’’پیکر جمیل ﷺ’’ کا حسن اسلوب — ڈاکٹر رؤف امیر

0

بیسویں صدی کے اواخر کی بات ہے۔ آج کے احمد شہریار شہید سے ونگ کمانڈر عتیق احمد تک میرے چاروں بچے جب اوّل اوّل کتابیں پڑھنے کے لائق اور شائق ہوئے تو مجھے یہ تلاش ہوئی کہ ان سب کو سیرت النبیﷺ کی تاریخیت بہت محکم ہے، مگر اس کی عربی نہاد اور عالمانہ افتاد نوعمروں کے لیے شاید دلچسپی کا باعث نہ بن پاتی۔ چوہدری افضل حق کی ’’محبوبِ خداﷺ‘‘ کا لہجہ بلاشبہ حُبِّ نبیﷺ میں حرف حرف ڈوبا ہوا ملتا ہے مگر حضور نبی کریمﷺ کی حیات مطہرہ جس طرح واقعات اور سانحات سے گزرتی رہی اس کی تدریج بھی نوجوانوں کے لیے مطلوب تھی کہ ان کے رسولﷺ تاریخ کے لکھے جانے کے زمانے کی شخصیت ہیں، سو اُنﷺ کے کوائف ساری لطافتوں کے ساتھ ملنے چاہیے تھے۔ مجھے کتابیں دیکھتے ہوئے محمد حمید شاہد نام کے کسی مصنف کی کتاب ’’پیکرِ جمیلﷺ‘‘ پسند آگئی، سو میرے چاروں بچوں نے اسی سے اوّل اوّل فیض پایا۔
’’پیکرِ جمیلﷺ‘‘ کتاب یوں پسند کی کہ اس کی زبان سادہ اور سہل ہے۔ تحریر رواں اور بیان اس دلچسپی کا حامل ہے جو کسی مسلمان کو اپنے محبوب رسولﷺ کی بات کو محبوب بنانا سکھا دیتا ہے۔ اس کتاب کا ایک اضافی حُسن یہ ہے کہ اس نے تھوڑے لفظوں میں یہ سعی بھی کی ہے کہ آج کے مغرب زدہ ذہن کو اپنی تہذیب اور اپنے دین کے قریب ہونے کے قابل بنائے، بعض اُلجھنوں اور بعض سوالوں کے بڑے واضح حل بھی مصنف کی عطائے خصوصی ہیں۔
آج کا نوجوان جو اپنی بعض الجھنیں رفع کرنا چاہتا ہے اور جو حضور نبی کریمﷺ کی ذات مبارک کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتا ہے، اسے ایسی میٹھی زبان اور ایسے ہی ہلکے پھلکے انداز میں لکھی سیرت النبیﷺ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے محبوب رسولﷺ کے نقوش پا یوں ہی قدم بہ قدم دیکھتا جائے جیسے کہ آپﷺ کی زندگی کے ارتقائی مطالعہ میں محمد حمید شاہد نے دکھانے کی سعی کی ہے۔ یہاں وضاحت مل جاتی ہے تفصیل اور مباحث نہیں اور نوجوانوں کو، نئے ذہن کو یہی مطلوب ہے۔
آج اگر محمدحمید شاہد ہمارے محبوب ناموں میں ہیں تو اس کے پیچھے شخصی وصفی بنیادیں ہیں، طویل زمانے کی رفاقت ہے، جو بولتی ہے مگر اُس زمانے کے محمد حمید شاہد سے آشنائی صرف اس تخلیقِ جمیل کے صدقے ہوئی تھی جس کا نام ’’پیکرِجمیلﷺ‘‘ کے نامِ نامی پر رکھا گیا تھا۔
خدا اور محبوبِ خداﷺ ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں۔ آمین

ڈاکٹر احسان اکبر (جمال دوست کی ـ پیکر جمیل ﷺ)


’’پیکر جمیل ﷺ‘ ‘ کے سال اشاعت، ۱۹۸۳ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت محمد حمید شاہد کی عمر بہ مشکل پچیس بر س رہی ہوگی۔ اس کتاب کی تدوین کے لیے انہوں نے پچاس کے لگ بھگ کتابوں اور مقالات کا مطالعہ کیا، واقعات کی زمانی ترتیب کے ساتھ یکجائی بخشی، تحریر کو تقابل کے عمل سے گزارا، انتشار کو وحدت آشنا کیا اور جانے کتنی عرق ریزی کے بعد”پیکر جمیلﷺ“ کا نسخہ تیار ہوا۔ اس کاوش و جستجو میں میں انہیں قریب قریب پانچ سال محنت کرنا پڑی ہوگی، یوں بیس برس کا ایک نوجوان سیرت نگاری کا شرف حاصل کرتا ہے۔ سچ ہے بزرگی کا دارو مدار عقل پر ہوتا ہے عمر پر نہیں۔ تصنیفی زندگی کے آغاز ہی میں سرور کائناتﷺ کے لیے توصیفی پیرایہ اختیار کرکے انہوں نے خود کو معتبر اور معزز ثابت کردیا ہے۔ درود و سلام ہو اُن پر جو زینت فرش رہے اور جن کے لیے عرش تخلیق ہوا۔ زمین پر جن کا نام نامی محمدﷺا ور آسمان پر احمدﷺ ہے۔ اسمِ محمدﷺ جس کی کلید سے مصائب و مشکلات کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جسے زیب زبان بنانے سے ناممکنات، ممکنات میں بدل جاتی ہیں۔ وہ نور ازلی، جو باعث تخلیق کائنات ہے اور شمس و قمر جس کے در سے روشنی کی بھیک طلب کرتے ہیں۔ اللہ نے اپنے حبیبﷺ کے ذکر کو بلند کیا اور خود خداوند عالم اور فرشتے اُنﷺپر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ سیرت النبیﷺ کے حوالے سے علم و ادب کا جتنا ذخیرہ وجود میں آیا، تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حضورﷺ کی حیات طیبہ کے تمام گوشے عربی، فارسی، اردو اور دیگر زبانوں میں جگمگ جگمگ کر رہے ہیں۔ آپﷺ کی زندگی کی تمام تر تفاصیل موجود ہیں اور آپ کے پیغام کے سارے زاویوں کو کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ عشاق کی ایک طویل صف ہے جس میں سب سے آگے حسان ؓبن ثابت کھڑے ہیں اور ہمارے عہد تک پہنچتے پہنچتے محمد حمید شاہد بھی اس عظیم صف میں جگہ پا لیتے ہیں۔ یہ بہت بڑی خوش بختی ہے اور اس کے لیے یقینا وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

محمد حمید شاہد نے کتاب کو والدین کے نام معنون کیا ہے اور لکھا ہے کہ ”وہ ساری کہانی جو میرے سینے کے محبس میں کبوتر بن کر پھڑ پھڑاتی ہے، انہی سے معتبر ہے۔“ کتنے عظیم ہوتے ہیں وہ ماں باپ جو اپنے بچوں کے سینوں میں عشق رسولﷺ کی شمع روشن کرتے ہیں اور کتنی محترم ہوتی ہیں وہ مائیں جو ”صل علیٰ نبینا صل علیٰ محمد ؐ“ کی لوریاں سناتی ہیں۔

سیرت نگاری کی ثروت مند روایت میں ”پیکر جمیلﷺ“ بعض حوالوں سے منفرد ٹھہرتی ہے۔

وہ تمام واقعات جو کتاب میں مذکور ہیں، مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں معلوم ہیں لیکن محمد حمید شاہد کے معجز نما قلم نے ان ہی باتوں کو ایک نیا اور انوکھا ذائقہ عطا کر دیا ہے، یوں لگتا ہے جیسے ہم یہ سب کچھ پہلی دفعہ پڑھ رہے ہوں۔ انہوں نے اپنے دِل پذیر اسلوب کے باعث تازگی کی ایک لہر دوڑادی ہے۔ ہر لفظ نیا نیا سا لگتا ہے اور ہر قدم پر اگلے موڑ کا انتظار رہتا ہے۔ سیرت کی تقریباً پچاس کتابوں کے واقعات کو منتخب کرکے محمد حمید شاہد نے متنوع اسالیب میں سے اپنا اسلوب وضع کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر باب ذیلی ابواب پر مشتمل ہے اور ہر ذیلی باب ڈرامائی انداز میں شروع ہوتا ہے۔ اسی ڈرامائیت کے باعث دلچسپی کا ایک ارتقائی سلسلہ پوری کتاب میں جاری و ساری ہے۔ محمد حمید شاہد کی نثر میں ایک ہموار، پختہ اور مرتب اسلوب نظر آتا ہے، چند مثالیں دیکھیے:

۱۔ ”بیٹا پتھر اُٹھا کر لاتا جاتا اور باپ نصب کرتا جاتا، بنیادیں بھر گئیں تو دیواروں کا مرحلہ آپہنچا۔ دیواریں لمحہ لمحہ تکمیل کی جانب رواں تھیں کہ باپ نے تھکاوٹ محسوس کی۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد باپ اور بیٹے دونوں کے ہاتھ بلند ہوئے اور یہ دُعا دل کی گہرائیوں سے نکل کر فضا کو چیرنے لگی۔“ (ص۔ ۱۴، طبع اوّل)

۲۔ ”نیلے آسمان کو رات کی سیاہی نے تاریک بنا رکھا تھا مگر ننھے منّے تارے چمک چمک کر اس تاریکی کو اجالے میں بدلنے کی ناکام سعی کر رہے تھے۔ ان تاروں سے بہت دور مکہ کے ایک مکان میں آمنہ بی بی، ایک نہایت خوب صورت اور گول مٹول بچے کو چھاتی سے لگائے ماضی کے دریچوں میں جھانک رہی تھیں۔“ (ص۔ ۳۴، طبع اوّل)

۳۔ ”رات کی سیاہ اور دراز زلفیں اپنے دامن کو سمیٹ رہی تھیں اور صبح کا اُجالا رفتہ رفتہ اپنے پر پھیلا رہا تھا کہ کوہ صفا سے آوازہ بلند ہوا، ہائے صبح کا خطرہ، ہائے صبح کا خطرہ۔ (ص۔ ۷۷، طبع اوّل)

محمد حمید شاہد کی تحریر کی ایک ایک سطر ہمیں مقناطیسی کشش سے اپنی جانب کھینچتی ہے اور کتاب کے اختتام تک ہم اس کے حلقہ اثر سے باہر نہیں نکل سکتے بلکہ زندگی بھر کے لیے ذہن پر انمٹ نقوش ثبت ہو جاتے ہیں۔ مصنف کا مقصد ہی یہی ہے کہ سیرت طیبہ کے منور گوشے ہمیں جگمگائے رکھیں اور اس مقصد میں انہیں پوری کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اپنے اسلوب کی دلکشی کو دوچند کرنے کے لیے کبھی کبھی حمید شاہد خطیبانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ سیرت النبیﷺ کے پر جوش اور ولولہ انگیز واقعات اس کا سبب ہیں۔ خطیبانہ انداز کی ایک مثال دیکھیے:

’’ہاں ہاں، یہی تو وہ پیکرجمیل ﷺ تھے کہ جن کی زماں و مکاں میں تعریف کی گئی، یہ خدا کے آخری اور محبوب پیامبر تھے اور یہی تو وہ ذات جمیل ہے کہ جن کی وجاہت میں بھی حسن تھا لباس میں بھی، قیام میں بھی حسن تھا نشست میں بھی، مزاح میں بھی حسن تھا تبسم میں بھی، عادات میں بھی حسن تھا معمولات میں بھی، کلام میں بھی حسن تھا سکوت میں بھی۔۔۔‘‘ (ص۔ ۲۲، طبع اوّل)

اسی خطابت کے بہاؤ میں کبھی کبھی اس طرح کے مساوی الوزن نثری ٹکڑے بھی نظر پڑتے ہیں۔ ”عجب منظر ہے، یہ گھات وہ وار، یہ داؤ وہ پینترا، یہ ضرب وہ کرب، وغیرہ وغیرہ۔ محمد حمید شاہد کے تخلیقی اسلوب کی ایک اور شان یہ ہے کہ انہوں نے عربی متون کو اسی شدت جذبات سے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ بالخصوص وہ مقام جب نجاشی کے دربار میں حضرت جعفربن ابی طالبؓ اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ہیں۔

’’پیکر جمیلﷺ‘‘ تخلیق، تحقیق اور تصدیق کا شاہکار ہے۔ اسلوبیاتی حوالے سے تحقیقی پہلو بیان ہو چکا ہے۔ اس کا تحقیقی گوشہ سب سے نمایاں ہے اور ظاہر ہے محققانہ طلب کے بغیر یہ کام پایہ تکمیل تک نہ پہنچتا۔ محمد حمید شاہد نے کتابیات میں پیش رو تحقیقی مواد کا حوالہ دیا ہے۔ اس مواد کا گہرا مطالعہ ہی اس کتاب کی ترتیب وتدوین کا منطقی جواز ہے۔ حمید شاہد میں ایک محقق کی روح پھونکی گئی ہے۔ واقعات کی ترتیب اور صحت کا لحاظ اپنی جگہ اس کے حواشی کا بھی جواب نہیں۔ حواشی کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ بیک وقت اصل متن کا حصہ بھی ہیں اور اس سے الگ بھی۔ حمید شاہد مختلف واقعات کو زیادہ باوقار بنانے کے لیے قرآن و احادیث کے حوالے دیتے ہیں اور اپنے موضوع کی مناسبت سے اشعار بھی درج کرتے ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر حضرت حسانؓ بن ثابت سے استفادہ کیا ہے۔ (ان کی صف میں شامل ہونے کے لیے یہ تقلید ضروری تھی۔) علاوہ ازیں انہوں نے حسب مواقع مختلف رجز اور نوحے اور قصائد بھی اپنی تحریر میں قرینے سے ٹانکے ہیں، بالخصوص وہ مقام جب اُم معبدحضورؐ کی توصیف بیان فرماتی ہیں۔

”قریب سے بھی حسین دور سے بھی زینبدہ“

میرے نزدیک ”پیکر جمیلﷺ“ ایک طرح کا تصدیق نامہ بھی قرار پاتی ہے۔ یہ ہمارے عقیدے کی تصدیق ہے۔ اس کے مطالعے سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔ حضور ؐ سے محبت بڑھتی ہے۔ ہم آپ کے طرز زندگی اور نظام اخلاق سے آگاہ ہوتے ہیں۔ حضور ؐ کا حسن تکلم، حسن وجاہت، حسن ذوق طعام اور حسن لباس، جگہ جگہ اپنی جھلک دکھاکر ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ حضورﷺ کی حسن آشنائی ہمیں متاثر کرتی ہے۔ آپﷺ کا حسن کمال ظاہر کرتا ہے کہ کائنات میں آپؐ سے بڑھ کر اکمل ترین انسان کوئی نہیں۔ ”پیکر جمیلﷺ“ تصدیق کرتی ہے کہ صحابہ ؓ حضور ﷺ کو کتنا چاہتے تھے اور کس طرح آپﷺ کو اپنے مال، اسباب، عزیز و اقارب حتی کہ اپنی جان تک سے عزیز رکھتے تھے۔

’’پیکر جمیلﷺ‘‘ تخلیق، تحقیق اور تصدیق کا شاہکار ہے کہ ”شاہکار اعظم“ اس کا موضوع ہے۔ محمد حمید شاہد کے قلم سے یہ معجزہ بھی ظہور میں آیا کہ ہم خود کو اس فضا میں سانس لیتا محسوس کرتے ہیں۔ لگتا ہے ہمارے سامنے حلیمہ سعدیہ کا قحط زدہ وطن ہرا بھرا ہو رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضورﷺکے سر پر بادل سایہ کر رہے ہیں۔ حضورﷺ کی تمام روحانی برکات کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے پاتے ہیں۔ ”پیکر جمیلﷺ“ کے جذبات اور رقت انگیز مناظر ہماری آنکھوں میں آنسو بھر دیتے ہیں۔ بالخصوص جب حضورﷺ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہمراہ مکہ کو الوداع کہہ رہے ہوتے ہیں۔ اس موقع پر کلیجے کٹ جاتے ہیں اور آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں یا پھر وہ منظرجب حضورﷺ شہدا کی لاشوں سے مخاطب ہوتے ہیں، دیکھیے جناب مصعبؓ سے حضورؐ کی کیا بات ہو رہی ہے:

’’میں نے تمہیں مکہ میں دیکھا تھا، جہاں تم جیسا خوب صورت جواں اور تم جیسا خوش پوش آدمی کوئی نہ تھالیکن آج دیکھتا ہوں کہ تمہارے بال الجھے ہیں اور جسم پر صرف ایک چادر ہے اور وہ بھی چھوٹی سی۔‘‘

محمد حمید شاہد کی یہ کاوش قبول ہو چکی ہے۔ دعائیں درود کی وساطت سے منظور کی جاتی ہیں اور یہ کتاب تو پوری کی پوری آقاﷺ کی تعریف و توصیف پر مشتمل ہے۔ میری دُعا ہے کہ محمد حمید شاہد سید الشاہدینﷺ کی چشم ِالتفات سے نور ہدایت پائیں۔ وہی فخرِ رسولاں ؐ جن پر خدا وندِ عالم خود اور فرشتے درود و سلام بھیجتے ہیں۔ زمین پر جن کا نام نامی محمدﷺ اور آسمان پر احمدﷺ ہے۔


صاحب نصیب ہیں محمد حمید شاہد کہ اللہ کریم نے انہیں توفیق عطا فرمائی کہ وہ سرور دو عالم نبی آخر الزماں احمد مجتبیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ کو قلم بند کرنے کا شرف اور سعادت حاصل کریں۔ اُردو، اسلامی دُنیا کی زبانوں میں سب سے کم عمر زبان ہے مگر اس کا اعزاز ہے کہ قرآن حکیم کے تراجم و تفسیر اور سیرت طیبہ پر جتنا اور جیسا معیاری کام ہوا ہے اور ہو رہا ہے وہ کسی دوسری زبان سے کم نہیں ہے۔ ’’پیکر جمیل‘‘ محمد حمید شاہد کی پہلی کتاب ہے مگر اپنے معیار و نگارش و مواد کے اعتبار سے کتب سیرت میں ایک لائق اعتبار و استناد حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ سادہ، رواں اندازِ بیان اور نیاز و اخلاص کے پیرائے میں ڈوبا ہوا اسلوب قاری کو اپنی جانب منہمک اور متوجہ رکھتا ہے۔ خیر سے اس کتاب کی اشاعت کو کئی برس گزر چکے ہیں اور اب جب کہ وہ افسانوں اور تنقیدی کتابوں کے مصنف کے طور پر ساری دُنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں اور حال ہی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو یومِ پاکستان کے موقع پر قومی اعزاز سے نوازا گیا ہے، ’’پیکر جمیل‘‘ کا نیا ایڈیشن شائع ہو رہا ہے۔ یقین کیا جانا چاہیے کہ ان کی یہ خدمت دُنیا و آخرت میں ان کی سربلندی اور سرفرازی کی ضامن ہو گی۔
افتخار عارف

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20