ایچ ای سی HEC کی آمریت اور جامعات کی اطاعت گذاری: کچھ غلط فہمیاں — ڈاکٹر مشتاق احمد

0

جب سے ایچ ای سی بنی ہے، تب سے مسلسل کئی مسائل سامنے آتے رہے ہیں لیکن جب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان کے تحت ملنے والے فنڈز کا سلسلہ رک گیا ہے، تب سے خصوصاً ایسے مسائل پیدا ہوئے ہیں کہ اب بہت زیادہ عاقل و فہیم لوگوں کی سمجھ میں بھی نہیں آرہا کہ ان مسائل سے نکلا کیسے جائے؟

یونی ورسٹی میں بحیثیت طالب علم آٹھ سال، پھر تدریس اور تحقیق کے اٹھارہ سال اور انتظامی عہدوں کے چار سال کے تجربے کی روشنی میں میری سوچی سمجھی راے یہ ہے کہ ان سارے مسائل کی جڑ اعلی تعلیم کی طرف ایچ ای سی کی آمریت اور جامعات کی جانب سے ایچ ای سی کی غیر مشروط اطاعت کے رویے میں ہے۔ ایچ ای سی نے یہ فرض کیا ہوا ہے اور جامعات نے یہ مان لیا ہے کہ ایچ ای سی “ریگولیٹری اتھارٹی” ہے جس کا کام جامعات کو “ریگولیٹ” کرنا ہے، حالانکہ جس قانون کے تحت ایچ ای سی کی تشکیل ہوئی ہے (ایچ ای سی آرڈی نینس 2002ء)، اس کے تحت ایچ ای سی کو ایسا کوئی اختیار اور مرتبہ حاصل نہیں۔ جامعات کے ساتھ ایچ ای سی کے تعلق کی نوعیت جانچنے کےلیے اس آرڈی نینس سب سے اہم دفعہ 10 ہے جس میں تصریح کی گئی ہے کہ ایچ ای سی کا کام صرف “سفارشات” (guidelines) دینا ہے جنھیں جامعات اپنے اوپر لازم (adopt) کرسکتی ہیں؛ نیز اس ضمن میں سفارشات دینے سے قبل بھی لازم ہے کہ ایچ ای سی جامعات کے ساتھ مشاورت کرے۔ تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر پچھلے اٹھارہ سال میں بتدریج ایسا ہوا ہے کہ جامعات کے اپنے چارٹر اور قوانین کو یکسر نظرانداز کرکے انھیں ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے اور ایچ ای سی کو سمع و طاعت کا مرکز مان لیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے برا کردار جامعات میں موجود نام نہاد کوالٹی انہاسمنٹ سیلز (QEC)کا رہا ہے جس نے جامعات کے اندر ایچ ای سی کے سیٹیلائٹس کے طور کردار ادا کیا ہے اور ہمیشہ جامعات کے اساتذہ و انتظامیہ کے سامنے ایچ ای سی کا ہوّا کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر بعض جامعات کے وائس چانسلر و ریکٹر صاحبان ایچ ای سی کےلیے “آمنا و صدقنا” کے وظیفہ مسلسل نہ پڑھتے تو صورت حال اتنی بری نہ ہوتی۔

آج جامعات کی خود مختار حیثیت یکسر ختم ہو کے رہ گئی ہے، ایچ ای سی نے جامعات کے امور کی جزئی تفصیلات بھی اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی ہے اور micromanagement کی اس کوشش میں نظام کو بہتر بنانے کے بجاے اس کا بیڑا غرق کرنے کا کام کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایچ ای سی یہ سب کچھ کسی قانون اور ضابطے کے بغیر کررہی ہے۔ آرڈی نینس میں اس کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے اور سپریم کورٹ نے بارہا اس بابت فیصلہ سنایا ہے کہ ایچ ای سی کی کوئی سفارش کسی یونی ورسٹی پر اس وقت تک لازم نہیں ہوتا جب تک یونی ورسٹی خود اس کو اپنے اوپر لازم نہ کرے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ جامعات کی تشکیل ایکٹ یا آرڈی نینس کے تحت ہوتی ہے اور اس کی رو سے جو اختیارات جامعات کو حاصل ہوتے ہیں، جامعات اب ان اختیارات کے استعمال کے بجاے ہر معاملے میں ایچ ای سی کی غیرمشروط اطاعت کی روش پر گامزن ہوچکی ہیں۔ مکرر عرض ہے کہ ایچ ای سی کا یہ آمرانہ رویہ اور جامعات کی یہ غیرمشروط سمع و طاعت کی روش، دونوں امور قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔

اگر ایچ ای سی کے آرڈی نینس میں یہ باتیں نہ بھی ہوتیں، تب بھی جامعات کے اپنے ایکٹ یا آرڈی نینس کی موجودگی میں، اور بالخصوص اٹھارھویں دستوری ترمیم کے بعد، ایچ ای سی نامی ادارے کی یہ حیثیت ہر گز باقی نہ رہ پاتی کہ وہ پورے ملک میں جامعات کو مرکزی سطح پر ریگولیٹ کرنے کا کام کرے۔ پھر جب خود ایچ ای سی کے آرڈی نینس میں ہی اس کے پاس ایسا اختیار نہیں ہے تو بحث ہی ختم ہوجاتی ہے۔

ایچ ای سی کی اس غیر قانونی مداخلت کو اب ختم ہوجانا چاہیے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو اوپر دی گئی تفصیل ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا کچھ پچھلے اٹھارہ سال سے قانون کی خلاف ورزی کی بنیاد پر ہوتا رہا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کے معاملے میں اصول یہ ہے کہ اسے فوراً روک لینا لازم ہے۔ دو مزید وجوہات بھی فوری طور پر اس پورے نظام کی اوورہالنگ اور ری سٹرکچرنگ کو فوری اور اشد ضروری بنادیتے ہیں:

ایک یہ کہ پچھلے اٹھارہ سال کے تجربے نے بتادیا ہے کہ ایچ ای سی کے پاس نہ وہ وہ وسائل ہیں، نہ صلاحیت، نہ اہلیت کہ وہ پورے ملک کے جامعات کی micromanagement کرسکے۔ (مثال کے طور پر ذرا معلوم تو کیجیے کہ مجلات کو تسلیم کرنے والا شعبہ کل کتنے افراد پر مشتمل ہے؟ گنتی کے ان چند افراد کو آپ کیسے پورے ملک کے جامعات کے امور کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار دے سکتے ہیں؟)

دوسری وجہ، جو زیادہ اہم ہے، یہ ہے کہ “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے عنوان کے تحت جو ہن برس رہا تھا، اب اس کا سلسلہ رک گیا ہے اور اس کے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ اب کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر کچھ نہیں مل رہا۔ جس فنڈ پر انحصار کرتے ہوئے ایچ ای سی نے اتنی over-stretching کی تھی، وہ فنڈ ہی نہیں رہا۔ اب ایچ ای سی کس کے بل بوتے پر اکڑ دکھاسکتی ہے؟

یہ بات نوٹ کرلیں کہ ایچ ای سی کی کوئی پالیسی، اس کی کوئی سفارش، اس کا کوئی سرکولر، اس کا کوئی نوٹیفیکیشن، اس کا کوئی فیصلہ کسی یونی ورسٹی پر ماننا لازم نہیں ہے، جب تک یونی ورسٹی خوداسے اپنے اوپر لازم نہ کرے۔

کچھ غلط فہمیاں:
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ ایچ ای سی جامعات کو گرانٹس فراہم کرتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ گرانٹس حکومت دیتی ہے اور ایچ ای سی کا کام صرف حکومت اور جامعات کے درمیان رابطے اور پل کا کردار ادا کرنے تک ہی محدود ہے۔ تاہم، جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں تفصیل سے واضح کیا گیا تھا، ایچ ای سی نے یہ فرض کیا ہے اور جامعات نے بالعموم مان لیا ہے کہ اس معاملے میں ایچ ای سی کی مرضی چلے گی۔ مکرر عرض ہے کہ قانون کی رو سے ایسا نہیں ہے۔ قانونا پوزیشن یہ ہے کہ جامعات اپنی ضروریات اور اہداف کے تناسب سے گرانٹ مانگیں اور ایچ ای سی اس کے حصول میں اس کی مدد کرے۔ ہوتا اس کے برعکس یہ ہے کہ ایچ ای سی گرانٹس کے حصول کو جامعات سے اپنی شرائط منوانے کےلیے اور ان پر اپنی پالیسی مسلط کرنے کےلیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ یوں ایچ ای سی نے گویا آئی ایم ایف کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے اور جیسے آئی ایم ایف حکومت کو بتاتا ہے کہ فلاں جگہ انویسٹ کرو، فلاں جگہ سبسڈی ختم کردو، فلاں جگہ قیمت بڑھاو، وغیرہ، اسی طرح ایچ ای سی جامعات پر دباو ڈالتی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک بھر میں جامعات کی مائیکرو مینیجمنٹ کا کام کرتی ہے جس کےلیے نہ اس کے پاس صلاحیت ہے، نہ اہلیت، نہ قانونی جواز۔

اسی طرح ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ ایچ ای سی نے اتنی ساری جامعات بنادی ہیں، اتنے سارے پروگرام شروع کیے، اتنی سکالرشپس دیں، اتنے ریسرچ پیپرز لکھوائے، وغیرہ۔ ان میں سے ہر ہر بات پر الگ الگ گفتگو کرکے دکھایا جاسکتا ہے کہ ایچ ای سی نے اس معاملے کیا فساد پھیلایا ہے، لیکن اس وقت میں اس بحث میں جا ہی نہیں رہا، بلکہ صرف اس اصولی قانونی پوزیشن کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ سارے کام ایچ ای سی نے نہیں کیے، بلکہ حکومت نے کیے، اور حکومت نے بھی یہ سارا کچھ “دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں “کولیشن سپورٹ فنڈ” کی وجہ سے کیا ہے، اور جب سے اس فنڈ کے سوتے خشک ہوگئے ہیں، تب سے نئی جامعات، نئے پروگرامز، سکالرشپس وغیرہ کا سلسلہ بھی تھم گیا ہے، حالانکہ ایچ ای سی وہیں کی وہیں ہے۔

مکرر عرض ہے، اور اچھی طرح نوٹ کیجیے، کہ سوال یہ نہیں ہے کہ ایچ ای سی نے کیا کچھ کیا، بلکہ یہ ہے کہ جو کچھ ایچ ای سی نے کیا اور کررہی ہے، کیا اس کےلیے ایچ ای سی کے پاس قانونی اختیار ہے؟ جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں تفصیل سے واضح کیا گیا، اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ اس لیے ایچ ای سی کے عذر خواہوں سے گزارش ہے “فوائد وبرکات سرکار ایچ ای سی” بیان کرنے کے بجاے صرف یہ بتائیں کہ ایچ ای سی کے پاس ان کاموں کےلیے قانونی اختیار کہاں سے آیا جبکہ خود ایچ ای سی کے آرڈی نینس میں اسے صرف سفارشات دینے کی بات کی گئی ہے اور وہ سفارشات بھی جامعات کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی دینے کی بات کی گئی ہے؟ پھر نوٹ کیجیے کہ قانون کی رو سے ایچ ای سی کی کوئی سفارش، کوئی پالیسی، کوئی سرکولر، کوئی نوٹی فیکیشن کسی جامعہ پر لازم نہیں ہے جب تک وہ جامعہ اسے اپنے اوپر لازم نہ کردے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20