حکمت: یونانی و ایمانی ——- محمد رشید ارشد

0
  • 54
    Shares

خلاصہ: انسانی شعور اپنی مجموعی تشکیل پر قادر ہونے کیلئے دو متصادم قوتوں کی رزم گاہ بنا ہوا ہے۔جن میں سے ایک عقلی شعور ہے اور دوسرا مذہبی۔ان دونوں کو اس بات پر اصرار ہے کہ شعور کی دیگر قوتوں کو ان کے تابع ہونا چاہیے اور ان کے خلقی یا وضعی تناظر کو قبول کرنا چاہیئے۔ اس جھگڑے میں کہیں عقل غالب آجاتی ہے اور کہیں مذہبی شعور۔ یا یوں کہ لیں کہ شعور کی اقلیم عملا دو حصوں میں بٹ چکی ہے، ایک پر عقلی شعور حاکم ہے اور دوسرے پر مذہبی۔ شعور میں موجود تمام حقائق دراصل اس کے انفعالی احوال ہیں۔ مجموعی شعور جب کسی تصور ِحقیقت کو اپنے باہر سے قبول کرکے ایک کلی تناظر بناتا ہے اور پھر اس تناظر سے اشیاء کو اپنا موضوع بناتا ہے تو اس انداز ِنظر کو حکمت اور اس کے نتائج کو حقائق کہتے ہیں۔ عقل کی نسبت سے حکمت محض فلسفہ ہے جس میں عقل اپنے سے باہر کی پابندی قبول کیے بغیر وجود اور کائنات کی حقیقت اور ان کے اصول کی دریافت کا ذمہ لیتی ہے۔ اور اس کام کیلئے خود کو کافی سمجھتی ہے۔ حکمتِ ایمانیاں کی ترکیب ہی سے یہ ظاہر ہے کہ یہ حکمت وحی کی سرپرستی میں پروان چڑھتی ہے اور اسی کے بتائے ہوئے وجودِ حقیقت سے خود کو شعور کی تمام صلاحیتوں (faculties) کے یکسو اجتماع کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی سعی کرتی ہے۔

کلیدی الفاظ:حکمت، حقیقت، وجود، شعور، عقل۔


حقیقت یعنی تمام موجودات اور معقولات کی اصلِ واحد کے طور پر ان دونوں دنیاؤں پر تصرف کرنے والا وہ مستقل امر، جو ان سے ماورا بھی ہے، شعور کا خلقی موضوع ہے۔ شعور کے تجزیے کے نتیجے میں اس کی جو انواع محکم اور واضح امتیاز کے ساتھ موجود نظر آتی ہیں ان سب کا اندازِ عمل اور نتائجِ عمل ایک دوسرے سے ممتاز اور کہیں کہیں متصادم ہونے کے باوجود جس جوہرِ شعور substance of consciousness کے یکساں طور پرحامل ہیں وہ جوہر حقیقت کے ماقبلِ تجربی idea سے مناسبت رکھنے والی قوت کے سوا کچھ اور نہیں۔ علم، فکر، خیال اور احساس کی تشکیل کے مراحل آپس میں چاہے پوری طرح نہ ملتے ہوں لیکن ان کے درمیان جو چیز واحد محرک اور تنہا مطلوب کے طور پر بہرحال حاضر اور برسرِ عمل رہتی ہے وہ یہی حقیقت کا فطری تصور ہے جس کی اساس پر شعور خود اپنا شعور حاصل کرتا ہے۔ شعور کی تمام انواع ہمیشہ ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتیں بلکہ ان کی پیش قدمی کے دوران میں ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں یہ اپنے امتیازات کے حدود کو عبور کرکے ایک وحدت میں ڈھل جاتی ہیں۔ یہ وحدت مجموعی شعور ہے جو صورت کو نہیں بلکہ حقیقت کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ شعور اپنی اس ہیئتِ مجموعی میں کامل انفعال سے عبارت ہے۔ یعنی یہ تفکر و تخیل وغیرہ کی معروف فعلیت سے نکل کر اپنی مطلوب حقیقت کے ساتھ اثبات کا تعلق پیدا کرتا ہے۔ اور یہ بات کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ شعور کی ساخت کا کوئی بھی تجزیہ اس واقعے پر شاہد ہے کہ شعور صورتوں کے درمیان ایک فعلیت (activity) اختیار کئے رکھتا ہے اورحقیقت کی نسبت سے انفعال passivity کو اپنا حال بنالیتا ہے۔ شعور میں موجود تمام حقائق دراصل اس کے انفعالی احوال ہی ہیں۔ تو یہی مجموعی شعور جب کسی تصور ِحقیقت کو اپنے باہر سے قبول کرکے ایک کلی تناظر بناتا ہے اور پھر اس تناظر سے اشیاء کو اپنا موضوع بناتا ہے تو اس انداز ِ نظر کو حکمت اور اس کے نتائج کو حقائق کہتے ہیں ۔(۱) یعنی محسوسات و معقولات میں معنی پیدا کرنے والا ایک ایسا نظام جو شعور کا بنایا ہوا نہیں بلکہ قبول کیا ہوا ہے۔ اس میں مجموعی شعور اگر عقل کی سرکردگی میں کام کرے تو عقلی مثالیت (Rational Idealism) پیدا ہوتی ہے جس کی بہترین اور مکمل ترین مثال یونانی فلسفہ ہے۔اور اگر مذہبی یا اخلاقی شعور غالب آجائے تو اس سے ایمان یا اعتقاد پیدا ہوتا ہے جسے ایک مشہور شعر میں حکمت ِایمانیاں کا عنوان دیا گیا ہے۔

چند خوانی حکمت ِیونانیاں
حکمت ِایمانیاں را ہم بخواں
(تو کب تک یونانیوں کی حکمت پڑھتا رہے گا، اہل ایمان کی حکمت کا بھی مطالعہ کر)

فلسفے یا شعور کی تاریخ جس جدلیاتی نہج پر چل رہی ہے مندرجہ بالا شعر میں اس کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔ انسانی شعور دراصل اپنی مجموعی تشکیل پر قادر ہونے کیلئے دو متصادم قوتوں کی رزم گاہ بنا ہوا ہے۔جن میں سے ایک عقلی شعور ہے اور دوسرا مذہبی۔ ان دونوں کو اس بات پر اصرار ہے کہ شعور کی دیگر قوتوں کو ان کے تابع ہونا چاہیے اور ان کے خلقی یا وضعی تناظر کو قبول کرنا چاہیئے۔ اس جھگڑے میں کہیں عقل غالب آجاتی ہے اور کہیں مذہبی شعور۔ یا یوں کہ لیں کہ شعور کی اقلیم عملا دو حصوں میں بٹ چکی ہے، ایک پر عقلی شعور حاکم ہے اور دوسرے پر مذہبی شعور۔ شعر کا مقصود یہ ہے کہ عقلی شعور کی دنیا سے نکل آؤ اور ایمانی شعور کی اقلیم کے شہری بن جاؤ۔ اس مستقل تصادم کی نوعیت سمجھنے کیلئے ان دونوں میں سے ہر ایک کے بنیادی اصول کو جاننا مفید ہوگا۔

حکمت ِیونانی:
عقل کی نسبت سے حکمت محض فلسفہ ہے جس میں عقل اپنے سے باہر کی پابندی قبول کیے بغیر وجود اور کائنات کی حقیقت اور ان کے اصول کی دریافت کا ذمہ لیتی ہے۔ اور اس کام کیلئے خود کو کافی سمجھتی ہے۔ عقل کے اس مزاج کو دیکھتے ہوئے حکمت کے تعریفی اجزا یہ ہوں گے:

۱۔ حکمت عقل کا فعل ہے جو وہ حقیقت تک رسائی کیلئے آزادی سے انجام دیتی ہے۔(۲)
۲۔ حکمت حقیقت کی جستجو نہیں ہے بلکہ دریافت ہے، اور اس دریافت کے ذریعے سے ضروری نہیں کہ ذات ِحق کی معرفت بھی میسر آجائے۔ اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ ازروئے عقل حقیقت کے اثبات کیلئے اس کا وجود ِذہنی ہی کافی ہے۔ حقیقت وہ امر ہے جس کا فاعل بالارادہ ذات ہونا ضروری نہیں۔
۳۔ حکمت شے پر تصور ِشے کا غلبہ ہے۔عقل اپنے موضوع یعنی صورت کی تجرید ضرور کرتی ہے اور اس تجرید کے نتیجے میں شے کی اپنی صورت اس کی صورت ِذہنی کی محکوم ہو جاتی ہے۔ اب شے کی تعریف شے فی الخارج کے حسی تجزیے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کی ذہنی صورت سے وجود میں آتی ہے۔ شے کو معلوم بننے کیلئے جس تجرید کی ضرورت ہے وہ خارجی سے زیادہ ذہنی ہوتی ہے، اسی لئے اشیاء کی تعریف میں ان کی موجودیت ، معلومیت سے مغلوب رہتی ہے۔خود چیزوں کے نام ہی ان پر ایسا جبر ہیں جس میں ان کے وجودی امکانات سے زیادہ ان کی علمی تعیین کو اہمیت حاصل ہوجاتی ہے۔
۴۔ عقل ِمحض کا مسلمہ ہے کہ حقیقت ِواحدہ کے اثبات کیلئے کثرت کے اصول پر قائم صورتوں کا انکار ضروری ہے۔یہ بھی ایک پہلو ہے شے پر شعور ِشے کے غلبے کا۔عقل چونکہ کثرت کا ایسا احاطہ نہیں کرسکتی کہ تمام افراد ِکثرت اپنے ہی اندر موجود کسی ایسی لڑی میں پروئے جاسکیں جو ان کے درمیان وجودی اور علمی انتشار نہ پیدا ہونے دے اور انہیں خواہ جدل و اختلاف کے انداز میںہو مگر ایک کلیت میں داخل رکھے۔ اس لئے عقل ایک ماورائی اصلِ واحد کے تصور کو پورے عالمِ کثرت پر منطبق کرنا چاہتی ہے۔ یہ اصلِ واحد خواہ صرف referential ہو، مؤثر نہ ہو۔
۵۔ یہاں حکمت تعقل کا نتیجہ ہے سماع کا نہیں، یعنی کہ یہ ذہن میں پھوٹنے والی نظر ہے، باہر سے ملنے والی خبر نہیں۔ عقلِ محض اپنے نتائجی تصور یعنی علم الشیء کی تشکیل و تکمیل میں اپنے غیر کی کمک تو لیتی ہے لیکن اس کی binding رہنمائی قبول نہیں کرتی۔ اس کا محرک ِعلم اور نتیجۂ علم دونوں اس کا اپنا بنا یا ہوا ہوتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ تصدیقِ حسی کو بھی اپنے تصور کی صحت کیلئے شرط بنا لینے سے اِبا کرتی ہے۔
۶۔ یونانی حکمت کے مطابق حقیقت یوں تو عقلی تجزیے کا نقطہ ٔ اتمام ہے یا پھر اپنے موضوع پر وارد ہوسکنے والے idea کی تشکیل ہے، مگر عقل کا تصورِحقیقت ،اشیاء سے پوری طرح ماخوذ نہیں ہوتا بلکہ ایک ماورائی منطق کے نتیجے میں قائم ہو کر اشیاء کیلئے ایک مستقل حکم بنتا ہے۔اگر کہیں حقیقت کی ذہنی تشکیل کیلئے شے کا تجزیہ ضروری بھی ہوجائے تو اس کی حیثیت عموماً ایک معاون عنصر کی سی ہوتی ہے جس سے ذہن کی تجربی استعداد کی تسکین کا سامان ہوتا ہے۔(۳)
۷۔ عقل کا ایک بنیادی تصور یہ بھی ہے کہ حقیقت علت العلل یا محرک ِاول ہے۔ Prime Cause ہوئے بغیر حقیقت کا ماقبلِ علم تصور قائم نہیں ہوسکتا۔یونانیوں میں نظامِ عالم ایک آرڈر order کی طرح ہے۔ اس آرڈر کا مبدا origin ذہن میں ہو تو علت العلل ہے اور وجود میں ہو تو محرک ِاول۔ یہ مبدا معروض (object) نہیں ہے بلکہ موضوع (subject) ہے، اسی وجہ سے یہ تصور ہی رہتا ہے ذہن کو correspond کرنے والا وجود نہیں بنتا۔ اس کی تاثیر فی الاشیاء کا واحد ذریعہ اور medium صرف عقل ہے ، کوئی وجودی حرکت نہیں جو اسے عقل کے علاوہ کسی اور faculty of consciousness کیلئے لائقِ حصول اور قابلِ تصدیق بناسکے۔
۸۔ یونانی روایت کا ایک حصہ ایسا ہے جو عقل کی تصور سازی پر انحصار نہیں کرتی بلکہ اس کے نزدیک عقل کا اصل ملکہ ایک ریاضیاتی منطق کی تشکیل ہے جس کے ذریعے سے وہ حقیقت پر استدلال نہیںکرتی بلکہ اسے اپنے باہر دریافت کرتی ہے۔ اس عقل کیلئے حقیقت ہندسی اور علامتی ہے، حسی اور لفظی (literal) نہیں۔ یونانیوں میں یہ وہ واحد رویہ ہے جو حقیقت کو محض ذہنی نہیں مانتا اسے فی الخارج موجود سمجھتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت ِموجود کوئی ذات نہیں ہے بس ایک امر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ امر ایک غیر ذہنی ماورائیت رکھتا ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ اس گروہ کے نزدیک وہ عقل جو حقائق کی حامل container ہے، انسانی نہیں ہے بلکہ کائناتی ہے۔(۴)
۹۔ عقل چاہے انسانی ہو یا مافوق الانسانی ، دونوں میں حقیقت اپنے جوہر میں کائناتی زیادہ ہے وجودیاتی اور ذہنی کم۔ یعنی حقیقت کا میدانِ عمل آفاقی ہے انفسی نہیں۔ اس سے نظمِ عالم کی تشکیل ہوتی ہے،نفسِ عالم کی نہیں۔ گو کہ افلاطون کے ہاں حقیقت کی ساخت اخلاقی ہے لہذا اس کے ہوتے ہوئے یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ حقیقت کی تاثیر نفس پر مرتب نہیں ہوتی تاہم اس معاملے میں افلاطون ایک تو اکیلا ہے اور دوسرے یہ کہ اس کا بھی جہانِ مثل (world of forms) ایک کائناتی آرڈر کی طرح ہے انفسی ideas کی طرح نہیں۔
۱۰۔ یونانی علامتیت (symbolism) میں حکمت کے اصل مواد یعنی حقیقت کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ حقیقت کائنات سے منتزع ہونے والا درست منطقی تصور ہے، یعنی ذہن کائنات کو مجموعہ ٔ علامات بنا کر جب یہاں کے اشارات کو ایک نقطے پر مرکوز ہوتا ہوا یا مرکوز کر کے دکھاتا دیتا ہے تو وہ نقطہ لا محالہ حقیقت ہے۔
۱۱۔ ارسطو کے ہاں حکمت کا اصل کام یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے یہ ثابت ہوجائے کہ حقیقت کا اصول تنزیہِ ذات transcendence نہیں ہے بلکہ سریان immanence ہے، بنابریں حقیقت اور صورت میں تعلق کل اور جز کا سا ہے۔ یعنی کل جز سے منزہ نہیں ہے لیکن کسی ایک جز میں سمایا ہوا بھی نہیں ہے۔(۵)
۱۲۔ حکمت تصوری یونانیوں کی مرکزی روایت ہے تاہم ان کے یہاں حکمت ِاخلاقی بھی آخری حد تک تکمیل یافتہ صورت میں نظر آتی ہے۔ اس حکمت میں حقیقت اور کائنات کے تعلق کو مغلوب رکھتے ہوتے حقیقت اور انسان کے تعلق کو مرکز بنایا گیا ہے۔ یعنی حقیقت کی حرکت ظہور ِ کائنات کے mechanics کو پیدا کرتے ہوئے انسان کی اخلاقی تکمیل پر منتج ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ حکمت ِاخلاقی کسی محکم مذہبی روایت سے محرومی کی حالت میں پنپ نہیں سکتی اس لئے یہ روش یونانی عقلی روایت میں ایک جزیرے کی طرح تو نظر آتی ہے لیکن اس سمندر کی مواجی میں شریک دکھائی نہیں دیتی۔ اس کا احیا یونان سے باہر نکل کر ہوا جہاں حکمت ِاخلاقی کو ایک مذہبی پس منظر بھی حاصل ہوا۔

حکمتِ ایمانی:
حکمتِ یونانیاں کے ان بنیادی نکات کے بیان کے بعداب حکمتِ ایمانیاں کے اصول و مبادی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ حکمتِ ایمانیاں کی ترکیب ہی سے یہ ظاہر ہے کہ یہ حکمت وحی کی سرپرستی میں پروان چڑہتی ہے اور اسی کے بتائے ہوئے وجودِ حقیقت سے خود کو شعور کی تمام صلاحیتوں (faculties) کے یکسو اجتماع کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی سعی کرتی ہے۔ بالفاظ ِدیگر یہ حکمت ایمان کی علمی تشکیلات کا فریضہ انجام دیتی ہے ۔ اس روایت میں حکمت کی بنیادی تعریفات کچھ یوں ہیں:

۱۔حقیقت کا صورت سے برتر ہونا ، رفیع تر ہونا ، عقل کی جس صلاحیت سے متحقق realize ہوتی ہے اسے حکمت کہتے ہیں۔ یعنی حقیقت جو ہرِوحدت ہونے کی جہت سے عالمِ کثرت پر تصرف کرتے ہوئے اس سے مطلق ماورائیت کی حالت میں ہے۔ اس اصول کو جاننا حکمت ہے۔
۲۔ حکمت عقل کے انفعال (passivity) سے پیدا ہوتی ہے۔ عقل اگر منفعل نہ ہو تو علم کی تشکیل کا عمل مکمل ہو ہی نہیں سکتا، نہ اجمال میں نہ تفصیل میں۔ جب کہ حقیقت کے علم میں آنے کی شرط ہی یہ ہے کہ ذہن اس کو تصور سازی کا موضوع نہ بنائے اور اسے اس کی اپنی صورتِ انکشاف کے ساتھ پوری طرح قبول کرے اور نہ اسے کسی تفصیل کا محرک بنائے اور نہ کسی علم کا سبب۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ حقیقت کا انکشاف فی الذہن مجمل ہوتا ہے، اصولی ہوتا ہے اورحجت binding ہوتا ہے۔ یہ تمام اوصاف ذہن کی کسی بھی نوع کی کارکردگی سے ضائع ہو سکتے ہیں۔
۳۔ حکمت عقل کے انفعال سے محض پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کا جوہر انفعال ہے جو اسے حضورِ حقائق میں رہنے کے قابل بناتا ہے، جب کہ فلسفہ حقائق ایجاد کرتا ہے، خودمختاری کے ساتھ کسی پیشگی شرط کی پابندی کئے بغیر۔ عقل کے دو چینلز ) (channels ہیں: حصول اور حضور۔ حصول صورت کا ہوتا ہے ذہن کی فعلیت کے ساتھ، حضور حقیقت کا ہوتا ہے ذہن کے انفعال کے ساتھ۔ حصول حجت (binding) نہیں ہوتا حضورحجت binding ہوتا ہے۔
۴۔ حکمتِ ایمانی میں حقیقت الحقائق سے مراد ذات ِحق ہوتی ہے، کوئی امرِکلی نہیں۔ یہاں حکمت کا اصل میں مطلب یہ ہے کہ حق پر ایسی شدت اور وسعت کے ساتھ توجہ مرکوز کی جائے کہ تمام عالمِ خلق اس کے دائرے میں سما جائے، یعنی توجہ الی الحق ہمیں اس قابل بنادے کہ ہم خلق کا اصولی علمی اور وجودی احاطہ کرسکیں، یعنی پورے نظام ِہستی اور کل عالمِ صورت اور اور کل وجود و شعور اور انفس و آفاق کا احاطہ ہوجائے۔
۵۔ حکمتِ ایمانی یہ ہے کہ شعورِ حق غالب آجائے حضورِخلق پر ۔ یعنی اشیاء کا علم خواہ کتنا ہی حسی اور clinical کیوں نہ ہو حق کی معرفت کے زیرِ سایہ ہو اور اس میں ترقی ا ور مزید تیقن کا ذریعہ بنے۔
۶۔ حکمت کا مطلب ہے وحدت فی الکثرت کا واجب الاثبات اور موجب ِتسلیم عرفان، یعنی عقل کا علم ِاشیاء چاہے شے کے بارے میں کسی علم کو کامل نہ بناسکے لیکن خالقِ اشیاء کے وجود پر ایک محکم شہادت ضرور حاصل ہو جائے۔
۷۔ حکمت کائنات کو ایک ہی تعریف سے define کرنے کاملکہ ہے۔ یہ ذہن ِانسانی کی غالبا سب سے بڑی تمنا ہے کہ وہ چیزوں کو ایک ہی definition کے تحت لانے میں کامیاب ہو جائے۔ اس کے نتیجے میں ذہن کا وہ تقدیری خواب پورا ہوسکتا ہے جس کی رو سے وجود اور شعور ایک ہیں۔ حکمتِ ایمانی اس آرزو کو عقیدہ ٔ حق سے پورا کر دکھاتی ہے۔
۸۔ وحی کو مادہ تعقل بنانا حکمت ہے۔ یعنی حقیقت کے بارے میں تمام ناقص یا کامل علوم و معارف، وحی کی واضح یا اشاراتی رہنمائی میں تشکیل دیئے جائیں۔
۹۔ حکمتِ ایمانی کی بہت بڑی غایت یہ ہے کہ حقیقت الحقائق کے self-disclosure کو پہچان کر، اچھی طرح تسلیم کر کے، اس کے ساتھ مستقل اور تخلیقی رابطے کے زمانی مکانی structure کو تعمیر کرتے جانا۔ یعنی تعلق مع الحق کو فکر اور عمل کی دنیا میں نتیجہ خیز حالت کے ساتھ برقرار رکھنا اور اس کی بنیاد پر تصورات اور افعال کے تمام محرکات کا علم اور ان پر دسترس حاصل کرنا۔
۱۰۔ حکمت عقل کا وہ ملکہ ہے جو کسی Meta Narrative کی فی الذہن تشکیل کیلئے اور فی الوجود تعمیر کیلئے درکار ہو۔ اس درجے پر حکمت ذہنی سے زیادہ روحانی ہے اور عقلی سے زیادہ وجودی ۔ حکمت جب عقل کے خاصّے تک محدود نہ رہے اور شعور کی مجموعی حالت کی حیثیت اختیار کرے تو پھر اس کا وجود محض ذہنی نہیں رہتا بلکہ یہ شعور اور وجود کی یکجائی کا ایک فعال حال بن جاتی ہے۔ دوسری طرح سے کہیں تو حکمتِ ایمانی، مجموعی شعور کا مستقل حال ہے جو شعور کی تمام faculties میں سرایت کیے ہوئے ہے اور ان کیلئے تسکین بخش fulfilling ہے۔
۱۱۔ شعور و وجود کی عینیت کا ذکر اوپر آچکا ہے، اس پس منظر میں دیکھیے تو حکمت وہ استعدادِ نہائی ہے جو اس عینیت کے تجربے سے گزرجانے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس مرتبے پر حکمت معنی کو صورت اور صورت کو معنی دینے کا کام کرتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں سے بلند ہوجانے کو بھی برسر ِ عمل رکھتی ہے تاکہ حق کے ساتھ اس کی حضوری حالت کمزور یا معطل نہ ہونے پائے۔ یہ حضور جو حق کی purity سے تعمیر ہوتا ہے، حکمت کا اصولی محتوی principle content ہے۔
۱۲۔ فلسفے کی طرح حکمتِ ایمانی بھی شعور کو شے پر غالب رکھتی ہے۔ لیکن فلسفے میں اس غلبے کی صورت دوسری ہے، وہاں شے کا شعور نفسِ شے پر غالب ہے۔ حکمتِ ایمانی شعورِ حق کو نفسِ خلق پر حجت بناتی ہے۔ یہ بہت بنیادی فرق ہے۔ کیونکہ وہاں شے کا شعور تصور ہے اور یہاں حق کا شعور خود حق کی طرف سے فراہم کیا ہواہے جسے ذہن کامل انفعال کے ساتھ تسلیم کرکے اس کی بنیاد پر اپنی فعلیت کے تمام modes متعین کرتا ہے۔(۶)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ فلسفہ یا حکمتِ یونانی عقل پر انحصار کرنے کی وجہ سے ذہن کی فعلیت سے ماورا ہونے کا نہ کوئی تصور رکھتی ہے نہ اسے اس کی قدرت میسر ہے۔ کیونکہ عقل فعلیتِ محض ہے اور یہ تحقیق و ادراک کی کسی بھی سطح پرا پنی فعلیت سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔ اس کا پورا نظام المعنی اس کی فعلیت سے مشروط ہے۔ اسی وجہ سے یونانی روایت میں حقیقت معقول Rational ہوتی ہے۔ یعنی صورتوں کی تجرید کرکے دریافت یا ایجاد ہوتی ہے۔ یہ بات جاننا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے کہ صورتوں کی تجرید Abstraction صورت کے دائرے سے باہر نکلنے کا عمل نہیں ہے بلکہ اس دائرے کی توسیع ہے۔ اسی وجہ سے عقل مابعد الطبیعی مباحث میں کوئی کردار ادا کرنے کے لائق نہیں ہے کیونکہ ان مباحث سے کسی بھی قسم کی نسبت پیدا کرنے کیلئے دائرہ ٔصورت سے اوپر اٹھنا اور ذہن کی منفعل حالت ضروری ہے اور یہ دونوں شرائط ایسی ہیں کہ عقل انہیں قبول کر ہی نہیں سکتی۔ یہ صورت سے کسی بھی مقصودِ علمی کو حاصل کرنے کیلئے منقطع نہیں ہوسکتی کیونکہ اس شکل میں اس کا صورت پر تصرف معطل ہوجائے گا۔ دوسری طرف حکمتِ ایمانی میں حقیقت کا شعور تحقیق (Realization) کا پھل ہے۔ جس میں شعور قبولیتِ حق کیلئے درکار مطلوبہ انفعال کی سطح پر پہنچا ہوا ہوتا ہے۔ یہ وہ درجۂ ادراک ہے جہاں شعور کسی خارجی امر کا احاطہ پیدا کرنے والا اعتماد تو نہیں رکھتا لیکن خود اپنی غایت اور حقیقت سے آگاہ ہو کر اپنی تکمیل کرلیتا ہے۔ یعنی آپ ہی محیط اور آپ ہی محاط بن جاتا ہے۔ یہ شعور کا وہ حال ہے جو اسے حقیقت سے علمی نسبت رکھنے کے لائق بنادیتا ہے اور اسی کی بنیاد پر حقیقت کے ماننے میں اسے جاننے کا عنصر بھی داخل ہوجاتا ہے۔ حقیقت کو ماننے کا مادہ عقل میں بھی ہوتا ہے لیکن عقل اس تسلیم کو نتیجہ ٔ علم بنا لینے پر مصر رہتی ہے، یعنی ماننے کوجاننے کے تابع رکھتی ہے۔ اور چونکہ موضوع اگر حقیقت ہو توماننے کا حال جاننے کے عمل کی ماتحتی قبول نہیں کرسکتا اور جاننے کے تمام structures ایمان اور تسلیم کی روشنی میں بنتے ہیں، اس لئے حقیقت اور شعور کے لزومی تعلق کے تقاضے حکمتِ ایمانی ہی سے پورے ہوسکتے ہیں۔ حکمتِ ایمانی کا محتوی عقل کی طرح تغیر و تبدیلی کی زد میں نہیں رہتا۔

آخر میں یہ بات کہنی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ حکمتِ ایمانی و یونانی کا یہ تقابل کسی اعتقادی فضا میں کرنے کی بجائے بہتر ہوگا کہ شعور کے تجزیے کی بنیاد پر ہو۔ اس معاملے میں ہمیں خاصی تحقیق کی ضرورت ہے۔

حواشی:

(۱)۔ حکمت کی تعریفات میںبہت تنوع ہے۔ شیخ الاشراق شہاب الدین سہروردی کے نزدیک حکمت کی دو بنیادی قسمیں ہیں۔ حکمتِ ذوقی جو اہلِ عرفان و شہود سے خاص ہے، اور حکمتِ بحثی جو اصحابِ فلسفہ و منطق کے ہاں پائی جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کا موضوع حقیقت ہی ہے۔ دیکھیے:ــ دیباچہ حکمت الاشراق، علامہ قطب الدین شیرازی، حکمت الاشراق شیخ شہاب الدین سہروردی مقتول، اردو ترجمہ: مرزا محمد ہادی لکھنوی، ص ۱، دارالطبع، جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن، ۱۹۲۵ ۔
(۲)۔ اس حکمت کو حکمتِ نظری یا عقلی کہتے ہیں۔ اس میں عقیدے یا شریعت سے مطابقت کو پیشِ نظر نہیں رکھا جاتا۔ “حکیم آنکسے ھست کہ میخواہد از راہِ دلیل و برہان حقایقِ اشیا را بفھمد چہ مطابق با شرع باشد یا نباشد”۔ (حکمتِ قدیم، محمدحسین فاضل تونی، انتشاراتِ مولیٰ، تہران، ص۱۔)
(۳)۔اس نکتے کی تفصیل کے لیے دیکھیے:Windelband, Wilhelm.A History of Philosophy, Vol 1, “Philosophy of the Greeks”, pp 55-65. New York: Harper & Brothers Publishers,1958.
(۴)۔ اس نکتے کی تفصیل کے لیے دیکھیے:Windelband, A History of Philosophy, Vol 1, Part 2, Ch. 3 “The Systematic Period”, “The System of Idealism”, pp 116-31.
(۵)۔ دیکھیے: Aristotle, Categories,4. Substance, The Basic Works of Aristotle, trans. E. M. Edhill, Newyork: Random House, pp 9-14.
(۶)۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: کشاف اصطلاحات الفنون، محمد تھانوی، الحکمۃ ص: ۷۔۵۰۶، اور الحکیم، ص: ۹۔۵۰۷، مکتبہ نعمانیہ، کوئٹہ۔ کتاب التعریفات، شریف الجرجانی، اندراج: الحکمۃ، ص ۶۶، مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔

(Visited 84 times, 1 visits today)

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: