ہماری ترجیحات —- سعدیہ بشیر

0

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک بزرگ نے اعلان کیا جس بادشاہ کا ملک سب سے خوب صورت ہو گا اسے بہترین حکمران کا خطاب اور انعام دیا جائے گا۔ مقابلے کے لیے ایک سال کا وقت طے ہوا۔سال بعد بزرگ اور ہمراہی پہلے ملک میں پہنچے تمام لوگ استقبال کے لیے گھروں سے باہر اور رستوں پر کھڑے تھے۔ ہر طرف بلند و بالا عمارات تعمیر و ترقی کی بہار دکھا رہی تھیں۔۔ بزرگ بڑی خاموشی سے سب دیکھتے رہے۔ دوسرے ملک میں ہر طرف باغات اور پھولوں کی بہار تھی۔ البتہ پہلے ملک کی رعایا کی طرح یہاں کے لوگوں کے چہرے بھی سپاٹ اور ہر قسم کے جذبات سے عاری تھے۔ بزرگ نے یہ سب بھی خاموشی سے دیکھا اور تیسرے ملک کی طرف روانہ ہوئے۔ تیسرے ملک میں بھی لوگ ان کے استقبال کے لیے گھروں سے باہر کھڑے تھے۔ ان کے چہرے خوشی اور جوش سے تمتما رہے تھے۔ ان کے انداز میں طمانیت تھی ۔دوسرے ممالک کی طرح کوئی نمایاں ترقی نہ ہونے کے باوجود اس ملک کے باشندے مطمئن اور اپنے ملک سے پیار کرنے والے تھے۔ چینی شاہزادہ کی طرح اس ملک کا بادشاہ عوام کی سرگوشیاں اور ان کی نہ بیان کی جانے والی تکالیف کا ادراک رکھتا تھا۔ بزرگ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اور انھوں نے اس ملک کو انعام کا حق دار قراردیتے ہوئے کہا کہ ترقی کا اصل اور حقیقی معیار وہاں کے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے حکمران کی سب سے پہلی ترجیح اس کی عوام ہونا چاہیے۔ یہ تو بزرگ کا خیال تھا۔ اب دنیا بدل چکی ہے۔ اگر کوئی چیز نہیں بدلی تو وہ انسان کا پیٹ اور اقتدار کی ہوس ہے۔ ہر انسان کی طرح ہر حکومت اور اس کے نمائنگان کی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔ لیکن بنیادی ضروریات تبدیل نہیں ہو سکتیں ۔جسں طرف نظر اٹھائیے عوام کے پھیلے ہاتھ محض دو ہاتھوں کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ان محرومیوں کی طویل داستان ہے جو ہاتھ کی لکیروں سے دل و دماغ کی حبس زدہ فضا تخلیق کرتی ہے۔ یہی پھیلے ہاتھ اور خالی پیٹ گروہی اور اقوام کی آمریت پہ مہر ثبت کرتے ہیں۔ تیسری دنیا میں بالخصوص عوام کی اہمیت ایک سٹیمپ یا انگوٹھے کی سیاہی سے زیادہ نہیں۔ ہمیں گمان تک نہیں ہوتا کہ انگوٹھے سے لگائی گئی یہ سیاہی ہماری تقدیر کے ورق کو کالا کر سکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹیکس پر ٹیکس دیے جانے والے عوام کرتب دکھانے والے شعبدہ باز کے سامنے بے دست و پا ہیں۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

کھانے کی تھیلیوں پر جھپٹتے عوام کی تصاویر جہاں یہ بتاتی ہیں کہ ان کا بنیادی مسئلہ بھوک ہے۔ وہیں ننگے پاؤں ان کے پرخار سفر کی داستان ہے اور دوسری طرف برانڈ پر لگی سیل پر ایک جم غفیر پکار پکار کر کہتا ہے کہ اس کا مسئلہ خود ساختہ سٹیٹس ہے ۔تاکہ وہ اپنا گروہ تبدیل کر سکے۔ یہ گروہی تعصب کسی مذہب یا نظریہ کا شاخسانہ نہیں۔ یہ تو divide and rule کی کھلی جنگ ہے۔ پاکستانی سے پہلے پٹواری اور انصافی کی تشخیص میں یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ دونوں کے انگوٹھے پر لگی سیاہی کالی ہی ہے۔ بھلے سے یہ سیاہی سوکھ چکی ہے لیکن اس کے اثرات لگانے والوں اور حاصل کرنے والوں کے دلوں تک پہنچ چکے ہیں۔

ہمیں اپنے حقوق و فرائض سے زیادہ دوسروں کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ یہ ادھوری شخصیات تعصب کی عینک سے جو دیکھتی ہیں وہ لب پہ آسکتا نہیں۔ سو ادھوری معلومات، ادھورے تعلقات، ادھوری تعلیقات مکمل ماحول کی منظر کشی اور تشکیل میں چوک جاتی ہیں ۔ہمارے معاشرہ میں ہر طرف ادھورے منظر ہیں ۔جن میں کہیں تو ریسیور نہیں اور کہیں ٹرانسلیٹر کی کمی ہے۔ جہاں یہ دونوں چیزیں بھی میسر ہیں وہاں ڈائل کرنے والا نمبر نہیں ۔جہاں نمبر مل جائے وہاں دوسری طرف ریسیور تو موجود ہوتا ہے لیکن وہاں بزی کی ٹیون سنائی دیتی ہے۔۔ یہ سب محض اس وجہ سے ہے کہ ہم دوسروں کے مقام کا تعین کرنے میں مصروف اپنی جگہ خالی کیے بیٹھے ہیں۔

وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے
مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں

ہم اپنی جنگ نہیں لڑ سکتے کیونکہ ہمیں علم ہی نہیں ہمیں کیا چاہیے۔ بھوکا اور خالی پیٹ ہر فرقہ کا حصہ بننے کے کے لیے تیار رہتا ہے۔ کیونکہ اس کو صرف روٹیاں نظر آرہی ہوتی ہیں۔ یہ محکوم خواب سے بیدار کیسے ہو سکتا ہے۔ حکمراں کی سامری اب مافیا بن چکی ہے۔ اس کی پٹاری سے تعلیم، اسپتال اور اشیائے خورونوش کے لیے مہنگائی اورقانون کے بے شمار سانپ ہیں ۔جن کی نظریں اب بیج پر ہیں کہ کب فصل نکلے اور اپنا حصہ وصولا جاسکے۔

روٹی مہنگی ہوئی تو جواز پیش کیا گیا کہ خواتین کو سگھڑاپے کا مظاہرہ کرتے ہوئے روٹیاں گھروں میں پکانا چاہیے۔ دوکانوں سے آٹا غائب ہوا تو شاید اگلا مشورہ یہ ہو گا کہ روٹی مٹی سے بھی بنائی جا سکتی ہے۔وہ بچے جو یہاں کی محرومی سے تھک کر باہر مزدوری کرنے جاتے ہیں وہ باہر سے اپنے استعمال کے لیے جو موبائل لیں ان کو اس پر بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے جو موبائل کی قیمت سے بھی زیادہ ہے۔ عوام کے پھیلے ہاتھ اور خالی پیٹ ان کی کم عقلی ہے اور عقل مند لوٹ مار کے نئے قوانین متعارف کروا رہے ہیں۔ گذشتہ حکومتوں کی کارکردگی پر بحث کرنا ایسے ہی ہے جیسے باسی کھانا سامنے رکھ کر اس کے نقائص بتانا. ہماری پلیٹوں میں تازہ کھانا پڑا ہے اور ہم باسیوں روٹیوں کی لڑائی میں پڑے ہیں۔سب حکومتیں اپنے نعرے لے کر آتی ہیں حالیہ حکومت نے بھی تبدیلی کا نعرہ بلند کیا اور تبدیلی کے نام پر دھند ہی دھند ہے۔ تنخواہوں میں اضافے سے محرومی، ادویات کا مہنگا ہونا، صحت اور تعلیم کے مسائل سب تبدیلی کی نذر ہو چکا ہے۔ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور ہمارے پاس نئی بات کرنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں. صرف چیخ پکار، الزامات کی بوچھاڑ اور لعن طعن ۔گرین پاکستان پر بات کرنے والے فوسل فیولز کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں۔ تقاریر کا شوق گفتار کے غازی پیدا کر رہا ہے ۔ہماری ایک وزیر صاحبہ کو اتنا بولنے کا شوق ہے کہ وہ مدعا بھول جاتی ہیں۔ گرمی دھوپ سے بے نیاز کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا جمع کر کے ہرے بھرے پاکستان کی تشکیل میں مشغول ہیں۔علم و شعور کے وہ پودے جو پانی نہ ملنے سے سوکھ رہے ہیں ان پر تبدیلی کے بند بندھے ہیں جو تازہ ہوا اور پانی کی ترسیل کو روک رہے ہیں۔ تبدیلی کا وہ عمل جو زمین سے شرونا ہونا تھا۔تجاوزات کی مسمار پر رک گیا ہے ۔نہ زمین نرم کی جا رہی ہے نہ بیج کی بوائی کا اہتمام ہے۔
وہ فصل کہاں ہے جسے اندیشہء زوال نہیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20