سائنس کے عقیدت مند کٹر مذہبی ہوتے ہیں؟ — وحید مراد

0

کچھ روز قبل ہم نے ایک مضمون بعنوان “کیا عقیدے سے جان چھڑانا ممکن ہے؟” میں دینی عقائد کا سیکولر، لبرل، سائنسی اور ملحدانہ عقائد کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ ” تہذیب مغرب کے علوم و فنون، سماجیات و معاشیات، ریاست و سیاست، سائنس و ٹیکنالوجی الغرض زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو عقیدے و ایمان سے آزاد ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ انکے عقائد و ایمان کا محور و مرکز انکی عقل، نفس اور خواہشات ہیں جبکہ روائیتی تہذیبوں کے عقائد کی بنیاد وحی، الہام، وجدان، اساطیر اور رسوم و رواج ہیں۔ مغرب نے جب تعقل و آزاد ارادے کی رہنمائی میں مذہبی عقائد کو رد کیا توانکے عقائد نے بھیس بدل کر انکے ہاں لبرل افکار و نظریات اور سیکولر اداروں کی شکل اختیار کر لی۔ سرمایہ داری، کمیونزم، انارکزم، قوم پرستی، جمہوریت، لبرل ازم، ترقی پسندی، انسانیت پرستی، الحاد، سائنٹزم، اور کلٹس آف ریزن اینڈ سپریم بینگ وغیرہ عقل اور خواہشات پر مبنی عقائد کی ہی مختلف شکلیں ہیں”۔ اس پر کچھ دوستوں سے استفسار کیا کہ باقی تو سب سمجھ میں آتا ہے لیکن سائنٹزم اور الحاد کو عقیدے یا مذہب کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ سائنسی بنیادوں پر تمام مذہبی عقائد کو رد کرتے ہیں وہ کسی عقیدے یا مذہب کے قائل کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان دوستوں نے اس موضوع کو ذرا تفصیل سے بیان کرنے کیلئے کہا لہذا اسکی تفصیل حاضر خدمت ہے:


آجکل یہ تصور مقبول عام ہے کہ سائنس اور خاص طور پر نیچرل سائنس ہمیشہ معتبر طور پرعقلی دلائل اور علم کی طرف رہنمائی کرتا ہے جبکہ غیر سائنسی علوم ایسا نہیں کرتے۔ اس رویے کو سائنٹزم کہتے ہیں۔ پہلے پہل تو یہ رویہ محض دلائل کے لئے استعمال ہوتا تھا لیکن آج کل یہ فیشن، فخر کے ایک ٹیگ اور عزت کے ایک بیج کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس تصور کا آغاز اس وقت ہوا جب انیسویں صدی میں آگست کومتے نے استدلال کیا تھا کہ “سائنس، قدیم مذہبی عقائد و نظریات کی جگہ لینے کیلئے تیار ہے”۔ اسکی سائنسی اثباتیت پسندی نے سائنٹزم کو جنم دیا۔

سائنٹزم، سائنس کو فروغ دینے کا ایک نظریہ اور عمل ہے جسکا بنیادی مقصدیہ ہے کہ معاشرہ اپنی معیاری اور علمی اقدار کا تعین سائنس کے اتباع میں کرے۔ سائنٹزم کو، فریڈرک ہائیک (سوشل سائنسٹسٹ)، کارل پاپر (فلسفی)، ہیلری پوٹنم (فلسفی) اور زوٹن توڈوروف Tzvetan Todorov نے سائنسی میتھاڈولوجی کی متعصبانہ تصدیق، اور تصدیق و توثیق کی غرض سے علوم کی تحدید اور تخفیف کے بیان کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یعنی جب کسی معاملے میں سائنس کا اطلاق نہیں ہو سکتایا جب کوئی موضوع سائنسی طریقہ تفتیش کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، ایسا سیاق و سباق جہاں سائنسی نتیجہ اخذ کرنے کیلئے ثبوت ناکافی ہوتے ہیں، سائنس عمومی و آفاقی اصول اخذ کرنے یا طے کرنے کے قابل نہیں ہوتی، اور کچھ لوگوں کی سائنس دانوں کے دعوں کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہوئے، کسی بھی مطلوبہ نتیجے کو اخذ کرنے کیلئے سائنسی رفاقت کو بروئے کار لانے کی خواہش، سائنس کے نام پر غیر منطقی اسلوب اختیار کر لیتی ہے تو اس رویے کو سائنٹزم کا نام دیا جاتا ہے۔ عام الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سائنٹزم کا مطلب ہےاپنے کسی اعتقاد کو ثابت کرنے کیلئے سائنس اور سائنسی دعووں کا بے دریغ استعمال۔ یا یہ کہہ سکتے ہیں سائنٹزم دراصل سائنس کو ایک عقیدے کے طور پر اپنانے کا نام ہے۔

Tom Sorell کے مطابق “سائنٹزم، نیچرل سائنس کو، دوسرے سماجی و ثقافتی علوم و شعبہ جات پر بہت زیادہ اہمیت دینے کا نام ہے”، الیکزنڈر روزن برگ جیسے فلسفی کہتے ہیں کہ” سائنٹزم، ایک ایسےنظریے اور اعتقاد کے طور پر اپنا یا گیا ہے جس کے مطابق سائنس ہی علم کا واحد قابل اعتماد ذریعہ ہے”۔ سائنٹزم، سائنسی طریقہ کار اور نقطہ نظر کے عالمگیر اطلاق کوبیان کرنے، اسے سب سے زیادہ مستند ماننے، انسانی علوم اور ورلڈ ویو میں اسے سب سے زیادہ قیمتی متاع سمجھنے، اور اس بات پر اعتقاد رکھنے کا نام ہے کہ انسان، دنیا، اور کائنات کے بارے میں سائنسی طریقہ ہی وہ واحد طریقہ ہے جو صحیح اور مستند علم مہیا کرتا ہے۔

Sam Harrisسام ہیرس کا استدلال ہے کہ سائنس خود ہی اخلاقی سوالات کا جواب فراہم کر سکتی ہے اسکے لئے فلسفے کی ضرورت نہیں۔ مثال کے طور پر “میرے بہت سارے نقاد، مجھے اخلاقی فلسفے کے ساتھ براہ راست مشغول نہ ہونے پر قصور وار ٹھہراتے ہیں۔۔۔۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ میٹا ایتھکس، ڈی انٹالوجی جیسی اصطلاحات، کائنات کی بوریت میں اضافےکا باعث بنتی ہے”۔ اسی طرح اسٹیفن ہاکنگ اور کئی دیگر سائنسدان کہتے ہیں کہ “سائنس کے مقابلے میں فلسفہ ایک بیکار چیز ہے یا شاید مردہ”۔ N deGrasse Tyson ” ڈیکارٹ کے مشہور جملے “میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں” کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ “اگر آپ نہ سوچو تو کیا ہوگا؟ آپ شاید پھر بھی وجود رکھتے ہونگے؟”، رچرڈ ڈوکنز کہتے ہیں کہ “سائنس خدا کے وجود کو غیر ثابت شدہ قرار دیتا ہے”، اسی طرح متعدد ارتقائی ماہر نفسیات دعوے کرتے ہیں کہ انکے فراہم کردہ شواہد علمی ضوابط سے بالاتر ہیں”۔ یعنی کئی سائنسدان اور کچھ فلسفی بھی واضح طور پر سائنس کی وکالت کرتے ہیں اور سائنس کو ایک غیر جانبدار علم کے طور پر پیش کرنے کی بجائے اسے اپنے تعصب اور عقائد کے ثبوت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

2013 میں تجرباتی سماجی نفسیات کے جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب کسی مضمون کے پڑھنے، پڑھانے پر بہت زور دیا جاتا ہے تو اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ لوگ اس مضمون کے حق میں دئے گئے محض بیانات پر ہی یقین کر لیں جیسے سائنس کے بارے میں یہ بیان کہ “سائنسی طریقہ علم کا واحد قابل اعتماد راستہ ہے” اتنا مقبول ہو گیا ہے کہ بعض لوگ اس پر اتنا یقین رکھتے ہیں جتنا مذہبی لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سے قبل 2010 میں ایمسٹرڈم یونیورسٹی کے Bastiann Rutjens کی سربراہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ “ارتقائی نظریات کو اتنے منظم اور مربوط طریقے سے پیش کیا گیا کہ لوگوں نے خدا کے مقابلے میں ان پر زیادہ اعتماد کرنا شروع کر دیا، اس طرح سائنس کے حق میں عقائد کو جذباتی انداز سے تحفظ دیا جاتا ہے اور پروان چڑھایاجاتا ہے خواہ وہ نظریات جھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ یعنی سائنس کے حق میں اعتقاد کے بغض کا دفاع، غیر سائنسی اور غیر منطقی انداز میں کیا گیا یا یوں کہہ لیں کہ سائنس پر گہر ا یقین بعض اوقات غیر منطقی انتہا پسندی کی ایک اور شکل ہوتا ہے”۔

جبب ادبی تھیورسٹ Stanley Fish نے رچرڈ ڈاکنز کے نظریات پر شدید بوچھاڑ کی تو رچرڈ ڈاکنز نے جواب میں لکھا کہ “سائنس کو اسباب مہیا کرنے سے پہلے ایمان کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جو لوگ ارتقاء کے نظریے کو قبول نہیں کرتے انکا تعلق ایک مختلف مسلک کی جماعت سے ہے”۔ سنجیدہ سائنس دان اس بیان پر بہت برہم ہوئے کیونکہ یہ بیان تو سائنس اور مذہب کوایک ہی چیز سجھتا ہے بس صرف انہیں دو مختلف اور متحارب علم الکلام کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔

سید حسن نصر کے مطابق “جدید کونیات کے نظریات ہر دس سال بعد تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ان نظریوں کے بارے میں قیاس آرائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کائنات کی ابتداء کے بارے میں زمانہ حال میں متعدد نظریے مشہور ہیں کثیر نوعی کائناتیں Murtiple Universes، سٹرنگ تھیوری String Theory، بگ بینگ تھیوری Big Bang Theory اور ان نظریات کی صحت کے بارے میں دلائل کا ایک انبار لگ چکا ہے”۔ ان نظریات اور مفروضات کی بنیاد پر جو مذہب اور عقیدہ تخلیق کیا گیا ہے اسے الحاد کا نام دیا جاتا ہے۔ الحاد، یہودیت، عیسائیت یا اسلام جیسا کوئی منظم مذہب نہیں ہےلیکن الحاد بہرحال ایک نظام عقائد اور مذہبی ورلڈ ویو اور نظریہ ہے کیونکہ اس بنیاد ثابت شدہ حقائق کی بجائے عقائد اور مفروضات پر ہے۔ جس طرح مذہبی لوگ ایک وثوق اور یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ “خدا موجود ہے”، اسی طرح ملحدین ایسے ہی وثوق اور یقین کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ “خدا موجود نہیں ہے”۔ فرق صرف یہ ہے کہ مذاہب کے پاس عقائد کا ایک نظام ہوتا ہے جودنیا اور آخرت کی اساس مابعد الطبیعاتی اور روحانی حقائق پر رکھتا ہے لیکن الحاد صرف ایک دنیاوی مذہبی نظریہ ہے جسکا آخرت وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن جہاں تک حقیقت کے بارے میں بنیادی معلومات جاننے کے دعوے کی بات ہے الحاد کا دعویٰ بھی مذاہب کی طرح ہی ہے اور مذاہب کی طرح انکی زندگی کا بارے میں تمام تصورات ایک عقیدے کے گرد ہی گھومتے ہیں خواہ وہ عقیدہ دیگر مذاہب کی رو سے باطل اور فاسد ہی کیوں نہ ہو۔

نئے دور کے ملحدین مثلاً رچرڈ ڈوکنز اورکرسٹوفرہچنز کہتے ہیں کہ ہم مائیکروسکوپ، دوربین یا دیگر سائنسی آلات سے خدا کا مشاہدہ نہیں کر سکتے لہذا خدا پر ایمان لانا ایک احمقانہ عمل ہے۔ لیکن وہ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتے کہ سائنسی طریقی تحقیق، مابعد الطبیعاتی حقائق جاننے کیلئے تیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مذہب کے ساتھ اپنی کشمکش کو زبردستی سائنسی کشمکش کے کھاتے میں ڈال کر سائنسی طرز کے عقائد گھڑ لئے۔ مذہب اور الحاد دونوں ایک بنیادی عقیدے کے مطابق کام کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ کسی خاص ورلڈ ویوکا نتیجہ برآمد ہوتا ہے اور دونوں حقیقت کا ایک جامع تشریح پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب ملحدین سے الحاد کو ثابت کرنے کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو اکثر ملحدین کا جواب یہ ہوتا ہے کہ انہیں کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انکا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ “خدا وجود نہیں رکھتا” بلکہ وہ محض یہ کہتے ہیں کہ انکا “خدا پر یقین نہیں ہے”۔ ملحدین کے اس جواب سے الحاد کی تعریف اس طرح ہوتی ہے کہ “خدا پر اعتقاد کی عدم موجودگی” اور ملحدین کےمطابق اگر مذہبی لوگ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ خدا وجود رکھتا ہے تو اگر ایک شخص خدا پر ایمان نہیں رکھتا تو اسکو ایسا سوچنے کا جواز مل جاتا ہے۔ لیکن یہ جواب ایسا نہیں ہے کہ جو قابل قبول ہو کیونکہ الحاد کو محض “خدا پر ایمان کا فقدان” نہیں کہہ سکتے۔ ایک گروہ اور موجود ہے جو اس تعریف پر پورا اترتا ہے اور وہ Agnosticism کہلاتا ہے اور جنکا نعرہ ہے کہ “مجھے نہیں معلوم”۔

Agnosticism یونانی لفظ gnosis سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے علم۔ یعنی یہ ایک ایسی پوزیشن ہے جس میں انسان یہ نہیں جانتا کہ خدا وجود رکھتا ہے یا نہیں۔ یعنی ایک اگنوسٹک، Michael Sheerer جیسا ہوتا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ کوئی بھی شخص یہ جاننے کے قابل نہیں کہ خدا موجود ہے یا نہیں۔ مگر ایک کمزور اگنوسٹک محض یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ خدا موجود ہے یا نہیں مگر یہ ممکن ہے کہ کوئی اور شخص یہ بات جانتا ہو۔ یعنی ایک کمزور ملحد اور ایک طاقتور اگنوسٹک میں یہ مشابہت ہے کہ دونوں “خدا پر یقین کے فقدان” کا دعویٰ کرتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ Agnosticism ایک سچائی ہے؟ ایسا ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ جہاں کے بارے میں کوئی دعویٰ ہی نہیں کرتے وہ تو صرف یہ بتاتے ہیں کہ وہ اس جہاں کو کیسا محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر ملحدین یہ چاہتے ہیں کہ ہم یہ مانیں کہ الحاد ایک سچائی ہے تو پھر انہیں یہ دعویٰ کرنا چاہیے کہ انکا ماننا ہے کہ “خدا وجود نہیں رکھتا”۔ جس طرح اگر استغاثہ، مدعا علیہ کے خلاف کوئی شک ہی ظاہر نہ کرے تو اسے اپنی گناہی ثابت کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی سچائی کا دعویٰ ہی نہ کرے تو اسکے بیان کی کیا اہمیت ہوگی؟ اسی طرح کوئی ملحد یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کیونکہ خدا کے وجود کو ماننے والوں کا دعویٰ کوئی معقول ثبوت فراہم نہیں کرتا اس لئے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الحاد سچا ہے کہ خدا کا کوئی وجود نہیں۔ اس سلسلے میں Austin Dacey and Lewis Vaughn لکھتے ہیں کہ “خدا کی موجودگی کے لئے ناکافی دلائل یہ ثابت نہیں کرتے کہ خدا کا کوئی وجود نہیں کیونکہ کسی تجویز کیلئے معاون دلائل کا فقدان یہ ثابت نہیں کرتا کہ تجویز غلط ہے چنانچہ اگر کوئی ملحد یہ ثابت کرنا چاہتا ہےکہ الحاد سچا ہے تو اسے یہ ثبوت فراہم کرنا ہونگے کہ کائنات میں خدا کا کوئی وجود نہیں جیسا کہ دفاعی وکیل کو اپنے موکل کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے مزید ثبوت فراہم کرنا ہوتے ہیں جو “محض مجرم نہیں ہے” سے زائد ہوتے ہیں”۔

ہربرٹ اسپنسر نے اپنی کتاب فرسٹ پرنسپلز میں لکھا کہ کائنات کی ابتدا کے حوالے سے تین مفروضے ممکن ہیں پہلا یہ کہ یہ خود بخود وجود میں آئی (ملحدین کا مفروضہ)، اس نے اپنے آپ کو خود تخلیق کیا (پینتھزم) اور اسے کسی بیرونی طاقت نے تخلیق کیا (مذاہب)۔ اسپنسر استدلال کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا کہ ان تینوں موقف میں تو واضح فرق ہے لیکن یہ تینوں موقف مذہبی موقف ہی ہیں۔

Peter Murphy نے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ” متعصب اور سخت گیر مذہبی لوگوں کی طرح بہت سے ملحدین بھی متعصب اور سخت گیر ہوتے ہیں اور جو بھی شخص انکے ایک خاص ورلڈ ویو کی حمایت نہیں کرتا وہ اس کیلئے ناراضگی اور غصے کا اظہار کرتے ہیں”۔ Lan Johns جوکہ ٹائم اینڈ انٹرٹینمنٹ کے رائٹر ہیں، ملحدین کی مشکلات کے نام سے ایک ڈاکومینٹری میں یہی بیان کرتے ہیں کہ “ملحدین کی شدت پسندی بائیبل کے بنیاد پرستوں اور شدت پسندوں سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے”۔ امریکہ میں سیکولیرٹی سے متعلق ایک اسٹڈی میں فرینک پاسکل نے یہ نوٹ کیا کہ “ملحدین بھی سیکولر ہیومنسٹ کے طور پر بنیاد پرست اور شدت پسند پائے گئے ہیں”۔

مختصر یہ کہ کسی اعتقاد کیلئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ “خدا کے وجود” کو ماننے پر بنیاد رکھتا ہو، خدا کو نہ ماننے والے عقائد بھی مذاہب کی لسٹ میں ہی شمار ہوتے ہیں جیسے بدھ مت، جین مت، الحاد وغیرہ۔ ان میں خدا کا کوئی تصور نہیں لیکن پھر بھی انکے عقائد مذاہب کی طرح ہی ہیں۔ Paul James and Peter Mandaville خدا کو ماننے والے اور نہ ماننے والے مذہب کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “مذاہب کا مخصوص عقائد، علامات اور اعمال پر مشتمل ایک پابند نظام ہوتا ہےجو وجود کی نوعیت کی نشاندہی کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ میل جول، تعلقات، عداوت اور دیگر مابعدالطبیعاتی تصورات کیلئے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے”۔

الحاد ایک عقیدہ ہے کا ایک طاقتور ثبوت یہ بھی ہے کہ ملحدین اسے اپنی شناخت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً مختلف پارٹیوں کے دوران عام لوگ اپنی مذہبی شناخت کا اظہار نہیں کرتے لیکن ملحدین بہت فخر کے ساتھ اسکا اظہار کرتے ہیں اسی طرح انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پروفائلز میں بھی اپنے نام کے ساتھ ملحد، نان بیلیور، فری تھنکر وغیرہ جیسے الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔ اور بہت جوش اور جذبے کے ساتھ اپنی تصاویر کو چھوٹے سے Flying Spaghetti Monster کے آئیکون میں تبدیل کیا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح انکی اکثریت ان کانفرنسوں، سیمنار اور کمیونٹی سینٹرز میں جمع ہوتی ہے جہاں سب ملحدین ہی آتے ہیں مثلاً رچرڈ ڈوکنز نیٹ ورک، کرسٹوفر ہچنس اور سیم ہیریس گروپس میں جمع ہو کر ہنگ آئوٹ کرتے ہیں۔ حال ہی میں ملحدین نے انگلینڈ میں ایک چرچ “دی سنڈے سروس” کا آغاز کیا ہے جہاں ہر ہفتے سینکڑوں لوگ جمع ہو کر سیکولر بھجن گاتے ہیں، سائنس اور مختلف خدمات کے مقدس پیغامات ایک دوسرے کو ارسال کرتے ہیں۔ ان سب چیزوں سے صاٖ ف ظاہر ہوتا ہے کہ الحاد ایک عقیدہ ہے جس کا مذہب کی طرح ایک ورلڈ ویو ہے اور جو مذہبی کمیونٹی کی طرح ایک معاشرتی شناخت ہے۔

امریکہ کے بارے میں ایک عام جملہ کہا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ گہرے مذہبی ہیں اور اس سلسلے میں ملحدین اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اسی طرح مغربی یورپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ گہرے سیکولر ہیں اور اس سلسلےمیں عیسائی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں پیو ریسرچ سینٹر نے مغربی یورپ کے 15 ممالک میں ایک تحقیق کی ہے جس میں تقریباً 25 لاکھ افراد کا سروے کیا گیا اور نتائج کا موازنہ امریکہ میں پہلے سے جمع شدہ اعداد و شمار سے کرتے ہوئے تین چیزیں دریافت کی گئی ہیں۔ جس میں پہلی چیز یہ سامنے آئی ہے کہ امریکی لوگ مغربی یورپین کے مقابلے میں زیادہ مذہبی ہیں۔ اس سلسلے میں جن سوالات کے ذریعے اندازہ لگایا گیا ان میں “خدا پر ایمان” اور “نماز، دعا وغیرہ کی ادائیگی” شامل تھی۔ دوسری اہم بات یہ سامنے آئی کہ امریکہ کے ملحدین بھی مغربی یورپ کے ملحدین سے زیادہ مذہبی ہیں۔ اور تیسری چیز جو سامنے آئی وہ بہت ہی حیرت انگیز ہے کہ امریکہ میں پائے جانے والے ملحدین، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور دیگر کئی یورپی ممالک میں پائے جانے والے مذہبی عیسائیوں سے کہیں زیادہ مذہبی ہیں۔

امریکہ میں صرف روائیتی مذاہب کے ماننے والوں کے عبادت خانے ہی نہیں پائے جاتے بلکہ “ملحدوں کے گرجا گھر”، مافوق الفطرت دیوتائوں کو ماننے والوں کے عبادتگاہیں، شیطان کے پرستش خانے، سیٹل ملحد چرچ، ٹیکساس چرچ آف فری تھاٹس، اویسس نیٹ ورک کے عبادت خانے انکے ساتھ ساتھ LGBT برادری، گانے بجانے والوں اور فیشن سے وابستہ لوگوں کے بھی عبادتخانے پائے جاتے ہیں۔

کچھ محققین نے ان لوگوں کا مطالعہ کیا ہے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ سیاسی امور کے بارے میں سخت رائے رکھتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ لوگ اکثراس بات کا صحیح فہم ہی نہیں رکھتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ مثلاً وہ اپنی ہر گفتگو میں یہ کہتے ہیں کہ امریکہ غیر ملکی امداد پر بہت زیادہ خرچ کرتا ہے لیکن اگر ان سے سوال کیا جائے کہ صحیح طور پر بتائیں کہ امریکہ اپنی جی ڈی پی کا کتنے فیصد غیر ملکی امداد پر خرچ کرتا ہے؟ تو وہ اسکا کوئی واضح جواب دینے سے قاصر ہیں۔ تو اس سے واضح ہوا کہ بہت سے بیانات محض سیاسی مخالفین کو زیر کرنے یا سیاسی حمایتیوں کو جوش دلانے کیلئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح سائنس کے میدان میں بھی کچھ نام نہاد ماہرین سائنس کی ساکھ بڑھانے کیلئے ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔

From Eugenics to Scientism: a dangerous fallacy that leads to human catastrophe - Alliance for Human Research Protectionہمیں نہ سائنس سے کوئی دشمنی ہے اورنہ سائنسی نظریات و ایجادات سے کوئی چڑ ہے۔ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ سائنس کو سائنس ہی رہنے دینا چاہیے اور اسے نہ بت بنا کر عقیدے میں تبدیل کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے دیگر مذاہب کے عقائد کے خلاف استعمال کرنا چاہیے۔ ہر شعبہ علم کے اپنے کچھ اصول ہوتے ہیں اور کسی ایک شعبہ علم کے اصولوں سے کسی دوسرے شعبہ علم کو نہیں جانچا  جا سکتا۔ جو ماہرین معاشیات، فلسفی، سائنسدان اور دیگر تکنیکی شعبہ جات کے ماہرین اپنے مضامین تک ہی محدود ہیں اور اپنے تحقیقی نتائج سے دیگر علوم کو جانچنے کی کوشش نہیں کرتے اور نہ اپنے شعبہ علم کے نتائج کے بارے میں ایسی کوئی حتمی بات کرتے ہیں جو عقیدے کے باب میں کی جاتی ہے، انکا یہ عمل قابل تحسین ہے۔ ایسے غیر جانبدار ماہرین ہمیں یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ کچھ ایسے لوگوں کی وجہ سے سائنس، گرو بندی، تعصب، مالی، سیاسی اور ذاتی محرکات کی زد میں ہے جو ہر وقت صرف یہ دعوے کرتے ہیں کہ انکی تھیوری ہی صحیح ہے اور جو ثبوت انہوں نے پیش کئے ہیں وہی درست ہیں اور اس سلسلے میں وہ متعصبانہ رویہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سائنس بحثیت مجموعی یا بطور ادارہ انفرادی سائنسدانوں سے مختلف ہے۔ سائنس ایسی شرائط قائم کرتی ہے جہاں عقلی دلیل اور معروضی تجربات پھلنے پھولنے کے قابل ہوں، جہاں مختلف تھیوریز کی جانچ پڑتال کی جا سکے، جہاں لوگ تعصب کا شکار نہ ہوں کیونکہ سائنس کوئی ہم عقیدہ لوگوں کا گروہ نہیں ہوتا کہ ہر چیز کو تعصب کی عینک سے دیکھے۔

References:

  1. Bloom, Paul (2015) “Scientific Faith is different from Religious Faith”

https://www.deism.com/https://www.theatlantic.com/science/archive/2015/11/why-scientific-faith-isnt-the-same-as-religious-faith/417357/

  1. Julianne, Schultz “ The Ideology of Religion”

https://www.griffithreview.com/articles/the-ideology-of-religion/

  1. Bannister, Andy “ Why Atheism is a belief System”
  1. Sammuel, Sigal (2018) “Atheists are sometimes more religious than Christians”

https://www.theatlantic.com/international/archive/2018/05/american-atheists-religious-european-christians/560936/

  1. Paul James, Peter Mandaville (2010) “Globalization and Culture, Globalizing  Religions”https://www.academia.edu/4416072/Globalization_and_Culture_Vol_2_Globalizing_Religions_2010_
  2. Murphy, Peter “ Dogmatic Atheism and Scientific Ignorance”

https://www.deism.com/dogmaticatheism.htm

  1. Massimo Pigliucci “The Problem with Scientism”

https://blog.apaonline.org/2018/01/25/the-problem-with-scientism/

  1. Holmes, Jamie (2015) “Be careful, your love of science looks a lot like religion”

https://qz.com/476722/be-careful-your-love-of-science-looks-a-lot-like-religion/

  1. Jacomjin, C, Van der Kooij (2016) “The Merits of using Worldview in Religious Education”

https://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/00344087.2016.1191410#:~:text=Thus%2C%20the%20concept%20%E2%80%9Creligion%E2%80%9D,experiences%20or%20through%20scientific%20research.

  1. Michael, Shermer (2012) “The Believing Brain”, Henry Holt and Co., New York.
  2. Lan, Johns (2008) “Atheism gets a kick in the fundamentals”
  3. Nasar, Syed Hassan “Islam, Science and Muslims”

https://ilhaad.com/2019/04/islam-science-and-muslim-syed-hussain-nasr-interview-2/

  1. Wagenman, Mike (2019) “Is Atheism a Religion?

https://www.thebanner.org/columns/2019/01/is-atheism-a-religion

  1. Dijk, T,A,Van (2006) “Politics, Ideology and Discourse”

http://www.discourses.org/OldArticles/Politics,%20Ideology%20and%20Discourse.pdf

15. Austin Dacey and Lewis Vaughn (2003) “The Case for Humanism: An Introduction”,

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20