثر حکومتی عہدیدار مسلمان شہریوں پر ظلم و ستم ڈھانے، گستاخانہ خاکے شائع کرنے اور شائع کرنے والوں کی حمایت کرنے میں براہ راست ملوث ہیں لیکن مالی مفادات کی خاطر اسے بالآخر یہ جھوٹ بولنا پڑا کہ ان معاملات میں اسکی حکومت ملوث نہیں۔ صدر اردگان نے جس دماغ کی خرابی کی نشاندہی کی تھی وہ ابھی مکمل طور پر درست نہیں ہوا، صرف اسکے ایک حصے نے کام کرنا شروع کیا ہے۔ مسلم امہ اگر متحد ہو کر اسکے ان جنگی اقدامات کا جواب مصنوعات کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ اعلان جنگ کی صورت میں دیتی تو اسکا دماغ مکمل طور رپر درست ہو سکتا تھا۔

اسی موضوع پر مزید مطالعہ کیجئے:

صدر میکرون : فرنچ مسلم دشمنی کی تاریخ کا عروج ۔۔۔۔ وحید مراد

فرانس میں اسلام بحران کا شکار ہے یا میکرون کا سیکولر شاونزم؟ — وحید مراد

فرنچ مصنوعات کا بائیکاٹ : لبرل دوستوں سے کچھ سوال — وحیدمراد

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20