انگارے، سنچری نمبر۔ ترقی پسندادب کے ترجمان ادبی جریدے کا یادگار شمارہ — نعیم الرحمٰن

0

ترقی پسندادب کے ترجمان منفرد جریدہ ’’انگارے‘‘ سید عامر سہیل کئی برس سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس کے مرتبین میں عبدالعزیزملک، داؤد راحت اور پیر ولایت شاہ شامل ہیں۔ انگارے کا ’سنچری نمبر‘‘ سو سے ایک سو آٹھ نمبر شماروں پرمبنی ہے۔ جس میں ادبی جریدے کے سو شماروں میں شائع ہونے والی تحریروں کا انتخاب شامل کیا گیا ہے۔ یہ ایک منفرد اوریادگارشمارہ ہے، جس میں سو شماروں کا نچوڑ قارئین کو پڑھنے کے لیے مل جاتاہے۔ اس سے قبل بھارت کے نامور نقاد، باول وافسانہ نگار، شاعر اور مدیر ’’شب خون‘‘ شمس الرحمٰن فاروقی نے جدید ادب کے ترجمان اپنے رسالے بوجوہ چالیس سال بعد بند کرنے پراس کا خصوصی نمبر دو حصوں میں شائع کیاتھا۔ ایک حصہ چالیس سالہ انتخاب اور دوسرا نئی تحریروں پرمشتمل تھا۔ ڈھائی ہزارسے زائد صفحات پر مبنی ’’شب خون‘‘ کے ان یادگار شماروں میں نہ صرف پرچے کی چالیس سالہ ہرصنف ادب کی تحریروں کا انتخاب شامل تھا۔ بلکہ نئی تحریروں میں بھی جدید ادب کی بہترین تصانیف شامل تھیں۔ اور ان قارئین کے لیے بھی جنہوں نے اس سے قبل ’شب خون‘ نہیں پڑھا تھا۔ ان کے سامنے اس جریدے کا انداز، اسلوب اور معیار کا بخوبی آجاتا ہے۔ سید عامر سہیل اور ان کے ساتھیوں نے ’’انگارے‘‘ کے سنچری نمبر میں جریدے کی پالیسی، معیار اور اس میں شامل ادبی تحاریر کا شاندار اور یادگار انتخاب شامل کیاہے۔ جس سے کتابی سلسلے کی پوری تاریخ اور معیار قارئین کے سامنے آجاتی ہے۔ بہترین طباعت وکتا بت سے آراستہ عمدہ سفید کاغذ پرشائع شدہ ایک ہزاربانوے صفحات کے اس یادگارشمارے کی قیمت صرف دوہزارروپے ہے اوریہ مثال پبلشر سے براہ راست منگوانے پرایک ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ یہ عمدہ اور بہترین سنچری نمبر ہر مطالعے کے شائع قاری کی ذاتی لائبریر ی میں موجود ہونا چاہئے۔

سید عامر سہیل نے ’’چندباتیں‘‘ میں انگارے کی تاریخ کے بارے میں بتایا، جوادب دوست قارئین کے لیے چشم کشا بھی ہے۔ ’’ انگارے‘‘ کا پہلاشمارہ جنوری 2003ء میں شائع ہواتھا۔ اورجنوری 2008ء تک بغیرکسی تعطل کے ہرماہ شائع ہوتا رہا۔ ان پانچ برسوں میں اس کے اکسٹھ شمارے منظر عام پرآئے۔ چونکہ انگارے کی اشاعت کاساراکام ملتان میں ہوتاتھا، اس لیے میرے فروری 2007ء میں ملتان سے سرگودھا چلے جانے سے اشاعت کاکام بہت مشکل ہوگیا۔ پھربھی کسی نہ کسی طرح اسے ایک سال تک جاری رکھا۔ سرگودھا سے ملتان کا سفر، بگڑتے ہوئے حالات اورابترہوتی مالی صورت حال کے پیش نظر رسالے کوبندکرناپڑا۔ رسالے کو بند کرنا مشکل فیصلہ تھامگربہ امرمجبوری یہ فیصلہ لیناپڑا۔ کتاب سے وابستہ لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں کتاب یارسالہ شائع کرناسراسرگھاٹے کاسوداہے۔ کیوں کہ ایک طرف تو اشاعت اس قدر مہنگی ہوچکی ہے کہ اس کا تصورہی محال ہے تودوسری طرف کتاب یارسالے کے وسیلہ منداور باذوق قارئین ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔ بلکہ اب تو یہ عالم ہے کہ اعزازی کتاب پڑھنے والے بھی عنقاہوئے۔ اس لیے فی زمانہ کسی ادبی رسالے کی اشا عت کورقصِ دیوانگی کے سواکیاکہاجاسکتاہے۔ چونکہ انگارے کے اشاعتی محرکات میں یہی دیوانگی کارفرما تھی اس لیے سودوزیاں کا توسوال ہی نہیں اٹھتا۔ جنوری2015ء میں ’’انگارے‘‘ کو پھر سے جاری کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ فروری 2015ء میں انگارے کا سلسلہ پھرسے چل نکلا۔ ’’انگارے‘‘ کے دورِ ثانی میں میرے نہایت عزیزشاگرد اور دوست عبدا لعزیزملک، محمد داؤد راحت اور پیر ولایت علی شاہ بھی میرے ساتھ اس رقصِ دیوانگی میں شریک بن گئے اور میرے بہت سے کاموں کوآسان بنادیا۔ فرو ری 2015ء میں انگارے کاباسٹھ واں شمارہ شائع ہوا۔ اس دورِ ثانی میں میں رسالے کی اشاعت کے حوالے سے ایک فرق ضرور آیاکہ بعض بہت ضخیم نمبرشائع کیے گئے۔ مثلاً ’’عبداللہ حسین نمبر‘‘ ساڑھے پانچ سوسے زائدصفحات پرمشتمل تھا۔ اسی طرح ’’لطیف الزماں نمبر‘‘ بھی لگ بھگ پونے چھ سو صفحات تک پھیل گیا۔ اس کے علاوہ’’مجیدامجدنمبر‘‘ اورٹیری ایگلٹن کی تاب’تھیوری کے بعد‘ کی مکمل اشاعت کے سبب رسالے کاماہانہ تسلسل متاثرہوا۔ تاہم میرے خیال میں یہ نمبرز ایک اعتبارسے حوالے کی شے بن گئے ہیں۔ اب زیرِ نظر ’سنچری نمبر‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔‘‘

مرتب کے مطابق انگارے کی اشاعت کااولین اوربنیادی مقصداپنے فکری اورذہنی میلان کو انفرادی نقطہ نظرسے آگے بڑھا کر ایک اجتماعی فرد کے ساتھ جوڑنا اور مکالمے کی اس فضا کو قائم کرناتھاجورفتہ رفتہ ہماری زندگیوں سے مفقود ہوتا جارہا ہے یاپھر اسے غائب کردیا گیا ہے۔ ذہنی، فکری، تاریخی، سماجی، مذہبی اورتہذیبی مغالتوں میں الجھے اور الجھائے گئے معاشرے میں جنم لینے والے عدم برداشت پرمبنی متشددرویے کہ جنہیں بہت سے طاقتوروں کی پشت پناہی حاصل رہی ہے میں برداشت آمیز مکالمے کی ضرورت دوچندہوجاتی ہے، شایداسی خیال کو ذہن میں رکھا گیا تھا کہ ’انگارے‘ کے پلیٹ فارم سے صحت مند مکالمے کوفروغ دیا۔ بلاشبہ اس رسالے کامزاج ترقی پسند، روشن خیال اور خرد افروز فکر کی غمازی کرتاہے اوررسالے کی پیشانی پر ’’ترقی پسندادب کاترجمان‘‘ کاکیپشن بھی درج ہے مگراس کے صفحات ہرلکھنے والے کے لیے حاضر رہے۔ ’اظہاررائے کی آزادی سب سے محترم ہے۔ ‘یہاں تک کہ اگرکوئی تحریر ’انگارے‘ کے مزاج کے برعکس بھی تھی تواسے بھی شائع کر کے لکھنے والوں کو دعوت ِفکردی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے ترقی پسند دوستوں نے اس پرترقی پسندوں کا مذاق اڑانے والاترقی پسندرسالہ کی پھبتی بھی کسی مگرمیرے خیال میں یہی مکالمہ انگارے کاحاصل رہاہے۔ آج کی لبرل تنگ نظری، من پسند، روشن خیالیاورآمریت آمیزرجعت پسندانہ ذہنی رویوں کا انگارے سے کوئی علاقہ نہیں، ہرفردیااجتماع کواپنے نظریات رکھنے اوربات کرنے کاپورا حق ہے مگرنظریات کو تھوپنے، دوسروں کو غلط اورگمراہ کن کہہ کراسے گردن زدنی قراردینے اور مخالف کاوجود تک مٹادینے ایسے رویوں کی تخلیقی اور تنقیدی سطح پرہمیشہ مذمت کی گئی۔ انگارے میں شامل ’حرف زر‘ کے عنوان سے قارئین کے خطوط اس حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ خطوط ذاتی پسند سے بالاتر ہر شائع کیے گئے اورمیرے خیال میں یہ خطوط بذات خود تحقیقی اور تجزیاتی حوالے ہیں جن میں بہت سے سوالات اٹھائے گئے اور ان سوالات کے علمی جواب دیے گئے۔

جنوری 2008ء میں انگارے کے پہلے شمارے کے اداریے کی چندسطروں سے واضح کردی گئیں۔ ’’یہ کتابی سلسلہ ادب اور معاشرے میں پائے جانے والی توہم پرستی، رجعت پسندی، مذہبی منافرت، سامراجیت، برداشت سے عاری جذباتیت، غیر منطقیت، فکری انتشار، فرار یت، لایعنیت اورجدیدیت کے نام پرقدامت پرستی کے خلاف ایک ایساادب تخلیق کرنے کاجتن ہے جو صلح کل، حق پرستی، مساوات، حب الوطنی، مقصدیت، طبقات سے پاک معاشرے، روشن خیالی اورخردافروزی کا ترجمان ہو، تاکہ ایک مرتبہ پھرادب کوتفکر، آزادی کے جذبے، حسن کی تخلیق، زندگی کی حقیقتوں کوسمجھنے، حرکت پیدا کرنے اورسماج کاتجزیہ کرنے کاذریعہ بنایاجاسکے۔‘‘

انگارے کے ’’سنچری نمبر‘‘ میں کتابی سلسلے کے سوشماروں کے انتخاب سے قاری کوبخوبی علم ہوجاتاہے کہ وہ اپنے نصب العین پرکس حدتک چلنے میں کامیاب ہوا۔ اس نے اپنے بنیادی مقاصد پرکتناعمل کیا، اورپہلے شمارے سے سوویں شمارے تک مضامین، افسانوں، خاکوں، نظم و غزل اوردیگراصناف ادب میں کون کون سے مشاہیرِادب کی تحریریں شامل کی گئیں اورکتابی سلسلہ کس طرح خوب سے خوب ترکی جانب گامزن رہا۔ اور اس کے معیارمیں کس طرح بہتری آتی گئی۔

’’انگارے سنچری نمبر‘‘ کاحصہ مضامین نمبرکے نصف پانچ سو چوہتر صفحات پر مبنی ہے۔ جس میں مختلف موضوعات پر چھیانوے تخلیقا ت شامل ہیں۔ اس حصے کا پہلا مضمون ڈاکٹرصلاح الدین حیدرکا ’’فیض کاادبی مقام‘‘ہے۔ لکھتے ہیں۔ ’’فیض نے اردو شاعری کی روایت میں استعمال ہونے والے مخصوص علائم، تشبیہات، استعارات کے سرمائے کو اپنے درد کے تجربات کے حوالے سے ایک نئی معنویت دی۔ یہ معنویت روایت کی شاعری میں پہلے سے موجود بھی رہی تھی لیکن فیض نے اس سرمائے کونئے اندازسے برتا۔ دوم انہوں نے انگریزی شا عری اور عالمی ادب کے سرمائے سے ایک نئے انداز کی امیجری کو اردوشاعری کی روایت کے کینوس میں سمویا۔ ایک نئے اندازسے مناظرکی تصویر کشی کی اور زندگی کے مختلف رنگوں کونئی جہتیں عطا کیں۔ کلاسیکل غزل کے ذخیرہ الفاظ اور رومانوی اسلوب کے نئے پیرایہ اظہار کے امتزاج سے فیض نے اردوغزل اور رومانوی عہدکی انگریزی نظم کے بعض رنگوں کو مشترک کردیا۔‘‘

ڈاکٹر عصمت نازکا ’’کارل مارکس کا تصورِتاریخ‘‘ شوکت نعیم قادری کا ’’راشدکی میت سوزی کی وصیت‘‘ پروفیسر نظیر صدیقی کا ’’اردو کے مزا حیہ ادب سے‘‘ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا ’’حمایت علی شاعراوراستقامت ِفکروفن‘‘محمود احمد قاضی کا ’’نایاب منٹو‘‘ ڈاکٹر علی ثناء بخاری کا ’’منٹو کے بارے میں چند غلط فہمیاں‘‘، ڈاکٹرمعین الدین عقیل کا’’نئی غزل کا ایک نیالہجہ ‘‘ڈاکٹر انور سدید کا ’’یونس جاوید اور اس کے خاکے‘‘، ڈا کٹر قاسم شاہ کا’’یونس جاویدکے افسانوں کا۔ ۔ ‘‘عمران شاہد بھنڈرکا ’’دانشوروں کے سرقے کاجواز‘‘، عرفان جاویدکا ’’باگھ‘‘، خالد محمود خان کا ’’باگھ‘‘ اور عبداللہ حسین کا بند استعارہ‘‘ بے حداہم مضامین ہیں۔ ڈاکٹر شاہد نواز نے ’’عبداللہ حسین کے ناولوں میں عصری تاریخ‘‘ پر قلم اٹھایا ہے۔

عبدالعزیزملک نے عبداللہ حسین کے ناولٹ ’’قید ایک استعاراتی ناول‘‘ کے بارے میں لکھاہے، اس مضمون کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں۔ ’’ناول ’قید‘ کے تقریباً تمام کردارجنسی ہیجانات کاشکارہیں۔ کرامت علی، فیروزشاہ، رضیہ سلطانہ، سلامت علی، مراد، علی محمد اور چودھری اکرم سب کے سب نفسیاتی اورجنسی ہیجانات کے مارے ہوئے ہیں۔ اس ناول کو محبت کی قیدبھی کہاجاسکتاہے۔ مائی سروری جو اپنے دورکی حسین عورت تھی محبت میں رُل گئی۔ ناول کے آخر میں وہ ہم جنس پرستی کی جانب مائل ہوکر جوانی کی منزل پردوبارہ قدم رکھ لیتی ہے۔ رضیہ سلطانہ، فیروزشاہ کی محبت کا شکار ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک حرامی بچے کو جنم دیتی ہے اور مامتاکے جذ بات سے مغلوب ہو کرمراد، علی محمد اور چودھری اکرم کوقتل کردیتی ہے۔ مراد، علی محمد اور چودھری اکرم رضیہ کے ہاتھوں قتل ہونے سے پہلے جنسی ہیجان کا شکار ہوتے ہیں جس کابھرپور فائدہ رضیہ سلطانہ اٹھاتی ہے۔‘‘ یہ اور دیگرمضامین بھی بہت عمدہ اوراپنے موضوعات کے بارے میں بھرپور معلومات لیے اور مستقل اہمیت کے حامل ہیں۔

تقریباً دوسوصفحات پرپینتیس افسانے اورکہانیاں جگہ حاصل کرسکی ہیں۔ جس میں طبعزاد اورتراجم شامل ہیں۔ جوسب کے سب بہترین اور یادگارہیں۔ ان میں ڈاکٹرانواراحمدکا ’’مرنے سے انکاری قاضی شاہد کی کہانی‘‘، ڈاکٹر صباحت مشتاق کا ’’جس دن رچرڈنے مجھے خریدا‘‘، بنگلہ دیش کی مصنفہ سلیناحسین کے افسانے’’بوڑھی دادی‘‘ کا ترجمہ ڈاکٹر شگفتہ حسین نے کیاہے۔ گلی ترقی کی ایرانی کہانی ’’طلائی دانت‘‘، کا ترجمہ عمدہ شاعر رشید قیصرانی نے کیا ہے۔ ڈاکٹر رشید امجد کا ’’سکرپٹ‘‘، احمدندیم تونسوی کا ’’غبارہ موومنٹ‘‘، خالدفتح محمد کا ’’وقفہ‘‘، سمیع آہوجہ ’’مائی می پلازہ‘‘، اخلاق انصاری کا’’رتجگے میں دیکھاہوا‘‘، ڈاکٹرعباس برمانی کا’’سیاہ کار‘‘، عابد میر کا ’’عطیہ‘‘، ڈاکٹر طاہر مسعود کا ’’شوشو‘‘، منزہ احتشام گوندل کا’’جنس گراں‘‘، موپساں کے ’’چاندنی رات میں‘‘ کاترجمہ لیاقت رضا جعفری نے کیاہے۔ جوزف کونریڈکے ’’ آؤٹ پوسٹ آف پروگریس ‘‘، کاترجمہ ڈاکٹرفاروق عثمان نے کیاہے۔ طاہرنقوی کا’’موڑ‘‘، ڈاکٹر بلند اقبال کاافسانہ’’سہاگ رات‘‘ محمد حامدسراج کا افسانہ’’سفرِ معکوس‘‘ ڈاکٹرشفیق انجم کا’’ دریابُرد ہوتی کہانیاں‘‘، ایچ ای بیٹس کے ’’چھوٹی اداکارہ، بڑی کہانی‘‘، کاترجمہ منورآکاش نے کیاہے۔ ڈاکٹر محمدعباس کا’’ایک فنکارکی کہانی‘‘ اور ڈاکٹر ظہیر عباس کا ’’مدفن کی تلاش‘‘ ایک سے بڑھ کرایک افسانے ہیں جو انگارے سنچری نمبرکی وقعت اوراہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔

خاکے اوریادداشتوں کے صفحات کی تعداد ایک سوبائیس ہے۔ جن میں بائیس مصنفین کی منتخب تخلیقات قارئین کی نذر کی گئی ہیں۔ لطیف الزما ں خان نے ’’گلِ سرخ‘‘ کے عنوان سے علی سردارجعفری کاعمدہ خاکہ تحریرکیاہے۔ جوانگارے کے اولین شمارے میں شامل تھا۔ اقتباس پیش ہے۔ ’’میراذہن ماضی میں گم تھا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے طالب علم تھے۔ انگریزوں کے سخت خلاف تھے۔ مادردرس گاہ سے نکا لے گئے۔ وہ لکھنؤ میں ایم اے سال اول کے طالب علم تھے۔ جنگ عظیم دوم ہورہی تھی۔ ہٹلرہرمحاذ پرآگے بڑھ رہاتھا۔ جعفری صاحب جنگ کے خلاف تقریریں کرتے، سو انہیں گرفتار کر لیا گیاوہ جیل بھیج دیے گئے۔ میرے سردار میں ایک نہیں کئی انسان سانس لیتے تھے۔ وہ صرف ترقی پسند شاعرہی نہ تھے وہ ایک بڑے مفکربھی تھے۔ ایک دن شہاب انصاری نے بتایاکہ سردارجعفری دانشورہی نہیں فلسفی بھی ہیں ان کی شاعری میں انسان دوستی کاجذبہ یوں شیروشکرتھاکہ اس عہدکا کوئی بھی نوجوان لکھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتاتھا۔ وہ زمیندارگھرانے سے آئے تھے مگربغاوت ان کے خون میں رواں تھی۔ جبر اور استحصال کو برداشت نہ کرتے اورسچ بولے بغیر رہ نہیں سکتے تھے نتیجہ یہ کہ جیل خانے جاتے اورجب وہاں سے آتے اشتراکی نظریہ ء فکر میں زیادہ استحکام آجاتا۔‘‘

اس حصے میں بیگم زبیدہ خلیل صدیقی کا’’یادِ ماضی‘‘، ڈاکٹرعبدالرؤف شیخ کی’’یادیں‘‘ ڈاکٹراے بی اشرف کا خاکہ’’ خان بابا۔ چندیادیں‘‘، ڈاکٹرسلیم اخترکا ’’ابن حنیف۔ شخص تنہاسا‘‘، ڈاکٹر نعمت الحق کی تحریر’’ عجب آزاد مرد تھا‘‘، ڈاکٹر سید معین الرحمٰن کا’’ میراذہنی اورعلمی سفر‘‘، عاصم کلیارکا’’شایدیہ لوگ کوئے بہاراں سے۔ ‘‘، ڈاکٹرلیاقت علی کا’’ اباجی‘‘، ڈاکٹر اطہر صدیقی ’’ لطیف الزماں خاں، ایک منفردانسان‘‘، ڈاکٹرابرار عبدالسلام کا’’ تجھے ہم ولی سمجھتے‘‘، مشتاق شیدا کا ’’گوتم نیلمبر‘‘، پروفیسرافتخارحسین شاہ کا’’پروفیسر خلیل صدیقی، ایک مردِ خلیق‘‘ عمدہ خاکے ہیں۔ پروفیسر عبدالعزیز بلوچ کا’’خواجہء فراق۔ خالدسعید‘‘، ڈاکٹریونس جاویدکا’’گمشدہ ادھا‘‘، غلام حسین ساجدکا’’ آنکھیں ساتھ چلی جاتی ہیں‘‘، سمیرااحمریں کا’’میرے والد‘‘، ڈاکٹرانواراحمدکا’’ملتان شیریست درنواحِ ارشدملتانی‘‘، علی اکبرناطق کا’’ دہلی کا مرقع‘‘، عبدا العزیزملک کا’’ماں جی‘‘، مہرالہٰی ندیم کا’’بھائی لطیف الزماں۔ چندیادیں‘‘ اورسیدعامرسہیل کا’’ملتانی گوتم نیلمبر، احمدندیم تونسوی‘‘ چند یاد گاراوربہترین خاکے اوریادداشتیں ہیں۔

ایک سوچودہ صفحات متفرق مضامین کے لیے رکھے گئے ہیں۔ جن میں اٹھارہ مضمون دیے گئے ہیں۔ اس میں پروفیسر ابرار عالی کا ’’شرافت‘‘ اور شفیع ہمدم کا ’’برگد‘‘ دو بہترین انشائیے ہیں۔ نیرعباس زیدی کامضمون’’تعارف ونوبیل لیکچر‘‘، احمد رضوان کا انٹرویو ’’استاد شبیرخان طلبہ نواز سے ایک مکالمہ‘‘ سید عامر سہیل کا انٹرویو ’’یونس جاوید سے کچھ رسمی اور‘‘ اور احمد ندیم قاسمی سے آصف فرخی کا مصاحبہ ’’احمدندیم قاسمی سے گفتگو‘‘ اور ’’عبداللہ حسین کے ساتھ‘‘ منفرد اور یادگار تحریریں ہیں۔

آخری حصہ شاعری کاہے۔ جس کے باون صفحات میں نظم و غزل سمیت شاعری کی چونسٹھ مختلف اصناف کو جگہ دی گئی ہے۔ ان میں غزل، نظم، ہائیکو شامل ہیں۔ رساچغتائی کی مرصع غزل کے تین اشعار
کہاں جاتے ہیں آگے شہرِ جاں سے
یہ بل کھاتے ہوئے رستے یہاں سے
وہاں اب خواب گاہیں بن گئی ہیں
اٹھے تھے آب دیدہ ہم جہاں سے
رسا اس آبنائے روزوشب میں
دمکتے ہیں کنول فانوسِ جاں سے

نجم الااصغرشاہیاکی نظم ساگوان بھگوان
اے سا گوان بھاگوان
بخت کے دھنی غنی
تری ہی چوبِ مشکبو
سے اُس سجیلی کامنی
کے مرمریں محل کی ہیں
تمام کھڑکیاں بنیں

مضمون کا اختتام احمد فراز کے تین اشعار پر کرتا ہوں۔
دل یہ بھی چاہتا ہے ہجراں کے موسموں میں
کچھ قربتوں کی یادیں ہم دور پار بھیجیں
دل یہ بھی چاہتاہے اُن پھول سے لبوں کو
دستِ صبا پہ رکھ کر کلیوں کا پیار بھیجیں
دل جو بھی چاہتا ہو، لیکن فراز سوچو
ہم طوق ِ آشنائی کیسے اُتار بھیجیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20