راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 12) —- یاسر رضا آصف

0

اسلام ایسی صورت میں ہلالِ احمر کا کردار ادا کرتا تھا۔ منظروں کی تیز دھاروں سے زخمی ہونے والوں کی ہنزہ کے شفاف پانیوں سے دھو کر مرہم پٹی کرنا خوب جانتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ سوچوں کے دھارے کس طرح اور کس طرف موڑنے ہیں۔ کسی کو اپنی باتوں سے قائل کرنا ہنر ہے۔ جب مجھے اپنی زندگی میں سیل مین بننے کا اتفاق ہوا تو ہمارا باس ہمیں جو پیشہ ورانہ ٹپس دیتا۔ اس میں ایک یہ بھی تھی کہ جو بھی چیز فروخت کرنی ہو اس چیز کی اس قدر تعریف کرو اور فائدے گنوائو آپ کا خود خریدنے کو جی چاہنے لگے۔ یہی ہنر اسلام کی گفتگو سے بھی جھلک رہا تھا۔ بالآخر وہ تمام احباب کے ذہنوں کو شانت کرنے میں کامیاب رہا۔ طے یہ پایا کہ واپسی پر ہم لوگ وین کو جانے دیں گے اور خود رائے کوٹ رک جائیں گے۔ پھر فیری میڈوز کی یاترا کے لیے نکل جائیں گے۔ سبھی ہنستے مسکراتے فیری میڈوز کے حسین مناظر آنکھوں میں سجائے وین میں جا بیٹھے۔

وین اپنے ردھم میں آئی تومیں سیٹ پر سر رکھے نیندکے مزے لوٹ رہا تھا۔ میں گہری نیند میں پہنچ چکا تھا۔ حالاں کہ سفر کے دوران میری آنکھ کم ہی لگتی ہے۔ میں کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر کے بدلتے مناظر دیکھنا پسند کرتا ہوں۔ جب سفر طویل ہو اور کرنے کو کچھ نہ ہو تو نیند سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔ جب میری آنکھ کھلی اور میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو سڑک ریشم کی طرح ملائم اور سانپ کی کینچلی کی طرح ٹیڑھی میڑھی تھی۔ مختلف رنگوں کی چٹانیں تھیں۔ یوں لگ رہا تھا کہ چٹانیں سڑک پر گرنے کے لیے پر تول رہی ہیں۔ گاڑیوں کی آمدو رفت کافی زیادہ تھی۔

میں سمیر کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ میرا حلق خشک ہو رہاتھا۔ میں نے پانی کی بوتل کھولی اور دو تین بڑے بڑے گھونٹ بھر کے گلہ تر کیا۔ سمیر نے بتایا کہ ہم اس وقت شاہراہ قراقرم پر سفر کر رہے ہیں۔ جس قدر مضبوط پہاڑوں کو کاٹ کر یہ سڑک بنائی گئی تھی۔ مجھے حیرت زدہ کررہی تھی۔ ’’آدمی کی جدوجہد کے سامنے پہاڑ بھی راستہ چھوڑ دیتے ہیں، کسی سے سنا تھا مگر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔‘‘ میں نے رنگ بدلتے پہاڑوں کی چٹانوں پر نظریں گاڑ دیں۔ کہیں پہاڑ سیاہی مائل ہوجاتے تھے تو کہیں ان کا رنگ ہلکا پڑ جاتا تھا۔ سڑک ان کے درمیان کارپٹ کی طرح بچھی ہوئی تھی۔ خاموش پہاڑ زمین میں میخوں کی طرح گڑے ہوئے تھے۔ مجھے ان پہاڑوں کو دیکھ کر مضبوط ارادوں والی شخصیات یاد آنے لگیں۔ جنھوں نے اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ ایسے لوگ ہر قوم اور ہر خطے میں مختلف ادوار میں وارد ہوئے جنھوں نے خطوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور ان کا درست رخ متعین کیا۔ مجھ جیسا سیماب طبیعت بندہ اور جذبات کے ہاتھوں مغلوب ہوجانے والا صرف ایسی شخصیات کا تصور ہی کرسکتا تھا۔ ان کے نقشِ قدم پر چلنا یا ان کی پیروی کرنا میرے لیے کسی طرح بھی ممکن نہیں تھا۔

خشک پہاڑ سینہ تانے دونوں جانب کھڑے تھے۔ وین سڑک پر دوڑ رہی تھی اور وین میں سبھی لوگ خاموش تھے۔ کچھ سو رہے تھے۔ کچھ حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ میں نے ہینڈ فری نکالی اور خاموشی کو خیرباد کہہ دیا۔ خاموشی جب سناٹے میں بدلنے لگے تو جی کا روگ بن جاتی ہے۔ اگر یہی خاموشی انسان کے اندر مستقل طور پر گھر کر لے تو انسان محفل میں بھی کسی پلاسٹک کے گلدان کی طرح کونے میں پڑا رہتا ہے۔ جو محفل کا حصہ ہوتے ہوئے بھی محفل میں موجود نہیں ہوتا۔ میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہو رہی تھی۔ میں غلام علی کی مدھر آواز سے سامنے کے منظر کو پر کیف بنانے کی کوشش کرنے لگا اور خاموشی کو گیت میں بدلنے کی سعی کرنے لگا۔

میری گلی میں ایک ایسا شخص بھی رہتا تھا جسے غزلیں سننے کا شوق جنون کی حد تک تھا اور یہ شوق اسے میرا دوست بنانے کے لیے کافی تھا۔ رشید کے پاس ایک ڈیک تھا جو کافی لمبا چوڑا تھا اور اس پر طرح طرح کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ ساتھ دو بڑی بڑی بیفلیں تھیں۔ جن میں گھڑے گھڑے جتنے سپیکر جڑے تھے۔ ٹیوٹرز کی جوڑیاں بھی لگی تھیں اور ساتھ چھوٹے سپیکرز کی جوڑی الگ سے تھی۔ جب وہ کیسٹ لگا کر غزل پلے کرتا تو طبلے اور ہارمونیم کا ایک ایک سُر سنائی دیتا۔ ہارمونیم کی روں روں اور طبلے کی تھاپ سے لگتا جیسے گلوکار ابھی اپنے سازندوں سمیت باہر نکل آئے گا۔ میں سُر اور تال کا ایسا ماہر بھی نہیں مگر موسیقی سُن سُن کر تھوڑی سی سمجھ آنے لگی تھی۔ بھدے اور کومل سُر کی پہچان ہونے لگی تھی۔ کچھ نہ کچھ طبلے کی ترگڑ اور گرگٹ سے بھی آشنائی ہو گئی تھی۔ طبلے کی دھائی پر ہاتھ بھی اٹھنے لگاتھا۔ میری ہر شام موسیقی کی بدولت سریلی ہونے لگی تھی۔

غلام علی کا البم آوارگی ان دنوں ہماری توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ جس کے تقریبًا سبھی ٹریک ہی مجھے ازبر ہو چکے تھے۔ یہاں تک خبر ہوگئی تھی کہ کہاں طبلہ کردار ادا کرے گا اور کہاں ہارمونیم اپنے سُر بکھیرے گا۔ ہمارے ساتھ کچھ اور دوست بھی شریک ہوتے تھے جن میں انوار بھی شامل تھا۔ جس کی شکل بھدی اور ناک چپٹی تھی۔ سُر لَے کی تمیز رکھنے والا تھا حالاں کہ خود بلا کا بدتمیز اور منھ پھٹ تھا۔ ایک روز ایسے ہی محفل برپا تھی کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ ہم چار لوگ بیٹھک میں بیٹھے تھے۔ ان دنوں بجلی کا اچانک غائب ہوجانا کوئی انہونی بات نہ تھی۔ رشید گھر سے موم بتی لینے چلا گیا۔ عشاء کے بعد کا وقت تھا اور بیٹھک میں مکمل اندھیرا ہو چکا تھا۔

تھوڑی دیر بعد انوار نے کہا کہ میں چلتا ہوں۔ رشید بھائی آئیں تو انھیں کہنا کہ مجھے ضروری کام سے جانا پڑ گیا۔ رشید موم بتی لے کر آیا تو انوار جا چکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بجلی آگئی۔ بیٹھک میں خرم، میں اور رشید بیٹھے تھے۔ رشید نے دوبارہ ڈیک چلانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو کیسٹ غائب تھی۔ الماری پر نظر دوڑائی تو وہاں کیسٹوں کی ایک لائن ادھوری محسوس ہوئی۔ ہمارے موجود ہونے کے باوجود انوار اپنا کام دکھا گیا تھا۔

رشید نے ہمیں گھگھو کے خطاب سے نوازا۔ اُس کا غصہ بجا تھا۔ اس کا کہنا تھا تم لوگ سوئے ہوئے تھے۔ اگر دکھائی نہیں دیا کچھ سنائی تو دینا چاہیے تھا۔ ہم نے قسم سے کچھ نہیں سنا تھا۔ حیرت اس بات پرتھی کہ بغیر آواز پیدا کیے اس نے کمال صفائی سے اپنا کام کیا تھا۔ کیسٹوں کی قیمت زیادہ نہیں تھی مگر انھیں تلاش کرنا بہت مشکل تھا۔ ان میں زبیدہ خانم، مہدی حسن، نصرت فتح علی خان اور عابدہ پروین کے نایاب البمز شامل تھے۔ وہ کسی کے گھر مہمان آیا ہوا تھا۔ رات کی تاریکی میں اسے تلاش کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ پھر کبھی انوار ہمیں بیٹھک کے آس پاس کیا محلے میں بھی دکھائی نہیں دیا۔ یوں نایاب والیمزغارت ہوئے اور ہم لوگ ہاتھ ہی ملتے رہ گئے۔

اب تو کیسٹوں کا وہ دور ختم ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ سے جو ٹریک چاہیں ڈائون لوڈ ہو جاتا ہے تب ایسی سہولت موجود نہیں تھی۔ پر اب بھی کئی ایسے ٹریک ہیں جو انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں ہیں۔ موسیقی سے لگائو رکھنے والے لوگ نایاب غزلوں اور گیتوں کی اہمیت باخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ میں غلام علی کی مدھر آواز کے سہارے ماضی کی وادیوں میں جا پہنچا تھا۔ غلام علی کی آواز اور سُر کے اتار چڑھائو مجھے اسی ماحول میں لے گئے تھے۔ جہاں دوستوں کی محافل برپا ہوتی تھیں لیکن بیٹھک خالی تھی۔ میں تنہا غزل سے لطف اندوز ہو رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے۔

گاڑی نے بریک لگائی اور ہمارے پائوں نے زمین کو ایک بار پھر سے چھوایہ وہ مقام تھا جسے تین پہاڑی سلسلوں کا سنگم کہتے ہیں جہاں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے سلسلے باہم ہوتے ہیں۔ آپس میں گلے ملتے ہیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جہا ں یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ میں اتر کر سوچنے لگا کہ اگر کہیں ہمارا ملک ترقی یافتہ ہوتا تو یہاں پانچ ستارہ ہوٹل بنے ہوتے۔ شیشے کی عمارتیں کھڑی ہوتیں۔ ہوسکتا ہے ایسی سہولت بھی موجود ہوتی کہ لوگ بہت قریب سے تینوں پہاڑی سلسلوں کا ملاپ دیکھ سکتے لیکن وہاں ایک پتھریلا چبوترہ تھا۔ یہ تین پہاڑی سلسلوں کے سنگم کا عجوبہ دیکھنے کے لیے خاص طور پر بنایا گیا تھا۔

پتھر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں خود کو بلند تر سطح پر محسوس کرنے لگا۔ چبوترے پر ایک پختہ عمر کی انگریز خاتون کو گائیڈ اس مقام کی اہمیت پر بریفنگ دینے میں مصروف تھا۔ وہ بڑی روانی سے انگریزی بول رہا تھا۔ اس کا لباس مقامی تھا پر لہجہ انگریزی چغلی کھا رہا تھا۔ ہم احساسِ کمتری کے مارے لوگ ہیں اس لیے دوسری قوموں سے جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ یہی حال ہمارا قومی زبان کے متعلق بھی ہے۔ چائنہ، جرمنی اور جاپان جیسی ترقی یافتہ قومیں اپنی زبان میں ہی آگے سے آگے بڑھتی جا رہی ہیں اور ہم انگریزی کے پیچھے پڑے ہیں جیسے قیامت کے روز شفاعت کے لیے اشد ضروری ہو۔ بین الاقوامی رابطہ کی زبان ہونے کے ناطے انگریزی سیکھنے میں حرج نہیں لیکن اس قدر سر پر سوار کر لینا بھی کسی حد تک نامناسب ہے۔ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی قوم جو ذہنی پختگی اور تخلیقی صلاحیت اپنی زبان میں حاصل کرسکتی ہے وہ کسی غیر زبان کو سیکھ کر ممکن نہیں۔ دوسری زبان میں لکھنے یا پڑھنے کے لیے پہلے اپنی زبان میں سوچنا پڑتا ہے پھر ذہن مترجم کے فرائض انجام دے کر مطلوبہ حدف تک پہنچاتا ہے یعنی دوہری محنت کرکے اکہرا فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔

آسمان پر بادلوں کے دودھیا ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے ان ٹکڑوں کے باوجود دھوپ کافی تیز تھی۔ جسم میں چبھن محسوس ہو رہی تھی۔ میں اپنے ماتھے پر ہاتھ کا چھجا بنائے پہاڑوں کے سلسلوں کو دیکھنے لگا۔ میں ارضیات کا ماہر نہیں ہوں اور نہ ہی جغرافیے کی معلومات رکھتا ہوں۔ شاید اسی لیے مجھے سبھی پہاڑ ایک جیسے دکھائی دے رہے تھے۔ رنگوں اور قطاروں میں انیس بیس کا فرق ہوگا پرہیئت اور بناوٹ میں سبھی ایک سے تھے۔

پاک پتن کے ریلوے اسٹیشن کے سامنے، لائنوں کے پار، کوارٹرز کی قطاریں آج بھی خستہ حالت میں موجود ہیں۔ غالباً انیس سو نوے کی بات ہے کہ میرے والد صاحب کے ایک دوست جو ریلوے میں ملازم تھے۔ اسے جب کوارٹر آلاٹ ہوا تو چابی والد صاحب کو دے دی۔ چوں کہ شہر میں اس کا اپنا ذاتی مکان موجود تھا۔ اس لیے شہر سے دور وہ بیابان میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تھا۔ ہم لوگ فیملی سمیت دو سال تک ریلوے کوارٹر میں رہے۔ شام کو سامنے موجود کھلے میدان میں سائیکل چلانے کی آزادی میں آج تک نہیں بھولا۔ جیسے ہی میدان کھیلنے والے لڑکوں سے خالی ہوتا۔ میں اپنی لال رنگ کی چھوٹی سی سائیکل لے کر میدان میں اتر آتا۔ میں پیڈل پر پائوں رکھتا اور پوری قوت سے سائیکل بھگانے لگتا۔ سائیکل جب رفتار پکڑتی تو مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میں ہوا میں اڑ رہا ہوں۔ ہوا میرے چہرے اور سینے سے ٹکراتی اور مجھے میرے ہونے کا احساس دلاتی۔ ساتھ کے کوارٹر میں ایک بابو اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔ جو ٹکٹ چیکر کے طور پر ریلوے میں ملازم تھے۔ ان کے بچے میرے ہم جماعت بھی تھے۔ ان کے ہاں رنگین ٹی وی تھا یوں اکثر میں ان کے ہاں ہی موجود ہوتا۔

میں دوسری جماعت میں پڑھتا تھا جب ہم لوگ وہاں شفٹ ہوئے تھے۔ نئے نئے آئے تھے اور کوارٹرز کی قطار میں بنے ہوئے سبھی گھر ایک جیسے لگتے تھے۔ ایک روز جب میں سکول سے واپس آیا تو معمول کے مطابق اپنا بیگ اتار کر چارپائی پر پھینکا اور جلدی سے واش روم چلا گیا۔ مجھے واش روم کچھ بدلا بدلا سا لگا۔ ہڑبڑا کر باہر نکلا۔ سامنے برآمدے سے آتی ہوئی ایک چھوٹی لڑکی لالی پاپ چوستے ہوئے مجھے حیرانی سے دیکھنے لگی۔ مجھے اچانک احساس ہوا کہ یہ ہمارا کوارٹر نہیں ہے۔ ایک عورت کمرے سے نکل کر باہر صحن میں آتی ہوئی دکھائی دی۔ میں نے جلدی سے بیگ اٹھایا اور باہر کی جانب بھاگ کھڑا ہوا۔ عورت کی آواز نے دروازے کے باہر تک میرا پیچھا کیا۔ پھرمیں نے اپنی آسانی کے لیے اپنے کوارٹر کی کچھ نشانیاں یاد کرلیں اور نمبر بھی دماغ میں محفوظ کرلیا۔ ایک جیسے پہاڑ مجھے ریلوے کوارٹرز کی طرح لگ رہے تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان پر نمبرز کندہ نہیں تھے۔ وہ مجھے اپنے خیال کی بنا پر خود لگانے پڑے۔

ایک جیسی شکلیں اور چیزیں بھی فریب نظر کا باعث بن جاتی ہیں۔ راستوں پر اگر نشانیاں نہ لگی ہوں تو وہ بھی انسان کو بھٹکنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ چوراہوں سے پھوٹتے ایک جیسے راستے انسان کو اکثر مخمصے میں ڈال دیتے ہیں۔ انسان اپنی دانست میں درست سمت میں چلتا چلا جاتا ہے کافی سفر طے کرنے کے بعد جب غلطی کا احساس ہوتا ہے تب زندگی کے راستے پر چلتے ہوئے کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ عابد اور فیاض نے میرے بازوتھامے اور مجھے سوچوں کی دلدل سے باہر کھینچ لائے۔

میرے چونکنے پر عابد حیران سا ہو گیا۔ اس نے شفیق انداز میں میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر مجھ سے مخاطب ہوا۔ ’’جناب کن سوچوں میں غرق ہیں۔ شاعرانہ دنیا سے باہر آجائیں اورکھلی آنکھوں سے دیکھیں۔ یہاں موجود رہیں شاعر صاحب‘‘۔ میں کھسیانی سی ہنسی ہنستے ہوئے بولا ’’یار عابدمجھے یہ سارے پہاڑ مکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں بس جانے کو جی چاہتا ہے۔ کسی پہاڑ پر ویرانے میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی بسا کر رہنے کو من کرتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ میں ان پہاڑوں پر ننگے پائوں چلتا چلا جائوں، اپنے پیروں کو زخمی کرلوں۔ پھر گرم پانی سے انھیں دھوئوں اور سہلائوں۔ ان بیابانوں میں اونچی آواز میں اپنے آپ کو پکاروں اور گھنٹوں گونج کو سنتا رہوں۔ اپنی آواز سے لپٹ جائوں۔ بھیڑوں کا ریوڑ لے کر نکلوں اور شام تک آوارہ گردی کرتا پھروں۔ سنتیاگو کی طرح اپنے خواب کی تعبیر کے لیے؛ پھر بھیڑوں کو فروخت کردوں اور انجانے سفر پر روانہ ہو جائوں مگر میں ماضی سے بندھا ہوا شخص کسی خواب کی تعبیر کیسے پاسکتا ہوں‘‘۔ عابد نے سنیاسی بابا جیسی مسکان کے ساتھ میری بات سنی اور ٹھنڈی سانس لے کر میری ہاں میں ہاں ملائی۔ ہر شخص خواب دیکھتا ہے اپنے خواب میں جینا چاہتا ہے۔ عابد کی ٹھنڈی سانس نے کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ دیا تھا۔

فیاض چپ چاپ کھڑا میری بے سروپا باتوں کو سن رہا تھا ہم تینوں پتھر کی سیڑھیاں اترتے ہوئے لوہے کے بنے بورڈ کے سامنے آگئے جہاں سبھی لوگ تصویریں بنانے میں مصروف تھے۔ مجھے اس وقت احساس ہوا کہ کسی کو سمجھنے اور جاننے کے لیے مکالمہ کس قدر ضروری ہے۔ مکالمہ ہمیں کسی کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ احساسات اور جذبات کا ترجمان بنتا ہے۔ ہم لوگ کافی وقت سے سفر میں تھے پر مکالمے سے بہت دور تھے۔ جیسے چپ کے روزے رکھے ہوئے ہوں۔ شاید ارد گرد موجود پہاڑوں کی ہیبت نے ہماری زبانوں پر خاموشی کی مہریں ثبت کردیں تھیں یا ہم لوگ تھکاوٹ کا شکار ہو چکے تھے۔ جو کچھ بھی تھا ہم قاتلانہ چپ سادھے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔

مجھے اپنے ماضی سے جان چھڑانے کے لیے کوئی حربہ استعمال کرنا تھا۔ کچھ ایسا جو مجھے ماضی سے دور کرسکے اور میں حال میں آسودگی کے ساتھ سانس لے سکوں۔ اس کے لیے مجھے اپنے آپ سے ملنا تھا۔ اپنی ذات سے ملاقات کے لیے خود کو تیار کرنا تھا۔ اپنے آپ کا سامنا کرنے کے لیے جو حوصلہ چاہیے تھا جو راستہ چننا تھا ابھی تک اس کا کوئی بھی سرا میرے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ میں جیسے ہی کچھ سوچنے کی کوشش کرتا ماضی کی گہری کھائی میں جا گرتا۔ مجھے حال سے رابطہ قائم کرنے کے لیے ماضی سے دستبردار ہونا تھا پر کیسے؟ اس سوال کا جواب نہ تو میرے پاس موجود تھا اور نہ ہی مجھے دستیاب تھا۔ مجھے انتظار تھا اس لمحے کاجو مجھے حال میں زندہ رہنے کا ہنر سکھا سکے اور مجھے اپنی ذات سے ملواسکے۔ جب امید دم توڑنے لگتی تومیں یہ سوچ کر اپنے آپ کو حوصلہ دیتاکہ ایسا لمحہ کہیں نہ کہیں انھیں پہاڑوں میں چھپا بیٹھا ہے کبھی نہ کبھی میرے سامنے ضرور آئے گا۔

میں لوہے کے بورڈ کے سامنے کھڑا تھا۔ اردگرد دوستوں کا جھرمٹ تھا۔ مجھے ماضی سے ناطہ توڑ کر حال کے ان لمحات کو جینا تھا۔ میں نے کوشش کی۔ مسکراہٹ میرے ہونٹوں پر آتے آتے لوٹ جاتی تھی۔ سبھی دوست تصویروں کی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے۔ میں بھی وقتی طور پر ان جیسا ہوگیا۔ ذہن کو حال میں جیسے قابو کرکے رکھنا پڑا۔ لوہے کے بورڈ پر پہاڑی سلسلوں کے متعلق معلومات لکھی ہوئی تھیں۔ نقشہ بھی بنا ہوا تھا۔ کچھ دیر پہلے والی کیفیت سے جان چھوٹی اور طبیعت کچھ سنبھل سی گئی۔ سبھی دوست ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھے تصویریں بنوارہے تھے۔ میں نے بھی جیتے جی دوسروں کے کندھوں کا سہارا لیا۔

گاڑی دوبارہ اپنی سابقہ رفتارمیں آگئی۔ حرکت کرتے ہوئے مناظر جاندار لگنے لگے۔ میں نے بوتل کھولی اور پانی کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرنے لگا۔ اب میں اسلام کے پہلو میں بیٹھا تھا۔ میں نے مکالمے کا آغاز کیا اور بہت سی باتیں کہہ ڈالیں۔ سبھی دوست گفتگو میں شامل ہوگئے۔ فیاض نے اپنے گائوں کے متعلق بات شروع کی۔ وہ بتانے لگا کہ کیسے نہری پانی پر لڑائیاں ہوتی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں۔ عورت کو غیرت کے نام پر قتل کردینا اور جائیداد پر قبضہ جمالینا عام سی بات ہے۔ پھر فصل اترنے کے بعد ہر بندہ ہی پھنے خان بن جاتا ہے۔ فہیم نے دیہاتی مزاج اور دقیانوسی سوچ پر روشنی ڈالنی شروع کردی۔ فخر شہری زندگی کے مسائل بیان کرنے لگا۔ بات چیت کا مغلوبہ سا بن گیا۔ میں نے چپ سادھ لی اور آنکھیں بند کرکے سیٹ کی پشت پر سر رکھ دیا۔ مجھے بحث سے زیادہ کہانی پسند ہے۔ مجھے حادثات سے زیادہ واقعات میں کشش محسوس ہوتی ہے۔

آخری نشست پر تاش کا دور شروع ہوگیا۔ فہیم فخر پر جملے کسنے لگا کہ یہ اتنا بدقسمت ہے کہ اسے تاش میں بھی کبھی بیگم نصیب نہیں ہوئی۔ فخر کہاں چپ رہنے والا تھا۔ فوراً بولا کہ اسے ہمیشہ جوکر ہی ملتا ہے اور دو جوکر ہو جاتے ہیں۔ عابد نے بھی حصہ ڈالا کہ اگر تم میں سے کسی کو یکّہ ملے تو اسی پر ہنزہ نہ چلے جانا۔ سبھی ہنسنے لگے۔ جب ہنسی قہقہوں کے درجہ تک پہنچی تو مجھے دخل اندازی دینا پڑی۔ سبھی دبی دبی آوازوں میں بات کرنے لگے۔ اس لیے نہیں کہ میری بات کا اثر لے لیا تھا۔ بلکہ میں نے انھیں آگاہ کیا کہ اسلام سو رہا ہے شور نہ مچائو۔ سمیر نے برجستہ کہا کہ اسلام کو سونے دو پر ڈرائیور کو نہ سونے دینا۔ سبھی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سی پھیل گئی۔ میں بے اختیار سوچنے لگا کیا یہی زندگی ہے یا اس سے بڑھ کر بھی کچھ ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20