کوکب خواجہ کے سفرنامے — نعیم الرحمٰن

0

کوکب خواجہ بہت متحرک خاتون ہیں۔ سیاحت ان کا شوق ہے، اور وہ اپنے ہر سفر میں قارئین کو بھی سفرناموں کے ذریعے شریکِ سفر بناتی ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر پہلی بار ککنگ شوز کا آغاز کیا۔ ملٹی نیشن کمپنی میں فوڈ ایڈوائزر رہیں، اکی بانا کی کلاسز بھی لیں، یونیسیف میں نیوٹریشن ایکسپرٹ کے طور پرخدمات انجام دیں۔ ذہنی امراض کے علاج کے لیے ملٹری ہسپتال راولپنڈی سے منسلک رہیں۔ جس کے لیے انہوں نے خصوصی تربیت حاصل کی ہے۔ سفر نامے، افسانے، ککنگ پران کی چوبیس کتابیں شائع ہو کر مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصے میں کوکب خواجہ کے چار سفرنامے شائع ہوئے۔ تین سفرنامے ’’رومی کے دیس میں‘‘ اور ’’بنت بطوطہ کا سفرنامہ 1 اور 2‘‘جس میں پہلے میں ’’امیر تیمور کے دیس میں‘‘ اور ’’آہنی پردے کے پیچھے‘‘ سمرقند و بخارا اور روس دو سفرنامے ہیں۔ دوسرے میں بھی دو ’’جواہرات کی مالا‘‘ انڈونیشیا اور ’’آنسو یا کان کا جھمکا‘‘ سری لنکا کا سفرنامہ ہے۔ یہ تینوںنیشنل بک فاؤنڈیشن نے اور ’’ہیلو امریکہ‘‘ جمہوری پبلی کیشنز نے شائع کیاہے۔

کوکب خواجہ نے تاریخ کے مضمون میں ماسٹرز کیا اور پانچ برس درس وتدریس سے وابستہ رہیں۔ جنوری 1990ء میں پی ٹی وی سے پہلا با قاعدہ ککنگ شو شروع کیا۔ ’اسٹار پلس‘ سے بھی ان کے دس پروگرام ’’Postcard From Pakistan‘‘ کے عنوان سے نشرکیے گئے۔ چین میں قیام کی یادوں پرمبنی کوکب خواجہ کا پہلا سفر نامہ ’’نی ہاؤ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ جس سے عام قاری کونہ صرف یہ علم ہواکہ چینی ایک دوسرے سے ملاقات پر ’نی ہاؤ‘ کہتے ہیں۔ جو چینی زبان میں ہیلو کے مترادف ہے۔ بلکہ عام بول چال کے کئی چینی الفاظ بھی معلوم ہوئے۔ ایران کے بارے میں انہوں نے ’’آجیل‘‘ لکھا۔ جس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایران میں میوہ جات کی دکان کو آجیل کہتے ہیں۔ اس طرح کوکب خواجہ کے سفرناموں کے قارئین کو مختلف ممالک کی ثقافت، بول چال اور رہن سہن کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ ان کا بیانیہ دلچسپ اور اسلوب سادہ اوردلنشین ہے۔ بائیس ممالک اسفار پر مبنی ’’کاش‘‘ بھی بے حد مقبول ہوا، اور اب عرصہ دراز سے نایاب ہے۔ چین اور تھائی لینڈ میں کوکب خواجہ نے ککنگ کے باقاعدہ سرٹیفکیٹ حاصل کیے۔ چین سے ہی مصوری کی تربیت بھی لی اور کل پاکستان مقابلہ مصوری میں دوسرا انعام حاصل کیا۔ ٹوکیو جاپان میں قیام کے دوران پھولوں کی آرائش ’اکی بانا‘ کی کلاسز بھی اٹینڈ کیں۔ لاہورمیں ملٹی نیشنل فوڈکمپنی کی چھ سال تک فوڈ ایڈوائزر رہیں۔ دو برس بہبود ایسوسی ایشن راولپنڈی میں یونیسیف کی طرف سے فوڈ ایکسپرٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مختلف ممالک میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا اور وہاں اپنے مقالات بھی پیش کیے۔ اپنا ذاتی کلینک ’’Mind ans Soul‘‘ کے نام سے قائم کیا ہے اور لوگوں کے نفسیاتی مسائل کا علاج کونسلنگ وائی ایم ڈی آر کے ذریعے کر رہی ہیں۔ جاپانی طریقہ علاج ’یکی‘ کے ذریعے ذہنی اور نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔

مشہور مزاح گو شاعر اور این بی ایف کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاویدنے بجا طور پر لکھا۔ ’’محترمہ کوکب خواجہ اپنے کثیرالجہات کاموں کے باعث معروف شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ ان کے سفرنامے ’’رومی کے دیس میں‘‘ اور ’’بنت بطوطہ کے سفرنامے‘‘ ترکی، روس، سری لنکا اور انڈونیشیا کے دلچسپ اور معلومات افزا سفر نامے ہیں۔ ترکی ایک اسلامی ملک اور تہذیب وثقافت کا گہوارہ ہے چنا نچہ ان کی کتاب کوپڑھتے ہوئے جہاں ہمیں ترکی کودیکھنے کا موقع ملتا ہے وہیں اپنے اجتماعی ماضی میں جھانکنے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ میرے خیال میں سفرنامہ تمام اصنافِ ادب میں ایک مہنگی صنف کادرجہ رکھتاہے۔ اس کیلیے آدمی کاصحت مند ہونا (تاکہ وہ سفرکی صعوبتوں کو برداشت کرسکے) اور قدرے آسودہ ہونا(تاکہ وہ سفرکے اخراجات کامتحمل ہوسکے) ضروری ہیں۔ سفرنامہ گھربیٹھ کرنہیں لکھاجاسکتا بلکہ اس کیلیے پہلے ’سیروفی الارض‘ کاچِلّہ کاٹناپڑتاہے اورپھرسیاحت ومساحت کے دوران حاصل کردہ تجربات ومشاہدات کوزینت ِ قرطاس بنایا جاتاہے۔ کوکب خواجہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں سیروسفر کاشوق بھی ہے، وسائل بھی میسرہیں اورانہیں لکھنے کاڈھنگ بھی آتاہے۔ امید ہے کہ ان کے یہ سفرنامے بھی قارئین کے ذوقِ مطالعہ پرپوری اتریں گی۔ ‘‘

’’ہیلوامریکہ‘‘ کوکب خواجہ کے باقاعدہ گرین کارڈحاصل کرنے اورامریکی شہری کی حیثیت سے وہاں منتقل ہونے کی کہانی ہے۔ جس کے مندرجات میں پاکستان کے بے شمارلوگوں کوبہت دلچسپی ہوگی۔ جبکہ کوکب خواجہ نے حسب ِ سابق بہت دلچسپ انداز میں یہ واقعات بیان کیے ہیں۔ ساتھ ہی یہ المیہ بھی واضح ہے کہ پاکستان کے کامیاب ترین افرادمیں بھی یہاں رہنے پرگرین کارڈاورامریکی شہریت کا حصول ترجیح ہے۔ کوکب خواجہ اوران کے سابق بریگیڈیئر شوہرکاشمارملک کے کامیاب ترین افراد میں کیاجاسکتاہے۔ لیکن انہیں بھی گرین کارڈ درکارتھا اوراس کے حصول کے بعد وہ امریکہ منتقل ہوگئے۔

پیش لفظ میں کوکب خواجہ لکھتی ہیں۔ ’’دل میں خواہش ضرور پالنی چاہیے، اس سے جوم قناطیسی لہریں نکلتی ہیں، وہ خواہش کی تکمیل میں معاون ہوتی ہیں۔ اس کی صداقت میری اپنی ذات اورخواہشات کی تکمیل ہے۔ میری پہلی کتاب’’نی ہاؤ‘‘ فیروز سنزجیسے معیاری ادارے نے شائع کی۔ اس کے بعدسفرنامے شائع ہوتے رہے۔ مجھے سفرنامہ لکھنابہت لطف دیتا ہے۔ میں غیرشعوری طور پراپنے ہم وطنوں کوبھی ان ممالک کی سیرکروانا چاہتی ہوں جوشوق تو رکھتے ہیں مگر کسی مجبوری کی وجہ سے اپنے شوق کی تکمیل نہیں کرپاتے۔ جب لوگ کہتے ہیں۔ ’لگتاہے کہ ہم خود اس ملک کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور آپ کے ہمراہ گھوم رہے ہیں۔ ‘‘ تو یہ الفاظ میرے لیے بے حدحوصلہ افزا ہوتے ہیں اور مزید لکھنے پر ابھارتے ہیں۔ مجھے فخر محسوس ہوا، جب امجداسلام امجد نے بتایاکہ میری کتاب ’نی ہاؤ‘ سفرناموں پر ڈاکٹریٹ کرنے والوں کے نصاب میں شامل کرلی گئی ہے۔ ’ہیلو امریکہ‘ کوئی ایسی منفرد نہیں ہے کیوں کہ امریکہ کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھاجاتابھی رہے گا۔ اگر کوئی چیزاسے منفردکرتی ہے تووہ ہے ڈائری کی صورت میں ’آپ بیتی‘ جو جو کچھ میں وہاں محسوس کرتی رہی جو دیکھتی رہی، ون سب تجربات کوساتھ ساتھ تحریر کرتی رہی۔ جبکہ باقی سفرنامے میں نے وطن واپس آنے کے بعد تحریر کیے تھے۔ امریکہ میں چھ ماہ قیام میں بارہ تیرہ ریاستوں کی سیاحت کو میں نے اس کتاب میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ وہاں کی مثبت اور منفی باتوں کو خلوصِ دل سے بغیر کسی تعصب کے جیسا محسوس کیا ویسے ہی تحریر کیا ہے۔‘‘

کتاب کا پہلا باب ’’تھاجس کاانتظار!‘‘ گرین کارڈکے انتظارکے بارے میں ہے۔ ’’کہتے ہیں انتظارمیں مزاہے اورانتظارکی گھڑیاں طویل ہوتی ہیں۔ یہ واقعی درست ہے کیوں کہ ہمارے انتظارکی گھڑیاں طویل تر بلکہ طویل ترین ہونے لگی تھیں۔ تھرڈ ورلڈ کے لوگوں کے دلوں میں اگرجھانکاجائے توزیادہ ترکے دلوں میں یہ خواہش انگڑائی لیتی دکھائی دے گی کہ کاش وہ کسی طرح فرسٹ ورلڈمیں شامل ہوجائیں ایسی خواہش میرے میاں کے دل میں تب جاگی تھی جب وہ پہلی بارامریکہ آئے تھے۔ تب وہ جاب پرتھے بچے بھی پیروں پرکھڑے نہیں ہوئے تھے، سواس خواہش کو انہوں نے لوری دے کردل کے رنگیلے پلنگ پر سلا دیا تھا۔ پھرجب فاروق بیٹااعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں امریکہ آیا اوراسے یہیں اچھی جاب بھی مل گئی تووہ امریکن ہوگیا۔ سعدیہ بیٹی بھی نیویارک یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ ہونے کے بعد امریکہ میں مقیم کمال سے شادی کے بعد وہیں بس گئی اورکچھ سالوں بعداسے یہاں کی شہریت بھی مل گئی تو اباجان کی خواہش جاگ اٹھی اور پھر سعدیہ نے والدین کے گرین کارڈ کے لیے اپلائی کردیا۔ یوں ہم انتظارکی گھڑیوں سے آشنا ہوئے۔ یہ گھڑیاں مہینوں سے سالوں میں ڈھلتی گئیں۔ انتظار اتنا طویل ہواکہ مایوسی نے چادر پھیلانا شروع کردی۔ چھ سالہ انتظارنے بھی خالد کے حوصلے پست نہیں کیے۔ غالباً آرمی سروس میں ہونے کی وجہ سے بہت طویل انٹرویوز اور انکوائریز کا سلسلہ جاری رہا۔ پھرایک روزفون آگیاکہ پاسپورٹ لے کر پہنچ جائیں، آپ کاگرین کارڈ منظور ہو گیاہے۔ امریکہ جانے کے لیے دو ماہ کاوقت دیاگیا۔ پندرہ مئی سے پہلے ہمیں امریکہ پہنچنا تھا بصورت دیگرگرین کارڈ کینسل جائے گا۔ تین مئی بروز جمعہ ابوظہبی کے راستے امریکہ روانہ ہوئے۔ ویک اینڈ کا انتخاب اس لیے کیا کہ فاروق بیٹے کوآفس سے چھٹی ہوگی اور ہم اکھٹے وقت سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔‘‘

کوکب خواجہ اورخالد خواجہ امریکہ پہنچ گئے۔ اب ڈاک سے گرین کارڈ کا انتظار تھا۔ جوچارہفتے سے زیادہ کا ہوگیا۔ تاہم اب تسلی تھی کہ گرین کارڈ آنے والا ہے۔ ابھی چوتھے ہفتے کا دن نہیں ڈھلا تھا کہ فاروق ہاتھ میں ایک سفید لفافہ پکڑے داخل ہوئے جووہ گھرکے باہر لیٹربکس سے نکال کرلائے تھے۔ خالد نے پر شوق اورپرجوش انداز سے لفافہ کھولا اور پھر وہ شاہکار آگیاجس کا شدت سے انتظارتھا۔ اس طرح خالد کی خواہش بھی پوری ہوگئی۔ کوکب اور خالد امریکہ کا سفر تو اتنی بار کرچکے تھے کہ انہیں گنتی بھی یادنہیں تھی مگراس بارسفرکی نوعیت مختلف تھی اب مقررہ وقت تک پہنچ کرگرین کارڈ وصول کرکے دیرینہ خواہش کی تکمیل کرناتھی۔

امریکہ میں فاروق فیملی کے نئے رکن مسٹربوسے کوکب خواجہ کی پہلی ملاقات ہوئی۔ یہ ایک بلاتھا جو یورین انفکشن میں مبتلا ہوگیا۔ اسے کلینک لے جایاگیا۔ جہاں خوش اخلاق ڈاکٹر نے معائنہ کیاکچھ ٹیسٹ کرائے۔ صرف چیک اپ کرانے کی فیس ساڑھے تین سوڈالرز ادا کرکے گھر لوٹ آئے۔ یعنی ایک بلی کے چیک اپ کے لیے پینتیس ہزار روپے کا جھٹکا۔ تو مصنفہ کو اپنا ملک یاد آیا۔ جہاں ایک جانور تو کیا انسانوں کی صحت کی ایسی دیکھ بھال نہیں ہوتی جویہاں جانوروں اور پرندوں کی ہوتی ہے۔ مسٹر بو فاروق کو دونوں وقت پیارسے گود میں بٹھاکردوائی کے قطرے منہ میں ڈراپرکی مدد سے ڈالے جاتے۔ بو صاحب کو باقاعدہ کھانا سرو کیا جاتا، اس کے کھانے کے برتن اتنے پیارے ہیں کہ ہمارے ہاں کے انسان کے بچوں کوبھی ایسے برتنوں میں کھانانصیب نہ ہو۔ ٹِن فوڈجس میں پران اورٹونافش بھی شامل ہوتی ہے۔ وہ خاص درجہ حرارت پرگرم کرکے مسٹر بو کے پیارے سے پیالے میں ڈال کرٹیبل پر رکھاجاتاہے۔ اس کے علاوہ خاص ذائقہ والے خوشبودار بسکٹ بھی ایک دوسرے پیالے میں اسے پیش کیے جاتے۔ اور تو اور مسٹر بوکی وزٹ بیوٹی پارلرمیں بھی ہوتی ہے۔ جس کے لیے پیشگی وقت لینا پڑتا ہے۔ بڑی سے گاڑی آتی ہے جس میں تمام لوازمات موجود ہوتے ہیں۔ اسے نہلایا دھلایا جاتاہے۔ پھر بلوڈرائی کرکے بالوں کو اس طرح برش کیا جاتا ہے کہ روئی کابڑا سا گالا لگنے لگتاہے۔ اس ساری کارروائی کے صرف سو ڈالرز یعنی دس ہزار روپے دینے ہوتے ہیں۔

قاری کے لیے یہ سب بہت دلچسپ ہے۔ جو خود اپنے لیے بھی پارلر میں اتنے پیسے خرچ کرنے کا تصور بھی نہ کرسکتا ہو۔ اس بارے میں مزید تفصیلات ’’ایک راؤنڈ جانوروں کے سینٹر کا‘‘ اور’’امریکہ میں برازیل کی ایک جھلک‘‘ میں مصنفہ نے پیش کی ہیں۔ ان ابواب میں کوکب خواجہ نے امریکہ میں پالتوجانوروں کے لیے سہولیات، ان کی دیکھ بھال، علاج، ڈاکٹرز اور ہسپتال، ان کی خوراک اور کھلونوں کاایک جہانِ حیرت پیش کیاہے۔ وہیں ایک باب’’زندوں کا قبرستان!‘‘ بھی ہے۔ جس میں کوکب خواجہ نے بتایاکہ جانوروں سے محبت کرنے والے امریکی اپنے والدین سے کیا سلوک کرتے ہیں۔ اسے بیان کیاہے۔ انہوں نے آسٹریلیاسے پاکستان میں سرگودھاکے گاؤں واپس جانے والے جوڑے کا ذکر کیا۔ جن کے دوبیٹے آسٹریلیا میں ڈاکٹر تھے، بہویں اورپوتے پوتیاں تھے۔ ڈاکٹرزامریکہ اورآسٹریلیامیں سب سے کمانے والا طبقہ ہوتاہے۔ ایسی شاندارزندگی کو چھوڑ کرجانے والے جوڑے نے ان کے استفسار پرکہا۔ ’’توبہ کریں جی، یہاں ہم کیوں اور کیسے رہیں؟ یہ توزندوں کا قبرستان ہے۔ ‘‘اس باب میں کوکب خواجہ نے بتایاکہ ان کابیٹا اوربہوجاب پراوربچے اسکول چلے جاتے تو تمام دن سناٹا اور ہو کا عالم رہتا۔ مجال ہے کہ کوئی انسانی آواز سنائی دے یاکاروں کے ہارن کان کے پردے پھاڑ رہے ہوں۔ انہیں محسوس ہو ا کہ واقعی یہ زندوں کاقبرستان ہے۔ بلکہ ہمارے ہاں توقبرستان بھی اس سے زیادہ آباد ہوتے ہیں۔ ایسے دلچسپ موازنے مختلف مقامات کی مثبت اورمنفی امورنے کتاب کی دلچسپی آغازسے اختتام تک برقرار رکھاہے اور قاری کی توجہ ایک لمحہ کوبھی اِرھرسے اُدھرنہیں ہونے دیتی۔

’’بنت ِ بطوطہ کے سفرنامے‘‘ کی پہلی جلد میں کوکب خواجہ کے دوسفرنامے ’’امیرتیمورکے دیس میں‘‘ سمرقندوبخارا اور دوسرا ’’آہنی پردے کے پیچھے‘‘ روس کااحوال بیان کیاگیاہے۔ کوکب خواجہ لکھتی ہیں۔ ’’بچپن میں امی کہاکرتی تھیں ’جو سکھ اپنے چوبارے۔ نہ بلخ نہ بخارے‘ تب نہ تو چوبارے کامطلب معلوم تھا اور بلخ بخارے کا کچھ علم تھا۔ ہوسکتاہے اس زمانے میں بلخ اوربخارا بہت ترقی یافتہ شہرہوں کہ اُن کی مثال اس حوالے سے دی جاتی تھی۔ بڑے ہونے پرمسلمانوں کی پرانی تہذیب کے حوالے سے تاشقند، بخارا اورسمرقندکے نام پڑھے۔ امیر تیمور اور مغل بادشاہوں کے بارے جاناجوان ہی علاقوں سے ہندوستان آئے تھے۔ پاک ازبک فرینڈشپ کلب کی بنیاد پڑی تو میں اس کی اولین ممبران میں شامل تھی۔ اس کلب کے ذریعے ہرسال پندرہ ازبک خواتین پاکستان کے دورے پر آیا کرتیں تھیں اور پندرہ پاکستانی خواتین از بکستان کے ٹور پر جایا کرتی تھیں۔ لیکن میری باری آنے سے قبل کلب ختم ہوگیا اور سینٹرل ایشیادیکھنے کی آس بھی دم توڑگئی۔‘‘

دو ہزار آٹھ میں کوکب خواجہ کوخواتین کے ایک وفد کے ساتھ سینٹرل ایشیاجانے کا موقع مل گیا۔ تاشقند ازبکستان کا دارالحکومت ہے جس کی آبادی تیس لاکھ ہے۔ تاشقندکے لفظی معنی ’پتھروں کاشہر‘ ہے لیکن کوکب کو تو یہ پریوں اور پھولوں کاشہردکھائی دیا۔ ہرطرف سزہ اورپھول تھے جن کے ساتھ پری چہرہ مہ وش حسینائیں نظرآرہی تھیں۔ تاشقند کو یہاں ’تاش کنٹ‘ لکھاجاتاہے۔ مقامی زبان میں ترکی اورفارسی کے بہت سے الفاظ شامل ہیں۔ جبکہ گنتی کو خالص ترکی زبان کی ہی ہے۔ ترکی زبان میں بازارکامطلب ہے’گھرکے دروازے کے سامنے‘ پرانے وقتوں لوگ اپنے گھروں کے آگے اشیاء رکھ کر فروخت کرتے تھے خواہ وہ گھرکی بنی مصنوعات ہوں یاباہرکی۔ یوں بازارکی اSطلاح رائج ہوئی اور ہم آج جہاں بہت سی دکانیں ہوں اسے بازارکہتے ہیں۔ کوکب خواجہ کے مطابق۔ ’’بازار ہو یا خوانچہ، بس ہو یا جہاز آپ کے دائیں بائیں کھڑے مردوزن کے منہ کے اندرسونے کے چمکتے دانت دیکھ دیکھ کرہم نے گائیڈ سے وجہ جانناچاہی تو اس نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ایک تویہ یہاں کافیشن ہے دوسرااپنی امارت اوررتبہ ظاہرکرنے کے لیے بھی دانتوں پرسونے کا خول چڑھایا جاتا ہے۔ لیکن آج کل کے نوجوان لڑکے لڑکیاں اس فیشن کے دلدادہ نہیں ہیں۔ مقدس بخارا کا شمار اسلامی تہذیب کے بہت اہم شہرکے طور پر ہوتاہے اس میں امام بخاریؒ، سیف الدین بخاری اور بہاؤالدین نقشبندیؒ جیسی جلیل القدر ہستیوں نے اپنا نور پھیلایا۔ دسویں اورگیارہوں صدی میں بخاراسمانی حکومت کا دارالخلافہ تھااوریہ سولہویں صدی تک رہا۔ بخارا کے آخری امیر کو1920ء میں بے دخل کرکے اسے ری پبلک بخارا قرار دیاگیا، پھر یہ ازبکستان کاحصہ بن گیا اور یونیسکو نے بخارا کو دنیائے ثقافت وورثہ کے مرکز کے طور پرچن لیا۔‘‘

ازبکستان کے بارے میں ایسے بے بہامعلومات، مقامی رسوم ورواج اوراس کے مختلف تاریخی، ثقافتی اور اسلامی مراکز کی تفصیلات اس حصے میں موجود ہیں۔ روس کے سفرکے بارے میں ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ کو نے لکھا۔ ’’ماسکو ایئرپورٹ بہت خوبصورت اور جدیدہے۔ ہماری بس بھی بہت اچھی تھی، آرام دہ اورکشادہ سیٹوں والی، ہمارے لیے مخصوص ہوٹل ستر کلومیٹرکے فاصلے پرتھا۔ ہم ماسکوکے کنٹری سائیڈ سے گزررہے تھے۔ گائیڈکی کمنٹری جاری تھی، اس کی انگلش میں روسی لہجے کی آمیزش تھی سوفیصدسمجھ نہیں آرہی تھی۔ تاہم جتنی سمجھ آرہی تھی، اس سے معلوم ہوا کہ روس کے تراسی صوبے ہیں۔ زرعی زمین بے شمار ہے۔ زراعت کے حالت سوویت دورکے مقابلے میں بہت بہترہے۔ ماسکو میں پچیس ہزار چرچ ہیں۔ یہاں عیسائیت بڑا مذہب ہے تیرہ سوقومیتیں آبادہیںتاتارمسلم آبادی ہے۔ یہاں ہرسال تیس ہزار افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔ سترفیصدڈرائیورشرابی ہو تے ہیں۔ ٹریفک یورپ سے بہترنہیں لیکن ایشین ملکوں سے بہتر ہے۔ یہاں چار ایئرپورٹ اورنوریلوے اسٹیشن ہیں۔ سترکلومیٹر کاسار ا راستہ سرسبزوشاداب تھا۔ میں نے کبھی سوچابھی نہیں تھاکہ آہنی پردے کے پیچھے چھپے دنیاوالوں کے لیے ایک راز امریکہ کے مدمقابل ملک جسے روس کہتے ہیں، اُسے اندرسے دیکھ سکوں گی۔ یہ سرزمین رازکی طرح میرے ذہن پر چھائی رہی، اس وقت اسی سرزمین پرخود موجود تھی یہ احساس بہت پرلطف اورسرورآورتھا۔ 1991ء میں سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد مذاہب نے انگڑائی لی۔ چرچوں کی تعمیر نو کی گئی۔ مساجد آبادہونے لگیں۔ ماسکومیں پندرہ لاکھ مسلمان اورصرف چار مساجد ہیں جن میں ایک بہت اصرار کے بعد گائیڈ نے دکھائی اور جسے دیکھ کردکھ ہواکہ اتنی عالی شان سونے چاندی سے مزین چرچوں کے بعدخستہ حال مسجددیکھ کردل بہت ناخوش ہوا۔ بوسیدہ قالین، غریب سی رنگ وروغن سے مبراعمارت اورسڑیل سا امام جس نے ہم خواتین کواندرہال میں جانے سے بھی ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا، بہرحال مسجد کی اوپری منزل سے اترتی دو باحجاب لڑکیوں سے ہم نے باتیں کیں۔ ماسکومیں ایک مزید مسجدکی منظوری مل چکی ہے مگر تعمیر رکی ہوئی ہے کیونکہ اینٹی مسجدتحریک کادباؤہے، جس کا سلوگن ہے ’کلین ماسکو بغیر مسلمانوں اور غیر ملکیوں کے شہر‘۔‘‘

روس کے بارے میں ایسی بہت دلچسپ معلومات سفر نامے سے قاری کارابطہ برقراررکھتی ہیں۔ ’’بنت بطوطہ کے سفر نامے‘‘ کی دوسری جلد انڈونیشیا اور سری لنکا کے اسفارپرمبنی ہے۔ سفرنامہ انڈونیشیا کو ’’جواہرات کی مالا‘‘ کانام دیا ہے۔ کوکب خواجہ کو بالی انڈونیشیا ایک کانفرنس میں شرکت کاموقع ملا۔ بالی کاتعارف مصنفہ کچھ یوں کراتی ہیں۔ ’’ایک لڑی میں پروئے جواہرات کی طرح انڈونیشیاکے سب جزیرے سمندر کے اندرنظرآتے ہیں۔ تیرہ ہزارسے زائدیہ جزائرپانچ ہزار کلومیٹر رقبے پر محیط ہیں۔ ایک ہزارسال قبل چینی جہازرانوں نے صندل کی لکڑی اورمصالحہ جات کویہاں سے لے جانے کے لیے تجارتی مقاصدسے سمندروں سینے پراپنے جہازچلائے۔ اس زمانے میں لونگ، جائفل اورجاوتری قیمتی مصالحہ جات میں شمارہوتے تھے اوران پردسترس کے لیے کئی خونی جنگیں لڑی گئیں۔ 13677جزائرپرمشتمل انڈونیشیا کا رقبہ انیس لاکھ مربع کلومیٹرہے جوآسٹریلیاسے ڈھائی گنازیادہ ہے۔ زیادہ ترجزائر پہاڑی علاقے ہیں۔ جن میں آتش فشاں بھی موجود ہیں۔ جن کے پھٹنے سے ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہر جزیرے کا اپنا کلچر، زبان اور مذہب ہے، سینٹرل گورنمنٹ کے لیے ان سب پر نظم و ضبط قائم رکھنا کافی دشوار ہوتا ہے۔ ‘‘

بھارت کو اگر آنکھ کہاجائے توسری لنکااس آنکھ سے ٹپکا آنسو کہلاسکتا ہے جبکہ اگر انڈیا کو کان سے تشبیہ دی جائے تو بلاشبہ سری لنکا کو اس کان سے گرا ہوا جھمکا کہا جاسکتا ہے۔ بے کراں سمندر کے اندرایک چھوٹا سا یہ جھمکا ایسا پرکشش ہہے کہ اس پرتسلط قائم کرنے کے لیے کون کون سے ممالک نے اس پر اپنے قدموں کونہیں جمایا۔ پرتگالیوں نے یہاں قدم جمائے، ڈچ اوربرطانیہ نے برسوں یہاں کی سرزمین سے اپنی حکومتوں کو مالامال کیا۔ ان کے نشانات آج بھی اس چھوٹے سے ملک پرثبت ہیں جن کو محفوظ کرکے کمال عقلمندی سے ان لوگوں نے سیاحوں کی دلچسپی کا سامان پیدا کر رکھا ہے۔ سری لنکاکے سفرمیں کوکب خواجہ نے ایک دلچسپ بات بتائی۔ ’’ہاتھیوں کے فضلے کو مختلف مراحل کے بعد رف کاغذ بنایا جاتا ہے۔ اس کوفلم کے ذریعے دکھایا گیا۔ فیکٹری کے اندر شیلفوں میں اسی فضلے کے کاغذسے بنی کاپیاں، نوٹ بکس، ڈائر یاں، کیلنڈر، چارٹ غرض بہت سی اشیا جو کاغذ سے بن سکتی تھیں بیگز اور سجاوٹی اشیاء سبھی کچھ سجا تھا۔ پہلے تو انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے گھن محسو س ہوئی پھر جب ان پر لکھی قیمتیں پڑھیں تو ہاتھ لگانے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ ‘‘

سفرنامہ ترکی کو کوکب خواجہ نے ’’رومی کے دیس میں‘‘ کا نام دیاہے۔ وہ مولاناروم کے کلام کا مطالعہ کرچکی تھیں اور شمس تبریزکی مولانا سے رفاقت کے بارے میں کتاب ’فورٹی ٹورولزآف لو‘ پڑھنے کے بعداس کے عشق میں مبتلا ہوچکی تھیں۔ جب اگلی بار ترکی کادورہ کیاتوکونیا کی سرزمین پر قدم رکھے تو ان کی تصورکی آنکھوں ہرطرف رقص کناں درویش تھے۔ شعیب منصور کے ایک کمرشل میں رقص کناں درویشوں کی ویڈیو نے بھی انہیں متاثرکیا۔ ان کی خوش قسمتی نے ترکی میں خاص رومی کے دیس جانے کابھی موقع عطا کردیا۔ پورا سفرنامہ ایک روحانی کیفیت میں لکھا گیا ہے۔ حسبِ سابق کوکب خواجہ قاری کواپنے ساتھ لے کرچلتی ہیں۔ یہ چاروں سفرنامے انتہائی دلچسپ اور معلومات افزا ہیں۔ پڑھنے والا ہر قدم ان کے ساتھ ساتھ چلتاہے اورنت نئے تجربات سے دوچار ہوتا ہے اور کسی بھی وقت اس کی دلچسپی کم نہیں ہوتی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20