زنگارنامہ: تحریریں جوآپ کی زندگی بدل سکتی ہیں — نعیم الرحمٰن

0

’’زنگار نامہ‘‘ منفرد کالم نگار عامر خاکوانی کے کالموں کا دوسرا مجموعہ ہے۔ انکے کالم کا عنوان ’’زنگار‘‘ ہے۔ اور اسی نام سے کالموں کاپہلا مجمو عہ شائع ہوا تھا۔ اردو صحافت میں کالم نگاری نئی چیز نہیں۔ ابتدائی دور میں نامور مصنفین عموماً فکاحیہ اور طنزومزاح پر مبنی کالم لکھتے تھے اوران کے کالم اخبارکی پہچان ہوا کرتے ہیں۔ مولانا ظفرعلی خان، شورش کاشمیری، عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت، مجید لاہوری، ابراہیم جلیس، نصراللہ خان، انعام درانی، شوکت تھانوی جیسے کالم نگاروں کے مجموعے آج بھی انتہائی دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔ نامور ادیب مشفق خواجہ نے ادب اور کتابوں پر فکاحیہ کالم کی نئی طرح ڈالی، جسے قارئین میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اوران کے کالموں کی تمام کتب بیسٹ سیلر ثابت ہوئیں۔ دورِ جدید میں ٹی وی اور سوشل میڈیا کی آمدنے اخبارکی اہمیت کچھ کم کردی ہے، تو اخبارات عموماً کالمز کی وجہ سے پڑھے جاتے ہیں اور ہر اخبارمیں کالموں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر اخبارکی زندگی ایک روزہ ہی ہوتی ہے۔ لیکن اچھے کالم ہمیشہ زندہ رہتے اورپڑھے جاتے ہیں۔ اسی لیے آج کل کالموں کے مجموعے بڑی تعداد میں شائع اور مقبول ہوتے ہیں۔ منو بھائی، حسن نثار، رؤف کلاسرا، جاوید چوہدری، حامد میر، عطاالحق قاسمی، یاسر پیرزادہ، سہیل وڑائچ، وجاہت مسعود اور محمداظہار الحق کے کالمز کا قارئین نہ صرف روزانہ انتظار کرتے ہیں، بلکہ ان کالمزکی کتابی صورت میں اشاعت پربھی کئی ایڈیشنز شائع ہوتے ہیں۔ عامر خاکوانی کا پہلا مجموعہ ’’زنگار‘‘ بھی کافی مشہور ہوا تھا، اور اسی سال اشاعت پذیر ہونے والا ’’زنگارنامہ‘‘ بھی بے حد مقبول ہوا ہے۔ کتاب کے سرورق پر تحریرہے، تحریریں جوآپ کی زندگی بدل سکتی ہیں۔

عامر خاکوانی کو کوچہ صحافت میں ایک چوتھائی صدی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے الطاف حسن قریشی کے اردو ڈائجسٹ سے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ چند سال بعد روزنامہ ’جنگ ‘ سے وابستہ ہوگئے۔ ایکسپریس اخبار نے پنجاب سے اشاعت 2002ء میں شروع کی۔ تو عامر خاکوانی اس کی ابتدائی ٹیم میں انچارج میگزین سیکشن میں شامل تھے۔ ایکسپریس ہی سے انہوں 2004ء میں ’’زنگار‘‘ کے عنوان سے کالم نگاری کا آغاز کیا۔ ان کی کالم نگاری کا سفر ہنوزجاری ہے اور بطور کالم نگار انہوں نے اپنے ایک مقام بنالیاہے۔ دس سال تک ایکسپریس سے وابستہ رہنے کے بعد عامر خاکوانی بطور میگزین ایڈیٹر اور کالم نگار روزنامہ دنیاکی بانی ٹیم کاحصہ بن گئے۔ دنیا ہی میں انہوں نے ڈائجسٹ ایڈیشن کا تجربہ کیا جو کافی پسند کیا گیا اور جس کی پیروی دیگر اخبارات نے بھی کی۔ پانچ سال بعد وہ روزنامہ 92نیوز کی بانی ٹیم میں شامل ہوگئے اوراب تک بطور میگزین ایڈیٹر اور کالم نگار اسی سے وابستہ رہے ہیں۔ اس طرح عامر خاکوانی کو تین مستند اخبارات کی بانی ٹیم میں شامل رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔

عامر خاکوانی نے کالم نگاری کے لیے پامال راہوں پرچلنے کے بجائے اپنی الگ پہچان بنانے کی کوشش کی۔ کئی تجربات کیے اور اردو کالم کے کینوس کو وسیع کرنے کی کوشش کی۔ کرنٹ افیئرز پر کالم لکھے، مگر خود کو یہاں تک محدود نہیں کیا اور بہت سے مستقل موضوعات پر کالم لکھے جن کی تازگی برسوں بعد بھی برقرار ہے۔ کتابوں سے محبت کے وہ دعوے دار ہیں، اپنے کالموں میں کتابوں اور مطالعے کے ذوق کو فروغ دینے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ ادب، تاریخ، تصوف، روحانیت، سیاست اورسماجی مسائل سے لے کر کھیلوں اور موٹیویشنل موضوعات کو بھی کالمز کا حصہ بنایا۔ عسکریت پسندی، طالبانائزیشن اور اسلامی تحریکیں بھی ان کی دلچسپی کا موضوع رہیں۔ طالبان اور عسکریت پسندی پران کی کتاب بھی جلد شائع ہونے والی ہے۔ عامر خاکوانی کے کالموں کی پہچان ان کا معتدل اور متوازن انداز بیان اور غیرجانبداری سے ایشو ٹو ایشو رائے دیناہے۔

ان کی پہلی کتاب ’’زنگار‘‘ ابتدائی آٹھ برس کے کالموں کا انتخاب تھی۔ ’’زنگارنامہ‘‘ ان کے گذشتہ آٹھ برس میں شائع شدہ کالموں کا انتخاب ہے۔ عامر خاکوانی کے مستقل موضوعات پر تحریر کردہ کالم شامل کیے گئے ہیں اور وہی کالم شامل کیے گئے ہیں جن کی تازگی اور مہک ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ مجموعی طور پریہ آٹھ سال کے آٹھ نو سو کالموں میں سے منتخب صرف نوے کالم ہیں۔ جس سے اس انتخاب کے کڑے معیار کا اندازہ کیاجاسکتاہے۔ اس کتاب میں وہی تحریریں شامل کی گئی ہیں جو قارئین کی سوچ، طرزِزندگی اور تقدیر بدل دیں۔ مثبت سوچ اور امید کی نئی توانائی بھردیں۔ ایسے کالم جو بار بار پڑھنے پربھی باسی نہ لگیں۔

کتاب کا انتساب عامرخاکوانی نے والدہ مرحومہ کے نام کیاہے۔ ’’والدہ کے نام 2جون 2019ء کی شام ان کے جسد خاکی کو قبر میں اتارا، اسی دن وجود کا بڑا حصہ کٹ کرماں کے ساتھ چلاگیا!
امی جی! آپ کے بعد تنہا ہوگیا۔ شورتکلیف دیتا، خاموشی سے ڈر لگتا ہے
امی جی!اب دھوپ بہت چبھتی ہے، ٹھنڈلگتی ہے، بال الجھے رہتے ہیں
امی جی!آپ کے بعد دوسروں کے لیے جینا پڑ رہاہے، زندگی بے رنگ ہوگئی ہے
امی جی!آپ کا عامر بہت اداس، بہت اکیلا، ادھورہ، افسردہ رہتاہے

ماں اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے۔ جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ عامرخاکوانی کے لیے بھی ماں کی جدائی سوہانِ روح سے کم نہیں۔ ان کے یہ الفاظ اور انتساب ماں سے محبت کرنے والے ہردل کی آواز ہے اور پہلے ہی صفحے پرقارئین کے دل میں جگہ بنالیتے ہیں۔

’’زنگار نامہ‘‘ عامر خاکوانی کے نوے کالم شامل ہیں۔ جنہیں دس موضوعات میں تقسیم کیا گیاہے۔ جن میں موٹیویشنل کالم سولہ ہیں۔ عمل ِ خیر کی ترغیب دینے والے کالمزتعدادتیرہ ہے۔ کتابوں کی دنیا اور مطالعے کے بارے میں چودہ کالم شامل کیے گئے ہیں۔ ’زندگی کاسبق‘ کے عنوان سے بائیس کالم ہیں۔ پانچ کالم ’’یادیں‘‘ کے عنوان کے تحت ہیں۔ تصوف اور روحانیات چھ کالم ہیں۔ فلم اور ٹی وی پر چار، ’نقطہ نظر‘ کے تحت تین معلومات اور شخصیات پر تین اور خاندان اور تربیت پر چار کالم کتاب کاحصہ ہیں۔ اور ان عنوانات سے ہی ان کے موثرہونے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ایک خامی محسوس ہوتی ہے کہ مختلف عنوانات کے تحت کالم فہرست میں تو ایک ساتھ ہیں۔ مگروہ تاریخوں کے مطابق الگ الگ صفحات پر ہیں۔ اگر ایک موضوع کے کالم ساتھ ہی شائع کیے جاتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

مصنف نے ’’سبق جوکالم نگاری سے سیکھے‘‘ کے عنوان سے دیپاچہ میں کالم نگاری کے رہنمااصول بیان کیے ہیں۔ جن سے نوجوان قلم کار بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ عامر خاکوانی لکھتے ہیں۔

’’میرا پہلا کالم روزنامہ جنگ کراچی میں شائع ہوا تھا، تب قانون کے پہلے سال کاطالبعلم تھا۔ بعدمیں ایک دو اور تحریریں بھی مختلف قومی اخبارات میں شائع ہوئیں۔ 6فروری 1996ء کو اردو ڈائجسٹ بطور سب ایڈیٹر جوائن کیا۔ یہ میرے صحافتی سفر کا آغاز تھا، تاہم کالم نگاری کاباقاعدہ آغاز فروری دوہزارچار میں کیا۔ اس سفرمیں چند سبق سیکھے، نوجوان کالم نگاروں کے لیے انہیں بیان کر رہاہوں۔ ’کالم ٹی ٹوئنٹی نہیں ٹیسٹ میچ ہوتاہے۔ ‘کالم نگاری کی ابتدا میں اندازہ ہوگیاکہ یہ لمبی اننگ والا معاملہ ہے کرکٹ کی اصطلاح میں یہ ٹی ٹوئنٹی نہیں بلکہ ٹیسٹ میچ ہے۔ وہ بھی پرانے زمانے کاجب تین تین دن بیٹنگ کرنے والے بلے باز کو ہی بڑا تصور کیا جا تاتھا۔ اسی نوے کے عشرے میں جنگ اورنوائے وقت ہی دو اہم اخبار تھے، جس کے کالم نگاربہت جلد اپنی پہچان بنالیتے تھے۔ اس وقت ایکسپریس، دنیا، نائٹی ٹو نیوز سمیت پانچ بڑے اخبار ہیں۔ دنیا اور نائنٹی ٹونے بڑے کالم نگاروں کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ ’گھڑانہ بھرا تو جلد خالی ہوجائے گا۔‘ جب کوئی نیالکھنے والا کالم یا بلاگ لکھنا شروع کرے تو ابتدا میں کئی واقعات، دلچسپ کہانیاں ذہن میں موجود ہوتی ہیں۔ جب ہفتے میں دو تین کالم لکھے جائیں تو چند ماہ بعد آدمی سوچنے لگتاہے کہ آج کیا لکھا جائے۔ وجہ وہی ہے کہ اندرسے گھڑا آخر ختم ہوہی جاتا ہے۔ اسے مسلسل بھرنا پڑتاہے۔ نئی کتابوں، فلموں، رسالوں، جرائد، ریسرچ پیپرز، شاعری اور موسیقی وغیرہ سے اپنے اندر کے گھڑے کو بھرتے رہیں۔ ’اپناسپورٹ سسٹم ضرور بنائیں۔‘ اپنے آپ پر بھروسہ رکھیں، فوکس ہوکر محنت کریں۔ اس کے ساتھ اپناسپورٹ سسٹم ضرور بنائیں کالم نگاری ایک پیکج ڈیل ہوتی ہے۔ نام ایک ہی مشہور ہوتا ہے، مگراس کے آس پاس کئی لوگ مددگار ہوتے ہیں۔ کوئی اچھا مخلص دوست، صاحب علم بزرگ، کسی حوالے سے مددکرنے والا کوئی ریسرچروغیرہ۔ ’صحافتی برادرن سے ستائش کی توقع نہ رکھیں۔‘ دراصل صحافیوں کی عمومی تربیت دوسروں کی غلطیاں پکڑنے، نقائص تلاش کرنے اور منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ہے۔ ان کے نز دیک کرنے کا انسان کو کاٹنا خبر نہیں، انسان کا کتے کو کاٹنا خبر ہے۔ اور ’لفظ نہیں خیال اہم ہے۔ ‘ اور ’سوشل میڈیائی تحریر نثری نظم کی مانند ہے۔‘ ایک اور پہلو اخبار کے لیے زیادہ متانت اور وقارکے ساتھ لکھنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا تو آپ کی اپنی بیٹھک ہے، جو مرضی آئے لکھ ڈالیں۔ لیکن جب تک آپ اخبار میں خود کو منوا نہیں لیتے، تب تک آپ کالم نگار اسٹیبلش نہیں ہوسکتے۔ چاہے فیس بک پر جتنامرضی کامیابیاں بٹور لیں۔ خواہ آپ کے فالورز لاکھوں ہوجائیں۔‘‘

اپنے بزرگوں کے بارے میں عامرخاکوانی بتاتے ہیں۔

’’میرے داداحافظ غلام محمدخان صاحب عرفان بزرگ تھے۔ وہ نواب بہاولپور کے مشیرتھے، نواب صاحب ان کی بہت عزت کرتے اوران کے لیے خاص طورسے شاہی مطبخ سے کھانے کے خوان آتے۔ حافظ صاحب درویش آدمی تھے، سب کچھ محلے میں بانٹ دیتے اور خود سوکھی روٹی کھاتے۔ میرے والد چھ برس کے تھے کہ دادا کا انتقال ہوگیا۔ وہ باربار یہی نصیحت کرتے کہ تم حافظ صاحب جیسے ولی کے پوتے ہو، خبردار کوئی ایسا کام نہ کرناجس سے دادا کی روح کوتکلیف ہو۔ والد سردار محمدہاشم خاکوانی بڑے بااصول، مضبوط، خوددار اور پروقار شخصیت تھے۔ ہمیشہ انہوں نے بااصول، کھری اور سفید پوشی کی زندگی گزاری، مگرپورے رعب ودبدبے کے ساتھ۔ خاندان کے نسبتاً خوشحال لوگوں یا شہر کے روساء کو بھی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ کوئی ان کے سامنے ہلکی بات کہہ سکے۔ والدہ مرحومہ کے حوالے سے ابھی کچھ لکھنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ یہ کتاب ان کے نام ہی سے منسوب ہے۔ اگر اللہ نے مہلت اورتوفیق دی تواگلی کتاب میں تفصیل سے لکھنے کی کوشش کروں گا۔ بڑے بھائی طاہرہاشم، دوبڑی ہمشیرگان اوران تینوں کے اہل خانہ، چچا صادق خاکوانی اور پھپھو ان سب کے حوالے سے اپنی پہلی کتاب ’زنگار‘ میں تفصیل سے لکھ چکاہوں۔ میری بڑی والدہ جو الحمداللہ حیات ہیں، ان سب کی دعائیں اورنیک تمنائیں میرے ساتھ رہیں۔ میں ممنون ہوں۔‘‘

کتاب کا پہلا موٹیویشنل کالم ’’شمشیر وہی ہے‘‘۔

’’ایکسپریس میں سردیوں کی ایک سہانی صبح مجھے ایڈیٹرکے کمرے میں بلا کر یہ نوید سنائی گئی کہ آپ کو اخبارمیں کالم لکھناہے، کل پہلا کالم دیناہوگا۔ یوں ’زنگار‘ کاآغاز ہوگیا۔ یہ نام دیوان غالب سے لیاگیا اور دیرینہ ساتھی غلام محی الدین نے تجویز کیا۔ زنگار دراصل وہ مادہ ہے جو شیشے کے پیچھے لگایا جائے تو وہ آئینہ بن جاتاہے، دوسری لفظوں میں زنگارکے بغیر آئینہ دیکھنا ممکن ہی نہیں۔ میری دلچسپی کے موضوعات کی فہرست طویل تھی۔ سیاست، تاریخ، ادب، سوشل ایشوز، سپورٹس، تصوف اور مابعدطبیعیات وغیرہ۔ چنانچہ کالموں میں یہ سب رنگ جھلکنے لگے۔ عسکریت پسندی خصوصاً طالبائزیشن پرمیں نے شعوری طور پرلکھنا شروع کیا۔ بطور قاری میں جانتا تھا کہ اردو پریس میں اس پرسنجیدہ مواد موجود نہیں، اس حوالے سے کنفیوژن بھی بہت ہے۔ مجھے لگا کہ اس ایشو کو الگ الگ ٹکڑوں میں سمجھناچاہیے۔ ایسا وقت بھی آیاکہ بوجوہ سیاست پرکھل کرلکھنا ممکن نہ رہا۔ ایسے میں دو ہی آپشن تھے، اپنے ضمیر کے خلاف لکھاجائے یاپھر نئے موضوعات ڈھونڈے جائیں۔ میں نے دوسرا راستہ اختیارکیا۔ مجھے لگا لوگوں میں امید جگانی چاہیے، نوجوانوں کو حوصلہ اورتبدیلی کی خواہش دی جائے، اور انقلاب کاتباہ کن رومانی تصوربدل کر بتدریج اصلاحات کی سوچ راسخ کی جائے۔ مثبت انداز فکر کو فروغ اور علمی و فکری اشوز پر قارئین کی تربیت میں اپناحصہ ڈالا جائے۔‘‘

یہ کالم 3ستمبر2012ء کو دنیامیں عامرخاکوانی کاپہلا کالم تھا۔ اس میں انہوں نے جولکھا، وہ آج بھی ان کانظریہ اورسوچ ہے۔ نظریہ ہے کہ چاہے حالت بدل جائے، مگرشمشیرنہیں بدلنی چاہیے۔ وہی دھار، وہی کھراپن، وہ کاٹ رہے۔ موٹیویشنل کالمز میں ’’نالج لیس ڈگریاں‘‘، ’’بچوں کو خواب دیکھنا سکھائیے‘‘، ’’نیا سال۔ نیالائف اسٹائل‘‘، ’’گھرکو ترجیح دینے کاایثار‘‘، ’’انتخاب آپ کو کرناہے‘‘، ’’ عہد جو زندگی بدل سکتے ہیں‘‘، ’’دیوانے کا خواب‘‘، ’’سلوپوائزن‘‘ اور مختلف دنیاؤں میں سانس لینے والے ایک سو بڑھ کرایک ہیں اور قاری کو مختلف انداز میں کچھ کر دکھانے کی ترغیب دینے میں کامیاب ہیں۔

عملِ خیرکے تحت ’’رمضان ریزولوشن 1اور2‘‘، ’’شمع چھوٹنے نہ پائے‘‘، ’’ چھوٹی چھوٹی نیکیاں‘‘، ’’امید کے جگنو‘‘، ’’ ضائع نہ ہونے والا عمل‘‘ اور’’ایک اچھوتاتجربہ ‘‘ہمیشہ زندہ رہنے والے کالم ہیں۔ جن ہی اہمیت کبھی کم نہ ہوگی۔ کتابوں کی دنیا کے تحت بھی عامرخاکوانی نے کئی عمدہ کالم لکھے ہیں۔ ایک کالم ’’دنیاکی عظیم ترین کتاب‘‘ ہے۔ جس میں عامر خاکوانی لکھتے ہیں۔

’’سیدقاسم محمودہمارے ادبی اورصحافتی منظر نامے کی ایک دیوقامت شخصیت تھے۔ ان کے کام کا جائزہ لیاجائے تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک شخس کیسے اتناکام کرسکتاہے؟ نوجوان قاسم محمود نے سردارعبدالرب نشترکے مشورے پر انسائیکلوپیڈیاز پرکام شروع کیا، جب پاکستان میں عام اردوخواں لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ انسائیکلو پیڈیا کیا بلا ہے؟ سید قاسم محمود اس کام پرجت گئے اور تن تنہا وہ کر دکھایا، جس کے لیے ادارے درکارتھے۔ ان کے ترتیب کردہ انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا، اسلامی انسائیکلو پیڈیا اپنی مثال آپ ہیں۔ انہیں پڑھنے سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ اگرکچھ سہولتیں فراہم کردی جاتی تو مزید کتناکام ہوجاتا۔ سید صاحب آخری دنوں تک اپنے انسائیکلو پیڈیا کے مشن پر ڈٹے رہے، بیاسی سال کی عمرمیں بھی سولہ گھنٹے روزانہ کام کرتے۔ ان کا منصوبہ تھاکہ سائنس انسائیکلو پیڈیا، انسائیکلو پیڈیا تہذیب وتمدن، مسلم انڈین ہسٹری انسائیکلو پیڈیا اور سیرت انسائیکلو پیڈیا ترتیب دیے جائیں۔ ان پربیک وقت کام کرتے رہے، انڈین ہسٹری پرماہانہ کتابی شکل میں جریدہ نکالتے رہے، خاصا کام سمٹ گیاتھا، اسی طرح باقی موضوعات پربھی کام ہوتا رہا۔ آخری مہینوں میں قرآن انسائیکلو پیڈیا پر کام شروع کیا، چار یا چھ شمارے نکالے، بے مثال کام تھا، کاش انہیں مہلت مل جاتی تو اردو میں قرآن کے حوالے سے شاندارکام وجود میں آجاتا۔ ان کے ناشر الفیصل نے سیرت انسائیکلوپیڈیا شائع کیا ہے۔ ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔ سیرت مبارکہﷺ کے حوالے سے کئی ہزارصفحات پرمحیط ایسا کام پہلے کبھی نہیں ہوا۔ سید قاسم محمود بتاتے ہیں کہ انہیں جاپان جانے، وہاں کچھ عرصہ مقیم رہنے کا موقع ملا۔ کتابوں کی ایک نمائش میں، ایک بک اسٹال پرکتاب دیکھی، جس کے ٹائٹل پرصرف ایک ہی سطرلکھی تھی۔ ’دنیاکی عظیم ترین کتاب۔‘ تعارف کے زمرے میں اور کچھ نہیں تھا۔ کھولا تو معلوم ہوا کہ وہ قرآن پاک کاترجمہ ہے، عربی متن نہیں دیاگیا اور صرف جاپانی اور انگریزی میں قرآن کا ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ بک اسٹال پرآنے والے لوگ دلچسپی سے وہ کتاب دیکھ اورخرید رہے تھے۔ ان کے ذہن میں خیال آیا کہ ایساترجمہ قرآن اردومیں بھی شائع کیاجائے۔ اس کی ایک بڑی افادیت یہ ہوتی کہ اسے نسبتاً زیادہ آزادی کے ساتھ سرہانے رکھا جاسکتا تھا۔ لاہور آکر انہوں نے کوشش کی مشہور خطاط حافظ یوسف سدیدی سے درخواست کی، مگر حافظ صاحب نے انکار کردیا کہ ہمارے ہاں ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ ترجمہ صرف عربی متن کے ساتھ ہی شائع ہوسکتا ہے۔‘‘

یہ اور ایسے بہت سے کارآمداورزندہ رہنے والے کالم ’’زنگانامہ‘‘ میں موجود ہیں۔ جن میں ریڈایبلٹی اور دلچسپی موجود ہے۔ اور مطالعہ کے شوقین قارئین کے لیے انتہائی دلچسپ ثابت ہوگی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20