سیمون دی بووا: شادی مخالف، اسقاط حمل کی حامی فیمسنٹ اسکالر — وحید مراد

0

اس سے قبل ہم نے اپنی ایک تحریر بعنوان “ماں کی ترجیح: ملازمت یا گھر؟” میں فرنچ فیمنسٹ اسکالر سیمون دی بووا کے ایک انٹریو میں سے ایک اقتباس کا حوالہ دیا تھا۔ اس میں انٹرویو لینے والی فیمنسٹ خاتون بیٹی فرائیڈن، سیمون سے سوال کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ

“۔۔۔۔۔ایک ایسا وائوچر سسٹم بھی بنایا جا سکتا ہے جس کے تحت کام کرنے والی یا تعلیم جاری رکھنے والی خواتین بچوں کی دیکھ بھال کیلئے خرچ کر سکتی ہیں لیکن اگر کوئی خاتون اس بات کا انتخاب کرتی ہے کہ وہ فل ٹائم اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرے گی تو پھر اسکے معاشی معاملات کیسے چلیں گے؟ اسکے جواب میں سیمون دی بووا فرماتی ہیں کہ “نہیں، ہم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ عورتوں کو اس معاملے میں انتخاب کا حق دینا چاہیے۔ کسی عورت کو یہ حق نہیں دینا چاہیے کہ وہ گھر پر رہے اور بچے پالے۔ سوسائٹی کو بالکل مختلف انداز اپنانا چاہیے۔ خاص طور پر عورت کے پاس انتخاب کا یہ حق اس لئے بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اگر عورتوں کو انتخاب کا حق دیا جائے گا تو سبھی عورتیں اس حق کا استعمال کرتے ہوئے گھر پر رہنا ہی پسند کریں گی اور یہ گویا عورتوں کا ایک خاص سمت اور رو میں بہہ جانے کے مترادف ہوگا۔ (اس حوالے کو سینکڑوں رائٹرز، تجزیہ کاروں اور صحافیوں نے اپنی تحریروں میں استعمال کیا ہے اور اسے کہیں بھی دیکھا جا سکتا ہے لیکن اسکا اصل سورس، ہاورڈ یونیورسٹی سے چھپنے والی بیٹی فرائیڈن Betty Friedan کی کتاب It Changed My Life کا باب A Dialogue with Simone de Beauvoir ہے جس میں اس انٹرویو کا مکمل متن دیا گیا ہے اور یہ پیراگراف صفحہ 397 پر درج ہے۔)

ہماری تحریر میں مذکورہ حوالے پر ایک دوست نے اعتراض فرماتے ہوئے کہاکہ “فرنچ فلاسفر و فیمنسٹ سیمون دی بووا کے اقتباس کاسیاق و سباق وہ نہیں ہے جو آپ نے استعمال کیا ہے۔ آپ اس باب کو پڑھیں گے تو آپ کو واضح تاثر ملے گا۔ ویسے آج کی دنیا میں فیمنزم کی حمایت یا تاریخ میں کوئی بھی ریسرچ سیمون دی بووا کے ریفرنسز کے بغیر مکمل ہونا ناممکن ہے۔ ہر وہ شخص جس نے سیمون دی بووا کو پڑھا ہے وہ کم از کم اس اقتباس کے مفہوم پر متفق نہیں ہو سکتا۔ کسی خاص سیاق و سباق میں کہے گئے جملے، کسی خاص معاشرت اور عہد میں یا تناظر میں لکھی گئی بات کا حوالہ کبھی بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا، خصوصا کہ وہ شخص خود ایک خاص تصور فکر میں دبستان کی حیثیت رکھتا ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں سارا مسئلہ مذہب کو لے کر مغربی تحاریک کے محرکات اور اس کا پھیلاؤ کے صرف رد و قبول کی کشمکش اور نبردآزمائی سے عبارت ہے۔۔۔ جن اقتباسات کو ہم عمومی ضرورت میں استدلال سمجھتے ہیں، حقیقتاً اپنی اصل فہم میں بنیادی طور پر وہ غیر استدلالی ہوتے ہیں”۔

ہم نے ان سے عرض کیا کہ “یہ حوالہ سیمون کی کتاب سے نہیں بلکہ انکےایک انٹرویو سے لیا ہے اور بیشمار رائٹرز نے اسکو اسی سیاق و سباق میں پیش کیا ہے مگر آپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ہم انکے بارے میں مزید مطالعہ کرکے یہ جاننے کی ضرور کوشش کریں گے کہ اسکا وہ کونسا سیاق و سباق ہے جسے سمجھنے میں، آپ کے مطابق ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ باقی جہاں تک بات ہے کسی کے پیراگراف اور تحریر سے من مانے معنی و مطالب کشید کرنے کی تو یہ اسلوب، چلن اور طرز فکربھی مغرب کا ہی دیا ہوا ہے کہ متن تخلیق ہونے کے بعد مصنف کی ملکیت نہیں رہتا قاری کی ملکیت بن جاتا ہے اورقاری اس سے کوئی معنی بھی اخذ کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ اس طرز فکر پر اعتراض تو مذہب کے ماننے والوں کو ہے کہ مذہبی اصطلاحات کے مخصوص معنی کو مستشرقین اور متجددین نے محاورہ عرب، قدیم عربی شاعری، کلچر اور لغات وغیرہ کے حوالوں سے بالکل مختلف اور متضاد معنوں میں پیش کیا ہے جس کا اسلامی علمیت اور اسکی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ جس اصول کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اس پر یک طرفہ طور پر تو عمل درآمد نہیں ہو سکتا کہ مستشرقین کو تو اس بات کی آزادی ہو کہ وہ مذہبی اصطلاحات کے جو معنی چاہیں اخذ کرتے رہیں لیکن ایسٹرن رائٹرز اس اصول کے پابند ہوں کہ وہ اپنی تہذیب اورمذہب کے دفاع میں جب ویسٹرن اسکالرز کا حوالہ دیں تو انکے سیاق سباق کا خصوصی طور پر خیال رکھیں۔ اگر آپ کی نظر سے کسی وسٹرن رائٹر یا فلسفی کی کوئی ایسی تحریر گزری ہو جس میں اس نے مذہبی متون کے نقادوں اور عام شاعری، فلسفہ، و دیگر افکار وعلوم کے نقادوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہو کہ ان سب کو یہ اصول یکساں طور پر اپنانا چاہیے کہ کسی متن کو اسکے سیاق و سباق اور تاریخی و عملی تناظر سے الگ کرکے اس سے نئے معنی اخذ نہیں کرنے چاہیں تو مطلع فرمائیے”۔ ان محترم دوست کے ساتھ دلچسپ اور تفصیلی بحث مباحثے کے بعد ہم نے سیمون دی بووا کے بارے میں جو مزید مطالعہ کیا اسکا خلاصہ یہاں درج کر رہے ہیں تاکہ قارئین، سیمون کی ذاتی زندگی، سیاسی، سماجی و دانشوارانہ کام کی تفصیلات جانتے ہوئے مذکورہ اقتباس کے صحیح سیاق و سباق کوسمجھنے کے کیلئے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔

سیمون دی بووا Simone de Beauvoir ایک فرانسیسی رائٹر، انٹلکچوئیل، سوشل تھیوریسٹ، فیمنسٹ اسکالر و ایکٹوسٹ تھیں۔ فیمنسٹ تھیوری اور وجودی فیمنزم پر انکے گہرے اثرات کی وجہ سے کچھ لوگ انہیں فلسفی بھی سمجھتے ہیں لیکن سیمون نے خود اپنے آپ کو کبھی فلسفی تصور نہیں کیا۔ سیمون نے فکشن، بائیوگرافی، سیاست اور سماجی ایشوز پر بہت کچھ لکھا ہے لیکن بطورفیمنسٹ اسکالر انکی شہرت کی اصل وجہ انکی کتاب The Second Sex ہے۔ اس کے علاوہ انکے کچھ ناول بھی بہت مشہور ہیں۔ سیمون کی شہرت کی ایک وجہ فرانس کے مشہور وجودی فلسفی Jean Paul Sartre کے ساتھ بغیر کسی نکاح و شادی کے، عمر بھر کیلئے اوپن محبوبانہ تعلقات بھی ہیں۔ یہ تعلقات 51 سال پر محیط تھے اور 1980 میں سارتر کی وفات پر اختتام پذیر ہوئے۔

سیمون کے والد شادی کے بغیر ایک جوڑے کی طرح رہنے اور جنسی تعلقات رکھنے کے خلاف تھے اور اس بات کو محسوس کرتے ہوئے سارتر نے سیمون سے عارضی طور پر ہی سہی مگر نکاح جیسا ایک معاہدہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔ سارتر کے الفاظ تھے کہ Let’s sign a two years lease مگر سیمون نے جواب دیا کہ “شادی ناممکن ہے” کیونکہ سیمون کے نظریات اور خیالات، خود کو کسی باقاعدہ معاہدے اور بندھن کے اندرمقید کرنے کے خلاف تھے۔ وہ صرف “روحانی تعلقات” کی قائل تھیں جن میں جنسی تعلقات تو ہوتے ہیں لیکن کوئی فریق دوسرے کا پابند نہیں ہوتا۔ چنانچہ سیمون اور سارتر کے درمیان تعلقات کے معاملے میں توکوئی معاہدہ نہیں تھا لیکن دونوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ ” اس باہمی تعلق کے دوران دونوں فریق محبت کے معاملات میں آزاد ہیں، کوئی فریق کسی اور سے بھی تعقلات قائم کر سکتا ہے بس شرط صرف یہ تھی کہ یہ معاملہ خفیہ نہیں ہوگا بلکہ اسکو واضح اور شفاف رکھا جائے گا”۔

سیمون اور سارتر کے بارے میں کچھ اسکالرز کا کہنا ہے کہ سارتر سیمون کی نسوانیت سے متاثر تھے اورسیمون سارتر کی شخصیت و فلسفیانہ نظریات و افکار دونوں سے متاثر تھی اس لئے سیمون کی شخصیت اور لٹریری کام پرسارتر کی بہت گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ دیگر اسکارلز کا کہنا ہے کہ سیمون، سارتر سے صرف متاثر ہی نہیں تھی اور صرف اسے فالو ہی نہیں کرتی تھی بلکہ اس نے سارتر کے بارے میں یہاں تک کہا کہ “سارتر کا وجود میرے لئے دنیا کو بامعنی اور معقول بناتا ہے”۔ سیمون کے اس جملے پر اسکے ایک نقاد نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیمون دراصل یہ کہنا چاہتی ہے کہ اس کیلئے اس دنیا میں اصل خدا تو مر چکا ہے لیکن وہ خدا سارتر کی شکل میں زندہ ہے۔

سیمون کے اوپن محبوبانہ تعلقات نے بعض اوقات اسکی اکیڈیمک ساکھ کوبھی کسی حد تک متاثر کیا مثلاً مختلف لیکچرز، سیمنارز یا انٹریوز کے دوران اس سے عموماً اسکی ذاتی زندگی اور جنسی تعلقات کے بارے میں دریافت کیا جاتا تھا اور یہ بات اسکے لئے تشویش کا باعث تھی۔ سارتر کے علاوہ امریکی مصنف نیلسن الگرین سے بھی سیمون کے محبوبانہ تعلقات تھے۔ 1947 میں شکاگو میں انکی ملاقات ہوئی اوراسکی مردانہ وجاہت کا سیمون پر اتناشدید اثر ہوا کہ ‘زن و شوہر’ کے رشتے کی شدید مخالف ہونے کے باوجود، سیمون نے اسے ایک خط میں “میرے پیارے شوہر” جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔

سیمون کے بارے میں یہ خیال بھی ہے کہ وہ ہم جنس پرستی کے رجحانات بھی رکھتی تھیں اور اسکے نوجوان خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات بھی تھے۔ فرانسیسی مصنف بیانکا لیمبلن لکھتی ہیں کہ جب وہ ایک اسٹوڈنٹ تھیں تو انکی استاد “سیمون دی بووا” نے، جنکی عمر اس وقت 30 سال تھی، انکا جنسی استحصال کیا تھا۔ اسی طرح سیمون پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک کم عمر طالب علم ‘سوروکین’ کے ساتھ بدفعلی کی تھی اور اسکے نتیجے میں ان کا ٹیچنگ لائنسنس بھی منسوخ کر دیا گیا تھا جسے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔

1970 کی دہائی میں سیمون نے فرانس میں عورتوں کی آزادی کی تحریک میں بطور سرگرم کارکن حصہ لیا۔ اس زمانے میں فرانس میں اسقط حمل پر پابندی تھی۔ اس دوران 1971 میں سیمون نے خواتین کا ایک منشور بھی لکھا جس میں ان خواتین کے ناموں کی ایک لسٹ بھی شامل تھی جنہوں نے اسقاط حمل کرائے تھے۔ بعد ازاں 1974 میں اسقاط حمل کو فرانس میں جائز قرار دے دیا گیا۔

سیمون نہ صرف یہ کہ شادی کے خلاف تھیں بلکہ بچے پیدا کرنے اور گھر بسانے کے بھی خلاف تھیں اس لئے ساری زندگی نہ اس نے گھر بسایا اور نہ اسکے ہاں کسی بھی جنسی تعلق کے نتیجے میں کسی بچے کی ولادت ہوئی۔ 1986 میں جب سیمون کی وفات ہوئی تو درجنوں اسکالرز تین دن تک اسکی آخری رسومات ادا کرنے کیلئے سیمنارز منعقد کرتے رہے۔ سب نے اسے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کی پہلی اورسب زیادہ باہمت خاتون تھیں جس نے پوری زندگی آزادانہ تعلقات کے ساتھ گزاری اورکبھی عورت کے روائیتی کردار یعنی شادی کرنے، گھر بسانے اور بچے پیدا کرنے کو قبول نہیں کیا۔ اسے ہم جنس پرستی، لزبئین اوراسقاط حمل کی وکالت کرنے کے دوران لوگوں کی نفرت کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور ہمیشہ یہی کہا کہ خواتین اپنی تقدیر کی خود مالک ہیں اور انہیں فطر ت کی کسی آواز یا ہدایت پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس نے جو سوچا اور کہا وہ کرکے بھی دکھایا، اس سے پہلے ایسا کوئی نہیں کر سکا۔

سیمون اپنی مشہور کتاب The Second Sex میں، جس کے زیادہ تر تصورات سارتر کے فلسفیانہ خیالات سے مستعار لئے گئے ہیں، بتاتی ہے کہ “زچگی عورت کو ایک بیہودہ وجود بنا دیتی ہے۔۔۔۔ جب مرد شکار کرنے، ماہی گیری گرنے اور جنگ وغیرہ کرنے نکل جاتا تھا تو عورت گھر میں کچن اور چولھا سنبھالتی تھی۔۔۔۔ زچگی کا فعل مکمل آزادی کے ساتھ سرانجام دینا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔۔۔۔ عورت کا سارا جسم شرمندگی کا باعث ہے۔۔۔ اسے ایسا لگتا ہے جیسے وہ کوئی بیمار وجود ہے۔ ۔ ۔ اور وہ اپنی ماہواری کی غلامی کی وکٹم ہے۔۔۔ اسکی بلوغت کے دوران جو غدود تشکیل پاتے ہیں ان کا اسکی ذاتی معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔۔۔ ان کا استعمال زندگی میں کبھی بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ وہ خواتین جو ماں بننے کے عمل سے لطف اندو ز ہوتی ہیں وہ بھی مرغی جیسی زرخیز حیاتیات کی طرح نہیں ہوتیں کہ ہر وقت انڈوں پر بیٹھی رہیں اور اپنے جسم اور آزادی کی قربانی کے بہانے ڈھونڈتی رہیں۔۔۔۔۔ حاملہ عورت اپنے جسم کی بے حسی کو محسوس کرتی ہے۔۔۔ آئے دن کی متلی اسکے لئے تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔۔۔۔ وہ ایک کم درجے کی انسان اورتضحیک کا نشانہ ہے”۔

اس کتاب کے بارے میں ولیم بیرنٹ کا کہنا ہے کہ “حقیقت میں یہ عورت ہونے کے خلاف احتجاج ہے اوریہ احتجاج بہت انوکھا اور بے بنیاد ہے”۔ سیمون دی بووا نے سارتر سے وجودی فلسفہ کے جو تصورات ادھار لئے وہ عورت کا مذاق اڑاتے ہیں اور انکے مطابق نسوانیت اپنے وجود میں ہی غلامی کا درجہ رکھتی ہے اور خاص طور پر وہ تصورات عورت کو اپنی ہی حیاتیات کا نشانہ بنائے جانے کا اظہار کرتے ہیں اور اسے بوژوا معاشرے کی توقعات کے مطابق متحرک ہونے کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ گھریلو سامان چمکتے ہوئے چولہے، صاف ستھرے اجلے کپڑے، پالش کیا ہوا فرنیچر اور دیگر تعیشات انفرادیت کا اثبات نہیں کرتے بلکہ گھٹن کا شکار بناتے ہیں۔

سیمون دی بووا کیلئے اسکا اپنا فلسفہ دیگر خوفزدہ کرنے والوں چیزوں سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ اسکا اپنا اعتراف ہے کہ اسے مرد کے علاوہ کسی چیز سے خوف نہیں آتا اس لئے وہ مردانگی کے خاتمے کی خواہشمند ہے اور اسکے مطابق چونکہ مردوں نے ہمیشہ سے عورتوں پر خوف مسلط کیا ہے لہذا اب لازمی طور پر مرد پر بھی ظلم کیا جانا چاہیے۔ یہی سیمون کا فلسفہ ہے اور اسکی اہم خصوصیات میں کھوکھلے پن اورمایوسی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ وہ خود ذاتی طور پر بھی ایک ناخوش اور مایوس شخصیت تھیں۔ Deirdre Bair (نیشنل بک ایوارڈ ہولڈر) کا کہنا ہے کہ سیمون دی بووا نے اپنی سوانح عمری میں بتایا ہے کہ وہ ضرورت سے زائد شراب نوشی اور تمباکو نوشی کی عادی تھی، منشیات کے استعمال کے تجربات بھی کرتی رہتی تھی، اسے شدید ذہنی دبائو کا سامنا تھا، ہر وقت موت کا خطرہ اسکے سر پر منڈلاتا رہتا تھا اوروہ خود کشی کر لینے کا خطرہ بھی محسوس کرتی تھی۔ اور جب وہ اپنی شاہکار کتاب The Second Sex پر کام کر رہی تھی اس دوران وہ نشہ آور گولیاں اور ہر ایسی چیز استعمال کر لیتی تھی جس سے اسے عارضی اور مصنوعی طور پر سکون اورتوانائی مل سکتی تھی۔

1972میں، 26 سالہ امریکی خاتون اسکالر Margaret Simons نے اپنے پی ایچ ڈی کا تھیسز سیمون دی بووا کی کتاب The Second Sex پر لکھنے کا ارادہ کیا۔ اس سلسلے میں سیمون کی زندگی کا مطالعہ کرنے اور اس سے انٹرویوز وغیرہ کرنے کی غرض سے وہ فرانس آئی۔ مارگریٹ سائمنز کے مطابق اس وقت سیمون کی عمر ساٹھ سال سے تجاوز کر چکی تھی اور اسکے چہرے پرنمودار ہونے والی جھریاں بڑھاپے کے آثار کو نمایاں کر رہی تھیں لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک اور ناخنوں پر لگی لال رنگ کی نیل پالش اسکے بوژوا کلچر کے ساتھ گہرے تعلق کو واضح کرنے کیلئے کافی تھیں۔ اس نے جب سیمون سے اسکی کتاب کے بارے میں سوال کیا کہ اسکا محرک کیا تھا؟ تو چین اسموکر سیمون نے سگریٹ کے مسلسل کئی کش لیکر پورے کمرے میں ہر طرف دھواں اڑاتے ہوئے جواب دیا کہ “اسکا واحد محرک جین پال سارتر کی کتاب Being and nothingness تھی جس نے اسکو متاثر کیا اور وہ اپنی کتاب لکھنے پر مجبور ہوئی”۔ مارگریٹ سائمنز کہتی ہیں کہ وہ اس بات پر بہت حیران ہوئی کہ اپنے آپ کو آزاد اور خودمختار عورت کے طورپر پیش کرنے والی فیمنسٹ اسکالر اور رہنما جو دنیا بھر کی عورتوں کی آزادی اور خودمختاری کی وکالت کا بھی دعویٰ کرتی ہے وہ ایک مرد کے کام سے اس حد تک متاثر ہے کہ اس نے اسکے اتباع میں ایک کتاب لکھ دی اور اپنے فلسفیانہ خیالات کو بھی اسکے فلسفہ سے اخذ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی۔ ایک طرف اسکا فیمنسٹ نظریات کے پرچار میں اتنا ایکٹو رول کہ شادی جیسے فطری بندھن کی بھی اس لئے مخالفت کرتی ہیں کہ اس سے عورت مرد کے تابع ہو جاتی ہے لیکن دوسری طرف اتنا passive رول کہ خودایک مرد فلسفی کے تابع ہونا اور محض اسکی فالور ہونا گوارا ہے۔

ایک فلسفی Jean Bethke Elshtain کا کہنا ہے کہ

“سیمون دی بووا کوئی خودمختار مفکر اور فلسفی نہیں تھیں بلکہ انکے گمراہ پرستاروں اور فالورز نے ایسا سمجھ لیاتھا۔ اور نہ ہی وہ تمام خواتین کی نمائندہ یا وکیل تھیں خاص طور پر ان خواتین سے تو انکا سرے سے کوئی تعلق نہیں بنتا جو اپنی نسوانیت کو اہمیت دیتی ہیں۔ وہ عورتوں کی آزادی کی بھی کوئی وکیل نہیں تھیں، بس بات صرف اتنی سی ہے کہ وہ اپنی ایک خاص طبیعت اور سارتر کے فلسفیانہ اثرات کے باعث زچگی سے نفرت کرتی تھیں اور اس طبیعت نے اسے اسقاط حمل کے حق کی آزادی کا وکیل بنا دیا۔ وہ فرانس میں اسقاط حمل کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والی ایک تنظیم کی پہلی صدر تھیں۔ اس زمانے میں فرانس میں اسقاط حمل پر پابندی تھی اور وہ اسقاط حمل کی خواہشمند خواتین کو اپنے اپارٹمنٹ میں یہ غیر قانونی عمل کرنے کی سہولت فراہم کرتی تھیں۔ اور بالآخر اسی کی کوششوں سے ہی فرانس میں اس عمل کو قانونی قرار دیا گیا”۔

کرسچن ہف سومرز Christian hoff Sommers جو ریڈیکل فیمنزم کے نقاد ہیں، اپنی کتاب Who Stole Feminism میں ایک عنوان ” وہ خواتین جنہوں نے خواتین کے ساتھ غداری کی” کے تحت لکھتے ہیں کہ

“سیمون دی بووا کا معاملہ بالکل جین جیک روسو جیسا ہے کہ وہ اس بات کے قائل تھے کہ “لوگوں کو آزاد خیالی اور آزاد روش اپنانے پر اگرمجبور کرنا پڑے اور ان پر جبر بھی کرنا پڑے تو ایسا کر لینا چاہیے کیونکہ آزادی کیلئے جبر کا عمل جائز ہے”۔

اسی طرح سیمون دی بووا عورتوں کو آزادانہ روش اپنانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں لیکن بدقسمتی سے آزادی کا جو تصور اسکے ذہن میں ہے وہ آزادی ہے ہی نہیں وہ تو فطرت سے محرومی ہے۔ اس نے فرائیڈ کے اس دعوے کو تو باطل قرار دے دیا کہ خواتین کی اناٹومی انکا مقدر ہے لیکن اسکے ساتھ اس حقیقت کو بھی مسترد کر دیا کہ مردانگی اور نسوانیت محض فطرت کی عطا کردہ حادثاتی خصوصیات نہیں ہیں بلکہ وہ ہماری شخصیت کے بنیادی پہلو ہیں۔ اگر ہم حقیقت پسند بننا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ بات تسلیم کرنا چاہیے کہ ہماری جنس بطور مرد یا عورت ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ چنانچہ عورت کو اپنی نسوانیت کے تناظر میں کچھ حقوق حاصل ہیں اور مرد کو مردانگی کے تناظر میں کچھ حقوق حاصل ہیں۔ نہ عورت اپنی نسوانیت کو مسترد کرکے اور اس سے فرار حاصل کرکے حقوق حاصل کر سکتی ہے اور نہ مرد اپنی مردانگی سے دستبردار ہوکر حقوق حاصل کر سکتا ہے۔ اور ان دونوں اصناف کے بارے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دونوں کے وجود کی کثافت ہی انکا مقدر ہے (Our density is our destiny)۔

سیمون دی بووا نے عورتوں کے ایک خیالی وجود کا تصور قائم کرکے انکے اصل وجود میں تخفیف کر دی ہے اور پھر وجود کی اس کمی کو آزادی کا نام دیا ہے یہ آزادی کے نام پر دھوکہ دہی اور غداری کاایسا جرم ہےجس کا ارتکاب، عورت کے جنسی وجود کے خلاف اس سے قبل کبھی نہیں کیا گیا۔ دی بووا، آج کی دنیا کو “جدید اور آزاد عورت” کی چمکدار شبیہ تو فراہم کرتی ہے لیکن شبیہ سے زیادہ اسکی کوئی حیثیت اور حقیقت نہیں اور اس شبیہ کو اپنانے کی قیمت ایک حقیقت کو ترک کرنا ہے۔

مزید مطالعہ کیجئے: ماں کی ترجیح: ملازمت یا گھر؟ —- وحید مراد

References:

1. Maira Kubikk Mano (2020), The woman destroyed: from Simone de Beauvoir to gender ideology https://www.scielo.br/scielo.php?pid=S0104-83332019000200309&script=sci_arttext&tlng=en

  1. Stanford Encyclopedia of Philosophy(2020), Simone de Beauvoir

https://plato.stanford.edu/entries/beauvoir/

  1. Venker, Suzanne “Should it be illegal to be stay at home mom? Why feminists are so frustrated”

https://www.foxnews.com/opinion/should-it-be-illegal-to-be-a-stay-at-home-mom-why-feminists-are-so-frustrated

  1. Katya (2015) “Destruction of the concept of motherhood: Simone de Beauvoir on parental choice”

http://motherhoodinpointoffact.com/dev/concept-of-motherhood-parental-choice/

  1. Simone de Beauvoir: Transgressing immanence, motherhood and social constructs

file:///C:/Users/Waaheed-Murad/Downloads/Simone_De_Beauvoir_Transgressing_Immanence_Motherh.pdf

  1. Critics expose cruel manipulating side of feminist icon Beauvoir, 2008

https://www.abc.net.au/news/2008-01-09/critics-expose-cruel-manipulating-side-of-feminist/1007444

  1. John Gerassi (1976) Interview: The Second Sex 25 years later

https://www.marxists.org/reference/subject/ethics/de-beauvoir/1976/interview.htm

  1. Interview with Simone de Beauvoir: Victoria University Student Newspaper

http://nzetc.victoria.ac.nz/tm/scholarly/tei-Salient35061972-t1-body-d14.html

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20