صدر میکرون : فرنچ مسلم دشمنی کی تاریخ کا عروج ۔۔۔۔ وحید مراد

0

اس وقت فرانس حکومت کے عہدیداروں میں پائی جانے والی مسلم دشمنی اور سفید فام بالادستی کے خواہاں نسل پرستوں کی اسلام کے خلاف انتہاپسندانہ کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔ آج کے فرانسیسی مسلمان اسلاموفوبیا سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں لیکن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی فرانسیسی عداوات صرف حالیہ رجحان نہیں بلکہ اس کی جڑیں تاریخ میں بہت پیچھے تک موجود ہیں۔ فرانس کا نوآبادیاتی ماضی اس بات پر گواہ ہے کہ انہوں نے مقامی مسلمان باشندوں کے ساتھ کس طرح کا انسانیت سوز سلوک روا رکھا۔ فرانس آج اپنی سرزمین پر مسلمان شہریوں کے ساتھ ماضی کےانہی تجربات کو دہرا رہا ہے جو اس نے اس سے قبل الجیریا کے مسلمانوں پر کئے تھے۔

1830 میں جب فرانس نے الجیریا پر حملہ کیا تھا تو مسلمانوں کو لوٹنے کے ساتھ ساتھ انکی عبادتگاہوں کو بھی تباہ و برباد کر دیا تھا۔ فرانسیسی فوج نے مقامی عثمانی گورنر کو معزول کرنے کے بعد نچلی سطح پر بھی مزاحمتی تحریک کو کچلنےکیلئے بے رحمانہ مہم چلائی تھی۔ 1871 میں جب الجیرین عوام المکرانی کی قیادت میں فرانس کے خلاف جمع ہو گئے تو فرانس نے دس لاکھ سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جو الجیریا کی اس وقت کی آبادی کا ایک تہائی حصہ بنتا تھا۔ 1830 کے بعد ایک صدی سے زائد عرصے تک شمالی افریقہ میں فرانس نے اپنی ریاست کی توسیع کے طور پر حکومت کی۔ الجیریا کو زبردستی اپنی ریاست کے ایک جزو کے طور پر فرانس میں ضم کرنے کے باوجود الجیرین عوام کو کبھی شہریت کے حقوق نہیں دئے گئے۔ الجیریا کے مسلمانوں کو جب اپنے مذہب سے وابستہ دیکھا جاتا تھا تو انہیں ریاست کے تمام شعبوں میں ملازمت کے لئے نااہل قرار دیا جاتا تھا۔ اس دور میں بھی فرانس نے اسلامی ثقافت اور مذہبی علامات سے علیحدہ ہونے پر زور دیا اور کئی بار خواتین کے نقاب کے خلاف مہم چلائی۔

1958 میں فرانس میں جب پانچویں جمہوریہ کا اعلان کیا گیا اور جدید فرانسیسی ریاست کی بنیاد پڑی تو اس وقت بھی فرانس الجیریا پر خونی جبر کے ساتھ گرفت برقرار رکھنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ 1962 میں خوفناک انقلابی جنگ کے نتیجے میں فرانس کی نوآبادیاتی حکومت کا خاتمہ ہوا لیکن اس تصادم کے دوران فرانس نےایک ملین سے زائد الجیرین باشندے ہلاک کئے۔ الجیریا پر قبضے کے دوران فرانس الجیریا سے کم اجرت کے نوجوان مزدوروں کو اپنے شہروں کے کام کاج کیلئے لاتا تھا کیونکہ جنگ عظیم اول میں مارے جانے والے کثیر محنت کشوں کے بعد فرانس میں افرادی قوت کی کمی تھی یوں الجیریا کے لاکھوں افراد کی جانوں کو فرانس کے جدید تمدن کا ایندھن بنانے کیلئے یہاں لا کر بسایا گیا۔ انہی محنت کشوں نے فرانس میں ریل کی پٹڑیاں بچھائیں، سرنگوں میں کام کئے، انتہائی گرمی اور سردی میں سڑکیں ہموار کیں، مگر اسکے ساتھ ساتھ تنہائی اور غربت میں شہروں کے مضافات میں خیموں میں زندگی بسر کی۔ جب جدید فرانسیسی ریاست کی تشکیل ہوئی اس وقت بھی فرانس میں نصف ملین سے زائد الجیرین باشندے فرانس کی صنعت اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں محنت مزدوری کا کام کر رہے تھے۔

1961 میں جب فرانسیسی عرب پیرس میں جمع ہو کر الجزائر کی آزادی کیلئے مارچ کرنے آئے تو فرانسیسی پولیس نےمظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائیں اور 200 افراد کو موقع پر ہلاک کر دیا۔ ان واقعات کے سائے میں فرانس میں بچوں کی ایک نسل پیدا ہوئی جو سب سیاہ فام اور عرب مزدوروں کی نسل تھی۔ کئی دہائیوں سے فرانس کیلئے محنت مزدوری کرنے کے باوجود جب ان کو فرانس کے باعزت اور برابر کےشہری کے طور پر قبول نہیں کیا گیا تو انہوں نےمجبوری میں اپنے والدین کے آبائی وطن کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ 1983 میں پولیس کی بربریت اور عرب افریقیوں کے خلاف نفرت انگیزی کے خلاف عدم اطمینان کی وجہ سے پہلا احتجاج اور مظاہرہ ہوا اور اس میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی اور مارسیلی سے پیرس تک سینکڑوں میل پیدل مارچ کیا۔ 1983 کے اس مارچ سے لیکر اب تک چار دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن آج بھی افریقن اور عرب نژاد فرانسیسی شہری غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ یہ فرانس کے دیگر شہریوں کی طرح اپنی مرضی کا لباس پہن سکیں، اپنی مرضی کا عقیدہ اپنا سکیں، یا اپنی مرضی کی ثقافت اور رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

مسلمانوں کے خلاف مذکورہ معاندانہ رجحان میں 1989 کے ہیڈ اسکارف کیسز کے بعد تیزی آئی۔ 2004 میں سرکاری اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پر پابندی عائد کی گئی اور اسکے بعد نجی اسکولوں میں بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ نائن الیون کے بعد سے نائس کے میئر، کرسچئین اسٹروسی Christian Estrosi اور دیگر سیاستدانوں سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیدار مسلمانوں پر’ ففتھ کالم’ کے لیبل لگا رہے ہیں۔

2005 میں پورے فرانس کے شہروں میں فسادات شروع ہوگئےجس کی وجہ یہ تھی کہ دو لڑکوں نے پولیس کے کچھ افراد کا پیچھا کیا تھا اور پولیس نےاس جرم پر انہیں ہلاک کر دیا تھا۔ ان فسادات میں فرانس کے کئی شہروں اور مضافات میں سینکڑوں کاروں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ آج جو لوگ اسلامی بنیاد پرستی کو الزام دیتے ہیں وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ فرانس میں ہونے والے فسادات کی تاریخ کا تعلق صرف مذہب سے نہیں بلکہ اس کا تعلق اس ظلم و ستم سے بھی ہے جو فرانس نے کئی عشروں سے مسلم افریقی عرب نژاد فرانسیسی شہریوں کے خلاف روا رکھا ہوا ہے۔ فرانس میں پیدا ہونے والے نوجوانوں کیلئے معاشرے میں ضم ہونے کا کوئی دروازہ کھلا نہیں۔ اور 2005 کے فسادات کی اصل وجہ ان لوگوں کی پوری زندگی کی یہ مایوسی تھی جو انہوں نے بیروزگاری، غربت، افلاس، نفرت اور عدم مساوات میں گزاری تھی۔

2005 میں سرکوزی نے بیرون ملک فرانسیسی موجودگی کے مثبت کردار کو پہنچاننے کیلئے اسکول کے نصاب کو تبدیل کرنے کا قانون پاس کرنے کی کوشش کی جو فرانسیسی اشرافیہ کی نوآبادیاتی ذہنیت کو ظاہر کرتا تھا۔ 2010 میں فرانس نے ایک قانون کےمطابق یہ واضح کیا کہ لوگوں کو برقع یا ایسا کوئی لباس بشمول ماسک، اسکارف، ہلمٹ وغیرہ عوامی جگہوں پر پہننے کی اجازت نہیں ہےجس سے چہرہ چھپے، اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں 250 امریکی ڈالر کے مساوی جرمانہ ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں فرانس کے اتباع میں یورپ کے کئی دیگر ممالک نے بھی اس سے ملتے جلتے قوانین اپنے ممالک میں رائج کئے۔ 2011 میں نکولس سرکوزی کی طرف سےنقاب پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد اس سلسلے میں مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے مسلمان خواتین کے تیراکی کے مخصوص لباس پر پابندی عائد کی گئی اور اس وقت کے وزیر اعظم منیوئیل والس نےاس کی حمایت کی۔ فروی2020 میں جب پیرس فیشن ویک میں جگہ جگہ ماسکس پہنے چہرے نظر آئے تو ایک امریکی فوٹو گرافر ولیم ورسیٹی نے اس پر طنز کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا کہ وہ ملک (فرانس) جہاں مسلمان عورتوں کےبرقعے اور نقاب پہننےپر سب سےپہلے پابندی لگائی گئی تھی ا ب اس ملک میں ہر طرف ماسک نما نقاب پہننے کے بے باک مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔

2015 میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں فرانسیسی حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا، سیکورٹی دستوں نے چھاپے مارے، نجی اداروں کو بند کیا، لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی اور صرف ایک سال میں 3600 چھاپے مارے گئے لیکن یہ سب کچھ صرف چھ افراد پر دہشت گردی کے الزام کے نتیجے میں کیا گیا۔ 2017 میں بظاہر اس ہنگامی صورتحال کو ختم کر دیا گیا لیکن دراصل اس کو ایک نئی شکل دے دی گئی۔ اب انسداد دہشت گردی کے انتہائی سخت اقدامات اٹھانے کیلئے ایک قانونی ادارہ بنا دیا گیا ہےجو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر وہی کاروائیاں مسلسل کر رہا ہے اور عملی طور پر اب بھی فرانس میں ہنگامی صورتحال قائم ہے۔

نیوزی لینڈ میں جب کرائسٹ چرچ کی مساجد میں 2019 کے قتل عام کرنے والے دہشت گرد نے 51 مسلمان نمازیوں کو شہید اور 49 کو زخمی کر دیا تھا تو اس نے فرانسیسی اسلاموفوبیائی مفکر رینود کیموس Renaud Camus کا حوالہ دیا تھا جس سے متاثر ہو کر اس نے یہ انسانیت سوز عمل کیا تھا۔ سفید فام بالادستی کے قائل دہشت گرد پر فرانسیسی اثر و رسوخ صرف ایک نسل پرست مفکر تک محدود نہیں۔ فرانس کی نیورائیٹ پارٹی (Nouvelle Droite)، اور WWII کی دائیں بازو کی تحریک بھی آسٹریا کے شناخت پسندوں کی تحریک کیلئے ایک محرک تھی جس کے ساتھ اس آسٹریلیائی دہشت گرد کے روابط اور مالی تعلقات تھے۔

فرانس میں اسلاموفوبیا کے حوالے سے 2019 میں پیش آنے والے 1043 واقعات درج ہوئے اور ان کے مطابق 2017 کے بعد اس قسم کے واقعات میں 77 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر 2019 سے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرونEmmanuel Macron اوراسکے وزیر داخلہ کرسٹوفر کاسٹنر دہشت گردی کو مسلمانوں کے عقیدے، اور ثقافتی علامات مثلاً داڑھی، برقع، حجاب، نماز اور حلال کھانا وغیرہ سے جوڑ رہے ہیں۔ کچھ ہفتے قبل میکرون نے اعلان کیا کہ اسلا م ایک ایسا مذہب ہے جو آج پوری دنیا میں بحران کا شکار ہے اور ہم اپنے ملک میں یہاں کے اسلامی اداروں اور مساجد وغیرہ کو بیرونی اثرات سے آزاد کر ارہے ہیں۔ فرانس میں میکرون کوئی پہلا حکمران نہیں ہے جو اسلام کے بارے میں اس طرح کے بیانات دے رہا ہے بلکہ یہ فرانس کے سیکولر ازم کی پرانی روایت ہے۔ فرانس نوآبادیاتی دور کے زہریلے ورثے کے ساتھ آج کئی مزید خونی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو گیا ہے۔

گزشتہ ماہ رسوائے زمانہ اخبار شارلی ہیبڈو کی جانب سے ایک مرتبہ پھر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اسی دوران فرانسیسی صدر نے ایک تقریب میں کہا کہ مسلمان فرانس میں علیحدگی پسند جذبات کو ہوا دے رہیں۔ مسلم اکثریتی محلوں میں مذہبی آزادی کی آڑ میں انتہاپسندی، نفرت اور تشدد کا پرچار کرنے والے فرانس کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فرانس کے گلی محلوں میں انتہاپسندی روکنے کے لیے حکومت ایک نیا قانون لا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس قانون کے ذریعے مقامی سطح پر مذہبی اور سماجی تنظیموں کے مالی معاملات کی بہتر نگرانی کی جائے گی، انتہا پسندی پھیلانے والے نجی مدارس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ فرانسیسی صدر کے مطابق نئے اقدامات کے تحت فرانس میں پبلک سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی کو اب نجی شعبے میں بھی لاگو کیا جائے گا۔

 صدر میکروں کی طرف سے یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب پیرس میں 2015 کے شدت پسند حملے کے ایک درجن ملزمان کے خلاف حال ہی میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ اس حملے کا نشانہ پیغمبر اسلامﷺکے متنازعیہ خاکے شائع کرنے والا طنزیہ میگزین شارلی ایبدو تھا۔ اس کارروائی میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں متنازعہ خاکے بنانے والا کارٹونسٹ بھی شامل تھا۔ ستمبر میں ملزمان کا ٹرائل شروع ہونے کے موقع پر شارلی ایبدو نے اپنے اظہار آزادی کے حق کا ایک بار پھر مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ پیغمبر اسلامﷺکے متنازعیہ خاکے شائع کیے۔

ایک ہفتہ قبل فرانس میں ایک سیموئل پیٹی نامی ٹیچرنے طلبہ کو پیغمبرِ اسلامﷺ سے متعلق خاکے دکھائے تھے۔ اس ٹیچر نے مسلمان طالب علموں سے کہاتھا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خاکے ان کے لیے ناقابل برداشت یا اشتعال انگیز ہیں تو وہ انھیں نہ دیکھیں اور اپنے نظریں پھیر لیں اس عمل کے بعد اس ٹیچر کو قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے پیٹی کے مشتبہ قاتل کو ماورائے عدالت پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد فرانس کی حکومت نے پیرس کے ایک مصروف مضافاتی علاقے میں اس مسجد کو چھ ماہ تک بند کر نے کا حکم دیا ہے جہاں سے جمعے کو ہلاک کیے جانے والے استاد سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ اس مسجد میں نماز کے لیے جانے والے لوگوں کی تعداد 15 سو سے زیادہ ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مذکورہ ٹیچر کے قتل کے واقعہ کو ‘مسلم دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’صاف ظاہر ہے کہ یہ حملہ اسلامی شدت پسندوں نے کیا ہے اور اس ٹیچر کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ آزادی اظہار کا درس دے رہا تھا۔ میکرون کا کہنا تھا کہ فرانسیسی قوم اساتذہ کے دفاع کے لیے کھڑی ہے اور ‘قدامت پسندی‘ کو جیتنے نہیں دیا جائے گا۔ کابینہ کے اجلاس میں میکرون نے کہا کہ ’اسلامی شدت پسندوں کو چین سے سونے نہیں دیا جائے گا‘۔

توہین آمیز خاکوں کا پرچار کرنے والے ٹیچرکے قتل کے بعد سے صدر میکرون کے بیان نے فرانس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کی نئی لہر کو جنم دیا جس کے باعث کئی مساجد بند پڑی ہیں اور مسلمانوں پر نفرت انگیز حملے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ فرانس کے وزیر داخلہ جیراڈ ڈارمینن نے کہا ہے کہ کئی مسلمان تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا جا سکتا ہے۔ پولیس جن لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے ان میں سے بعض کا تعلق مسلمانوں کی مختلف تنظیموں سے ہے جن میں اسلاموفوبیہ کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ’کلیکٹو اگینسٹ اسلاموفوبیا‘ بھی شامل ہے جس کا مشن اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد کرنا ہے اور وہ اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر عالمی تنظیموں کے ساتھ منسلک ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 51 مسلم تنظیموں کے خلاف بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

فرانس میں اسلاموفوبیا کی بدترین لہر جاری ہے، نسلی اور مذہبی انتہا پسندی کے باعث ملک میں اقلیتیں غیر محفوظ ہونے لگیں ہیں۔ ایفل ٹاور کے قریب دو سفید فام خواتین نے دو مسلمان خواتین پر جملے کسے اور چاقوؤں کے وار کرکے زخمی کر دیا، زخمی ہونے والی خواتین کا تعلق الجزائر سے ہے جن کی شناخت کینزا اور امیل کے نام سے ہوئی ہے۔

ترک صدر طیب اردگان نے اپنی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کو اسلام اور مسلمانوں سے کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟ کوئی سربراہ مملکت اپنے ملک میں بسنے والے ایک مذہبی اقلیت کے لاکھوں شہریوں کے ساتھ یہ رویہ رکھتا ہے؟ ایسے لوگوں کو سب سے پہلے اپنے دماغ کا معائنہ کروانا چاہیے۔ اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی نے بھی فرانسیسی صدر میکرون کے بیانات اور فرانس میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی حکومت کے اسلام مخالف رویئے پر مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ کویت کی مارکیٹوں سے فرانسیسی مصنوعات ہٹا لی گئیں۔ ترک صدر کے بیان کے بعد فرانس نے یہ کہتے ہوئے ترکی سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے کہ صدر طیب اردگان نے حد سے تجاوز کیا ہے اور اکھڑپن کا لہجہ استعما ل کیا ہے اور یہ طریقہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ فرانسیسی حکام کو اپنےاس ظلم و ستم پر کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی جو وہ کئی دہائیوں سے اپنے مظلوم مسلمان شہریوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر جو دہشت گردی وہ خود پھیلا رہے ہیں وہ انکے خیال میں جائز ہے لیکن ترک صدر کی طرف سے انکے دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت کا بیان ناجائز ہے۔

فرانس کے حکام کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ کسی ٹیچر کا قتل تو ایک فوجداری قانون کے تحت جرم ہے اور اس جرم کے ارتکاب کرنے والے شخص کو پھانسی وغیرہ کی سزا دی جا سکتی ہے اگرچہ فرنچ پولیس نے اس ملزم پر کوئی مقدمہ چلائے بغیر ہی اسے ایک کاروائی میں ان کائونٹر کر دیا۔ لیکن کسی ملک کےحکومتی عہدیداروں کی طرف سے توہین رسالت کرنے یا گستاخانہ خاکوں جیسے اقدامات کی حمایت کرنے کا عمل دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف جنگی اقدام ہے۔ یہ عمل صدر اردگان کے بیان سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور یہ پوری دنیا کا امن تباہ و برباد کر سکتا ہے۔ اس موقع پر تمام لبرل دانشوران اور سیکولر ریاستوں کی حکومتیں جو امن کی داعی ہیں ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فرانس کے صدر اور حکومتی عہدیداران کے ان امن دشمن اقدامات کی پرزور الفاظ میں مذمت کریں ورنہ انکا یہ عمل کسی عالمی جنگ کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔

عام طور پر یورپ اور امریکہ کے سیاسی لیڈران اور دنیا بھر کے اکثر سیکولر دانشوران مسلمانوں اور خاص طور پر مسلم خواتین کے ساتھ یورپ اور فرانس میں ہونے والے ظالمانہ اور امتیازی سلوک کا اقرار نہیں کرتے لیکن حال ہی میں یورپی یونین کی کمشنر برائے مساوات ہیلنا ڈالی نے انتہائی رنج کے ساتھ اس بات کا اعتراف کیا کہ یورپ کی مسلم خواتین کو وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے، انہیں اکثر ایک خاص طرح کے صنفی اسلاموفوبیا سےگزرنا پڑتا ہے جہاں انہیں نسل اور مذہب کی بنیاد پر نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک سروے کا حوالہ دے کر کہا کہ یورپ میں ہر 10 میں سے 3 یورپی افراد، کسی مسلمان آفس کولیگ کی موجودگی کو اچھا محسوس نہیں کرتے جبکہ آدھے یورپین شہری اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کے ممالک میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پرکیا جانے والا نسلی امتیاز موجود ہے۔

فرانس میں عام طور پر امریکی فریڈم فائٹرز مثلاً Rosa Parks، مارٹن لوتھر کنگ، Malcolm X وغیرہ کو انکی آزادی اور حقوق کی جدوجہد پرخراج تحسین پیش کیا جاتا ہے لیکن آج تک فرانس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جو بات وہ سفید فام اکثریت کیلئے پسند کرتا ہے وہ بات وہ اپنی ان اقلیتوں کیلئے کیوں پسند نہیں کرتا جنہوں نے کئی دہائیوں تک اپنا خون پسینہ جدید فرانسیسی تمدن کی تعمیر و تشکیل میں بہایا ہے اور جن کی کوششوں سے جدید فرانسیسی ریاست اس مقام تک پہنچی ہے۔ فرانسیسی سفید فام نسلی انتہا پسند، یہ بات پسند کریں یا نہ کریں لیکن فرانس میں پیدا ہونے والے افریقین عرب مسلم وہاں کے شہری ہیں اور انکے وہی حقوق ہیں جو فرانس کے سفید فام آبادی کے ہیں۔ وہاں کی اشرافیہ پسند کرے یا نہ کرے لیکن انہیں ایک نہ ایک دن یہ تلخ حقیقت قبول کرنا ہوگی۔

اسی موضوغ پر دوسری تحریر :فرانس میں اسلام بحران کا شکار ہے یا میکرون کا سیکولر شاونزم؟ — وحید مراد

References:

  1. Yasar, Abdulaziz Ahmet (2019) “France’s Islamophobia and its roots in French Colonialism”

https://www.trtworld.com/magazine/france-s-islamophobia-and-its-roots-in-french-colonialism-25678

  1. Hussain, Murtaza (2019) “Liberte for whom?https://theintercept.com/2019/02/23/france-islamophobia-islam-french-muslims-terrorism/
  2. Joseph Massad (October 7, 2020) “France’s Crisis with Islam: A legacy of 200 years of colonial brutality https://www.middleeasteye.net/opinion/france-islam-crisis-macron-secular
  3. Rokhaya Diallo (2019) “ French Islamophobia goes global” https://www.washingtonpost.com/opinions/2019/03/18/french-islamophobia-goes-global
  4. BBC, Urdu(October19, 2020) “A teacher is killed in France”https://www.bbc.com/urdu/world-54675220
  5. BBC Urdu (October 20,2020) “ Mosque is banned”https://www.bbc.com/urdu/world-54543978
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20