میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور راہِ اعتدال — امتیاز آفریں

0

ایک بار پھر سے ‘میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم’ منانے کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنے کا موسم لوٹ آیا ہے اور اسکی باز گشت ممبر سے لے کر انٹرنیٹ پر سنایی دے رہی ہے، ایک طرف تو اس کی مبارکبادیاں دی جا رہی ہے اور دوسری طرف بدعت و گمراہی کے فتوے۔۔۔

بدقسمتی سے دونوں طرف تنگ نظر اور شدت پسندوں کی کمی نہیں جنہیں مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑا کر نے کا اور اپنی فرقہ وارانہ دکانیں چمکانے کا سنہرا موقع ہاتھ آتا ہے۔

اگر کسی کو اسے منانے پر اختلاف ہے تو اسے مہذب طریقے سے اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان دوسرے مسلمانوں کو شرک، بدعت اور گمراہی کے فتوے دیتا پھرے اور خود ہی جہنم تفویض کرتا پھرے جو فخر انسانیت پیغمبر اعظم و آخر صل اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اسلام کے مقرر کردہ حدود میں اسے منانا پسند کرتےہیں۔

اسلامی تاریخ کے ہر طالب علم پر یہ حقیقت واضح ہے کہ پچھلی سات صدیوں سے اعلیٰ درجے کے جید علماء میں سے ایک طبقہ میلاد کو منانے سے اجتناب کرتا رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ شرائط کے ساتھ اسے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار کے لیے جایز قرار دیتا آیا ہے۔ ان میں علامہ ابن حجر، علامہ ابن جوزی، علامہ ابن تیمیہ، علامہ سیوطی، شاہ ولی اللہ وغیرہ شامل ہیں۔ اور دونوں طرف کے علماء اپنے دلائل قرآن و حدیث کی روشنی میں دیتے آئے ہیں جن سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے جس کا انکار شاید ہی کوئی محقق عالم کرسکے۔ اس لیے چاہے آپ پہلے طبقے سے متفق ہوں یا دوسرے سے آپ کو دوسرے نقطۂ نظر کا اختلاف کے باوجود احترام کرنا چاہیے اور اسے کفر و اسلام کا مسلہ نہیں بنانا چاہیے۔

خاص کر اس دور فتن میں جب امت مسلمہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے دوچار ہے اور غیر ہماری اس روش کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور افتراق بین المسلمین کو بڑھکا رہے ہیں۔

منانے والوں سے اگر پوچھا جائے کہ وہ اسے کیوں مناتے ہیں تو جواب یہ ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے اور اگر ایسا نہ کرنے والوں سے سبب پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ہم اسے دین میں نیٔ چیز سمجھتے ہیں جو قابل قبول نہیں۔ غیر ضروری بحث اور جھگڑے کے بجائے، کیا ہم دونوں فریقوں کے حبِ رسول کے جزبے کا اختلاف کے ساتھ احترام نہیں کر سکتے۔ کیا ہم طعن و تشنیع، تعصب و عداوت، سب و شتم اور ایک دوسرے کو گالیاں دینے کے بجائے، اتحاد و یگانگت کیلئے کاوشیں نہیں کرسکتے۔ محسوس ہوتا ہے کہ مسلم قوم کو شایستگی کے ساتھ اختلاف کرنے کا سلیقہ ان کے معاصر علماء و خطباء نے سکھایا ہی نہیں ہے۔

امت مسلمہ جس اخلاقی گراوٹ، تفرقہ بازی اور فحاشی کے دلدل میں پھنس چکی ہے کیا اس میں سے اسے نکالنے کی کوششیں نہیں ہونی چاہیئے۔ شام، فلسطین، یمن، عراق، لیبیاء، برما اور افغانستان وغیرہ میں مسلمانوں کا خون ان کی اپنی بد اعمالی کی وجہ سے پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، لاکھوں افراد بے گھر جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیے گیے ہیں، آخر اس سے نپٹنے کے لیے ہمارے پاس کیا لایحہ عمل موجود ہے۔

اس مسئلے کو صحیح تناظر میں دیکھنے کے لیے پہلی بات جس کا تعین کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آیا اسلام میں اس دن کی کچھ اہمیت ہے بھی یا نہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ تقریباً اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ یہ دن تاریخ اسلام میں زبردست اہمیت کا حامل ہے۔ اللہ تعلی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ ذَکِّرۡہُمۡ بِاَیّٰىمِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ۔ (ابراہیم:5) ترجمہ: اورانہیں اﷲ تعالیٰ کے دنوں کی یاد دلاؤ، یقیناًاس میں ہراُس شخص کے لیے نشانیاں ہیں جوبہت صبرکرنے والا، بہت شکرکرنے والاہے۔

بیشتر مفسرین کے نزدیک ‘ایام اللہ’ سے مراد وہ خاص دن ہیں جن میں بندگان خدا پر اللہ کی طرف سے کوئی خاص عنایت ہوئی ہے اور انہیں کسی خاص نعمت سے نوازا گیا ہے۔ ظاہر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے بہتر ملت اسلامیہ کے لئے کوئی نعمت نہیں لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس دن کی یاد مومنین کے قلوب میں تازہ کی جائے تاکہ وہ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمسک کرکے اپنے نبی کے ساتھ رشتہ استوار کرے۔ اور اس دن کا تقاضا یہ ہے کہ جائزہ لیا جائے کہ امت کس درجہ ان تعلیمات پر چل رہی ہے جن کا عملی نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ہے۔ اس دن کو کیسے منایا جائے اس پر تو اختلاف کیا جاسکتا مگر اس بات پر اختلاف کی گنجائش نہیں کہ یہ دن ہمارے لئے بحیثیت مسلمان زبردست اہمیت کا حامل ہے۔

یوم میلاد کی یاد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منایا کرتے تھے چونکہ اس سلسلے میں صحیح مسلم کی بڑی مشہور حدیث ہے جس میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ‘اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی’ (مسلم: کتاب الصیام)۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے میں پیر کا روزہ رکھ کر اس دن کی یاد قائم رکھتے تھے۔ اسی لئے کچھ علماء فرماتے ہیں اگرچہ یہ روزہ نفلی روزہ ہے مگر جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق ہوتے ہیں وہ اس روزے کا اہتمام کرتے ہیں۔ چونکہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے بارے میں اگر علماء و محققین کے اقوال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اکثر جواز کے قائل ہیں۔ ان اقوال سے صرف نظر یہاں میں ان آئمہ و علماء کے حوالے دینا مناسب سمجھتا ہوں جنہیں عدم جواز کے قائلین متفقہ طور پر اپنا امام سمجھتے ہیں۔

اس دن کی مناسبت سے سلفی حضرات کے’شیخ الاسلام’ شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی اپنی کتاب ‘مختصر سیرۃ الرّسول’ میں لکھتے ہیں: ‘حسب اختلاف مورخین آپ صلی اللہ علیہ وسلم ربیع الاول کی نو یا دس یا بارہ تاریخ کو پیر کے دن پیدا ہوئے۔ بیہقی کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختون پیدا ہوئے تھے۔۔۔ بیہقی نے یہ بھی زکر کیا ہے کہ جس رات آپ کی ولادت باسعادت ہوئی، کسریٰ کا محل لرز گیا، اس کے چودہ کنگرے گر پڑے، فارس کی آگ جو متواتر ایک ہزار سال سے جل رہی تھی، بجھ گئی، اور بحیرہ صاوہ کا پانی خشک ہو گیا۔ (صفحہ 29، 30) …ابن سعد روایت کرتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے، اس وقت مجھ سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محل جگمگانے لگے۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم صاف ستھرے پیدا ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر میل کچیل مطلقاً نہیں تھا۔ ۔ ۔ قرآن حکیم میں آیا ہے: قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ.یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ (مائدہ:15٫16) ترجمہ: بیشک تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے ایک نور آگیا ہے اور ایک روشن کتاب، ﷲ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیرو ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے بصریٰ کے روشن ہونے سے اس طرف اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور نبوت خاص طور پر شام میں پھیلے گا’ اسی بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی لکھتے ہیں: ‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خبر ابو لہب کو ثویبہ نے پہنچائی، تو اس نے اس خوشی میں اسے آزاد کردیا۔ اور ان ثویبہ نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے پہل دودھ پلا یا، کسی نے ابو لہب کو اس کے مرنے کے بعد خواب میں دیکھا اور پوچھا ‘تمہارا کیا حال ہے’۔ ‘کہا جہنم میں ہوں، ہاں پیر کے دن میرے عذاب میں کچھ کمی ہو جاتی ہے اور دونوں انگلیوں کے درمیان سے کچھ پانی چوستا ہوں۔ اور اس نے اپنی انگلی کے سرے کی طرف اشارہ کیا اور اس کا سبب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی خبری سنانے پر ثویبہ کا آزاد کرنا اور اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلانا ہے۔ علامہ ابن جوزی فرماتے ہیں:جب ابو لہب کافر کا جس کی قرآن نے مذمت بیان کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوش ہونے کی وجہ سے یہ حال ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اس موحد مسلمان کا کیا کہنا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر مسرور اور خوش ہے۔’ (مختصر سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، محمد بن عبد الوہاب نجدی، صفحہ32)

ایک اور سلفی عالم جنہیں بدعت کے معاملے میں بہت ہی سخت اور متشدد مانا جاتا ہے علامہ ابن تیمیہ اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم میں لکھتے ہیں:

’’اور اِسی طرح اُن اُمور پر (ثواب دیا جاتا ہے) جو بعض لوگ ایجاد کرلیتے ہیں، میلادِ عیسیٰ علیہ السلام میں نصاریٰ سے مشابہت کے لیے یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور تعظیم کے لیے۔ اور اﷲ تعالیٰ اُنہیں اِس محبت اور اِجتہاد پر ثواب عطا فرماتا ہے نہ کہ بدعت پر، اُن لوگوں کو جنہوں نے یومِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہ طور عید اپنایا۔ ‘‘ صفحہ: 404

اِسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں :

’’میلاد کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کے لیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم بھی ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں۔‘‘
صفحہ : 406

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیخ محمد بن عبد الوہاب، علامہ ابن تیمیہ، علامہ ابن جوزی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خوشی منانے کو جائز قرار دے کر بھی ائمہ اہل حق کہلاتے ہیں تو یہی کام کرنے والے دوسرے لوگوں کو بدعتی و گمراہ ٹھہرانا کہاں کی دانشمندی ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافی مسائل میں اعتدال پسندانہ رویہ اختیار کیا جائے تاکہ امت فرقہ وارانہ منافرت کی مزید شکار نہ ہونے پائے۔

علامہ اقبال تمام مکاتب ہائے فکر میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، ‘مقالات اقبال’ میں میلاد کے موقع پر کی گئی انکی ایک تقریر درج ہے جس کا عنوان ہے ‘محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم’ جس کی رپورٹ اخبار زمیندار میں بھی شائع ہوئی تھی۔ اس تقریر میں علامہ اقبال فرماتے ہیں:

“زمانہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسانوں کی طبائع، ان کے افکار اور ان کے نقط ہائے نگاہ بھی زمانے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ لہذا تیوہاروں کے منانے کے طریقے اور مراسم بھی ہمیشہ متغیر ہوتے رہتے ہیں۔ منجملہ ان مقدس ایام کے جو مسلمانوں کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں، ایک میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دن بھی ہے۔ جو میرے نزدیک انسانوں کی دماغی اور قلبی تربیت کے لئے نہایت ضروری ہے کہ ان کے عقیدے کی رو سے زندگی کا جو بہترین نمونہ ہے وہ ہر وقت ان کے سامنے رہے۔ چناچہ مسلمانوں کے لئے اسی وجہ سے ضروری ہے کہ وہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدنظر رکھیں تاکہ جزبہ تقلید اور جذبہ عمل قائم رہے۔ ان جزبات کو قائم رکھنے کے تین طریقے ہیں۔ پہلا طریق تو درود و صلوٰۃ ہے جو مسلمانوں کی زندگی کا جزوِ لاینفک ہو چکا ہے۔ وہ ہر وقت درود پڑھنے کے موقعے نکالتے ہیں۔ پہلا طریق انفرادی ہے اور دوسرا اجتماعی ہے۔ یعنی مسلمان کثیر تعداد میں جمع ہوں اور ایک شخص جو حضور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات سے پوری طرح باخبر ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح زندگی بیان کرے تاکہ ان کی تقلید کا ذوق و شوق مسلمانوں کے قلوب میں پیدا ہو۔ اس طریق پر عمل پیرا ہونے کےلئے ہم سب آج یہاں جمع ہوئے ہیں۔

تیسرا طریق اگرچہ مشکل ہے لیکن بحر حال اس کا بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ یاد رسول اس کثرت سے اور ایسے انداز میں کی جائے کہ انسان کا قلب نبوت کے مختلف پہلوؤں کا خود مظھر ہو جائے یعنی آج سے تیرہ سو سال پہلے کی جو کیفیت حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود اقدس سے ہویدا تھی وہ آج ہمارے قلوب کے اندر پیدا ہوجائے۔ یہ جوہر انسانی کا انتہائی کمال ہے کہ اسے دوست کے سوا اور کسی چیز کی دید مطلقاً بندھا رہے۔ یہ طریقہ بہت مشکل ہے۔ کتابوں کو پڑھنے اور میری تقریر سننے سے نہیں آئے گا۔ اس کے لئے کچھ مدت نیکوں اور بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ کر روحانی انوار حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ میسر نہ ہو تو پھر ہمارے لئے یہی طریقہ غنیمت ہے جس پر ہم آج عمل پیرا ہیں۔ جہاں تک میں نے غور کیا ہے تعلیم سے زیادہ اس قوم کو تربیت کی ضروری ہے اور ملی اعتبار سےیہ تربیت علماء کے ہاتھوں میں ہے۔ اسلام ایک خاص تعلیمی تحریک ہے۔ دنیا میں نبوت کا سب سے بڑا کام تکمیل اخلاق ہے۔ علماء کو چاہیے کہ ان (اخلاق نبوی) کو ہمارے سامنے پیش کریں۔ قرآن وحدیث کے غوامض بتانا بھی ضروری ہے۔ لیکن عوام کے دماغ ابھی ان مطالب عالیہ کے متحمل نہیں۔ انہیں فی الحال صرف اخلاق نبوی کی تعلیم دینی چاہئیے.”
(مقالات اقبال: مرتب:سید عبد الواحد معینی، صفحہ :336)

بانی جماعت اسلامی مولانا سید مودودی نے ‘میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم’ کے موضوع پر، دو تقاریر فرمائیں جنہیں بعد میں ایک کتابچہ کی شکل میں شائع کیا گیا۔ ان میں سے ایک تقریر میں وہ فرماتے ہیں:

‘آج کا دن دنیا کے لئے بڑی برکت کا دن ہے کیونکہ یہی تاریخ تھی جسمیں ساری دنیا کے رہنما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔ اگرچہ شریعت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم پیدائش کو عید قرار نہیں دیا گیا ہے اور نہ اس کے لئے کسی قسم کے مراسم مقرر کئے گئے ہیں لیکن اگر مسلمان یہ سمجھ کر کہ یہ خدا کے سب سے بڑے نبی اور دنیا کے سب سے بڑے ہادی کی پیدائش کا دن ہے اور یہ وہ دن ہے جس میں انسان کے لئے اللّٰہ کی سب سے بڑی نعمت ظہور میں آئی، اس کو عید کی طرح سمجھیں تو کچھ بےجا نہیں ہے۔ (میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم: سید مودودی:صفحہ10)

آگے وہ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ اس دن کو کس طرح منایا جانا چاہئے اور کن چیزوں سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے آگے وہ کہتے ہیں:

“پس جب اس تاریخ کی اہمیت اس لحاظ سے ہے تو اس کی یادگار بھی اس طرح منانی چاہیے کہ آج کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور دنوں سے زیادہ پھیلاو۔ آپ کے اخلاق اور آپ کی ہدایات سے سبق حاصل کرو اور کم از کم آپ کی تعلیم کا اتنا چرچا کرو کہ سال بھر تک اس کا اثر باقی رہے۔ اس طرح یادگار مناؤ گے تو حقیقت میں یہ ثابت ہوگا کہ تم یوم میلاد النبی کو سچے دل سے عید سمجھتے ہو اور صرف اگر کھا پی کر اور دل لگیاں ہی کرکے رہ گئے تو یہ مسلمانوں کی سی عید نہ ہوگی، بلکہ جاہلوں کی سی عید ہوگی، جس کی کوئی وقعت نہیں۔” (صفحہ 11)

دور حاضر کے ایک اور نامور عالم دین ڈاکٹر یوسف القرضاوی اپنے ایک فتویٰ میں لکھتے ہیں:

“کچھ مسلمان سمجھتے ہیں کہ کسی اسلامی واقع کو منانا جائز نہیں ہے، اسی طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد اور دیگر سیرت کے مواقع کو منانا بدعت سمجھتے ہیں جو گمراہی کی نشانی ہے اور باعث عذاب جہنم ہے۔ لیکن ایسا بالکل صحیح نہیں ہے۔ شریعت کے کچھ اصول ہیں جنہیں اگر مدنظر نہ رکھا جائے تو ایسی تقریبات حرام کے زمرے میں آئیں گی۔ یعنی اگر اس میں شریعت کی تعلیمات کے خلاف کچھ امور داخل ہو جائیں جیسا کہ کچھ ممالک میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے مواقع بشمول میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور ان کے پیغام کو جو ان پر اللہ کی طرف سے بطور رحمۃً للعالمین نازل ہوا لوگوں تک احسن طریقے سےپہنچایا جاسکتا ہے۔ لہذا اسے کس طرح بدعت قرار دیا جاسکتا ہے۔ (یہ آن لائن فتویٰ اس لنک پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ http://sunnah.org/ibadaat/shaykh_qardawi_approves_of_celeb.htm)

ڈاکٹر ذاکر نائک کے استاد شیخ احمد دیدات بھی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے قائل تھے اور ان مجالس میں شرکت بھی فرمایا کرتے تھے، اس سلسلے میں یوٹیوب پر ان کے کئی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ بلکہ ایسی ہی ایک مجلس میں ان کی ایک مشہور تقریر بھی بعنوان Muhammad the Greatest کتابی شکل میں موجود ہے۔ اور اس میں وہ اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ یہ تقریر میلادالنبی کے حوالے سے ہی کی گئی ہے۔ چونک وہ اس کتابچے کے پہلے ہی صفحے پر فرماتے ہیں:

I received a phone call from the Muslim community in Dannhauser, a small town in Northern Natal,, who were organising a birthday celebration of the Holy Prophet. They invited me to give a lecture on that auspicious occasion. So I deemed it an honour and a privilege, I readily agreed.

(ترجمہ: ڈنہاوسٹر جو شمالی ناٹال کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، وہاں سے مجھے مسلمانوں کی ایک بستی سے فون پر بتایا گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے اس متبرک موقعے پر خطاب کرنے کی دعوت دی اور جسے میں نے قبول کیا کیونکہ یہ میرے لئے باعث افتخار ہے کہ میں اس میں شرکت کروں۔)

کتنا بہتر ہوتا اگر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے اور نہ منانے کے سلسلے میں ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کرنے کے بجائے دونوں فریق اس بات پر زور دیتے کہ کیسے محافل میلاد کو شریعت کے احکام و ضوابط کے عین مطابق منایا جائے اور انہیں بدعات و منکرات سے پاک رکھا جائے۔ اگر حکمت و دانائی سے کام لیا جائے تو ان مجالس کو دعوت کے کام کو مؤثر انداز سے انجام دینے میں استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ ان مجالس و محافل میں عوام الناس کی اک بڑی تعداد شمولیت کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و خصائص بیان کرنے کےلئے مجالس منعقد کرنا صحابہ کرام کا شعار رہا ہے چونکہ سلفی حضرات کے بڑے مقتدر محدث شیخ ناصر الدین البانی حدیث نقل کرتے ہیں:

خالد بن معدان, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہمیں اپنے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ میں اپنے والد ابراہیم کی دعا اور عیسیٰ کی خوشخبری ہوں، میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھا تو میری ماں نے ایک روشنی دیکھی جو ان سے نکلی، جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ مجھے بنی سعد بن بکر میں دودھ پلایا گیا۔ اس وقت میں وہاں بکریاں چرا رہا تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ان کے پاس برف سے بھر اسونے کا ایک تھا ل تھا۔ ان دونوں نے مجھے لٹایا اور میرا پیٹ چیر دیا، پھر میرا دل نکال کر دونوں نے اسے چیرا اور اس سے ایک سیاہ لوتھڑا نکال کر پھینک دیا۔ پھر دونوں نے اس برف سے میرا دل اور پیٹ دھویا۔ جب خوب صاف کر دیا تو دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا جس طر ح وہ پہلے تھا۔ پھر ایک نے دوسرے ساتھی سے کہا: اس کی امت کے دس آدمیوں سے اس کا وزن کرو، اس نے دس آدمیوں سے میرا وزن کیا تو میں ان پر بھاری رہا، پھر اس نے کہا: اس کی امت کے سو آدمیوں سے اس کا وزن کرو، اس نے سو آدمیوں کے ساتھ میرا وزن کیا تو میں ان پر بھاری رہا، پھر اس نے کہا: اس کی امت سے ایک ہزار دمیوں سے اس کا وزن کرو، اس نے ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ میرا وزن کیا تو میں ان پر بھاری رہا۔ پھر اس نے کہا: اسے چھوڑ دو، اگر اس کی ساری امت کے ساتھ بھی اس کا وزن کرو گے تو یہ ان پر بھاری رہے گا۔ (سلسلہ احادیث صحیحہ، جلد:3 حدیث نمبر 3595)

اب رہا مسئلہ کسی خاص دن کو ان مجالس و محافل کے انعقاد کےلئے مقرر کرنا تو اس کا جواز علماء نے پیش کیا ہے۔ چناچہ امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب باندھا ہے ‘ من جعل لاھل العلم ایاماً معلومۃً’ یعنی جس شخص نے اہل علم کے لیے معین دن مقرر کئے اور اس کے تحت وہ یہ حدیث لائے ہیں:

عبداللہ ( ابن مسعود ) رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیں ہر روز وعظ سنایا کرو۔ انہوں نے فرمایا، تو سن لو کہ مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع ہے تو یہ کہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کہیں تم تنگ نہ ہو جاؤ اور میں وعظ میں تمہاری فرصت کا وقت تلاش کیا کرتا ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خیال سے کہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں، وعظ کے لیے ہمارے اوقات فرصت کا خیال رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری: حدیث نمبر 70)

گویا لوگوں کی آسائش کے لیے کسی دینی مجلس کے لئے دن مقرر کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اسے ضرورت دین میں سے نہ گردانا جائے اور اسے دینی تقاضوں کے عین مطابق منعقد کیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی دین کے نام پر ایسے بے مقصد ہنگاموں اور شورشرابوں سے اجتناب کرنا چاہئے جو ہمارے دینی مزاج اور روایات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جلسے اور جلوس سے کسی انسان کو تکلیف نہ پہنچے اگر بند ماحول closed environment میں ان کا اہتمام کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور نہ کسی کو تکلیف پہنچے۔

بہتر یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اور تعلیمات پر خصوصی سیمیناروں، کانفرنسوں اور اجتماعات کا انعقاد کیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے جو آج بھی دم توڑتی انسانیت کے لئے مژدہ جانفزا کی حیثیت رکھتی ہے۔

علماء و واعظین کی زمہ داری ہے کہ وہ ان محافل و مجالس کو بدعات و منکرات سے پاک رکھنے میں اپنی زمہ داری سمجھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔

آج کل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں اور جلوس کا رواج عام ہے جن میں اکثر شریعت کے تقاضوں کو ملحوظ نظر نہیں رکھا جاتا اور یوں محرمات و منکرات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب سے محافل میلاد میں ہونے والی کچھ بدعات و منکرات کے بارے میں سوال پوچھا گیا جس کا جواب انہوں نے تحریر فرما کر بعد میں اخبار میں شائع کروایا اور یوں انہوں نے علماء اہلسنت کی طرف سے اتمام حجت کردی، اپنے جواب میں وہ لکھتے ہیں:

“میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں اور جلوس کا محرمات، مکروہات سے پاک ہونا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی محبت کا ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد، ظلمت و جہالت کو دور کرنا اور احکام الٰہی کا پابند بنانا ہے، لوگوں کی رزیل صفات کو حسن اخلاق میں بدل دینا ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے دن کا اکرام انہی شرعی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجالس میں نظر آتے ہیں۔ اس سے ہٹ کر کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب دعویٰ عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس نہ ضرورت دین سے ہیں اور نہ ہی ضروریات مسلک اہلسنت والجماعت سے، البتہ یہ بر صغیر میں شعائر اہلسنت سے ہیں، یہ اگر محرمات، بدعات و منکرات سے پاک ہوں تو زیادہ سے زیادہ استحباب و استحسان کے درجے میں قرار دیا جاسکتا ہے۔ محافل میلاد کے نام پر مقدس محافل کی آڑ میں بڑے بڑے کاروبار کئے جا رہے ہیں، بعض مقامات پر نعت خوانوں اور شعلہ بیان مقررین (جن کی اکثریت موضوع روایات کا سہارا لیتی ہے) کی ایجنٹوں کے ذریعے لاکھوں کی بکنگ ہو رہی ہی، کسی زمانے میں شہر بھر میں سیاسی لیڈروں کی بڑی بڑی قدآور تصاویر لگائی جاتی تھیں، اب واعظین اور نعت خواں حضرات کی تصاویر صرف بازاروں اور چوراہوں تک محدود نہیں بلکہ مساجد کے صدر دروازوں پر بھی آویزاں نظر آتی ہیں۔ ہمیں حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک باریش پیر کو جبے قبے کے ساتھ غیر محرم جوان عورتوں کے ساتھ بلا حجاب رقص کرتے ہوئے دکھایا، وہ ان کے ہاتھ پکڑے ہوئے نظر آتے ہیں، کبھی وہ انہیں بوسہ دیتی ہیں، یہ حرام ہے۔ جب ابتذال اس حد تک پہنچ جائے تو علماء کرام کو تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر شدت کے ساتھ اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ گانے کی دھن پر بنائی گئی موسیقی اور آلات موسیقی کے ساتھ نعت پڑھنا، پڑھوانا اور سننا سب ناجائز ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پنجاب میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر منوں کے حساب سے کیک کاٹے جاتے ہیں، اس طرح کی حرکات میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس کے منافی ہیں اور یہ اس لئے ہو رہا ہے کہ مذہبی معاملات کو جاہل واعظین اور پیروں نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے اور کچھ اہل ثروت اپنی تشہیر اور نام و نمود کےلئے یہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ علماء کی زمہ داری ہے کہ دینی معاملات کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھیں، قوم کی رہنمائی کریں اور مذہبی عنوان سے اس طرح کے اضافات کا راستہ روکیں۔”
(محافل میلاد میں منکرات کا ارتکاب:ص1٫2٫4)

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20