راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 13) —- یاسر رضا آصف

0

وین میں اونگھتے جانا اور دوسروں کے کندھوں پر گر جانا کئی لوگوں کا مشغلہ ہوتا ہے۔ کچھ مُنھ کھول کر سوتے ہیں تو کچھ آنکھوں کو اس قدر سختی سے بند کرکے کہ چہرے پر شکنیں پڑی ہوتی ہیں۔ ایسی ہی مختلف حالتوں میں تقریبًا سبھی دوست سوئے ہوئے تھے۔ کچھ ہچکولے کھاتی وین میں نیند کی پینگ پر جھولے جھول رہے تھے۔ کچھ مُنھ کھولے مردہ حالت میں پڑے تھے۔ وین جب اچانک کوئی موڑ مڑتی یا رکتی تو انسان نما بوریوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیتی۔ کچھ کی آنکھ کھل جاتی اور وہ دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشن میں جانے کے لیے حرکت کرتے پھر وہی مردنی چھا جاتی۔

میں سمیر کے جھولتے ہوئے جسم کو مسلسل اپنے کندھے کا سہارا دیے ہوئے تھا۔ وہ جب اگلی سیٹ پر سر رکھ لیتا تو مجھے کچھ وقت کے لیے جیسے سکون مل جاتا۔ پھر کسی ہچکولے کے زیرِ اثر وہ دوبارہ اپنا سارا وزن میرے بائیں کندھے پر ڈال دیتا۔ بات جب میری برداشت سے باہر ہوگئی تو میں نے اسے جگا دیا۔ ویسے عام طور پر میں کسی کو نیند سے جگانا گستاخی سمجھتا ہوں۔ چوں کہ میری دانست میں یہ انسان کی سب سے سکون دہ حالت ہوتی ہے۔ پر جب معاملہ میری دانست سے بڑھ کر دشوار ہو گیا تو میں نے یہ گستاخی کرنا ہی بہتر سمجھا۔ سمیر نے بوتل میں سے پانی پیا اور گیلا ہاتھ چہرے پر پھیرنے لگا۔ اسلام بھی اٹھ چکا تھا اور چھوٹی سی ڈائری پر خرچ کیے گئے اعداد و شمار میں منہمک دکھائی دے رہا تھا۔

میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو گاڑی تقریبًا زندہ ہونے لگی تھی۔ سبھی انگڑائیاں لیتے ہوئے جمائیوں کے ساتھ ہاتھ پائوں پھیلارہے تھے۔ نیند سے بیدار ہونے والی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا کہ اس وقت کہاں پہنچے ہیں؟ اس کا جواب کوئی سنگِ میل یاراستے پر لگا بورڈ ہی دے سکتا تھا۔ چوں کہ ہم سب کے لیے یہ راستہ اجنبی تھا اس لیے سبھی نے اپنے سوال کے جواب کے لیے کھڑکیوں سے باہر جھانکنا شروع کردیا۔

جیسے جیسے وین آگے بڑھتی جارہی تھی۔ پہاڑ بلند اور ہیبت ناک ہوتے جار ہے تھے۔ سڑک دیدہ زیب اور ملائم تھی۔ یہ سی پیک کا حصہ تھی اس لیے قرینے سے بنی ہوئی تھی۔ سڑک کے ایک طرف اونچے پہاڑ تھے تو دوسری جانب کھائیاں مُنھ کھولے ہوئے تھیں۔ لیکن کھائیوں کی جانب باڑ لگی ہوئی تھی یعنی حفاظتی حصار موجود تھا جو کہ تحفظ کا احساس دلا رہا تھا۔ وین کی رفتار مناسب تھی چوں کہ اچانک کئی جگہوں پر ایسے موڑ تھے جو کہ یوٹرن جیسے تھے۔ اس لیے ڈرائیور مشاقی سے گاڑی چلا رہا تھا۔

عطا آباد جھیل سے پہلے تئیس کلومیٹر لمبی سرنگیں آئیں۔ گاڑی پتھریلے پہاڑوں سے ہوتی ہوئی ان میں داخل ہوئی تو جیسے اور ہی دنیا میں پہنچ گئی۔ یہ ارنستو بانستو کے ناول سرنگ جیسی بالکل نہیں تھیں۔ یہاں معاملہ یکسر مختلف تھا۔ تین بجے کے قریب بھی سرنگ میں روشنیاں جل رہی تھیں اور سڑک کسی سیاہ فرش کی طرح بچھی ہوئی تھی۔ سرنگ میں مدد کے لیے ایمرجنسی نمبرز درج تھے۔ کسی بھی قسم کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ بھی موجود تھی اور جگہ جگہ رفتار کے حوالے سے ہدایات نامے بھی درج تھے۔ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے دوستوں نے موبائل سے سرنگ کی ویڈیو بنانی شروع کردی۔

سرنگ سے گزرتے وقت میں خود کو ٹائم ٹریولر تصور کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ سرنگ کے اختتام پر گاڑی کسی اور ہی دنیا میں جا نکلے گی۔ جہاں گاڑیاں ہوائی جہازوں اور ڈرونز کی طرح پرواز کرتی دکھائی دیں گی۔ آسمان سے باتیں کرتی شیشے کی ٹیڑھی میڑھی عمارتیں ہوںگی جن پر لگی سکرینیں رنگ روپ بدل رہی ہوں گی۔ یہ سب میرا محض تصور ثابت ہوا اور سرنگ کے اختتام پر گاڑی ایک اور سرنگ میں داخل ہوگئی۔ یہ سرنگ بھی پہلے کی طرح روشنیوں سے مزین تھی۔ کچھ لمحوں کے لیے تو یوں محسوس ہوا کہ وین جیسے کسی یورپی ملک میں داخل ہوگئی ہے۔ سرنگ کا اختتام ہوا اور بائیں جانب مٹیالے پہاڑوں میں گھرا سبز رنگ کا پانی اپنی چھب دکھانے لگا۔

مٹیالے اور پتھریلے پہاڑوں کے درمیان سبز پانی آرام فرما رہا تھا۔ عطا آباد جھیل کا نظارہ سحر زدہ کردینے والا تھا۔ جی میں آئی کہ گاڑی سے چھلانگ لگا دوں۔ کسی پتھر پر کچھ دیر کے لیے بیٹھ جائوں اور آنکھوں کی پتلیوں میں اس نظارے کو ہمیشہ کے لیے قید کرلوں یا ایسا ہو کہ وقت کی لگامیں میرے ہاتھ میں آ جائیں اور جی بھر کے جھیل کو صدیوں تک بیٹھا تکتا رہوں۔ یہ جھیل دو ہزار دس میں سڑک کے ساتھ گائوں کے بیس لوگ بھی نگل گئی تھی۔ شنید ہے کہ گائوں والوں کو مطلع کیا گیا تھا۔ پہاڑ سرکنے کی اطلاع دی گئی تھی مگر شاید انھیں اپنی دھرتی سے اس قدر محبت تھی کہ انھوں نے گائوں چھوڑنا مناسب خیال نہ کیا تھا۔

پنجاب میں جب سیلاب آیا تو ایک بزرگ اپنی بھینسوں اور اپنے گھر کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ ہیلی کاپٹر سے بارہا اسے امداد پہنچائی گئی اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ چاروں جانب پانی آچکا ہے۔ یہ ٹیلہ بھی عنقریب ڈوب جائے گا۔ پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی تھی لیکن وہ بوڑھا اپنی بھینسوں سے اس قدر محبت کرتا تھا کہ کسی طور راضی نہ ہوا۔ اس کا سارا خاندان چلا گیا۔ وہ چارپائی پر بیٹھا بھینسوں کو دیکھتا رہا۔ بالآخر ڈوب گیا۔ عقلی لحاظ سے دیکھیں تو ہم اسے سراسر جذباتیت کہیں گے اور شاید بے وقوفی کے زمرے میں بھی داخل کریں لیکن انسیت اور محبت کے حوالے سے دیکھیں تو اس سے عمدہ مثال ملنا مشکل ہے۔

ہم لوگوں کا ارادہ چائنہ بارڈر تک جانے کا تھا۔ خنجراب کا وہ گیٹ دیکھنے کی تمنا لیے گھر سے نکلے تھے جس پر چائنیز زبان میں کچھ الفاظ کندہ تھے۔ ہمارے ساتھ سرکاری افسروں کا ٹولہ تھا جنہیں فرض کی پکار بار بار فون پر گھنٹیوں کی صورت میں موصول ہور ہی تھی۔ اس لیے ہمیں چارو ناچار عطا آباد جھیل پر رکنا پڑا۔ پروگرام کو مختصر کرتے ہوئے دل پر چھریاں چل رہی تھیں۔ اسلام کا چہرہ اُترا ہوا تھا۔ اِمداد غمزدہ دکھائی دے رہا تھا۔ میں خود عجیب سی مایوسی کے گھیرے میں آگیا تھا۔ جب وین ذیلی سڑک پر اتری جو جھیل کی جانب جاتی تھی تو ہماری شکلیں دیکھنے والی تھیں۔ میں نے اپنے آپ کو حوصلہ دیا اور خود کو حسین نظاروں میں گم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وین پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں اور بسوں کو پار کرتی ہوئی گزر رہی تھی۔ پارکنگ کیا تھی بس گاڑیوں کو کھڑا کرنے کے لیے زمین چھوڑی گئی تھی جسے ریت سے ڈھانپا گیا تھا۔ جھیل نشیب میں تھی۔ جھیل پر لوگوں کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ ایک مناسب جگہ دیکھ کر گاڑی کو روک دیا گیا۔ میں نے جھٹ سے گیٹ کھولا اور ریتلی زمین پر قدم رکھا۔ لمبا سانس لیا اور پھیپھڑوں کو تازہ ہوا سے بھرا۔ یوں کھلی فضا میں سانس لینا اچھا لگا۔ آزادی کا احساس ہوا۔ آزاد فضائوں کے پنچھی اپنی اڑانیں مرضی سے بھرتے ہیں۔ میں بھی اس لمحہ آزاد تھا لیکن پنچھی نہیں تھا۔

جھیل پر نگاہ پڑی تو ٹھٹھک کر رہ گیا۔ لوگوں کی تعداد میری سوچ سے بھی زیادہ تھی۔ گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔ دور تک پارکنگ کے لیے جگہ مختص تھی۔ پارکنگ کی جگہ اونچائی پر تھی اور بتدریج ڈھلوانی شکل اختیار کرتے ہوئے جھیل تک جا رہی تھی۔ جھیل کے کنارے لوگ ٹولیوں میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کچھ چہل قدمی کر رہے تھے۔ کچھ چٹائی بچھا کر تاش کھیلنے میں محو تھے۔ کچھ بچے ایک بڑے سے رنگین فٹ بال سے کھیل رہے تھے۔ زندگی اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ جلوہ گر تھی۔

جھیل کا سبزی مائل پانی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہاتھا۔ نکھری دھوپ میں ہوا کے جھونکے جھیل کے پانی پر ہلکی ہلکی لہریں بنا رہے تھے۔ غور کرنے پر خبر ہوئی کہ ہوا کے ساتھ ساتھ جھیل پر تیرتی کشتیاں بھی لہریں بنانے میں ہواکا ہاتھ بٹا رہی تھیں۔ میں نے پارکنگ سے ہوتے ہوئے سیدھا جھیل تک جانے کا سوچ لیا۔ میں فطرت کے سحر میں پوری طرح گرفتار ہو چکا تھا۔ میں اپنے دوستوں کو بھول چکا تھا بلکہ خود فراموشی کی کیفیت میں چلا گیا تھا۔ میرا دھیان جھیل کے نظارے سے ہٹ نہیں رہا تھا۔ میں منظر پر مسلسل نگاہ جمائے ویگنوں اور بسوں کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ ایک بس واپس مڑتے ہوئے بالکل میری ناک کے پاس آگئی۔ میرے قدم جم گئے۔ بس اگر ایک انچ بھی مزید پیچھے ہٹتی تو یقینًا مجھ سے ٹکرا جاتی لیکن ایسا ہوا نہیں۔

چن پیر کا میلہ پاک پتن کے علاقے میں اپنی خاص پہچان رکھتا ہے۔ یہ میلہ ویسے تو تین دن کے لیے ہوتا ہے لیکن زائرین کی آمد کا سلسلہ ہفتہ پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے اور غیر مختتم صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جہاں میلہ لگتا ہے وہاں اس قدر گہما گہمی ہوتی ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے الگ شہر کی بنیاد پڑ گئی ہے۔ وسیع میدان میں مختلف انواع کے سٹالز، موت کے کنویں اور سرکس لگے ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ عارضی نوعیت کا ہوتا ہے۔ میلے کے اختتام پر خالی میدان رہ جاتا ہے جس میں ایک بار پھر سے کھیتی باڑی شروع ہوجاتی ہے۔ فصلیں لہلہانے لگتی ہیں۔ اگلے سال فصلوں کی کٹائی کے بعد پھر یہی عمل دہرایا جاتا ہے جیسے چند صدیوں کے بعد تاریخ خود کو دہراتی ہے۔

میں بارہویں کے امتحانات سے فارغ ہوا تھا۔ میری حالت بے سمت سفر کرنے والے آوارہ جہاز جیسی تھی جسے کچھ خبر نہیں ہوتی کہ ساحل کس طرف ہے۔ مجھ پر آوارگی کا بھوت سوار تھا۔ میں صبح گھر سے نکلتا اور شام کو ہی لوٹا کرتا۔ کبھی کرکٹ کے میدان کا رخ کرتا۔ کبھی بے تکی ورزشوں میں خود کو کھپاتا۔ کبھی نہر کے کنارے ناول کے ساتھ سارا سارا دن گزار دیتا۔ کبھی دوستوں کے ساتھ گلیاں اور سڑکیں ماپنے نکل جاتا۔ غرض ہر قسم کی آوارگی کے لیے ہر لمحہ مستعد رہتا۔

میں گھر کے قریب چوک میں کھڑا دوستوں کو بے سروپا باتوں سے ہنسا رہا تھا۔ بیچ میں کوئی چٹکلہ یا لطیفہ بھی سنا رہا تھا کہ ایک دوست نے چن پیر جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ میں نے اپنی حالت کا عُذر پیش کیا۔ میں نے ٹراوزر شرٹ کے نیچے ہوائی چپل پہنی ہوئی تھی۔ لیکن کسی دوست نے بھی اس عُذر کو قبول نہیں کیا۔ اگر میں گھر جاتا تو واپس لوٹنا ممکن نہیں تھا۔ میلہ اپنے عروج پر تھا اور لوگ زیادہ تر اسی کے متعلق گفتگو کرتے پائے جاتے۔ میں نے اپنی جیب ٹٹولی تو رقم موجود تھی۔ اس روز ہی میں نے کچھ روپے سودا سلف سے کاٹ کر بچائے تھے۔ میں نے حامی بھرلی۔ شہر سے چن پیر کا فاصلہ سات آٹھ کلومیٹر ہے۔ ابھی ہم لوگ چوک ہی میں کھڑے تھے کہ مغرب کی اذانیں سنائی دینے لگیں۔ لہٰذا سواری کا فی الفور بندوبست ضروری تھا۔ چند اور لڑکے بھی آگئے۔ رات کے سمے پیدل سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا پھر ہمیں واپسی بھی کرنا تھی۔ لہٰذا رکشے کا بندوبست ہوا۔

چن پیر کو جانے والی ٹوٹی پھوٹی سڑک پر رکشہ ہچکولے کھاتا ہوا چلنے لگا۔ آج بھی وہ سڑک گڑھوں اور کھائیوں سے مزین ملے گی۔ اب تو گڑھے باقاعدہ سڑک کا حصہ بن چکے ہیں۔ رکشہ ایسے جھٹکے کھارہا تھا جیسے زلزلے کے دوران چل رہا ہو۔ رولر کوسٹر پر بیلٹ کی سہولت موجود ہوتی ہے مگر وہاں نہ تو بیلٹ تھا اور نہ ہی کوئی حفاظتی حصار تھا۔ بس اپنی مدد آپ کے تحت نشست پر جمے رہنے کی مسلسل کوشش تھی جو ہمیں کرتے رہنا تھی اور ہم مسلسل دھچکے کھاتے یہ کوشش جاری رکھے ہوئے تھے۔

رکشہ چلتے چلتے آہستہ ہوا اور بائیں جانب دیوہیکل پتھریلے دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔ دور تک ایک سڑک جارہی تھی۔ سامنے سبز رنگ کا گنبدجلتی بجھتی روشنیوں میں جگ مگ کر رہا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف کراکری، چوڑیوں اور کھلونوں کی عارضی دکانیں لگی تھیں۔ رکشہ سڑک پر تھوڑی دور جا کر پھر بائیں جانب مڑ گیا۔ جہاں بانسوں کو زمین میں گاڑ کر پارکنگ بنائی گئی تھی جو کہ حدِ نگاہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ گاڑیاں بے ہنگم طریقے سے کھڑی تھیں۔ کوئی ترتیب نہیں تھی۔ اس بے ترتیبی کے باوجود چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کے لیے الگ الگ حصے مختص تھے۔

ہمارا رکشہ موٹر سائیکلوں اور رکشوں والے حصے میں جا کر رک گیا۔ پارکنگ میں موٹر گاڑیوں سے زیادہ لوگ موجود تھے جو بلاوجہ اِدھر اُدھر آ جا رہے تھے۔ ساتھ قبرستان تھا۔ رکشے والا بھی دوست تھا اور ہمارے ساتھ ہی واپس جانے والا تھا۔ اس نے پوچھا کہ یار رکشہ کہاں لگائوں۔ میں نے جیسے مشورہ دیا کہ کسی سیانی سی قبر کے ساتھ لگا دو، نگرانی رہے گی۔ بس پھر قہقہے تھے اور ہم لوگ تھے۔ رکشے والا کھسیانی سی ہنسی ہنسنے لگا۔ میں نے زندگی میں کئی دوستوں کو گنوا دیا پر جملہ نہیں گنوایا۔ جب کوئی جملہ سوجھ گیا تو موقع پر بول دیا بغیر انجام کی پرواہ کیے۔ یوں کئی احباب روٹھے بھی اور کئی غصہ بھی ہوئے پر میرا چلن نہ بدلا۔

ہم لوگوں نے پارکنگ میں کھڑے ہو کر اپنی سمت متعین کی اور بے اختیار بھاگ کھڑے ہوئے۔ میلوں ٹھیلوں میں یہ ہلڑ بازی اور ہنسی مذاق ہی بچتا ہے۔ اگر ہم بازار کے راستے جاتے تو قوس کی شکل میں چکر کاٹ کر میلے میں جانا پڑتا۔ جس پر کم از کم آدھا گھنٹہ صرف ہو جاتا۔ اس لیے ہم پارکنگ کے اندر سے ہی میلے کی سمت سرپٹ دوڑ رہے تھے۔ میں نے کینچی چپل پہن رکھی تھی اس لیے دوڑنے میں پیچھے رہ گیا۔ میں ان کی پشت پر نگاہ رکھے اپنی طرف سے تیز سے تیز قدم اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن میری ہوائی چپل بار بار میرے پائوں سے نکل بھاگنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ یوں مجھے زمین پر پائوں جما کر رکھتے ہوئے بھاگنا پڑ رہا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اگلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20