لبرل اسلامسٹ: منیر احمد خلیلی

0

امریکی ’تھنک ٹینک ‘RANDنے دس بارہ سال پہلے اپنی رپورٹوں میں عالمِ اسلام کے اندر جن فکری اور نظریاتی لہروں کا ذکر کیا تھا ان میں روایت پسند، قدامت پسند، سیکولر، لبرل کے ساتھ صوفی اسلام کا نام شامل تھا۔ روایت پسند سے مراد وہ مکتبِ فکر مراد تھا جو سعودی عرب اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں سلفی یا اہلِ حدیث کے نام سے معروف ہے۔ قدامت پسند ان کے لحاظ سے دیوبندی پس منظر رکھنے والے طالبان اور ان کی ہم فکر تنظیمیں ہیں۔ اگرچہ اہلِ مغرب اور ان کے زیرِ اثر لبرل اور سیکولر لابی سے تعلق رکھنے والے دانشور جب اسلامی نظام پر تنقید کرتے ہیں توان کے نقطۂ ِ نظر سے یہ ساڑھے چودہ سو سال پرانا ایک ایسا نظام ہوتا ہے جو ان کے خیال میں جزیرۃ العرب کے اپنے قبائلی ماحول میں پروان چڑھا۔ بعد کی صدیوں میں اسے ایشیا، افریقہ اور یورپ تک تین برّ اعظموں میں طاقت اور وسعت ملی لیکن مغربی دانش اور اس کے تابع عالمِ اسلام کے سیکولر اور لبرل حلقے انہی خیالات کا پرچار کرتے رہے کہ اسلام عرب کے قبائلی تمدّن، جغرافیائی حالات، سماجی روایات اور اقتصادی ضروریات کی پیداوار ہے۔ ریاست و سیاست، دستور اور قانون، معیشت اور معاشرت کے دائروں کو اسلامی تعلیمات کے زیرِ حکم لانے کی بات کرنے والوں کو جَہل کے طعنوں کی مار ماری جاتی رہی کہ وہ جدید دور کے تہذیبی و تمدّنی تقاضوں سے یکسربے خبرہیں۔ گزشتہ صدی کے تیسرے عشرے تک مغرب کے یہ فکری رجحانات بڑے جارحانہ انداز میں مسلم دنیا پر چھائے رہے۔ اُمت کے اکثر اہلِ علم و فکر اس فلسفے کے آگے سرنگوں ہو گئے تھے کہ اسلام کسی ہمہ گیر اور جامع نظام کا نام نہیں بلکہ یہ فرد کی ذاتی زندگی اور تزکیہ و اصلاح کی ذاتی مشق سے متجاوز کوئی چیز نہیں ہے۔1924  میں ادارہ ٔ ِ خلافت کے اِلغا کے بعد اس تصور کو پھیلانے کا بہت اہتمام کیا گیا۔ عالمِ اسلام میں مصر اور برِّ صغیر ہند و پاک میں رجحان ساز اور فکر خیز دینی ادارے بھی تھے اور یہیں سے ایسے علماء اور مسلم سیاسی رہنما بھی اٹھے تھے جن کے اثرات ساری مسلم اُمّہ پر پڑ رہے تھے۔ خلافت کا ایشو بھی سب سے زیادہ انہی دو خطوں میں زیرِ بحث تھا اور مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مضبوط لابیاں بھی یہیں پر متحرّک تھیں۔ تجدّد اور مغربیت کی زور دار ہوائیں بھی انہی دو ملکوں میں چلتی رہیں۔
حسن البنا اور سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی اٹھائی ہوئی وہ اسلامی تحریکیں جن پر اس وقت سے لے کر آج تک’پولیٹیکل اسلام‘ کی پھبتی کسی جا تی ہے مصر اور ہند ہی میں برپا ہوئیں۔ ان کے عقب میں ہمیں وہ نظریاتی کشمکش دکھائی دیتی ہے جو خلافت کے خاتمے کے بعد دونوں بلاد –مصر و ہند–میں خلافت کے بچاو اور بقا کے لیے اور اس سے گلو خلاصی کے لیے کئی سال تک جاری رہی۔عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد شاہِ مصر کو خلیفہ کا منصب سونپنے کے لیے ایک ناپختہ اور بے تدبیر کوشش ہوئی۔ اس نے وہاں کی لبرل اور سیکولر لابی کے کان کھڑے کر دیے تھے۔ایک مکتبِ فکر جس کے لیے میں کئی سال سے ’لبرل اسلامسٹ‘ کی اصطلاح استعمال کر رہا ہوں، اس کا یہ دین و سیاست کی جدائی والا بیانیہ تو ابھی کل کی بات ہے۔ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ریاست کو کسی قرارداد کے ذریعے مسلمان نہیں بنایا جا سکتا جیسے مدتوں پہلے چباکر پھینکے ہوئے جملے ہیںجو انہوں نے منہ میں لے لیے اور زبان و قلم سے اگلنے شروع کر دیے۔ مصر میں لبرلزم اور سیکولرزم کو مقبول بنانے اوردینی فکر کو مغربیت کے سانچے میں ڈھالنے والوں میں احمد لطفی سیّد، اسماعیل مظہر، قاسم امین ، طٰہٰ حسین، عبدالعزیز فہمی اور دیگر کئی بڑے نام ہمیں نظر آتے ہیں جو مغربی کلچر کی نمائندہ ایک نامور اور انتہائی بااثر خاتون شہزادی نازلی فاضل کے تجدد پرست فکری و ثقافتی کلب (صالون) سے وابستہ تھے۔ اور تو اور مفتی عبدہٗ جیسی شخصیت بھی نازلی فاضل سے متأثر، اس کی مرہونِ منّت اور زیر بار احسان رہی ہے۔ نازلی کے لارڈ کیمرون کے ساتھ بہت گہرے تعلقات تھے۔ مفتی محمد عبدہٗ کی جلاوطنی کا حکم نازلی فاضل کی سفارش پر ختم ہوا تھا۔ اس کلب کا نمک چکھنے والوں میں سے ہر ایک نے مغربی فلسفے اور فکراور کلچر کو مقبول بنانے میں حقِ نمک ادا کیا۔1925میں شیخ علی عبدالرّزاق کی معرکۃ الآراء کتاب ’الاسلام و اصول الحکم‘سامنے آئی۔اس میں انہوں نے اپنی دانست میں یہ ثابت کیا کہ قُرآن اور سُنّت و سیرتِ نبوی ؐ کاامورِ مملکت اور معاملاتِ حکومت اور دنیائے سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے۔خلافت شریعت ِ اسلامی سے ثابت کوئی ادارہ نہیں ہے۔اگرچہ اس کتاب کی زبان اور اسلوبِ تحریر اور طٰہٰ کے اعلیٰ ادیبانہ اسلوبِ تحریر میں بہت فرق ہے لیکن اکثر لوگوں کی رائے تھی کہ اگر یہ کتاب طٰہٰ حسین نے خود لکھی نہیں تو یہ ان کی لکھوائی ہوئی ضرور ہے۔میری نظر سے شیخ محمد الغزالی کی یہ رائے نہیں گزری لیکن ان سے منسوب ایک روایت ہے کہ علی عبدالرّزاق نے آخری عمر میں اس کتاب میں پیش کی گئی اپنی آراء سے رجوع کر لیا تھا۔اگر رجوع کیا بھی تھا تو عالمی طاقتوں نے اپنے خاص مہرے مصطفیٰ کمال سے جب خلافت کی بساط لپیٹنے کا اور الازہر اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ شیخ علی عبدالرّزاق سے خلافت کے احیاء کی کوششوں کے تابوت میں علمی کیل گاڑنے کا اہم کام لے لیا تھاتو اس کے بعد ان کا اپنے خیالات سے تائب ہونا کچھ مفید نہ تھا۔
مرحوم شیخ علی عبدالرّزاق کی کتاب کی اشاعت کے چار سال بعد اِمام حسن البنا ؒ نے مصر میں الاخوان المسلمون کے نام سے اسلامی تحریک برپا کی ۔ سیّد ابوالاعلیٰ مودودی ؒ اسی عرصے میں فکری اور نظریاتی میدان میں اترے اورقرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے ریاست و سیاست، معیشت و معاشرت، عدل و انصاف اور اجتماعیت کی اصلاح و تعمیر میں حکومت کی ذمہ داریوں سے لے کر عبادات اور تزکیۂ ِ نفوس تک ساری مہمات پر محیط ہونے کو بدلائل ثابت کیا۔انہوں نے شد ّ و مد کے ساتھ اسلام کے ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات اور بہترین نظامِ زندگی ہونے کاصدیوں سے گم شدہ تصور دنیائے اسلام کے سامنے رکھا ۔آگے چل کر انہوں نے بھی جماعتِ اسلامی کے نام سے ایک بھرپور تحریک کا آغاز کیا۔شیخ علی عبد الرّزاق کی موت کے نصف صدی بعد اب ان کا پیش کردہ بیانیہ ہمارے ہاں اس گروہ نے اپنا لیا ہے جس کے لیے میں پچھلے کئی برسوں سے ’لبرل اسلامسٹ‘ کی اصطلاح استعمال کر رہا ہوں ۔سیاسی نظریے کے اعتبار سے یہ مکتبِ فکر ’الاسلام و اصول الحکم ‘ کا نیا ایڈیشن ہے۔ حقیقت میں اس شجرنے جہاں جہاں ایسی فکر کی شاخیں نکالیں، سب کو’ لبرل اسلامسٹ‘ ہی کا نام دیا گیا ہے۔ محمد عمران محمد تائب کی کتاب Liberal Islamist کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب ہر جگہ اس فکر کا تنقیدی جائزہ لیا جانے لگا ہے۔اس گروہ اورصوفی اسلام کے بیانیے میں نام کا فرق رہ گیاہے۔’صوفی اسلام‘ کی تعبیر کے مطابق دین صرف اللہ اللہ کرنے، ورد وظیفے جپنے اور نماز روزے اور دیگر عبادات کے ذریعے تزکیۂ ِ نفس اور اصلاحِ معاشرہ کی تلقینی سرگرمیوں تک محدود ہے اور ’لبرل اسلامسٹ ‘ اپروچ کی رو سے مقالے اور مضمون اور کالم لکھنا،تقریریں کرنا، لیکچر دینا اور برقی میڈیا پر talk showکا خود اہتمام یا دوسروں کے پروگراموں میں معروف و مستند دینی فکر کو بے اعتبار اور حقیر ثابت کرناابلاغ و خدمت ِہی دین کا سارا کام ہے۔ریاست و سیاست دونوں کا موضوع نہیں ہیں۔ریاست کاجب دین سے کوئی علاقہ نہیں ہے تو اس کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، اعتقادی اورفکری فتنوں کا راستہ روکنے اوراخلاقی بگاڑ کو مٹانے کا مکلّف کیوں سمجھا جائے؟ریاست مغرب سے ماخوذقوانین کے تحت توچوری ، قتل، نہب و غصب کی اوربدعنوان حکمرانوں، سیاست دانوں، جرنیلوں، ججوں، جرنلسٹوں، بیوروکریٹوں، کاروباری طبقوں کو ان کی کرپشن کی سزا دینے کی مجاز ہے لیکن شرعی قوانین کے تحت ان جرائم کی سزا دینا دقیانوسیت اور جہالت ہے۔قیامِ عدل کے لیے مغرب کے سیکولر معاشروں کی نظیریں پیشِ نظر رکھی جا سکتی ہیں لیکن اہلِ حکومت و اقتدار کو فاروقِ اعظم ؓ کے طرزِ حکمرانی سے مناسبت اختیار کرکے نظامِ عدل قائم کرنا اس دورِ جدید سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسلام کے بہت سے اصول و احکام اس بیانیے کی روشنی میں رسول پاک ﷺ کی حیاتِ طیّبہ ہی کے لیے مخصوص تھے۔ ان کے ہر زمانے اور ہر مقام پر انطباق و نفاذ کی بات کرنا دین نا فہمی کی دلیل ہے ۔ اس بیانیے
کی رو سے قُرآن پاک نے رسول اللہ ﷺ کامقصدِ بعثت جوغلبۂ ِ دین بتایا ہے وہ صرف عہدِنبوی ؐ تک محدود بات ہے۔یہ جو کتابِ حکیم یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست اور رازدار بنانے سے سختی کے ساتھ منع کرتی ہے کیوں کہ وہ ایک دوسرے کے دوست توہو سکتے ہیں مگر مسلمانوں کے خیرخواہ کبھی نہیں ہو سکتے ، یہ تلقین رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں اس وقت کے مسلمانوں کے لیے تھی۔ریاست کو اسلامی شناخت ملنا ہی جب اس بیانیے میں غلط ہے تو پھر اس کو یہ اختیار نہیں رہتا کہ اللہ کے رسول ؐ یا اس کی کتاب کی توہین اور بے حرمتی کرنے والے کسی مرد یا عورت کو سزادے۔ ریاست مجاز نہیں ہے کہ وہ کسی شخص یا گروہ کو دستوری طور پر کافر قرار دے خواہ وہ شخص اور گروہ اپنی گستاخانہ باتوں اور حرکتوں سے ریاست کی اکثریتی آبادی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا رہے اور وہ گروہ خود اپنے باطل عقیدے کو نہ ماننے والے کروڑوں مسلمانوں کو دائرۂ ِ اسلام سے خارج سمجھے ۔پچھلی تین اور موجودہ حکومت کا فیورٹ رہنے والا لبرل اسلامسٹ مکتبِ فکر حکومت کو تسلی دے رہاہے کہ رسول اللہ ﷺ اور شعائر ِ اسلام کی تضحیک و توہین کی مکروہ حرکات سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔ ان گستاخان ِدین و نبیؐ کو سزا دینا جب ریاست کا ایشو ہی نہیں توشور و غوغا سے گھبرا کرحکومت کیوںسخت اقدام کا عزم ظاہر کر رہی ہے؟

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: