مغرب کا سب سے بڑا مسئلہ اسلام کیوں؟ عمر ابراہیم

0

اسلام کا مسئلہ کیا ہے؟ مغرب کی پروپیگنڈہ مشینری، توانائی، اور سارا سرمایہ اس سوال کی حل سازی میں مگن ہے۔ اسلام سازی کا مرحلہ وار ایجنڈا ہے۔ یہ خبروں، بیانیوں، فلموں، کتابوں، کرائے کے دہشتگردوں، اورروشن خیال مسلمانوں کی بہ یک وقت کوششوں سے ترتیب پارہا ہے۔

مضمون کا پہلا حصہ مغرب کے مبینہ سوال اور اس کی حل سازی پرمشتمل ہے، جبکہ دوسرا حصہ اصل سوال اوراصل اسلام کے تعارف پرمبنی ہے۔

برطانوی اخباردی گارڈین مذکورہ سوال’اسلام کا مسئلہ کیا ہے؟’ کی حل سازی یا دجل سازی کا مناسب خلاصہ پیش کرتا ہے۔ یہ چار کتابوں کا تعارف ہے، جواسلام کا مسئلہ مغربی آرزوؤں پرمرحلہ وار حل کرتا ہے۔ مضمون Book reviews: fresh insights on Islam and Isis سب سے پہلے کینیڈین صحافی Graeme Wood کی کتاب The Way of the Strangers سے اسلامی مسئلے کی دہشت زدگی طاری کرتا ہے۔ موضوع ہے داعش۔ یہ بیان کرتی ہے کہ قاہرہ، لندن، نیویارک اور دیگرشہروں میں داعش کے حامی پائے جاتے ہیں۔ یہ کتاب انسانیت کے بارے میں داعش کا نکتہ نظربیان کرتی ہے۔ اس کتاب کے مطابق داعش دہشتگرد خود کو جنت اعلٰی کا مستحق سمجھتے ہیں جبکہ کافروں اورسیکولرانسانیت پرستوں کودوزخ کی پاتال میں گرا ہوا دیکھتے ہیں، عیسائیوں اور یزیدیوں کوغلام بناکررکھنا مستحسن سمجھتے ہیں۔ یہ اسلامی تعلیمات اورروایات کے جواز پروحشیانہ مظالم جائز سمجھتے ہیں۔ اس مسئلے پر براہ راست بحث کی گنجائش نہیں۔ اس لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری کتاب The Islamic Enlightenment ہے، مصنف ہیں برطانوی صحافی Christopher de Bellaigue، جیسا کے نام سے ظاہر ہے، یہ اسلام کی روشن خیال سازی کا بیانیہ ہے۔ یہ کہتی ہے کہ داعش کے مسئلہ کا حل اسلام کی روشن خیال سازی میں ہے۔ فاضل مصنف کے مطابق اسلام کی یہ روشن خیال سازی مصر، ترکی، اور ایران میں نپولین دور استعماریت سے جاری ہے۔

تیسری کتاب The Raqqa Diaries ہے، اس کے مصنف نامعلوم صاحب ہیں، یہ شام کے قصبہ رقہ میں گزارے دہشتناک شب و روزکی المناک کہانیاں سناتے ہیں۔ یہ کتاب ڈراتی ہے کہ اسلام کی روشن خیال سازی کی کوششیں اپنی جگہ، مگرداعش جنگجوؤں کی وجہ سے موجودہ مسلم حالات بڑے ہی خوفناک ہیں۔ آخری کتاب طارق رمضان صاحب کی Islam: The Essentialsہے۔ یہ سمجھاتی ہے کہ رقہ ڈائریزکا بیان کردہ اسلام صحیح نہیں، بلکہ اصل اسلام روشن خیال ہی ہے۔ یہ کتاب کہتی ہے کہ اسلام کا ‘ظالمانہ’ سزاؤں سے کچھ لینا دینا نہیں۔ لفظ ‘جہاد’ کا مطلب محض ‘جدوجہد’ ہے، اسلامی جہاد صرف اور صرف جارحیت کی صورت میں بطورمزاحمت کیا جاسکتا ہے۔

چار کتابوں کا یہ تہ بہ تہ مضمون پہلے داعش کی دہشت سے ڈراتا ہے، پھرروشن خیالی کی آس دلاکرخوف قدرے کم کرتا ہے۔ یکایک پھروحشتناک کہانیوں سے جسم میں خوف کی لہریں دوڑاتا ہے، اورپھردوبارہ تسلی دیتا ہے، کہ اسلام کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، بس طارق رمضان والا اسلام قبول کرنا ہوگا۔

مذکورہ حل سازی کا پہلا رد یہ ہے کہ داعش کے دہشتگرد نہ مجاہدفی سبیل اللہ ہیں اور نہ ہی جہاد فی الاسلام سے متعلق ہیں۔ یہ شواہد وحقائق کی رو سے کرائے کا دہشتگرد ٹولہ ہے، جسے اسلام کا گمراہ کن تعارف گھڑنے کیلئے نہ صرف تربیت دی گئی، بلکہ اسلحہ اور وسائل سے مالامال کیا گیا۔ مسلم امہ کا داعش کی مذمت پراجماع ہے۔ داعش اسلام کی دشمن ہے۔ داعش کو’اسلامی ریاست’ کا نام دینا مغرب کا پالیسی ایجنڈا ہے۔ لہٰذا، داعش اسلام کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ محض دہشت کا فلاپ شو ہے۔

دوسرا رد اسلام کی روشن خیال سازی کا ہے۔ اس رد کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلوکہتا ہے کہ اصطلاحوں کی ترتیب الٹی ہے۔ یورپ میں روشن خیالی کی تحریک مسلم اندلس کی مرہون منت تھی، اگرمسلمان علمی تحریک نہ چلاتے، تومغرب کا روشن خیال ہونا محال تھا۔ گمراہ کوراہنما پرمقدم رکھنا غیر منطقی ہوگا۔ دوسرا پہلویہ ہے کہ اسلام دین کامل ہے، کسی بھی اضافی یا خارجی اصلاح سے بے نیاز ہے، خود مصلح کامل ہے۔ لہٰذا، مصلح عظیم کی اصلاح کا دعوٰی ناقابل فہم ہے۔

تیسرا رد رقہ ڈائریز کا ہے۔ اس کا مصنف ایک نامعلوم شخص ہے۔ یہ ایک نامکمل بیانیہ ہے۔ مسئلے کی مکمل تصویرپیش نہیں کرتا۔ نامعلوم مصنف صاحب بنیادی سوالات کے معاملہ میں نامعلوم ہی معلوم ہوتے ہیں۔ شام و عراق کی بربادی کی ابتدا، بشارالاسد کی وحشتناکیاں، دیگرشہروں کی تباہیاں، ایران وامریکہ کا کردار، روس کی بمباریاں، اوردیگرغیرملکی گروہوں کی سرگرمیاں کہاں ہیں؟

لہٰذا، رقہ ڈائریز نہ مکمل مسئلہ بیان کررہی ہے، نہ مکمل حل کی جانب پیشرفت کررہی ہے۔ یہ محض اسلاموفوبیا تھراپی ہے۔

چوتھا رد یہ ہے کہ طارق رمضان کا وضاحت نامہ یا معذرت نامہ اصل اسلام کی روح نہیں۔ اس لیے ناقابل اتباع ہے۔

درحقیقت مغرب کا یہ سوال اورحل دونوں دجل سازی ہیں، جھوٹ ہیں، اورمنفی پروپیگنڈہ ہیں۔ مسئلہ پھرکہاں ہے؟ مسئلہ مغرب میں ہے۔ یہ کیا مسئلہ ہے؟ اس کا جواب اصل اسلام کا تعارف ہے۔ اصل اسلام کیا ہے؟

اصل اسلام جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ فرد، معاشرے، اورتہذیب کی سطح پرمقبولیت، قبولیت، اورفتح سے معمورہے۔ یہ ‘جہاد فی الاسلام’ عالمگیریت کا واحد کامیاب تجربہ ہے، جس نے عرب کے ریگزاروں سے جہاںگیریت کی بنیاد رکھ دی، فارس سے اندلس تک علوم کے نئے در وا کیے۔ صدیوں کے اندھیروں سے یورپ کونکالا، فلسفہ یونان سے ملوایا، سائنسی علوم سے آشنا کیا، تعلیمی اداروں کے بہترین نمونے فراہم کیے۔ ذات پات میں پھنسے ہندوستانی معاشرے کوانسان ارفع کا تصورفراہم کیا۔ جرائم کُش قوانین پروہ معاشرے استوار کیے، جہاں یہودیوں نے اپنی تاریخ کا سنہرا ترین دورگزارا۔ انسانی تہذیب نے روئے زمین پرصدیوں حقیقت بن کرفلاح کا بہترین سامان کیا۔ مگرآج اس انسانی تہذیب کا تصورمغرب کیلئے سوہان روح ہے۔

مغرب کا مسئلہ کیا ہے؟ مغرب کا مسئلہ یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور اسلامی قوانین کے تاریخی مظاہرمیں دہشت، وحشت، جرائم، اورجہالت کا کہیں کوئی نشان نہیں ملتا۔ مغرب یہ دعوٰی نہیں کرسکتا کہ خالد بن ولید کے لشکرعام آبادیوں کا قتل عام کرتے تھے۔ مغرب یہ دعوٰی نہیں کرسکتا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس میں خون کے دریا بہائے تھے۔ مغرب یہ دعوٰی نہیں کرسکتا کہ طارق بن زیاد نے اندلس میں مظالم ڈھائے تھے۔ مغرب یہ دعوٰی نہیں کرسکتا کہ حجاز مقدس میں اسلامی قوانین کے سبب جرائم یا انتشار کا تناسب کسی بھی مغربی ملک سے زیادہ ہے۔

 

مغرب مگریہ ضرور کرسکتا ہے، کہ داعش کی وحشتناکیوں سے اسلام کی ڈراؤنی تصویردنیا کے سامنے پیش کرے۔ اسلامی قوانین اور تعلیمات کی ہولناک منظر کشی کرسکے۔ داعش کی تشہیرپرکتابوں کے ڈھیر لگادے۔ دہشتناک وڈیوزکی بھرمارکردے۔ سو مغرب ایسا ہی کررہا ہے۔

مغرب ایسا کیوں کررہا ہے؟ کیونکہ یہ فرد، خاندان، معاشرہ، اور تہذیب کی سطح تک غصب، ظلم، قتل ناحق، منافرت، اورجرائم سے لت پت ہے۔ مغرب کا مسئلہ نظریاتی بحران ہے، یہ سیاسی نظریہ کا بحران ہے، یہ نظریہ مساوات کا بحران ہے، یہ نظام انصاف کا بحران ہے، یہ نظریہ جنگ کا بحران ہے، یہ نظریہ اخلاق کا بحران ہے، یہ نظریہ کائنات کا بحران ہے، یہ نظریہ دنیا کا بحران ہے، اوریہ نظریہ انسان کا بحران ہے۔

دراصل مغرب کا سب سے سنگین مسئلہ یہ ہے، کہ تمام ترمادی قوت اقتدار کے باوجود عالمگیر انسانی فلاح کا کوئی امکان پیدا نہیں کرسکتا، اوراپنی غاصبانہ حیثیت ہی کوبرحق سمجھتا ہے۔ جبکہ اسلام انسانوں کی دنیا میں فلاح کا واحد عالمگیرتجربہ ہے، اورہرغاصبانہ نظام کا اعلانیہ غیراعلانیہ اکسیرہے۔​

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: