کیا عقیدے سے جان چھڑانا ممکن ہے؟ —- وحید مراد

0

دنیا میں کوئی انسان، انسانی گروہ یا تہذیب ایسی نہیں گزری جو کسی نہ کسی عقیدے پر یقین نہ رکھتے ہوں۔ تہذیبوں کی تاریخ کو اگر عقیدے کی تاریخ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ ہر تہذیب کی بنیاد چند مابعدالطبیعاتی تصورات پر ہوتی ہے۔ مثلاً تصور انسان، تصور جہاں، تصور خیر و شر، تصور کائنات اور تصور خدا وغیرہ۔ انہی مابعد الطبعیاتی تصورات کو اس تہذیب کے عقائد و اصول کہا جاتا ہے۔ غیر الہامی روائتی تہذیبیں یہ عقائد و اصول اپنے تہذیبی تجربات، قدیم اساطیر اور رسوم و رواج سے اخذ کرتی ہیں جبکہ الہامی روائیتی تہذیبیں یہ عقائد و اصول، وحی کی تعلیمات سے اخذ کرتی ہے جو اللہ کی طرف سے انبیاء کرام ؑ کے ذریعے انسانیت کی ہدایت کیلئے عطا کی جاتی ہیں۔ روائتی الہامی اور غیر الہامی تہذیبوں کے عقائد واصول میں فرق تو پایا جاتا ہے لیکن ایک بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس مادی کائنات سے الگ ایک مابعد الطبعی حققیت پائی جاتی ہے جو اس کائنات کی خالق و مالک ہے۔

جدید مغربی تہذیب، روائتی اور مذہبی تہذیبوں سے بالکل الگ قسم کی چیز ہے۔ اسکی بنیاد ہی اس اصول پر ہے کہ انسانی وجود آزاد ارادے کا حامل ہے اور قائم بالذات ہے اور اسکے وجود کے باہر صرف مادی و معروضی کائنات پائی جاتی ہے۔ اس مادی کائنات کے باہر کسی مابعد الطبیعاتی حقیقت کا کوئی وجود نہیں، یہ کائنات خود وجود میں آئی اور خودکار طریقے سے ہی آگے بڑھ رہی ہے۔ چنانچہ اس تہذیب نے تمام مابعد الطبعیاتی حقائق اور انکے نتیجے میں تشکیل پانے والے عقائد و اصول کا انکار کیا ہے لیکن اس انکار کا یہ مطلب نہیں کہ اس نے ہر قسم کے عقائد سے جان چھڑا لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انکے علوم و فنون، سماجیات و معاشیات، ریاست و سیاست، سائنس و ٹیکنالوجی الغرض زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو عقیدے و ایمان سے آزاد ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ انکے عقائد و ایمان کا محور و مرکز انکی عقل، نفس اور خواہشات ہیں جبکہ روائتی تہذیبوں کے عقائد کی بنیاد وحی، الہام، وجدان، اساطیر اور رسوم و رواج ہیں۔ اس مضمون میں اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وحی پر مبنی دینی عقائد اور عقل و خواہشات پر مبنی سیکولر عقائد میں کیا فرق ہوتا ہے اور عقل و آزاد ارادے کو راہنما ماننے والے انسانی گروہوں اور تہذیب نے واقعی عقائد کی ہر صورت کو رد کر دیا ہے یا انہی عقائد نے بھیس بدل کر انکے ہاں مختلف افکار و نظریات اور اداروں کی شکل اختیار کر لی ہے؟

عقیدہ اور اعتقاد :

عقیدہ لفظ ‘عقد’ سے ماخوذ ہے جس کے معنی کسی چیز کو باندھنا ہے یا مضبوط بندھی ہوئی گرہ کو کہتے ہیں۔ شریعت میں عقیدہ دین سے متعلق اس خبر یا بات کو کہتے ہیں جو دل میں خوب جم جائے کہ اس کے خلاف سوچنے یا عمل کرنے کی ہمت نہ ہو، اس کے خلاف سننے یا دیکھنے سے دل پر چوٹ سی لگے۔ یعنی یہ دل کی تصدیق اور حقیقت دل کے عمل کا نام ہے۔

امام شوکانی کے مطابق اعتقاد سے مراد وہ کیفیت اور حالت ہے جو صاحب اعتقاد کو صورت مجردہ (Abstract form) یا کسی شے کے ثبوت یا کسی شے کی نفی پر یقین والا بنا دے۔ اعتقاد کو تصدیق بھی کہتے ہیں’ چاہے یہ اعتقاد پختہ ہو یا غیر پختہ، امر واقعہ کے مطابق ہو یا غیر مطابق’ دلائل سے ثابت ہو یا نہ ہو۔ اس طرح ‘جہل مرکب’ بھی اعتقاد کی تعریف میں داخل ہے کیونکہ وہ ایک ایسا اعتقاد ہے جو أمر واقعہ کے مطابق نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں تقلید بھی اعتقاد کی تعریف میں شامل ہے کیونکہ اس میں کسی شیء کے ثبوت یا نفی کے بارے میں یقین کی کیفیت کسی دوسرے کے قول کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ البتہ ‘جہل بسیط’ اعتقاد کی تعریف میں شامل نہیں ہے کیونکہ وہ علم اور اعتقاد کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے (یعنی جہل بسیط اس شخص کی جہالت ہے جس میں علم حاصل کرنے کا مَلکہ ہو اور وہ علم حاصل کر سکتا ہو لیکن پھر بھی جاہل رہے)۔ الحاد، دہریت اور لادینیت(Atheism) جو کہ اللہ پر ایمان کی ضد ہے یا ایمان کا صریحاًٍ انکار ہے اپنی اصل میں ایک عقیدہ ہی ہے مگر ایمانی نقطہ نظر اسے فاسد عقیدہ کہیں گے۔

عقیدہ اور ایمان:

دینِ کی تعلیمات کو سچا جاننا اور دل سے ان کی تصدیق کرنا ایمان ہے۔ اکثریہ سوال اٹھایا جا تا ہے کہ کیا عقیدہ اور ایمان متبادل الفاظ ہیں؟ اگر آپ غور سے دیکھیں تو اِن دونوں کی اپنی اپنی دلالت ہے اور اپنا اپنا استعمال۔ مثلاً آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ’فلاں شخص کا عقیدہ درست نہیں‘ یا یہ کہ ’اُس کے عقیدہ میں خرابی ہے‘ لیکن یہ کہنا آسان نہ ہو گا کہ ’فلاں شخص کا ایمان درست نہیں، یا اسکے ایمان میں خرابی ہے‘۔ عقیدہ کی اصطلاح کی اصل افادیت یہی ہو سکتی ہے کہ کسی کے ’ایمان“ کو موضوعِ بحث بنائے بغیر اُس کے یہاں پائی جانے والی اُن اشیاءکی اصلاح کر دی جاتی ہے جن پر وہ اپنے تئیں ایمان رکھتا ہے۔ اگر اسکے ہاں کوئی بگاڑ یا انحراف پایا جاتا ہے تو بلا خوفِ ملامت اُس کی بھی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ عقیدہ کا لفظ اسلاف یعنی (صحابہ، تابعین و اتباعِ تابعین) کے ہاں کثرت سے اس لئے استعمال ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ دنیا میں مبعوث ہوئے تو لوگوں کو آپ پہ نازل شدہ حقیقت پر ایمان لانا تھا اور یا پھر کھلا انکار کرنا تھا۔ آپ کے ہوتے ہوئے اِس بات کا امکان ہی نہ تھا کہ اسلام کا کوئی اور ’ایڈیشن‘ پایا جاتا۔ البتہ بعد ازاں اسلام کے نام پر ہی بہت کچھ پایا جانے لگا۔ یوں پہلے جس چیز پر ایمان لایا جانا ضروری تھا، اب اُس کی چھان پھٹک کر لینا بھی ضروری ہو گیا تھا چنانچہ امت کی تاریخ میں دورِ نبوی کے بعد بہت جلد ایسا ہو گیا کہ آدمی کو خالص اسلام پر ایمان بھی لانا تھا مگر اس سے پہلے خالص اسلام کے بارے میں معلوم بھی کرنا تھا۔ یعنی اب اُس کو ایک کی بجائے دو کام کرنا تھے۔ یوں اول الذکر کو تو ”ایمان“ ہی کا نام دیا گیا، البتہ ثانی الذکر کیلئے ائمۂ سلف کے ہاں ”صالح اعتقاد“ کا لفظ بولا گیا۔ اب ایمان کی دعوت کے ساتھ ساتھ وہ ”مستند مندرجات contents “بھی موضوعِ بحث آئے جن کو غیر مستند مندرجات سے چھانٹ دیا جانا ضروری تھا۔ اِن ”مستند مندرجات“ کے لئے ”عقیدہ“ کا لفظ استعمال ہونے لگا اور ان کو قلب و جوارح میں روپذیر کرانے کا نام بدستور ”ایمان“ ہی رہا۔ آج بھی ”ایمان“ کی درست تعریف کرنے تک کیلئے آپ کو ”عقیدہ“ کے کچھ معروف مباحث کی جانب رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے۔

عقیدہ، اعتماد، توکل، بھروسہ اور یقین:

اگر انسان کو کوئی علم درجہ یقین تک نہ پہنچا سکے تو اس علم کو ہرگز عقیدہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عقیدہ اسی علم و بھروسہ کا نام ہے جس میں کسی قسم کا شک و گمان نہ ہو۔ اسی طرح اگر کوئی اعتقاد حق اور واقع کے مطابق نہ ہو؛نہ اس اعتقاد پر کوئی دلیل ہو تو وہ عقیدہ صحیحہ نہیں ہو سکتا بلکہ عقیدہ فاسدہ ہے۔ اسلام میں عقیدہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ عبادت اور اعمال صالحہ سے پہلے عقیدہ صحیحہ کی معرفت لازم ہے۔

توکل علی اللہ ایمان کی روح اور توحید کی بنیاد ہے۔ اسباب اختیار کرکے نتیجہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر چھوڑ دینے کا نام توکل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کے بعد اہل ایمان کو جس کی تعلیم دی گئی ہے وہ اس پر توکل اور بھروسہ ہے۔ اعتماد اوربھروسہ مکمل ایمان ہے۔ اعتماد میں یقین کرنے اور قبول کرنے کا عمل شامل ہوتا ہے۔ یقین تب ہوتا ہے جب آپ کسی خیال کو قبول کرتے ہیں قطع نظر اسکے کہ یہ منطقی ہو یا غیر منطقی۔ مشاہدے کی تبدیلی کے ساتھ یقین میں تبدیلی آسکتی ہے لیکن اعتماد مستقل ہوتا ہے۔ اعتقاد ایک فکر ہے لیکن اعتماد مکمل ایمان ہے۔ اعتماد محبت کے بعد آتا ہے اور ایمان محبت لاتا ہے۔ ایمان کا انتہائی درجہ ایقان کہلاتا ہے۔

عقیدت، شخصیت پرستی اور تقلید:

لغوی اعتبار سے عقیدت کے معنی ہیں گرویدگی۔ کسی بات کو ٹھیک اور درست مان کر اس پر دل جمانا جبکہ اصطلاحاً عقیدت اس دلی کیفیت کا نام ہے جو کسی شخصیت، چیز، یاعلاقہ سے گرویدگی کی حد تک وابستہ ہو۔ شخصیت کی محبت و ارادت دل میں راسخ ہو۔ جس طرح عقیدہ کا تعلق دل سے جڑا ہوتا ہے ویسے ہی عقیدت کا محور ومرکز بھی دل ہی ہوتا ہے۔ یعنی عقیدہ سے جو نسبت بنتی ہے اسے عقیدت کہتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ ‘عقیدہ’ کا استعمال بہت خاص اور اہم مقامات پر استعمال ہوتا ہے لیکن ‘عقیدت’ کا اطلاق عام معنوں میں یعنی کسی شخصیت اور علاقے وغیرہ سے وابستگی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

عقیدت مندی اور شخصیت پرستی، قلبی محبت اور دلی وابستگی کی بنیاد پر ایک جیسی ہی ہیں یعنی دونوں صورتوں میں انسان اپنے ممدوح سے اعلیٰ درجے کی محبت اور ارادت رکھتا ہے مگر عقیدت مندی میں اتباع علی وجہ بصیرت ہوتا ہے جبکہ شخصیت پرستی میں کورانہ تقلید کا جذبہ موجود ہوتا ہے یعنی عقیدت میں محبت درجہ اعتدال میں ہوتی ہے اور شخصیت پرستی میں غلو کی آمیزش ہوتی ہے۔

تقلید کے لغوی معنی پیروی ہے۔ یہ اتباع، اطاعت اور اقتداء کا ہم معنی لفظ ہے۔ کوئی آدمی کسی دوسرے کے قول و فعل میں دلیل طلب کئے بغیر اسکو حق سمجھتے ہوئے اتباع کرے تو وہ تقلید ہے۔ اصطلاحی معنوں میں دلیل کا مطالبہ کئے بغیر کسی امام یا مجتہد کی بات کو لینا تقلید ہے۔ دین کے اصولوں اور عقلی احکام میں تقلید جائز نہیں ہوتی۔ یعنی وہ احکامات جو وضاحت اور صراحت سے معلوم ہوں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوۃ، حلا ل و حرام وغیرہ میں تقلید جائز نہیں۔ وہ احکام (فروعی) جن کو استدلال کے بغیر نہیں جانا جا سکتا ان میں تقلید ہو سکتی ہے۔ مسائل کی تحقیق میں کسی فقیہ سے مستفید ہونے کو تقلید مطلق اور کسی عامی کا کسی خاص شخص کے علم و کمال پر بھروسہ کرکے اسکے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کرنے کو تقلید شخصی کہتے ہیں۔

عقیدہ، اصول دین اور عمل:

اسلام میں عقیدہ، ‘اصول دین’ کے نام سے بھی معروف ہے۔ انسان جو عقیدہ رکھتاہے وہ اس انسان کے دنیاوی زندگی کے تمام نظریات و افکار پر حاکم ہوتا ہے اور انسان کے ہر کام اور قول و قرار میں اس کی جھلک نظر آتی ہے۔ اصول دین کے مقابلے میں فروع دین ہے، جو دین کا وہ حصہ ہےجس کا تعلق عمل سے ہے۔ اسلام کے بنیادی اصول توحید، نبوت اور معاد(قیامت) ہیں جن پر تمام مکاتب فکر کا اتفاق ہے لیکن اہل تشیع کے نزدیک امامت اور عدل بھی بنیادی اصول ہیں۔

اسلام کی نظر میں عقیدہ(اصول) ہی عمل کی مقبولیت کی اساس و بنیاد ہے لہٰذا کسی عمل کے مطلوبہ آثار و نتائج پانے کے لئے صرف اس عمل کا صحیح ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ وہ صحیح عقیدہ کی بنیاد پر صادر ہوا ہو۔ قرآن کریم میں تسلسل کے ساتھ عمل صالح کو ایمان کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔ الذین آمنو ا وعملوالصالح (وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ انجام دیئے)۔

عقیدہ، فکر و نظر اور تعبیر و تشریح کا اختلاف:

عقیدے میں گرہ کی طرح کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں ہوتی جبکہ فکر و نظر میں زاویہ نظر بدلتا رہتا ہے۔ عقیدے میں تغیر نہیں پایا جاتا جبکہ فکر و نظر میں تغیر و تحرک پایا جاتا ہے۔ عقیدےکا تعلق ان حقائق سے ہوتا ہے جن کے ماضی، حال، یا مستقبل میں وقوع پذیر ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر جو بات قطعیت کے ساتھ کہہ دیں وہی حرف آخر ہے۔ ایمانیات کی بنیادی باتیں مثلاً اللہ تعالیٰ کا وجود، توحید باری تعالیٰ، فرشتوں کا وجود، قیامت کا وقوع، جنت اور دوزخ وغیرہ، یہ سب باتیں وہ ہیں جن کے بارے میں ہمارے ایمان کی بنیاد قرآن و سنت کی صریح نصوص ہیں۔ اس کے برعکس دو انسانوں کے فکر و نظر کا زاویہ الگ الگ ہونے سے کسی بھی معاملہ میں دونوں کی فکر مختلف ہو سکتی ہے۔ اور ایک ہی شخص کی فکر بھی ایک وقت میں ایک، جبکہ دوسرے وقت میں حالات و معلومات میں فرق واقع ہونے سے پہلے سے مختلف ہو سکتی ہے۔

نفس عقیدہ، اور اس کی تعبیر و توضیح دو الگ الگ چیزیں ہیں اور دونوں کا حکم بھی الگ الگ ہے۔ مثلاً جنت کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ جنت موجود ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس لیے یہ بات قطعی اور جامد ہے کہ جنت کا وجود ہے اور اس میں آج یا کل یا آئندہ کبھی دوسرے کسی احتمال کی قطعی طور پر کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اس کی تعبیر و تشریح مثلاً جنت کہاں واقع ہے؟ اس کی وسعت کتنی ہے؟ اور اس کی دیگر کیفیات کیا ہیں؟ ان باتوں کا تعلق معلومات اور فکر و قیاس سے ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں اپنی اپنی معلومات اور فکر و قیاس کی بنیاد پر ارباب علم کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ اسے عقیدہ کا اختلاف نہیں کہتے بلکہ یہ تعبیر و تشریح کا اختلاف کہلاتا ہے اور اس کی گنجائش علمی دنیا میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔

عقیدہ اور ورلڈ ویو Worldview:

ایک ورلڈ ویو کسی فرد یا معاشرے کے پورے علم یا نقطہ نظر پر محیط، دنیا اور انسانیت کے بارے میں ایک بنیادی رائے، سوچ اورسمت ہوتی ہے۔ لیکن اس اصطلاح کو مذہبی عقائد کے تناظر میں بننے والی سوچ اور رائے یا مذہبی ڈسکورس کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح برٹش اور امریکن اسکولوں میں مذہبی تعلیم کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے جس میں مذہبی عقائد، روایات اور رسوم و رواج شامل ہوتے ہیں۔ کسی معاشرے کے ورلڈ ویو کو اسکی مجموعی تاریخ، عقائد، رسومات اور ثقافت سے الگ کرنا ممکن نہیں۔

ورلڈ ویو کی بنیادی لازمی خصوصیات میں پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اصطلاح زندگی کے بارے میں مذہبی اور سیکولر خیالات کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ مغربی معاشروں میں پچھلی چند دہائیوں سے سیکولر عقائد عام ہو گئے ہیں اور زندگی کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جہاں سیکولر عقائد اور مذہبی عقائدمیں واضح فرق اوراختلاف ہے۔ ان اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے زندگی کے بارے میں پورے معاشرے کی ایک مجموعی رائے کو ورلڈ ویو کا نام دیا جاتا ہے۔ ورلڈ ویو کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ آج کے مغربی معاشروں میں انفرادیت بہت عام ہو گئ ہےاور لوگوں کے ذاتی نظریات اور رائے دیگر لوگوں سے بہت زیادہ مختلف اور متنوع ہیں اس لئے جب ورلڈ ویو کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے مراد ذاتی نظریہ نہیں ہوتا بلکہ کسی معاشرہ کا مجموعی منظم نظریہ اور عقائد ہوتے ہیں جو وہ زندگی کے بارے میں مختلف روایات، مذہبی اقوال، تاریخ، رسومات، اقدار، اورآئیڈلز کی روشنی میں ترتیب پاتے ہیں۔ اس لئے عیسائی ورلڈ ویو یا ہندو ورلڈویو کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا ہر ماننے والا لازمی طور پر عیسائیت اور ہندو ازم کے تمام عقائد پر یقین رکھتا ہو بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ عیسائی اور ہندو معاشرے میں پنپنے والی ایک مجموعی سوچ اور عقائد۔

ورلڈ ویو کی تیسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ چند بنیادی وجودی اور مابعد الطبیعاتی سوالات کے جوابات کے سلسلے میں جس مجموعی شعور کا اظہار کرتا ہے یا جو پوزیشن لیتا ہے، ورلڈ ویو اسکی عکاسی کرتا ہے۔ یا سادہ الفاظ میں یہ کہہ لیں کہ ورلڈ ویو کسی معاشرے کے مجموعی تصور جہاں، تصور انسان، تصور اخلاق، تصور زندگی، مقصد زندگی، تصور موت، تصور کائنات، تصورحقیقت اور تصور خدا کی عکاسی کرتا ہے۔

عقیدہ اور آئیڈیالوجی Ideology :

آئیڈیالوجی ایک فرد یا افراد کے گروہ سے منسوب عقائد یا نظریات کا ایک مجموعہ ہوتاہے۔ خاص طور پرایسے نظریات جن کی حیثیت خالصتاً علمی نوعیت کی نہیں ہوتی۔ اور جس میں اعمال کی اہمیت اتنی ہی نمایاں ہوتی ہے جتنی نظریات کی۔ اس اصطلاح کا آغاز 1796 میں Antoine Destutt de Tracy نے کیا جو کہ فرانس کی تحریک تنویر کے زمانے کے، اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے فلسفی تھے۔ اور اسے اس وقت کے اکثریتی مذہبی سیاسی خیالات کی مخالفت کرنے کیلئےایک عقلی سیاسی اعتقاد کے طور پر متعارف کرایا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز و دیگر کمیونسٹ اسکالرز و رہنمائوں نے بھی اس اصطلاح کو طبقاتی جدوجہد کے تناظر میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریات و عقیدے کے طورپر استعمال کیا۔ یہ اصطلاح مثبت اور منفی دونوں معنوں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ نپولین بونا پارٹ نے اسے اپنے لبرل مخالفین کے “مخالفانہ تعصب” کیلئے استعمال کیا لیکن بعد ازاں اس اصطلاح کو “باغیانہ و انقلابی عقائد، عزائم و جذبات” کیلئے بھی استعمال کیا گیا۔ کچھ مصنفین نے اسے نیوٹرل ٹرم کے طور پر بھی استعمال کیا ہے جس میں انہوں نے اسکا مطلب “سیاسی، معاشی، معاشرتی حوالے سے ایک مستقل سوچ، رائے اور نظریات کا مربوط نظام” لیا ہے جو حقیقت کے بارے میں کچھ بنیادی مفروضوں پر انحصار کرتا ہے اور ان مفروضات کا ثابت شدہ ہونا یا صحیح ہونا ضروری نہیں۔ آئیڈیالوجی کے ماننے والوں میں برائے نام ماننے والوں سے لیکر سچے عاشق اور عقیدت مندوں تک ہر قسم کے لوگ ایسے ہی شامل ہوتے ہیں جیسے کسی مذہب اور عقیدے میں ہوتے ہیں۔

سماجی ماہرین کے خیال میں آئیڈیالوجی، مختلف سوشل گروپس کے درمیان، ادارہ جاتی اور معاشرتی اتحاد و یگانگت پیدا کرنے کا ایک لازمی عنصر ہےاور یہ لوگوں کو اسی طرح جوڑ کر رکھتا ہے جیسے کوئی عقیدہ اور مذہب اپنے ماننے والوں کو باہم متحد رکھتا ہے۔ امریکی فلسفی ایرک ہوفر Eric Hoffer نے آئیڈیالوجیز میں ایسے بہت سے عناصر کی نشاندہی کی ہے جنکی شکل بالکل عقائد جیسی ہے اور جو اپنے پیروکاروں کو متحد رکھنےمیں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان عناصر میں مخالفین سے نفرت، قائدین کی شخصیت پرستی اور اندھی تقلید، دوسروں میں جوش و خروش پیدا کرنے اور قائل کرنے کیلئے پروپیگنڈا کرنا، اپنے نظریے کے منوانے کیلئے جبر، تشدد اور جنون کا استعمال، مخالفین کی جاسوسی، اختلاف رائے پر دبائو، پیروکاروں سے روشن مستقبل کے حسین وعدے اور مخالفین کی ناکامیوں اور نامرادیوں کی پیشنگوئیاں وغیرہ شامل ہیں۔

آئیڈیالوجی اور نظریات جہاں انسانوں کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں وہاں انسانوں کے درمیان نفرت، دشمنی اور جنگوں کا موجب بھی بنتے ہیں۔ آسٹریلین رائٹر Julianne Schultzاپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ نظریات اور آئیڈیالوجی کے تشدد اور تباہی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جنگ عظیم اول اور دوم کے دوران آئیڈیالوجیز کے اختلاف کے نام پر جو گھنائونے اقدامات کئے گئے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ یورپ میں جب مذہبی عقائد کے اختلاف کی بنیاد پر جنگیں ہوئیں تو لوگوں نے مذہب کو حقارت کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا لیکن مذہبی شعور کی شکست کے بعد کمیونسٹ آئیڈیالوجی نے اسکی جگہ لے لی اور اسکے اقدامات مذہبی عناصر سے زیادہ ظالمانہ تھے۔ فرانسیسی فلسفی لیوٹارڈ نے جب کہا کہ “مہابیانیے کے دن اب ختم ہو چکے” تو اتفاق سے اس وقت کمیونزم اپنے اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے شکست و ریخت سے دوچار ہو رہا تھا اور پھردھڑام سے گر گیا تو لوگوں نے وقتی طور پر یہ سمجھا کہ لیوٹارڈ کی پیشنگوئی درست ثابت ہو گئی لیکن بہت جلد دنیا آئیڈیالوجی اور عقائد کی جنگ کی طرف واپس لوٹ گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ عقائد رنگ و روپ تو بدلتے رہتے ہیں لیکن یہ انسانی دل و دماغ سے ہمیشہ کیلئے کبھی ختم نہیں ہوتے۔

عقیدہ اور سیاسی مذہب:

سیاسی مذہب کا نظریہ حکومتی نظریات سے تعلق رکھتا ہے جسکی ثقافتی اور سیاسی حمایت کی صورت میں وہ ایک ریاستی مذہب کے مترادف طاقت حاصل کر لیتا ہے اور وہ اکثر نظریہ اور عمل دونوں میں نمایاں مماثلت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ پارلیمنٹ اور انتخاب کی طرح سیاست کی بنیادی شکلوں کے علاوہ اس میں حکومت کے اندر موجود اداروں سے متعلق سیکولرائزیشن کا ایک پہلو بھی موجود ہے اور داخلی اقدامات بھی فراہم کرتا ہے جو روائیتی طور پر مذہبی معاملات سمجھے جاتے ہیں جیسے اخلاقیات، علامتیں، رسومات وغیرہ۔

سیاسی مذہبی پارٹیاں جیسے نازی پارٹی بڑے پیمانے پر ملک میں ثقافتی اور سیاسی طاقت کے آئیڈیل پر عمل پیرا تھی اور دیگر سیاسی و مذہبی تنظیموں کی طرف سے نازی ازم کا مقابلہ ایک مخالف سیاسی مذہب ہونے کے ناطے ہی کیا گیا تھا۔ سیاسی مذاہب عام طور پر روائیتی مذاہب کا مقابلہ کرتے ہیں اورانکو تبدیل یا ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیٹیکل سائنسٹسٹ ہنس مائر نے پہلی بار اس طرف توجہ دلائی تھی۔ شاید مطلق العنان معاشرے سیاسی مذہب کا زیادہ شکار ہوتے ہیں لیکن مختلف اسکالرز نے جمہوری نظاموں میں بھی سیاسی مذہب کی خصوصیات بیان کی ہیں مثال کے طور پر “امریکی شہری مذہب” یا “سول مذہب”جس کی تفصیلات رابرٹ بیلا نے بیان کی ہیں۔

سیاسی مذہب کی اصطلاح اس مشاہدے پر مبنی ہے کہ بعض اوقات سیاسی نظریات یا سیاسی نظام، مذہب سے وابستہ عام خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ جن اسکالرز نے ان مظاہر کا مطالعہ کیا ہے ان میں ولیم کونولی(پولیٹیکل سائنس)، کرسٹوف ڈونشمن(سوشیالوجی)، ایمیلیو جینٹل (تاریخ)، اولیور اوڈونوون (الہیات) اور بعض دیگر شامل ہیں۔ ایک سیاسی مذہب اکثر روائیتی مذہب کی طرح اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی خلا پر قبضہ کرتا ہے اور اسکے نتیجے میں وہ اکثر موجود مذہبی تنظیموں اور عقائد کو بے دخل کر دیتا ہے۔ ایک سیاسی مذہب کا اہم نشانہ سیاست میں پرانی عقیدت مندیوں کی جگہ نئی عقیدت مندی شامل کرنا ہوتا ہے تاکہ لوگوں میں نئے عقائد کے مطابق خدمت کرنے کا ایک زبردست احساس پیدا ہو جیسے امریکہ میں ریاست کے بانی باپ کے ساتھ عقیدت۔ سیاسی مذہب کے پاس اپنے الگ کوئی روحانی اور ماورائی عناصر عقیدت نہیں ہوتے اور یہ دیگر مذاہب کی علامتوں کو ہی معمولی ردوبدل کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ سیاسی مذاہب کو عام طور پر سیکولر سمجھا جاتا ہے لیکن اسکی بہت بنیادپرستانہ شکلیں بھی موجود ہیں۔

اٹھارویں صدی کے فلسفی جین جیک روسو نے استدلال کیا تھا کہ لوگوں کو آپس میں جوڑ کر رکھنے کیلئے تمام معاشروں کو مذہب کی ضرورت ہے۔ چونکہ عیسائیت لوگوں کو دنیاوی معاملات سے دور رکھتی تھی اس لئے روسو نے ایک ایسے “سول مذہب ” کی وکالت کی جو لوگوں میں، ریاست کے اندرسیاسی اتحاد کیلئے رابطے کا ذریعہ ہو۔ ایڈولف کیلر نے استدلال کیا کہ سویت یونین میں مارکسزم سیکولر مذہب میں تبدیل ہوا۔ جرمن نژاد سیاسی فلسفی ایرک وائجلن نے امریکہ ہجرت سے قبل “سیاسی مذاہب” کے نام سے ایک کتاب لکھی اسکے بعد کئی لوگوں اس موضوع پر کتابیں لکھیں۔ کچھ لوگوں نے سیاسی مذہب کو جدیدیت، اور بیوروکریٹک ریاست کے عروج کی وجہ سے پیدا ہونے والے وجودی خلا، غیر یقینی صورتحال اور nihilism کے ردعمل کے طور پر دیکھا ہےمگر سیاسی مذاہب میں روائیتی مذاہب کے خلاف بغاوت ہر کسی نے نوٹ کی ہے۔ ایک سیاسی ماہر جوآن لنز نے نوٹ کیا کہ بیسویں صدی کی سیکولرائزیشن نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس پر گرفت حاصل کرنے کیلئے کلیت پسندانہ اورمطلق العنانی پر مبنی سیاسی نظریات روائیتی مذاہب کا متبادل بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

عقیدہ اورجدید عقلی و تجربی علوم:

درحقیقت عقیدہ اس اداراک کا ایک لازمی جزو ہے جسے ہم علم کہتے ہیں۔ معروضی علم اعداد و شمار اورمعلومات کے بامعنی اور بامقصد مجموعے کا نام ہے اور اسے ہم تجربے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، یہ چیزوں کی قدرتی حالت کے تجربے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہمارے آس پاس کی دنیا کے حقائق سے بھی ماخوذ ہوتا ہے۔ علم اشیاء کے مابین فرق اور مشابہت کیلئے ضروری ہے۔ مگر فلسفی اور مفکرین وجود کے بارے میں بھی علم کی تلاش کرتے ہیں، سائنس دان، مواد اور جسمانی اشیاء کے بارے میں بھی سچائیوں کا تعاقب کرتے ہیں اور فطری مظاہر پر کام کرتے ہوئے پوشیدہ حقائق کا پتہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ علم اگرحقیقت کی تلاش ہے تو پھر اعتقاد علم کی ضروری شرائط اور پہلوئوں میں سے ایک ہے۔

عقلی علوم اور مذہب کے تصورات حقیقت الگ الگ ہیں اس لئے دونوں کے تصور علم میں بھی فرق ہے۔ تصور علمیت کا حقیقت کے مابعد الطبیعاتی تصور سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جس طرح مذہبی تصور حقیقت کی بنیاد عقیدے اور ایمان پر ہے اسی طرح عقلی علوم اور فلسفے کے تصور حقیقت کی بنیاد بھی کچھ ایسے مابعد الطبیعاتی دعوں پر ہے جو اعتقادات اور اایمانیات کی طرح ہی ہیں۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ مذہبی اعتقاد اوریقین کو اعداد و شمار کی ضرورت نہیں ہوتی یہ اصولوں کے ارد گرد گھومتا ہے اور عقلی اعتقاد، مشاہدات، اعداد و شمار اور منطقی قضایا کے گرد گھومتا ہے۔ عقلی علوم کے تصور حقیقت میں انسان کو قائم بالذات تصورکیا جاتا ہے اس لئے ان کے ہاں انسان کے علاوہ اور کوئی خدا نہیں ہوسکتا۔ کائنات اور تمام موجودات علت و معلول کے قانون کے تحت رواں دواں ہیں۔ اگر انسان اس علت و معلول کے سلسلے کو دریافت کر لے تو اس کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے اور اسے قابو میں لاکر اس پر اپنا تسلط قائم کر سکتا ہے۔ یہ سب کچھ انسانی عقل سے ممکن ہے اس لئے ان علوم کے نزدیک عقل ہی ہر چیز کی میزان ہے اور یہ خود کسی اور شے کے تابع نہیں گویا عقل انسانی قائم بالذات ہے اور یہی انسان کا اصل جوہر ہے۔ کائنات کی ہر معروضی حقیقت کی معنویت یہ ہے کہ وہ انسانی ارادے اور خواہش کی تکمیل کرتی ہو۔ یعنی اسکا مقصد زیادہ سے زیادہ انسانی خواہشات کی تکمیل کا سامان کرکے انسان کے ارادہ کو کائنات پر مسلط کرتے ہوئے اسے آزادی سے ہمکنار کرنا ہے۔ اس لئے انسان کا قائم بالذات ہونا، آزاد ارادہ، تسخیر فطرت سے انسانی خواہشات کی تکمیل، آزادی اور مساوات کا حصول، وغیرہ اسکے بنیادی اصول اور عقائد ہیں۔

عقل پر مبنی مادی سائنسی و سماجی علوم کا اعلیٰ ترین معیار قطعیت اور داخلی ہم آہنگی ہوتا ہے لیکن ایمان کا معیار وہ طریقہ اوراس پر خلوص نیت سے کیا گیا عمل ہوتا ہے جو اللہ کا بھیجا ہوا نبیؑ بتاتا ہے اور کرکے دکھاتا ہے۔ عقلی علوم کے نزدیک معروضیت ہی حقیقت ہے اور ہر وہ شے جو معروضی نہیں حقیقی نہیں ہے۔ یہ علوم آج تک نہ اپنی پیش کردہ حقیقت کا کلی ادراک کر سکے ہیں اور نہ ہی اس حقیقت کو تلاش کرنے کا سفر کبھی ختم ہوگا مگر ان کے نزدیک ہر وہ ذریعہ جو اس معروضیت(حقیقت) کو جاننے اور اس تک رسائی ممکن بناتا ہے وہ ذریعہ علم معتبر ہے اور جن ذرائع سے معروضیت(حقیقت) تک پہنچنا ممکن نہ ہو وہ معلومات علم کا درجہ نہیں رکھتیں۔

عقلی و تجربی علوم معروضیت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن کوئی تجربہ مکمل طور پر معروضی نہیں ہوتا، ہر تجربے کا بنیادی تعلق کسی نظریے سے ہوتا ہے۔ ہر مشاہدہ درحقیقت ایک زبان میں بیان کیا جاتا ہے اور ہر زبان درحقیقت خاص قسم کے نظریات ہی کو بیان کرتی ہے اس لئےمشاہدات و تجربات کیلئے تیقنات اور ایمانیات لازمی ہیں۔ ہر زیر غور مشاہدہ کسی تھیوریٹیکل نالج سے جڑا ہوتا ہے اور مشاہدات و تجربات کسی طے شدہ نظریے کی صداقت جانچنے کیلئے ہی کئے جاتے ہیں۔ گویا مشاہدہ خود نظریے کا محتاج ہے اور نظریے کی شکل ایمان، اعتقاد اور تیقن جیسی ہی ہوتی ہے۔

جدید کونیات محض طبیعات ارضی کی توسیع ہے جو اس مفروضے اور عقیدے پر مبنی ہے کہ طبیعات کے تمام قوانین جو زمین پر لاگو ہوتے ہیں انکا اطلاق تمام کائنات پر ہوتا ہے۔ ہر وہ چز جس کی پیمائش آلات سے نہ ہو سکتی ہو اسکے موضوع سے خارج ہے۔ پس جدید کونیات کلاسیکی طبیعات کے علاوہ جدید طبیعات اور کوائٹم میکانیات کی قابل پیمائش دنیا تک محدود ہے جبکہ اسکے برعکس آغاز تخلیق کائنات کے بارے میں اسلام کے یا کیس دورے روایتی مذہب کے عقائد حقیقت کے پورے عرفان پر مبنی ہیں۔ حقیقت میں صرف ذاتی باری تعالیٰ ہی نہیں بلکہ تمام ملکوتی یا غیر مادی جہات بھی شامل ہیں جن پر کائنات کے طبیعی پہلوئوں کے بارے میں نئی تحقیقات و انکشافات کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جدید کونیات کے نظریات ہر دس سال بعد تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ان نظریوں کے بارے میں قیاس آرائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کائنات کے بارے میں ہر وہ نظریہ جسے حتمی، آخری اور حیرت انگیز نظریے کے طور رپیش کیا جاتا ہے وہ چند سالوں میں ہی کسی دوسرے سائنسدان اور اسکی مشاہداتی آلات سے یکسر تبدیل ہو جاتا ہے اس طرح یکے بعد دیگرے نظریات کی قطار لگ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر زمانہ حال میں متعدد نظریے مشہور ہیں کثیر نوعی کائناتیں Multiple Universes، سٹرنگ تھیوری String Theory، بگ بینگ تھیوری Big Bang Theory اور ان نظریات کی صحت کے بارے میں دلائل کا ایک انبار لگ چکا ہے اور یہ دلائل کا انبار طلسم ہوشربا سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

عقیدہ اور سائنٹزمScientism :

جب کسی معاملے میں سائنس کا اطلاق نہیں ہو سکتایا جب کوئی موضوع سائنسی طریقہ تفتیش کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، ایسا سیاق و سباق جہاں سائنسی نتیجہ اخذ کرنے کیلئے ثبوت ناکافی ہوتے ہیں، سائنس عمومی و آفاقی اصول اخذ کرنے یا طے کرنے کے قابل نہیں ہوتی، اور کچھ لوگوں کی سائنس دانوں کے دعوں کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہوئے، کسی بھی مطلوبہ نتیجے کو اخذ کرنے کیلئے سائنسی رفاقت کو بروئے کار لانے کی خواہش، سائنس کے نام پر غیر منطقی اسلوب اختیار کر لیتی ہے تو اس رویے کو سائنٹزم کا نام دیا جاتا ہے۔ عام الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سائنٹزم کا مطلب ہےاپنے کسی اعتقاد کو ثابت کرنے کیلئے سائنس اور سائنسی دعووں کا بے دریغ استعمال یا یہ کہہ سکتے ہیں سائنٹزم دراصل سائنس کو ایک عقیدے کے طور پر اپنانے کا نام ہے۔ سائنٹزم، سائنس کو فروغ دینے کا ایک نظریہ اور عمل ہے جسکا بنیادی مقصدیہ ہے کہ معاشرہ اپنی اقدار کا تعین سائنس کے اتباع میں کرے۔

Tom Sorell کے مطابق “سائنٹزم، نیچرل سائنس کو، دوسرے سماجی و ثقافتی علوم و شعبہ جات پر بہت زیادہ اہمیت دینے کا نام ہے”، الیکزنڈر روزن برگ جیسے فلسفی کہتے ہیں کہ” سائنٹزم، ایک ایسےنظریےاور اعتقاد کے طور پر اپنا یا گیا ہے جس کے مطابق سائنس ہی علم کا واحد قابل اعتماد ذریعہ ہے”۔ سائنٹزم، سائنسی طریقہ کار اور نقطہ نظر کے عالمگیر اطلاق کوبیان کرنے، اسے سب سے زیادہ مستند ماننے، انسانی علوم اور ورلڈ ویو میں اسے سب سے زیادہ قیمتی متاع سمجھنے، اور اس بات پر اعتقاد رکھنے کا نام ہے کہ انسان، دنیا، اور کائنات کے بارے میں سائنسی طریقہ ہی وہ واحد طریقہ ہے جو صحیح اور مستند علم مہیا کرتا ہے۔

2010 میں ایمسٹرڈم یونیورسٹی کے Bastiaan Rutjens کی سربراہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ “ارتقائی نظریات کو اتنے منظم اور مربوط طریقے سے پیش کیا گیا کہ لوگوں نے خدا کے مقابلے میں ان پر زیادہ اعتماد کرنا شروع کر دیا، اس طرح سائنس کے حق میں عقائد کو جذباتی انداز سے تحفظ دیا جاتا ہے اورپروان چڑھایاجاتا ہے خواہ وہ نظریات جھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ یعنی سائنس کے حق میں، غیر سائنسی اور غیر منطقی انداز میں کیا گیا گہرا یقین، اوراعتقاد کے تعصب و بغض کا دفاع، بعض اوقات غیر منطقی انتہا پسندی کی ایک اور شکل ہوتا ہے“۔

جبب ادبی تھیورسٹ Stanley Fish نے رچرڈ ڈاکنز پر شدید بوچھاڑ کی تو رچرڈ ڈاکنز نے جواب میں لکھا کہ “سائنس کو اسباب مہیا کرنے سے پہلے ایمان کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جو لوگ ارتقاء کے نظریے کو قبول نہیں کرتے انکا تعلق ایک مختلف مسلک کی جماعت سے ہے”۔ سنجیدہ سائنس دان اس بیان پر بہت برہم ہوئے کیونکہ یہ بیان تو سائنس اور مذہب کو دو مختلف کلامی مذاہب کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔

جو ماہرین معاشیات، فلسفی، سائنسدان اور ماہرین ہمیں یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ سائنس، گرو بندی، تعصب، مالی، سیاسی اور ذاتی محرکات کی زد میں ہے وہ بہت داد کے مستحق ہیں۔ کیونکہ کچھ سائنسدان اور ماہرین بحثیت فردصرف یہ پسند کرتے ہیں کہ انکی تھیوری صحیح ہے اور جو ثبوت انہوں نے پیش کئے ہیں وہی درست ہیں اور اس سلسلے میں وہ متعصبانہ رویہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سائنس بحثیت مجموعی یا بطور ادارہ انفرادی سائنسدانوں سے مختلف ہے۔ سائنس ایسی شرائط قائم کرتی ہے جہاں عقلی دلیل اور معروضی تجربات پھلنے پھولنے کے قابل ہوں، جہاں مختلف تھیوریز کی جانچ پڑتال کی جا سکے، جہاں لوگ تعصب کا شکار نہ ہوں کیونکہ سائنسدان کو ہم عقیدہ لوگوں کے گروہ کی طرح نہیں ہونا چاہیے کہ جو ہر چیز کو تعصب کی عینک سے دیکھے۔

عقیدہ اور الحادAtheism :

کسی اعتقاد کیلئے صرف یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ “خدا کے وجود” کو ماننے پر بنیاد رکھتا ہو، خدا کو نہ ماننے والے عقائد بھی مذاہب کی لسٹ میں ہی شمار ہوتے ہیں جیسے بدھ مت، جین مت، الحاد میں خدا کا کوئی تصور نہیں لیکن پھر بھی انکے عقائد مذاہب کی طرح ہی ہیں۔ Paul James and Peter Mandeville خدا کو ماننے والے اور نہ ماننے والے مذہب کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “مذاہب کا مخصوص عقائد، علامات اور اعمال پر مشتمل ایک پابند نظام ہوتا ہےجو وجود کی نوعیت کی نشاندہی کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ میل جول، تعلقات، عداوت اور دیگر مابعدالطبیعاتی تصورات کیلئے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے”۔

اگرچہ الحاد کوئی منظم مذہب نہیں ہےلیکن الحاد بہرحال ایک نظام عقائد اور مذہبی ورلڈ ویو اورنظریہ ہے کیونکہ اس کی بنیاد ثابت شدہ حقائق کی بجائے مفروضات اور دعوں پر ہے۔ جس طرح مذہبی لوگ ایک وثوق اور یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ “خدا موجود ہے”، اسی طرح ملحدین بھی اتنے ہی وثوق اور یقین کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ “خدا موجود نہیں ہے”۔ فرق صرف یہ ہے کہ مذاہب کے پاس عقائد کا ایک نظام ہوتا ہے جودنیا اور آخرت کی اساس مابعد الطبیعاتی اور روحانی حقائق پر رکھتا ہے لیکن الحاد صرف ایک دنیاوی مذہبی نظریہ ہے جسکا آخرت وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن جہاں تک حقیقت کے بارے میں بنیادی معلومات جاننے کے دعوے کی بات ہے الحاد کا دعویٰ بھی مذاہب کی طرح ہی ہے اور مذاہب کی طرح انکی زندگی کا بارے میں تمام تصورات ایک عقیدے کے گرد ہی گھومتے ہیں خواہ وہ عقیدہ دیگر مذاہب کی رو سے باطل اور فاسد ہی کیوں نہ ہو۔

Peter Murphy اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ” متعصب اور سخت گیر مذہبی لوگوں کی طرح ملحدین بھی متعصب اور سخت گیر ہوتے ہیں اور جو بھی شخص انکے ایک خاص ورلڈ ویو کی حمایت نہیں کرتا وہ اس کیلئے ناراضگی اور غصے کا اظہار کرتے ہیں”۔ Lan Johns جوکہ ٹائم اینڈ انٹرٹینمنٹ کے رائٹر ہیں، ملحدین کی مشکلات کے نام سے ایک ڈاکومینٹری میں یہی بیان کرتے ہیں کہ “ملحدین کی شدت پسندی بائیبل کے بنیاد پرستوں اور شدت پسندوں سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے”۔ امریکہ میں سیکولیرٹی سے متعلق ایک اسٹڈی میں فرینک پاسکل نے یہ نوٹ کیا کہ “ملحدین بھی سیکولر ہیومنسٹس کے طور پر بنیاد پرست اور شدت پسند پائے گئے ہیں“۔

ہربرٹ اسپنسر نے اپنی کتاب فرسٹ پرنسپلز میں لکھا کہ کائنات کی ابتدا کے حوالے سے تین مفروضے ممکن ہیں پہلا یہ کہ یہ خود بخود وجود میں آئی (ملحدین کا مفروضہ)، اس نے اپنے آپ کو خود تخلیق کیا (پینتھزم) اور اسے کسی بیرونی طاقت نے تخلیق کیا (مذاہب)۔ اسپنسر استدلال کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا کہ ان تینوں موقف میں تو واضح فرق ہے لیکن یہ تینوں موقف مذہبی موقف ہی ہیں۔

کوئی ملحد یہ نہیں کہہ سکتا کہ کیونکہ خدا کے وجود کو ماننےوالوں کا دعویٰ کوئی معقول ثبوت فراہم نہیں کرتا اس لئے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الحاد سچا ہے اور خدا کا کوئی وجود نہیں۔ اس سلسلے میں Austin Dacey and Lewis Vaughn لکھتے ہیں کہ ” خدا کی موجودگی کے لئے ناکافی دلائل یہ ثابت نہیں کرتے کہ خدا کا کوئی وجود نہیں کیونکہ کسی تجویز کیلئے معاون دلائل کا فقدان یہ ثابت نہیں کرتا کہ تجویز غلط ہے چنانچہ اگر کوئی ملحد یہ ثابت کرنا چاہتا ہےکہ الحاد سچا ہے تو اسے یہ ثبوت فراہم کرنا ہونگے کہ کائنات میں خدا کا کوئی وجود نہیں جیسا کہ دفاعی وکیل کو اپنے موکل کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے مزید ثبوت فراہم کرنا ہوتے ہیں جو “محض مجرم نہیں ہے” سے زائد ہوتے ہیں”۔

سیکولر اور مذہبی عقائد کے مذکورہ تقابلی جائزے میں آپ نے دیکھا کہ سیکولر نظریات و تصورات بھی ایک فرقہ وارانہ عقیدے کا نظام ہی ہوتا ہے جو روائیتی مذاہب سے وابستہ مابعد الطبیعاتی تصورات کو تو رد کرتا ہے لیکن وہ الوہی اور مذہبی تصورات کو دنیاوی شخصیات، نظریات اور اداروں میں شامل کرلیتا ہے۔ تمام سیکولر مذاہب مثلاً سرمایہ داری، کمیونزم، انارکزم، قوم پرستی، جمہوریت، لبرل ازم، ترقی پسندی، انسانیت پرستی، الحاد، سائنٹزم، اورکلٹس آف ریزن اینڈ سپریم بینگ وغیرہ عقل اور خواہشات پر مبنی عقائد کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔ بقول Blaise Pascal “انسان جب حقیقت(خدا) سے منہ موڑ لیتا ہے تو وہ سچی روحانی خوشی اورطمانیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے اندر پیدا ہونے والے خلا کو مختلف چیزوں سے پر کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس سلسلے میں کوئی چیز اسکی مدد نہیں کر سکتی کیونکہ اس گھاٹی کو صرف ایک لامحدود اور غیر منقولہ چیز سے ہی پر کیا جا سکتا ہے اور وہ خدا پر ایمان ہے”۔ اسی بات کو جین پال سارتر نے اپنے ایک جملے میں یوں بیان کیا تھا کہ “God shaped hole in the human mind”

ہمارے ہاں پائے جانے والے، تہذیب مغرب، سیکولرازم اور سائنس کےمقامی و دیسی عقیدت مندوں میں سے کچھ افرادآئے روز یہ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ مذہب کے بغیر تو زندگی سکون سے گزاری جا سکتی ہے لیکن سائنس کے بغیر ایک لمحہ بھی جینا ناممکن ہے۔ یا یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ مابعد الطبیعاتی حقائق کو ثابت نہیں کر سکتے انہیں سائنسی معروضی حقیقت کو غلط ثابت کرتے ہوئے سوچنے کی ضرورت ہے، وغیرہ۔ ان سے سوال کیا جائے کہ جن نظریات و افکار و ایجادات سے آپ عقیدت مندی کا اظہارکرتے ہیں ان سے لالچ و طمع کے علاوہ بھی آپ کا کوئی تعلق ہے کہ نہیں؟ان کی تخلیق، تحقیق وتعمیر میں بھی آپ کا کوئی کردار ہے یا محض انکو اپنے کشکول میں بھرکربھیک دینے والوں کے گن گاتے رہتے ہیں؟ آپ جس مذہبی طبقے کو خالی الذہن ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اسکے پاس اپنے کچھ تصورات تو ہیں چلیں یہ بات درست ہے کہ وہ آج کے دور میں انہیں عمل میں لانے میں کم دلچسپی رکھتا ہے لیکن آپ کے تو سارے تصورات ہی مانگے تانگے کے ہیں۔ آپ کی گردن صرف دیسی لوگوں کے سامنے اکڑی ہوئی ہے، مغرب کے سامنے تو آپ کی گردن اس سے کہیں زیادہ جھکی ہوئی ہے جتنی مذہبی افراد کی گردن خدا کے سامنے جھکتی ہے۔ اگرآپ اتنے ہی معروضی ہیں تو معروضیت کا کوئی ادنیٰ سا مظاہرہ کرکے ہی دکھا دیں جو آپ کی مغرب کیلئے پائی جانے والی عقیدت مندی کی پردہ پوشی کرلے یا پھر اس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ آپ کی محبوب تہذیب پچھلے تین، چار سوسال میں اپنی انتہائی معروضی کوششوں کے باوجود جس ایمان اور اعتقاد کو اپنے وجود سے کھرچ کر الگ نہیں کر سکی، اس سے جان چھڑانے میں آپ بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

 

References:

  1. Murphy, Peter “ Dogmatic Atheism and Scientific Ignorance”

https://www.deism.com/dogmaticatheism.htm

  1. Massimo Pigliucci “The Problem with Scientism”

https://blog.apaonline.org/2018/01/25/the-problem-with-scientism/

  1. Holmes, Jamie (2015) “Be careful, your love of science looks a lot like religion”

https://qz.com/476722/be-careful-your-love-of-science-looks-a-lot-like-religion/

  1. Jacomjin, C, Van der Kooij (2016) “The Merits of using Worldview in Religious Education”

https://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/00344087.2016.1191410#:~:text=Thus%2C%20the%20concept%20%E2%80%9Creligion%E2%80%9D,experiences%20or%20through%20scientific%20research.

  1. Mughal, Zahid (2019) “Is Islam a scientific religion”

https://ilhaad.com/2019/04/difference-in-islamic-and-scientific-research-method/

  1. Mughal, Zahid (2016) “Scientific Method of Knowledge”

https://ilhaad.com/2019/04/islam-science-and-muslim-syed-hussain-nasr-interview-2/

  1. Nasar, Syed Hassan “Islam, Science and Muslims”

https://ilhaad.com/2019/04/islam-science-and-muslim-syed-hussain-nasr-interview-2/

  1. Wagenman, Mike (2019) “Is Atheism a Religion?

https://www.thebanner.org/columns/2019/01/is-atheism-a-religion

  1. Dijk, T,A,Van (2006) “Politics, Ideology and Discourse”

http://www.discourses.org/OldArticles/Politics,%20Ideology%20and%20Discourse.pdf

  1. Mohidis Forum,

https://forum.mohaddis.com/threads/%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%86%DB%8C%D8%B2-%DB%81%DB%92.25100/

  1. Rashdi, Zahid, Aqeeda aur Fikar o Nazar http://zahidrashdi.org/665
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20