افغانستان: ملا عمرسے اشرف غنی تک — محمد حمید شاہد

0

ایمبیسیڈرز لاؤنج میں ہمارے ایک شاعر دوست سید ابرار حسین کو تین سفارت کاروں نے گھیر رکھا تھا اور طالبان، شمالی اتحاد، افغانستان پاکستان تعلقات اور ٹرانزٹ ٹریڈ سے لے کر افغانستان میں ہندوستانی مفادات اور افغانوں کی نئی نسل میں پاکستان مخالف احساسات جیسے اہم موضوعات پر انہیں کرید رہے تھے۔ یہ گفتگو امید کی اُس کرن تک ہوتی چلی گئی جو ہمارے مہربان دوست کی کتاب کے عین آخر سے پھوٹ پڑی تھی۔ سید ابرار حسین محض شاعر نہیں ہیں کئی ممالک میں سفارت کاری کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ اُن سے مکالمے کے شرکا کے نام بھی بتائے دیتا ہوں آصف درانی، طارق ضمیر اور تنویر خاصخیلی۔ جو کتاب زیر بحث تھی یہ وہی تھی جو چند ماہ پہلے مجھے ملی تھی۔ میں نے اسے تب ہی پڑھ ڈالا تھا اور ارداہ تھا کہ اس کی رسید مصنف کو دوں گا مگر کچھ دوسرے لکھنے پڑھنے کے کاموں میں ایسا الجھا کہ ایسا کرنا معطل ہوتا چلا گیا۔ ایمبیسیڈر سید ابرار حسین کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب کا نام ہے: ”افغانستان: مُلا عمر سے اشرف غنی تک“۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ایمبیسیڈر سید کی کتاب زیر بحث تھی۔ یہ گفتگو اور کتاب، دونوں یوں اہم ہیں کہ ان میں ہم افغانستان کے وہ چودہ سال ہی نہیں دیکھتے جن کی طرف کتاب کے سرورق میں اشارہ کر دیا گیا تھا، آج کے افغانستان کے بارے میں بھی جان سکتے تھے اور اُن مشکلات کا اندازہ لگا سکتے تھے جو اس باب میں پاکستان کو درپیش ہیں۔ اس گفتگو نے مجھے تحریک دی کہ میں ایمبیسیڈر سید کی کتاب پھر سے اٹھاؤں اور وہ کام جو تعطل میں پڑا ہوا تھا اُسے کر گزروں۔

یہیں بتاتا چلوں کہ بہ قول سید صاحب، اُن کا افغانستان سے تعلق بہت پرانا ہے۔ اُن کے والد صاحب قیام پاکستان سے پہلے ملازمت کے سلسلے میں کئی سال کابل میں رہ چکے تھے۔ وہ وہاں ایک مشہور تعلیمی ادارے میں پڑھاتے رہے۔ وہاں اُن کے کئی شاگرد اور واقف کار تھے۔ میٹرک کے زمانے میں وہ اپنے والد صاحب کے انہی دوستوں کے ہاں کابل جاکر قیام کر چکے تھے۔ اُس زمانے میں انہوں نے قلعہ جواد بھی دیکھا تھا جو ظاہر شاہ کے پیر فضل عمر مجددی عرف مُلا شور بازار کی رہائش گاہ رہی تھی، جن کا سلسلہ نسب مجدد الف ثانی سے ملتا ہے۔ یہ قلعہ ملا شور بازار کے انتقال کے بعد ابراہیم جان کے تصرف میں تھا اور یہ ابراہیم جان ایک زمانے میں سید صاحب کے ابا جی مرحوم کے شاگرد رہ چکے تھے۔ سید صاحب سے یوں ان کاایک خاص تعلق پید ا ہو گیا تھا۔ بعد میں جب افغانستان میں کیمونسٹ انقلاب آیا تو ابراہیم جان اور ان کے تین بڑے بیٹے جیل میں ڈال دیے گئے جو سب لاپتہ ہو گئے اور ابھی تک لاپتہ ہیں۔ تب خاندان کی عورتیں اور چھوٹے بچے ملک بدر ہو کر پاکستان پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ ان بچوں میں ابراہیم جان کے قیدی ہو جانے والے بیٹے اسماعیل کے بڑے بیٹے احمد امین بھی تھے جنہوں نے اپنے باپ دادا کی گدی سنبھالی اور احمد مجددی کے نام سے معروف ہوئے۔ افغانستان کے ایک صدر صبغت اللہ مجددی بھی ہو گزرے ہیں ان کا تعلق اسی خانوادے سے تھا۔

کہنا یہ ہے کہ سید صاحب محض سفارت کار رہ کر سفارت خانے تک محدود نہیں رہے، ان کا تعلق اور دلچسپی کے علاقے سفارت خانے سے باہر بھی تھے۔ وہ وہاں کے لوگوں کی زبان بول سکتے تھے، ان کے احساسات کو محسوس کر سکتے تھے اور جو کچھ وہاں ہو رہا تھا وہ اسے دور تک دیکھ اور سمجھ سکتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ یہ کتاب جو اُن کی یادداشتوں کا مجموعہ ہے ہمیں اس خطے کے بارے میں کچھ بصیرتیں بھی عطا کرتی ہے۔ سید صاحب کی افغانستان میں پہلی پوسٹنگ طالبان کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اس وقت قندھار عملی طور پر دارالخلافہ تھا۔ وہ قندھار میں قونصل جنرل ہوکرگئے تو طالبان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جی، اُن طالبان کو جنگجو تھے اور حکمران بن کر بھی اپنی خو نہ بدلے تھے۔

قندھار پہنچتے ہی چندروز کے اندر اندر سید صاحب کی ملا عمر سے ملاقات ہو گئی تھی۔ جی، ”امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد“ سے، کہ تب وہ اسی طرح موسوم کیے جانے لگے تھے۔ ملا عمر کا تعلق قندھار میں آزاد حکومت قائم کرنے والے پہلے پشتون حکمران میر ویس ہوتک کے قبیلے غلزئی سے تھا۔ سید صاحب ملا عمر کی شخصیت کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اُن کا قد چھ فٹ کے لگ بھگ تھا، ایک آنکھ روسیوں سے کسی معرکے میں ضائع ہو گئی تھی۔ تب وہ ۳۷ برس کے تھے اور مزاج میں لچک نہ تھی۔ جو کہہ دیتے اس پر ڈٹ جاتے اور یہ وہ صفت یا خرابی تھی جو طالبان کے نزدیک عزم و استقلال اور مخالفین کی نظر میں ہٹ دھرمی تھی۔ ایک سرکاری مہمان خانے میں ہونے والی یہ پہلی ملاقات تھی۔ ایک کمرہ جس میں چند سادہ سے صوفے اور کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اس عمارت میں شاہ صاحب کی ملا عمر سے اور بھی ملاقاتیں ہوئیں اور آخری ملاقات ایسی تھی کہ ملاعمر اسی عمارت کے برآمدے میں کھڑے کچھ لوگوں سے محو گفتگو تھے، وہیں زمین پر اپنی چادر بچھا کر بیٹھ گئے تھے جب کہ ایمبیسیڈر سید کے لیے نائب وزیر خارجہ ملا جلیل نے اپنی چادر بچھائی تھی۔

طالبان کے زمانے میں پاکستان نے امن کے قیام کے لیے جو کوششیں کیں وہ اس کتاب کا حصہ ہیں۔ پاکستان تب کی افغان قیادت کو سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ جو کچھ طالبان کر رہے تھے اس کی وجہ سے جہاد بدنام ہو رہا تھا، اس بدنامی سے بچنے کا راستہ یہی تھا کہ شمالی اتحاد اور طالبان گفتگو کے لیے تیار ہو جائیں، ایک شوری بنالیں مگر ملا عمر بہ ضد تھے کہ شمالی اتحاد والے بددیانت اور نااہل تھے اور شریعت ایسے لوگوں کو شریک اقتدار کرنے سے منع کرتی تھی اور یہ بھی کہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ جنگ ہی کر سکتی تھی۔

بھارتی جیل سے مسعود اظہر اور ان کے ساتھوں کی رہائی کے لیے بھارتی طیارے کے اغوا اور اس کا پہلے لاہور پھر دبئی اور آخر میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے قصے کی تفصیل اس کتاب میں ہے اور اس باب میں طالبان کے مثبت کردار کی بھی، جس کے سبب ہائی جیکرز مسافروں کو قتل کرنے کے بجائے بھارتی وفد کے انتظار پر مجبور ہوئے تھے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ ایک خصوصی طیارے میں تین قیدیوں کو لے کر قندھار پہنچے تھے۔ قیدی نامعلوم سمت روانہ کر دیے گئے اور ہائی جیکنگ کا ڈرامہ ختم ہو گیا مگر اپنے پیچھے کشمیریوں اور پاکستانیوں کے لیے بھی بہت سی مشکلات چھوڑ گیاتھا۔

اسی زمانے میں طالبان نے بامیان میں چھٹی صدی عیسوی میں بنائے گئے گوتم بدھ کے قدیم اور دیوہیکل مجسمے توڑنے کا اعلان کیا توپاکستان نے سفارتی سطح پر طالبان کو اس اقدام سے روکنے کے لیے جو کوششیں کی انہیں بھی شاہ صاحب نے ایک باب میں بیان کیا ہے۔ اس وقت کے وزیر داخلہ معین الدین حیدر ملا عمر سے ملنے قندھار پہنچے۔ ملا عمر سے گفتگو میں ایمیسیڈرسید کے علاوہ کابل میں پاکستان کے سفیر عزیز احمد بھی تھے۔ سورہ انعام کی اس آیت کا حوالہ دیا گیا جس میں دوسروں کے معبودوں کو برا نہ کہنے کا حکم تھا، عمروابن العاص کے مصر کو فتح کرنے کے موقع پر مجسمے نہ توڑنے کا یاد دلایا گیا اور یہ بھی کہ سلطان محمود غزنوی جیسا بت شکن یہاں سے گزرا تھا مگر اس نے ان مجسموں کو نہیں توڑا تھا تو اس میں بھی کوئی حکمت تھی مگر ملا عمر پر سب بے اثر جا رہا تھا انہیں کوئی فکر نہ تھی کہ اس کا ردعمل کیا ہو گا۔ اقوام متحدہ مجسموں کو نہ توڑنے کی قرارداد پاس کر چکی تھی۔ یونیسکو میں او آئی سی کے سفیروں نے بھی ایسی ہی درخواست کی تھی۔ مگر ملا عمر نے ایک نہ مانی اور یہ کہہ کر معاملہ نمٹادیا کہ ”مجسمے توڑنے کا فتویٰ قومی سطح کے افغان قاضیوں اور مفتیوں کاتھا جسے بدلا نہیں جاسکتا تھا اور اس کے عمل درآمد میں تاخیر بھی خدا کے نزدیک پسندیدہ عمل نہیں ہوگا۔“

یہیں ملاعمر کے حوالے سے ایک اور دلچسپ واقعہ: یہ واقعہ 1998 کا ہے۔ سعودی خفیہ ایجنسی کے سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے قندھار میں ملا عمر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (افغانستان) افتخار مرشد اور آئی ایس آئی کے جنرل نسیم رانا بھی ہمراہ تھے۔ جب سعودی شہزادے نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کیا جائے تو ملا عمر نے ایسا ماننے سے انکار کیا۔ سعودی شہزادے نے کہا کہ جب ان سے پچھلی بار ملاقات ہوئی تھی تو ملا عمر نے وعدہ کیا تھا کہ اسامہ کو سعودی عرب کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ملا عمر نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ سعودی شہزادے نے جب اصرار کیا کہ ایسا وعدہ کیا گیا تھا تو ملا عمر طیش میں آگئے، شدید غصے میں وہاں سے اٹھے اور دوسرے کمرے میں جاکر اپنے سر پر ٹھنڈے پانی کا برتن الٹ لیا۔ پھر وہ اس حالت میں واپس آئے کہ ان کے سر سے اور کپڑوں سے پانی نچڑ رہا تھا۔ ملا عمر نے کہا: ”میں جھوٹا نہیں ہوں۔“ اس کے بعدوہ سعودی عرب میں امریکی اڈوں کا ذکر لے بیٹھے اور کہا پرانے سعودی حکمران اتنے خود دار تھے کہ وہ اپنی سرزمین پر امریکیوں کا وجود برداشت نہ کرتے تھے۔ اس ملاقات میں بدمزگی اتنی بڑھی کہ سعودی شہزادہ واپس چلا گیا اور کابل سے اپنے ناظم الامور کو بھی واپس بلا لیاتھا۔

کتاب اتنی دلچسپ اور معلومات افزا ہے کہ پڑھنا شروع کریں تو کہیں رکنے کو جی نہیں چاہتا اور اب اس پر لکھنے بیٹھا ہوں تو بھی جی چاہتا ہے لکھتا چلے جاؤں مگر میں چاہتا ہوں کتاب آپ فورا تلاش کرکے پڑھیں۔ اس لیے میں جست لگاتے ہوئے سید صاحب کے افغانستان میں دوسری تعیناتی کے زمانے کی طرف آتا ہوں۔ تب بیرونی افواج افغانستان میں موجود تھیں اور پوری طرح دخیل۔ طالبان حکمران نہیں رہے مزاحمت کار ہو گئے تھے۔ سیاست دان باہم الجھے ہوئے تھے۔ حامد کرزئی کے تیرہ سالہ دور حکومت کے آخری دن چل رہے تھے۔ حکومتی سطح پرپاکستان پر افغانستان میں مداخلت اور سرحد پار سے طالبان کی کارروائیوں پر احتجاج ہو رہاتھا کہ اندرونی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے اور حامد کرزئی حکومت اپنا اقتدار برقرار رکھ سکے مگر انتخابات ہونا تھے جو بعد میں ہو کر رہے نئی حکومت بن گئی۔ انتخابات کے پہلے راؤنڈ میں عبد اللہ عبداللہ نے پینتالیس فی صد جب کہ اشرف غنی نے اکتیس فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔ یہ افغانستان کی تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ کسی پشتون کے بجائے ایک تاجک صدارتی امیدوار (عبداللہ عبداللہ) کو سبقت حاصل ہوئی تھی۔ یہ الگ بات کہ عبداللہ عبداللہ کی ماں تاجک اور باپ پشتون تھا مگر ان کے والد کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا اور ان کی پرورش ننھیال میں ہوئی اس لیے انہیں تاجک سمجھا گیا۔ چوں کہ دونوں کے ووٹ پچاس فیصد سے کم تھے لہٰذا سیکنڈ راونڈ ہوا۔ اس راونڈ سے پہلے سید صاحب کی دونوں صدارتی امیدواروں سے ملاقاتیں ہوئی تھیں اور دونوں کو یقین دلایاگیا تھا کہ پاکستان اس کے ساتھ ہے جسے افغان عوام منتخب کریں گے۔ الیکشن کے اس راونڈ میں فراڈ کے بہت سے الزامات لگائے گئے۔ نتائج کا اعلان ہوا تو پانسہ پلٹ چکا تھا عبد اللہ عبداللہ کو دس لاکھ ووٹوں سے شکست ہو چکی تھی۔ لوگ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے لیے نکل پڑے۔ آخر کا امریکہ کی مداخلت سے اشرف غنی نے صدر اور عبداللہ عبداللہ نے چیف ایگزیکٹو کا حلف اٹھا لیا۔

بہت جلد اشرف غنی نے پاکستان پر دباؤ بڑھایا کہ ان کے طالبان سے مذاکرات شروع کرائے جائیں۔ ایمبیسیڈر سید کے مطابق یہ کام کچھ آسان نہ تھا کہ سن دو ہزار ایک میں امریکہ نے پاکستان کی مدد سے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان کی حکومت ختم کی تھی۔ پاکستان نے کئی طالبان رہنماؤں بشمول طالبان حکومت کے سفیر عبدالسلام ضعیف کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ وہ پاکستانیوں پر کیسے اعتماد کر سکتے تھے؟ بہر حال کوشش کی گئی اور راستہ ہموار کرنے میں کئی ماہ لگ گئے۔ مری میں طالبان اور افغان حکومت کے وفد کی ملاقات ممکن ہو پائی تاہم یہ مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔ کیوں نہ آگے بڑھ سکے؟ اس کی وجوہات بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ ملا عمر کے دوسال پہلے انتقال کی خبر تھی جو حکومتی بیانیے کے مطابق طالبان نے چھپاکر رکھی ہوئی تھی۔ اشرف غنی مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تیار نہ تھے انہوں نے پاکستان پر بھی الزام لگادیا کہ پاکستان یہ مذاکرات محض مغربی ممالک پر یہ ثابت کرنے کے لیے کروا رہا ہے کہ طالبان اس کے کنٹرول میں ہیں۔ وہ اس کے کہنے پر مذاکرات کی میز پر آسکتے ہیں تو افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں سے باز کیوں نہیں آتے؟

خیر، کتاب میں بات امریکہ طالبان کے درمیان مذاکرات تک پہنچی اور اس بیچ حزب اسلامی کے رہنما سے افغان حکومت کا معاہدہ بھی موضوع ہوا۔ پاک افغان اقتصادی روابط پر بات ہوئی، پاکستان کی طرف سے افغانستان کو دی گئی اقتصادی امداد کا ذکر ہوا۔ ایک الگ باب ثقافتی تعلقات پر لکھا گیا۔ افغان مہاجرین کی ابتلا کا ذکر ہوا تو سبز آنکھوں والی بارہ سالہ افغان لڑکی شربت گلہ کا قصہ بھی بیان ہوا جس کی تصویر نیشنل جیوگرافک میگزین کے ٹائٹل پر چھپ کر اسے دنیا بھر میں مشہور کر گئی تھی۔ افغان مونا لیزا جس کی بعد میں شادی ہوئی، چار بچوں کی ماں بنی، اس کا شوہر کسی مہلک مرض میں مبتلا ہوا اور مر کر اسے بیوہ کر گیا اور وہ گم نامی کی زندگی گزارنے لگی۔ پھر کہیں ۲۰۰۲ میں وہی فوٹو گرافر سٹیومیک کری دوبارہ اس کی تلاش میں آیا۔ پاک افغان سرحد پر واقع اس کے گاؤں پہنچا اور اس کی کہانی پھر سے نیشنل جیوگرافک میگزین کا حصہ بن گئی۔ یہی شربت گلہ جعلی شناختی کارڈ رکھنے کی وجہ سے پشاور سے دوہزار سولہ میں گرفتار ہوئی تو کوئی نہ جانتا تھا کہ یہ وہی شربت گلہ تھی جو کبھی مظلوم افغان بچوں کی مظلومیت کا استعارہ تھی۔ یہ گرفتاری پاکستان کو بہت مہنگی پڑی تھی، کیسے؟ اس کے لیے آپ کو کتاب پڑھنا ہوگی۔

آخر میں ایک بار میں پھر اس گفتگو کی طرف آپ کی توجہ چاہتا ہوں جو ایمبیسیڈر لاؤنج میں چل رہی تھی۔ گفتگو کا وہ مقام جہاں ایمبیسیڈر آصف درانی وہ وقت یاد دلارہے تھے، جب نائن الیون ہو چکا تھا اور ملا عمر سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ ہونے لگا تھا۔ انہوں نے کتاب کا صفحہ نمبر ۲۴ نکالا اور ملا عمر کا وہ ٹکا سا جواب سنایا جو سیکرٹری داخلہ رستم شاہ مہمند کی قیادت میں ان سے ملنے والے وفد کو انہوں نے دیا تھا۔ ملا عمر نے یہ کہہ کر بات ختم کردی تھی کہ ”مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نہ کریں، میری اپنی مجبویاں ہیں، میں کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جو میرے خیال میں اسلام اور میری قوم کے مفاد میں نہ ہو“۔ اس کے ساتھ سعودی شہزادے کے ملاقات کو بھی یاد کیجئے جب ملا عمر طیش میں آکر دوسرے کمرے میں گئے اور سر پر ٹھنڈے پانی کا برتن انڈیل کر اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنا چاہا مگر پھر بھی ملاقات کا نتیجہ مزید بگاڑ کی صورت نکلا تھا۔ ایمبیسیڈر آصف درانی کا کہنا تھا کہ تب کے طالبان نے یہ تو گوارا کر لیا تھا کہ ان کی حکومت جاتی ہے تو چلی جائے مگر وہ اسامہ بن لادن کو کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔“ اس تمہید کے بعد انہوں نے سوال اٹھایا۔ ”اب جب کہ انتیس فروری کو طالبان نے امریکہ سے معاہدہ کیا ہے تو اس میں انہوں نے اپنے آپ کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ القاعدہ اور داعش کو اپنی سرزمین استعمال کرنے نہیں دیں گے۔ ملا عمر جو امیرالمومنین تھے اور بہت طاقت ور تھے، ان کی باتیں اب تک طالبان دہراتے ہیں تو کیا ان کی حکمت عملی میں تضاد نہیں آگیایا پھر طالبان بدل گئے ہیں؟“

ایمبیسیڈر سید کا جواب تھا: ”اُسامہ بن لادن اس وقت ایک مہمان کی حیثیت سے وہاں تھے اور افغانوں کے لیے یہ بہت بری بات تھی کہ پناہ لینے والے مہمان کو دشمن کے مطالبے پر اس کے حوالے کر دیا جائے۔ تاہم طالبان نے اسامہ کے خلاف ثبوت مانگے تھے، کئی بار مانگے تھے کہ وہ خود اپنے کورٹ میں اسے ٹرائل کریں گے مگر ہر بار امریکہ نے الزامات کی فہرست دی، ثبوت نہیں دیے۔“ انہوں نے جب یہ کہہ کر بات آگے بڑھانا چاہی کہ ”اب بیس سال گزر چکے ہیں، وار فٹیک بھی ہے اور طالبان بھی بدل چکے ہیں،“ تو جھٹ آصف درانی نے کہا: ”گویا طالبان نے سبق سیکھاہے؟“ سید صاحب کا فوری جواب تھا، ”جی“ مگر ٹھہر کر کہا: ”نہیں“ اور اضافہ کیا کہ سبق یہ نہیں سیکھا کہ مہمان کو کسی کے حوالے کر دینا ہے۔ کوئی آدمی جس نے پناہ لی ہوئی ہے اس کی بات نہیں ہو رہی بلکہ بات یہ ہو رہی ہے کہ طالبان کسی صورت القاعدہ اور داعش کو سپورٹ نہیں دیں گے اور یقینی بنائیں گے کہ داعش اور القاعدہ کسی اور ملک کے خلاف ان کے ہاں سے کارروائی نہ کریں۔“ یہاں ایمبیسیڈر درانی کا ضمنی سوال تھا کہ”داعش اور القاعدہ کا ماٹو بھی وہی اسلام کے نفاذ کا ہے۔ تو اب طالبان کا موقف کہاں جا پڑتا ہے؟“ ایمبیسیڈرسید گویا ہوئے:”بات یہ ہے کہ طالبان اور داعش یا القاعدہ میں جو حد فاصل ہے وہ یہ ہے کہ طالبان اسلامی نظام کے صرف افغانستان کے اندر نفاذ کے داعی ہیں، پوری دنیا میں نہیں۔ اُن کا ایجنڈا لمیٹیڈ ہے اپنے ملک تک۔ داعش اور القاعدہ کا ایجنڈا گلوبل ہے۔ سب اس فرق کو سمجھتے ہیں لہٰذا ان کا خیال ہے کہ طالبان یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ اپنی زمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔“ ایمبیسیڈر تنویر خاصخیلی نے یہیں گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی طالبان اور افغانستان کے طالبان کی بابت سوال کردیا۔ ایمبیسیڈر سید کا اس بابت موقف تھا: ”پاکستان اور افغانستان کے طالبان دو الگ الگ گروپس ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔“ یہ سننا تھا کہ ایمبیسیڈر درانی نے ترت بول پڑے: ”آپ ایسا سمجھتے ہیں کہ وہ مخالف ہیں؟ جب کہ ان دونوں کے بارے میں خیال یہی کیا جاتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے کسنگ کزنز ہیں“۔

’’ایک زمانے میں پاکستان اس پر کلیئر نہیں تھا کہ پاکستانی طالبان کس کے ایجنڈے پرہیں مگراب نہیں۔“ ایمبیسیڈر سید نے جواب دیا اور اضافہ کیا ”یہ طالبان جب افغانستان جاتے ہیں تو داعش کو سپورٹ کرتے ہیں افغانی طالبان کو سپورٹ نہیں کرتے۔ داعش والے اس کے لیے باقاعدہ پاکستانی طالبان کو پیمنٹ کرتے ہیں۔ داعش کے واسطے سے یا براہ راست ٹی ٹی پی کو انڈین ایجنسیز کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس حمایت کی ایک امکانی صورت یہ ہے کہ افغانی اٹیلیجنس ایجنسی کے ذریعے اسے ممکن بنایا جاتا ہے ورنہ خود’را‘ بھی افغانستان میں موجود ہے وہ ڈائریکٹ بھی ان کی مدد کرتی ہے۔ ‘‘

اس گفتگو کا دلچسپ مقام وہ تھا جب بدل جانے والے طالبان کا ذکر آیا تو طالبان حکومت کا وہ زمانہ یاد کیا گیا جب انہوں نے بچیوں کے سکول بند کرو ادیے تھے۔ عورتوں کو زور زبردستی پردے کا پابند بنانا چاہا تھا۔ یوں تو ایران کا مذہبی طبقہ بھی عورت کے حجاب کو رائج کرنے کے حق میں تھا مگر طالبان کو وہ ایرانی حجاب بھی قبول نہ تھا جس میں چہرہ عیاں رہتا تھا کہ یہ شٹل کاک برقعے کے حامی تھے گویا افغان ثقافت ان کے مذہبی تصورات پر حاوی تھی۔ پھر وقت بدلا، طالبان کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، یہ افغانستان سے باہر نکلے دنیا کو دیکھا تو اب قدرے وہ بھی بدل گئے ہیں۔ یہ ایمبیسڈر سید کہہ رہے تھے۔ ان کے مطابق ”اب انہوں نے خواتین کو یقین دلایا ہے کہ وہ عورتوں کی تعلیم کی بھی حمایت کرتے ہیں اورخواتین کے انسانی حقوق کی بھی قدر کرتے ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ ایسا ہوگیا ہوگا مگر ایمبیسڈر سید پر امید تھے اور اُن کااپنی کتاب کے آخری صفحات میں یہ بھی کہناہے کہ طالبان کو اور بھی بدلنا ہوگا۔ انہیں ایک جنگی گروہ کے بجائے ایک سیاسی تحریک میں ڈھلنا ہوگا۔ لوگوں پر اپنے سیاسی نظریات واضح کرنا ہوں گے تب ہی وہ جمہوری نظام میں جگہ لے پائیں گے۔ یہیں سید صاحب نے اضافہ کیا: ”افغان حکومت کو صلح اور امن کے لیے ایک عبوری حکومت کے قیام کی طرف آنا ہوگا یا پھرطالبان سے مذاکرات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں پر مشتمل ایسی کمیٹی بنانا ہو گی جس پر سب متفق ہوں اگر ایسا ہوجاتا ہے تو وہ دن دور نہیں جب افغانستان میں امن کا سورج طلوع ہوتا نظر آئے گا۔“

ایمیسیڈر سید ابرار حسین نے اپنی یادداشتیں لکھتے ہوئے افغانستان کی جو تصویر دکھائی ہے، یہ اس سے بہت مختلف ہو جاتی ہے جو عالمی میڈیا دکھاتا رہا ہے۔ اسے لکھتے ہوئے انہوں نے اپنا جھکاؤ کسی ایک پلڑے میں ڈالے بغیر معروضی انداز میں زمینی حقائق بیان کر دیے ہیں اور قاری پر چھوڑ دیا ہے کہ ان واقعات کے سلسلے سے وہ کیا نتائج اخذ کرتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ یہ کتاب ہماری وزارت خارجہ کا ہر وہ فرد ضرور پڑھے جس کا ذرا سا واسطہ بھی افغانستان کے امور سے ہے۔ اور کا ش یہ کتاب افغانستان کے حکمران، سیاستدان اور طالبان بھی پڑھ پاتے۔ اگر ایسا ہوجاتا تو وہ امید کی کرن جو محترم سید صاحب نے فیض احمد فیض کو مقتبس کرکے دیکھی ہے، اپنی کجیوں کی طرف نظر کرکے وہ بھی دیکھ رہے ہوتے۔ فیض نے کہا تھا:

یہ شب کی آخری ساعت گراں کیسی بھی ہو ہمدم
جو اس ساعت میں پنہاں ہے اجالا ہم بھی دیکھیں گے
جو فرق صبح پر چمکے گا تارا ہم بھی دیکھیں گے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20