راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 11) —- یاسر رضا آصف

0

صبح سات بجے کے قریب میری آنکھ کھلی۔ سمیر نہا دھو کر بیگ کی پیکنگ میں مصروف تھا۔ بلال صرف شارٹس پہنے ادھ ننگا سا، منہ میں برش دبائے کپڑوں کو الٹ پلٹ رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کون سی شرٹ پہنے اور کون سی نہ پہنے۔ تین چار رنگ بہ رنگی شرٹس کو بیڈ پر پھیلائے سمیر سے رائے طلب کر رہا تھا۔ ’’بلال تیرے نخروں سے لگتا ہے کہ تو کسی ولیمے پر جا رہا ہے۔ جو مرضی پہن لے تیرے پر کون سی اچھی لگنی ہے۔‘‘ میں نے بلال کو چھیڑا۔ اس کے منہ میں برش تھا اور جھاگ بانچھوں سے باہر جھانک رہی تھی۔ اس لیے جواب نہیں دے سکتا تھا۔ بلال نے ہاتھ میں پکڑی ٹوتھ پیسٹ مجھے دے ماری۔ میں نے کیچ پکڑا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے چھلانگ مار کر واش روم میں جا گھسا۔ سمیر مسلسل ہنس رہا تھا اوراُسے الو کہہ رہا تھا۔

طالب علمی کے زمانے کی بات ہے ہم لوگ جس میدان میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے اس کے سامنے ایک بیری کا تناور درخت تھا۔ وہ میدان گھر سے قریب تھا مگر ہمیں مغرب سے پہلے گھر پہنچنا ہوتا۔ بیری کے سائے تلے ایک بوڑھی عورت ٹوکروں میں پھل سجائے بیٹھا کرتی تھی۔ چھوٹے چھوٹے ٹوکروں میں امرود، سیب، مالٹے اور بیر اس کے سامنے پڑے رہتے وہ کافی ضعیف تھی پر خاوند اور بیٹے کے انتقال کے بعد گھر کا خرچ خود چلایا کرتی تھی۔ اس کی ایک بیوہ بیٹی تھی اور پوتا عامر میرا کلاس فیلو تھا۔ بوڑھی اماں کا قد چھوٹا، جسم فربہ اور شکل بوڑھے چینیوں جیسی تھی۔ وہ کسی کو اپنے پاس تک نہیں پھٹکنے دیتی تھی۔ لمبی سی ڈانگ ہر وقت اپنے پاس رکھتی اور بیٹھی بیٹھی ہی لٹھ گھما دیا کرتی۔ بچے اسے بڈھی بھیڑ کہتے اور وہ یہ سن کر سیخ پا ہو جاتی۔ خوب گالیاں دیتی اور لٹھ چلاتی۔

عامر ہمارا دوست تھا اور ہماری ساری کارروائیوں کا حصہ بھی تھا۔ جس میں بوڑھے صوفی کی دکان سے پانچ روپے دے کر پچانوے باقی لینا، نقلی نوٹ چلانا اور ٹماٹروں کے کھیت سے ٹماٹر چرا کر کھانا شامل تھا۔ ایک دن ہم لوگوں نے بوڑھی اماں کے پھل چرانے کا منصوبہ بنایا۔ عامر پہلے تو راضی نہ ہوا۔ پر جب وارداتوں کا احوال اس کی ماں تک پہنچانے کی دھمکی ملی تو فوراً منصوبے کا حصہ بن گیا۔ عامر کو ہم گٹو کہتے تھے۔

میں، گٹو اور طیفا شام کے وقت بوڑھی اماں کے سامنے جا پہنچے۔ گٹو اسے باتوں میں لگانے لگا۔ لیکن اماں بھی کایاں تھی اور بچوں کی شرارتوں سے خوب واقف تھی۔ کسی طرح بھی ڈھب پر نہ چڑھی۔ طیفا بے فکر کھڑا تھا۔ میں نے بڈھی بھیڑ کی ہانک لگائی اور بھاگ کھڑا ہوا۔ طیفا سنبھلنے بھی نہ پایا تھا کہ لٹھ اس کے پائوں پر لگی۔ وہ درد سے دہرا ہوگیا اور زمین پر لیٹ گیا۔ میں جنگ کے دوران زخمی سپاہی کو کیسے چھوڑ سکتا تھا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور ساتھ لے کر بھاگنے لگا۔ وہ ہلکی سی لنگڑاہٹ کے ساتھ بھاگ رہا تھا۔ اماں بڑی مشکل سے اٹھی اور ہمارے پیچھے لٹھ لے کر بھاگی۔ عامر نے مصنوعی غصے کا اظہار کیا اور منصوبے کے مطابق پھل اٹھا اٹھا کر ہمیں مارنے لگا۔

اماں نے جب عامر کو ایسا کرتے دیکھا تو واپس پلٹی اور عامر کو گالیاں دینے لگی۔ گٹو پھل مار رہا تھا اور ہم دونوں کیچ کر رہے تھے۔ ہم نے پھل جھولیوں میں ڈالے اور رفو چکر ہو گئے۔ عامر بھی بھاگ گیا۔ ہمیں کافی دور تک اماں کے چیخنے کی آواز سنائی دیتی رہی۔ وہ ہمیں خوب گالیاں دے رہی تھی اور غصے سے پاگل ہو رہی تھی۔ عامر کو دھمکی آمیز جملے تحفے میں مل رہے تھے۔

عامر چکر کاٹ کر ہمارے پاس آگیا۔ تینوں بھاگ کر کچی چار دیواری میں چھپ گئے۔ اماں اپنا ٹھکانہ چھوڑ کر ہمارے پیچھے آنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی۔ اس لیے ہم تینوں بے فکری سے پائوں پھیلا کر بیٹھ گئے۔ ہم نے اپنی قمیضوں سے پھل صاف کیے اور جلدی جلدی کھانے لگے۔ عامر گھر نہیں جا سکتا تھا۔ وہ کافی ڈرا ہوا تھا۔ میں طیفے کو چلتا کرکے عامر کو گھر لے آیا۔ صحن میں داخل ہوا تو میرا رنگ اڑگیا۔ بوڑھی اماں میری نانی کے سامنے بیٹھی ہماری ڈاکہ زنی کی واردات بڑھا چڑھا کر بیان کررہی تھی۔ ہم آہستگی سے کھسکنے کے لیے پر تول ہی رہے تھے کہ نانی اماں کی نگاہ ہم پر پڑ گئی۔ نانی نے ڈانٹ کر ہمیں پاس بلایا۔

ہم دونوں بھیگی بلی بنے ان کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ میری والدہ کو جب واقعے کی تفصیل معلوم ہوئی تو انھوں نے آخرت کمانے کا سوچ لیا۔ والدہ طیفے کو بھی کان سے پکڑ کر لے آئیں۔ سب نے مل کر ایسا ڈانٹا کہ ہم لوگوں کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ جیسے جیسے کہتے گئے ہم لوگ ویسے ویسے کرتے گئے تاکہ خلاصی ملے۔ انھوں نے ناک سے لکیریں نکلوائیں۔ کان پکڑوائے اور تینوں کی خوب درگت بنائی۔ ہم نے رو رو کر معافی مانگی اور آئندہ کے لیے توبہ تائب ہونے کی قسمیں بھی کھائیں۔ اگلی شام میدان میں ہم نیا منصوبہ بنا رہے تھے۔ اس مرتبہ بوڑھے صوفی کی باری تھی۔ میں واش روم میں کھڑا بچپن کی حماقتیں یاد کرکے ہنس رہا تھا اور باہر بلال دروازہ پیٹ رہا تھا۔ میں نے ٹوتھ پیسٹ کا ڈھکن کھولا اور اسے بے رحمی سے دبایا۔ ایک موٹی سی لکیر میری انگلی پر بن گئی میں انگلی سے ہی دانت صاف کرنے لگا۔

یہ سینسو ڈائن ٹوتھ پیسٹ تھی اور واقعی ہی کسی ڈائن کی طرح تھی۔ میں میڈی کیم استعمال کرتا ہوں۔ مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کا ذائقہ کیسا ہوگا۔ نمک زدہ اور کسیلا ذائقہ تھا۔ میرے چہرے پر ٹوتھ پیسٹ کے ذائقے سے ناگواری کے اثرات پیدا ہوئے۔ مجھے ابکائی آنے لگی۔ میں نے جلدی سے کلی کی اور دروازہ کھول کر ٹوتھ پیسٹ بلال کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا ’’مرکیوں رہا ہے یہ لے پکڑ اپنی ٹوتھ پیسٹ‘‘ بلال نے ناگواری سے اسے اپنے بیگ پر پھینک دیا۔ سمیر بدستور ہنس رہا تھا اور بلال کے چہرے پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ میں نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور نہانے لگا۔

میں نہا کر باہر آیا تو دونوں جا چکے تھے۔ میں نے کپڑے تبدیل کیے اور اپنا بیگ پیک کرنے لگا۔ بیگ قالین پر رکھاتو پاس ہی ٹوتھ پیسٹ پڑی دکھائی دی۔ وہ میرے ضمیر کو کچوکے لگا رہی تھی۔ میں سوچنے لگا کہ مجھے بلال سے ایسا مذاق نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پھر خیال آیا کہ شاید وہ ٹوتھ پیسٹ بھول گیا ہے لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔ میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کررہا تھا۔ میں نے ضمیر کی آواز کو دبایا۔ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ٹوتھ پیسٹ اٹھا کر ڈسٹ بن میں پھینک دی۔ دروازہ لاک کیا۔ چابی ریسیپشن پر جمع کرائی اور وین کے پاس آگیا۔

فیاض اور ذیشان وین کی چھت پر بیگ باندھنے میں جتے ہوئے تھے۔ شبیر اور جعفر ان کی جانب بیگ اچھال دیتے اور وہ دونوں انھیں ترتیب سے باندھتے چلے جاتے۔ میں نے اپنا بیگ ان کے حوالے کیا اور ناشتے کی میز تک جا پہنچا۔ بلال برطانوی ماحول پربڑھ چڑھ کر لیکچر دے رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر چپ سا ہو گیا۔ میں نے سب کو سلام کیا اور آئندہ سفر کے بارے بات کرنے لگا۔

ناشتہ لذیذ اور پرتکلف تھا۔ آلو کے پراٹھوں کے ساتھ آملیٹ، چنے اور اچار بھی تھا۔ سادہ پراٹھے اور خشک روٹی الگ سے تھی۔ سلائس اور جام بھی موجود تھا۔ میں نے خوب ڈٹ کر ناشتہ کیا اور پیٹ بھر کر ہی اٹھا۔ چائے کے ساتھ کافی کی سہولت بھی تھی۔ جو جس کا جی چاہے پی لے۔ میں نے دونوں کو چکھا اور چائے کا انتخاب ہی بہتر سمجھا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر سبھی لوگ ’’چلاس اِن‘‘ کے گیٹ پر اکٹھے ہوگئے۔ ایک مشترکہ تصویر بنائی گئی تاکہ یادگار رہے۔ ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ ہم اس ہوٹل میں پھر کبھی نہیں آئیں گے۔ اس لیے قیام کی تصویر سند کی حیثیت رکھتی تھی۔

چلاس کے بیابان شہر سے وین نکل کر پتھریلے راستے پر ہچکولے کھاتے ہوئے چلتی جا رہی تھی۔ صبح کا وقت تھا اور تپش بالکل بھی نہیں تھی۔ ہوا میں خنکی تھی۔ کل جو مٹیالا دریا مجھے بدبو دار جوہڑ لگ رہا تھا آج کافی دلفریب محسوس ہو رہا تھا۔ مٹیالاپانی اور سیاہ پہاڑ کائو بوائے مووی کا حصہ لگ رہے تھے۔ پتھریلے پہاڑوں میں جاذبیت تھی۔ مجھے لگا جیسے وین پرانے دور سے کسی نئے دور میں داخل ہوگئی ہو۔ لکڑی کے پل رسوں سے بندھے ہوئے تھے اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت کا ذریعہ تھے۔ کئی جگہ مکانات بھی دکھائی دے رہے تھے۔ کل تھکاوٹ اور ذہنی انتشار کے باعث یہ سب دکھائی نہیں دیا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ باہر کے سبھی مناظر کا انسان کی کیفیات سے کتنا گہرا تعلق ہے۔ یہ جذبات اور احساسات ہی اصل میں ماحول کو خوشگوار اور ناخوشگوار بناتے ہیں۔

مردہ چیزوں میں بھی کشش ہوتی ہے۔ خشک اور پتھریلے پہاڑ یونانی دیوتائوں کے مجسموں کی طرح کھڑے تھے۔ میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ جس گلی سے گزر کر میں سکول جاتا اس گلی میں ایک بنا پلستر کے خستہ حال مکان تھا۔ جس کا لکڑی کا ٹیڑھا دروازہ اپنے ٹیڑھ پن کی وجہ سے ادھ کھلا ہی رہتا تھا۔ اس دروازے کے پہلو میں گلی کی کچی زمین پر ایک چارپائی ہر وقت موجود رہتی تھی۔ ایک بوڑھا شخص پھٹے پرانے لحاف میں گٹھڑی بنا پڑا رہتا تھا۔ وہاں سے گزرتے ہوئے بو کے بھبھوکے آتے۔ میں ناگواری سے بُو کو برداشت کرتا ہوا تیزی سے گزر جایا کرتا۔ میرے قدموں کی رفتار چارپائی کو دیکھتے ہی خود بہ خود تیز ہو جاتی تھی۔

گٹھڑی نما بوڑھے شخص کو دیکھ کر روز ہی میرے جی میں خیال آتا کہ یہ مرچکا ہے اور لاش پڑی ہے۔ سکول سے واپسی پر وہ بوڑھاچارپائی پر بیٹھا ملتا۔ کمر جھکی ہوئی، چہرے پر جھریوں کا جال، آنکھوں میں موت کا عکس اور ہاتھ بے جان سی حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتے تو میں اپنی امیدوں پر پانی پھرتے دیکھتا۔ جمعہ کا روز تھا اور سردی اپنے عروج پر تھی۔ میری مجبوری تھی کہ مجھے اسی گلی میں سے گزرنا پڑتا چوں کہ وہ سیدھی سکول جاتی، مجھے جلدی ہوتی۔ متبادل راستہ بہت لمبا اور گندگی سے پُر تھا۔ روز ایک ہی سوال میرے ذہن کے تختہ سیاہ پر لکھا ملتاکہ بوڑھے کی موت واقع کیوں نہیں ہوجاتی؟ یہ مجھ پر کیسا عذاب ہے جو ٹل نہیں رہا؟ جمعہ کے روز دھند کی دبیز تہہ پھیلی ہوئی تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ اب بوڑھے کی چارپائی آنے والی ہے۔ قدم تیز تیز اٹھنے لگے۔

سخت سردی میںجب چارپائی کے نزدیک پہنچا اور کہرے کی گہری چادر چاک ہوگئی۔ میں نے دیکھا کہ بوڑھا آدمی چارپائی پر گٹھڑی بنا پڑا ہے۔ لحاف ایک جانب کو لڑھک گیا تھا۔ اس نے اپنے نحیف بازو اپنے چہرے اور کانوں پر رکھے ہوئے تھے۔ گھٹنے سینے سے جڑے ہوئے تھے۔ بھوک اور بیماری کی وجہ سے پیٹ ختم ہو چکا تھا۔ اس لیے ٹانگوں کا سینے تک آجانا کچھ مشکل نہ تھا۔ میں رک گیا۔ جیسے ضمیر نے اندر سے آواز دی کہ سخت سردی میں لحاف بوڑھے جسم کے اوپر اوڑھا دو۔ میں ڈرتے ڈرتے آگے بڑھنے لگا۔

میرے پائوں بھاری بھر کم سے ہوگئے تھے۔ مجھے سردی میں بھی ماتھے پر پسینے کے قطرے محسوس ہونے لگے۔ ہاتھ سردی کے باعث نہیں بلکہ عجیب خوف سے کپکپانے لگے۔ میں تھوڑا قریب ہوا تو ناگوار بُو کا بھبھوکا میرے نتھنوں کو چیرتا ہوا دماغ میں پیوست ہوگیا۔ مجھے ابکائیاں آنے لگیں میں بدبو سے جلد ہار جاتا ہوں۔ پھر بدبوگھنٹوں میرا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ذہن پر نقش ہو جاتی ہے۔ ابکائی ہچکی کی طرح مسلسل میرا مذاق اڑاتی ہے اور میں آنکھوں کے گیلے کناروں کے ساتھ پھولوں، باغوں اور خوشبوئوں کے تصور کا سہارا لیتا ہوں۔ پھر کہیں جا کر خلاصی ملتی ہے۔ اس روز بھی میں ہار گیا اور وہاں سے بھاگ گیا۔ بُو نے میرا پیچھا کیا۔ میں ابکائیاں لیتا اور قے کرتا سکول کے گیٹ پر ڈھیر ہوگیا۔

مجھے پرنسپل آفس میں صوفے پر لٹا دیا گیا۔ میرے قریب ایک باسکٹ رکھ دی گئی۔ ابکائی کسی چڑیل کی طرح میرے وجود سے چمٹ گئی تھی۔ بار بار وہ بوڑھا اور بُو کا بھبھوکا مجھے ابکائی لینے پر مجبور کررہے تھے۔ میں نے عطر اور پرفیوم کی خوشبو کے متعلق سوچنا چاہا پر سوچ کی سوئی لحاف سے اٹھنے والی بُو پر اٹک سی گئی تھی۔ مجھے گولی دی گئی۔ میں نے پانی کے گلاس کے ساتھ گولی نگل لی لیکن فوراً ہی پانی سمیت گولی باہر آگئی اور باسکٹ میں پڑی منحنی سفید نشان کی صورت میں میرا مُنھ چڑانے لگی۔

پرنسپل نے مجھے چھٹی دے دی۔ دانش نے اپنی لال سائیکل کے پیچھے مجھے بٹھایا۔ بیگ ہینڈل پر ٹانکا اور گھر تک چھوڑنے کے لیے چل پڑا۔ وہ اسی گلی میں داخل ہوگیا۔ میں دانش کو کہنا چاہتا تھا کہ ادھر سے مت جائو۔ خدا کا واسطہ دے کر روکنا چاہتا تھا۔ پر مسلسل ابکائی اور ٹھنڈے پسینے مجھے بات تک نہیں کرنے دے رہے تھے۔ میں نڈھال سا اس کی کمر سے چمٹا ہوا بیٹھا رہا۔ سائیکل لوگوں کے ہجوم کے پاس رک گئی۔ بوڑھے کی چارپائی کے پاس ایک عورت چیخیں مار کر رو رہی تھی۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ اداکاری کررہی ہے۔ بوڑھا مر چکا تھا۔ دانش کو راستہ مل گیا۔ اس نے سائیکل کے پیڈل تیزی سے چلائے۔ میں عورت کی آہ و بکا سے دور ہوتا چلا گیا۔ میری طبیعت سنبھلنے لگی۔ میرے ہونٹوں پر غلیظ مسکراہٹ پیدا ہوئی جسے میں نے پوری قوت سے دبانے کی کوشش کی پر وہ چہرے پر پھیلتی چلی گئی اور میں نے اطمینان سے آنکھیں بند کرکے دانش کی کمر سے سر ٹیک دیا۔

اب جب کبھی اس بوڑھے شخص کی یاد آتی ہے تو دل گرفتگی کی کیفیت چھا جاتی ہے۔ خود کو دوشی ٹھہراتا ہوں۔ کٹہرے میں کھڑا پاتا ہوں۔ سوال جواب کرتا ہوں۔ ایک بحث شروع ہو جاتی ہے۔ پھر یہ سوچ کر خود کو مطمئن کرلیتا ہوں کہ موت ہر مرض سے شفا بخشتی ہے۔ اب بھی میں اس طنزیہ مسکراہٹ اور اطمینان کا ذکر تک نہیں کرتا اور نہ ہی اسے بحث میں شامل کرتا ہوں۔ میں نے ضمیر کو دھوکا دینا سیکھ لیا ہے۔

ویران بنجر پہاڑوں کو دیکھ کر مجھے ویران چہرے والا بوڑھا شخص آگیا تھا۔ وین ٹھہر گئی۔ سبھی وین سے اترنے لگے۔ پتھریلی دکانیں، بہت سی گاڑیاں اور فور ویلر جیپس کھڑی تھیں۔ پاس ہی ’’رائے کوٹ‘‘ کا بورڈ آویزاں تھا۔ میں ابھی تک بوڑھے کے پاس کھڑا تھا۔ دانش مجھے گھر چھوڑنے کے لیے بازو سے کھینچ رہا تھا اور میں بضد تھا کہ بوڑھے پر لحاف ڈال دوں۔ کہیں سردی سے ٹھٹھر کر مر نہ جائے۔ میں اپنی سوچ پر طنزیہ طور پر مسکرانے لگا کہ انسان ضمیر کی آواز دبانے کے لیے کیا کیا جتن کرتا ہے، کیسی کیسی باتیں گھڑتا ہے اور کیسے بھونڈے جواز پیش کرتا ہے۔

کچھ دوست واش رومز کی تلاش میں چلے گئے۔ عابد اور سمیر سایہ دار جگہ کے نیچے جا کر پتھر کی سِل پر بیٹھ گئے۔ میں بھی ان کے پاس چلا گیا۔ میرے قدم بمشکل اٹھ رہے تھے۔ میں نے اردگرد نگاہیں دوڑائیں تاکہ خود کو شانت کرسکوں۔ ماضی سے پلٹ سکوں۔ عابد نے سگریٹ سلگائی اور پیکٹ میری جانب بڑھادیا۔ میں کہاں رکنے والا تھا۔ اس وقت مجھے سگریٹ کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔

رنگ برنگی جیپیں شیشوں سے سجی سجائی کھڑی تھیں۔ پٹھان ڈرائیورز اکٹھے ہو کر ہنسی مذاق اور گپ شپ میں مصروف تھے۔ وہاں کافی سارے لوگ ادھر ادھر آ جارہے تھے۔ سگریٹ کے دھویں نے پھیپھڑوں کے ساتھ دماغ کو بھی اذیت سے بچانا شروع کردیا۔ میری طبیعت سنبھلنے لگی۔ یہ سگریٹ رشوت ثابت ہوئی اور مجھے اس کے بدلے عابد کی لمبی چوڑی گفتگو سننی پڑی۔

عابد بات کرنے کا ڈھب جانتا ہے۔ منظر نگاری اور جزئیات نگاری کے فن سے آگاہ ہے۔ ایم۔ اے اردو کے باعث الفاظ کی نشست و برخاست کا ہنر بھی سیکھ گیا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ اسے کہا ہے کہ جن باتوں اور قصّوں کو تم ایسی تفصیل سے بیان کرتے ہو اگر کہیں انھیں لکھ لیا کرو تو ادب پارے تخلیق ہوسکتے ہیں۔ انشائیے کی واضح شکل تمھاری گفتگومیں دکھائی دیتی ہے۔ لیکن میری بات ہنسی مذاق میں ٹال جانا اس کی شروع دن کی عادت ہے۔

عابد فیری میڈوز کے متعلق تفصیل سے بتارہا تھا۔ وہ ایک ایک بات کو بھرپور انداز میں قیمتی بنا کر پیش کررہا تھا۔ بلال، فہیم اور اسلام بھی آکر ہمارے پاس بیٹھ گئے۔ فیاض بھی کہیں سے پھرتا پھراتا آنکلا۔ ہم سبھی انہماک سے عابد کی گفتگو سننے لگے۔ بلال نے وہاں کھڑی جیپوں کی طرف اشارہ کرکے پوچھا تو اسلام نے فیری میڈوز کے خطرناک راستے کا قصّہ چھیڑ دیا۔ پچھلے برس وہ لوگ فیری میڈوز آچکے تھے۔ سمیر درمیان میں لقمے دیتا جاتا۔ سمیر، عابد اور اسلام نے جس انداز میں پھوٹتے چشموں، سرسبز چراگاہوں اور بچھے سبزے کا نقشہ کھینچا سبھی دوست فریفتہ ہوگئے۔ نانگا پربت کی جادوئی اٹھان اور شام کے وقت سرخی کی جھلک نے سبھی کو باولا کردیا۔ سبھی نے یک زبان ہو کر کہا کہ یہاں سے آگے جانے کاکشٹ کیوں اٹھائیں۔ یہاں سے آگے جانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں۔ اسی جگہ سے وین کو واپس لاہور بھیج دیا جائے اور ہم سبھی فیری میڈوز کی یاترا پر نکل چلتے ہیں۔ عابد کی گفتگو کا جادو چل چکا تھا اور اب وہ دور کھڑ امسکرا رہا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20