فرنچ مصنوعات کا بائیکاٹ : لبرل دوستوں سے کچھ سوال — وحیدمراد

0

پچھلے چند ہفتوں میں فرانس کے اندر مسلم دشمنی اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے پے درپے ایسے واقعات ہوئے جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں تشویش اور غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ فرانس کا صدر میکرون کوئی پہلا حکمران نہیں جو اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھتا ہے بلکہ یہ فرانس کے سیکولرازم کی پرانی روایت ہے۔ میکرون نے تو صرف نوآبادیاتی زہریلے ورثے پر پڑے ہوئے منافقت کے پردے کو سرکاتے ہوئے اسکے مکروہ چہرے کو پھر سے عیاں کیا ہے۔ میکرون نے اقتدار سنبھالتے ہی فرانس میں سفید فام انتہاء پرستوں کی انسانیت سوز کاروائیوں کے علاوہ ہونے والی ہر انتہاپسندی کو مسلمانوں کے عقیدے، ثقافتی علامات مثلاً داڑھی، برقع، حجاب، نماز اور حلال کھانا وغیرہ سے جوڑتے ہوئے ان علامات پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کیا۔

چند ہفتے پہلے اعلان کیا کہ اسلام بحران کا شکار ہے اور ہم اپنے ملک میں یہاں کے اسلامی اداروں اور مساجد وغیرہ کو بیرونی اثرات سے آزاد کر ارہے ہیں۔ اسکے بعد رسوائے زمانہ اخبار شارلی ہیبڈو کی جانب سے ایک مرتبہ پھر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ہوئی۔ اسکے ساتھ ہی ایک فرنچ ٹیچر کی طرف سے توہین آمیز خاکے، کلاس کے اندرطالب علموں کو دکھائے گئے اور اسکے رد میں عمل میں ٹیچر کا قتل ہوا۔ پولیس کی طرف سے ٹیچرکےقاتل کا ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ اسکے بعد میکرون حکومت نے پیرس کے ایک مصروف مضافاتی علاقے میں اس مسجد کو چھ ماہ تک بند کر نے کا حکم دیا ہے جہاں سے جمعے کو ہلاک کیے جانے والے استاد سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھیں۔ اس دوران ایفل ٹاور کے قریب دو سفید فام خواتین نے دو مسلمان خواتین پر چاقوؤں کے وار کرکے زخمی کر دیا۔ ان واقعات کے تناظر میں فرانس میں ایک بار پھر شروع ہونے والی اسلاموفوبیا کی بدترین لہرسے اقلیتیں غیر محفوظ ہو گئیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مذکورہ ٹیچر کے قتل کے واقعہ کو ‘مسلم دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’صاف ظاہر ہے کہ یہ حملہ اسلامی شدت پسندوں نے کیا ہے اور اس ٹیچر کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ آزادی اظہار کا درس دے رہا تھا۔ کابینہ کے اجلاس میں میکرون نے کہا کہ ’اسلامی شدت پسندوں کو چین سے سونے نہیں دیا جائے گا‘ اور اعلان کیا کہ حکومت ایک نیا قانون لا رہی ہے جس کے ذریعے مقامی سطح پر مذہبی اور سماجی تنظیموں کے مالی معاملات کی بہتر نگرانی کی جائے گی، انتہا پسندی پھیلانے والے نجی مدارس کے خلاف کارروائی ہوگی اور فرانس میں پبلک سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی کو اب نجی شعبے میں بھی لاگو کیا جائے گا۔ فرانسیسی صدر میکرون کی جانب سے مسلمانوں پر الزامات لگانے کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ترک صدر طیب اردگان نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کو اسلام اور مسلمانوں سے کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟ کوئی سربراہ مملکت اپنے ملک میں بسنے والے ایک مذہبی اقلیت کے لاکھوں شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتا ہے؟ ایسے لوگوں کو سب سے پہلے اپنے دماغ کا معائنہ کروانا چاہیے۔

اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی نے بھی فرانسیسی صدر کے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ترک صدر کے بیان کے بعد فرانس نے یہ کہتے ہوئے ترکی سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے کہ صدر طیب اردگان نے حد سے تجاوز کیا ہے اور اکھڑپن کا لہجہ استعما ل کیا ہے اور یہ طریقہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ فرانسیسی حکام کو اپنےاس ظلم و ستم پر کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی جو وہ کئی دہائیوں سے اپنے مظلوم مسلمان شہریوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر جو دہشت گردی وہ خود پھیلا رہے ہیں وہ انکے خیال میں جائز ہے لیکن ترک صدر کی طرف سے انکے دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت کا بیان ناجائز ہے۔

ترک صدر نے اسکے جواب میں دوبارہ اپنے خطاب میں اپنی اور عرب ممالک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے پیغمبرِ اسلام ﷺکے بارے میں توہین آمیز خاکوں کا دفاع کرنے کی وجہ سے وہ فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں چنانچہ کویت میں ایک بڑی تجارتی یونین کی جانب سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس یونین میں کویت کی 70 سے زیادہ تنظیمیں شامل ہیں انکا کویتی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ اردن، قطر اور کویت میں کچھ سپر مارکیٹس سے فرانسیسی مصنوعات کو ہٹا دیا گیا تھا۔ قطر یونیورسٹی نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ میں مہم میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے فرانس کی ثقافت پر منعقدہ ایک تقریب کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ اِس وقت ترکی، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، مراکش، فلسطینی علاقوں، الجزائر، تیونس سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں بائیکاٹ فرانس ہیش ٹیگ بہت مقبول ہو رہا ہے۔ عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب میں فرانسیسی سپرمارکیٹ چین کیریفور کے بائیکاٹ سے متعلق ہیش ٹیگ دوسرے نمبر پر ٹرینڈ کرتا رہا۔

دریں اثنا لیبیا، غزہ اور شمالی شام میں فرانس مخالف مظاہروں کا انعقاد بھی ہوا۔ اردن میں حزبِ اختلاف کی ایک اسلامی جماعت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے۔ پاکستان میں گذشتہ تین روز سے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا ٹرینڈ ٹاپ پر ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے فرانسیسی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسکے حالیہ اقدامات کی مذمت کی اور سوشل میڈیا کی سب سے بڑی ویب سائیٹ فیس بک کے سربراہ مارک زُکربرگ کو اسلاموفوبیا کے مواد پر پابندی عائد کرنے کی اپیل کی۔ عمران خان نے یہ معاملہ عالمی فورم پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام اسلامی ممالک کے سربرہان کو اس سلسلے میں خطوط لکھے ہیں اور ان سے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر اتحاد و یکجہتی کی درخواست کی ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف متفقہ قرار داد بھی منظور کی گئ اور اپوزیشن رہنمائوں نے بھی ان خاکوں کی مذمت کی۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے میکرون کے بیان کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے فرانسیسی عوام سے کہا کہ وہ اپنے صدر سے پوچھیں کہ وہ آزادی اظہار کے نام پر اللہ کے پیغمبرﷺ کی بےحرمتی کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟کیا آزادی اظہار کا مطلب مقدس شخصیات کی توہین کرنا ہوتا ہے؟

ٹریڈنگ اینڈ اکنامکس ویب سائٹ کے مطابق خلیجی ریاستوں میں فرانس سے زیادہ تر کھانے پینے کی اشیا درآمد کی جاتی ہیں۔ قطر فرانس سے چار ارب 30 کروڑ ڈالرز کی مالیت کی درآمدات کرتا ہے۔ پچھلے برس تک فرانس کویت کو 58 کروڑ ڈالرز کی برآمدات کرتا رہا ہے۔ جبکہ فرانس متحدہ عرب امارات کو 27 کروڑ یوروز (32 کروڑ ڈالرز) کی برآمدات کرتا ہے۔ فرانس کے دیگر عرب ممالک میں تجارتی پارٹنروں میں مصر ہے۔ الجزائر، تیونس اور مراکش تو فرانسیسی نوآبادیات رہی ہیں اس لیے وہاں کی اشرافیہ کو فرانس سے وہی تعلق ہے جو پاکستان کی اشرافیہ کا برطانیہ سے ہے۔ ان ممالک نے صدر میکرون کی مذمت تو کی ہے لیکن بائیکاٹ کا اعلان صرف الجیریا نے کیا ہے۔ الجیریا فرانس سے 40 کروڑ یورو کی برآمدات کرتا ہے۔ پاکستان نے گذشتہ برس فرانس سے 44 کروڑ ڈالرز کو مصنوعات درآمد کی تھیں۔ ترکی فرانس سے ساڑھے چھ ارب ڈالرز کی مصنوعات کی درآمدات کرتا ہے۔ متعدد مسلم ممالک بشمول پاکستان، بنگلہ دیش اور ترکی میں فرانسیسی “ٹوٹل پٹرول پمپ” موجود ہیں۔ سعودی عرب اور کئی خلیجی ممالک نے ٹوٹل پٹرول پمپ میں سرمایہ کاری بھی کی ہوئی ہے۔ فرانس دنیا کے معروف اسلحہ برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، تھیلس نامی کمپنی سعودی عرب، متحدہ امارات، ترکی اور قطر کو اسلحہ، ایروناٹکس اور پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم فروخت کرتی ہے۔ مصر اورقطر نے ڈاسالٹ کمپنی سے رافیل جنگی طیارے آرڈر کئے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی کمپنی رینالٹ نے ترکی کو رواں سال 49ہزار 131 گاڑیاں فروخت کیں۔ سائٹروئن اور پییووٹ برانڈز کی کمپنیوں کی فروخت بھی ترکی میں بڑھ رہی ہے۔

مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے پر امن احتجاج کرنا، اپنے مقصد اور ہدف کے حصول کا ایک موثر طریقہ ہے۔ فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ انسانی تاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا اس طریقے کو دنیا بھر میں ایک زمانے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل ڈنمارک میں جب توہین آمیز خاکے شائع ہوئے تھے تو اسلامی دنیا میں ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی ہوا تھا۔ دیگر مشہور تاریخی اورکامیاب بائیکاٹس میں امریکی انقلاب کے وقت برطانیہ کی مصنوعات کا بائیکاٹ، گاندھی کی اپیل پر ہندوستان میں برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ، 1920 میں امریکہ میں ہنری فورڈ کے خلااف یہودیوں کا بائیکاٹ، 1930 میں جرمنی میں یہودیوں کے بزنس کے خلاف بائیکاٹ، 1973 میں عرب ممالک کی طرف سے مغرب کے خلاف ‘خام تیل امبارگو’ اور کئی دیگر کامیاب بائیکاٹس شامل ہیں۔ جب کوئی بائیکاٹ کامیاب ہوتا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے تو بڑی سے بڑی طاقت اسکے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ حالیہ بائیکاٹ کے دو، تین دن کے اندر ہی فرانس کو محسوس ہونے لگا کہ اس بائیکاٹ سے اسے معاشی طو رپر کوئی بڑا نقصان ہو سکتا ہے اس لئے فرانس نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

فرانس کی وزات خارجہ کا کہنا ہے کہ فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے ’بے بنیاد‘ اعلانات کو ’شدت پسند اقلیت کی جانب سے ہوا دی جا رہی ہے۔ اسکے جواب میں ترک صدر نے کہا کہ یورپی رہنماؤں کو یورپ میں نفرت کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فرانسیسی صدر کی پالیسیوں کو روکنا چاہیے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل جس طرح یہودیوں کے خلاف مہم چلائی جا رہی تھی آج ویسی ہی مہم مسلمانوں کے خلاف چلائی جا رہی ہے۔

دنیا بھر کے مسلمانوں نے صدر طیب اردگان کے بروقت اور جراءت مندانہ فیصلوں کو سراہتے ہوئے انکی پرزور تائید کی اور بیشمار کمپنیوں کے مالکان نےاپنی حکومتوں کے فیصلوں کا انتظار کئے بغیر بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہوئے فرانسیسی مصنوعات کو شورومز سے ہٹا دیا۔ لیکن انکے ساتھ ساتھ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں صدر میکرون کے حمایتی اور معتقدین بھی پائے جاتے ہیں جو مغرب سے بہت مرعوب ہیں اور انکے خیال میں مغرب کی اعلانیہ مخالفت سے کئی قسم کی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ اس بائیکاٹ کی مخالفت کرتے ہوئے صدر میکرون کے خاکوں کے حوالے سے آزادی اظہار کے بیانیے کو دہرا رہے ہیں اور مغرب کے ساتھ دلیل کے ساتھ مکالمہ کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

انکے خیال میں مسلم دنیا بائیکاٹ افورڈ ہی نہیں کر سکتی۔ کچھ لبرل حلقے ایسے خیالات کا اظہار بھی کر رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انکی نظر میں فرانس میں قتل ہونے والے ٹیچرکے جواب میں فرانسیسی صدر کی طرف سے اسلامی تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون درست عمل ہے۔ چنانچہ وہ صدر اردگان پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ صدر اردگان کی طرف سے دئے گئے بیانات فرانس کے داخلی معاملات میں مداخلت اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے۔ انہیں اس طرح کے بیانات دینے کی بجائے عالمی رائے عامہ ہموار کرنا چاہیے تھی۔ کچھ لبرل حلقے بائیکاٹ کرنے والے لوگوں کا مذاق اڑاتے ہوئے یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ بائیکاٹ کرنے والوں کو چاہیے کہ حکومت پر زور ڈالیں کہ وہ میراج طیارے، اگستا اور ڈیفنی آبدوزیں اور فرانسیسی سویلین ایر کرافٹس گراؤنڈ کر دے بلکہ انہیں خود اپنے ہاتھ سے نذر آتش کرے تاکہ فرانسیسی حکومت کو ہمارے جذبات مجروح ہونے کا احساس ہو۔ ساتھ ساتھ فرانس سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لی گئی 800 ملین ڈالر کی امداد بھی ان کے منہ پر مار دی جائے۔

اس کالم کی وساطت سے، صدر میکرون کے جذباتی لبرل معتقدین اور قدرے معتدل سوچ رکھنے والے روشن خیال دوستوں سے ہماری اپیل ہے کہ آپ دلیل اور مکالمے پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں، آپ اسلامی دنیا میں مغرب کے خلاف پائے والے جذبات کے اظہار کے رد عمل کے طور پر جذباتی اور فکر مند نہ ہوں۔ اسلامی ممالک کی حکومتوں میں بیٹھے ہوئے لوگ آپ ہی کی طرح سوچنے اور فیصلے کرنے والے لوگ ہیں لہذا ابھی تک کسی بھی اسلامی ملک کی حکومت نے بائیکاٹ کی کوئی کال نہیں دی۔ فرانس کی مصنوعات بیچنے والےکاروباری حضرات جو بائیکاٹ کر رہے ہیں یہ انکا اپنا انفرادی اور ذاتی فیصلہ ہے۔ انکے نزدیک گستاخانہ خاکوں کے خلاف اسطرح کا احتجاج مالی فوائد سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ آپ لوگ تو حقوق کیلئے پرامن، جمہوری احتجاجات کی حمایت کرنے والے لوگ ہیں، آخر اس پرامن بائیکاٹ میں آپ کو ایسی کیا بات نظر آئی ہے جس پر آپ اتنے جذباتی اور فکر مندہو رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کی بات درست ثابت ہو اور یہ احتجاج صرف چند دن تک علامتی طور پر جاری رہنے کے بعد ختم ہو جائے اور اس سے فرانس کو مالی طور پر کوئی نقصان نہ پہنچے جس کا آپ کو احتمال ہے لیکن کیا یہ بات کم ہے کہ اسکے نتیجے میں فرانس کو یہ اپیل کرنا پڑی کہ اس بائیکاٹ کو ختم کیا جائے۔

جہاں تک بات ہے فوجی سازوسامان اور مالی امداد کی تو ہماری نیم سیکولر حکومتوں کی نیم لبرل قیادتیں یہ سب چیزیں نہ عوام سے پوچھ کر لیتی ہیں اور نہ انکی کسی اور قسم کی ذمہ داری عوام پر عائد ہوتی ہے۔ یہ سب سازوسامان اور امدادیں آج تک عوام کی کسی مشکل کا مداوا بھی نہیں کر سکیں۔ یہ تو انکے اپنے کک بیکس کے معاملے ہوتے ہیں جن کی خاطر یہ سب سودے کئے جاتے ہیں اور عوام کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ جس طرح فرانس دیگر مصنوعات کے پیسے قبل از ڈیلوری لے چکا ہے، اس سازوسامان کے بھی کئی گنا وصول کر چکا ہے۔ عوام تو اس بات پر خوش ہوگی کہ اگر سود کی ادائیگی کی بجائے یہ ناکارہ سازو سامان واپس کر دیا جائے کیونکہ اس طرح شاید انہیں مہنگائی سے نجات مل سکے گی۔ لیکن آپ لوگ سارے تخمینے پاکستان میں بیٹھ کر لگا رہے ہیں ذرا فرانس حکومت سے بھی تو پوچھیں کہ کیا وہ یہ سامان واپس لینے کو تیار ہے؟ انکی غرض تو اب صرف سود کی وصولی سے ہے وہ اس سامان کو واپس لیکر کیا کرے گا جو اب اس کے کسی کام ہی نہیں؟

جہاں تک گستاخانہ خاکوں کی میڈیا میں اشاعت کی بات ہے تو یہ شرمناک فعل کسی آزادی اظہار کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک سوچی سمجھے منصوبے کے تحت کیا جاتا ہے اور پھر اسکی مزید تشہر کیلئے حکومتی عہدیداروں کی طرف سے اسکی حمایت میں بیان بھی دئے جاتے ہیں۔ اسکا مقصد مسلم دنیا کے جذبات کا استحصال ہوتا ہے اور اس شرمناک عمل کے خلاف پائے جانے والے جذبات کو ٹسٹ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر بار بارمختلف وقفوں سے اس طرح کا اشعال پیدا کیا جائے تو ایک وقت کے بعد مشتعل ہونے والے لوگوں کے جذبات ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور پھر وہ رد عمل نہیں دیتے۔ حکومتی عہدیداروں کے حمایتی بیانات اس بات کی تصدیق کیلئے کافی ہیں کہ یہ عمل کسی اخبار، میگزین یا ویب سائٹ کا ذاتی اور انفرادی عمل نہیں ہوتا۔ نوم چومسکی جیسے سفید فام اسکالر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ مغرب میں آج بھی اسلام کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے جسکا اظہار اسلاموفوبیا کی شکل میں ہوتا ہے۔ اور صلیبی جنگوں کے بعد، مغرب ایک ہزار سال سے مسلسل اسلام کے ساتھ نبردآزما ہے لہذا ان گستاخانہ خاکوں کے محرکات کو لبرل فلسفے میں تلاش کرنے کی بجائے مغرب میں اسلام کے خلاف پائے جانے والے تعصب میں اور مغرب کے سامراجی کردار میں تلاش کرنا چاہیے۔

ان لبرل دوستوں سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ جس طرح یہ پاکستان میں وڈیروں، جاگیرداروں اورسرمایہ دار اشرافیہ کی طرف سے ہاریوں، کمیوں اور گھروں میں کام کرنے والے غریب لوگوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اسی طرح فرانس کی اشرافیہ کی طرف سے غریب افریقن اور عرب نژاد فرنچ شہریوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف بھی آواز اٹھائیں۔ ہمارے ہاں کے وڈیروں، جاگیرداروں، اور سرمایہ دار اشرافیہ اور فرانس کی اشرافیہ میں فرق بس چمڑی کا ہے۔ ہمارے ہاں کالی چمڑی والا ایک طبقہ ہے اور وہاں گوری چمڑی والا ایک ہے لیکن دونوں کا کام ایک ہی ہے، دونوں مظلوم طبقات پر ظلم کر رہے اور انکا استحصال کر رہے ہیں۔ جس طرح ہمارے ہاں کے ظالم طبقات، غریب لوگوں سے کام کروا کر انہیں معاوضہ ادا نہیں کرتے اسی طرح فرانس الجیریا پر قبضے کے دوران الجیریا سے کم اجرت کے نوجوان مزدوروں کو اپنے شہروں کے کام کاج کیلئے لاتا تھا کیونکہ جنگ عظیم اول میں مارے جانے والے کثیر محنت کشوں کے بعد فرانس میں افرادی قوت کی کمی تھی یوں الجیریا کے لاکھوں افراد کی جانوں کو فرانس کے جدید تمدن کا ایندھن بنانے کیلئے یہاں لا کر بسایا گیا۔

انہی محنت کشوں نے فرانس میں ریل کی پٹڑیاں بچھائیں، سرنگوں میں کام کئے، انتہائی گرمی اور سردی میں سڑکیں ہموار کیں، مگر اسکے ساتھ ساتھ تنہائی اور غربت میں شہروں کے مضافات میں خیموں میں زندگی بسر کی۔ آج بھی افریقن اور عرب نژاد فرانسیسی شہری غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ یہ فرانس کے دیگر شہریوں کی طرح اپنی مرضی کا لباس پہن سکیں، اپنی مرضی کا عقیدہ اپنا سکیں، یا اپنی مرضی کی ثقافت اور رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ جس طرح ہمارے ہاں نچلے طبقے کے لوگ جب حق مانگے ہیں تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگا دئے جاتے ہیں اسی طرح فرانس کی اشرافیہ وہاں کی مسلم اقلیت کو برابری کے حقوق دینے کی بجائے ان پر شدت پسندی کے الزمات لگا دیتی ہے۔

ہمارے لبرل و روشن خیال دوست یہ سب باتیں جانتے ہیں اور یہاں کے ظالم طبقات جب مظلوموں پر الزامات لگاتے ہیں تو یہ انکی صداقت کو نہیں مانتے اور مظلوموں کا ساتھ دیتے ہیں لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ جب گوری چمڑی والی اشرافیہ اسی قسم کے الزمات مسلمان مظلوم طبقات پر لگاتی ہے تو یہ اسکی صداقت کا فوراً اقرار کر لیتے ہیں؟ جس طرح آپ یہاں کے مظلوم طبقات کے رد عمل کو انکی مایوسی اور مجبوری میں تلاش کرتے ہیں اسی طرح آپ فرانس کے مظلوم طبقات کے احتجاج کے محرکات کو انکی پوری زندگی کی مایوسی، بیروزگاری، غربت، افلاس اور عدم مساوات میں تلاش کرنے کی بجائے فرانس کی اشرافیہ کے اسلاموفوبیا کے پروپیگنڈے کا شکار کیوں ہوجاتے ہیںَ؟

فرانس کی اشرافیہ امریکی فریڈم فائٹرز مثلاً روسا پارکس، مارٹن لوتھر کنگ، میلکوم ایکس وغیرہ کے حقوق کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتی ہے لیکن اپنے ملک کی اقلیتوں کے حقوق کی جدوجہد کو دہشت گردی سے منسوب کرتی ہے اور فرانسیسی اشرافیہ کے اتباع میں آپ بھی دانستہ یا نادانستہ وہی کام کر رہے ہیں۔ آج تک فرانس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جو بات وہ سفید فام اکثریت کیلئے پسند کرتا ہے وہ بات وہ اپنی ان اقلیتوں کیلئے کیوں پسند نہیں کرتا جنہوں نے کئی دہائیوں تک اپنا خون پسینہ جدید فرانسیسی تمدن کی تعمیر و تشکیل میں بہایا ہے اور جن کی کوششوں سے جدید فرانسیسی ریاست اس مقام تک پہنچی ہے۔ اور آپ کا بھی وہی معاملہ ہے کہ اگر ظالم کالی چمڑی والا ہو تو اس پر آپ کو بہت غصہ آتا ہے لیکن اگر ظالم گوری چمڑی والا ہو تو آپ اس سے مرعوب ہو کر مظلوم کو فوراً بھول جاتے ہیں اور ظالم کے ہمنوا بن جاتے ہیں۔ آخر آپ کے اس فکر و فلسفہ اور عمل میں تضاد کیوں ہے؟؟

اسی موضوع پر مزید مطالعہ کیجئے:

1۔صدر میکرون : فرنچ مسلم دشمنی کی تاریخ کا عروج ۔۔۔۔ وحید مرادفرانس میں اسلام بحران کا شکار ہے یا میکرون کا سیکولر شاونزم؟ — وحید مراد
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20