راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 14) —- یاسر رضا آصف

0

میں دوستوں کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ انھیں نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا تھا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو لوگوں کے بے انت سمندر میں ڈھونڈ پانا خاصہ مشکل ہو جاتا۔ میلے کا سارا لطف غارت کرنے والی بات تھی۔ اس لیے مجھے ان کا مسلسل تعاقب کرنا تھا۔ اپنی رفتار کو بڑھاتے ہوئے اور قدموں کو تیزی سے اٹھاتے ہوئے میں زور لگا کر بھاگ رہا تھا۔ دو بسوں کے درمیان سے میں خرم، رفیع اور فیصل کو جاتا دیکھ رہا تھا۔ مجھے بھی وہیں سے گزرنا تھا۔ بس پیچھے کی جانب حرکت میں تھی اور کنڈیکٹر مسلسل آواز لگا رہا تھا ’’آن دیو، آن دیو۔ استاد جی۔‘‘ میں نے خطرے کو نظر انداز کرتے ہوئے جست لگائی اور بس کی پشت کے قریب ہو گیا۔ ایک لافانی ہاتھ جسے میں فرشتے کا ہاتھ ہی کہوں گا میرا بازو تھامے مجھے دونوں بسوں کے درمیان سے واپس کھینچ لایا۔ بس کی پشت دوسری ساکت کھڑی بس سے ٹکرائی اور ڈرائیور نے کنڈیکٹر کو موٹی سی گالی دی۔

کنڈیکٹر نے مجھے بچاتے ہوئے اپنی ڈیوٹی سے روگردانی کی تھی اور گالی کی صورت میں انعام پایا تھا۔ اسے ڈرائیور کو ’’بس استاد جی‘‘ کا کاشن دینا تھا پر وہ مجھے کھینچتے لمحے کاشن دینا بھول گیا تھا۔ اس نے مجھے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا۔ میں نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور یہ جا وہ جا۔

میں اپنی ناک بچا کر پارکنگ ایریا سے باہر آگیا۔ میں زمین پر سہج سہج کر قدم رکھ رہا تھا جیسے زمین دلدلی ہو اور مجھے دھنس جانے کا خوف ہو۔ شاید یہ احتیاط ابھی پیش آنے والے حادثے کے باعث تھی لیکن میں اسے حادثہ کسی صورت بھی نہیں کہہ سکتا تھا۔ میں نے نگاہ اٹھا کر پہاڑوں میں موجود سبز قالین کو دیکھا جس پر لکڑی اور پلاسٹک کی کشتیاں تیر رہی تھیں۔ پانی کی سبز رنگت قدرت کی کرشمہ سازی تھی۔ فطرت کی بنائی گئی تصاویر زندہ ہوتی ہیں اور زندہ رہنا بھی جانتی ہیں۔ مجھے ارسطو کی بوطیقا یاد آگئی کہ انسان صرف نقل کرتا ہے۔ میں فطرت کی فن کاری کا برملا اعتراف کیے بنا نہ رہ سکا۔

میں نے مڑ کر دیکھا اور اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ پورے سفرمیں پیچھے مڑ کر دیکھنے کے سوا میں نے کِیاکیا ہے۔ کب میں آگے دیکھنا سیکھوں گا جس مقصد کے لیے میں نے یہ سفر اختیار کیا تھا وہ ابھی تک ادھورا تھا۔ بوڑھے لوگ ماضی کی گرفت سے آزاد نہیں ہو پاتے۔ کیا میں ذہنی طور پر بوڑھا ہو گیا ہوں۔ سوچ مجھے کسی اور نہج پر لے کر چل پڑی۔ مجھے اپنے ہاتھوں پر جھریاں محسوس ہونے لگیں۔ اس سے پہلے کہ میں پھر ماضی کے سیاہ اور تاریک جنگل سے جگنو اکٹھے کرنے نکل جائوں میں نے دوستوں کو آواز دینا ہی مناسب سمجھا۔

انھوں نے ہاتھ ہلا کر میری آواز کے پہنچنے کا ثبوت دیا۔ دوست ٹولیوں کی شکل میں خوش گپیوں میں مصروف چلے آرہے تھے۔ ان کے چہروں پر مسرت تھی۔ ایک دوسرے کے ہاتھوں پر ہاتھ پھینک کر تالی دیتے ہوئے ہنس رہے تھے۔ کوفت کا حصار ٹوٹ چکا تھا۔ بے بسی رخصت ہو گئی تھی اور اس کی جگہ شگفتگی نے لے لی تھی۔ میں چائنہ بارڈر کو بھول چکا تھا۔ میرے چہرے پر بھی مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ مسکراہٹ زندگی کی علامت ہے۔ انسان کے اندر روشنی بھر دیتی ہے۔ پُرمسرت کیفیت کا اظہار مسکراہٹ کے سوا ہو بھی کیا سکتا ہے۔ اس سے بہتر اپنی خوشی کا اظہار ممکن نہیں۔

میں فخر کے ساتھ جھیل کے کنارے پڑے او بڑکھابڑ پتھروں پر چلنے لگا۔ ہم دونوں جھیل کے حسن پر طرح طرح کے تبصرے کرتے ہوئے چلتے جارہے تھے۔ فخر کی شوخ باتیں مسرت میں اضافہ کرنے لگیں۔ اس کا کہنا تھا کہ جھیل سیف الملوک سے زیادہ پریاں تو یہاں موجود ہیں۔ میں نے برجستہ کہا کہ ذرا دھیان سے ساتھ جن اور دیو بھی آئے ہوئے ہیں۔ فیاض جو ہمارے پیچھے پیچھے جاسوس کی طرح چلا آرہا تھا۔ قہقہہ لگائے بنا نہ رہ سکا۔ ہم نے کشتی رانی کا منصوبہ بنایا۔

اسلام کا چہرہ ابھی تک اُترا اُترا سا تھا۔ وہ شاید خنجراب نہ پہنچنے کے باعث رنجیدہ تھا۔ خیر ہمارے بار بار اصرار کے بعد وہ بھی کشتی میں بیٹھنے کے لیے تیار ہو گیا۔ ہم نے پلاسٹک کی موٹر والی کشتی پسند کی۔ جس کا رنگ نیلا گہرا تھا۔ کنارے کے پاس ہی لائف جیکٹس کا ڈھیر پڑا تھا۔ ہم نے اپنے اپنے ماپ کے مطابق جیکٹ پہنی اور کشتی میں سوار ہو گئے۔ میں چھوٹی عمر میں لکڑی کی کشتی پر سفر کر چکا تھا جسے دریا میں لوہے کی تار کے سہارے ایک کنارے سے دوسرے کنارے لے جایا جاتا تھا۔ محنت مزدوری کرنے والے، مسافر اور مقامی باشندے دریا پار کرنے کے لیے اسی کو ذریعہ بناتے تھے۔

کشتی پانی پر بالکل ساکت نہیں تھی بلکہ ہلکا ہلکا ڈول رہی تھی۔ یہ حرکت پانی میں اٹھنے والی لہروں کے باعث تھی یا شاید پانی کے مسلسل جگہ تبدیل کرنے کے باعث تھی۔ یہ جو کچھ بھی تھا دل کی دھڑکن کو تیز کرنے کے لیے کافی تھا۔ سبھی دوست اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے تو ہماری جھیل یاترا شروع ہوئی۔ ہم نے خوشی کے مارے قہقہے لگائے۔ میں کشتی کے آخر میں بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا۔ مجھے لگتا تھا ابھی چند لمحوں بعد یہ کشتی جھیل برد ہو جائے گی۔ دریا برد ہونا کسی طور بھی ممکن نہیں تھا چوں کہ ہم لوگ جھیل میں تھے۔

کشتی کے پندرہ سے بیس منٹ مسلسل تیرنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ جھیل کافی وسیع ہے۔ جھیل کا حدود اربعہ میرے اندازے کے مطابق پانچ سے چھ کلومیٹر ضرور ہو گا۔ مٹیالے بلند پہاڑوں کے درمیان سبزی مائل پانی پر کشتی میں سفر کرنا مسحور کن احساس لیے تھا۔ سمیر کافی پر جوش دکھائی دے رہے تھا۔ فخر بلند آواز میں نعرہ لگاتا اور گونج سن کر کسی بچے کی طرح تالیاں بجاتا۔ اتنے میں ایک لڑکیوں سے لدی پھندی کشتی ہمارے قریب سے گزری۔ سبھی نے جوش میں اپنی آواز کو بلند کیا۔ یہ نعرہ نہیں تھا بلکہ چیخیں تھیں۔ اسلام نے گھوری ڈال کر ہمیں دیکھا۔ یہ گھوری اپنے دائرے میں رہنے کے لیے تھی۔ یعنی خاموش ہونے کا واضح اشارہ لیے تھی۔ سبھی ایک دم سے چپ ہوگئے۔

جب کشتی کنارے لگی اور ہم لوگ دوبارہ پتھروں پر ٹہلنے لگے تو میں نے اسلام سے گھوری کی بابت پوچھا۔ اس کا موقف یہ تھا کہ ہم اساتذہ ہیں۔ ہمیں ایسی بدتہذیبی نہیں دکھانی چاہیے۔ فخر اور مجھے یہ بات کسی حد تک جائز بھی لگی۔ ہم دونوں نے مسکرا کر اسلام کی تائید کی۔ جھیل پر ٹین کے ڈبوں سے بنا ایک سٹال بھی موجود تھا جس کی وضع قطع پنجاب میں لکڑی کے کھوکھے جیسی تھی۔ ایک خوش شکل لڑکا کھانے پینے کی اشیاء کے پیچھے کھڑا تھا۔ کچھ پانی کی بوتلیں بھی ترتیب سے سجا رکھی تھیں۔ میں نے منرل واٹر کی بوتل خریدی اور بے صبری سے بڑے بڑے گھونٹ بھرنے لگا۔ جھیل کے پانی میں چوں کہ سیوریج کا پانی پھینکا جاتا ہے۔ جسے پہلے ایک بڑی سی موٹر سے گزارا جاتا ہے جو فضلہ پلاسٹک کی بڑی سی ٹینکی میں الگ کرلیتی ہے۔ باقی شفاف پانی جھیل کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے جھیل کا پانی شفاف تو رہتا ہے لیکن پینے کے قابل نہیں رہتا۔ اس لیے پینے کے لیے منرل واٹر کا آپشن بہتر تھا۔

جھیل کے متعلق یہ تمام تفصیل معلوم کرنے کے بعد میں پتھروں کی جانب واپس مڑا۔ میں ایک قدرے اونچے پتھر پرآلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ میں نے جیبوں کو ٹٹولا مگر سگریٹ کاخالی پیکٹ بھی نہ ملا۔ البتہ سلگانے کے لیے شعلہ دار موجود تھا۔ میرے ایک بہت ہی عزیز دوست غلام جیلانی جو اردو سے خاص لگائو رکھتے ہیں۔ ادیب تو نہیں ہیں پر ادیب ہونے کی اداکاری کرتے رہتے ہیں۔ مشکل الفاظ کے ذریعے خود کو اہلِ زبان کہلوانے کی کوشش میں بھی لگے رہتے ہیں۔ پہلے دہلوی اور لکھنوی انداز کی تحریریں پڑھتے ہیں پھر مشکل مشکل الفاظ کی جگالی کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے نیم پڑھے لکھے لوگ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو اردو میں انگریزی الفاظ کا تڑکا لگانا نہیں بھولتے۔ اس سے ان کا مقصد بات میں وزن پیدا کرنا ہرگز نہیں ہوتا بلکہ خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ غلام جیلانی یہ سب محض ہنسی مذاق کے لیے کرتا تھا۔

اکثر غلام جیلانی کوایسی تراکیب وضع کرتے یا گھڑتے دیکھا کہ چہرے پر مسکان آئے بنا نہ رہ سکی۔ گرمی کے موسم میں جب بجلی دوپہر کے وقت رخصت لے کر چلی جاتی اور یہ رخصت کبھی کبھی دن بھر کی تعطیل کی صورت اختیار کر لیتی تو ہم لوگ گھر سے کچھ دور شیشم کے درختوں کے نیچے جا کر بیٹھ جاتے۔ بعض اوقات لڈّو کا دور چل نکلتا تو کبھی تاش سے شغل فرمانے لگتے۔ کبھی کبھی ریڈیو پر لائیو میچ کی کمنٹری سنتے دن بیت جاتا۔ اس روز ہم لوگ چھوٹے سے کیرم بورڈ سے وقت گزاری کا سامان پیدا کررہے تھے۔ گیم اپنے عروج پر تھی۔ ہائو ہو کرتے ایک دوسرے پر بے ایمانی کے الزام لگاتے اور خود کو ایمان دار ثابت کرتے خوش گوار طریقے سے وقت بتا رہے تھے۔

غلام جیلانی ایک دم سے اچھلنے لگا۔ پھر گیم دوبارہ شروع ہوگئی۔ موصوف پھر وہی عمل دہرانے لگا۔ ہمارے پوچھنے پر یوں گویا ہوا کہ حشرات الارض نے جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ ہماری ہنسی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ تحقیق کی تو خبر ہوئی کہ چیونٹیاں قطار بنائے حضرت پر مسلسل حملہ آور ہورہی تھیں یاوہ خود قطار کے درمیان بیٹھ گئے تھے۔ یہ سب ہمارے ہنسنے کے لیے سامان مہیا کرگیا۔

گرم اور سرد موسم سے درکنار چائے پینا ہم دوستوں کا روزانہ کا معمول تھا۔ اس کے لیے ہم نے چائے کا ہوٹل مختص کر رکھا تھا۔ تمام دوست شام کے بعد اپنے اپنے گھروں سے یوں نکلتے جیسے بارش کے بعد کیڑے پتنگے زمین سے نکلتے ہیں۔ اٹکھیلیاں کرتے اور ہنستے ہنساتے چائے کے ہوٹل تک پہنچ جاتے۔ سردیوں میں جلتی بھٹی کے پاس چائے کی کیتلی سے تقریبًا مُنھ لگائے دائروی شکل میں بیٹھ جاتے۔ ابلتی چائے کی خوشبو، جلتی لکڑی کی ہمک اور سگریٹوں کی سڑاندماحول کو افسانوی بنا دیتی۔ گرمیوں میں سیاہ ہوٹل کے اندر سے لوہے کی بل دار سیڑھی سے چھت پر جا بیٹھتے۔ جہاں لکڑی کے بینچ اور پانی کا جگ پہلے سے ہمارے منتظر ہوتے تھے۔

دن خاصہ گرم اور حبس زدہ گزرا تھا لیکن شام کے وقت چلنے والی ہوا لوگوں کوگھروں سے نکلنے کا سندیسہ دے گئی تھی۔ ہم چھت پر بیٹھے دن بھر کی گرمی پر گفتگو کر رہے تھے۔ بارش کی پیش گوئی کررہے تھے۔ اچانک سے موصوف نے جیب سے پیکٹ نکالا اور سگریٹ کو انگلیوں میں پھنسا کر گرمی پر سیر حاصل لیکچر دینے لگے۔ مجھے مخاطب کر کے بولے کہ جناب شعلہ دار تو دینا۔ میں حیرانی سے مُنھ تکے جارہا تھا۔ موصوف سگریٹ سلگانے کے لیے لائٹر مانگ رہے تھے۔ مجھ پر جب طلب کا مقصد واضح ہوا تو بے اختیار چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ باقی سب دوست بھی مسکرائے بنا نہ رہ سکے۔ یہ ترکیب جناب نے خود گھڑی تھی یا کہیں پڑھی تھی لیکن تھی کمال کی۔

میں مسکراتے ہوئے شعلہ دار کو ہاتھ میں لیے ٹٹول رہا تھا کہ فخر میری جانب آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ پتھر کے کھونے پر بیٹھ گیا اور مسکرانے کا سبب پوچھنے لگا۔ میں نے شعلہ دار کی کہانی شعلہ بیانی سے سنائی تو وہ بھی مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔ وہ میری طلب سمجھ چکا تھا۔ سگریٹ نکال کر مجھے پیش کی۔ اس نے سگریٹ کے لیے کالے رنگ کا کیس رکھا ہوا تھا۔ جس میں دس سگریٹوں کی گنجائش تھی۔ میں نے سگریٹوں کے کیس کو ہاتھ میں لیا اور سگریٹ کی بابت گفتگو کرنے لگا۔ پھر ہمارا موضوع بدلا اور ہنزہ میں رہائش پر آکر رک گیا۔

کچھ لوگ ذمہ دار طبیعت رکھتے ہیں اور کسی بھی ذمہ داری کو ہنسی خوشی قبول کرتے ہیں۔ شاید اس طرح وہ دوسروں پر اپنی اہمیت واضح کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہر کام کو کمال مہارت سے سرانجام دیتے ہیں بدلے میں صرف تعریف و توصیف کے خواہاں ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تعمیری سوچ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی سب سے اولین خواہش نمایاں ہونا ہوتی ہے۔ نمائندگی انھیں دل و جان سے پسند ہوتی ہے چاہے کسی بھی درجے اور کسی بھی جگہ پر ملے۔ فخر ایسی ہی شخصیت کا مالک تھا جو ہر وقت نمایاں ہونے کی کوشش میں لگا رہتا تھا۔

ایسے کھلے ماحول میں بیٹھے ہوئے بھی وہ اپنی شخصیت کے حصار سے باہر نہیں آ سکا تھا۔ اپنے آپ سے محبت کرنا، خود کے متعلق باتیں کرنا، اپنے واقعات ہی سناتے چلے جانا اور اپنی ہی ذات کو اہم ترین سمجھنا دراصل ذہنی بیماری ہے۔ انسان کو سوائے اپنے کہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا اور وہ تمام عمر اپنی ذات کو اہم بناتے بناتے زندگی ضائع کر بیٹھتا ہے۔

میں فخر کی باتیں سنتے ہوئے یہ سب سوچ رہا تھا۔ پہلے تو میرے جی میں آئی کہ اسے اپنے خیالات سے واقفیت دلائوں۔ اسے بتائوں کہ میں نے تمہارے بارے میں کیا نتیجہ نکالا ہے۔ لیکن پھر اس کے چھوٹے سے ماتھے پر میری بات کی وجہ سے پڑنے والی شکنوں کا خیال آگیا۔ میں نے بات کا رخ ہنزہ میں قیام کی طرف موڑ دیا۔ ہم دونوں تبادلۂ خیال کرتے ہوئے دھیرے دھیرے چہل قدمی کے انداز میں وین کے پاس آگئے۔ میں نے موبائل پر وقت دیکھا اور حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ ہمیں یہاں رکے ہوئے اڑھائی گھنٹے سے اوپر ہو گیا تھا۔

سبھی دوست اپنی اپنی نشستوں پر آکر گر گئے۔ چہروں پر تازگی نام کی کوئی جھلک بھی نہیں تھی۔ وین دوبارہ حرکت میں آ چکی تھی۔ اسی سرنگ سے گزر رہی تھی مگر اب کی بار لگتا تھا کہ یہ سرنگ ختم نہیں ہوگی۔ حالاں کہ سفر سے واپسی پر آسانی رہتی ہے۔ یہاں معاملہ الٹ ہو چکا تھا۔ شام اپنے سیاہی مائل پروں کے ساتھ برف پوش پہاڑوں پر پوری طرح نہیں اتری تھی اور ہم ہنزہ کی وادی میں داخل ہوچکے تھے۔

جاری ہے۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20