مسلم تہذیب کا عروج و زوال: علمی، معاشی اور عمرانی تجزیہ — احمد رضا

0

تہذیبوں کے عروج و زوال کی کا تجزیہ مختلف محرکات کے مطالعے اور ان کے باہم تعلق پر استوار ہو تو منطقی طور پر اسباب و اثرات کے بارے میں آگہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مسلم تہذیب نے آغاز سے ہی سیاسی عروج دیکھا مگر جلد ہی مفتوحہ زمینوں پر بسنے والے سماج سے ارتباط و اختلاط کے بعد عروج کے وہ مراحل دیکھے جس نے صدیوں تک آنے والے دور کو متاثر کیا۔ وسیع مسلم ریاستوں نے مربوط انتظامی ڈھانچے، رواداری، علمی آزادی اور آزاد معیشیت کی بنیاد پر ترقی یافتہ تہذیب کی بنیاد رکھی۔ بد قسمتی سے مسلم تہذیب کے زوال کو عسکری نوعیت سے جوڑ کرحقائق سے پہلو تہی برتی گئی کے۔ اس تحریر کو جامع اور مختصر بنا کر مسلم تہذیب کے عروج و زوال کی علمی، سماجی، معاشی وجوہات کا احاطہ مختصر سیاسی تاریخ کے تناظر میں کرنے کی سعی کی گئی ہے۔

مسلم تاریخ کو عمومی طور پر مشرقی یا ایشیائی تناظر میں دیکھا جاتا ہے اور مغرب کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مغربی اسلامی تہذیب کے مراکز مصر، تیونس، مراکش صقلیہ (سسلی) اور اندلس ہیں۔ 750ء اسے 1050ء کا دور روشن خیالی و خوشحالی سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ تیرہویں صدی میں مسلم فلسفہ کے بعد سائنس کا زوال شروع ہو گیا۔ منگول حملوں نے مشرق میں مسلم یاستوں کے انتظامی، معاشی، سماجی، علمی اور سیاسی ڈھانچوں کو چند دہائیوں میں ملیا میٹ کرکے رکھ دیا۔

مشرق میں اسلامی تہذیب کا عروج

نظام حکومت
(Public Administration)

اموی خلافت کا مرکزدمشق یعنی شام تھا۔ 660ء سے 750ء تک اموی خلفاء یہاں سے اندلس تا سندھ حکومت کیا کرتے تھے۔ شام میں انکی متواتر مخاصمت بازنطینیوں سے رہی اور انھیں کا انتظامی ڈھانچہ امویوں نے مستعار لیا۔ اموی عہد میں اشرافیہ مکمل عرب تھی اور خلیفہ مطلق العنان نیم مذہبی منصب تھا۔ اسے مذہب کا نمائندہ شمار کیا جاتا تھا مگر وہ شریعت کے حوالے سے نئے فرامین جاری نہیں کر سکتا تھا اور فقہ کی روایات کے زیر اثر مذہبی طبقہ انتظامیہ میں شمولیت اختیار کرنے لگااہم ترین اداروں میں فوج، محکمہ مالیات و محصولات، پولیس اور ڈاک تھے مگر پہلے دو ادارے ہی اہم ترین تھے۔ 750ء میں جب فارسیوں کی حمایت سے عباسیوں نے آخری اموی خلیفہ مروان ثانی کو شکست دی تو شام سے بغداد مرکز بن گیا۔ فارسی یا ساسانی انتظامی روایات اپنائی گئیں-جلد ہی دولت کی فراوانی نے شریعت کے اخلاقی ضابطوں میں گنجائشیں پیدا کر دیں۔ زراعت، تجارت اور پھر جزیہ محصولات کے بڑے ذرائع تھے۔ عربوں نے ایک دانشمندی یہ کی کہ مفتوحہ علاقوں اور آبادیوں کو منگولوں کی طرح تباہی و بررباد کرنے کے بجائے ان پر محصولات عائد کرنے پر اکتفا کر لیا۔ انتظامیہ میں بسا اوقات چند امراء یا خاندان طاقتور ہو جاتے۔ خاندان برامکہ نے دوسرے عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور سے ہارون الرشید تک عروج دیکھا اور انتظامیہ کو بطریق احسن چلایا۔ 786ء میں ہارون کے عہد میں خلافت کی سالانہ آمدنی 53 کروڑ درہم تھی جبکہ 90 کروڑ درہم پہلے سے خزانے میں موجود تھے۔ جنس کی صورت میں محصولات اسکے علاؤہ تھے۔ سیاحت و تجارت کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی اور حکومت کی جانب سے سیاحتی کتابچے فراہم کی جاتے تھے کیونکہ تاجرو سیاح جاسوسی کا کام بھی اچھا کر لیتے تھے۔ حکومتی عہدے دار شاہراہوں، نہروں کی صفائی و کھدائی اور محصولات کی وصولی پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ 850ء کے بعد ترک غلام فوجیوں اور امراء کا کردار بڑھنے سے خلیفہ کی وقعت نمائشی ہوتی گئی اور سلاطین خلفاء کی برائے نام منظوری سے خود مختار حکومتیں قائم کرتے رہے۔

مشرق میں سیاسی انحطاط

سلجوقی سلطنت (1058ءتا 1258ء) میں ترک سردار طغرل بیگ نے قائم کی۔ الپ ارسلان 1063ء میں حکمران ہوا تو آرمینیا میں 1071ء میں اس نے رومی شہنشاہ رومانس چہارم کو شکست دی۔ آرمینیا، جارجیا، ہرات اور شام اس کے قبضے میں آگئے۔ ملک شاہ عظیم سلجوق سلطان تھا جو 1072ءتا 1092ء حکمران رہا جس نے ایشیاء کوچک سے کاشغری تک علاقہ زیر تسلط کر لیا۔ سلجوقیوں کا عروج انکے عظیم وزیر نظام الملک طوسی(1018ء تا 1092ء) کی مرہون منت تھا۔ اس نے بغداد کے برائے نام عباسی خلیفہ کو فاطمی غلبے سے بچا کر اسماعیلیوں کی دشمنی مول لی اور انھیں کے ہاتھوں قتل ہوا۔ بغداد کا مدرسی نظامیہ اسی کی کاوش تھی جہاں امام غزالی روح رواں بنے۔ اس نے مالیات، زراعت، محصولات، تجارت اور صنعت کو فروغ دیا۔ اسکے بعد سلجوق سلطنت بٹ گئی۔ ملک شاہ کے کرد غلام عمادالدین زنگی نے موصل میں 1127ء میں اپنی سماعت قائم کر لی۔ اس نے اور اسکے فرزند نورالدین نے صلیبیوں کی مزاحمت کی۔ انکے جنرل صلاح الدین ایوبی نے مصر میں فاطمی خلافت کو ختم کر کے صلیبیوں کو بیت المقدس کے حصول کیلئے شکست دے کر شہرت دوام بخشی۔ ترکوں کے ایک اور قبیلے نے مشرق وسطی میں خوارزم کے مقام پہ سلطنت قائم کی جو 1077ء سے لے کر 1231ء تک قائم رہی۔

معیشیت اور سماج

معیشیت ہی وہ گھنا درخت ہے جو سیاسی و علمی غلبے کو چھاؤں مہیا کرتا ہے۔ زراعت و تجارت کو وسعت رکھنے والی حکومت نے بھرپور مہمیز فراہم کی۔ دریائے فرات کی بہروں سے عراق اور دجلہ سے فارس آباد کیا گیا۔ ذرائع آمدورفت کیلئے شاہراہوں اور پلوں کو تعمیر کیا گیا۔ بغداد میں داخلے کیلئے دریائے دجلہ پر ہی 750فٹ چوڑے کشتیوں کے تین پل تھے۔ زمین سے سونا، چاندی، فولاد، پارہ اور قیمتی پتھروں کو نکال کر معیشیت کو مزید ترقی دی گئی۔ اونٹ، خچر، گھوڑے اور بحری جہازوں کو مال برداری کیلئے استعمال کیا جاتا۔ ریاست نے صنعت و تجارت کو آزاد چھوڑا تو مسلمان، یہودی اور عیسائی اشتراک۔ سے کاروبار کرنے لگے۔

مستحکم کرنسی نے تجارت کو فروغ دیا یعنی اشیائے تبادلہ کے بجائے خریدوفروخت کا نظام قائم ہوا۔ اموی خلیفہ عبد الملک نے سونے کے دینار اور چاندی کے درہم ڈھالے۔ دینار 75 گرام سونے جبکہ درہم 43 گرام چاندی کا تھا۔ فارس و شام کپڑے کی صنعت کا مرکز بن گئے۔ موصل اپنے سوتی و ململ جبکہ دمشق لندن میں معروف تھا۔ بغداد شیشے و ظروف سازی تو رقہ زیتون کی تجارت کا مرکز بن گیا۔ معروف سیاح ابن حوقل 975ء کے قریب ایک تاجر کے نام 42 ہزار دینار کے پرامیسری نوٹ کا ذکر کرتا ہے۔ کریڈٹ کی اس شکل کیلئے لفظ “سک“استعمال کیا گیا جو چیک کا مآخذ ہے۔ تجارتی اخلاقیات میں مسلمانوں کو عیسائیوں پر سبقت حاصل رہی۔

زراعت کو فروغ دیا گیا کیونکہ یہ محصول کا اہم ترین ذریعہ تھا۔ کھیتوں پر اکثر غلام ہی کھیتی باری کیا کرتے تھے۔ ہندوستان سے اندلس تک زرعی فصلوں کے تجربات کیے گئے۔ مالٹے کا درخت دسویں صدی میں ہندستان سے عرب اور پھر یہاں سے ایشیاء کوچک کے راستے مسلم سپین یعنی اندلس پہنچا۔ گنے کی کاشت بھی ہندوستان سے مستعار لی گئی۔

سماج کی بات کریں تو فارسی اثرات کے زیر اثر شرعی بیویوں کو زنان خانے تک محدود کر دیا گیا۔ عورت کا کردار محدود ہو گیا ماسوائے چند مثالوں کے، مثلا ہارون کی ماں خیزران اور بیوی زبیدہ ریاستی معاملات میں دخل دیتی تھیں۔ معاشرہ بنیادی طور پر زرعی تھا تو کثیرلازواجی عام تھی۔ خلفاء و امراء وسیع حرم رکھتے تھے۔ ہارون کے حرم میں دو سو جبکہ المتوکل کے ہرم میں چار ہزار کے قریب کنیزیں تھیں۔ ضیافتیں، شعروشاعری اور موسیقی تفریح کا اہم ذریعہ تھے۔ ابن سینا کی القانون میں کشتی رانی، گھڑسواری، جمناسٹک، تیر اندازہ اور نیزہ بازی جیسی کھیلوں کا تذکرہ ملتا ہے۔

نظام تعلیم

تعلیم کو ابتدائی اور ثانوی دو مرحلوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ ابتدائی یا بنیادی تعلیم کا مقصد کردار سازی جبکہ ثانوی کا مقصد علم کی منتقلی تھا۔ بنیادی تعلیم دینیاتی نصاب تک محدود تھی جبکہ گرامر، ادب اور ریاضی ثانوی نصاب کا حصہ تھے۔ اعلی رتبے کے خواہشمندوں کو مکہ، مدینہ، کوفہ، بغداد، دمشق اور قاہرہ کے عظیم اساتذہ کا وعظ سننا پڑتا تھا۔ ایک اہم تبدیلی تب رونما ہوئی جب مسلمانوں نے 712ء میں سمرقند کی فتح کے بعد چینیوں سے کاغذ سازی کا فن سیکھا۔ پہلا کاغذ سازی کا بڑا کارخانہ ہارون کے وزیر الفضل برمکی نے 795ء میں بغداد میں لگایا۔ مصر میں 800ء جبکہ مسلم سپین میں 950ء میں کاغذ سازی عروج پرتھی۔ قسطنظنیہ 1100ء، سسلی 1102ء، اٹلی 1154ء، جرمنی 1228ء اور انگلینڈ 1309 ء میں اسے استعمال کررہا تھا۔ طلباء علمی نسخوں کی نقول کرکے انکی فروخت سے اچھا خاصا کما لیا کرتے تھے۔ امراء میں کتب کے ذخیروں کا ذوق پروان چڑھا۔ عربی کو علم، ادب، فلسفے اور سائنس کی زبان بنانے والوں میں قلیل تعداد ہی عربی النسل لوگوں کی تھی۔ روشن خیالی کے عہد میں مسلمان، یہودی اور عیسائی ایک ہی ادارے میں تعلیم حاصل کر سکتے تھے۔ تاہم متوکل جس نے معتزلہ کے ردعمل میں سخت گیر مذہبی رویہ اختیار کیا، نے غیر مسلموں کی تعلیمی اداروں میں رسائی پر پابندی لگادی۔

تاریخ نویسی

محمد ابن اسحق(متوفی 767ء) نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم لکھی۔ اس کے بعد ابن ہشام نے اسے بہتر بنایا۔ ابو جعفر محمد الطبری (838ءتا 923ء) طبرستان کا فارسی النسل مؤرخ تھا۔ اس نے “کتاب الاخبارالرسل والملوک” لکھنے میں چالیس برس صرف کیے۔ 913ء تک باشاہوں اور انبیاء کے احوال اس میں درج ہیں۔ اس تاریخی ذخیرے میں ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ المسعودی (896ء تا 956ء) نے بذات خود وسطی ایشیاء، شام اور ہندوستان کا سفر کیا۔ بتیس جلدوں میں تاریخ کا انسائیکلوپیڈیا “مروج الذہب و معاون الجواہر” مرتب کیا جس میں چین سے فرانس تک کے علاقوں تک مذہب، تریخ، حیاتیات، فلسفہ و ادب کا احوال درج ہے۔ “کتاب المعلومات “میں اس نے معدنیات سے پودے، پودوں سے جانور اور جانور سے انسان کے ارتقاء کی بات کی ہے۔ رجعت پسندوں کے خوف سے اسے جلاوطنی میں قاہرہ میں فوت ہونا پڑا۔ بعد ازاں ابن خلدون آخری بڑا مؤرخ و فلسفی چودہویں صدی میں پیدا ہوا۔

سائینسی علوم کا احیاء و عروج
سائنس کے فروغ کی ابتداء

سائنس کے فروغ کی ابتداء یونانی کتب کے تراجم سے ہوئی۔ اموی دور میں عیسائی اور یہودی عالموں نے شام میں عرب مسلمانوں کیلئے یونانی و لاطینی کتب کے عربی تراجم کیے۔ شام میں اس وقت بھی لاچاری سے دوبار یونانی سائینس زندہ تھی۔ عباسی خلفاء المنصور اور المامون نے تو قاصدوں کے ذریعے طب اور ریاضی کی یونانی کتب منگوائیں۔

دارالحکمہ

المامون نے 830ء میں دو لاکھ دینار سے تراجم کیلئے عظیم اداری داررلحکمہ قائم کیا۔ ابن خلدون کے مطابق مسلمانوں پر سب سے زیادہ علمی اثرات اور بیداری یہاں پیدا ہوئے اور پانچ صدیوں تک مسلم ذہنوں کو مسحور کیے رکھا۔ گےشامی، یونانی، سنسکرت اور آرامی کتب کے تراجم کیلئے مترجمین کی فوج رکھی گئی۔ اسکا سربراہ مامون کا نسطوری عیسائی طبیب حنین ابن اسحق تھا۔ اس نے بذات خود جالینوس(گیلن) کے 39مقالے، ارسطو کی میگما مرالیا، کیٹیگریز، افلاطون کی ریاست، بقراط کی ایفارزم اور عہدنامہ عتیق کے تراجم کیے۔ مامون نے انعام کے طور پر اسکی کتب کے وزن کے برابر سونا اسے انعام میں دیا۔ ارسطو سب سے زیادہ با اثر طریقے سے منطق و سائنس کی مسلم تہذیب میں داخل ہوا۔ ادب، تاریخ اور شاعری میں مسلمانوں نے یونانی کے بجائے فارسی اثرات قبول کیے۔

یونان کے بعد دوسرا نمبر ہندوستانی کتب کا آتا ہے۔ 773ء میں ابو جعفر منصور نے کیلنڈروں کی تیاری کیلئے ہندوستانی فلکیاتی سدھانتوں کے تراجم کا حکم دیا۔ غالب امکان یہی ہے کہ صفر کا تصور بھی یہاں سے عربی علم الاعداد میں داخل ہوا۔ 813ء میں الخوارزمی نے فلکیاتی جدولوں میں ہندوستانی علم الاعداد کا ستعمال کیا۔ اس نے 835ء میں رسالہ “زیج السند الہند” لکھااعشاریہ کا استعمال اسکے بعد شروع ہوا اور اس رسالے کے لاطینی ترجمے کے بعد اعشاریائی نظام اٹلی پہنچا۔ الخوارزمی نے مامون کیلئے جغرافیہ کا انسائیکلو پیڈیا مرتب کیا اور ریاضیاتی مساواتوں پر کام کیا۔ 976ء میں محمد بن احمد نے مساوات میں اعشاریہ کی عدم موجودگی کی صورت ایک دائرے کا استعمال کیا۔ مسلمانوں نے اسے صفر، لاطینیوں نے زیغرم اور پھر اطالویوں نے زیرو کانام دیا۔

البیرونی (973تا 1048ء) مشہور فلسفی، مورخ، ریاضی دان اور سیاح تھا جو محمود غزنوی کے دربار سے وابستہ رہا۔ محمود کے دربار میں جب شمال سے آنے والے ایک سیاح نے دعویٰ کیا کہ ایک ایسا علاقہ بھی موجود ہے جہاں سورج غروب نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے کہ اسے قیید کرنے کا حکم ملتا، البیرونی نے وضاحت پیش کرکے معاملہ رفع دفع کردیا۔ اس نے “آثارالباقیہ” میں یہودیوں، فارسیوں، شامیوں، یونانیوں اور مسلمانوں کے کیلنڈروں کی تفاصیل بیان کیں۔ اسکی معروف ترین تصنیف “کتاب الہند” 1030ء میں مرتب ہوئی۔ وہبخودہندوستان گیا اور سنسکرت کے ساتھ وہاں رائج دیگر علوم سیکھے۔ ہندوستانی فلکیات پر 42 ابواب جبکہ مذہب پر محض 11 ہیں۔ وہ ہندوستان کے فلسفے پر یونان کے استدلالی فلسفے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس نے زمین کو گول قرار دے کر اشیاء کے اسکے مرکز کی جانب کھچاؤ کا ذکر کیا۔ اس نے امکان ظاہر کیا کہ وادئ سندھ کبھی سمندر کا حصہ تھی۔

جابر بن حیان (702ءتا 715ء) کوفہ کے دواساز کا بیٹا تھا۔ اس نے کیمیائی مرکبات کی تیاری پر کام کیا۔ اسکے بعد الرازی نے بھی کیمیا ہر کام کیا مگر دسویں صدی کے بعد علم کیمیا علم الاسرار کی زد میں آگیا۔

حیاتیات میں قابل ذکر نام ابوحنیفہ الدنیوری(815ءتا895ء) کا ہے۔ اس نے مشہور کتاب “کتاب النباتات ” لکھی۔ پودوں کو علم الادویات میں شامل کیا۔ اس وقت مسلمان پھلوں اور پودوں کی پیوندکاری میں مہارت رکھتے تھے۔ عمر الجاحظ (776-869ء) کو اسکی تصنیف “کتاب الحیوانات” نے شہرت دوام بخشی۔ امسعودی کی طرح اس نے ارتقاء کی بات کی۔ اس نے معدنیات سے پودے، پودوں سے جانور اور جانور سے انسان کی بات کی۔

 علم طب

عرب جراحت میں کمزور مگر دواسازی میں مہارت رکھتے تھے۔ جسم کی بہت پھاڑ کی ممانعت نے تشریح الاعضاء کو وسعت نہ دی۔ مسلمان طبیب خسرے اور بخار کیلئے بھاپ کے غسل کو تجویز کرتے تھے۔ نیند کیلئے حشیش کا استعمال عام تھا۔ پہلا معروف شفاء خانہ ” بیمارستان” تھا جو 706ء میں قائم کوا۔ 978ء تک یہاں 24 طبیبوں کا عملہ کام کررہا تھا۔ 931ء میں بغداد میں ہی آٹھ سو سے زائد تربیت یافتہ طبیب تھے۔ ماہر طبیب امراء س دربار سے وابستہ ہو کر دولت سمیٹتے۔ آزاد منش طبیب و فلسفی جو دربار سے وابستہ نہ ہوا، الرازی (844ءتا 926ء) تھا۔ اسکی 130 میں سے نصف کتب صرف طب پر تھیں۔ “کتاب الحاوی” کا ترجمہ 1935ء تک پیرس یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود رہا۔ طب پر “کتاب المنصوری” دس جلدوں پر مشتمل تھی۔ فلسفے پر کتاب لکھ کر بعض علماء کو ناراض کر بیٹھا اور قاضی نے اسی کی کتاب کو اس کے سر سے تب تک ضربیں دینے کی سزا سنائی، جب تک جلد نہ ٹوٹ جائے۔ یہ سزا اسکی بینائی کھا گئی۔ عربی لکھنے اور بولنے والا یہ فارسی دانشور 82 سال کی عمر میں کسمپرسی میں فوت ہوا۔

ہمہ جہت پرتجسس ابن سینا سترہ سال کی عمر میں بخارا کے سلطان نوح ابن منصور کا علاج کرکے اس کے کتب خانے تک پہنچا۔ جب محمود غزنوی نے اسے اپنے دربار میں بلایا تو وہ اسکی دعوت کو ٹھکرا کر امیر ہمدان کے پاس فرار ہوگیا۔ وہ امیر ہمدان کا وزیر بھی رہا مگر فلسفے پر کتب لکھ کر امراء اور فوج کے زیر عتاب اگیا۔ اسکا گھر تباہ کردیا گیا۔ اسی روپوشی میں اس نے فراغت کے باعث شہرہ آفاق طبی انسائیکلوپیڈیا “القانون فی الطب “لکھی۔ ایک صوفی کا بھیس بنا کر وہ بیوئی سلطان علاوالدولہ کے دربار جا پہنچا۔ اس نے شاعری بھی کی۔ یوکلیدس کے کام کا عربی ترجمہ کیا اور ورنئیر نما آلہ بھی ایجاد کیا۔ اسکی دوسری معروف تصنیف “کتاب الشفاء” میں ریاضی، طبیعات، مذہب اور معیشیت جیسے مضامین ملتے ہیں۔ القانون بارہویں صدی میں لاطینی زبان میں شائع ہوئی تو جالینوس اور الرازی کی اہمیت کم ہوگئی۔

 فلسفہ و دانش

مسلم فلسفے کے مختصر تجزیے سے قبل ایک جملہ جو سارے علمی سفر کی وفات کرتا ہے لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ مسلمانوں نے مسیحی شام سے یونانی ورثہ حاصل کیا اور اسکو ترقی دے کر مسلم سپین کے ذریعے مسیحی یورپ کو لوٹا دیا۔ تہذیبوں کے تصادم کی نفی پر یہ منطق دلالت کرتی ہے۔ معتزلہ مذہب کی عقلی تفسیر پر یقین رکھتے تھے، انہوں نے دانشورانہ بغاوت کی ابتداء کی۔ مامون، معتصم اور واثق کے دور میں معتزلہ سرکاری مسلک بن کے متشدد ہو گئے اور خلق قرآن کے مسئلے پر امام احمد بن حنبل سے جا ٹکرائے۔ المتوکل نے راسخ العقیدگی کو قبول کرکے معتزلہ کا خاتمہ کردیا۔ ارسطو کی کتاب “ارگنان” نے یونانی منطق سے مسلمانوں کو آشنا کیا تو اسکے اثرات ہر سو پھیل گئے۔ مسلمان افلاطون کے اس قول، اول چیز ظواہر اشیاء یعنی ظاہر نہیں بلکہ جواہر اشیاء یعنی اشیاء کی خصوصیات ہے۔

ابو یعقوب الکندی (801ءتا 873ء) دارالحکماء سے منسلک رہا۔ اس نے 268 کے قریب کتابیں اور تراجم لکھے۔ ارسطو پر اس کے کام کا سایہ آنے والے وقت پر بھی چھایا رہا۔ اس نے ارسطو کی “تھیالوجی آف ایرسٹاٹل” کا ترجمہ کیا۔ اس کے مطابق مادے کا روح سے اتصال ہوا تو انسان پیدا ہوا۔ ایک مادی عقل ہے، جسے عقل مجہول کہتے ہیں، دوسری اور حقیقی عقل، عقل فعال ہے۔ ابن سینا اور ابن رشد نے فلسفے میں اسی کی پیروی کی۔ المتوکل نے معتزلہ پر شکنجہ کسا تو الکندی ایسا زد میں آیا کہ اسکاکتب خانہ جلا دیا گیا۔ اس ضعیف شخص کو بغداد میں مجمع کے زمانے کوڑے لگائے گئے۔ حساس سوچ کا حامل الکندی اس بے توقیری پر پاگل پن کے دوروں کا شکار ہوکر دنیا چھوڑ گیا۔ اس کے بعد بغداد میں فلسفہ کا جوش ماند پڑ گیا اور فلسفی متوکل کے ترک امراء سے خوف کھا کر چھوٹے درباروں میں پناہی لینے لگے۔

الفارابی (872ءتا 950ء) درویش صوفی و فلسفی تھا۔ حلب کے سلطان نے اس کیلئے گھر فراہم کیا اور جب ماہانہ خرچ کا تخمینہ پوچھا تو اس نے محض دو درہم بتایا۔ وہ ارسطو کی طرح سمجھتا تھا، اشیاء کے مطالعے کیلیے اسکی علت، یعنی خصوصیات کا مطالعہ لازم ہے۔ تمام علتیں، علت اولی یعنی خدا کی ذات کی متقاضی ہیں۔ ابن سینا نے ارسطو کی “مابعد الطبیعات” چالیس مرتبہ پڑھیں مگر مکمل نہ سمجھ سکا۔ فارابی کی شرح پڑھیں تو پہلی بار میں ذہن میں اترگئی۔

بغداد کی سختیوں سے تنگ آکر بصرہ کے مسلمان دانشوروں نے تنظیم “اخوان الصفاء” 983ء میں بنائی جس کا مقصد اسلام میں جدت پسندی کی تجدید تھا۔ اسکی بنیاد یونانی منطق و فلسفہ، تصوف اور شریعت پر رکھی گئی۔ اس تنظیم نے 51 کے قریب مقالے لکھے۔ ان کے مطابق اخلاقیات پاکیزگی کا نام ہے۔ ذہن کوعلم کیلئے آزاد چھوڑ دیا جائے مذہببی تشبیہات فلسفے سے ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔ 1150ء میں بغداد کے علماء نے فتوے دینے انھیں بدعتی قرار دیدیا اور تقریبا سب تحریریں جلادی گئیں۔

ابن سینا منطق کا دیوانہ تھا۔ “کتاب الشفاء” اور “النجات” میں اس نے اپنے فلسفیانہ اصولوں کا اظہار کیا ہے۔ اس کے مطابق خدا کی ذات کے سوا تمام ہستیاں فانی ہیں۔ تمام فانی اشیاء علتوں کی متقاضی ہیں۔ علتوں کی کڑیوں کا سلسلہ علت اولی یعنی خدا تک لے جاتا ہے۔ مادہ عارضی ہے لہذا خدا مادہ نہیں ہو سکتا۔ روح یا عقل، علت اولی کے زیر اثر تخلیقی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ وہ اسی علت کا مظہر ہے۔ ابن سینا عقیدے اور منطق میں مفاہمت کا بڑا پرجوش حامی تھا۔ لہذا زیر عتاب اگیا۔ جلد ہی راسخ العقیدگی اور تصوف کی لہر نے مشرقی اسلام میں فلسفے کا چراغ گل کردیا۔

ادب

عرب ہمیشہ سے ہی شاعری کے دلدادہ تھے۔ رومانوی شاعری کے ذریعے شعراء نے درباروں میں بہت دولت سمیٹی۔ ایک نظم کے بدلے ہزاروں دینا انعام واکرام کے تذکرے ملتے ہیں۔ المسعودی نے ایک فارسی کتاب کے ترجمے کا ذکر الف لیلی کے نام سے کیا۔ حسن ابن ہانی، ابونواس کے نام سے معروف تھا۔ ہارون الرشید کے دربار سے وابستہ رہ کر عیش کی زندگی بسر کی۔ شعراء کی تعداد بے حد طویل ہے۔ ابو العلاء المعری (973ء تا 1057ء) ایک ولی جیسی زندگی گزارنے والا شاعر جس نے ہٹ کر نظمیں لکھیں۔ اس نے گوشت خوری سے احتراز کیا۔ بیک وقت اسکی شاعری مذہبی طبقہ و سرمایہ داری کے خلاف ردعمل بھی لگتی ہے تو کہیں عقلیت پسندی کی حامی بھی۔ فردوسی (935ءتا 1026ء) نے محمود کے دربار سے وابستگی اختیار کی۔ محمود نے اسے فارسی قوم کی تاریخ “شاہنامہ” لکھنے پر ایک شعر کے بدلے ایک اشرفی دینے کا وعدہ کیا۔ فردوسی 60 ہزار اشعار تخلیق کر کے لایا تو محمود نے چاندی کے درہم پیش کردیے۔ فردوسی غزنی چھوڑ گیا۔ محمود نے پشیمانی محسوس کی تو ایلچی کے ذریعے اشرفیاں بھوائیں۔ جب ایلچی شہر میں داخل ہوا فردوسی کا جنازہ جا رہا تھا۔ بغداد جا کر فردوسی نے قصہ یوسف و ذولیخہ لکھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فارسی قوم پرستی کی علامت شاہنامہ ایک ترک سلطان کی ایماء پر تخلیق ہوا۔ تخلیق کی دنیا میں تعصب ماند پڑ ہی جاتاہے۔

مغرب میں اسلام

حضرت عمر العاص رض کے دور میں مصر فتح ہوا تو نئے شہر الفستات کی بنیاد رکھی گئی۔ قاہرہ اسی کی ہی توسیع ہے۔ 670ء میں کارتھیج یعنی تیونس فتح ہوا اور بعد ازاں مراکش تک شمالی افریقی فتوحات پھیل گئیں۔ اسے مغربی صوبہ کہا گیا۔ اس کے تین انتظامی مراکز تھے۔

ا- الفستات (مصر)
ب- قیروان ( تیونس)
پ- فاس ( مراکش)

بعد ازاں سسلی اور مسلم سپین بھر علیحدہ مراکز بن گئے۔ عباسی دور میں افریقہ خود مختار ہو گیا۔ فاس میں ادریسی سلطنت (789ءتا 974ء) قائم ہوئی۔ قیروان میں اغلبی سلطنت (800ء تا 905ء) وجود میں آئی۔ ترک طولونی سلطنت 869ء تا 905ء) نے الفستات کو مرکز بنایا۔

فاطمی سلطنت

 شمالی افریقہ میں شش امامی اسماعیلی تحریک نے زور پکڑا تو اس تحریک کے رہنما ابو عبداللہ نے 905ء میں قیروان میں اغلبی سلطنت کا تختہ الٹ کر، عرب سے عبداللہ بن محمد کو بلوا کر909ءمیں پہلا فاطمی خلیفہ بنوا دیا اور جلد ہی خود بھی اپنے خلیفہ کے حکم پر قتل ہوا۔ آخرکار 969ء میں فاطمیوں نے اکشیدیوں سے مصر چھین لیا۔ فاطمی خلیفہ المعز نے قاہرہ کو نیا دارلخلافہ بنا دیا۔ معز (953ءتا 975ء) اور اس کے بیٹے العزیز (975ءتا 996ء) کا دور فاطمیوں کے عروج اور خوشحالی کا دور تھا۔ اسکی سب سے بڑی وجہ انکا وزیراعظم یعقوب ابن قلس تھا۔ وہ 969ء میں وزیر معاشیات اور 979ء تا 991ء اپنی موت تک وزیر اعظم تھا۔ وہ بغداد میں پیدا ہوا اور یہودیت ترک کرنے والا نومسلم تھا۔ اسکی انتظامی اور معاشی اصلاحات نے تجارت اور زراعت کو ترقی دی اور خزانہ مال ودولت سے بھر گیا۔ وہ خود بھی ایک عالم تھا اور علماء کی سرپرستی بھی کرتا تھا۔ اسکی مالی معاونت سے جامعتہ الازہر قائم ہوا۔ الحاکم (996ء تا 1021ء) متلون مزاج اور پراسرار شخصیت کا مالک تھا۔ مامون کی طرح اس نے بھی دارالحکمہ قائم کیا۔ مگر جلد اس نے رواداری کی حکومتی پالیسی کو تبدیل کرکے غیر مسلموں پر سختیاں کیں۔ وہ پراسرار طور پر قتل ہوا۔ لبنان میں بسنے والے دروز مذہب کے لوگ اسے خدا کا اوتار قرار دیتے ہیں۔ المستنصر (1036تا 1094ء) آخری اہم خلیفہ تھا جس کا عہد طویل مگر درباری وزراء کی سازشوں کا شکار رہا۔ ترک تمام نظام حکومت پر حاوی ہو گئے۔ اس کے بیٹے مستعلی نے بڑے بھائی نزار کو شکست دے کربقتل کر دیا۔ مستعلی کے ماننے والے جنوبی ایشیاء میں داؤدی بوہرہ، جبکہ نزار کے ماننے والے آغاخانی کہلاتے ہیں۔ 1171ء میں صلاح الدین ایوبی جو آخری فاطمی خلیفہ کا وزیر تھا، نے خون کا قطرہ بہائے بغیر آخری فاطمی خلیفہ کی موت پر قاہرہ کی جامعہ مسجد میں جا کر عباسی خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھ دیا۔

فاطمی عہد میں تہذیبی ترقی

فاطمی فلسفہ اور علم کے معاملے میں روادار تھے اور عیسائی و یہودی انتظامیہ کا حصہ بھی رہے۔ الحاکم کے دور میں شاہی کتب خانے ایک لاکھ سے زائد کتب پر مشتمل تھا۔ مختصرا ابن الہیثم (965 ءتا 1040ء) معروف ترین ہئیت دان، فلسفی اور انجینیر تھا۔ وہ بصرہ میں پیدا ہوا اور فاطمی خلیفہ کے پاس قاہرہ اگیا۔ “کتاب المناظر” اسکی شہرت کی وجہ ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ بصارت آنکھ سے نہیں نکلتی بلکہ اشیاء کی ہیئت آنکھ میں داخل ہوتی ہے۔ اس نے نیل پر اسوان ڈیم طرز کا منصوبہ پیش کیا مگر ٹیکنالوجی کے عدم موجودگی میں اسے ادھورا چھوڑنا پڑا۔ ابن الجزار (905ءتا984ء ) معروف ماہر طب تھا۔ اس نے تیس سے زائد کتب تحریر کیں۔ بدقسمتی سے فاطمی عہد کے تحقیقی کام حالات کےجبر میں تباہی ہو گئے۔

سسلی(صقلیہ) اور مڈی ٹرینیں میں مسلم تہذیب کے اثرات
(مسلم تہذیب کا خوبصورت اور مختصر پڑاؤ)

بربروں نے اغلبی سلطنت کے تعاون سے جنوبی اٹلی کے جزیرے سسلی جسے وہ صقلیہ کہتے تھے پر قبضہ کر لیا۔ کورسیکا 809ء، سارڈینیا 810ء، کریٹ 823ء اور مالٹا 870ء میں مفتوح ہوا۔ فاطمی عہد میں سسلی کے حکمران خود مختار ہو گئے اور مسلم سپین کی طرح طائفے وجود میں آئے۔ مسلمانوں نے سسلی میں پالیرمو کی بندرگاہ قائم کرکے اسے تجارت کا مرکز اور یورپ کا گنجان آباد شہر بنا دیا۔ مسلمانوں نے مقامی کسانوں سے اشتراک کے بعد جدید زراعت کو فروغ دیا تو ترقی کا دور شروع ہو گیا۔ 970ء میں ابن حوقل نے اپنے سفرنامے میں پالیرمو میں 300 سے زائد مساجد کا ذکر کیا ہے۔ 1091ء میں پوپ کی حمایت سے نارمنوں نے صقلیہ واپس لے لیا۔ تین دہائیوں تک وہاں کے مسلم طائفون نے مزاحمت کی مگر نارمنوں نے سب سے پہلے پالیرمو چھینا تو مسلمان معاشی طور پر کمزور ہو گئے۔ سیراکیوس آخری مفتوح مسلم شہر تھا۔ 1240 ء میں بھی یہاں بیس ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل مسلم ابادی تھی جسے بغاوت پر جلاوطن کردیا گیا۔ دراصل سسلی کی فتح کے بعد ہی صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا کیونکہ پوپ کی حمایت سے عیسائیوں کی کاوش کامیاب ٹھہری تھی۔

 مسلم سپین (الاندلس)
(مسلم تہذیب کا درخشاں باب)

مغربی صوبے کے اموی گورنر موسٰی بن نصیر اور اس کے بربر سپہ سالار طارق نے 712ء میں مقامی یہودیوں اور چند ناراض عیسائی امراء کے تعاون سے سپین فتی کر لیا۔ 732ء میں جنوبی فرانس میں عبد الرحمن الرفیقی کی ٹولوز کے مقام پر فرانس کے چارلس مارٹل کے ہاتھوں شکست ہوگئی تو مغربی یورپ عیسائیت کیلئے محفوظ ہو گیا۔ 756ء تب مغربی صوبے، قیروان سے مسلم۔ سپین پر حکومت کی جاتی تھی لہذا یہ تب تک پسماندہ رہا۔ 756ء میں عباسیوں کے چنگل سے فرار ہونے والے اموی شہزادے عبد الرحمن الداخل نے اندلس میں اموی حکومت قائم۔ کی۔ اس نے معروف مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی۔ عبد الرحمن الدوئم (822ءتا 852ء) نے قرطبہ کو عالیشان شہر میں تبدیل کردیا۔ عبد الرحمن سوئم (912ء-961ء) عظیم ترین حکمران ثابت ہوا۔ باغی شیروں کو مطیع کرکے اس نے رواداری کوفروغ دیا۔ تمام۔ مذاہب کی مجالس قائم کرکے انکا سربراہ بنا۔ 929ء میں اپنی خلافت کا اعلان کردیا۔ اس کے دور میں مسلم سپین، علم، ادب، فن، تجارت اور خوشحالی کا گہوارہ بن گیا۔ ذہن نشین رہے کہ یہ اندلس جنوبی سپین تک محدود تھا، شمال عیسائی حکمران واپس حاصل کر کے تھے۔ اس کے بیٹے حکم دوئم (961ءتا 975ء) نے قرطبہ کو اہل علم کا گڑھ بنا دیا۔ ریاست میں مدرسوں، ہسپتالوں اور شاہراہوں کی تعمیر ہوئی۔ اس میں زیادہ ہاتھ اس کے یہودی وزیر ہسدائی ابن شبروت کی انتظامی قابلیت اور یاد رہے کہ یہودی مسلم سپین کی ابادی کا کم از اہم 10٪تھے۔ سپہ سالار المنظور کی عسکری صلاحیتوں کا تھا۔ المنظور نے اسکے نابالغ بیٹے ہشام دائم (976 ء -1009ء) کو تخت نشین کرکے اقتدار خود سنبھال لیا۔ المنظور نے قرطبہ کے مشرق میں مدینے الزہرہ خوبصورت شہر بسایا جسکے آثار تاحال موجود ہیں۔ ہشام دوئم نے فوج کے زیر اثر شاہی کتب خانے میں فلسفے کی کتب جلوا دیں۔ 1027ء میں بربروں اور مختلف گروہوں کے مابین جنگ نے طوائف الملوکی کو ہوا دی تو اندلس کی اموی خلافت کا نام مت گیا۔ طائفوں میں معروف عبادی سلطنت 1023ء میں ابو قاسم محمد نے قائم۔ کی۔ اس کے بیٹے معتضد اور اس کے المعتمد (1068ء-1091ء) کے دور میں آدھا مسلم سپین انھیں خراج دیتا تھا۔ کیسٹائل کے النانسو ششم نے 1085ء میں تولیدو کو فتح کرکے مسلم طائفون کو خوفزدہ کردیا۔ قرطبہ، تولیدو، اشبیلیہ، ویلینشیاء وغیرہ اہم ترین مسلم شہر تھے۔ المعتمد اور دیگر طائفون نے مراکش کے المراوی حکمران یوسف بن تاشفین کو پکارا اور 1086ء میں الفانسو کو شکست دی۔ 1091ء میں المعتمد نے الفانسو سے مل کر یوسف کے خلاف اتحاد بنایا مگر یوسف نے انھیں شکست دے کر باقی ماندہ مسلم سپین کو کنٹرول میں لے لیا۔ اب اندلس مراکش کا صوبہ تھا۔ الموراوی 1056ء تا 1147ء حکمران رہے انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں کو انتظامی عہدوں سے الگ کر کے اشتراکی تعلیمی اداروں پر پابندی لگا دی۔ یہودیوں کے انخلاء اور عدم دلچسپی کا انتظامی صلاحیت اور معیشیت پر برا اثر پڑا۔ مسلم سپین وسائل کی کمی کا شکار ہونے لگا۔ ۔ پھر الموحادون (1130ءتا 1269ء) حکمران رہے۔ عبدالمومن (1145ءتا 1163ء) اور اس کے بیٹے ابو یعقوب یوسف (1163ءتا 1184ء) کے دور میں مراکش اور اندلس نے پھر سے خوشحالی کے دن دیکھے۔ انہی کے دربار سے ابن طفیل اور ابن رشد وابستہ تھے۔ پھر ابو یوسف یعقوب المنصور (1184ءتا 1199ء) نے مذہبی طبقے کے آگے ہتھیار پھینک دئیے۔ ابن رشد بالخصوص زد میں آیا جسکا ذکر آگے آئے گا۔ اسکے المنصور کے بیٹے محمد الناصر (1199ءتا 1214ء) کو سپین کی عیسائی افواج سے شکست کا سامنا ہوا۔ 1236ء میں قرطبہ، 1238ء میں ویلنشیا اور 1248ء میں اشبیلیہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا اور وہ جنوب مشرق یعنی غرناطہ میں پسپا ہو گئے۔ ڈھائی سو سالہ مزاحمت کے بعد 1492ء میں غرناطہ نے ہتھیار ڈال دیے اور 1509ء میں مور اندلسی مسلمانوں کو سپین سے جلاوطن کردیا گیا۔ ایک ترقی یافتہ تہذیب سیاسی و علمی زوال کے بعد اپنا وجود کھو کر تاریخ میں گم ہوگئی۔

 مسلم سپین کی تہذیبی ترقی

رقبے میں کم ہونے کے باوجود۔ ڈلم سپین میں صنعت، تجارت اور زراعت نے اموی سپین کو محصولات کے انبار دییے اور کبھی عوام پراسکا بوجھ محسوس نہ ہوا۔ مسلمانوں نے زراعت کو مفتوحہ لگوں کے سپرد ہی کیا۔ سائنسی بنیادوں پر زراعت کو ترقی دی۔ دریائے الکبیر جو قرطبہ اور اشبیلیہ سے ہو کر گزرتا تھا، پر اب بھی مسلمانوں کے نظام آب پاشی کے آثار موجود ہیں۔ مسلم سپین نے چاول، گنا، انار، کپاس، پالک، گنا، لیمو، کھجور اور چکوترہ وغیرہ سے یورپ کو روشناس کرایا۔ اندلس میں سونے، چاندی، سلفر، ھست اور سیسے کی کانوں نے صنعت کو فروغ دیا۔ قرطبہ جب اموی خلافت کا مرکز تھا، تو یہاں تیرہ ہزار سے زائد جولاہے موجود تھے۔ ڈاک کا نظام، مستحکم کرنسی اور برآمدات کیلئے ہزاروں بحری جہاز موجود تھے۔ 1248ء میں غرناطہ کے محمد بن الاحمر نے الحمراء کی تعمیر کا آغاز کیا۔ جیومیٹری کی اشکال پر تعمیر یہ عمارت اب بھی سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔

مسلم سپین میں سائینسی و علمی ترقی

ابن حزم (994ء-1064ء) آخری اموی دور میں وزیر تھا۔ اس نے “مذاہب اور فرقے” کے نام سے علم الادیان پر مشہور کتاب لکھی۔ تولیدو کے ابراہیم الزرقلی (971ءتا 1029ء) نے فلکیاتی آلات بنائے۔ کوپر نیکس نے اپنے مقالے میں اس کا ذکر کیا ہے۔ عبد الرحمن سوئم کے طبیب ابوالقاسم الزہراوی(936ءتا 1013ء) نے طب کا انسائکلوپیڈیا “التصریف“لکھ کر یورپ میں شہرت سمیٹی۔ اس میں سرجری کے بعض طریقوں کا بھی اندراج ہے۔ ابو عبداللہ الادریسی 1100ء میں کیوڑا میں پیدا ہوا اور قرطبہ میں تعلیم حاصل کی۔ سسلی کے راجر دوئم کیلئے “کتاب الروجری” لکھی۔ اس میں اپنے دور کے بہترین نقشے تھے۔ ضیاء الدین ابن بیطار( 1197ء تا 1248ء) اپنے عہد کا عظیم ماہر نباتیات اور دواساز تھا۔ اشبیلیہ کے ابن زہر (1162ء تا 1091ء) نے اپنے دوست ابن رشد کے اصرار پر “کتاب التاثیر” لکھی۔ اس میں تپ دق، سینے کی رسولیوں اور لقوے کا تجزیہ ہے۔

امام غزالی بمقابلہ ابن رشد
( ( منطق اور عقیدت کی حتمی لڑائی اور مسلم دانشوری کا زوال)

امام ابو حامد الغزالی (1058ءتا 1111ء) طوس میں پیدا ہوئے اور مدرسی نظامیہ سے منسلک ہوئے۔ بیماری کے باعث گوشی نشین ہوئے، صحت یاب ہو کر اپنے  روحانی تجربے اور صوفی ہونے کا بھی اعلان کیا۔ اس سے قبل اہل تصوف و شریعت میں مخاصمت تھی جو امام غزالی کے بعد خاصی کم ہوئی۔ “تحافت الفلاسفہ” یعنی فلسفے کی تباہی میں انکا موقف تھا کہ منطق عقل کی کنگالی اور سماجی بگاڑ کی مؤجب ہے۔ “احیاء علوم الدین” میں تعلیم میں راسخ العقیدگی داخل ہو گئی۔ نصاب کیلئے علوم دین کو کافی قرار دیدیا گیا۔ البتہ ریاضی اور جغرافیہ کسی حد تک نصاب میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ منطقی و استدلالی علوم کا دروازہ اس کے بعد مشرق میں بند ہوگیا۔

ابو بکر ابن طفیل ( 1107ءتا، 1185ء) معروف فلسفی تھا جو الموحادون حکمران ابو یعقوب یوسف کا وزیر تھا۔ ابو یعقوب کوئی تخلیقی کام اپنے نام سے منسوب کروانی چاہتا تھا۔ ابن طفیل نے ارسطو کے کام اور شرح ہے تحقیق کیلئے قرطبہ کے قاضی ابو الولید ابن رشد (1125ءتا 1198ء) کا نام تجویز کیا۔ ابن رشد نے بخوبی انجام دیا۔ انہوں نے “تحافت التحافہ” لکھی۔ وہ منطق اور علت کو علم اور دین کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ عقل کے ذریعے علتوں کا سلسلہ علت اولی یعنی خدا تک پہنچا جا سکتا ہے۔ معرفت کے بجائے وہ عقل کو رہنما مانتے ہیں۔ جلد ہی راسخ العقیدہ مذہبی طبقہ اور فوج ابن رشد کے خلاف ہو گئے۔ اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھ کر عمامہ اتار لیا گیا۔ قاضی کے حکم سے اسکی کتب نذر آتش کردی گئیں۔ یہودیوں کی باری لوسینیاء میں اسے جلاوطن کردیا، جن کے درمیان اس نے اپنا کام بوجوہ جاری رکھا۔ پشیمان حکمران کچھ برسوں کے بعد ابن رشد کو معاف کر کے 1198ء میں دربار میں بطور طبیب بلالیا۔ مگر اسی برس ابن رشد فوت ہو گیا۔ اندلس چند برس بعد مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلا تو ابن رشد یورپ کا معروف ترین فلسفی بن گیا جو مذہب اور منطق کے مابین مصالحت کا حامی تھا۔

منگول حملہ اور مسلم تہذیب کی تباہی

چنگیز خان (1162ءتا 1227ء) کی قیادت میں جنگجو منگول خوارزم سے مشرقی مسلم علاقوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے۔ چار دہائیوں میں سمرقند، بلخ، مرو، نیشاپور اور ہرات چند برسوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ فروری 1258ء میں چنگیز کا پوتا ہلاکو بغداد میں داخل ہوا اور شہر تباہ و برباد کردیا۔ منگولوں نے اپنے پیچھے سلگتے شہر، انسانی کھوپڑیوں کے مینار، تباہ شدہ فصلیں، جلتے کھیت اور خاکستر لائبریریاں چھوڑیں۔ منگول حملے کا نقصان یہ ہوا کہ سات سو برس سے پروان چڑھتا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا۔ تعلیمی ادارے، معیشیت اور زراعت ختم ہوگئے تو وسائل کی کمی نے ہر شعبے کو بنجر و ہلکان کردیا۔

نتائج

منگول مشرق اور صلیبی مغرب میں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ اس دوران مصر جو مملوکوں کے زیر تسلط تھا۔ سلطان رکن الدین بیبرس (1260ءتا 1277ء) کی رہنمائی میں عین الجالوت، فلسطین میں منگولوں کو شکست دے کر انکی پیشقدمی روک دی۔ سو برس میں منگول مسلمان ہو گئے مگر انکا عسکری رویہ ہمیشہ کیلئے نئے سیاسی نظام کا جزو لاینفک بن گیا۔ جب مسلمانوں نے اس زوال کے خلاف ردعمل دیا تو بدقسمتی سے مذہبی علماء کا حکمرانوں سے الحاق ہو گیا اور منطق کیلئے کوئی جگہ نہ رہی۔ ابن خلدون کو چھوڑ کر پھر کوئی بڑا دانشور پیدا نہ ہوا مگر سیاسی و عسکری شخصیات کی بہتات رہی۔

اس تباہی کے بعد تین مسلم سلطنتیں وجود میں آئیں۔ ترک عثمانی مشرق وسطی سے لے کر مشرقی یورپ تک، ایران میں صفوی اور ہندوستان میں مغل۔ یہ تینوں منگول ذہنیت یعنی عسکری ڈھانچے پر قائم تھیں۔ معیشیت، علم اور انتظامی بنیادوں کو کبھی بنیاد بننے کو موقع نہ ملا۔ راسخ العقیدگی اسطرح پروان چڑھی کہ مدارس میں مذہبی تعلیم دی جاتی تھی اور انتظامی عہدے انھیں ہی ملتے تھے۔ نتیجہ آج جمود کا شکار مسلم تہذیب ہے۔

مختصر تجزیہ

یہ موضوع بہت وسیع ہے۔ قارئین کی توجہ کا تسلسل قائم رکھنے کیلئے ایک ہی تحریر میں اختصار کے ساتھ پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ مختصرا مسلم تہذیب کے زوال کی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں۔ عروج کے اجزاء درج ذیل ہیں

ا- رواداری
ب- آزاد معیشیت (زراعت، تجارت)
پ- جدید عسکری ڈھانچہ
ث- انتظامی ڈھانچہ
ٹ- آزاد علمی و ماحول اور مباحث

رواداری نے بلا تخصیص رنگ، نسل، مذہب قابل لوگ فراہم کیے۔ آزاد معیشیت نے علم، فوج، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی ڈھانچے کیلئے وسائل مہیا کیے۔ رواداری نے بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت اور علم کو فروغ دیا۔ تہذیب کے زوال کے اسباب کا مطالعہ نئی سوچ کیلئے مواد فراہم کرتا ہے جو سماجی و سیاسی جمود کی بیڑیاں توڑ دیتا ہے۔

اس موضوع سے دلچپسی رکھنے والے قارئین یہ مضمون بھی ملاحظہ کریں
مغربی تہذیب: خوشحالی کا ارتقاء اور ذرائع --- احمد رضا سلیم
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20