جموں وکشمیر میں ہچکولے کھاتی صحافتی کشتی — غازی سہیل خان

0

تعمیر کے معمار مفاد کی بھینٹ چڑھ گئے

صحافت ایک معزز پیشہ ہے ۔ ایک صحافی ملک و ملت کے مظلوموں، لاچاروں، بے بسوں اور بے زبانوں کی آواز کا نام ہے، بلکہ اسے جمہورت کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ صحافی سماج کا جُزولاینفک ہے ۔ قوم و ملت کی ترقی وتعمیرکے لئے صحافت ہی رہنما خطوط کھینچ کر سماج کے سامنے رکھتا ہے، جن پر پھر معاشرے کی تعمیرنو ہوتی ہے۔ ابتدائے آفرینش سے ہی حق پرست صحافیوں نے مظلوموں کے حق میں اپنی آواز بُلند کی، جس کی پاداش میںکئی صحافت کے شاہسواروں کو اپنی عزیز جانوں تک سے ہی ہاتھ دھونا پڑا۔ ایک صحافی کو غیر جانبدار ہونا چاہے۔ اسے ملک و ملت کے مسائل کو بغیر کسی لاگ لپٹ کے پیشِ عوام کرنا چاہے۔ ایک صحافی کی ذمہ داری بس حقائق کو سامنے لانے کی ہے۔ اسی وجہ سے صحافت کو معزز و محترم پیشہ قرار دیا گیا ہے۔ کیوں کہ ہزاروں مصائب و مشکلات کا سامنے کر کے صحافی کو حق پیش کر کے مظلوم کو انصاف دلانے میں اہم رول ہوتا ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود آج ہمارے ہاں ایسے صحافی بھی ہیں جن کا دن ورات حق کے بجائے چند حقیر مفادات کے لیے صرف غلط پروپیگنڈوں میں ہی گُزرجاتا ہے، اُن کی صحافتی زندگی کا یہ مشن ہی ہوتا ہے کہ کب اور کیسے مظلوموں اور بے کسوں کو کچلا جائے، حقائق کو کب اور کیسے توڑ مروڑ کے عوام کے سامنے پیش کیا جائے، غریبوں کی زندگی کی پرواہ کئے بغیر وہ ’وزراء و حکمرانوں‘ کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں بنے رہتے ہیں ۔ اس طرح ان کی بے داغ صحافت، داغ دار اور مفاد پرست صحافت بن کے رہ جاتی ہے۔ جب ہم قومی میڈیا کی بات کرتے ہیں تو وہاں سوائے چند ایک اداروں کے اکثر ملک و ملت کے لئے نقصان دہ ہی ثابت ہورہے ہیں۔ بھلے ہی اُن کے شور و غل سے وقتی طور ملکی عوام کو لگتا ہو کہ یہ ملک کے خیر خواہ ہیں لیکن اصل میں وہ ملک و انسانیت کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔ اسے ایک مثال سے سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ جب کسی مریض کے اندر کوئی ایسی بیماری ہو اور اس کی جراہی ضروری ہو، تو اس کی جان بچانے کے لئے ایک ڈاکٹرکو اس مریض کا پیٹ کاٹنا پڑتا ہے، وقتی تکلیف تو ہوتی ہے تاہم یہ اس کی صحت مند زندگی گزارنے کی نوید بھی ہوتی ہے۔ ایک ڈاکٹر اگر اس طرح کے مریض کو یہ کہتے ہوئے اس کا پیٹ نہیں کاٹے گا کہ آپ کو تکلیف ہوگی، اس لئے آپ کو وقتی درد کم کرنے کی دوائی سے ہی گُزارا کرنا پڑے گا،کیا یہ مریض صحت مند زندگی گُزار سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں! بلکہ یہ مریض کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے برابر ہوگا۔ بس یہی حال ہمارے قومی میڈیا کا ہے، جہاں اصل مرض کو چھپا کر چند غیر ضروری چیزوں کو عوام کے سامنے مسائل کے نام پر پہاڑنما بنا کے رکھا جاتا ہے جس کے سبب عوام خوش فہمی میں آہ، آہ اور واہ، واہ کر کے اُس مریض کی طرح زندگی گُزارنے پر مجبور ہوتی ہے جس کو درد کم کرنے کی دوائی دے کے اس کی زندگی کو موت کے منہ میں ڈالا جا تاہے ۔ ملکی میڈیا کا تو مشن ہی پروپگنڈہ ہے، یہاں جب کسی کو گناہ گار ثابت کرنا ہو تو پہلے باضابطہ اسکا میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے، یعنی give dog a bad name and kill him کے مصداق اس کو بُرے نام سے اتنا پکارا جاتا ہے بھلے ہی وہ بے گناہ ہو لیکن اس کو گناہ گار سمجھ کے سلاخوں کے پیچھے یا ملک بدر کیا جاتا ہے۔ غریبوں اور لاچاروں پر کیا گُزر رہی ہے، اُن کو اس کی کوئی پروا ہ نہیں۔ کورونا مہاماری میں کتنے مزدو ر ہزاروں میل پیدل سفر کر کے گھر کے قریب موت کے منہ میں چلے گئے اِن کو فکر نہیں، شعبۂ صحت کی کیا حالت ہے،کتنے مریض وینٹی لیٹر کی کمی کے سبب موت کے گھاٹ اُتر گئے، یہ حکومت سے جواب طلبی سے قاصر ہیں، ہسپتالوں میں مریضوں کا حال کیا ہے، کسی کو پرواہ نہیں، بھوک مری کے شکارکتنے لوگ ہوئے، تعلیم کے شعبہ کی کیا حالت ہوئی،بے روز گاروں کی فوجیں تیار ہو رہی ہیں کسی کو کوئی فکر نہیں، ملک کی GDPکا کتنا بُرا حال ہے اس کا کیا؟ بس اگر ان کو پڑی ہے تو وہ مسلمانوں کی، کہ وہ کیا کھاتے ہیں اور کب کھاتے ہیں۔ تاہم ملکی سطح پر چند صحافتی ادارے اور چند آزاد صحافی ہی ہیں جو حقائق کو سامنے لاکے ملک سے خیر خواہی کا حق ادا کر رہے ہیں لیکن اُن کوبھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔

جموں کشمیر میں بھی 5؍اگست 2019ء کے بعد سے قومی و سیاسی مسائل پر بولنا اور لکھنا گناہ عظیم تسلیم کیا جا رہا ہے۔ میڈیا سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ خبریں بھی پہلے حکومتی اداروں کی اجازت کے بغیر شایع نہیں کر سکتے۔ اس سب کے باوجود میڈیا کو جتنی بھی آزادی ہے صحافی حضرات سوائے چند ایک کے قوم و انسانیت کی اُمیدوں پر کھرا نہیں اُتر رہے ہیں ۔ بلکہ چند صحافتی اداروں نے سرکاری دبائو کو ایک ’’بم نما‘‘ چیز بنا کرعوام کے سامنے پیش کر کے بتا رہے ہیں کہ یہاں میڈیا کی ساری آزادی کو سلب کیاگیا ہے اور سرکاری اشتہار بند ہونے کے خدشوں کا اظہار بھی کر رہے ہیں وغیرہ ۔ تاہم چند لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں جتنی میڈیا پر قدغن کا بتایا جا رہا ہے اُتنی بندشیں نہیں ہیں بلکہ یہ صحافتی اداروں نے عوام میں اس طرح کا ایک شوشہ پھیلارکھاہے کہ ہمیں یہاں حقائق کو لکھنے میں سرکار کی طرف سے بندشیں ہیں،تاہم اگر سرکار کی طرٖف سے کسی حد کا دبائو یا قدغن ہے تو تو وہ معمولی نوعیت کی ہے ۔ چند ایک کا کہنا ہے کہ صحافتی اداروں نے خود اپنے آپ پر بندشیں عائد کی ہوئی ہیں۔ اسی حوالے سے ایک صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’وادی کی صحافت صرف اخبار نہیں بلکہ وادی میں صحافی بھی ہیں،اس طرح دیکھیں تو کئی صحافیوں نے حقیقت حال کو لکھنے میں دریغ نہیں کیا۔ اور یہ کوئی قومی خدمت نہیں بلکہ پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے جس کو نبھانا ایک صحافی کے لئے فرض بنتاہے۔ اگر ایسا کہا جائے کہ وادی میں صحافتی اداروں سے مایوسی ہوئی ہے تاہم صحافیوں کی ایک قلیل تعداد نے اس پیشہ کی لاج رکھ کے دنیا کو کشمیر کے حالات سے وقتاً فوقتاً واقف رکھا۔ ‘‘اس مو ضوع پر چند لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’اس کے دو پہلوں ہیں ایک عوام پیش کر رہی ہے اور ایک یہاں کے صحافتی ادارے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہاں یعنی کشمیر کی صحافت نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، اُن کے اندر اب کوئی خاص عزم اور حوصلہ نہیں، کوئی بے باکی نہیں، یا کوئی پالیسی نہیں ہے جس کی بنا پر وہ اس طرح کی قدغنوں کیخلاف لڑ سکیں۔ اسی طرح سے صحافتی اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اس وقت بہت ہی خراب حالات سے گُزر رہے ہیں اور سرکار کی طرف سے شدید قسم کی پابندیاں ہیں دوسری طرف کورونا کی مار اور ہمارے اخبارات کو سرکار ی اشتہار پر پابندی جس کے سبب ہم نے اپنے ملازمین کو کام سے رخصت کر دیا ہے،ہمارے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں جس کے سبب ہم اپنے اخبارات کی بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ان اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے ماضی میں حقائق کو سامنے لانے میں بہت پاپڑ بیلے ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صحافتی ادارے کوئی خاص خدمت انجام دینے میں ناکام ہو گئے خصوصاً کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بعد۔ ان ہی مسائل پرجموں کشمیر کے ایک ماہر قانوں دان ’’پرفیسر شیخ شوکت حُسین‘‘ کا کہنا ہے کہ:

’’1990ء میں اُٹھی پُر زور مزاحمتی لہر سے کشمیر کی صحافت پر کافی سارا دبائو ڈالا گیا،بعد اذاں گو کہ صحافت پر قدغنیں ختم کر دی گئی لیکن مزاحمتی لہر کے خلاف انسدادی تدابیر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ 2010ء کے بعدصحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ساتھ صحافتی ایوانوں کو اشتہارات دینے سے انکار جیسا ایک معمول بن گیا، ایسی پالیسیوں کے ہوتے ہوئے جب صورتحال 2019ء میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی ۔ اسی دوران کشمیر کو براہ راست فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا گیا،جس میں کسی بھی قسم کی اظہار رائے پر عملاً پابندی عائد کر دی گئی۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ عیاں ہے کہ اگر یہاں کی صحافتی برادری نے کسی عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہوتا تو بات بہت آگے تک پہنچ چُکی ہوتی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ’’مجھے یاد ہے کہ جب بھارت میں ایمرجنسی کانفاذ عمل میں لایاگیا اور میڈیا پر سنسر شپ بھی بڑھا دی گئی لیکن اس کے باوجود انڈین ایکسپریس جیسے اخبارات نے بے باکی کا مظاہرہ کیا،بدقسمتی سے ہمیں اپنی ریاست(حال یو۔ ٹی) جموں کشمیر میں ایسی کوئی مثال تک بھی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔‘‘

مجموعی طور عوام نے جموں کشمیر کے صحافتی ادروں سے اپنی مایوسی کا ہی اظہار کیا ہے ۔ یہ مایوسی عوام میں تب اور بڑھی جب گزشتہ محرم الحرام میں وادی کی شیعہ برادری کے جلوسوں پر انتظامیہ کی اور سے قدغن اور فورسزکا جلسوں میں شریک لوگوں پر پیلٹ بندوق وغیرہ کا بے دریغ استعمال کو، کوئی خاص کوریج یہاں کے اخبارات نے نہیں دی ۔ اسی طرح سے سوپور میں ایک نوجوان کا پولیس حراست میں ماورائے عدالت قتل جیسی خبروں کے حوالے سے بھی کشمیری عوام یہاں کے صحافتی اداروں نے نالاں نظر آرہے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ صحافتی اداروں کو صحافتی اُصولوں کے طابق یہاں کی مظلوم انسانیت کی خدمت کرنی چاہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن اس طرح کی کٹھ پتلی اور مفادر پرست صحافت کے سبب یہاں کے صحافتی اداروں کو اپنے ہی کام پر پشیمانی کا سامنا کر کے کشمیر کے ہچکولے کھاتی صحافت کی کشی ہی نہ ڈوب جائے۔ اللہ ایسا ہونے سے بچائے ۔ صحافت عبادت کا روپ دھار سکتی ہے لیکن ضرورت ہے اس ذمہ داری کو صحیح طور سے نبھایا جا ئے، تاکہ قوم وانسانیت کا بلا ہونے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لیے ان کا روشن مستقبل نظر آئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20