ٹک ٹاک: پابندی کی اصل وجہ فحاشی نہیں — شوکت علی مظفر

0

کچھ لوگ خوش ہو رہے ہیں کہ اچھا ہوا یہ بے حیا اور فحش ٹک ٹاک ایپ سرکار نے بند کردی۔ کیا واقعی ٹک ٹاک سے فحاشی پھیل رہی تھی؟ کیا فیس بُک پر سب شرفاء موجود ہیں؟ کیا یو ٹیوب پر سب ولی اللہ اپنی ویڈیو اپ لوڈکرتے ہیں؟ کیا انسٹا گرام پر سب تبلیغی بھائی ہیں؟ کیا لائیکی پر سب اچھے لوگ ہیں؟ کیا بیگو لائیو Bigo Live پر تمام لوگ کھیت سے سنڈیاں بھگانے کا طریقہ بتاتے ہیں؟ واٹس ایپ پر سب لوگ نیکی کی راہ پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر نجی چینلز پر تو تمام لوگ ہی نیکو کار ہیں؟ فحاشی کے ف کی بھی اِن کو خبر نہیں اسی لیے سب سے زیادہ یہی لوگ خوش ہو رہے ہیں کہ پندرہ سیکنڈ کے فنکاروں پر پابندی خوش آئند ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ یہ ایپ یوتھ کے زیادہ زیر استعمال تھی۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس میں بچپن سے اداکار بننے کی خواہش نہ ہو، کہیں نہ کہیں ہر شخص میں یہ جراثیم موجود ہوتے ہیں، کچھ لوگ اس کا اظہار کھلے دل سے کرتے ہیں، کچھ شرما جاتے ہیں اور کچھ لوگ تنہائی میں یہ شوق پور ا کرلیتے ہیں۔ ابتدا میں یہ ایپ آئی تو میوزیکلی کے نام سے تھی جس میں میوزک پر لوگ اپنا شوق پورا کرتے تھے بعد میں اس کا نام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بہت سی تبدیلیاں کرتے ہوئے فلموں کے مشہور ڈائیلاگز شامل کیے گئے جس پر شوقین لوگوں نے لپ سنک کرکے اپنے آپ کو اداکاروں کی صف میں سمجھنا شروع کردیا جس کے باعث ڈیجیٹل میڈیا کے اداکار ان لوگوں پر ہنستے اور ان کا ہنسنا بنتا تھا کہ آواز دوسروں کی، اسٹائل کسی اور کا، بس ان پر منہ بنانا اور ہونٹ ہلانا بھی کوئی فنکاری ہوئی مگر اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر کافی نامور فنکار بھی اس میں شامل ہوچکے ہیں۔ آہستہ آہستہ اس ایپ میں وہ ٹیلنٹ بھی سامنے آیا جو دو جملوں میں اپنی بات کہنے کا ہنر رکھتا ہے۔ لپ سنک اور ڈانس سے بات آگے بڑھی اور کافی لوگ اپنا کانٹینٹ خود تیار کرنے لگے۔ اپنا ڈائیلاگ، اپنے انداز، اپنی ایکٹنگ جس میں فیصل آباد کا مولوی عثمان، لاہور کے سنجو بابا جی بابا، مرشد، میاں جی، پنجاب کے مولوی استاد شاگرد، خلجی (امیر وں اور غریبوں کا اسٹائل فیم)، فرحان بابا، نانا مجنوں سمیت لاتعداد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کامیڈی کو نیا رنگ دیا۔ پھر اُردو شاعری پسند کرنے اور ان پر ویڈیو بنانے والے لوگ الگ ہیں، حدیث اور اقوال پر ویڈیو بنانے والے کافی لوگ ہیں۔ مگر یار لوگوں کو نظر آتے ہیں تو چند سکہ بند ٹرانس جینڈر یا کچھ زیر تعمیر کھسرے۔ دکھائی دیتی ہیں تو ناچتی ہوئی لڑکیاں (جس میں زیادہ تر اسٹیج ڈانسر ہی ہیں جس میں کافی لڑکیاں ابھی نامور نہیں لیکن پنجاب کے مختلف تھیٹر میں یہی کام کرتی ہیں)۔ اور سامنے آتی ہیں تو ٹک ٹاک کے گانوں پر لپ سنک کرتے ہوئے میٹھے اور برگر لڑکیاں۔

منفی دیکھنے والوں کے لیے اس ایپ پر فحاشی دکھائی دینا لازمی ہے۔ مگر یقین کریں فیس بُک پر جتنی بے حیائی ہے، ٹک ٹاک پر اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ یوٹیوب پر تو پھر ٹاپ لیس اور برہنہ اجسام دیکھنے کو آسانی سے مل جاتے ہیں لیکن یہاں پر نہیں۔ واٹس ایپ گروپس میں تو ایسی ایسی بے حیائی سامنے آتی ہے کہ ٹک ٹاک پر مجھے گزشتہ دو ماہ سے نہیں ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں رپورٹ کا ایک آپشن موجود ہے جس پر کوئی بھی معقول وجہ لکھ کر رپورٹ کرتا ہے اور فوراً ہی اس ویڈیو کو ایپ سے خود بخود ہی ہٹا دیا جاتا ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ فحاشی کے کاندھے پر بندوق رکھ کر اس ایپ کو بند کردیا گیا؟

یہ ساری گیم دراصل پیسوں کی ہے۔ یہ ایک نئی مارکیٹ بنتی جارہی تھی موبائل فونز اور جوتوں کے برانڈ سے لے کر دیگر نامور برانڈ یہاں اشتہار زیادہ دینے لگے تھے۔ آج کل سوپ سیریل کا دور نہیں نہ نوجوان نسل یہ دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ مصروف جنریشن ہے، یوٹیوب کی دس منٹ سے زیادہ کی ویڈیو ہو تو اس کیلئے الگ سے ٹائم مینج کرتی ہے وہ بھی ویڈیو اچھی ہو تو، ورنہ اس کے پاس یہاں جانے کا بھی ٹائم نہیں۔ اس نسل کو ہمایوں سعید سے زیادہ علی حیدرآبادی اچھا لگتا ہے۔ یہ جنریشن، مہوش حیات سے زیادہ مناہل اور کنول آفتاب کو اہمیت دیتی ہے۔ اصل اور ہینڈ سم پرائم منسٹر سے زیادہ ٹک ٹاک کے پرائم منسٹر کو پسند کرتی ہے کہ وہ ہینڈسم ہے نہ بغیر پرچی کے تقریر کا ہنر جانتا ہے لیکن کم سے کم اپنے سپورٹر کے ساتھ تو کھڑا ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کی نوٹنکیوں سے زیادہ یہ فیاض مُصلی اور بوٹا فیصل آباد کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔ ندیم نانی والا اور چاچا سرائیکی کے چیلنج قبول کرتی ہے۔

اشتہارات کی ایک نئی مارکیٹ جنم لے چکی تھی اور اشتہارات کے آکسیجن سلنڈر پر زندہ ڈیجیٹل میڈیا اور دیگر لوگ کس طرح چاہیں گے کہ ان کا حصہ کہیں اور شفٹ ہوجائے اس لیے ان کی خوشی بنتی ہے۔ پھر پی ٹی اے نے ٹک ٹاک انتظامیہ سے کئی ماہ پہلے کہا تھا کہ وہ ان سے رابطہ کرکے لیگل طور پر کام کرے لیکن ٹک ٹاک انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اب بھی وہ ان سے معاملات طے کرلیتے ہیں تو پھر ایپ دھڑلے سے کھول دی جائے گی اور تب کسی کو فحاشی دکھائی دے گی اور نہ ہی اس ایپ کی برائی۔ یہاں رئیس فلم کا ڈائیلاگ یاد آگیا ”امی جان کہتی تھیں، کوئی دھندا چھوٹا نہیں ہوتا اور دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔”

مانا کہ کچھ جذباتی اور نا سمجھ بچوں کی جذباتی ویڈیو بنانے اور جلد وائرل ہونے کے شوق میں موت ہوچکی ہے مگر اتنی ہی جانیں یوٹیوب کے پرانکس کرنے والے بھی گنوا چکے ہیں۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کہ بے تحاشا بڑھتی مہنگائی، اسٹریٹ کرائم اور سیاسی دھوکے بازیوں میں یہ یوتھ فارغ ہوکر بیٹھ گئی تو سب کا بٹھا دے گی کیونکہ اس جنریشن کو لمبی تقریریوں سے مطمئن کرنا آسان نہیں، جھوٹے دعووں سے سروکار نہیں۔ اگر واقعی میں ٹک ٹاک بند رہتی ہے اور وی پی این یا لائیکی ایپ بھی بین کردیا جاتا ہے تو پھر لکھ کر رکھ لیں آئندہ چند ماہ میں کرائم ریٹ بڑھے گا کیونکہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان کچھ بھی کراسکتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20