سجاول خان رانجھا: ایک فراموش سفرنامہ نگار — نعیم الرحمٰن

0

سینئر صحافی، ادیب، دانشور اور منفرد سفر نامہ نگار سجاول خان رانجھا 8ستمبر 2020ء کو انتقال کرگئے۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ راقم جیسے صحافی کو بھی اس منفرد قلم کار کے انتقال کی خبرایک ماہ بعد دانش ویب سائٹ پر زاہد ایوبی کے تعزتی مضمون سے ہوئی۔ ہمارے میڈیا نے سجاول خان رانجھاکے انتقال کی خبر کو خبر نہیں سمجھا اور اگرکسی اخبارمیں آئی بھی ہوگی تو غیراہم اندازمیں اندرونی صفحات پر ہوگی۔ سجاول خان رانجھا اردو کے ایک فراموش شدہ سفرنامہ نگار ہیں۔ انہوں نے تعلیم کی تکمیل کے بعد صحافت کاپیشہ اختیار کیا۔ لیکن پاکستان میں ادب اور صحافت کو مشن قرار دے کر ہمہ وقتی ادیب و صحافی بن کر زندگی بسر نہیں کی جاسکتی۔ دولت کی تلاش میں انہوں نے یورپ کا رُخ کیا، اور زندگی کے کئی سال یورپ، اسکینڈے نیوین ممالک اور امریکا میں گزارے۔ لیکن جس دولت کی تلاش میں بیرون ملک کاسفر اختیار کیا تھا اورجس نصب العین کے لیے صحافت سے وابستہ ہوئے۔ دونوں ہی حاصل نہ ہوسکے۔ نہ وہ مالی آسودگی حاصل کرسکے اورنہ اپنے آدرش پورے کر سکے۔ تو آخر کار وطن لوٹ آئے۔

سجاول خان رانجھانے 1971ء میں پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں ایم اے کیا۔ انہوں نے ڈیپارٹمنٹ وال پیپر ’کارواں‘ سے لکھنے کا آغاز کیا۔ نوائے وقت، جنگ، کوہستان سمیت قومی اخبارات میں کارکن صحافی رہے، سیاسی و معاشرتی موضوعات پر مضامین لکھے۔ صحافت کی مزید تعلیم کے لیے جرمنی کارُخ کیا، اور آٹھ سال برلن یونیورسٹی میں زیرِتعلیم رہے۔ انہوں نے سکینڈے نیوین اور امریکی یونیورسٹیز میں بھی داخلہ لیا۔ یہ سفرنامے یورپی زندگی کے طویل تجربات اور واقعات کی داستان ہیں۔ اس داستان میں ملکوں، شخصیات اور نظریے سمٹ کر آگئے ہیں۔ پاکستان میں سجاول خان رانجھا نے کئی اداروں میں ملازمت کی لیکن اپنی بے لاگ سوچ اور نظریات پرمضبوطی سے جمے رہنے کے باعث کسی جگہ بھی مستقل مقام نہ بناسکے۔ تین سفرناموں کے علاوہ سجاول خان رانجھانے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کے انٹرویوز پر مبنی کتاب ’’دانش سے مکالمہ‘‘ اور موٹیشنل کتب ’’اپنے آپ کی تلاش‘‘ اور ’’ہمت نہ ہاریے‘‘ بھی پیش کیں۔ لیکن ان کتب میں لوگوں کو لفاظی سے کسی کام پرمائل کرنے کے بجائے واقعات کے ذریعے خوب سے خوب تر کرنے کی تحریک اجاگر کی گئی ہے۔

1995ء میں اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک کے جریدے’’دینی صحافت‘‘ کا اجرا کیا گیا۔ اس منفرد پرچے میں تمام مکاتب فکر کو نمائندگی دی جا تی تھی اورکسی قسم کے تعصب کوجگہ نہیں ملتی تھی۔ پروفیسر احمدرفیق اخترسے متاثرہوئے تو گوجرانوالہ جاکران کے خیالات ریکارڈ کرناشروع کردیے اور ان کی تین کتب ’’حجاب‘‘، ’’بست و کشاد‘‘ اور ’’اٹھتے ہیں حجاب آخر‘‘ شائع کیں اور پروفیسر صاحب کی رہنمائی میں ’’ادراک‘‘ کا اجرابھی کیا۔ لیکن کچھ افراد کو ان کی قربت پروفیسررفیق اخترسے نہ بھائی۔ انہیں نہ صرف ادراک کی ادارت سے ہٹادیاگیا، بلکہ تینوں کتب کے اگلے ایڈیشنز سے ان کانام بھی غائب ہوگیا۔ شفاانٹرنیشنل ہسپتال کے تعلیم اور صحت سے متعلق دو جرائد کی بھی ادارت کی۔ لیکن یہ معاملہ بھی بہت زیادہ دیرنہ چل سکا۔

بیرون ملک اسفارکی داستان سجاول خان رانجھانے تین بہترین اورمنفردسفرناموں میں بیان کردی۔ پہلاسفرنامہ ’’گہرکی تلاش‘‘ ان کے سحر آفرین قلم سے یورپ میں قیام کے آٹھ سال کااحوال ہے۔ جس میں ادب کی چاشنی، زبان کی شگفتگی اورمضامین کی رنگارنگی قاری کو کتاب سے جکڑے، رکھتی ہے۔ حالات و واقعات، شخصیات و نظریات، مذہب و نفسیات، تاریخ وجغرافیہ اورطنزومزاح کی ایک ایسی داستان جسے ختم کئے بغیر کوئی نہ چھوڑ سکے۔ پاکستان کے سرکردہ ادیبوں اور دانشوروں ممتاز مفتی، سیدضمیرجعفری، پروفیسر محمد منور، افتخار عارف، اشفاق احمد مستنصر حسین تارڑ اور منشایاد نے اس تخلیق کو خراجِ تحسین پیش کیا اور 1993ء کی بہترین کتاب کا ادبی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ ’’کرب کی راہ گزر‘‘ ان کا دو سرا سفرنامہ ہے۔ سینکڑوں ہزاروں پاکستانی یورپ کا رُخ کرتے ہیں، ان ڈھولوں کی آواز پر، جومغرب میں بجتے ہیں اور سہا نے سنائی دیتے ہیں۔ یہ لوگ روانہ ہوتے ہیں، رزق کی تلاش میںاورحصولِ علم کے لیے، زمینی سفر پر، جو ذہنی سفربن جاتاہے اورتہذیبو ں کا سفر بھی اور اپنی شناخت کی تلاش میں اسلامیات اور مغربیت کی کشمکش میں ڈھل جاتاہے۔ یہ ایک ایسی ہی معنی خیز روداد ہے، اِن اَن گنت نوجوانوں کی داستان، جو یورپ جا بستے ہیں۔

سجاول خان رانجھا کا تیسراسفرنامہ ’’اگر صبح طلوع ہوئی‘‘ سفرامریکاکی روداد ہے۔ گہرکی تلاش کاسفرہمیشہ روشنیوں میں جاری نہیں رہتا اور نہ ہی یہ کھلے اورآزادراستوںپرساری رہتاہے۔ کرب کی راہ گزر پرتاریکی کی لہریں جھپٹتی ہیں اور آزادی کے ایوانوں میں زنداں کی زنجیریں بج اٹھتی ہیں۔ ’’اگر صبح طلوع ہوئی‘‘ امریکا اور پاکستان کی جیلوں میں گزرے ناقابل فراموش اوقات کا احوال بیان کرتی ہے، قدم قدم پر سنسنی خیز واقعات کا مرقع اور سفرناموں کی تاریخ میں ایک غیرمعمولی اضافہ ہے۔

کتاب کے دیباچے میں مرحوم افسانہ نگار محمد منشا یاد لکھتے ہیں۔

’’مجھے یہ تویاد نہیں کہ ’’گہر کی تلاش‘‘ میں مصنف کے ہاتھ گہرلگاتھاکہ نہیں، مگر اس کتاب کے مطالعے کے بعد میرے ہاتھ سجاول خان رانجھا جیسے قلمکار کی صورت میں ایک گہر آبدار ضرور لگ گیا تھا اورتب سے میری ان سے پکی دوستی ہے۔ ’’اگر صبح طلوع ہوئی‘‘ سفرنامہ، رپورتاژ، خود نوشت اور سوانحی ناول کا ملغوبہ اور عجوبہ ہے، اردوزبان میں اس انداز کی تحریر کم کم لکھی گئی ہیں۔ ابراہیم جلیس کی کتاب ’’جیل کے دن، جیل کی راتیں‘‘ سے لے کر مختلف ادیبوں اور شاعروں کے زنداں نامے اپنے وطن کی جیلوں کااحوال بیان کرتے ہیں۔ سجاول خان رانجھا کو یکے بعددیگرے ترقی یافتہ امریکا اور ترقی پذیرپاکستان کی جیلوں میں کچھ وقت گزارنے کاشرف حاصل ہوا اورانہوں نے دونوں ملکوں اور معاشروں میں قوانین، ضابطوں، انسانی حقوق اور انصاف کی صورت حال دیکھی اور اسے سچائی سے بیان کردیا۔ وہ جیلوں کے شب وروزکا احوال کہتے ہوئے زندگی کے تقریباً سبھی رنگوں، ذائقوں اور پہلوؤں پر خیال انگیز تبصرے کرتے گئے۔ یہ ناقدانہ اور دانشورانہ تبصرے اس کتاب کاحاصل ہیں۔ قیدوبند کی صعوبتوں نے سجاول خان رانجھاکے ذہن، شخصیت اور قلم کو بھی جلابخشی اوران کی شخصی خوبیوں اورتخلیقی صلا حیتوں میں اضافہ کیا۔ یوں تو کتاب ان کی امریکا اور پاکستان کی جیلوں میں اسیری کی سرگزشت ہے، لیکن وہ محض اس سرگزشت تک نہیں رہتے۔ وہ امریکا کی تاریخ گھنگالتے ہیں اوریہ نتیجہ نکالتے ہیں۔ ’’امریکا کی تاریخ شکارکی تاریخ ہے۔ عناصر فطرت کا شکار اور انسانوں کی فطرت کابھی۔ جہاں جہاں یورپی آباد کار پہنچے، وہاں وہاں سے مقامی لوگ اپنے کام سے بھی گئے اور جان سے بھی۔‘‘

پھر وہ عیسائیت، یہو دیت اوراسلام کی آویزش کا تاریخی پس منظربتاتے ہیں۔ جیلوں کے نظام میں مختلف ادوار میں ہونے والی اصلاحات اور تبدیلیوں کا احوال کہتے ہیں اور امریکی جیلوں میں قیدیوں کے انسانی حقوق کی پاسداری اور پاکستانی جیلوں میں پائمالی کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ دونوں ملکو ں کے عدالتی نظام کا فرق بتاتے ہیں۔

مجھے امریکا کی عدالت اورجیوری سسٹم کے بارے میں جان کرحیرت ہوئی۔ جج اور وکیلوں کے باہمی مشورے سے عدالت میں موجود مختلف پیشوں سے وابستہ عام لوگوں کو جیورر مقررکئے گئے اور انہیں وہ اصول سمجھادیئے گئے، جوانہیں فیصلہ کرنے میں مدنظر رکھنا تھے اوران پرواضح کر دیا گیا کہ فیصلہ اتفاقِ رائے سے ہوگا۔ اگرایک فرد کوبھی اختلاف ہو، تو جیوری کو اس وقت تک بیٹھنا پڑے گا، جب تک وہ ایک رائے پرمتفق نہیں ہوجاتے۔ چاہے اس کے لیے انہیں رات وہیں گزارنا پڑے۔ پاسپورٹ کے دو صفحوں کی تبدیلی کے ایک معمولی مقدمہ کافیصلہ کرنے کے لیے اس قدر اہتمام! فوری طور پر اپنے ہاں کا عدالتی اورجیل کاسسٹم یاد آیا، جہاں کوشش کی جاتی ہے کہ قیدی کی انا اور شخصیت کا بھرکس نکال دیاجائے۔‘‘

ممتاز مفتی نے سجاول خان رانجھاکے پہلے سفرنامے ’’گہرکی تلاش‘‘ کے بارے میں لکھاتھا۔

’’ظاہری شخصیت میں وہ ایک عام آدمی ہے سپاٹ۔ اس کا نام سن کر میں چونکا۔ سجاول رانجھا۔ غیر معمولی نام ہے۔ یہ نام اس پر بیٹھتا نہیں، نہ سجاول نہ رانجھا۔ نہ حسن نہ عشق۔ وہ اپنی کتاب میرے پاس چھوڑ گیا۔ نہ تومیرے پاس اتنا وقت کہ کتاب پڑھوں اور اپنے خیالات کا اظہار کروں، نہ صبر ہے۔ مشکل یہ ہے کہ کتابیں اونچی باتوں اور سوچوں سے بھری ہوتی ہیں، میں توصرف ایسی کتاب پڑھ سکتا ہوں، جو مجھ سے باتیں کرے۔ ہلکی پھلکی باتیں۔ میں نے اس کی تحریرپڑھی، توپہلی بات ہی سوئی کی طرح چبھ گئی۔ لگتاہی نہ تھاکہ یہ اس کی پہلی کتاب ہے۔ نہ تعارف، نہ تکلف، نہ معذرت، نہ جھجھک۔ وہ مجھ سے یوں باتیں کرنے لگا، جیسے ہم عرصہ درازسے آپس میں باتیں کرتے ہوں۔ جیسے ہم ایک دوسرے سے بڑے بے تکلف ہوں۔ بڑا بدلحاظ، جیسے نہ میں سینئرتھانہ وہ جونیئر، بلکہ مبتدی۔ اور کتاب تو دلچسپ لذیذ آوارگی سے بھری ہوئی ہے۔ بڑی بے تکلف کتاب ہے۔ چھوٹنے ہی باتیں کرنے لگتی ہے۔ شہروں کی باتیں۔ ملکوں کی باتیں۔ لوگوں کی باتیں۔ رویوں کی باتیں۔ باتیں ہی باتیں۔ ہنس ہنس کر باتیں کرتی ہے۔ مشکل حالات کی بات ایسے متبسم انداز سے کرتی ہے کہ مشکل مشکل محسوس نہیں ہوتی۔ اوکھے لوگوں کا تذکرہ یوں کرتی ہے کہ دل میں ہمدردیاں پیدا ہوتی ہیں۔ دراصل سجاول کو دیکھنا اور دکھانا آتاہے۔‘‘

ممتازجیسے لکھاری کی رائے کے بعدمزیدکچھ آراء دینے کی ضرورت نہیں۔ کچھ اقتباسات پیش ہیں۔

’’اطالوی لوگ باقی ماندہ یورپ کی طرح فٹ بال کے بے انتہا شوقین ہیں۔ ان کی کسان عورتیں ہماری دیہاتی عورتوں کی طرح ہیں، جنہیں بے انتہاکام کرناپڑتاہے۔ شاید یہ ہولی سی کااثرہے کہ کنواری لڑکیوں کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ لیکن صرف دیہات کی حدتک۔ شہرلوگ اپنے آپ کو دیہاتیوں سے برتر خیال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ وکلا وا نجینئر حضرات اپنے ناموں کے ساتھ ٹائٹل کہلوانا بہت پسندکرتے ہیں۔‘‘

’’ایفل ٹاورسے زیادہ چند ضروری کام میری فہرست میں تھے۔ پہلے نمبرپرکھانااورپھرفرینکفرٹ کی ٹرین کا پتہ چلانا۔ تین روزتک مسلسل ترکی روٹی کھائی تھی۔ اس نے معدے میں تباہی مچادی تھی کہاں وہ گھر کے ناشتے میں گھی کاچوندہ چوندہ پراٹھا، اورکہاںیہ کسی کھکھرکی طرح باہرسے خشک اور اندرسے پھکلی لمبوتری بریڈ۔ یعنی وہ تمام عناصرجوکسی کے تن ومن کونڈھال کرنے کے لیے عالم اسباب میں اکھٹے ہوسکتے تھے، وہ میرے ہمرکاب تھے۔ اب میرایہ بنیادی حق تھاکہ کھانے کو چنگاچوکھا ملتا۔ سوال صرف اتناتھاکہ کہاں سے؟‘‘

پاسپورٹ اس نے میرے حوالے کیا۔ لائٹ آف کی۔ ’’Gute Nacht‘‘ کہہ کروہ دروازے کے پیچھے غائب ہوگیا۔ یہ مکالمہ رات کے ڈھائی بجے ہوا۔ یوں لگا، جیسے یہ بھی کوئی خواب تھا۔ جرمن سرحدی افسر جا چکا تھا، اور میں جرمنی کی سرحدوں میں داخل ہوچکاتھا۔‘‘

سجاول خان رانجھاکے پاس ایک حساس دل، سوچنے والاذہن اورکبھی نہ تھکنے والاتوانا قلم ہے اوروہ اظہاروبیان کی خوش سلیقگی سے بھی آگاہ ہیں۔ کہتے ہیں۔

’’عزت نفس کی چادرجوغیرمسلم تہذیب (امریکامیں) کپڑے اتارکراتاری تھی، اس (پاکستانی پولیس مین ) نے لفظوں سے تارتارکردی تھی۔ یہ ہم تھے کہ کسی سرکس کے بندرتھے، جوپولیس مینوں کی دل لگی کا دیر تک مرکزرہے۔‘‘

’’معاشرتی پابندیوں اورجیل کی مجبوریوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ انسان معاشرے میں خود مختارہونے کے باوجود اپنی مرضی میں آزاد نہیں ہوتا۔ اسی طرح اکثرانسان اپنی سوچ وفکرکے غلام ہوتے ہیںانسانوں کی اکثریت اپنے عقیدے کی اسیرہوتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنی غلط عادتوںکے گرویدہ ہوتے ہیں۔ خود ہی اپنے آپ کوبیڑیاں پہنائے ہوئے خواہشات وعادات کی جیل میں بندرہتے ہیں۔ اگریہ بات ہے، تو آخرجیل میں آکر ہی آدمی کیوں اس احساس سے دوچارہوتاہے کہ اس کی آزادی چھین لی گئی۔‘‘

ان چندبلیغ جملوں سجاول خان رانجھا نے کوزے میں دریاکوبندکرنے کے مصداق انسانی خودمختاری، معاشرتی پابندیوں اورانسان کے اپنی عادات اورپیدائشی عقیدے کااسیرہونے کے بارے میں نہایت پتے کی باتیں کہہ دی ہیں۔ ان کی تحریرکی ایک خوبی وہ اسلوب بیان ہے، جوشوخی، شرارت اورشگفتگی سے مزین ہوتاہے اورجس کی وجہ سے ان کی تحریرمیں دلچسپی اورریڈایبلٹی پیداہوجاتی ہے۔ چندمثالیں دیکھیں۔

’’ان کے نہانے کے آداب بھی دلچسپ تھے۔ لوگ اپنے کمروں سے انڈرویئر یا تولیہ باندھ کرآتے۔ دوسروں کے سامنے اتارکر نہاتے۔ با ہرنکل کرسب کے سامنے جسم خشک کرتے اور کمرے تک چند قدموں کا فاصلہ تولیہ باندھ کر طے کرتے۔ آخر شرم و حیابھی تو کوئی چیز ہے۔‘‘
’’تزکیہ نفس اس وقت اپنے عروج پرپہنچتاجب علی الصبح لائن لگاناپڑتی۔ فلش سسٹم ان دنوں بھی اکثر گھروں میں نہیں تھا، وہاں کہاں ہوتا۔ ہر قیدی اپنی باری پر تھلے پربیٹھ کر ’ہر آمد غلاظت نوساخت‘ کے عمل سے سرخرو ہوتا۔‘‘

’’اپنے کپڑے اتاردیں۔ یہ تھاپہلا آرڈی نینس جواس کی زبان سے وارد ہوا۔ لہجہ اس کانرم تھا، ہم پربڑبڑاہٹ کاحملہ ہوا، جواس پربے اثر رہا۔ پٹیل ڈگرڈگرکرنے لگیاوراپنی زبان میں حضرحضر۔ جب کالے نے دیکھا، آرڈی نینس بیکار گیاہے، تواس نے آرڈرآف دی ڈے نشرکیااورایسے لہجے میں کہ شعلہ سالپک جائے ہے آواز تو دیکھو۔ پٹیلوں کے ہاتھ تیزی سے حرکت میں آگئے۔ پہلے شرٹوں کے بٹن کھلے، پھر پینٹوں کی زپیں کھلنا شروع ہوئیں اور تھوڑی ہی دیرمیں ہم کسی نئی بھرتی کے رنگروٹ اس کامنہ دیکھ رہے تھے۔ جوبندہی کب ہوا تھا کہ پھر کھلا اوراس میں سے جو کچھ ابلا، اس نے ہمیں ابال کررکھ دیا۔ دھڑ، دھڑ، دھڑل۔۔ انڈر شرٹس اینڈ انڈر ویئر ڈاؤن۔ ۔ دھڑل۔ یہ ننگاکرنا چاہتا ہے؟ میں ساتھ کھڑے پٹیل سے ترش روہوا، جیسے اس رسوائی کا وہی ذمہ دارتھا۔ یہ توہے کہ یورپ لباس پوشی کے باوجود ننگاہے اور ایسے نانگو ںکے درمیان وقت گزار کے بھی ہم سترپوش رہے تھے اوریہ ستراب اترا چاہتا تھا۔ گویا انسانیت کالبادہ ہی اترا چاہتا تھا۔ ان ہندو پٹیلوں کے سامنے، جواسے فن کاعنوان بنانے ننگ دھڑنگ کھڑے تھے۔‘‘

’’ایف آئی اے کی حوالات میں آج ہمارادوسرادن ہے، اور نئی صبح کے بارے میں اطلاع ہے کہ اس کی رات ہم اڈیالہ جیل میں طلوع ہوتے دیکھیں گے۔ تھانے کی تفتیش اور جسمانی ریمانڈکی مدت آج ختم ہورہی ہے۔ تھانے کے عملے کاسلوک اس عرصے میں ناروا نہیں ہے، جس کا مجھے ان کی ابتدائی بدتمیزیوں کے پیش نظرخدشہ تھا۔ بلاشبہ سیکھنے کایہ ایک مرحلہ ہے، جس کی نوعیت اور حیثیت کو سمیٹنے میں دل بھی مصروف ہے اور دماغ بھی۔ گذشتہ روز صبح آٹھ بجے تھے ایک سپاہی’ چلو، اٹھو بھئی تیار ہو جاؤ‘ کا ہلکارا مارتا ہمارے دروازے پر نمودار ہوا۔ پانچ منٹ بعد وہ ہتھکڑی کی سنگلیاں سلاخوں میں سے گزار رہا تھا۔ یہ پاکستانی ہتھکڑیاں تھیں، ویسی ہی، جیسی گایوں اور بھینسوں کو باندھنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔‘‘

مشاہیر سے بھرپور پذیرائی ملنے کے باوجود سجاول خان رانجھاکے ان تین سفرناموں کو وہ مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ جوان کا حق تھا۔ دوست پبلشرکی مہربانی جس نے ارشد چہال جیسے ناول نگار اور سجاول خان رانجھا کے سفرنامے شائع کیے۔ ’’گہرکی تلاش‘‘ کا پہلا ایڈیشن 1993ء اور دوسرا دوہزارمیں شائع ہوا۔ لیکن گذشتہ بیس سال کی طویل مدت میں ان کتب کامزید ایڈیشن شائع نہیں ہوا، اور ادبی حلقوں میں بھی ان کا ذکرنہیں ہوا۔

ایک منفرد اور عمدہ سفرنامہ نگار اور ادیب سجاول خان رانجھاکی خدمت میں یہ راقم کانذرانہ ء عقیدت اورخراجِ تحسین ہے۔ اگر اس تحریرکی اشاعت سے سجاول خان رانجھا کی کتب کی اشاعت نوکی راہ ہموار ہوئی اور اسے مزید قارئین میسر آئے تو انتہائی مسرت کاباعث ہوگا۔ زندہ کتابیں کے کرتا دھرتا، راشداشرف کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20