سجاول خان رانجھا کی یادیں — زاہد ایوبی

0

8 ستمبر 2020ء کو معروف صحافی، ادیب اور دانشور سجاول خان رانجھا انتقال کر گئے۔

فوتیدگی میں اداسی کا ماحول ضرورہوتا ہے لیکن میت کو جس اہتمام اور پروٹوکول سے جنازہ گاہ لایا جاتا ہے‘ وہ بالعموم بڑا شاندار ہوتا ہے۔کلمہ طیبہ اور دیگر آیات سے کشیدہ کاری کی گئی سیاہ یا سبز رنگ کی خوبصورت سی چادرایک پنگھوڑا نما چارپائی پر پڑی ہوتی ہے جسے میت کے عزیزو اقارب ایک ڈولی کی طرح اٹھائے ہوتے ہیں۔ باقی لوگ اس کے ساتھ ادب سے سرجھکائے چلتے ہیں جن پر وقتاً فوقتاً عرق گلاب سے چھڑکائو بھی کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ہٹو بچو‘ آرام سے چلو‘ سر قبلے کی طرف رکھو اور کلمہ شہادت کی صدائوں کے ساتھ اسے جنازہ گاہ لایا جاتا ہے۔تاہم یہاں بظاہر ایسا کوئی ماحول لگ نہیں رہا تھا۔ جس سادگی اوربے نیازی سے انہوں نے زندگی گزاری تھی‘ ان کی رخصتی بھی اسی انداز کی تھی۔

سجاول خان رانجھا صاحب سے ربع صدی پر محیط تعلق کی ابتداء 1995ء میں اس وقت ہوئی جب وہ اسلام آباد میں ایک علمی و تحقیقی ادارے کے تحت چھپنے والے جریدے ’’دینی صحافت‘‘ کے مدیر تھے۔ ان کی زیر ادارت چھپنے والا رسالہ دینی صحافت اپنی نوعیت کا ایک منفرد سا رسالہ تھا جس میں پاکستان میں بسنے والے تمام اہم مکاتب فکر کے جرائد کا احاطہ کیا جاتا۔ اس میں بتایا جاتا کہ گزشتہ ماہ کن قومی‘ بین الاقوامی یا مذہبی معاملات کو شیعہ‘ سنی‘ بریلوی‘ دیوبندی اور اہلحدیث رسالوں نے کس زاوئیے سے لیا‘ ان پر گفتگو کرتے ہوئے اُن کا لب و لہجہ کیسا رہا‘ نیز مخالف فرقے کے بارے میں کیسی زبان استعمال کی گئی وغیرہ وغیرہ۔ یہ رسالہ تمام مکاتب فکر کو ہر ماہ نہ صرف آئینہ دکھاتا بلکہ اس سے انہیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کا مخالف کیا سوچ رہا ہے اور اس کی سرگرمیاں کیاہیں۔ مزید برآں یہ تمام مکاتب فکر کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم بھی مہیا کر رہا تھا۔ علمائے کرام، مذہبی رسالوں کے مدیران اور قارئین رانجھا صاحب کے پاس اکثر حاضر ہوتے۔ ان کے لئے تحفے تحائف لاتے، ان سے گفتگو اور بحث مباحثہ بھی کرتے۔ اگر کسی ایک ہی رسالے میں آپ کو پاکستان کے مذہبی حلقوں کی نمائندہ سوچ کا پتا چل جائے تو یہ اس موضوع پر دلچسپی رکھنے والوں اور پالیسی سازوں کے لئے یقیناً ایک نعمت سے کم نہیں ہوگا۔

’’اینیمل فارم‘‘ جیسے شہرہ آفاق ناول کے خالق جارج آر ویل کا کہنا ہے کہ اچھی تحریر کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ دانشورانہ بزدلی ہوتی ہے۔ یہ بات بالکل درست بات ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے مصنفین اپنی تحریروں میں مرقع و مسجع الفاظ‘ محاورات اور اصطلاحات کا ڈھیر لگا دیتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اثر سے خالی ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں اگر ہم رانجھا صاحب کو دیکھیں تو ان کی فکر اور انداز سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ان کی تحریروں پر فنی اعتبار سے سوالات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن میں نے گزشتہ پچیس سالوں میں نہیں دیکھا کہ انہوں نے کسی بات کو صحیح سمجھا ہو اور پھر اس پر ڈٹ نہ گئے ہوں۔ وہ حریت فکر اور اس کے اظہار کے قائل ہی نہیں‘ اس پر عامل بھی تھے اور انہوں نے زندگی میں اس کی بھاری ہی نہیں منہ مانگی قیمتیں بھی ادا کیں۔اگرچہ میری اور مجھ جیسے کئی اور دوستوں کی رائے ہے کہ بہت سی جگہوں پر انہیں مصلحت اور مصالحت اختیار کرلینا چاہئے تھی لیکن وہ تو رانجھا تھے اور اس نام کے افسانوی کردار کی مانند اپنے عشق کے لئے سب کچھ تج دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ اہم بات یہ کہ وہ ایسا ہی حق اپنے ماتحتوں کو بھی دیتے تھے۔

رانجھا صاحب کے ایک کان کی سماعت متاثر تھی۔ شاید کچھ لوگوں کو اس کا علم ہو لیکن اکثرنہیں جانتے ہوںگے کہ انہوں نے اپنے کان کا پردہ وطن عزیز کی محبت میں قربان کر دیا تھا۔ انہوں نے ایک دفعہ اس کی تفصیل بھی بتائی۔ چونکہ کافی عصہ گزر چکا ہے‘ اس لئے اگر جزئیات میں کچھ کمی بیشی ہو گئی ہو تو معذرت۔ انہوں نے یہ کہانی کچھ یوں سنائی تھی:

’’جب میں جرمنی میں بسلسلہ تعلیم موجود تھا تو پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی۔اس زمانے میں مصطفیٰ کھر پیپلز پارٹی کے ایک اہم راہنما تھے۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کرتے اور پاکستانیوں سے اپنے خطاب میں کہتے کہ وہ اپنے ملک میں زرمبادلہ بھیجنا بند کر دیں۔ کھر صاحب کا خیال تھا کہ اس سے جنرل ضیاء الحق کی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور جمہوریت کی بحالی میں مدد ملے گی جبکہ میں اسے ملک دشمنی سمجھتا تھا۔ میں اس وقت وہاں اسلام پسند طلبہ تحریک کے ساتھ وابستہ تھا۔ میں نے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں کھرصاحب کے اس روئیے پر احتجاج کرنا چاہئے لیکن وہ اس پر تیار نہ ہوئے۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ یہ کام میں اکیلے ہی انجام دوں گا۔ میں نے ایک پمفلٹ تیار کیا جس کی سرخی ’شیر پنجاب کو خوش آمدید‘ تھی جبکہ نیچے تحریر میں ان پر شدید تنقید تھی۔ میں نے پمفلٹ ایک تھیلے میں ڈالے اور ان کے جلسے میں پہنچ کر خاموشی سے انہیں شرکاء میں تقسیم کر دیا۔

لوگوں نے تحریر کی سرخی سے سمجھا کہ یہ اپنا ہی کوئی کارکن ہے لہٰذا میری طرف مسکرا مسکرا کر دیکھتے لیکن جب انہوں نے اس کی تفصیل پڑھنا شروع کی تو ان کے چہروں کے تاثرات بدلنا شروع ہوگئے۔ وہ انگلیوں سے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں میری طرف اشارے کرتے لیکن بدمزگی سے بچنے کے لئے انہوں نے مجھے کچھ نہ کہا۔ جب مصطفیٰ کھرخطاب کے لئے کھڑے ہوئے تو میںبھی اپنی نشست پر کھڑا ہو گیا اور باآواز بلند پکارا: ’جناب کھر صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ…‘‘ اب منتظمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ ان کے اشارے پرکچھ نوجوان مجھ پر لپکے اور مجھے مکوں اور لاتوں پر رکھ لیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ کب تھما‘ اس لئے کہ اس دوران میں بیہوش ہو چکا تھا۔ جب ہوش آیا تو ایک بنچ پر لیٹا تھا اور میرے کان کا پردہ پھٹ چکا تھا۔‘‘

رانجھا صاحب ابتدائی طور پر مولانا مودودی کی فکر سے متاثر تھے۔ جماعت اسلامی کے لٹریچر میں ایک واقعے کا ذکر ملتا ہے کہ ایک شخص کسی عالم دین کی تقریر سن کر مولانا مودودی کو قتل کرنے کی نیت سے ان کی عصری مجلس میں پہنچ گیا۔ وہاں اس نے مولانا کی گفتگو سنی تو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس نے اپنا خنجر نکال کر مولانا کے سامنے رکھ دیا اور اپنے آنے کا مقصد بھی بتا دیا۔وہ بہت دور سے آیا تھا اور اس نے کچھ کھایا پیا بھی نہ تھا لہٰذا مولانا نے ساتھیوں سے کہا کہ اس کے کھانے کا بندوبست کریں۔ رانجھا صاحب نے بتایا کہ وہ اس مجلس میں موجود تھے اور جب اس شخص نے خنجر نیچے رکھ دیا تو انہوں نے اسے اٹھا کر قالین کے نیچے چھپا دیاتھا۔

جرمنی کے تجربے کے بعد اگرچہ جماعت اسلامی کے ساتھ ان کاتنظیمی تعلق باقی نہیں رہا تھا لیکن وہ اس کے ساتھ شدید ہمدردی رکھتے۔ انہوں نے اپنے طور پراس موضوع پر تحقیقی کام شروع کیا کہ جماعت اسلامی اپنے کارکنوں کے بے پناہ اخلاص‘ غیر معمولی دیانتداری اور تحریک کے ساتھ والہانہ وابستگی کے باوجود سیاسی میدان میں کامیاب کیوں نہ ہو سکی۔ اس پر مرکزِ جماعت نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا جس کی بازگشت ان کے ادارے آئی پی ایس میں بھی سنائی دی گئی۔ دفتر کی طرف سے انہیں کہا گیا کہ وہ یہ سلسلہ بند کر دیں‘ لیکن وہ تو رانجھا تھے‘ کسی سے کہاں رک سکتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے دینی صحافت میں جماعت اسلامی کی پالیسیوں پر تنقیدی اداریہ لکھاجس کے چھپنے کی نوبت نہ آسکی۔ جب ان کا ایک اور مضمون چھپنے سے روک دیا گیا تو انہوں نے اسے روزنامہ پاکستان میں اپنے ہفتہ وار کالم میں چھاپ دیا۔ اب ادارے کے منتظمین کاپیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور رانجھاصاحب کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اگرعقل و خرد کی مانی جائے تو وہ غلطی پر تھے‘ اس لئے کہ وہ ادارے کے ملازم تھے اور جریدہ بھی ادارے کی ملکیت تھا لیکن وہ تو عشق کو امام کئے ہوئے تھے لہٰذا اپنی گودڑی اٹھائی اور چل دئیے۔ آج کے دور میں یہ گوہر اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے‘ اس لئے کہ جب معاملہ ذریعہ معاش کے چھن جانے کا ہو تو بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔

کچھ عرصہ بعد وہ روزنامہ اساس راولپنڈی کے ساتھ وابستہ ہوگئے اور اس کے ہفت روزہ ’’افتخار ایشیاء‘‘ کے مدیر بنے۔ یہ ایک نیم مردہ رسالہ تھا جس میں انہوں نے اپنی محنت شاقہ سے جان ڈال دی۔ اب ان کاہدف نظریاتی مباحث نہیں بلکہ لوگوں کے سماجی اور نفسیاتی مسائل پر گفتگو تھی۔ یہاں ان پر کسی قسم کو کوئی قدغن نہیں تھی اور وہ جو چاہتے‘ جیسے چاہتے ‘ لکھتے تھے۔ اسی اثناء میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ظہیر احمد نے انہیں تعلیم اور صحت پر دو رسالے جاری کرنے اور ان کا مدیر بننے کی پیشکش کی۔ یوں رانجھا صاحب کی ادارت میں جون 2000ء میں شفانیوز انٹرنیشنل اور جولائی 2000ء میں تعمیرملت نیوز انٹرنیشنل کے نام سے دو جرائد کا آغاز ہوا۔

جرائد اگرچہ صحت اور تعلیم کے موضوع پر تھے لیکن ان کی زیادہ دلچسپی‘ مذہبی اور فلسفیانہ مباحث میں تھی۔ اپنے دفتر میں وہ روزانہ تلاوت قرآن‘ اس کے ترجمے اور پھر بحث و مباحثہ کااہتمام کرتے۔ اس میں ہر فرد کو کھل کر بولنے کی آزادی ہوتی۔ چونکہ دفتر میں مختلف الخیال لوگ موجود تھے لہٰذا بحث کبھی دھواں دھار شکل بھی اختیار کر لیتی۔ ایک دفعہ کسی مخبر کے کانوں میں ایک آدھ جملہ پڑ گیا اور اس نے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر ظہیر احمد مرحوم سے شکایت کی کہ اس محفل میں خدا کے خلاف باتیں ہوتی ہیں لہٰذا اسے بند کرایا جائے۔ بعدازاں جب انہیں بتایاگیا کہ ایساکچھ نہیں تو وہ مطمئن ہو گئے‘ تاہم ان کا خیال تھا کہ یہ کم از کم وقت کا ضیاع ضرور ہے۔ ٹیم کے بعض ارکان نے بھی اس سلسلے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن رانجھا صاحب اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ ذہنی اور فکری تربیت ان لوگوں کے لئے اشد ضروری ہے جو رائے عامہ کی تشکیل اور ذہن سازی جیسے اہم شعبے سے تعلق رکھتے ہوں۔ اور اس تربیت کے لئے اس طرح کی کھلی بحثیں ضروری ہیں۔

اسی عرصے میں رانجھا صاحب نے شعوری یا لاشعوری طور پر اللہ تعالیٰ سے ایک خاص قلبی تعلق بھی قائم کر لیا جس کا اظہار ان کی گفتگوئوں میں اکثر و بیشتر ہوتا۔ وہ مجلس ادارت کے ارکان سے کہتے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی تحریروں میں ضرور لایا کریں۔ وہ کہا کرتے کہ میں مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا انٹرویو کرنا چاہوں گا۔ میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں جو میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے پوچھنا چاہوں گا۔ اگر میں جنت چلا جائوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے کہیں کہ مانگو‘ کیا مانگتے ہو تو میں پوچھوں گا کہ کیا مجھے یہاں ایک رسالہ جاری کرنے کی اجازت ہے ؟اس طرح کی گفتگوئیں کرتے ہوئے وہ خلاء میں کہیں کھو سے جاتے اور یار لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کرتے اور باہر آکر ان کی معصومانہ سی خواہشات پر ہنستے۔

رانجھا صاحب کا فکری ارتقاء پوری قوت اور رفتارسے جاری تھا۔ اب ان کی رائے یہ بنی کہ سکہ بند مذہبی سوچ مسلمانوں کی راہنمائی نہیں کر سکتی لہٰذا اس کی نئے زاویوں سے تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ان کی نگاہ گوجرخان میں رہائش پذیر مفکر‘ سکالر اور صوفی پروفیسر احمد رفیق اختر پر پڑی۔ وہ پروفیسرصاحب کے خیالات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ ان کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کا مرکزو محور بن گئے۔ اب وہ باقاعدگی سے گوجر خان جاتے‘ ان کے خیالات ریکارڈ کرتے اور پھر انہیں قلمبند کرتے۔ انہوں نے ’’پس حجاب‘‘، ’’بست و کشاد‘‘ اور ’’اٹھتے ہیں حجاب آخر‘‘ کے نام سے ان کے خیالات پر مبنی تین کتابیں بھی لکھ ڈالیں۔

پروفیسراحمد رفیق اختر سے ملاقاتوں میں انہوں نے ایک نیا شوق بھی پال لیا‘ اور وہ تھا کائنات کے اسرار جاننا۔ وہ انٹرنیٹ پر ستاروں اور سیاروں میں گھومتے رہتے اور اپنی ٹیم کو بھی گھمانے کی کوشش کرتے لیکن کم ہی کوئی اس میں دلچسپی لیتا۔ پروفیسرصاحب کے خیالات جب شفانیوز اور تعمیرملت نیوز میں زیادہ جگہ پانے لگے تو چیف ایڈیٹر نے اسے پسند نہ کیا۔ ادارتی پالیسی سمیت دیگر انتظامی اور شخصی امور پر اختلافات رونما ہونے لگے اور بالآخر 2005ء میں ایک دفعہ پھر انہیں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی ادارت اور پروفیسر صاحب کی امامت میں ’’ادراک‘‘ کے نام سے ایک پرچہ بھی نکالا‘ لیکن اب کچھ زیادہ سیانے لوگ پروفیسرصاحب کو اپنے حصار میں لے چکے تھے۔ اُن سے نہ صرف ادراک کی ادارت واپس لے لی گئی بلکہ ان کی تحریرکردہ تین کتابوں کو دوبارہ کچھ اس انداز سے چھاپا گیا کہ ان پر سے رانجھاصاحب کا نام ہی غائب تھا۔ رانجھا صاحب اس سے رنجیدہ ہوئے اور چپکے سے آستانے سے بھی کوچ کر آئے۔ اس کے بعد انہوں نے ممتاز صحافی خلیل ملک مرحوم کے رسالے کی ادارت سنبھالی لیکن کچھ ہی عرصے بعد ملک صاحب فوت ہو گئے۔ اب رانجھا صاحب نے طے کیا کہ وہ ’’نوکری‘‘ نہیں کریں گے لہٰذا انہوں نے ’’اقدارِ ملت‘‘ کے نام سے اپنا پرچہ نکالا جو کسی نہ کسی شکل میں ان کی وفات تک جاری رہا۔ وہ خود ہی اس کے ایڈیٹر‘ سب ایڈیٹر‘ کمپوزر اور شعبہ ترسیل و اشتہارات کے انچارج تھے۔ میگزین چھپنے کے بعد وہ خود ہی اسے بیچنے نکل کھڑے ہوتے اور میلوں پیدل چلتے۔ جب وہ شفا نیوز کے مدیر تھے تو اپنی ٹیم سے ہمیشہ کہا کرتے کہ محنت‘ دیانت اور اہلیت کو اپنا شعار بنا لو‘ زندگی میں کبھی مار نہیں کھائو گے۔ خود انہوں نے زندگی میں بہت مار کھائی جس کا بڑا سبب ایک طرف ان کا مخصوص مزاج تو دوسری طرف ان کے اصول تھے جن پر وہ کبھی لچک دکھانے کو تیار نہ ہوتے۔

فکری ارتقاء میں رانجھا صاحب کا اگلا پڑاو یہ سوچ تھی کہ کسی طرح انسانوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا جائے۔ وہ ذہنی تنائو سے باہر نکلیں، امید اور حوصلہ پکڑیں اور گھسی پٹی چیزوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے نئے راستے تلاش کریں۔ اس سلسلے میں انہوں نے یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے اور نئی کتابیں لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جن کی تعداد کم و بیش دو درجن ہے۔ اب یہی موضوع ان کا اوڑھنا پچھونا تھا جس پر وہ آخری سانس تک کاربند رہے۔

اگست 2020ء میں ان کی اہلیہ محترمہ زاہرہ خان رانجھا نے فون پر بتایا کہ سجاول صاحب بیمار ہیں اور راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر ِ علاج ہیں۔ ان سے ملنے گئے تو ان کے تیماردار رشتہ داروں نے بتایا کہ آج ان کی حالت کچھ بہتر ہے‘ ورنہ کل تک وہ کسی سے بات چیت نہیں کر سکتے تھے۔ وہ بولنے کے موڈ میں تھے۔ کہنے لگے: ’’میں اللہ تعالیٰ سے صرف ایک چیز چاہتا ہوں‘ اور وہ یہ کہ مجھے اس وقت تک زندگی کی مہلت دی جائے جب تک میں کتابوں کا اپنا پروجیکٹ مکمل نہ کر لوں۔ مجھے اس کام پر اللہ تعالیٰ نے خود ہی لگایا ہے اور اس سے میرا مقصود پیسے کمانا نہیں ہے۔ میں صرف اتنا چاہوں گا کہ میرے مرنے کے بعد اہلیہ کا چولہا جلتا رہا جبکہ باقی ساری آمدن کسی نہ کسی شکل میں لوگوں کو لوٹا دی جائے۔‘‘ ابھی انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ گارڈ نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب رائونڈ پر ہیں لہٰذا آپ لوگ باہر تشریف لے جائیں۔ یوں ہم نے ان سے اجازت لی۔ یہ ان کی زندگی میں ان سے آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ اب وہ رب کے حضور پہنچ چکے۔ انہوں نے یقیناً اللہ تعالیٰ سے اپنا انٹرویو کر لیا ہو گا‘ اپنے تمام سوالات پوچھ لئے ہوں گے اور ان کے تشفی جوابات بھی پائے ہوں گے۔

نمازِجنازہ کے بعد ہم دوست ایک نیم دائرے میں کھڑے ان کے ساتھ گزرے لمحات کو یاد کر رہے تھے۔ آئی پی ایس کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن کہنے لگے کہ سجاول صاحب بہت اچھے اور منفرد انسان تھے۔ ان کے ساتھ اتفاق بھی رہا‘ اختلاف بھی ہوا اور راستے بھی جدا ہوئے لیکن ان کی لگن کی داد دینا پڑے گی۔ وہ اپنی دھن کے پکے تھے اور جو کچھ ایک دفعہ طے کر لیتے‘ اس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹتے تھے اور اس کے لئے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں۔

میں جب ان کی زندگی اور شخصیت کو دیکھتا ہوں تو کبھی کبھی سوچتاکہ ممتاز مفتی اپنی زندگی میں شاید انہی کی طرح کے انسان ہوں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20