مغربی تہذیب: خوشحالی کا ارتقاء اور ذرائع — احمد رضا سلیم

0

انسانی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی محرکات پر مبنی ڈھانچے کی مرہون منت ہوتی ہے۔ دانستہ و غیر دانستہ طور پر انسانی ترقی کے ثمرات ایک سے دوسری تہذیب کو منتقل ہوتے رہے ہیں۔ قدیم ہندوستانی، اشوری، بابلی یا مصری تہذیب کی بات کریں تو انکی وجہ شہرت بھی ان کی ترقی کے دلچسپ آثار ہیں۔ اگر موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھیں تو کرونا کے اثرات کو بالعموم مغربی اور بالخصوص امریکی معاشی زوال کی نوید سے جوڑنے کے سلسلے جاری ہیں۔ معاشی و سماجی خوشحالی کی وجوہات محض سیاسی نہیں ہوتی۔ قومیں دہائیوں کی ارتقائی منازل طے کرتی ہیں۔ سیاسی آزادیاں اور تحفظ، سائنسی و استدلالی سوچ کی آزادی، ذرائع نقل و حمل، سرمایہ کاری کا ڈھانچہ اور جغرافیہ وہ بڑے عوامل ہیں جو قومی خوشحالی کا تعین کرتے ہیں۔ انسانی ترقی کا عمل جو پندرہویں صدی میں اٹلی کی نشآۃ ثانیہ سے شروع ہوا، دیگر یورپی اقوام سے ہوتا ہوا برطانیہ اور بالآخر امریکہ پہنچا۔ اس سے قبل بات کی جائے توڈھائی ہزار قبل مسیح میں یونانی شہری ریاستوں، بطلیموس کی مصری سلطنت، مامون الرشید کا دارلحکمۃ، عبدالرحمن ثالث کا اندلس وغیرہ ایسی مثالیں ہیں جو ترقی کے خوشگوار سفر کے دلچسپ پڑاؤ کہے جا سکتی ہیں۔ سازشی نظریے قوموں اور ریاستوں کی خامیوں پر پردہ پوشی کام کرتے ہیں۔ مغرب کا موجودہ خو شحال دور دلچسپ منازل طے کرتا ہوا یہاں پہنچا ہے۔

اٹلی یورپ میں 1500ء کے بعد تبدیلی کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ نیپلز یورپ کا سب سے بڑا گنجان آباد شہر تھا جس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے قریب تھی۔ وینس، فلورنس، جنیوا اور پیسا جیسی تجارتی منڈیاں اور بحری آمدورفت کیلئے شہرت سمیٹی رہی تھیں۔ روم میں پوپ کیگرفت مضبوط تھی مگر 1510ء میں مارٹن لوتھر کنگ کسی حد تک لچکدار پروٹیسٹنٹ فرقے کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ پاپائیت کا پہلا ٹکراؤ علم فلکیات سے ہوا۔ 1468ء میں چھاپہ خانے کی ایجاد کتاب کو فروغ دے چکی تھی۔ 1473ء میں پولینڈ میں پیدا ہونے والے نکولیس کوپرنیکس نے ہیلیو سینٹرک نظریے یعنی کائنات کا مرکز زمین نہیں سورج ہے، کے حق میں دلائل دییے۔ اس کی کتاب ڈی ریولوشنیبس اوبیم کلیسٹیم اسکی موت کے بعد 1547ء میں چھپی۔ مگر وہ پوپ کی پکڑ سے بچنے میں اسلیے کامیاب ہوگیا کہ اسکی تحریریں لاطینی زبان میں تھیں جو مذہبی اور اشرافیہ کی ایسی زبان تھی جس سے عام لوگوں کو کم واسطہ تھا۔ اس کے بعد آنے والے گارڈینو برون و) 1600 – 1548 (نےستاروں کے ساکت ہونے کا دعویٰ کردیا اور اطالوی زبان میں اپنے نظریات کو شایع کیا۔ کلیسا کے حکم سے اسے زندہ جلادیا گیا۔ تاہم گلیلیو 1642 -1564 جو پھولوں کے شہر فلورنس میں پیدا ہوا، سے پوپ کو مخاصمت مہنگی پڑی۔ 1608ء میں اس نے مشتری کے چاند دریافت کیے۔ وہ پیسا یونیورسٹی میں ریاضیات پڑھاتا تھا۔ ایک دوبین کو دیکھ کر بصریات میں دلچسپی ہوئی تو سینکڑوں دوربینوں کی فروخت سے اسے خاصہ منافع ہوا۔ وہ بھی کوپرنیکس کا پرجوش حامی تھا۔ اس نے مکالمے کی صورت میں ایک کتاب “دونظاموں کے مابین مکالمہ” لکھی۔ اس کتاب کے تین کردار تھے۔ اس میں مذہبی شخص کے کردار کو پوپ سے تعبیر کیا گیا۔ نتیجتا روم جاکر اسے مذہبی عدالت میں پیش ہوکر اپنے نظریات واپس لینے پڑے مگر کیتھولک چرچ اس کے بعد اپنی گرفت یورپ اور علم پر بڑی حد تک کھو بیٹھا۔

سپین جو سولہویں صدی کی وسیع اور طاقتور ریاست تھا جلد زوال پزیر ہوگیا۔ 1492ء میں غرناطہ کی مسلمان ریاست نے اڑھائی سوبرس کی مزاحمت کے بعد پرجوش کیتھولک مفتوحین کے آگے ہتھیار ڈال دئیے۔ مسلمان اور یہودیوں کو یہاں سے بے دخل کر دیا گیا۔ مور کہلائے جانے والے مسلمانوں کو عیسائیت قبول کر لینے کے باوجود 1609ء میں جلاوطن کردیا گیا۔ 1492ء میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا۔ 1521ء میں میکسیکو او ر1532ء میں جنوبی امریکہ ہسپانوی کالونی بن گیا۔ مسلمانوں اور یہودیوں کی چھوڑی ہوئی جنوبی سپین کی زرعی زمی نیں اشرافیہ میں تقسیم کردی گئیں جو جلد ویران ہو گئیں۔ کالون یوں سے سونے چاندی کی لوٹ مار کے باوجود یہ جنگی جنون کی بدولت جلد کنگال ہوگیا۔ اس کی مثال أج تیل اور وسائل سے مالامال مسلم ممالک سے دی جاسکتی ہے جو اپنی قوت انسانی ترقی کے بجائے محض جنگوں میں جھونک رہے ہیں۔ قابل لوگ کیتھولک اصلاحی تحریک سے خوفزدہ ہوکر فرار ہوگئے۔ 1588ء میں اسکے بحری بیڑے کو برطانیہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سپین پر کیتھولک تحریک کے گہرے سائے اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ بعد ازاں دقیانوسی سوچ کے سائے ہسپانوی کالونیوں یعنی میکسیکو اورلاطینی امریکہ کی ریاستوں پر بھی پڑے۔ منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محض قدرتی وسائل اور استحصال کے بل بوتے پر ریاستیں دیرپا خوشحالی حاصل نہیں کر سکتیں۔

ہالینڈ 1579ء میں سپین سے بغاوت کرکے الگ ریاست بنا۔ سطح سمندر سے نیچے واقع یہ خطہ دریاؤں کے سمندر سے اتصال کے مقام پرتھا۔ مقامی لوگوں نے زمینوں کو پن چکیوں سے آراستہ کیا اور زراعت میں ترقی کی۔ درمیانے درجے کے یہ زمیندار اپنی زمینوں کا پوپ اور بادشاہ سے تحفظ چاہتے تھے اور یہی ردعمل اسکی آزادی و آزاد خیالی کا مؤجب بنا۔ سپین سے بے دخل مور اور یہودی (مسلم سپین میں یہودی 10٪ تھے اور تجارت کے علاؤہ انتظامی عہدے رکھتے تھے) ہالینڈ پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یورپ کے روشن خیال فلسفے کی ابتداء انہی جلاوطن یہودی خاندانوں میں سے ایک کےفرزند، بروچ سپائینوزہ نے رکھی۔ یہ لوگ اپنے ساتھ کامیاب معاشی ڈھانچے کا تصور بھی لائے۔ 1665ء میں ہالینڈ 400 میل لمبا نہروں کا جال نقل و حمل کیلئے تعمیر کرنے میں کامیاب یوگیا۔ زرعی اجناس کی تجارت کیلیے ایسٹ انڈیا اور دیگر کمپنیاں قائم کی گئیں۔ پہلی بارایمسٹراڈم میں سٹاک ایکسچینج قائم کی گئی اور تجارتی حصص کو فروخت کیا گیا۔ اب ہالینڈ کے لوگوں ک و اپنی رقوم چھپانے اور دفن کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ شرح سود دراصل پیسے کی قیمت کا تعین ہے۔ ایمسٹراڈم میں٪ 4 شرح پر قرض دستیاب تھا۔ کم شرح سود کا مطلب تھا دولت کی فراوانی اور کاروبار کی بڑھوتری۔ یہ تصور بہت قدیم ہے۔ 1700 ق م میں حمورابی کے دور میں غلے پر٪ 30 جبکہ چاندی جیسی دھات پر٪ 20 شرح تھی کیونکہ غلے کے خراب ہونے کے امکانات تھے۔ یونانیوں نے تجارت پر بیمہ کا تصور دیا۔ بیمہ شدہ تجارتی جہاز پر شرح منافع٪ 22 تک تھی جبکہ بیمہ کے بغیر تجارتی جہاز کو حادثہ پیش آجائے تو تاجر کی جائیداد ضبط کر لی جاتی اور بعض موقعوں پر اس کے خاندان کو غلام بنا لیا جاتا۔ روم نے پہلی مرتبہ شخصی ضمانت پر قرض فراہم کرنے کا تصور دیا۔ مستحکم روم میں شرح سود٪ 4 تک تھی جبکہ حالت جنگ یا ناقابل اعتبار حالات و شخصیات کیلئے شرح سود بلند ہوجاتی۔ سٹاک مارکیٹ نے ہالینڈ میں خریدار اور سرمایہ کار کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا۔ 1700ء میں محض ایک ملین آبادی کے ساتھ یہ یورپ کی امیر ترین ریاست تھا۔ مزید سائنسی اور علمی ترقی کےادارےنا بنانے کی وجہ سے نئی مصنوعات پیدا نہ کی جاسکییں۔ 1750ء کے بعد یہ ریاست معاشی طور پر زوال پزیر ہونا شروع ہوگئی۔

انگلستان اس ارتقاء کی انگلی منزل تھا۔ چودھویں صدی میں جان وائکلف بائیبل کا ترجمہ کرکے کلیسا کی دشمنی مول لے چکا تھا۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد اسکی بائیبل کے نسخے چھپنے شروع ہو گئے۔ 1525ء میں آکسفورڈ کے مدرس ٹینڈیل نے اپنا بائبل کا ترجمہ جرمنی جا کر چھپوایا۔ اسے سولہ ماہ قید کے بعد گلا دبا کر بدعت کے جرم میں قتل کر دیا گیا۔ 1688ء میں پارلیمینٹ اور بادشاہ کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی۔ انگلینڈ میں 1215ء میں میگنا کارٹا کے منظور ہوتے ہی بادشاہ کے اختیارات پر امراء نے پابندیاں عاید کر دیں تھیں۔ ایڈورڈ کوک 1634 -1552ء ماہر قانون اور پارلیمنٹ کا سپیکر تھا۔ پارلیمنٹ میں اس نے ایوان کی بالادستی کی بھرپور کوششیں کیں۔ اسے شاہی عدالت کا جج مقرر کیا گیا تو اس نے بادشاہ کے نامزدگیوں کے اختیار کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ بعد ازاں اس نے پارلیمنٹ کے بعض فیصلوں کو بھی چیلنج کردیا۔ اس طرح پالیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ کا ریاستی تصور ابھر۔ نتیجتا کوک کو واپس پارلی منٹ بھیج دیا گیا۔ انگلینڈ کی خوش قسمتی کہ 1688ء میں پارلیمنٹ کے ہاتھوں معزول ہونے والے بادشاہ کے داماد ولیم سوئم، جو کہ ہالینڈ کا بادشاہ تھا، کو پارلیمنٹ نے بادشاہ نامزد کردیا۔ ہالینڈ میں بادشاہت برائے نام تھی اور فرانس نے اس پر چڑھائی کر رکھی تھی۔ پارلی منٹ نے دو شرائط رکھیں، اول وہ پارلیمنٹ کی بالا دستی قبول کریگا، دوم وہ عدلیہ کی آزادی میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ بدلے میں اسے ٹیکس عائد کرنے اور فرانس سے جنگ کا اختیار مل گیا۔ ولیم کیلئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں تھا۔ ولیم کے ساتھ ہالینڈ سے کچھ سرمایہ کار جن میں مشہور یہودی ڈیکارڈو خاندان بھی ہمراہ آیا۔ 1689ء میں معروف فلسفی جان لاک نے جمہوریت کیلیے مشہور مقالے لکھے اور حق ملکیت اور اس کے تحفظ کی بھی بات کی۔ اس نے تخلیقی صلاحیتوں کے تحفظ یعنی پیٹینٹ لاء کی بھی بات کی۔ 1730ء میں ذہنی ملکیت یعنی پیٹنٹ لاء کا اطلاق کر دیا گیا۔ اسی دوران ایڈم سمتھ 1790-1723ء ویلتھ آف نیشن تحریر کر کے پیداواری صلاحیتوں پر مبنی معیشیت کا تصور دے چکا تھا۔ 1748ء میں انگلینڈ میں حکومت نے بانڈز کا جراء کیا۔ گلیلیو کی موت کے سال یعنی 1642ء میں لنکا شائر میں نیوٹن کا جنم ہوا۔ اسکا باپ اس کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکا تھا۔ ماں کی دوسری شادی کے بعد ننھیال نے اس کی پرورش کی۔ اس کے ماموں اور سکول کے استاد نے اس کے اندر ریاضی دان کی صلاحیت کو بھانپ لیا۔ 1661ء میں وہ ٹرینیٹی کالج کیمرج آگیا۔ 1665ء کے طاعون کی وبا کے باعث وہ دوسال کیلئے لنکاشائر واپس آگیا۔ اس نے خود کو کشش ثقل اور حرکت کے قوانین کے مطالعے میں غرق کرلیا۔ زمین کے رداس کی غلط قیمت کے اندراج نے اسے الجھا دیا۔ تنگ آکر اس نے بصریات کا مطالعہ شروع کردیا۔ رائل سوسائیٹی کے سربراہ رابرٹ ہک (جس نے خلیے کی تحقیق کیلئے دور بین ایجاد کی) سے نیوٹن کی چپقلش شروع ہوگئی کیونکہ وہ نیوٹن کے سیاروں کے بیضوی مدار کے تصور سے اتفاق نہیں کرتا تھا۔ نتیجتا اس کے مقالے بھی چھپ نہیں پارہے تھے۔ اس مخاصمت کا خاتمہ 1703ء میں ہک کی موت کے ساتھ ہوا۔ نیوٹن اب رائل سوسائیٹی کا سربراہ تھس۔ 1658ء میں ایڈمنڈ ہیلے آکسفورڈ آیا (جس نے دمدار ستارہ دریافت کیا تھا)۔ اس نے نیوٹن سے سوال کیا کہ سیاروں کے مدار گول ہیں یا بیضوی، نیوٹن بولا لنکاشائر کی چھٹیوں کے دنوں میں ہی وہ جان گیا یہ بیضوی ہیں۔ ان دنوں کے نوٹس جب ہیلے نے دیکھے تو وہ تاڑ گیا نیوٹن زمین کے رداس کی غلط قیمت مساوات میں درج کردیا تھا۔ لہذا جلد ہی ہیلے کا مقالہ چھپ گیا۔ تاہم دونوں دوست رہے۔ ہیلے کے اکسانے پر ہی نیوٹن نے پرن سیپا میتھیمٹیکا لکھی۔ ہیلے نے 1715ء کے سورج گرہن کا پہلے ہی انکشاف کرکے اسکی نحوست کے تصور کو زائل کردیا۔

تھامس نیو کامن نے کوئلے کی کان سی پانی نکالنے کا پہلا دخانی انجن بھاپ کی قوت سے استعمال کیا۔ 1736ء میں سکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والے جیمز واٹ نے کاروبار میں ناکامی کے بعد گلاسگو یونیورسٹی میں بطور انجینئر نوکری کرلی۔ یہاں نیوکامن کا انجن مرمت کیلئے آیا تو اس نے اصلاح کرکے پہلا دخانی یعنی کمبسچن انجن تیار کر لیا۔ مگر ناکافی سرمائے کی وجہ سے اسے اسکی تیاری بند کرنا پڑی۔ 1774ء میں سرمایہ کار میتھیو بولٹن کو واٹ نے قائل کر کیا۔ انھیں 25 برس کیلئے پیٹینٹ مل گیا۔ کچھ برس میں 496 انجن کوئلے کے ذخیرے پر بیٹھے برطانیہ میں کام کررہے تھے۔ اس بھاپ کے انجن کا استعمال بیتی جہازوں میں چپووں کو گھمانے کیلئے ہوا تو بحری سفر کو مہمیز ملی۔ 1858ء میں چپوؤں کے بجائے پنکھے، پروپیلر کا استعمال ہونے لگا۔ 1820ء میں میک ایڈم نے بجری کے استعمال سے ہموار سڑک تیار کی۔ 1791ء میں امریکی مورس جبکہ دو برطانوی ویٹسٹون اور کک تار کے نظام پر کام کر چکے تھے۔

سنسٹیفن جو انجن مین کا بیٹا تھا، نے ریلوے انجن اےجاد کیا۔ 1824ء میں ڈارلنگ کر کوئلے کے ذخیرے سے سٹاکٹن ریلوے لائن کا کامیاب منصوبہ مکمل ہوا۔ مانچسٹر کپڑے کے کارخانوں کا مرکز تھا۔ مانچسٹر تالیورپول ریلوے لائن بچھ گئی۔ 1840ء میں کک نے ریلویز کے ساتھ تار بچھانے کا معاہدہ کرلیا۔ 1861ء میں امریکہ تا برطانیہ تار بچھا دی گئی۔ 1870 ء میں برطانیہ تا ہندوستان تار پہنچ گئی اور اگلے برس اسے آسٹریلیا تک توسیع دے دی گئی۔ 1870ء کے بعد امریکی معیشیت زراعت سے صنعت کی طرف منتقل ہو گئی۔ انگلستان میں پیٹینٹ کے قانون کے باعث ایجادات کے انبار لگ گئے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو موجد مزید تحقیق سے ہاتھ اٹھا لیتے۔ نئی تحقیق کیلئے تعلیمی ادارے موجود تھے۔ سائنسدانوں نے سائنسی اصولوں کی وضاحت کی جبکہ ان کے اردگرد موجود ہنر مندوں نے اس کے زیر اثر ایجادات کیں۔ سرمایہ کار نے اسے مصنوعات میں بدل کر معیشیت کو متحرک کر دیا۔

فرانس اور جرمنی نے بھی ترقی کی منازل طے کیں۔ فرانس میں جاگیردارانہ نظام کی مضبوطی اور کیتھولک اثرات کی وجہ سے علمی کاوشیں طبقہ امراء کی سرپرستی میں قائم اکیڈمیز تک محدود تھیں۔ یہ کبھی عوامی سطح پر نہ آسکیں۔ بلاشبہ فرانس نے دیدرو، والٹیئر، روسو جیسے فلاسفر اور لیوائزے اور پاسچر جیسے بلند پایہ سائنسدان پیدا کیے۔ مگر ایجادات کا سلسلہ انگلستان کی طرز کا کبھی نہ تھی۔ مسلسل جنگوں نے فرانس کو ادھ مرا کر دیا انیسویں صدی میں۔ جرمنی میں جتنی عزت سائنسدانوں اور فلسفیوں کو ملی، اتنی شاید کسی اور ریاست میں نہیں۔ منتشرمگر با صلاحیت جرمن ریاستوں کے الحاق پرشیا کو 1870ء۔ میں فرانس کو زیر کرنے کے بعد جرمن سلطنت کے احیاء کا موقع ملا۔ مگر آسٹریا اس جرمن ریاست کا کبھی حصہ نہیں بن سکا۔ کانٹ، ہیگل، شوپنہاور، مارکس جیسے فلسفیوں نے کہا جنم لیا۔ فولاد سازی میں جرمنوں کا جواب نہیں۔ فور سٹروک انجن اور کار انہی کی ایجاد ہے۔ جغرافیے کی بدولت جرمنی نے اکثر خود کو جنگوں میں گھرا پایا۔

امریکہ کی جانب آئیں تو ہم مغرب کی ترقی و خوشحالی کی موجودہ معراج کی جانب آئیں گے۔ 1775ء میں اعلان نامہ آزادی کے چند برسوں کے بعد جارج واشنگٹن کی قیادت میں امریکہ نے انگلستان سے آزادی حاصل کرلی۔ ابتداء میں یہ تیرہ ریاستوں کا نحیف اتحاد تھا۔ مگر برطانوی اور فرانسیسی جارحیت کے خوف نے انھیں آئینی وفاق پر مجبور کردیا۔ امریکہ فطرتاً یورپ ک ی کالونی تھا۔ خوش قسمتی یہ ہوئی کہ اسکے آئین میں بادشاہت اور مذہب کی ریاست میں کوئی جگہ نہ تھی۔ یہ تارکین وطن کی آماجگاہ تھی جو یا تو ظلم وستم سے تنگ آکر یہاں آئے یا بہتر مستقبل کی تلاش انھیں یہاں لائی۔ امریکی أئین کے بانیوں میں سے ایک، میڈیسن، ذہنی املاک یعنی پیٹینٹ کے تحفظ کا بڑا حامی تھا۔ 10 اپریل 1790ء کو واشنگٹن نے پیٹینٹ قانون پر دستخط کردئیے۔ سیکرٹری آف سٹیٹ، تھامس جیفرسن اس کا سربراہ بنا جو خود بھی موجد تھا۔ 1791ء میں محض ایک دن میں 14 پیٹینٹ رجسٹر ہوئے۔ 1835 تک ان کی تعداد 9000 تک جاپہنچی۔ 1836ء میں الگ سے پیٹنٹ کمشنر کا عہدہ تخلیق کر دیا گیا۔ 1823ء میں امریکی صدر منرو نے منرو ڈاکٹرائن کا اعلان کیا کہ امریکہ خطے سے باہر فوجی مداخلت سے گریز کریگا۔ پہلی جنگ عظیم میں 1916ء میں ہی امریکی فوجی دستے امریکہ سے باہر گئے۔ یعنی جب یورپ باہمی جنگوں میں الجھا تھا، امریکہ اپنی توانائیاں بچا رہا تھا۔ معروف مؤرخ ایچ۔ جی۔ ویلز کے مطابق امریکہ کو ریاست میں تار، ریلوے اور دخانی انجن نے تبدیل کیا۔ ذرائع نقل و حمل نے مغربی ریاستوں کو آباد کیا۔ 1820ء میں ریلوے کی آمد سے قبل دریائے ہڈسن اور مسی سپی میں دخانی کشتیاں چل رہی تھیں۔ مورس کو تار بچھانے کیلئے تین لاکھ ڈالر کی امداد مل گئی۔ 1844ء میں بالٹی مور سے واشنگٹن پہلا سگنل گیا۔ شمالی ریاستیں جددت کی جانب گامزن تھیں جبکہ جنوب کی زرعی ریاستیں زرعی معیشیت اور غلامی کے ادارے پر مشتمل تھی ں۔ 1861ء میں جب ابراہم لنکن صدر منتخب ہوا تو جنوبی ریاستیں الگ ہو چکی تھیں۔ 1862ء میں بانڈز کا اجراء کر کے جنگ کیلئے سرمایہ اکٹھا کیا گیا۔ 9 اپریل 1865 ء کو جنوبی اتحاد کی فوج کے کمانڈر جنرل لی نے ہتھیار پھینک دیے۔ لنکن نے مخاصمت کے بجائے مفاہمت کا عندیہ دیا۔ 14 اپریل کو اسے گولی مار دی گئی مگر وہ اپنا کام کر چکا تھا کیونکہ اب امریکہ متحد تھا۔ 1830ء میں ریلوے لائن نے آبادکاری کو مشرقی ساحلی علاقوں سے مغرب کی جانب پھیلا دیا۔ 1850ء تک امریکہ میں 12 ہزار میل طویل برقی لائن بچھ چکی تھی۔ 1870ء میں پین سلوینیا ریلوے لائن کیلئے پھر بانڈز کی صورت میں سرمایہ اکٹھا کیا گیا۔ 1879ء میں ایڈیسن بلب ایجاد کر چکا تھا مگر ایسی ایجادات کیلیے بجلی کی فراہمی لازمی تھی۔ تھامس ہوسٹن نامی کمپنی اے سی ڈی سی بجلی فراہم کرتی تھی اور 1888ء میں ٹرانسفارمر کی ایجاد نے اسے اور آسان بنا دیا۔ معروف بینکار جے پی مورگن سمجھ چکا تھا کہ ایڈیسن موجد کے مگر کاروباری نہیں۔ اس نے سرمایہ کاری کے ذریعے ایڈیسن جنرل الیکٹرک اور تھامس ہوسٹن کو ملا کر جنرل الیکٹرک کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اگلے سو برس کیلئے اس کمپنی نے راج کیا۔ 1913ء میں جب جے پی مورگن مرا تو محض 8 کروڑ ڈالر کا مالک تھا۔ سرمایہ دار راک فیلر نے کہا کہ حیرت ہے ہم مورگن کو بہت امیر سمجھتے تھے وہ تو امیر کہلانے کے بھی لائق نہیں۔ 1913 ء میں ہی امریکہ میں فیڈرل ریزرو، یعنی مرکزی سرکاری بینک کا قیام عمل میں آیا۔ امریکی سٹاک مارکیٹ دو جانز نے حصص کی فروخت سے سرمایہ اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی ہینری فورڈ نے کار سازی میں اسمبلی لائیننگ جیسی اصلاحات متعارف کروا کر فورڈ کمپنی کی بنیاد رکھی۔ پہلی جنگ عظیم میں یورپ کا نقصان زیادہ ہوا۔ پھر انفلوئنزا کی وبا ء نے غذائی قلت پیدا کردی اور معیشتیں بحرانوں کا شکار ہو گئیں۔ امریکہ نے صورتحال کا بھرپور فایدہ اٹھا کر معیشیت کے خلا کو پر کر دیا۔ کارپوریشنز وجود میں آئیں کیونکہ خاندانی نظام مسلسل قابل منتظم پیدا نہیں کر سکتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم نے امریکہ کو سرمایہ دار دنیا کا رہنما بنا دیا۔ اب امریکہ نے تحقیق اور نئی مصنوعات کے ذریعے معیشیت کو بہتر بنایا۔ یہ سرزمین تارکین وطن کیلئے مواقع پیدا کرتی رہی ہے۔ جب اینریکو فرمی نے اٹلی میں نیوکلیر ری ایکٹر کا پائلٹ پراجیکٹ پر کام کیا تو 1938ء میں وہ نوبل پرائز لینے گیا تو یہودی بیوی کی وجہ سے مسولینی حکومت کے خوف کا شکار ہوگیا۔ واپس اٹلی لوٹنے کے بجائے وہ امریکہ چلا گیا جہاں وہ ایک یونیورسٹی اور بعد ازاں مین ہٹن پراجیکٹ)امریکی ایٹم بم پروگرام( کا حصہ بنا۔ کامیابی کی صورت میں کوڈ، اطالوی ملاح سمندر میں داخل ہو گیا، بولا گیا۔ یہ اطالوی ملاح فرمی تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمن میزائل پروگرام کے بانی وان بران کو امریکہ نے گرفتار کیا۔ بعد ازاں وہ خلائی پروگرام، اپالو مشن کا روح رواں بنا تو امریکہ چاند پر پہنچ گیا۔ آنے والے برسوں میں خلائی تحقیق نے معیشیت کو مزید مضبوط کیا۔ بعد ازاں ہمیں آئی ٹی میں بل گیٹس اور سٹیو جابز جیسے کامیاب سرمایہ کار نظر آتے ہیں۔ دفاع کی صنعت نے اس کی معیشیت کو بہت مضبوط بنا رکھا ہ ے۔ کرونا وائرس کے بعد امریکی معیشیت یا امریکہ کے زوال کی پیشگوئی کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ معیشیت کے توازن میں تبدیلی ممکن ہے مگر انسانی آزادی، ذہنی املاک کا تحفظ، آزاد استد لالی سوچ، ذرائع نقل و حمل، سرمایہ کاری اور ایجادات کو مصنوعات میں بدلنے کا کوئی مؤثر ڈھانچہ اس کے حریفوں کے پاس ہے کہ نہیں؟ کیا امریکی تعاون جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ایشیائی ممالک کو نہ مل پاتا تو کیا وہ بڑی معیشتیں ہوتے؟

اس تحریر میں سائنسدانوں، فلسفیوں اور رہنماؤں کا ذکر نہیں کیونکہ اسکی طوالت کو کو کم کرنا مقصود ہے۔ بہت سے سوالات جیسے نوآبادیات کا جبر، ریڈانڈینز، ایزٹک اور انکا جیسی مقامی امریکی قوموں کی نسل کشی، جنگ و جدل اور قتل عام وغیرہ سب اس ترقی کے سفر میں ساتھ ساتھ چلتے رہے مگر ان کو الگ مضمون کی شکل میں دیکھنا چاہیے۔ پاکستان جیسے ممالک کو ترقی و خوشحالی کے اس سفر میں درکار ڈھانچے کیلئے دہائیوں کا سفر درکار ہے۔ املاک و حقوق کا تحفظ، یونیورسٹیز میں آزاد استدلالی اور سائنسی سوچ کی بنیاد پر تحقیق، ہنر مند افراد کو ان اداروں سے منسلک کرنا کیونکہ سائنسی حقائق کی وضاحت محقق کرتے ہیں مگر ایجادات ہنر مند افراد کے ہاتھوں ہی انجام پاتی ہیں۔ ان ایجادات کا تحفظ اور انکو سرمایہ و رہنمائی فراہم کرنا لازم ہے کیونکہ انکا مصنوعات میں تبدیل ہو کر معیشیت کا حصہ بننا اس سلسلہ کی آخری کڑی ہے۔ حکومتیں ان سب کیلئے ابتدائی سرمایہ اور ماحول فراہم کرتی ہے۔ اس سارے عمل کا منطقی اثر عوامی اور سماجی سطح پر خوشحالی کی منزل ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20