مختصر لباس: لبرل یا ترقی پسند ہونے کی نشانی ہے؟ — احمد الیاس

0

اکثر آپ نے سوشل میڈیا پر پاکستان، ایران، افغانستان یا دیگر مسلم ممالک کی پرانی تصویریں دیکھی ہوں گی جن میں یا تو لوگ پارٹی اور رقص کررہے ہیں یا خواتین اسکرٹ یا مختصر لباس میں نظر آتی ہیں۔ ایسی تصاویر پہ  کمینٹس میں ایسے تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ دیکھئیے، ساٹھ ستر کی دہائی میں یہ ملک کس قدر “ترقی پسند” اور “روشن خیال” ہوتے تھے۔

PAKISTAN, 1960, old Karachi, girls enjoying Clifton beach, Karachi, Sindh, Pakistan in 2020 | Clifton beach, Karachi beach, Karachiساٹھ ستر کی دہائی میں لوگ روشن خیال اور ترقی پسند تھے یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔ میں اس بات کی تردید کروں گا نہ توثیق کیونکہ ابھی یہ زیر بحث نہیں۔ لیکن ایک چیز جو مجھے ہمیشہ سے بہت پروبلمیٹک لگتی ہے وہ ہے ترقی پسندی اور روشن خیال کا عورتوں کے لباس یا شراب پینے یا نہ پینے یا رقص کرنے یا نہ کرنے سے جوڑا جانا۔ یہاں میں اس بحث میں بھی نہیں جاؤں گا کہ عورتوں کو کیسا لباس پہننا چاہیے یا شراب پینی چاہیے یا نہیں یا رقص کرنا چاہیے یا نہیں۔ میرے نزدیک یہ سب انسان کے انفرادی اور نجی فیصلے ہیں۔ عورت برقع پہننا چاہتی ہے یا سکرٹ، کوئی اپنی پرائیوٹ سپیس میں شراب پینا چاہتا ہے یا زم زم یا پھر کوئی رقص کرتا ہے یا نفل پڑھتا ہے ۔۔۔ یہ اس کی مرضی ہے۔ ریاست اور معاشرے کو ان معاملات میں ایک حد سے آگے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی کہے کہ عورتوں کا سکرٹ پہننا ترقی پسندی کی علامت ہے تو یہ سوچ ویسی ہی عجیب اور خرافات ہے جیسی یہ ذہنیت کہ برقع پوشوں کا معاشرہ زیادہ دین دار اور خدا خوفی رکھنے والا ہوتا ہے۔ سکرٹ پہننے سے عورت کے آزاد ہونے والی کہانی، برقع پہننے سے عورت کے محفوظ ہوجانے والی کہانی ہی کی طرح بے ہودہ ہے۔ اسی طرح شراب اور روشن خیالی یا رقص اور ترقی کا تعلق بھی کسی قسم کی عقلی اور منطقی بنیاد کے بغیر کھڑا ہے۔

ساٹھ اور ستر کی تک تیسری دنیا کے ملکوں کو آزاد ہوئے بہت کم عرصہ گزرا تھا۔ انسان کی فطرت ہے کہ انسان اپنے سلاطین کے دین یعنی اپنے حکمرانوں کے طریقے پر چلتا ہے اور اسے برتر مانتا ہے۔ مغربی اقوام کی صدیوں پر محیط حکومت سے ہمارے لوگ یقیناً ہر اس چیز کو اچھا ماننے لگے تھے اور آج تک مانتے ہیں جس مغربی اقوام سے زیادہ مشابہ ہو، بھلے وہ مغربی اقوام کی قوت ہو یا کمزوری یا ایک عام عادت۔ تاہم مسلم دنیا سمیت اکثر مشرقی اقوام کے عام عوام نے نوآبادیاتی دور میں بھی مغربی طرز زندگی اختیار نہیں کیا تھا۔ ہاں مگر لاہور، کراچی، کابل، تہران کی ایک اپر کلاس اور اپر مڈل کلاس ضرور پوری طرح اس رنگ میں رنگ گئی تھی۔

اکثر ایسی تصاویر اسی کلاس کے لوگوں اور خواتین کی ہوتی ہیں جنہیں اس وقت کے پورے معاشرے کی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اسی دور کی ایسی تصاویر دیکھی جائیں جو لوئر کلاس یا لوئر مڈل کلاس کی ہیں، تو ان میں ہمیں برقع پوش عورتوں اور باریش مردوں کی تعداد آج سے کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔ اس دور میں معاشرہ زیادہ واضح تو پر کلاسز میں تقسیم تھا۔ حاکم اور محکوم کی لکیر گہری تھی۔ پھر آہستہ آہستہ مڈل کلاس ابھرنا شروع ہوئی، مغربی اقوام کی براہ راست حکومت قصہ پارینہ ہونے سے مقامی لوگوں میں اعتماد آنا شروع ہوا، مغرب زدہ حکومتوں کی ناکامیوں اور جبر سے بھی ردعمل پیدا ہوا اور مسلم دنیا سمیت پوری تیسری دنیا میں اپنی پرانی شناخت اور قدروں کی طرف لوٹنے کا رویہ پیدا ہوا۔ یہ سب فطری تھا۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی میں یونیورسٹی جانے والی لڑکیاں صرف ایک مخصوص پوش اور لبرل طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ لہٰذا جامعات میں سر یا چہرہ ڈھانپنے والی لڑکیاں بہت کم نظر آتی تھیں۔ پھر جامعات کی تعداد بھی بڑھنے لگی، نئی مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس میں بھی بچیوں کو پڑھانے کی خواہش اور استطاعت پیدا ہوئی اور یوں حجاب یا نقاب پوش لڑکیاں جامعات میں عام ہوئیں۔ ایسی بچیوں کا گھر سے نکلنا، یونیورسٹی میں پہنچنا، نوکری کرنا اور پبلک سپیس میں نظر آنا تو معاشرے کے ترقی کرنے اور روشن خیال ہونے کی علامت ہے، نہ کہ تنگ نظر ہوجانے کی۔

آج اکثر یونیورسٹیوں کے کئی شعبوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے بڑھ کر ہے۔ کئی علاقوں میں لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا رجحان لڑکوں سے زیادہ ہے۔ لڑکیوں کی شرح خواندگی بھی بہت بڑھ چکی ہے۔ لڑکیوں کا کام کرنا ایک عام بات بن چکا ہے۔ ایران اور پاکستان اور مصر جیسے ملکوں میں یہ صورتحال بہت واضح ہے۔ ساٹھ ستر کی دہائی میں یہ سب نہیں تھا۔ لیکن روشن خیال یا ترقی پسندی کو ماپتے ہوئے یہ سب نہیں، بلکہ صرف عورتوں کی برہنگی کو پیمانہ جاتا ہے۔

مجموعی طور پر آج پردہ نہ کرنے والی یونیورسٹی کی لڑکیوں کی تعداد بھی ساٹھ اور ستر کی دہائی میں یونیورسٹی جانے والی لڑکیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یونیورسٹیوں کا اور عمومی طور پر معاشرے کا ماحول بھی آج زیادہ آزاد ہے (روشن خیالی اور ترقی پسندی کی بحث الگ ہے کیونکہ ان کا صرف ظاہری طور پر آزاد ہونے سے تعلق نہیں)۔ لیکن ساٹھ ستر کی مغرب زدہ ایلیٹ کی تصویروں اور لائف سٹائل کو گلیمرائز کرنے کے پیچھے سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں۔

اسے “یادِ ماضی کی ہتھیار کاری” کہا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں ماضی کو گلیمرائز کرکے معاشرے کو کسی خاص طرف لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے (سوشل ری انجئینرنگ) یا کسی سیاسی قوت کو جواز بخشا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کی حکومتیں اس “روشن خیالی” کی یادوں کو اپنی حکومتوں کے لیے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں (یہ الگ بات ہے کہ اسلامائزیشن پروگرام پہلے بھٹو اور پھر فوج کا اپنا تھا)۔ افغانستان کے کیس میں ایسی تصاویر کو امریکی جنگ کا جواز فراہم کرنے، ایران کے کیس میں ایران پر ظالمانہ پابندیاں عائد کرنے کا جواز پیدا کرنے اور عالم عرب کے کیس میں اخوان المسلمون جیسی اسلامی اور جمہوری قوتوں کو دبانے کے لیے “یادِ ماضی کی ہتھیار کاری” کی جاتی ہے۔ یادِ ماضی کی ہتھیار کاری میں یہ بھی ہرگز ضروری نہیں کہ ماضی کی جو تصویر پیش کی جارہی ہے، وہ درست ہو۔ ایک خیالی یا سیلیکٹو تصویر بھی پیش کی جاسکتی ہے اور کام کرسکتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20