ریاست اداروں کا ستون ہوتی ہے — قاسم یعقوب

0

سیاست عمومی طور پر اُس نظریے یا خیال پر مشتمل ایک سماجی عمل ہے جو ریاستی انتظام کو چلانے (Govern) سے وابستہ ہے۔ سیاست کی سماجیات کا حصہ بننا، اصل میں ریاست میں رہنے والے افراد کو ان کی صلاحیتوں اور تخلیقی افعال کی آزادی دینے کا عمل ہے۔ ریاست چوں کہ مخصوص جغرافیہ میں رہنے والے افراد کی آزاد زندگی پر مشتمل ہے، اس لیے ریاستی امور کو چلانے اور اس پر طاقت رکھنے کا حق بھی صرف انھی افراد کو دیا جاتاہے جو اس کے شہری ہوں۔ یوں سیاست اور ریاست کا آپس کا تعلق گھر اور گھر کے افراد جیسا ہوتا ہے۔ سیاست سے ہر فرد وابستہ ہو سکتا ہے اور یوں وہ ریاست کے امور ِ انتظامی میں اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے۔ ریاست میں شخصی آزادی کو قائم رکھنے کا یہ سب سے بڑاذریعہ ہے۔ سیاست ہی ریاستی امور اور معاشرتی زندگی کو سب کے لیے سازگار رکھنے کا انتظام کرتی ہے۔ معاشرے میں ہر فرد اپنے وسائل کی دستیابی میں غرق ہوتا ہے۔ سیاست اپنی نوعیت میں طاقت کا اظہار ہے۔ سیاست کو اس چیز سے غرض نہیں ہوتی کہ انفرادی سطح پر سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟ اسی لیے سیاست صرف ان افراد کا انتخاب کرتی ہے جو معاشی اور معاشرتی وسائل میں خود کفیل ہوں اور ریاست کو کنٹرول کرنے کی سائنس سے واقف ہوں۔ دوسرے لفظوں میں معاشرے کی اشرافیہ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ ریاست کو بذریعہ سیاست کنٹرول کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ سیاست کا حصہ بن کے ریاست کو کنٹرول کرنے والی اشرافیائی قوتیں محض منفی قوتوں کی حامل ہوں۔ معاشی اور معاشرتی وسائل پر قابو پانے والے مثبت افراد بھی سیاست کا حصہ بنتے ہیں اور ریاستی امور کو چلانے کی کامیاب کوشش کرتے آئیں ہیں، مگر ان کی معاشی یا معاشرتی امور پر دسترس بہت ضروری ہے۔

یاد رہے کہ سیاست جب ریاست کو کنٹرول کرنے کا عزم کرتی ہے، تو سب سے پہلے مختلف بیانیے تشکیل کرتی ہیں تاکہ ان کے ذریعے معاشرتی سرگرمی کو قابو کیا جا سکے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کی پیدائش کے ساتھ ہی مختلف بیانیوں کے بیج بو دیے گئے، جو اب قد آور درختوں کا ایک جنگل بن چکے ہیں۔ جدید مغربی بیانیہ کہ ریاست کے چار ستون ہوتے ہیں۔ مقننہ، صحافت، عدلیہ اور انتظامیہ___ ہمارے ہاں بھی سیاست نے قبول کر وا لیا۔ یہ بیانیہ ازخود اشرافیائی طاقتوں کا بنایا ہوا تھا۔ ان طاقتوں کا براہِ راست تعلق سیاست کے ادارے سے تھا کیوں کہ سیاست باقی ماندہ تین ستونوں کو کنٹرول کرکے ریاست کو دسترس میں رکھ سکتی تھی۔ سیاست کا نمائندہ ادارہ ’مقننہ‘ چوں کہ پارلیمانی اشرافیہ اور سیاست سے وابستہ افراد کا مجموعہ ہے اس لیے اسے سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ اس سے وابستہ یا منحصر دوسری طاقتوں، عدلیہ، ذرائع ابلاغ اور انتظامیہ کو ریاست کے باقی تین ستون قرار دے دیا گیا۔ ان تینوں ستونوں پر بھی مقننہ کو کنٹرول رکھا گیا۔ اب کچھ عرصے سے دفاع کو پانچواں ستون قرار دیا جا رہا ہے۔ چار ستون تو ریاست کی عمارت کو چاروں کونوں سے اٹھائے کھڑے تھے مگر اب دفاع نے عمارت کو درمیان سے پکڑنے کا عملی مظاہرہ کرکے باقی ستونوں کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔ تعمیرات سے وابستہ افراد بخوبی جانتے ہوں گے کہ صرف ایک مضبوط ستون پر بھی پوری عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔ (البتہ اس کے گرنے کا احتمال زیادہ ہو جاتا ہے)

کیا سیاسی سائنس کا مطالعہ کرنے والے یہ بتا سکتے ہیں کہ کیا ریاست ان پانچ ستونوں کے سہارے کھڑی لاچار اور مجبور شے ہوتی ہے؟ کیا ریاست کسی کو سہارے دینے کی بجائے خود کسے کے سہارے کی محتاج ہوتی ہے؟ستونوں پر کھڑی عمارت کایہ غلط تصور رائج کیا گیا تاکہ ریاست طاقت کے انھی ستونوں کے سپردرہے۔ اگر ذرا سا بھی اپنے طورپر ہلنے جلنے کی کوشش کرے تو فورا دھڑام سے گر جائے۔ ریاست کسی کا سہارا لینے کے لیے نہیں بلکہ سہارا دینے کے لیے وجود میں آتی ہے۔ یہ ستونوں پر کھڑی نہیں ہوتی بلکہ ادروں کی عمارتیں اس پر کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ تو زرخیز زمین کی طرح ہوتی ہے جس پر افراد اپنی زندگیوں کے خواب بوتے ہیں۔ ماں کی گود کی طرح جس پر بچے اپنے سر رکھ کر پروان چڑھتے ہیں اور مقام حاصل کرتے ہیں۔ ریاست کو ستونوں کے سہارے کھڑے کرنے کا یہ بیانیہ بتا رہا ہے کہ ریاست لولی لنگڑی معذور شے ہوتی ہے، جسے طاقت کی قوت بخش ادویات سے چلنے پھرنے کے قابل بنایا جا سکتاہے اور صرف یہ پانچ ادارے ہیں جن کے پاس ریاست کی بیماریوں کا علاج ہے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ریاست میں سب سے زیادہ متحرک ادارے کون سے ہوتے ہیں؟ ریاست اپنے انتظامی و معاشرتی امور کن کے سہارے چلاتی ہے؟

ریاست کو کنٹرول کرنے اور اس کا ستون بننے والی قوتیں اصل میں معاشرے کے معاشی اور سماجی وسائل پر قابو پا چکی ہوتی ہیں۔ ریاست پر کنٹرول سے پہلے وہ معاشرے کے افراد کو ذہنی اور جسمانی طور پر فتح کر چکے ہوتے ہیں۔ یہ ادارے بھی دو دو حصوں میں تقسیم ہیں ان کا بھی صرف وہی حصہ ریاست کو سہارا دیتاہے جو کنٹرول کرنے کی مکمل طاقت حاصل کر چکاہوتا ہے۔ مثلاً ریاست کے ایک ستون عدلیہ کو دیکھیے؛ اس کا ایک وہ حصہ ہوتا ہے جو عوام کے بہت نچلے معاملات کو نمٹا رہا ہوتاہے اور دوسرا حکومتی ایوانوں کو تہہ و بالا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ریاست کے بڑے ادارے ’مقننہ‘ کو دیکھے؛ اس کاایک حصہ وہ طاقت ور سیاست دان ہوتے ہیں، جب کہ دوسری طرف گلی محلے کی سیاسی بیٹھکوں تک محدود مقامی سیاست دانوں کا ریوڑ جو ساری زندگی طاقت کا حصہ بننے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ اب آگے آئیں تو ذرائع اطلاغ پر کنٹرول کرنے والے صحافی دکھائے جاتے ہیں۔ یہ بھی دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ ایک غریب محنت کش صحافی ہوتا ہے اور دوسری طرف حکومتی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کی قدرت حاصل رکھنے والا صحافی۔ دفاع کو توستونوں پر کھڑی چھت کہہ دیا گیا ہے جو ستونوں کے وجود کی ضامن بھی ہے اور انھی سے اس کا اپنا وجود بھی سہارا لے رہا ہے۔ یہ بھی دو حصوں میں واضح تقسیم نظر آتا ہے؛ دفاع پر مجبور بندوق اٹھائے ایک غریب سپاہی اور طاقت کو کنٹرول کرنے کی خواہشات رکھنے والی ریاستی اشرافیہ۔ ایک ستون انتظامیہ کا بھی ہے: اس کا ایک حصہ انتظامی امور کے نام پر ریاست کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کرنے والے بیوروکریٹ پر مشتمل ہے اور دوسرا بوسیدہ سی عمارت میں پڑے بے دست و پا افسروں کا غول۔

ہر فرد ایک ادارہ ہے جو ریاست کی مٹی سے سبز پودوں کی شکل میں نمو پا رہا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ ریاست اور افراد کے بنیادی تصور میں فلاح کے پہلو کو سمجھا جائے۔ ریاست کے سب ادارے ریاست کا سہارا اور ریاست سب کا سہار ابنی ہوئی ہوتی ہے۔ کوئی بھی خصوصی طور پر ریاست کو سہارا نہیں دیتا اور نہ ہی ریاست کسی ایک کی وجہ سے عمارت کی طرح دھڑام سے گر جائے۔ ریاست کا بنیادی تصور فلاحی امور اور فرد کی تخلیقی آزادی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ریاست اس بنیادی فریضہ سے محروم چلی آ رہی ہے تو ہمیں رُک کر سوچنا چاہیے کہ کون سے عناصر ہیں جو ریاست کو اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کرنے دے رہے۔ سیاست کو اولیت دی جائے کیوں کہ سیاست ہی وہ ادارہ ہے جس میں ہر ریاست کا ہر فرد شمولیت اختیار کر کے ریاست کے فلاحی تصور کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔ ہر ادارہ اس عوامی ادارے کے ماتحت ہو۔ جب تمام ادارے سیاست سے منسلک ہونے کے باوجود سیاسی ادارے کی عوامی طاقت کو قبول کر رہے ہوں۔ سیاست دو حصوں میں تقسیم نہ ہونے پائے بلکہ اس ادارے کے ذریعے ہر فرد ریاست سے منسلک ہونے کا دعویٰ کر سکے۔

سب سے پہلے تو ریاستی ستونوں کے ناکام نظریات کو تہہ و بالا کرنے کی ضرورت ہے، جنھوں نے ریاست کو ان پانچ ستونوں کے سہارے کرکے بے سہارا کررکھا ہے۔ ریاست سب کی ہوتی ہے۔ یہ ایک مشترکہ سماجی و معاشرتی عمل ہے جس میں سب ادارے اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ریاست میں اور بھی بہت سے ادارے کام کر رہے ہوتے ہیں جن سے مشترکہ سماجی عمل آگے بڑھتا ہے۔ جیسے ایک ادارہ تعلیم کا ہے جو سوچ کو پروان چڑھاتا ہے، جہاں سے ریاست کو تخلیقی قوت ملتی ہے۔ یہ ادارہ جان بوجھ کر بے مرکز رکھا جاتاہے۔ ایک ادارہ ’محنت‘ کا ہے؛ہم نے اس ادارے کو کبھی ستون تصور کیا ہی نہیں جو محنت کش افراد پر مشتمل ہے اور معاشرے میں اشیا کی تخلیق کا باعث بن رہا ہے۔ محنت ایک ادارہ ہے جسے طاقت کے ایوانوں نے اپنے ستونوں کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا۔ وہ تمام افراد بھی جو خدمات انجام دیتے ہیں، ریاست کا ایک بڑا ادارہ ہوتے ہیں۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ایسے تمام ادارے ریاست کا سہارا بننے کی بجائے ریاست ان کا سہارا بنتی ہے۔ ریاست کا اصل تصور ان سے ہی قائم ہے۔

وہ تمام ادارے جو ریاست کا ستون بننے کا دعویٰ کرتے ہیں ریاست میں ریاست بنا کے ریاست کو قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست کی فلاح سے زیادہ اس کے نقصان کا باعث بنتے آرہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20