راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 10) —- یاسر رضا آصف

0

میں چلتا ہوا عابد کے پاس آگیا۔ ادھر سے شبیر آتا دکھائی دیا وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ جواب میں میں بھی مسکرا دیا اور اسے گلے لگا لیا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا تو میں نے اسے روک دیا۔ ’’تم دروازے والی صدر سیٹ پر بیٹھ جانا۔ میں اسلام کے ساتھ مشیر والی سیٹ پر بیٹھ جائوں گا۔ اب خوش‘‘ ہم دونوں ہنسنے لگے۔ عابد پریشانی میں سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا۔ فخر اور فہیم بھی پاس بیٹھ گئے اور اس ویرانے میں رات گزارنے کی بات کرنے لگے۔ فہیم نے کہا کہ ڈرائیور نے تسلی دی ہے کہ وین کے دروازے اور کھڑکیاں بند کرکے سویا جاسکتا ہے لیکن امید ہے ایسی نوبت نہیں آئے گی۔

ہماری گفتگو جاری تھی اتنے میں ایک آدمی جس نے سائیکل کے پیچھے کچھ لکڑیاں باندھی ہوئی تھیں اور ہینڈل کے ساتھ کلہاڑی لٹکا رکھی تھی۔ ہمارے پاس آکر رک گیا۔ ہماری بات سننے کے بعد اس نے ڈھارس بندھائی۔ اس نے شہادت کی انگلی سے اپنے نچلے ہونٹ سے نسوار کی ڈلی باہر پھینکتے ہوئے کہا کہ یہ سڑک محفوظ ہے۔ یہاں باقاعدہ پہرہ ہوتا ہے۔ میں وہ سامنے والی پہاڑی پر رہتا ہوں۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں مدد کے لیے تیار ہوں۔ فہیم نے شکر گزاری کے الفاظ کے ساتھ اسے رخصت کیا اور سگریٹ سلگا کر سامنے بکھرے پتھروں کو دیکھنے لگا۔

اس دوران عابد نے کوئی بات نہیں کی۔ وہ ابھی تک متفکر دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بار بار سڑک کے اس طرف دیکھتا جدھر اسلام گیا تھا۔ فیاض اور ذیشان آوارہ گردی کرکے واپس آگئے اور انھوں نے بتایا دور دور تک کوئی خاص آبادی دکھائی نہیں دی۔ یہ بھیانک خبر سنا کر وہ لوگ تاش کھیلنے والی ٹولی کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ بلال اور سمیر گاڑی کے پاس بڑے سے پتھر پر بیٹھے تھے۔

بلال مسلسل بول رہا تھا اور سمیر گردن ہلاہلا کر اس کی بات سن رہا تھا۔ سب چہروں پر عجیب طرح کی افسردگی چھائی ہوئی تھی۔ صبح جو چہرے دمک رہے تھے اب پژمردہ دکھائی دے رہے تھے۔ پہاڑی علاقوں میں سورج جلدی چھپ جاتا ہے اور پہاڑوں کے دیو ہیکل سائے زمین کے اونچے نیچے ٹکڑوں پر چھاجاتے ہیں۔ اس وقت مجھے اندھیرے کے عفریت کا خوف دبوچے ہوئے تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ جیسے ہی رات اپنے سیاہ پر پھیلائے گی ہم بے یارو مددگارہو جائیں گے۔ میں نے عابد سے اپنے خدشات کا اظہار کرنے کا سوچا تو اس کے چہرے پر پھیلی فکر نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا۔

میں نے عابد کے پاس پڑے سگریٹ کے پیکٹ کو اٹھایا اور سگریٹ سلگالی۔ میں لمبے لمبے کش لینے لگا اور دھوئیں کے ذریعے اپنی مایوسی کو کم کرنے لگا۔ میں واہموں اور اندیشوں کا مارا شخص ہوں۔ جلد ہی پریشان ہو جانا میری عادت ہے۔ زندہ اس لیے ہوں کہ میں پریشان تو ہو جاتا ہوں لیکن مایوس نہیں ہوتا۔ میں ایسی غار ہوں جس میں اندیشوں اور واہموں کی چمگادڑیں پھڑ پھڑاتی رہتی ہیں۔ عابد ابھی تک خاموش تھا۔ دو آدمی موٹر سائیکل پر آپہنچے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم اسلام کے بھیجے ہوئے ہیں وہ چلاس میں ہماری ورکشاپ پر محفوظ ہے۔

اتنا سننا تھا کہ سبھی چہرے خوشی سے تمتمانے لگے۔ اس نے مزید کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ تھوڑی دیر میں گاڑی اس قابل ہوجائے گی کہ ورکشاپ تک جا سکے۔ وہ اپنے شاگرد کے ساتھ پہیے والی جگہ صاف کرنے لگا۔ ہم مکینک کے اردگرد گھیرا ڈال کر ایسے کھڑے ہو گئے جیسے وہ کوئی سپیس شپ تیار کر رہا ہو اور ہمیں مریخ سے واپس زمین پر اتارنے کا بندوبست کرنے والا ہو۔

اس مکینک نے آدھے گھنٹے میں ہی ہماری گاڑی کو اس قابل بنا دیا کہ وہ سڑک پر چلنے کے لیے تیار ہوگئی۔ ہم سب وین میں سوار ہو گئے۔ میں نے آنکھیں بند کرکے سر اگلی سیٹ پر رکھ دیا اور آرام کرنے لگا۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو پتھریلی سڑک پر ہچکولے کھاتی ہوئی گاڑی بہتے دریا کا نظارہ کروا رہی ہے۔

دریا کا پانی گدلا تھا۔ مٹیالے رنگ کا پانی آہستگی سے بہہ رہا تھا۔ دریا کا پاٹ کافی چوڑا تھا۔ اردگرد سیاہ اور خاکستری پہاڑ تن کر کھڑے تھے۔ مسلسل ایک جیسے مناظر نے کوفت اور تھکاوٹ کو بڑھا دیا۔ انسان ایک ہی تصویر مسلسل کتنی دیر تک دیکھ سکتا ہے۔ دوسری طرف گرمی کی شدت بڑھ گئی تھی۔ دریا پر لکڑی کے پل بنے ہوئے تھے۔ سڑک پتھریلی اور بے ڈھنگی تھی۔ مناظر کی رنگینی کہیں بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ یہ علاقہ ایٹم بم کے گرنے کے بعد کا منظر پیش کر رہا تھا۔

وین چلتی رہی اور میں باہر پھیلی بیابانی کو اپنے اندر کی ویرانی سے ملاتا رہا۔ وین جب آبادی میں داخل ہوئی تو ایک سڑک دور تک جارہی تھی۔ جس کے اردگرد چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں۔ سبزہ کب کا رخصت ہو چکا تھا۔ آبشاریں روٹھ گئی تھیں۔ اب استقبال کے لیے گرد اور گرمی تھی۔ میں حیرت زدہ سا وین سے اتر آیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں کسی اور سیارے پر آگیا ہوں۔ وین ورکشاپ پر پہنچ گئی تھی۔ اسلام ہم سے بغل گیر ہوا اور یہاں تک بمشکل پہنچنے کی روداد بیان کرنے لگا۔

مکینک جسے ورکشاپ کے سبھی لڑکے استاد کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔ وین کے ٹائر کو کھول کر بیٹھ گیا۔ وہ ڈسکوں کو مہارت سے نکال کر صاف کرنے لگا۔ استاد بھی کمال کا بندہ تھا۔ ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اس کی زبان بھی مسلسل چلتی رہی۔ میرے ساتھ ایک عجیب معاملہ ہے۔ ایسے باتونی اور قصہ گو لوگوں کی باتیں سننے کا رسیا ہوں، یہ معاملہ بچپن سے ہی میرے ساتھ چلا آتا ہے۔

نانی اماں سے کہانی سننا میرا روز کامعمول تھا۔ میں آٹھویں جماعت تک جنّوں، پریوں اور جادوگروں کی کہانیوں سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔ ایک طوطے کی کہانی جسے بادشاہ نے پال رکھا تھا جو کافی باتونی تھا۔ میری پسندیدہ کہانیوں میں سے ایک تھی۔ سوداگر جس نے اپنی عقل سے راہزنوں کو لوٹ لیا اکثر سنا کرتا تھا۔ جیسے جیسے بچپنا رخصت ہوا کہانی سے دلچسپی معاشرتی روداد اور آپ بیتی کی جانب ہو گئی۔ پھر اس کی جگہ کتابوں نے لے لی اور یوں کہانی سننے کا سفر ناول پڑھنے تک آپہنچا۔

مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ اپنی طرف سے باتیں گھڑ رہا ہے۔ دلچسپی کی خاطر لغو بیانی سے کام لے رہا ہے۔ واقعات کو اپنی مرضی اور منشا سے ترتیب دے رہا ہے مگر اس سب کے باوجود میں سنتا رہتا ہوں۔ اچھے سامع کا کردار ادا کرتا ہوں۔ ہوں، ہاں کرتا جاتا ہوں اور حوصلہ افزائی کے الفاظ ادا کرتا رہتا ہوں۔ استاد پر باتیں کرنے کا جنون سوار تھا اور میں سننے کے لیے مشتاق؛ وہ بولتا چلا گیا اور میں سنتا چلا گیا۔

استاد نے بتایا کہ یہ علاقہ ڈیم کے اندر آجائے گا۔ ان دنوں ڈیم کی ہوا ملک گیر سطح پر چلی ہوئی تھی۔ میڈیا سے لے کر نجی محافل تک ڈیم کا موضوع گفتگو کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ سامنے پہاڑ پر سفید لمبی لکیر دیکھ رہے ہو۔ وہاں تک ڈیم کی اونچائی ہوگی۔ ہم لوگ جسے پہاڑ کہتے ہیں مضبوط پتھر سمجھتے ہیں یہ سب چائنہ کی مشینری کے سامنے روئی ہے۔ میں اس اصطلاح پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ پھر اس نے گفتگو کا رخ موڑا اور مقامی لوگوں کی بہادری کے قصے بیان کرنے لگا۔ رسم و رواج کی باتیں بتانے لگا۔

چلاس کو دیکھ کر میرے ذہن میں بلوچستان کا علاقہ گھومنے لگا اور وہاں کی بودوباش سوچ کے پردے پر تصویریں بنانے لگی۔ چوں کہ پتھریلے سیاہ پہاڑ، نیچی چھتوں والی دکانیں اور پتھر کی اینٹوں سے بنے مکانات بلوچی ماحول سے مشابہ تھے۔ شاید اس لیے مجھے یک لخت بلوچی ماحول میں لے گئے۔ چھ سات برس پہلے کی بات ہے جب ہمیں بلوچستان اور سندھ دیکھنے کا شوق چڑھا تھا۔ ہم پانچ دوست سفر پر نکلے اور راستے میں ایک ڈھابہ نما ہوٹل پرجا رکے۔ جس کی دیواریں پتھروں کو ترتیب دے کر بنائی گئی تھیں۔ ہوٹل کی حالت جس قدر خستہ تھی کھانے کے روپے اسی قدر زیادہ تھے۔

ہم پانچوں ہمسفر بڑی سی چارپائی پر بیٹھے تھے۔ جس پر ہمارے بیٹھنے کے باوجود اتنی جگہ باقی تھی کہ مزید چار پانچ لوگ آسانی سے بیٹھ سکتے تھے۔ بھوک نے ہمیں دبوچا تو ہم لوگ جیپ رکوا کر اس ہوٹل پر آگئے تھے۔ پتھریلے پہاڑوں کے درمیان یہ واحد ہوٹل تھا۔ بیرا قیمت بہت زیادہ بتا رہا تھا۔ سابقہ تجربے کی بنا پر ہم نے کھانے کی قیمتیں پوچھنا پہلے ہی مناسب سمجھا تھا۔ کئی تجربات انسان کو چوکنا کر دیتے ہیں اور وہ سیلاب سے پہلے ہی پشتے مضبوط کرنے لگتا ہے۔

ہم نے جب قیمت کے کم کرنے پر اصرار کیا اور بحث کرنے لگے تو اس لڑکے نے زچ ہو کر اپنے سیٹھ سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔ ہمارے ہاں سیٹھ کا تصور لیموزین سے شروع ہوتاہے سگار اور بلند و بالا رہائشی عمارت پر ختم ہوتا ہے مگر وہاں معاملہ برعکس نکلا۔ ہم لوگ بڑی سی چارپائی سے نیچے اترے اور اس آدمی کی معیت میں سیٹھ کی جانب چل پڑے۔ ڈھابے کے پیچھے ایک داڑھی والا شخص آستینیں چڑھائے برتن دھو رہا تھا۔ وہی سیٹھ تھا۔ اس کے کپڑے بوسیدہ تھے۔ پشاوری چپل مٹی سے اٹی ہوئی تھی۔ چہرے مہرے سے بھی واجبی سا تھا۔ ہاں مگر رنگ کافی صاف تھا۔

سیٹھ نے ہمیں چارپائی پر بیٹھنے کا کہا اور اپنی قمیض کے گھیرے سے ہاتھ صاف کرنے لگا۔ ہم لوگ حیران سے چلتے ہوئے واپس پلنگ نما چارپائی پر آکر بیٹھ گئے۔ ہم نے ملازم سے سیٹھ نام کی وجۂ تسمیہ دریافت کی۔ ملازم نے بڑے ہی رعب اور دبدبے کے انداز میں بتانا شروع کیا ’’ہمارے سیٹھ کا یہ ہوٹل ہے۔ چار پہاڑ ہے۔ دو گدھا ہے اور ایک جیپ بھی ہے‘‘۔ ہمارے لیے لفظ سیٹھ کے معاشرتی پہلو سے یہ نئی آشنائی تھی۔

سیٹھ ہمارے سامنے بڑی چارپائی پر آکر بیٹھ گیا اور چیزوں کی ڈھابے تک رسائی کے لیے خرچ پر بات کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ یہاں سے کتنے ہی کلومیٹر تک کوئی ہوٹل نہیں ہے۔ وہ اپنی کھٹارا جیپ پر مشکلوں سے سامان لے کر آتا ہے۔ وہ ایسی ہی کئی باتیں بتاتا رہا اور علاقے کی دشوار گزار زندگی کے بارے میں اپنے من کا بوجھ ہلکا کرتا رہا۔ اس نے بتایا کہ وہ زیادہ تر کام خود کرتا ہے تاکہ ملازموں کا خرچ بچ سکے۔ باورچی بھی خود ہی ہے۔ یہ ملازم دراصل اس کا بھانجا ہے۔ پہلے پہل جو سیٹھ کے نام پر ہمارے چہروں پر مسکان آئی تھی اس کی باتیں سن کر رفع ہوگئی۔ جہاں روزی کمانے کے ذرائع دستیاب نہ ہوں وہاں زندگی کی گاڑی کو دھکیلنے کے لیے ایسے سیٹھ حضرات کا وجود غنیمت ہوتا ہے جو اپنی انا کو قائم رکھتے ہیں۔ محنت مزدوری ضرور کرتے ہیں پر کسی کے آگے دستِ سوال دراز نہیں کرتے۔

استاد کی دکان اور چلاس کے حالات دیکھ کر بلوچستان کی پسماندگی کی جانب توجہ ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ چلاس میں بھی حالات ویسے ہی دگرگوں تھے۔ چلاس تک آنے والی سڑک کئی جگہ سے ادھڑی ہوئی تھی۔ لوگوں کا لباس، مکانوں کی بناوٹ اور گرمی کی شدت بار بار بلوچستان کی گواہی دے رہے تھے۔ بنجر علاقے میں گرمی اس قدر زیادہ ہے کہ لو گ سیر و سیاحت کے لیے کم کم ہی آنا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے پروگرام میں بھی چلاس میں رکنا شامل نہیں تھا۔ یہ تو قسمت کی دیوی نے انگلی تھام کر ہمیں اس بیابان میں لا کھڑا کیا تھا۔

فخر ہاتھ میں سگریٹ لیے میرے پاس آیا اور کھانے کی خوش خبری سنائی۔ میں فخر کے ساتھ ورکشاپ سے باہر آگیا۔ ہم چلتے ہوئے کچھ دور موجود ہوٹل پر پہنچ گئے۔ ہوٹل کے اندر کرسیاں اور میز پڑے تھے جو کہ اس ماحول میں میرے لیے انوکھی بات تھی۔ صاف ستھرے واش روم کی سہولت بھی موجود تھی۔ سبھی خاموشی سے بیٹھے تھے اور کھانے کا انتظار کررہے تھے۔ سب کے ذہن تھک چکے تھے اور چہروں پر تھکاوٹ کے آثار نمایاں تھے۔ رات کی سیاہی دن کے پانی میں گھلنا شروع ہو گئی تھی۔ میں کھڑکی والی کرسی پر بیٹھ گیا اور دوسری طرف دیکھنے لگا۔

ہوٹل کی پشت پر خالی زمین تھی۔ پھر گدلا دریا تھا۔ پتھریلے پہاڑ تھے۔ پہاڑوں کو دیکھ کر ہیبت کا احساس ہوتا تھا۔ ہم نے جلد از جلد کھانا زہر مار کیا اور رہائشی ہوٹل کی تلاش میں نکل پڑے۔ رہائش کے لیے ’’چلاس اِن‘‘ ہوٹل کا انتخاب ہوا۔ یہ ہوٹل اس بیابان میں تاج محل جیسا تھا۔ سرسبز لان، پتھریلی روشیں اور سفید عمارت بانہیں پھیلائے ہمارے منتظر تھے۔ ریسیپشن پر اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سب سے پہلے ہوٹل کا وائی فائی پاس ورڈ حاصل کیا اور کمروں کی جانب چل پڑے۔ سب نے اپنے اپنے موبائل نکالے اور سوشل سرکل میں گم ہوگئے۔

سوشل میڈیا بھی عجیب شئے ہے۔ آپ کسی کے قریب بیٹھے ہوئے بھی دور ہوتے ہیں اور کسی سے میلوں کی دوری کے باوجود بھی قریب ہوجاتے ہیں۔ آج کی نوجوان نسل عجیب صورت حال کی لپیٹ میں ہے۔ اُسے یہ تو خبر ہے کہ فلاں ملک کا فلاں باشندہ کیا کھاتا ہے اور کیا پہنتا ہے مگر اسے اپنے ہمسائے کے حالات سے واقفیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوشل میڈیا ایک ایسا سیلاب ہے جسے روکا نہیں جا سکتا، جس پر بند نہیں باندھا جا سکتا۔ یہ سیلاب ہر علاقے کی تہذیب اور ثقافت کو بہائے جارہا ہے اور ایک مشترکہ عالمی ثقافت کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

میں نے سامان کمرے میںپھینکا اور نہانے کے لیے چلا گیا۔ پانی کی ٹھنڈک، رگ و پے کو سکون بخش رہی تھی۔ جیسے جیسے پانی میرے سر اور جسم کو چھُو رہا تھا ویسے ویسے ذہنی انتشار اور شور میں کمی واقع ہو رہی تھی۔ نہانے کے بعد میں ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا۔ ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن کر پر سکون سا ہوگیا۔ مجھے بلال نے آکر بتایا کہ سبھی ساتھ والے کمرے میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور چائے کا دور چل رہا ہے۔ میں نے اپنا کپ اٹھایا اور ساتھ والے کمرے میں جا پہنچا۔

چائے کے بعد تاش اور لڈو کا دور شروع ہو گیا۔ جو کوفت اور تھکاوٹ کچھ دیر پہلے تک میرے ذہن کو جکڑے ہوئے تھی اب ہرن ہو چکی تھی۔ سبھی آج کے واقعے پر تبصرے کر رہے تھے اور ہنسی مذاق کررہے تھے۔ قہقہے تھے کہ کمرے کی دیواروں پر نقش ونگار کندہ کر رہے تھے۔ کبھی کبھی انسان کو بلاوجہ بھی قہقہہ لگا دینا چاہیے۔ یہ ذہنی گھٹن کے دوران روشن دان کا کام کرتا ہے۔ ہم بھی ’’چلاس اِن‘‘ ہوٹل میں بیٹھے اپنے اپنے ذہنوں میں روشن دان بنا رہے تھے۔

چلاس بابوسر ٹاپ سے متضاد رویے کا علاقہ ہے۔ انسان ایک دم ٹھٹھرتی کیفیت سے نکل کر پگھلا دینے والی گرمی میں آ جاتا ہے۔ یہ قدرت کا کمال ہے کہ تھوڑے سے فاصلے پر ہونے کے باوجود دونوں علاقوں میں ایسا موسمی تضاد پایا جاتا ہے۔ اس میں فراز اور نشیب کا بھی ہاتھ ہے۔ چلاس میں خشک اور پتھریلے پہاڑ ہیں جب کہ بابو سرٹاپ کے علاقے میں سبزہ اور ہریالی ہے۔ اس قدر فرق کے باعث یہاں پہنچنے والے لوگ حیرت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میں بھی حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔ ماحول کے اثرات لوگوں کے جذبات پر بھی پڑتے ہیں۔ پُر فضا مقامات کے رہائشی شائستگی کے حامل نظر آئے جب کہ پتھریلے خشک علاقے کے مکین سخت گیر رویوں کے حامل دیکھے۔

میں ہنسی مذاق سے اکتا گیا تو کمرے سے باہر نکل آیا۔ لان میں پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اردگرد پہاڑوں کے ہیولے دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے سگریٹ سلگائی اور چہل قدمی کے متعلق سوچنے لگا۔ سمیر مسکراتا ہوا میرے پاس آگیا۔ ایسے دوست زندگی میں کم میسر ہوتے ہیں جو دوسروں کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ ذہنی کیفیت کے مطابق رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ سمیر میں یہ بات پائی جاتی ہے۔ وہ میرے چہرے کو پڑھ لیتا ہے۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ہوٹل سے باہر نکل آئے۔

ہم بنجر راستے پر چلنے لگے۔ میں دھوئیں اور خاموشی سے سمیر کو اذیت میں مبتلا کرتا رہا۔ وہ سعادت مند دوست کی طرح ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ بالآخر اس نے خاموشی کو توڑا۔ ماحول اور موسم پر گفتگو کرنے لگا۔ آئندہ کے سفر کے بارے منصوبے بننے لگے۔ مستقبل کے متعلق گفتگو کرنا اور ماضی میں زندہ رہنا اب میرا مشغلہ بن چکا ہے۔ مجھے ٹائم ٹریول والی فلمیں بہت پسند ہیں جس میں ہیرو مستقبل کی شاندار ترقی کو جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے پہنچ جاتا ہے۔ میں ٹائم ٹریولر نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی سائنسدان ہوں کہ ایسی مشین تیار کرسکوں۔ اس لیے حسین اور شاندار مستقبل پر گفتگو کرکے اپنا جی بہلالیتا ہوں۔ بنی نوع انسان کا ایسا مستقبل جس میں سہولیات کی بھرمار ہو۔ انسان سکون اور چین سے زندگی بسر کررہا ہو اس یوٹوپیا کی تخلیق بچپن سے ہی میرے ذہن میں ہونے لگی تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت پسندی کے ساتھ آگے بڑھتی چلی گئی۔ اب میں نے اپنی ایک خیالی دنیا تخلیق کرلی ہے۔

سمیر نے قراقرم ہائی وے اور ہنزہ کے متعلق بات کرنی شروع کی۔ جو ہمارے سفر کی اگلی منازل تھیں۔ میں اب پہلے سے بہتر محسوس کررہا تھا۔ میری باتوں میں شگفتگی اور بذلہ سنجی لوٹ آئی تھی۔ ہم خوشگوار گفتگو کرتے ہوئے واپس ہوٹل تک آگئے۔ کمرے سے ابھی تک قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ میں بستر پر دراز ہوگیا اور موبائل سے جی بہلانے لگا۔ تھکاوٹ اس قدر تھی کہ مجھے خبر بھی نہیں ہوئی کب نیند کی وادی میں داخل ہوا۔ مجھے کوئی خواب بھی دکھائی نہیں دیا۔ شاید اس لیے کہ میں خواب میں سفر کر رہا تھا اور خواب کو جی رہا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20