روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں — انوار احمد

0

گوجرانوالہ کے جلسے میں نواز شریف کی تقریر کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ اس خطاب کے بعد وہ ایک بالکل مختلف سیاستداں بن کر سامنے آئے انکی زبان لہجہ اور الفاظ کا چنائو انہیں ایک ایسے جوشیلے انقلابی رہنما کے طور پر سامنے لایا ہے۔

جس نے انجام سے بے پروا ہوکر اپنی ساری کشتیاں جلادی ہوں۔ اس تقریر کے بعد اب شاید وہ ایک ایسے پوائنٹ آف نورٹرن پر پہنج گئے ہیں کہ اسکے بعد مصلحت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ جسطرح انہوں نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لیکر ان پر الزامات لگائے اور جمہوری نظام کو برباد کرنے اور من پسند ٹولے کو مسلط کرنے کی باتیں کیں اسکے بعد شاید انہوں نے اداروں سے براہ راست ٹکرائو کی صورتحال پیدا کردی ہے جو ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں فوج کے سیاسی کردار کے حوالے سے ایک مختلف سوج کو جنم دے۔

تقریر اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پہلی مرتبہ پنجاب اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے روپ میں سامنے آیا اور پہلی بار ایک پنجابی سیاستداں “غدار اور ملک دشمن” قرار پایا اس سے پہلے یہ الزام صرف تینوں چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں اور حکومت مخالف افراد ہی تک محدود تھا۔

نواز شریف صاحب کی تقریر یقینی طور پر پاکستان کی سول ملڑی تعلقات کی تاریخ میں غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ فوج کی سیاسی مداخلتوں کے حوالے سے پنجاب کی پاپولر مین سٹریم سیاسی لیڈرشپ کھل کر سامنے آئی ہے۔۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بھی پنجاب ہے اور یہیں سے فوج کی اکثریت کا بھی تعلق ہے شاید اسی وجہ سے روائتی طور پر پنجاب ہمیشہ پرو اسٹیبلشمنٹ رہا ہے۔ اور ایک عام پنجابی بھی بزعم خود نظریہ پاکستان، اسلام کا قلعہ، اور فوج زندہ باد کا دعویدار رہا ہے۔

پنجاب کی بدقسمتی کہ تمام چھوٹے صوبوں اور قومیتوں پر جب بھی ریاستی جبر ہوا گالی ہمیشہ “عام پنجابی” کو ملیں اور اس بیچارے کو دفاع میں حکومتی اقدام کو سپورٹ کرنا ہی پڑا حالانکہ وہ بھی کم و بیش اسی سسٹم کا شکار ہوتا رہا ہے۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو نواز شریف کا حالیہ خطاب ایک بریک تھرو اور کسی حد تک ایک عام پنجابی اپنے پر لگے الزامات سے جان چھڑا سکے کہ لو پنجاب بھی اب اسٹیبلشمنٹ مخالف صف میں آ کھڑا ہوا ہے۔

ماضی میں مرحومہ بے نظیر اور نواز شریف صاحب کی حکومت کئی بار مختلف الزامات کے تحت برطرف کی گئیں۔ بی بی ایک سازش کا شکار ہوئیں جبکہ نواز شریف اور انکے خاندان کی کردار کشی جاری ہے ان پر مقدمات پر مقدمات قائم کئیے جا رہے ہیں۔ شاید “تنگ آمد بجنگ آمد” کے مصداق پنجاب کی قیادت نے اب بغاوت کا علم بلند کردیا ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار اسٹیبلش منٹ کے ” چہیتے” ہی اس کے سامنے کھڑے ہوئے۔۔ یوں تو میاں صاحب بھی اسٹیبلشمنٹ کی ہی پیداوار ہیں لیکن انکے موجودہ تیور بتارہے ہیں کہ شاید انہیں وقت بہت کچھ سکھا گیا ہے اورلگتا ہی وہ اب ایک نئے عزم کے ساتھ میدان سیاست میں اترے ہیں۔

اسی طرح بلاول بھٹو کی حالیہ پریس کانفرنس جو آئی جی سندھ کی مبینہ اغوا اور مریم نواز کے شوھر صفدر اعوان پر ایک ایف آئی آر کاٹے جانے پر کی گئی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ بلاول کا لہجہ بھی اتنا ہی تلخ اور دو ٹوک تھا انہوں نے بھی صاف صاف رینجرز اور ریاستی اداروں کو اس کاروائی کا ذمہ دار ٹھرایا۔ لگتا ہے پیپلز پارٹی بھی نواز شریف کے خطاب کے بعد کسی حد تک کھل کر ٹکرائو پر آمادہ نظر آتی ہے۔

اس پارٹی کے بانی بھٹو صاحب یوں تو جاگیردارانہ پس منظر رکھتے تھے لیکن وہ اپنی تعلیم، مطالعہ اور انقلابی سوچ کے باعث زبردست سیاسی ذہن کے مالک تھے ان میں بے شمار صلاحیتیں تھیں وہ تقریر اور مذاکرات کے ذریعے اپنے مخالف کو زیر کرلینے کا فن جانتے تھے اور ان صلاحیتوں کے ساتھ بھٹو صاحب ایوبی آمریت سے ٹکراگئے انکی خوش بختی کہ انہیں بہت ہی روشن خیال اور نظریاتی کارکن میسر آئے لیکن وہ شاید مفاد پرستوں میں گھر گئے اور اپنے نظریاتی ساتھیوں کو کھوتے چلے گئے بالاخر ایک عدالتی قتل کا شکار ہوئے۔ ماضی میں پی پی پی اور اسکے جیالوں کی آمریت کے خلاف مزاحمت کی ایک طویل تاریخ موجود ہے یہ واحد پارٹی ہے جس کے کارکن اپنے نظریات اور قیادت کے اشارے پر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ بھٹو مرحوم کے بعد انکی سوچ کو انکی بیٹی نے آگے بڑھایا لیکن افسوس کے ان دونوں ذہین اور روشن خیال رہنمائوں کو ریاستی جبر کے ذریعے منظر سے غائب کردیا گیا۔

بلاول ابھی سیاسی بلوغت کو نہیں پہنچے لیکن انکے ارد گرد سیاسی بصیرت کے حامل افراد موجود ہیں جو یقینا” انکی سیاسی تربیت بھی کررہے ہونگے۔ اب دیکھنا یہ کہ کیا پی پی پی کی موجودہ قیادت میں اتنا دم خم ہےکہ وہ اپنے بکھرے ہوئے اور نظریاتی کارکنوں کو موبیلائز کرسکے گی۔ کیا بلاول اور انکے موجودہ ساتھی کسی مزاحمتی تحریک کو متحرک کر پائیں گے۔

مولانا فضل الرحمان ایک زیرک سیاستداں ہیں وہ سچویشن کو استعمال کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ انکے ساتھ مدرسوں کے طلبا اور مذہبی افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اسٹریٹ پاور کے بل بوتے پر ایک انارکی کی صورتحال پیدا کرسکتے ہیں لیکن اس سے بچنا ضروری ہے بصورت دیگر امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

جمہوری عمل کے تسلسل کے لئیے یہی بہتر ہوگا کہ خانصاحب اور انکی جماعت کو پورا موقع دیا جائے کہ یہ اپنی آئینی مدت پوری کریں۔ اپوزیشن اپنی حکومت گرائو پالیسی پر نظرثانی کرے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا نہ ہونے پائے۔ لیکن کیا کیا جائے موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایسا معلوم ہوتا کہ خانصاحب کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں انکے غیر ذمہ دارانہ بیانات۔ غلط فیصلے اور مہنگائی کا جن ہی انکے لییے کافی ہے رہی سہی کسر خانصاحب کے “وزیر باتدبیر” پوری کردیتے ہیں جسکے باعث انکی مقبولیت کا گراف نیچے جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر کسی غیر آئینی طریقے سے پی ٹی آئی کی حکومت گرائی گئی تو انکے لئیے “سیاسی شہید” ہونے کا کارڈ کھیلنا آسان ہو جائیگا اور اپنی تمام تعر ناکامیوں کا ایک جواز بھی مل جائیگا۔۔

قحط الرجال کے اس دور میں نواز شریف کی تقریر اور بلاول کی پریس کانفرنس وطن عزیز کی سیاست میں شاید کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو اور آنے والے دنوں میں سول ملٹری تعلقات کی نئی جہتیں سامنے آئیں۔۔۔۔۔

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں۔
گلشن میں چاک۔ چند گریباں ہوئے تو ہیں۔
ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر۔
کچھ کچھ سحر کے رنگ افشاں ہوئے تو ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20