کون سا سیکولرازم ؟ —– احمد الیاس

0

مذہب اور ریاست کی بحث میں اکثر آپ نے یہ جملہ سنا ہوگا کہ کون سا اسلام رائج کیا جائے؟ شیعہ اسلام یا سنّی اسلام یا وہابی اسلام؟ یہ مسئلہ کسی حد تک جینوئین ہے لیکن اسلام کی ان سب شاخوں کی بنیاد کم از کم ایک ہی ہے یعنی توحید و رسالت، اختلافات سب فروعی نوعیت کے ہیں۔ اس کے برعکس خود سیکولرازم کے دونوں فرقے اپنی بنیاد میں ہی بہت مختلف ہیں۔

جی ہاں، سیکولرازم کے بھی دو فرقے بیان کئے جاتے ہیں، بلکہ حقیقت میں یہ دو فرقے نہیں بلکہ دو بالکل مختلف اور متضاد قدریں اور رویے ہیں۔

امریکی سیکولرازم بنیادی طور پر ایک پروٹیسٹنٹ معاشرے میں پیدا ہوا جہاں چرچ کی گرفت نہیں تھی اور بہت سے چھوٹے چھوٹے پروٹیسٹنٹ چرچ موجود تھے۔ پروٹیسٹنٹ مسیحیت نے دنیاوی ترقی کی بھی خوب حوصلہ افزائی کی تھی۔ اس لیے وہاں (اور دیگر پروٹیسٹنٹ ملکوں مثلاً برطانیہ اور جرمنی میں بھی) یہ خیال پیدا ہوا کہ مذہب بنیادی طور پر ایک اچھی چیز ہے اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اس لیے اس کو آزادی ملنی چاہیے، اور تمام مذاہب کو آزادی ملنی چاہیے۔ گویا امریکی اور برطانوی اور جرمن اور دیگر پروٹیسٹنٹ ملکوں میں سیکولرازم کا مطلب مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ دیکھا جائے تو ان ملکوں میں سائنس اور عقلیت کے حملوں باوجود مذہب کو بچانے میں سیکولرازم کا بڑا کردار ہے۔

اس کے برعکس سیکولرازم کی فرینچ روایت بہت مختلف ہے۔ یہ لبرل قسم کی سیکولرازم نہیں ہے بلکہ نظریاتی سیکولرازم ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ فرانس ایک کیتھولک معاشرہ تھا جہاں چرچ بادشاہت اور امراء کے ساتھ عوام کے استحصال اور پسماندگی میں حصہ دار تھا۔ وہاں مذہب کی آزادی نہیں بلکہ مذہب سے آزادی کا رجحان پیدا ہوا اور فرینچ سیکولرازم کا مطلب بھی مذہب کی آزادی نہیں بلکہ مذہب سے آزادی ہے۔ فرینچ سیکولرازم کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ مذہب بنیادی طور پر ایک منفی اور استحصالی قوت ہے۔ ایک آزاد جمہوری ریاست کا فرض ہے کہ وہ عوام کو اس سے آزاد کروانے میں کردار ادا کرے۔ اس لیے فرانس میں سیکولرازم کے نام پر وہ قوانین بنائے جاتے ہیں اور وہ کام کیے جاتے ہیں، جن کی امریکہ یا برطانیہ میں سیکولرازم کے نام پر ہی مخالفت کی جائے گی۔

عالم اسلام میں سیکولرازم امریکہ یا برطانیہ کی راستے سے نہیں بلکہ فرانس کے راستے سے آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی اور برطانوی طرز کا سیکولرازم ہمارے ہاں بے معنی تھا۔ یورپ کے برعکس عالم اسلام میں ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک مذہبی آزادی رہی ہے۔ یورپ کی مسیحی سلطنتوں میں قرون وسطیٰ میں کوئی مسلمان یا ہندو آباد نہ ہوسکتا تھا لیکن کئی مسلم سلطنتوں میں اکثریت ہی مسیحیوں یا ہندوؤں کی تھی۔ لہذا یہاں مذہبی آزادی کا تصور درآمد کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ امریکی سیکولرازم کا دوسرا پہلو یعنی ریاستی قوانین مذہب کی رہنمائی میں نہ بننا بھی یہاں irrelevant تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اور یہودیت کے برعکس مسیحیت میں کوئی شریعت نہیں ہے۔ کیتھولک چرچ میں تو پوپ کے احکام کو شریعت سمجھا جاتا تھا لیکن پروٹیسٹنٹس میں پوپ ببی نہیں ہے۔ لہذا امریکیوں کو تو خود ان کے مذہب نے سیاست و ریاست کے معاملات میں مکمل آزادی دی ہے۔

اس کے برعکس اگر ایک مسلم یا یہودی معاشرے میں آپ مذہبی آزادی دیں گے تو مذہب قانون سازی پر اثر انداز ہوکر رہے گا۔ کیونکہ ان دونوں مذاہب کے اپنے لکھے ہوئے قانون موجود ہیں۔ (یہی وجہ ہے کہ اسرائیل بھی آج تک سیکولر ریاست نہ بن سکا ہے نہ خود کو سیکولر ریاست کہتا ہے۔ اگرچہ وہاں سیکولر جماعتیں موجود ہیں۔ لیکن مذہبی جماعتیں بھی بہت ہیں اور طاقتور ہیں۔)

مسلم دنیا میں فرینچ سیکولرازم ہی بامعنی ہوسکتا تھا چنانچہ سب سے پہلے مصطفیٰ کمال، پھر رضا شاہ، پھر حبیب بورقیبہ وغیرہ نے فرینچ سیکولرازم ہی نافذ کیا اور یہاں اسی مذہب مخالف سیکولرازم کے ردعمل میں مذہبی انتہاء پسندی نے جنم لیا۔

فرانس تمام مغربی معاشروں میں کئی لحاظ سے اسفل معاشرہ ہے۔ سائنسی ترقی میں اس کا حصہ برطانیہ، جرمن اور امریکہ کی نسبت بہت کم رہا ہے۔ جنگوں میں یہ ہمیشہ جرمنوں سے بری طرح ہار جاتا تھا اور برطانوی و امریکی انہیں آکر بچاتے تھے۔ فلسفے میں ہمیشہ منفی اور زندگی سے دور لے جانے والے فلسفی فرانس سے اور مثبت و تعمیری رویے کے فلسفی جرمنی سے آتے رہے۔ ادب میں فرانس کا ادب انگریزی، جرمن یا روسی ادب کے مقابل بے معنی اور کھوکھلا ہے۔ کولونیل ایمپائر اکثر یورپی ملکوں نے بنائے لیکن مظالم اور پسماندگی کے لحاظ سے بدترین ایمپائر فرانس کا تھا۔ غلاموں کی تجارت سب سے زیادہ فرانس کے مقبوضہ افریقی ممالک سے ہوتی تھی۔ فرانس کے قبضے میں رہنے والے سب ملک بے حد پسماندہ ہوگئے اور آج تک ہیں۔ فرانسیسی نسل پرستی میں بھی ہمیشہ نمبر ون رہے ہیں۔ حتیٰ کہ جب انگریزوں کے خلاف ان کی کالونیوں میں تحریکیں چلتی تھیں تو انگریز اور ان کے حامی یہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے تمہیں چھوڑا تو فرانس والے آجائیں گے جو ہم سے ہزار گنا بدتر ہیں۔ اس بات کا مقامی لوگوں کے پاس کئی جواب نہ ہوتا تھا اور کئی برطانوی کالونیوں نے نسل پرست فرانس کے خوف سے برطانیہ کو قبول کیا۔

بنیادی طور پر فرانس ردعمل پر مبنی معاشرہ بن کر رہ گیا اور کبھی ذہنی طور پر انقلاب فرانس کے دور سے نہیں نکل سکا۔ اس دور میں بادشاہت اور چرچ کے مظالم کے ردعمل میں ابھرنے والے نظریات یعنی نیشنلزم اور سیکولرازم نے فرانس میں اتنی گہری جڑیں بنا لیں کہ انہیں وہاں متبادل مذاہب کا درجہ حاصل ہوگیا۔ فرانسیسی اپنے ان نئے مذاہب میں کٹر ہوگئے کیونکہ وہ بطور کیتھولک بھی ایسے ہی تھے اور ان کی تربیت ہی ایسی ہوئی ہے۔ (ترکوں کے اسلام اور پھر ترکوں کی سیکولرازم کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے)۔

فرانسیسیوں کا یہ رویہ صرف فرانس تک نہیں، بلکہ پوری دنیا میں ہے۔ کینیڈا کے دس صوبوں میں سے ایک صوبہ کیوبیک فرانسیسی لوگوں کا ہے۔ کینیڈا کے باقی نو صوبے جہاں مذہبی آزادی کے حامل ہیں وہاں کیوبیک میں مذہبی آزادیوں پر قدغن کے قوانین بے حد مقبول ہیں کیونکہ وہاں اس قسم کی سیکولرازم پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ (نسل پرستی میں بھی کیوبیک نمبر ون سمجھا جاتا ہے، مثلاً باقی نو صوبوں کے لوگ امریکہ کی طرح کینیڈا کو مختلف قوموں نسلوں زبانوں کا ملٹی کلچرل melting pot بنایا چاہتے ہیں لیکن کینیڈا کے فرانسیسیوں کا اصرار ہے کہ کینیڈا بنیادی طور پر انگریزوں اور فرانسیسیوں کے سمجھوتے سے بننے والا ملک ہے اور دیگر قوموں کے لوگوں کو ادھر آکر خود کو ان دونوں قوموں میں سے کسی ایک میں پوری طرح ضم ہونا چاہیے۔) دل چسپ بات یہ ہے کہ کیوبیک انیس سو ساٹھ تک براعظم شمالی امریکہ کا سب سے انتہاء پسند مذہبی علاقہ سمجھ جاتا تھا اور کٹر کیتھولک تھا۔ لیکن پھر ردعمل میں دوسری انتہاء کو نکل گیا۔ کیونکہ بنیادی طور ہر نظریات سے زیادہ رویے اہم ہوتے ہیں اور رویے وہی رہتے ہیں، نظریہ یا مذہب جو بھی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: سیکولرزم: یہ جنگ آپ ہر حال میں ہار جائیں گے ------ جاوید احمد غامدی
لبرل ازم اپناؤ، سیکولر ازم بھگاؤ -------- احمد الیاس

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20