پاکستان میں ریاست اور سیاست (عمرانی تجزیہ) — احمد رضا

0

ریاست انسانی معاشروں کا جزو لاینفک رہی ہے اور اسکی وجہ ہے سیاسی ضروت اور سماج کا اجتماعی نظم۔ ریاست کے وجود کی منطق ایک عمرانی معاہدہ ہے جو لوگوں کے ساتھ اس کے باہم ربط کے خدو خال طے کرتا ہے۔ ا فراد اپنی بہت ساری انفرادی آزادیوں کو ریاست کے قیام کیلئے ترک کرتے ہیں تا کہ اجتماعی آزادی اور فلاح کی بنیاد پر معاشرہ قائم رکھ سکیں۔ ریاست اس انفرادی آزادی کی قربانی کے تبادلے میں سیاسی، سماجی اور معاشی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ دور جدید میں آئین ہی عمرانی معاہدے کی ترجمانی کرتا ہے۔ ابن خلدون کے مطابق ہر تاریخ حقیقت کو سمجھنے کیلئے اسکی وجوہات اور اثرات کو زیر بحث لانا پڑتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات کےمنطقی تجزیے کیلئے تاریخی تسلسل کا مطالعہ لازم ہے۔ آئین پاکستان ایک ایسی دستاویز ہے جو بنیادی انسانی حقوق سے لے کر ریاستی ڈھانچے کی تشکیل کو وضع کرتا ہے۔ انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ مستحکم کرتے ہی نوآبادیاتی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے قانونی نظام تشکیل دیا۔ اس نظام کی بنیاد تھی وفادار انتظامیہ و اشرافیہ جو نہ صرف مقامی بغاوتوں کی سرکوبی میں مدد گار ہو بلکہ برطانوی مفادات کا تحفظ بھی کرسکے۔ 1858ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی تحلیل کر دی گئی اور براہ راست برطانوی راج کا قیام عمل میں آیا۔ 1857ء کی بغاوت کو کچلنے کے بعدمقامی ہندوستانیوں کو افسر شاہی یا بیورو کریسی کا حصہ بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ 1861ء، 1892ء، 1909ء، 1919ء اور بالآخر 1935ء کے کونسل ایکٹ نافذ کرکے مقامی لوگوں کو محدود سیاسی اختیارات دیئے گئے مگر افسر شاہی کی بالادستی کے سائے میں۔ 1857ء کے بعد مقامی افواج پر برطانویوں کا بھروسہ اٹھ گیا اور انگریز افواج کو بھاری تعداد میں ہندوستان میں تعینات کر دیا گیا۔ مقامی افواج میں انگریز کمانڈروں کی قیادت میں متبادل عہدے ہندوستانیوں کیلئے تخلیق کیے گئے۔ افغانستان میں ممکنہ روسی جارحیت کے خطرے کو بھانپتے ہوئے پنجاب اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں فوجی چھاؤنیوں کا جال بچھا دیا گیا۔ پہلی جنگ عظیم اول کے بعد مقامی افواج پر انگریزوں کے اعتماد میں اضافہ ہواتو ان کے لیے برطانوی فوج میں کمیشن کا حصول ممکن ہو گیا۔ نو آبادیاتی نظام کی گرفت فوج اور انتظامیہ کے دو ستونوں پر منحصر تھی۔

1921ء کے بعد صوبوں میں بعض وزارتیں مقامی نمائیندوں کو دی گئیں۔ گورنروں کو قانون ساز کونسلوں میں سرکاری نمائندے نامزد کرنے کے وسیع اختیارات حاصل تھے۔ بیورو کریسی بنیادی طور پر انگریز اعلی عہدیداروں اور گورنروں کو جوابدہ تھی۔ بیوروکریسی کو مضبوط بنانے کی غرض سے اسے عدلیہ کے بعض اختیارات بھی تفویض کر دیئے جاتے تھے۔ اس کی ایک مثال 1919ء میں مجلس قانون ساز میں نامزد سرکاری نمائیندوں کے ذریعے رولٹ ایکٹ کی منظوری تھی۔ اسی قانون کے تحت جلیانوالہ باغ میں جنرل ڈائر نے نہتے لوگوں پر گولیوں کی بارش کی تھی۔ اشرافیہ جو بنیادی طور پر جاگیرداری تھی، بیوروکریسی سے تعاون کے ذریعے ہی اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنا سکتی تھی۔دوسری جنگ عظیم نے برطانوی سلطنت کی چولیں اس قدر ڈھیلی کر دی کہ انہیں ہندوستان کی آزادی کا فیصلہ کرنا پڑا۔

آزادی اور تقسیم ہند کے بعد ہم پاکستانی تاریخ کا جائزہ لیں تو موجودہ حالات کے ارتقاء اور وجوہات کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے آزادی کی ابتداء ڈومینین کی آئینی حیثیت سے ہوئی اور آئین سازی کیلئے سیاسی سفر کا آغاز ہوگیا۔ قائد اعظم کی وفات کے سیاسی خلاء نے آئین سازی کے عمل کو سست رو کرکے سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کیلئے راستہ ہموار کردیا۔ مشرقی و مغربی پاکستان کے مابین نمائندگی کے تناسب پر سیاسی اختلافات نےغیر جمہوری سیاست کا راستہ کھول دیا۔ لیاقت علی خان کی شہادت پر ملک غلام محمد، جو سابقہ بیوروکریٹ اور وزیر معاشیات تھے، گورنر جنرل کے عہدے پر متمکن ہوئے۔ انھیں طویل عرصے سے تعینات سیکرٹری دفاع (جو بنگال میں میرجعفر کے شاہی خانوادے سے تھے) کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ 1951ء میں ہی جنرل ایوب خان پہلے مقامی کمانڈر انچیف بنے۔ مشرقی پاکستان میں صوبائی اسمبلی کے پہلے عام انتخابات 1954ء میں ہوئے تو اپوزیشن جگتو فرنٹ نے 300 میں سے 290 نشستیں حاصل کرکے حکومت کے طوطے اڑا دیئے۔ محض تین ماہ بعد جگتو فرنٹ کی حکومت برخاست کرکے سکندر مرزا کو گورنرمشرقی پاکستان تعینات کرکے گورنر راج نافذ کردیا گیا۔ پہلی آئین ساز اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد بوگرہ حکومت میں مرزا وزیر داخلہ اور ایوب خان مدت ملازمت میں توسیع کے ساتھ وزیر دفاع بنادیئے گئے۔ سول بیوروکریسی نے عسکری قیادت کو ایوان اقتدار کے راستے دکھا دیئے۔ ذہن نشین رہے کہ اسی دور میں پاکستان سیٹو اور اینٹوں کا حصہ بنا۔ گورجنرل غلام محمد کی رخصتی کے ساتھ ہی سکندر مرزا گورنر جنرل اور پھر 1956ء کے آئین کے نفاذ کے ساتھ ہی صدر پاکستان بن گئے۔ سیاسی عمل میں تعطل بدستور جاری رہا اور انتخابات کے التواء کے بعد اکتوبر 1958ء میں آئین کی منسوخی کے ساتھ ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کردیا گیا۔ چند دنوں کے بعد سکندر مرزا بھی مارشل لاء کے سیلاب۔ میں بہہ کر ایسے جلاوطن ہوئے کہ تدفین کیلئے بھی انھیں ایران لے جانا پڑا۔ ایبڈو کے نفاذ نے ماسوائے حسین شہید سہروردی کے سبھی سیاسی حریفوں کو میدان سے باہر کردیا۔ ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کے نظام کے ذریعے قومی سیاست کو خلاء میں دھکیل دیا۔ سول ملٹری بیوروکریسی سیاسی خلاء میں اب محض انتظامیہ نہیں بلکہ ایک سیاسی طبقہ تھا۔ بنیادی جمہوریت تھی ہی بیوروکریسی کے سایہ عطف میں جو عوام کو نہیں بلکہ مرکزی حکومت کو جوابدہ تھی۔ اس سیاسی بیگانگی نے مشرقی پاکستان میں اضطراب پیدا کردیا۔

1958ء کے بعد ملک میں نئی اشرافیہ پیدا کرنے کی سعی کی گئی۔ نوجوان سیاستدانوں کو سیاست میں قدم رکھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ سیاسی اشرافیہ تخلیق کرنے کا سرکاری عمل شروع ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر محبوب الحق کا معروف بائیس خاندانوں کے بارے میں جملہ جو ضرب مثل بن گیا، اسی سرمایہ دار اشرافیہ کی ولادت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ خصوصا ذولفقار علی بھٹو وزیر معدنیات، محمد خان جونیجو وزیر مواصلات، ایس ایم ظفر وزیر قانون وغیرہ قابل ذکر تھے۔ مغربی امداد اور قرضوں کا سلسلہ جاری ہوا تو زیادہ معاشی فوائد نوزائیدہ سیاسی اشرافیہ کے درمیان تقسیم ہوئے۔ اب سیاست اور کاروباری مواقع سیاسی اشرافیہ کیلئے ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔ آج بھی ہماری سیاسی اشرافیہ کو یہ سبق یاد ہے۔ فوج اور سول بیوروکریسی کے با اختیار ہونے اور نئی سیاسی معاشی اشرافیہ کے قیام نے مشرقی پاکستان کو بیگانہ کر دیا کیونکہ بالادست طبقے میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ 1964ء کے صدارتی الیکشن میں مادر ملت کی حکومت کے ہاتھوں شکست نے مشرقی پاکستان کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے مرکز گریز رویے کی جانب دھکیل دیا۔ صورتحال ایسی بگڑی کہ ایوب خان آئینی طور پر اقتدار سپیکر قومی اسمبلی عبد الجبار (جو مشرقی پاکستان س تھے) کے سپردکرنے کے بجائے یحیی خان کے سپرد کر کے رخصت ہوئے۔ نتیجتا سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا، پاکستان کی اکثریت الگ ہوکر بنگلہ دیش بنا چکی تھی۔ 1969ء کے مارشل لاء کو دوسرا مارشل لاء قرار دینا نا انصافی ہوگی، وہ ایوب خان کا سیاسی تسلسل تھا۔سیاسی توڑ جور کے عمل میں ذوالفقار علی بھٹو نے سمجھوتے کی سیاست کرنے کے بجائے تصادم کا راستہ چنا جس نےمشرقی پاکستان میں مرکز گریز رویے پر مہر تصدیق ثبت کردی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے حیران کن طور پر ایوب حکومت سے علیحدگی کے بعد بائیں بازو کی ابھرتی ہوئی سیاست کو اپنا نصب العین بنایا۔ متوسط طبقے کی سیاسی لہر نے پہلی بار اٹھان لی اور یہ سیاسی اشرافیہ کے خلاف تاحال آخری اٹھان بھی ہے۔جب بھٹو حکومت کے اقتدار کا سورج نصف النہار پہ تھا تو سیاسی مخالفین کی سرکوبی کیلئے بیوروکریسی کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ 1977ء میں مقبول عوامی قیادت کا تختہ الٹنے کیلئے آپریشن فیئر پلے کے دوران جنرل فیض علی چشتی کو محض چند ٹرکوں کو ہی حرکت میں لانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جنرل ضیا ء الحق اسلام کے نفاذ کے پرکشش نعرے کے ساتھ ملکی تاریخ کا طویل ترین مارشل لاء لگا چکے تھے۔ ایوب خان سے استفادہ کرتے ہوئے وہ بھی مقامی حکومتوں کے قیام کے بعد سیاسی اشرافیہ میں اضافہ کر چکے تھے۔ انھیں محمد خان جونیجو جیسے لوگ ورثے میں ملے تھے میاں نواز شریف جیسے نوجوان کاروباری سیاستدان ان کے ہمرکاب تھے۔ مغرب کو افغانستان میں ضیاء حکومت کا تعاون درکار تھا لہذا بآسانی امداد اور غیر ملکی قرض پھردستیاب تھے۔ معاشی فوائد نے سیاسی اشرافیہ کو مزید مضبوط کیا۔ دوسری جانب مذہبی و لسانی جماعتوں کی ضیائی تالیف کا عمل جاری تھا جس کی بدولت پاکستانی سماج آج بھی منقسم ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے سول بیوروکریسی پر ایک ضرب یہ لگائی کہ مقابلے کے امتحانات کے بغیر فوجی افسران کو سول بیوروکریسی میں بھیج دیا گیا۔ 1988ء سے لے کر 1999ء تک تمام سیاسی حکومتیں سول ملٹری بیوروکریسی کے تعاون و عدم تعاون کی بنیاد پر بضد قائم یا غائب ہوئیں۔

جنرل مشرف نے بھی اپنے پیش رو سے بھرپور استفادہ کیا اور قومی سیاست پر قدغنیں لگا کر مضبوط ضلعی حکومتیں قائم کر دیں۔تاہم انہوں نے مقامی حکومتوں کیلئے لیے ایوب خان کے برعکس، سول بیوروکریسی کو مقامی حکومتوں کے تابع کردیا۔ ذہن نشین رہے کہ صوبائی و قومی حکومتوں کیلئے انہوں نے یہ سہولت کبھی فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی۔مغربی دنیا کو افغانستان میں پھر مشرف حکومت کی ضرورت پڑگئی۔ پھر حکومت کیلئے امداد اور غیر ملکی قرضوں کی سہولت موجود تھی۔ سیاسی اشرافیہ پھر معاشی طور پر خود کو معاشی مراعات سے مستفید کرنے کو تیار تھی۔ 2007 ء میں عوامی دباؤ اور غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت پر جمہوریت بحال ہوئی جو تا حال ہچکولے کھاتی جاری ہے۔ سیاسی جماعتوں نے تب بھی حکومت کے خلاف عوامی مہم کیلیئے عوام سے رجوع کرنے کے بجائے غیر ملکی ضامنوں اور اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں سے معاہدے پر ہی اکتفا کیا۔ لہذا تکیے کے نیچے پتے وقفوں سے ہوا دیتے رہے۔

 

مندرجہ بالا طویل تبصرے سے کچھ حقائق اخذ کرنا آسان ہیں۔ اول، پاکستان میں جو سیاسی اشرافیہ تیار کی گئی وہ ایسٹبلشمنٹ کے زیر سایہ اور زیر اثر رہی۔لہذا کوئی بھی پارٹی مکمل جمہوری مزاج نہیں رکھ سکتی۔ دوئم، سیاسی اشرافیہ معاشی مفادات کو سیاست سے منسلک ہی مانتی آئی ہیں اور کبھی اپنے معاشی مفادات کو سیاست سے الگ نہیں کرپائیں گی۔ بطور طبقہ معاشی فائدے اٹھانے سے کوئی بھی ایک دوسرے کا احتساب نہیں کر سکتا۔ لہذا اپنی جماعتوں کے اندر بھی یہ جمہوری سوچ کو تکنیکی بنیاد پر قائم نہیں کر پائے۔ سوئم، سیاسی اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا ورکنگ ریلیشن ساٹھ کی دہائی سے قائم ہے۔ سیاست کے میدان میں سمجھوتے انھیں کے مابین طے پائیں گے۔ پاکستان میں اپوزیشن اس سیاسی گرہ کو کہتے ہیں جو ایسٹبلشمنٹ سے اچھا تعلق قائم نہ ہونے پر نالاں ہوتے ہیں اور کسی نئے سمجھوتے کے خواہاں۔ چہارم، مخصوص مفادات اور جمود کی شکار معاشی سیاست نے اداروں کی کارکردگی کو بھی اپنے جیسے رویوں کا شکار کر دیا ہے۔ تما ادارے کارکردگی کو عوامی نہیں، اشرافیائی طرز پر انجام دیتے ہیں کیونکہ مسلسل جمود انھیں اس رویے پر قائل کر چکا ہے۔آج سول بیورو کریسی روائیتی ڈھانچے پر ہی کھڑی ہے جو نوآبادیات سے واراثت میں ملی ہے۔ بیورو کریٹس آج بھی کامن ٹریننگ اور سپیشل ٹریننگ میں سو برس قدیم رویہ لے کر انتظامیہ میں حلول کر رہے ہیں۔

پنجم، سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام بالخصوص اوسط درجے کا تعلیم یافتہ با شعور طبقہ سیاست میں دلچسپی ہی نہیں رکھتا کیونکہ انکا اقتدار میں کوئی حصہ ہے نا مفاد۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی سیاسی جماعتیں باہم یا ایسٹبلشمنٹ مخالف رویہ ظاہر کریں، کوئی عوامی ردعمل نظر نہیں آتا۔ حالت یہ ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کی آئین میں جو گنجائش ہے، عام ادمی اس سے واقفیت تک میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا۔ انتخابات میں عوامی رائے دہی کے تناسب کو دیکھیں تو یہ حقیقت واضح ہو جائیگی۔ سب سے اہم نعرہ احتساب ہے۔ عوام کیلئے یہ ہمیشہ پر کشش رہتا ہے کیونکہ براہ راست معاشی مفادات کا حصول ان کے لئے کبھی ممکن نہیں ہوا۔ ریاست کی معاشی پالیسی ٹرکل ڈاؤن ایفیکٹ کے نظریے پر قائم رہی ہے مگر یہ ایفیکٹ ٹرکل ہوا ہے مگر ڈاؤن کبھی نہیں۔ پاکستان کا جغرافیہ ایسا ہے کہ عسکری صلاحیت کے بغیر استحکام ممکن نہیں۔ مغرب میں دس برس سویت یونین اور اب سترہ برس سے امریکی افواج موجود ہیں۔ مشرق میں بھارت مستقل حریف ہے۔ اسی لیے عام آدمی دفاع کو استحکام کی ضمانت سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے لوگ عسکری قیادت کے سیاسی ذوق کے مخالف مگر مضبوط دفاع کے بھر پور حامی ہیں۔

نتیجتا یہ کہا جا سکتا ہے سرمایہ دارانہ مزاج کی جمہوریت اور اسٹیبلشمنٹ کے ورکنگ ریلیشن نے پاکستان میں وہ جمود طاری کر رکھا ہے جو اداروں کو کھوکھلا، عوامی سیاسی دلچسپی کو بیزار اور جمہوریت کو ناکام کر چکا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب اقتدار مخصوص طبقات کے مابین ہی گردش کرے، عوامی عدم دلچسپی کا باعث ہوگا۔ اس ملک میں عمرانی معاہدے کا شعور ہی نئے سیاسی نظریے کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔ نظریات سماج کو اجتماعی شعور دیتے ہیں جو حقیقی رہنما ہوتا ہے۔ شخصیت پرستی اقتدار کی غلام گردشوں میں قدم رنجا فرماتے ہی نظریات کا لبادہ اتار پھینکتی ہے۔ افلاطون، ارسطو، والٹیئر، روسو سے لے کر مارکس تک سب سرمایہ دارانہ طبقے کے اقتدار کو جمہوریت کیلئے زہرقاتل قرار دیتے رہے ہیں۔ یہی حقیقت آج پاکستان کی عوامی سوچ میں سرایت کر چکی ہے جو ان کے کسی بھی سیاسی عمل میں عدم دلچسپی سے ظاہر ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20