راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 9) —- یاسر رضا آصف

0

بابو سر ٹاپ سے اترتے ہوئے گاڑی بھاگتی جارہی تھی۔ جگہ جگہ لکھا تھا؛ پہلے گیئر میں گاڑی چلائیں اور بریک کم سے کم لگائیں۔ ڈھلوان تھی کہ نیچے ہی نیچے چلی جاتی تھی۔ سڑک ایسے تھی جیسے کوئی تختہ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا کیا گیا ہو اور گاڑی اس تختے پر سے پھسلتی ہوئی نیچے آرہی ہو لیکن الجھن یہ تھی کہ تختہ سیدھا نہیں تھا بلکہ آڑھا ترچھا تھا۔ جعفر منجھا ہوا ڈرائیور تھا اور اس کے مطابق وہ پہلے بھی کئی مرتبہ ان علاقوں میں آچکا تھا۔ وین ہائی روف اٹھارہ ماڈل تھی اور چند ماہ پہلے ہی نمبر لگا تھا۔ ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں فکر کرنے کی ضرورت تونہیں تھی۔ پھر بھی دل عجیب طرح کے وسوسوں میں گھرا ہوا تھا۔ گاڑی ایسے نیچے اتر رہی تھی جیسے کوئی پیچھے سے دھکیل رہا ہو۔

پلاسٹک کے جلنے کی بُو اور ٹائروں سے نکلنے والے دھویں نے ہمیں تشویش میں مبتلا کر دیا۔ سبھی چہروں پر وسوسے رقص کرنے لگے۔ سڑک کے کنارے کچھ لڑکے پائپ لگا کر گاڑی کے ٹائروں کو دھو رہے تھے وہاں وین کو روک دیا گیا۔ مستطیل شکل کا کھاڈا تھا۔ جس میں چشمے کا شفاف پانی جمع تھا۔ دو لڑکے پائپ سے دھواں چھوڑتے گرم ٹائروں کو ٹھنڈا کر رہے تھے۔ پہلے بھی دو تین گاڑیاں وہاں کھڑی تھیں۔ ہم سبھی وین سے اتر آئے اور بغور یہ عمل دیکھنے لگے۔

ڈرائیور نے ہمیں تسلی دی کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ سڑک سے رگڑ کی وجہ سے ٹائر گرم ہو جاتے ہیں۔ کچھ دیر انھیں آرام دیں گے تو ٹھیک ہو جائیں گے۔ اسلام نے موقع غنیمت سمجھا اور آم کی پیٹی نکال کر سڑک پر ایک طرف رکھ دی۔ یہ آم ہم خاص اپنے ساتھ پاک پتن سے لے کر آئے تھے تاکہ ٹھنڈے موسم میں آموں کا لطف لے سکیں۔ سب نے پیٹی سے اپنی اپنی مرضی کے دو دو آم اٹھائے اور تتر بتر ہو گئے۔ میں کھاڈے کے ٹھنڈ ے پانی میں آم کو انگلیوں سے پکڑ کر بیٹھ گیا۔ کھاڈا کافی کشادہ اور گہرا تھا۔ آم چھوڑنے کی صورت میں اس سے دستبردار ہو نا تھا۔ اس لیے آم کو تھامے رکھنا ضروری تھا۔ باقی کئی اور دوست بھی ایسے ہی انھیں ٹھنڈا کرنے میں لگے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں میری انگلیاں سن پڑ گئیں۔ میں نے دوسرے آم کو بائیں ہاتھ سے پانی میں ڈبو دیا اور پہلے والے کو کھانے لگا۔ وہ ہاتھ بھی جلد ہی سن ہو گیا۔ میں نے آم کو بغل میں دبا لیا اور ہاتھوں کو رگڑ کر گرم کرنے لگا۔

آم ٹھنڈے ہوئے تو مٹھاس دو چند ہوگئی۔ سردی میں یوں آم کھانے کا تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ فیاض، ذیشان اور شبیر جو پہلے ہی ہمیں کافی تکلیف پہنچا چکے تھے۔ سڑک پر دوڑتے ہوئے پتھریلے گھروں کی جانب جاتے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ ہماری نظر میں ممنوعہ شجر کا پھل کھانے والے بن چکے تھے۔ ہم مجبور تھے اور انسان تھے۔ ہم انھیں اپنی جنت سے بے دخل نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے آم کھاتے ہوئے انھیں نفرین نگاہوں سے دیکھا۔ اندر سے جب اپنے آپ کو ٹٹولا تو میرا جی چاہ رہا تھا کہ ان کے ساتھ جاملوں۔ میں بھی نالے کے پل کو پار کروں اور ان پتھریلے گھروں تک جائوں۔ میری جھجھک نے مجھے ایسا کرنے سے روک رکھا تھا۔ اس لیے میں سڑک پر کھڑا صرف انھیں گھور گھور کے دیکھتا رہا اور ان سے نفرت کرتا رہا۔

ہر محلے میں ایسے بڑے بوڑھے موجود ہوتے ہیں جو نوجوانوں کو مسلسل ٹوکنے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ ایسا کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور خود کو بھی حق پر سمجھتے ہیں۔ وہ نوجوانوں کے غل غپاڑے سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے کھیل کود کو جرم سمجھتے ہیں۔ انھیں غلیظ اور گندہ خیال کرتے ہیں۔ ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھا لیتے ہیں۔ نوجوان مُنھ زور ہوتے ہیں۔ ان کی بات پر کان نہیں دھرتے۔ یوں درمیانی خلا پیدا ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ نفرت کی شکل اختیار کر لیتاہے۔ میرے اندر کا بوڑھا بھی اس وقت جاگ گیا تھا اور ہمارے درمیان خلا پیدا کررہا تھا۔ وہ دوڑتے ہوئے جیسے جیسے دور جا رہے تھے۔ خلا میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ تینوں نجس ہیں اور نفرت کے ہی قابل ہیں۔ میں نفرت کا طوق گلے میں پہنے انھیں دیکھ رہا تھا اور مسلسل دیکھے جارہا تھا۔

میں نے گٹھلی صاف کی اور شفاف پانی سے ہاتھ دھونے لگا۔ ہاتھوں کو خشک کرنے کے بعد سگریٹ سلگا کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ گاڑی کے ٹائروں پر پانی مسلسل ڈالا جارہا تھا جو بہہ کر سڑک پر سے ہوتا ہوا نیچے نشیب میں گر رہا تھا۔ میں بے اختیار سوچنے گا کہ جس پانی کی وقعت تھوڑی دیر پہلے کس قدر تھی اپنا کام سر انجام دینے کے بعد کس درجہ کم ہو گئی ہے۔ تھوڑی دیر بعد سبھی اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھنے لگے۔ میں دروازے والی سیٹ پر قبضہ جما کر بیٹھ گیا۔ وہ تینوں ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔ وین میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ ان کے خلاف طرح طرح کی باتیں کی جانے لگیں۔ کوئی انھیں سمجھانے کا کہتا تو کوئی ڈانٹنے کا مشورہ دیتا۔

میں نے وین کی کھڑی سے جھانک کر پیچھے کی جانب دیکھا تو تینوں بھاگتے ہوئے وین کی طرف آرہے تھے۔ جب وہ پہنچے تو ان کے سانس دھونکنی کی طرح چل رہے تھے۔ شبیر نے آتے ہی کہا کہ یاسر تم یہاں سے اٹھ جائو اور مجھے دروازے والی سیٹ پر بیٹھنے دو۔ میں پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا۔ میں نے فوراً جواب دیا ’’کیا یہ سیٹ صدر کی ہے؟ جو تم یہاں بیٹھنا چاہتے ہو‘‘۔ شبیر کے جسم میں خون کا بہائو تیز تھا۔ وہ برداشت نہ کر سکا پھٹ پڑا۔ ’’تم کب سے اس سیٹ پر قبضہ جمائے بیٹھے ہو۔ لگتی تو صدر کی سیٹ ہے‘‘۔ میں بھی چپ رہنے والوں میں سے نہیں تھا، مقابلے کی ٹھان لی۔ انتظار سے ہونے والی کوفت اورسفر کی تھکاوٹ نے دماغ گرم کردیا۔ ’’صدر کو لے آئو تو میں اٹھ جائوں گا۔ جہاں مرضی بیٹھ جائو یہ سیٹ تو خالی نہیں ہوگی۔ تم لوگ منھ اٹھا کر جدھر دل کرتا ہے نکل جاتے ہو۔ کوئی شرم ہوتی ہے‘‘۔ شبیر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ وہ اسلام کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میں ابھی تک بول رہا تھا۔ وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔ ’’اب تم چپ ہو جائو۔ زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں‘‘۔ چپ رہنے سے مجھے اپنی شکست محسوس ہو رہی تھی۔ ’’میرے ہونٹوں پر ٹیپ چپکا دو‘‘۔ اسلام نے شبیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے اسے سمجھانے بجھانے لگا۔ عابد جو میری پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا مجھے چپ رہنے کا کہنے لگا۔ دونوں نے بات کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

گاڑی پھر سے سڑک پر پھسلنے لگی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے گاڑی آگ میں سے گزر رہی ہے۔ میرا تن بدن جلنے لگا حالاں کہ بات کچھ ایسی خاص نہیں تھی۔ تھوڑی دیر پہلے تک دو استاد کلاس کے بچوں کی طرح اپنی پسندیدہ نشست حاصل کرنے کے لیے جھگڑا کر رہے تھے۔ یہ سوچ کر مجھے ہنسی آگئی۔ میرا غصہ وقتی ہوتا ہے، چند لمحوں کے لیے ہو تاہے۔ جیسے سمندر میں سے کوئی بڑی لہر اٹھتی ہے پتھروں سے ٹکراتی ہے اور واپس لوٹ جاتی ہے۔ میں بات کو دل میں نہیں رکھتا بلکہ اگلے ہی لمحے بھول جاتا ہوں لیکن اس وقت وہ ہنسی طنزیہ تھی اور عجیب بات یہ تھی کہ میرا غصہ بھی قائم تھا۔

ڈھلوان ابھی تک ختم نہیں ہوئی تھی اور گاڑی نیچے ہی نیچے مسلسل پھسلتی جارہی تھی۔ جاپانی گاڑیوں میں دو طرح کے آپشنز ہوتے ہیں۔ ایک آٹو میٹک اور دوسرا آپشن مینوئیل ہوتا ہے۔ آٹومیٹک میں ڈرائیور کو صرف بریک، ریس اور ہینڈل پر توجہ دینی ہوتی ہے۔ گیئر خود بہ خود تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔ ڈرائیور بار بار گیئر لگانے کی کوفت سے بچنے کے لیے آٹو پر سیٹ کرکے چلا رہا تھا اور بریک پر بریک لگاتا جا رہا تھا۔ شاید موڑ کاٹتے وقت وہ گیئر تبدیل کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہو اس لیے ایسا کررہا تھا۔ باقی جعفر کے اس عمل نے ہمارا دھڑن تختہ کردیا۔

ناگوار بو اور دھوئیں نے ہمیں خبردار کیا۔ بریک لگائی تو گاڑی کے ٹائر کو آگ لگی ہوئی تھی۔ بائیں طرف کے اگلے ٹائر سے باقاعدہ شعلے نکل رہے تھے۔ کولر کو ہاتھ لگایا تو پتہ چلا کہ خالی ہے۔ فیاض نے کولر اٹھایا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ ذیشان نے بالٹی تھامی اور اس کے پیچھے بھاگا۔ فخر کے ہاتھ ایک پتیلا آیا۔ جہاں گاڑی رکی تھی۔ خوش قسمتی سے پہلو میں دائیں طرف نالہ بہہ رہا تھا۔ شبیر آنے والے سے برتن پکڑتا اور ٹائر پر پھینکتا جاتا۔

سمیر ایسی حالت میں باولا ہو رہا تھا۔ وہ گاڑیوں کو روکنے میں لگا ہوا تھا۔ جعفر کا رنگ زرد پڑ گیا تھا اور وہ پاس کھڑ اچیخ رہا تھا۔ ایک شخص نے گاڑی روکی اور لیٹر والی بوتل جس پر سیون اپ لکھا تھا، سمیر کو تھما دی۔ سمیر نے جیسے ہی بوتل کھول کر ٹائر پر پھینکی، آگ بھڑک اٹھی۔ وہ کولڈ ڈرنک تھی۔ ایسی حالت میں بھی ہمارے معاشرے میں لوگوں کو مذاق سوجھ جاتا ہے جو سراسر غیر اخلاقی ہے۔ ہم نے گاڑی والے کو خوب گالیاں دیں لیکن اسے ایک بھی سنائی نہیں دی۔ چوں کہ وہ کب کا جا چکا تھا۔

وہی لوگ جو ہماری نظروں میں معتوب ٹھہرے تھے اور جنھیں ہم تھوڑی دیر پہلے تک برا بھلا کہہ رہے تھے۔ آگ بجھانے میں کامیاب ہوگئے۔ جب وہ آگ بجھا رہے تھے تو ہم لوگ گاڑی کی چھت سے بیگ پھینک رہے تھے۔ شایدہمیں یقین ہو چلا تھا کہ وین جل کر خاک ہو جائے گی۔ لیکن وہ جتے رہے اور کامیاب ہوئے۔ آگ بجھ چکی تھی۔ جعفر کی سانس درست ہوئی۔ اسلام بھی پر سکون ہوگیا۔ سمیر پاس پڑے پتھر پر بیٹھ گیا۔ ٹائر کو کھولا گیا تو پتہ چلا کہ ڈسکیں جل چکی ہیں اور انھیں ٹھیک کرنا جعفر کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ پیچیدہ کام کوئی مکینک ہی کر سکتا تھا۔ اس بیابان میں مکینک کا ملنا عام چراغ کو رگڑکر جن نکالنے کے مترادف تھا۔

سب لوگ سر جوڑ کر مسئلے کا حل نکالنے لگے۔ بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دینے لگیں۔ بالآخر طے یہ پایا کہ کوئی ایک جائے اور چلاس سے اپنے ساتھ مکینک کو لے آئے۔ اس مشکل مہم کے لیے اسلام نے اپنی خدمات پیش کیں۔ اسلام کے پاس چوں کہ ساری رقم تھی اس لیے اس نے جانے سے پہلے اپنا پرس عابد کو تھما کر اسے ہمارا سپہ سالار مقرر کردیا۔ موٹرسائیکل سوار سے لفٹ لی اور چلاس کی جانب چلا گیا۔ حالاں کہ وقت ایک بجے کا تھا لیکن سب کے چہروں پر بارہ بجے ہوئے تھے۔ وین سے چٹائی نکالی گئی اور ہم لوگ تاش کھیلنے لگے۔ کچھ نے پتھروں کو گوٹیاں بنا کر تین ٹاہنی کھیلنے کا شغل اپنا لیا۔ کچھ فکرمندی سے حادثات کے متعلق گفتگو کرنے لگے۔

تھوڑا ہی وقت گزرا کہ ہمیں بھوک نے ستانا شروع کردیا۔ میں نے جیبوں سے کاجو اور بادام نکالے۔ کسی نے نمکو کا پیکٹ کھولا۔ کوئی بیٹھا خشک بسکٹ کھانے لگا۔ فہیم نے چائے بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس مرد مجاہد نے گیس سلنڈر باہر نکالا اور کام میں جت گیا۔ امداد، امجد اور میں برتن لے کر نالے کے پاس چلے گئے۔ ہم نے خوب مل مل کر برتن مانجھے۔ کولر میں پانی بھرا اور چائے کی تیاری میں فہیم کی مدد کرنے لگے۔ اڑھائی بجے کے قریب چائے کے ساتھ بسکٹ زہر مار کیے۔ چوں کہ وقت کھانے کا تھا اس لیے چائے بسکٹ حلق سے نیچے اتر نہیں رہے تھے۔ مجبوری کے طور پر کھانے پڑے۔

میں چہل قدمی کرتا ہوا کچھ دور چلا گیا اور ایک پتھر پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ میں اشعار کی بنت میں مصروف ہونا چاہتا تھا تاکہ پریشانی کے اس ماحول سے نجات ملے۔ مشکلات سے نجات کا آسان حل میری نظر میں خیالات کی دنیا میں پہنچ جانا ہے۔ جب ماحول گھٹن زدہ ہو اور سانس حلق میں اٹکنے لگے تو میں اپنی تخیلاتی دنیا میں پرندوں، پیڑوں اور سبزہ زاروں میں جا کر پناہ لیتا ہوں۔ جب ذہن شانت نہ ہو، ماحول پر سکون نہ ہو تو یکسوئی کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ اضطراب کا شکار ذہن سوچنے سے مسلسل انکاری نظر آیا۔ اشعار تو درکنار کوئی مصرع تک نہ سوجھا۔

شدید دھند اور کہر کے دن تھے۔ ہم دوستوں نے پکنک کا پروگرام بنایا۔ چھوٹی سی وین ہمیں میسر تھی۔ مل بانٹ کر خرچ اٹھانے کا سوچا۔ سبھی دوست نصرت فتح علی خان کے گیت سے محظوظ ہو رہے تھے۔ یہ سلسلہ ختم ہوا تو آپس میں ہنسی مذاق کا مرحلہ آپہنچا۔ ہماری منزل دریا تھا۔ کسی نے ڈرائیور کو بتایا کہ شارٹ کٹ سے جائیں گے۔ ایک پل پر وین بند ہوگئی۔ خوش قسمتی سے ہمارے ساتھ ایک مکینک بھی تھا۔ وہ گاڑی کے نیچے گھس گیا۔ ہم لوگ وین سے باہر نکل کر کھڑے ہوگئے اور مقام کا تعین کرنے لگے کہ اس وقت ہم کہاں پر ہیں۔ یہ جی۔ پی۔ ایس سے پہلے کی بات ہے۔ دھند تھی کہ ہر طرف چھائی ہوئی تھی۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا راستہ کیسے دکھائی دیتا۔

ایک شخص دہڑے ماہیے پڑھتا ہوا سائیکل پر چلا آرہا تھا۔ آواز کے بعد دھیرے دھیرے دبیز دھند کی دیوار سے اس کی شبیہ برآمد ہونا شروع ہوئی۔ اس نے اپنے پورے جسم کو چادر سے لپیٹ رکھا تھا۔ آنکھ، ناک اور منھ کے علاوہ سب کچھ پیک شدہ تھا۔ ہم میں سے ایک دوست جلدی سے بھاگ کر اس کے پاس گیا اور سوال کیا۔ سوال کرنے کا بھی ڈھنگ ہوتا ہے۔ تمام باتوں کو اور نکات کو مدنظر رکھ کر سوال کیا جاتا ہے۔ دوست کا سوال کچھ یوں تھا ’’ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں؟‘‘ سائیکل والے نے توقف کے بغیر برجستہ جواب دیا ’’پل پر‘‘۔ ہم سبھی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے۔ میں مسکرارہا تھا۔ ماضی کو یاد کرکے مسکرا رہا تھا۔ دراصل یہ مسکراہٹ بے بسی کا ثمر تھی۔

انسان وقت گزارنے کے لیے طرح طرح کے حیلے تراشتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح وقت گزر جائے۔ مشکل وقت پہاڑ کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ہم لوگ تو پہلے ہی پہاڑوں میں گھرے ہوئے تھے۔ جب وقت گزاری کا کوئی چارہ نہ رہا تو میں موبائل پر گیم کھیلنے لگا لیکن اس سے بھی جلد ہی اکتا گیا۔ بیٹری ختم ہونے کا اندیشہ اپنی جگہ تھا۔ ایسے بیابان علاقے میں موبائل کے سگنل ہونا بھی ممکن نہیں تھا۔ میں نے موبائل جیب میں رکھا اور اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے لگا۔ سڑک کے ساتھ نشیب میں نالہ بہہ رہا تھا۔ نالے سے پرے پتھر سے بنی ویران عمارت تھی جس کے دروازے پر تالہ پڑا تھا۔ دوسری جانب اونچے اونچے پتھریلے پہاڑ تھے جن کے پتھر آگے کی طرف جھکے ہوئے تھے۔ انھیں کاٹ کاٹ کر ہی یہ سڑک نکالی گئی تھی۔ کئی پتھروں پر ابھی تک کٹائو کے نشانات موجودتھے۔ ان کا جھکائو اس قدر تھا کہ خوف آتا تھا۔ انھیں دیکھ کر لگتا کہ ابھی گرجائیں گے۔

ایک بات جو ڈھارس بندھائے ہوئے تھی کہ سڑک پرآمدورفت ابھی تک جاری تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس میں کمی واقع ہوتی جا رہی تھی۔ کافی دیر بعد کوئی گاڑی زن کر کے گزر جاتی۔ کچھ مقامی بچے کھیلتے کودتے میرے پاس آکر بیٹھ گئے اور مجھے حیرت سے تکنے لگے۔ وہ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں۔ ان کی قمیضوں کی آستینیں بٹنوں سے محروم تھیں۔ گریبان بھی پھٹے ہوئے تھے۔ پائوں کی چپلیں کئی جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھیں۔ انھیں دھجیوں سے گانٹھیں دے کر باندھا گیا تھا۔ مجموعی طور پر وہ علاقے کی غربت کی زندہ تصویر پیش کررہے تھے۔ میں ان سے علاقے کے متعلق پوچھنے لگا۔ انھوں نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتایا کہ نالے سے پرے والی عمارت دراصل ایک سکول ہے۔ وہ سکول سے پرے پہاڑی پر موجود گھر میں رہتے ہیں اور پڑھنے لکھنے سے آزاد ہیں۔ شہری آبادی یہاں سے کافی فاصلے پر ہے۔

بچے تھوڑی دیر بعد کھیلتے کودتے اور آپس میں ہنسی مذاق کرتے چلے گئے تو مجھے مایوسی نے گھیر لیا۔ اس علاقے پر غربت عفریت بن کر چھائی ہوئی تھی۔ سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ایسے علاقوں میں صرف سیر کے لیے آیا جا سکتا ہے یہاں رہائش اختیار نہیں کی جاسکتی۔ ہم جیسے سہولیات کے عادی لوگ تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ایسی ہی کچھ باتیں ذہن کے پردے پر رقص کررہی تھیں کہ بلال مجھے اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔

بلال میرے پاس آکر بیٹھ گیا اور بیابانی میں برطانیہ کی رنگین زندگی کے متعلق قسم قسم کی کہانیاں سنانے لگا جن میں لڑکیاں، عیاشی اور بے جاآزادی جیسی باتیں تھیں۔ قریبًا ہر نوجوان کایہ خواب ہے کہ وہ کسی ایسے ملک کا باشندہ ہو جہاں اسے کھل کھیلنے کا پورا پورا موقع ملے۔ اسے روک ٹوک سے بے نیاز ماحول میسر ہو۔ شاید وہ مجھے بھی ایسے ہی لوگوں میں شمار کیے ہوئے تھا۔ میں جلد ہی اس کی باتوں سے بور ہو گیا۔ موبائل دیکھا تو چار بجے سے کچھ اوپر کا وقت ہو چلا تھا۔ مجھے اسلام کی فکر ہونے لگی۔ کیا خبر اس کے ساتھ کیا بیتی۔ اگر کسی نے راستے میں لوٹ لیا تو، اس ویرانے میں ایسا کرنا کون سا مشکل کام تھا۔ غربت میں انسان ویسے بھی شرافت کے سارے معیار بھول جاتا ہے۔ میں سوچتا جا رہا تھا اور بلال مسلسل بولتا جا رہا تھا یہاں تک کہ اسلام کا لہو سے تر چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ میں نے سر کو جھٹکا اور بلال سے اجازت چاہی۔

جاری ہے۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیئے

اگلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20