نوجوانوں سے کچھ فکر انگیز باتیں —– احمد جاوید

0

اس ملک کی نظریاتی، تہذیبی، معاشی، تاریخی بقا اسی وقت ہی ممکن ہے جب اس ملک کے نوجوان ہمارے تصورات کو ایکچوئیلاز Actualize کریں کیونکہ نوجوان ہی ایکچوئیلازر ہوتے ہیں۔ میں نوجوانوں کو کوئی نصیحت نہیں کر رہا کیونکہ نصیحتیں ذہن کے بہترین حصے کو بیدار نہیں کرتیں، یہ رسماً کی جاتیں ہیں اور رسماً سنی جاتی ہیں، ان میں انہماک اور آمادگی نہیں ہوتی۔ ہر شخص کو اپنے اندر سے خود بخود ابھرنے والی بات کو عمل میں لانا چاہیے جیسے تاریخ انسانی کا بڑا فلسفی اور استاد سقراط کہتا ہے کہ میں مکالمے کے ذریعے تمہارے اندر کی بات کو باہر لاتا ہوں۔ اس تناظر میں، میں ایک بات عرض کرتا ہوں کہ آج نوجوانوں کو یہ باور کرنا ہوگا کہ انکی ضرورتیں ہم سے اس قدر وابستہ نہیں ہیں جس قدر ہماری ضرورتیں انکی توجہ چاہتی ہیں۔ ہماری بقا اس بات سے مشروط ہے کہ ہم اپنی بقا کی طرف عملا ً متوجہ ہو جائیں۔

سیاق و سباق کے بغیر چیزیں انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں اور ہمارا سیاق و سباق، ہماری باوقار، خوشحال اور ہماری ذہنوں کو سیراب کر دینے والی قومی بقا ہے۔ اب انسان اپنی انسانیت کے ساتھ گلوبلائز نہیں ہو رہا بلکہ اپنی ڈی ہیومنائزیشن کے ساتھ گلوبلائز ہو رہا ہے۔ یعنی انسان اپنے تمام بنیادی تصورات سے دستبرداری اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور ہمارا نوجوان اس کے خلاف اگر اپنی تہذیبی، اخلاقی اور علمی قوت کے ساتھ نہ کھڑ اہوا تو یہ لہر ہمیں بہا کر لے جائے گی۔ اس لحاظ سے گلوبلائزیشن ایک حقیقت ہے لیکن یہ کوئی پازیٹو حقیقت نہیں ہے یہ کمزوروں کا استحصال کرنے کا ایک رویہ ہے اور اسکے مقاصد میں صرف طاقتوروں کے مفادات کا تحفظ ہے تو ہمیں ا سکا درست فہم حاصل کرکے اس کا انکار کرنا چاہیے۔ دنیا کو سمجھیں کہ دنیا اب ذہن اور نظریاتی چیزوں سے تعلق ختم کرتی جا رہی ہے۔ انسانوں کے درمیان لازمی پائے جانے والی تہذیبی اقدار کو قتل کرتی جارہی ہے۔ ایک ہی طرح کے آدمی پیدا کرتی جارہی ہے یا پیدا کرنا چاہتی ہے تو اس سے مرعوب ہوئے بغیر اور اسکی کشش کا شکا ر ہوئے بغیر اپنی اجتماعی، نظریاتی وحدت اور تہذیبی تشخص کو قائم رکھنا چاہیے۔ اس مرحلے پر سب سے پہلا سوال ہماری بقا کا ہے اور اس حوالے سے ہمیں تین چیزوں میں بہت سنجیدہ ہوجانا چاہیے۔ ایک یہ کہ ہمیں علم اور ذہن میں دوسرے نظام چلانے والے اذہان سے کمتر نہیں ہونا چاہیے ہمیں اخلاقی معیار پر ان سے برتر ہونا چاہے اور ہمارے اندر صلاحیت کار کا دنیا میں جو معیار ہے اس سے پیچھے نہیں ہونا چاہے یہ تین چیزیں ہیں علم و ذہانت، اخلا ق اور اہلیت کار۔ ان تین مقاصد کی طرف اگر ہمارے نوجوان سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہو جائیں تو ہمارا مستبقل تابناک ہو سکتا ہے۔

نوجوانوں کے ساتھ ساتھ تمام اہل پاکستان کو خصوصاً اور اہل امہ کو عموماً جس اہم بات کی طرف متوجہ ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں سوشل تھیوریز نہیں ہیں، یعنی معاشرے کا مطالعہ کرنے کے ڈسپلن پچھلے ایک ہزار سال سے ہمارے ہاں پنپ نہیں سکے۔ اس وجہ سے انسان اور انسان کی داخلیت اور اسکا سماجی کردار، اسکا سماجی وجود یہ سب ہمارے اہل فکر کے مطالعے اور تجزیے کا موضوع نہیں رہے اس لئے بعض علوم جیسے نفسیات، سوشیالوجی، اینتھروپالوجی اور معاشیات وغیرہ کی ہمارے یہاں پرداخت نہ ہو سکی۔ کیونکہ ذہن دنیا کے ساتھ تعلق کے نتیجے میں ترقی کرتا ہے یعنی ذہن اس آبجیکٹ سے ایک ایکٹو نسبت پیدا کرکے ترقی کرتا ہے جس آبجیکٹ کو اسے اپنے لئے مفید بنانا ہو۔ انسان ذہن اور شے کے ایک Dialectical Correspondence کے ماحول میں رہتا ہے اس لئے جو لوگ خود کو، اس خلاق ذہن اور شے کے تخلیقی، تحقیقی اور تجزیاتی اور تعقلی تعلق اور اپنے زمانے کے ماحول سے خود کو باہر رکھیں گےانکا ذہن ترقی نہیں کر سکتا۔ انکا ذہن خود اعتمادی سے محروم رہ جاتا ہے اور انکا ذہن ان صلاحیتوں سے بھی عاری اور خالی رہ جاتا ہے جن ذہنی صلاحیتوں سے دین اور اسکے حقائق اور مصالحے اور مقاصد کا علم ہو سکتا ہے۔ تو جو آدمی اپنا ذہن دنیا پر ایکٹو ہو کر اپلائی نہیں کرتا وہ قرآن کے آگے passive mode میں آکر اسکا فہم بھی حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ اس میں وہ مادہ ہی پروان نہیں چڑھتا جو صورت، حقیقت، ہدایت اور اخلاق، سائنس (علم) کے کسی بھی میدان میں آگے بڑھنے کیلئے درکار ہے اور جو اپنے موضوع کے اندرونی تجزیے کیلئے لازماً مطلوب ہے۔

آبجیکٹ object کا مطلب ہے کوئی چیز جس پر ذہن کام کرے۔ وہ کوئی تصور، نظریہ، خیال، اورڈسکورس بھی ہو سکتا ہے۔ آبجیکٹ کی تین پرتیں ہوتی ہیں۔ ایک آبجکیٹ کی فارم form (صورت) ہوتی ہے اور ایک اسکا essence ہوتا ہے اور ایک آبجیکٹ میں موجود خلا ہوتا ہے۔ جو ذہن آبجیکٹ کو بطور فارم لینے کے عادی ہو جاتے ہیں اور صرف صورت سے تعلق تک محدود رہ کر ذہن اور صورت کے تعلق سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے فوری نتائج پر قانع ہو جاتے ہیں وہ ذہن عام طو رپر قومی ذہن ہوتے ہیں اسکے نتیجے میں پوری قوم کا ذہن پسماندہ رہ جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ذہن matter میں کوانٹم مکینکس نہیں دیکھ پاتا بلکہ وہ قرآن میں بھی اسکے حقائق اور مقاصد دیکھنے سے قاصر رہتا ہے کیونکہ اس میں وہ صلاحیت پروان ہی نہیں چڑھی ہوتی جو صورت کے اندر جھانکتی ہے اور جو لفظ کو اسکے فوری معنی میں قبول کرکے لفظ کے اندر موجود ان حقائق تک رسائی کے راستے ڈھونڈنا جانتی ہے جن حقائق کی تشکیل کو ذہن میں آسان بنانے کے لئے وہ لفظ اپنے معروف اور عمومی مفہوم میں برتا گیا ہے۔

ذہن کی پہلی پرت صورت ہے اور اسکی مثال ایسے ہے جیسے دیوار سخت ہوتی ہے، سورج گرم ہوتا ہے، زمین گولی ہوتی ہے، وحدت کا مطلب ایک ہونا ہے، خدا کا مطلب ایسی قوت جو کائنات کی خالق اور مالک ہے وغیرہ۔ یہ اذہان ایک ذرے سے لیکر عرش تک ہر چیز کو فارم میں رکھ کر دیکھتے ہیں۔ ذہن کی دوسری سطح وہ ہوتی ہے جو آبجکیٹ کی صورت سے متصل ہو کر اس میں ایسے معنی پیدا کرتی ہے جو آبجیکٹ کی اسٹنڈرڈ اور متفقہ صورت سے زائد ہوتے ہیں جو آبجیکٹ کو معنی کے زور سے خود اسکے حدود سے ماورائیت transcendence دے دیتے ہیں ۔ ایک جہت یہ ہوتی ہے کہ آبجیکٹ اپنی حقیقت سے متصل نہیں ہے یا یوں کہہ لیں کہ ایک شے اپنی حقیقت سے کلینیکل اتصال رکھتی ہے، وہ اتصال بھی اسی طرح نظر آتا ہے جیسے آبجیکٹ کی فارم نظر آتی ہے لیکن وہی حقیقت اس طرح کا اتصال رکھتے ہوئے اس آبجیکٹ سے، اس نقطہ اتصال سے ماوراء ہوتی ہے کیونکہ حقیقت اپنی بنیادی صفت یعنی transcendence غیر محدودیت سے دستبردار ہو کر کسی شے یا خیال سے منسوب نہیں ہوتی۔ یعنی کوئی شے جو حقیقت کا مظہر ہے وہ حقیقت کو exhaust کرکے اسکا مظہر نہیں بنتی۔ کل حقیقت کا مظہر نہیں ہے وہ حقیقت کے ساتھ اپنی نسبت کا مظہر ہے۔

ذہن کی تیسری پرت جسے میں نے خلا کہا ہے، یہ خلا جو آبجیکٹ کی حقیقت میں موجود transcendence کی طرف اشارہ کرنے کیلئے آبجیکٹ میں ہوتا ہے اس تک رسائی پیدا کئے بغیر علم کی تکمیل نہیں ہوتی۔ فرض کیا کہ ذہن کا مقصو دہے آبجیکٹ کا زیادہ سے زیادہ صحیح اور مکمل علم۔ یعنی ذہن اپنے ہر موضوع کا علم صحت اور ممکنہ کمال کے ساتھ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس علم کا پہلا قدم یہ ہے کہ آبجیکٹ کی ذہنی تصویر اور آبجیکٹ میں کوئی فرق نہ ہو۔ یہ علم کی ایک تعریف ہے۔ اس تعریف کو نظر میں رکھ کر ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ کیونکہ ذہن کی مراد (علم)، آبجیکٹ سے تعلق کا نتیجہ ہے اس لئے ذہن کو آبجیکٹ یا اسکا موضوع میسر نہ ہو تو علم اسکے لئے کوئی مسئلہ رہتا ہی نہیں ہے اورعلم کی تشکیل ہو ہی نہیں سکتی۔ ذہن کی اس مراد (علم کے اسٹرکچر /ذہن کے علمی سفر) کے پورے ہونے کا نقطہ آغاز آبجیکٹ کی فارم ہے اوراس فارم کو ذہن empirical ہوکر اس سے تعلق پیدا کرتا ہے۔ آپ اسے حسی علم کہہ لیں، یاکسی تہذیب میں موجود مسلمات کو قبول کرنا کہہ لیں بہرحال اسکا نقطہ آغاز فارم ہوتا ہے اور اسکے بعد اس فارم کو اسکی حقیقت سے متعلق دیکھنے کی کوشش سے علم کی تشکیل کا عمل شروع ہوتا ہے۔

اس سے اگلا مرحلہ علمی کی تکمیل کا مرحلہ ہے۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ تشکیل میں بھی فساد اور زلزلے کی گنجائش ہے، تکمیل میں بھی ادھورا پن ضروری ہے۔ کیونکہ انسان کوئی ایسا لفظ نہیں رکھتا جس کے پورے معنی اس پر ذہنی یا عملی طور پر منکشف ہو سکیں۔ گویا نقص، ادھورا پن اورغلطی کا یقینی احتمال یہ انسانی شعور، اسکی زندگی کے وجود دونوں کی مستقل حالتیں ہیں یعنی ان دونوں کے ہونے کی شرطیں ہیں۔ یعنی ناقص ہونا اور غلطی کے یقینی امکان کا حامل ہونا یہ خود انسان اور اسکے شعور کی لازمی ضرورت ہے اس سے پیچھا چھڑانے والا انسانیت اور علم سے دستبرداری کے راستے پر قدم رکھتا ہے۔ مکمل طو پر صحیح ہونا علم کی ضرورت نہیں ہے اور کامل ہونا نہ علم کی ضرورت ہے اور نہ وجود نہ ضرورت۔ انسان اور کائنات، یعنی ٹائم اور اسپیس کے اندر آنے والی ہر چیز کی یہ دو شرطیں ہیں کہ وہ غیر صحیح ہونا یقینی ہو اور ناقص ہونا حتمی ہو تو جس کو میں خلا کہہ رہا ہوں وہ خلا وہ چیز ہے جہاں لفظ آبجیکٹ کا symbol بنتا ہے یعنی اپنی فارم کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنی اس حقیقت کی طرف اشار ہ کرتا ہے جو اسکے ساتھ transcendence کا تعلق رکھتی ہے جو اپنی absolute transcendence کو برقرار رکھتے ہوئے آبجیکٹ سے متعلق ہے یعنی آبجیکٹ کے لئے وہ سند وجود ہے، آبجیکٹ کیلئے وہ گویا ایک لائسنس ہے جسکو استعمال کرکے آبجیکٹ ذہن میں علم کی تشکیل کا ایک بلڈنگ بلاک بن سکتا ہے۔ کیونکہ شعور حقیقت کے تصور کے بغیر کسی آبجیکٹ کی معرفت حاصل نہیں کرتا، کسی آبجیکٹ کا تجزیہ نہیں کرتا، یہ پیشگی مسلمہ شعور میں حقیقت کا ہے، اس perspective کو وہ اپنے علم کے ہر مرحلے میں applied رکھتا ہے۔

صرف سماجیات اور سوشل سائنسز ہی نہیں، آج کے اہل اسلام علم کی کسی بھی روائیت میں چاہے وہ دینی روایت ہو یا دنیاوی روایت ہو کوئی بھی significant کردار ادا کرنےکے لائق نہیں رہے۔ اسکا بنیادی سبب یہ ہے کہ خصوصاً برصغیر میں ایک طویل عرصے کی عاشقانہ اور مرعوبانہ غلامی کے بعد ہمارے اجتماعی ذہن اور ارادے کی ساخت بدل گئی ہے۔ یعنی ہم نے انگریز کو بلا کسی داخلی مزاحمت کے اپنا آقا مانا، اسکی ہر طرح کی برتری کو عملاً تسلیم کیا، اور اسکے ساتھ صرف اپنے دین کے بارے میں ایک دعویٰ رکھا کہ ہم حق پر ہیں، انگریز حق پر نہیں ہے۔ یہ ایک رسمی اور رواجی قسم کا تصور ہم نے رٹے رکھا اور اپنی آئندہ نسلوں کو رٹواتے بھی گئے لیکن شخصیت، دنیا، معاشرت، ریاست، نظام زندگی بنانے والی تمام چیزیں اور تمام قدریں ہم نے کوئی تنقیدی نظر ڈالے بغیر انگریز سے اخذ کی ہیں۔

یہ تو ہوتا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان دنیاوی زندگی کے معاملات چلانے کیلئے لین دین چلتا رہتا ہے۔ بہت بڑے بڑے علماء نے عیسائوں سے عربی پڑھی تو یہاں بہت بڑے بڑے علماء نے ہندوءوں سے مابعد الطبیعاتی مباحث سیکھے۔ تہذیبیں جب ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں تو یہ اگر نظریاتی تہذیبیں ہوں یا کسی دین پر کھڑی تہذیبیں ہوں تو انکے اندر دنیاوی معاملات میں تعاون اور علوم میں لین دین چلتا رہتا ہے جو انکے عقائد وغیرہ پر یا ان عقائد سے manifest ہونے والی اقدار وغیرہ پر اثر انداز نہیں ہوتا ۔ لیکن ہمارے ساتھ یعنی خصوصاً جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ ہوا کہ ہمارا انگریز سے لفظی تعلق تو آقا اور غلام کا تھا لیکن حقیقت میں عاشق اور محبوب کا تھا یا یوں کہہ لیں کہ یہ غلامی اسی طرح کی غلامی تھی جس طرح کی غلامی اللہ اپنے لئے ہم سے طلب کرتا ہے۔

علم، اخلاق اور قوت میں یعنی انسان کو بنانے اور بگاڑنے والی چیزوں میں ہم نے انگریزکو اپنا آئیڈیل بنا یا مگر اسکے ساتھ ساتھ رسمی طور پر ایک رٹہ لگاتے رہے کہ انگریز باطل پر ہیں اور ہم حق پر ہیں۔ اگر آپ دینی ذہن سے دیکھیں تو دوچیزوں میں حق اور باطل کا فرق، امتیاز کی آخری حد ہے، اسکے بعد کسی امتیاز کی ضرورت ہی نہیں رہتی اور کوئی جزوی اتفاق کارآمد اور قابل التفات نہیں رہتا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر ہم حق اور باطل کی اس ڈویژن پر اپنی تہذیبی قوت، اپنی دینی قوت کے ساتھ قائم رہتے تو پھر انگریز کے ساتھ تعلق میں ہمارے لین دین کا یہ انداز نہ رہتا۔ تو ہم نے ایک لاپرواہی یا بے حسی یا اپنے واقعی کمتر ہونے کا ثبوت یہ دیا کہ سب سے بڑے امتیاز یعنی حق و باطل کے امتیاز کو رسمی بنا دیا کہ یہ بس کتابوں میں لکھتے رہے، جمعے کے خطبوں میں بیان کرتے رہے اور باقی سارے اصول زندگی انگریز سے اخذ کئے اور حق اور باطل کو اپنے ذہن اور زندگی پر غیر موثر کیا۔

اب جو قوم اپنے وجود کے سب سے گہرے dialectical substance کو اس نوبت تک پہنچا دے گی وہ انسان ہونے میں ناکام رہ جائے گی خواہ وہ مسلمان ہونے میں سنجیدہ اورنظریاتی طور پر سچی ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی ایک آدمی یہ دعویٰ کرےکہ میرا تمام شعور اور تمام وجود کا محور حق اور باطل کے قطبین ہیں، میں ان پر اپنے تمام صحیح اور غلط، مفید اور مضر، محبوب اور مکروہ کا فیصلہ کرتا ہوں۔ لیکن یہ کہنے کے باوجود، حق و باطل کے ساتھ سب سے زیادہ لاتعلقی کا رویہ حق و باطل کی گردان کرنے والے کسی ایسے شخص نے ہی اختیار کر رکھا ہو تو پھرکہاں کا حق؟ میری زندگی کی خواہشات، مقاصد، خواب اور بیداری کا تجزیہ کیا جائے تو اسکے کسی ایک بعید ترین گوشے میں بھی حق اور باطل کی تمیز موجود نہیں ہے۔ یعنی جن چیزوں سے میں ایک زندہ، سنجیدہ اور یکسوئی کے ساتھ ذہنی، عملی، اخلاقی، طبعی، قلبی، تعلق رکھتا ہوں میرے یہ تمام نظامہائے تعلق کی کوئی ایک بات بھی حق و باطل کی تمیز کرنے والے کے ہاتھ میں نہیں ہے۔

نفسیات میں کہا جاتا ہے کہ نارمل آدمی وہ ہے جو جبلت اور ذہن میں ایک تعلق پیدا کر سکے۔ یعنی آدمی نام ہے جبلت اور ذہن کا اور نارمل انسان وہ ہے جو جبلت کی قوت کو ذہن کی تحویل میں رکھے یعنی ذہن کو جبلتوں پر غالب رکھے۔ ہمارے یہاں ذہن کو پروان چڑھانے والا کوئی تخلیقی، تحقیقی اور آزادی کے موقف پر کھڑا ہوا پیراڈائم ہے ہی نہیں کیونکہ ہم نے آزادی کا تصور بھی اپنے آقائوں سے لیا ہے جن کی غلامی میں ہم نے دو سو سال گزارے۔ یعنی آزاد ہونے کا تصور، حدود، کنڈیشنز اور تعریفات ہم نے ان سے لئے ہیں جن سے ہمیں آزادی چاہیے۔ تو گویا ہماری زندگی کسی بھی طرح ان اقدار، احوال اور ان بنیادی تصورات سے کوئی تعلق نہیں رکھتی جنکا ہم خود کو وارث اور حامل کہنے کی ضد کرتے ہیں۔ یہ کتنا بڑا اندرونی تضاد سا ہے کہ انسان اپنی انفرادی، اجتماعی ہر حیثیت میں اپنے مرنے کا آغاز کر دیتا ہے اگر اسکے آئیڈیل اور ایکچوئیل میں تعلق کی ہر صورت مفقود ہو جائے۔ یعنی انسان اس دن خود کیلئے نہ ہونے کے عمل میں پڑ جاتا ہے جہاں اسکا آئیڈیل اسکے ایکچوئیل کو پروڈیوس نہ کر رہا ہو یا اسکی ایکچوئیلیٹی اور اسکے آئیڈیل ازم میں کوئی ربط نہ رہ جائے۔ اسکو اگر چھوٹے اسکیل پر لائیں تو اسکے ذہن کا غلبہ اسکی جبلتوں پر قائم نہ رہ جائے تو وہ انسان ہونے سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے دوبارہ حیوان بننے کے راستے پر چل پڑتا ہے۔

حیوان اور انسان میں ایک موٹا سا سطحی فرق یہی ہے کہ انسان ذہن کو جبلت پر غالب رکھ سکتا ہے حیوان کا یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ آج اگر ہم اپنی سوسائٹی کا اور فرد کا تجزیہ کریں تو اس افسوسناک نتیجے پر پہنچنے سے خود کو نہیں روک سکتے کہ ہم محض جبلی وجود ہیں اور ہم انسان بننے میں ناکام ہیں۔ ہمارے یہاں طاقت، فائدے، نقصان کے تمام تصورات اور زندگی کو چلانے والی تمام قوتیں جبلی ہیں اور ہم کسی بھی طرح کے ذہنی، عملی، اخلاقی، سیاسی ڈسپلن کو قبول کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے۔ یعنی فرد کی تشکیل بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ جبلت پر ذہن کا غلبہ نہیں ہے اور اسکا اثر سوسائٹی میں بھی پھیلا ہے اور ہمارا سوسائٹل آرڈر بھی انتشار ciaos پر مبنی ہے۔ جبلتوں کے غلبے کی محکم، مسلسل اور متواتر صورتیں ہماری سوسائٹی میں ظہورپذیر ہو رہی ہیں۔

غلامی شرف انسانی کے خلاف ہے اور یہ شرف آدمیت کی توہین ہے اور یہ انسان کو جبلت کا قیدی بنا دیتی ہے اور ذہن تک پہنچنے کے راستے بند کر دیتی ہے۔ غلامی حواس کو شل اور معطل کرتی ہے، جبلتوں کو بیدار کر دیتی ہے۔ ہم نے غلامی کے خلاف کوئی سچی مزاحمت، کسی بھی عنوان سے بڑے پیمانے پر، جہاں تہذیبیں بننے کا عمل ہوتا ہے نہیں کی۔ بنگالیوں اور پٹھانوں میں نیشنل ازم کی بنیاد پر مزاحمت ہوئی، جنوب میں ثقافتی بنیادوں پر مزاحمت ہوئی تھی لیکن مجموعی طور پر جنوبی ہند اور خاص طور پر جنوبی ہند کے مسلمانوں نے غلامی کو اپنی شناخت بنانے میں پوری مہارت اور پورے شوق و آمادگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسلمانان برصغیر کی اکثریت انگریز کی غلامی پر فخر کرتے تھے۔ یہ ہمارا وہ ماضی ہے جس ماضی میں پیدا ہونے والے عناصر سے ہمارے حال کی تعمیر ہوئی ہے۔ جو ماضی قریب ہوتا ہے وہ اینٹوں کا بھٹہ ہوتا ہے جس سے نکلنے والی اینٹوں سے حال کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ تو اسکی وجہ سے آپ کبھی بھی دیکھ لیجئے کہ ہمارے اندر نہ وہ تخلیقی صلاحیت ہے کہ ہم اپنے آئیڈیا آف بیوٹی کو چیزوں پر اپلائی کر سکیں، نہ وہ عقل ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے تصور وجود کو چیزوں پر اپلائی کر سکیں۔ نہ وہ اخلاق ہے کہ ہم چیزوں کو اپنی اسکیم آف گڈنس، منصوبہ خیر میں استعمال کر سکیں۔ ہم ہر چیز کے ماتحت ہیں۔ کوئی چیز ہمارے ماتحت نہیں ہے اور ہر چیز سے ہمارا تعلق لالچ کا ہے ضرورت کا نہیں۔ یعنی یہ انتہائی گراوٹ کی بات ہے کہ ہر چیز جو میرے پاس ہے یا نہیں ہے اس سے میرا تعلق طمع کا زیادہ ہے ضرورت کا کم ہے۔ کھانے سے میرا تعلق طمع کا ہے بھوک لگنے کی وجہ سے بعد میں ہے۔

ایک ضرورت ذہنی ہوتی ہے۔ ایک ضرورت اخلاقی ہوتی ہے، ایک ضرورت روحانی ہوتی ہے وہ ضرورتیں تو ہمارے قومی انبار ضروریات سے غائب ہو چکی ہیں اب جو جسمانی اور اور عام زندگی کی ضرورتیں ہیں انکا بھی ہم نے یہ حال کر رکھا ہے۔ زندگی کی عام سطح پر زندہ رہنے کیلئے جن ضرورتوں کو پورا کرنا ضروری ہے ہم نے ان ضرورتوں سے بھی لا لچ کے تعلق کو ضرورت کے رشتے پر غالب کر دیا ہے۔ شیر کا بھی پیٹ بھر جائے تو ہرن کو چھوڑ دیتا ہے مگر ہم نہیں چھوڑتے۔ جب تک اس نفسیاتی پسماندگی اور انسان بننے کیلئے غیر آمادگی جو ہمارے اندر پائی جاتی ہے اسکو دور کرنے کی منظم اور مربوط کوششیں نہ کی گئیں اس وقت تک تمام نظریاتی بحثیں محض دماغی عیاشیاں اور محض احساس جرم کو دبانے کی کوششیں ہیں۔

فرد کون ہوتا ہے جو آبجیکٹ کے ساتھ تخلیقی تعلق رکھے اور جو آبجیکٹ کے فی الخارج ہونے اور فی الذہن ہونے کے احوال کی سطحوں کو بلند کرتا چلا جائے، جو چیزوں کو تخلیقی اور تحقیقی نظر سے دیکھے مگر آج ایسے افراد معدوم ہو چکے ہیں۔ اجتماعی ہئیت میں معاشرہ، اپنی تہذیبی اقدار کی برکتوں کا چھلکتا ہوا ایک بڑا دریا ہوتا ہے جو معاشرے کے اندر خیر کے عناصر کو شر کے عناصر پر فیصلہ کن انداز سے غالب رکھتا ہے مگر آج ایسی اجتمائی ہیئت بھی ناپید ہے۔ ایک تہذیب اپنے زیادہ کمالات کا اظہار اپنے اندر موجود کچھ افراد میں کرتی ہے اور اپنی عمومی فضا میں فیوض و برکات کا اظہار اپنی اجتماعی ہیئتوں میں کرتی ہے یعنی تہذیب اپنی حقیقتوں کا انکشاف اپنے افراد کے ذریعےسے کرتی ہے اور اپنی سہولتوں اور برکتوں وغیرہ کا اظہار اپنی اجتماعی ہئیتوں سے کرتی ہے یہ تہذیب کا اصول ہے۔ مگر اب کہاں کی تہذیب، کہاں کے حقائق، کہاں کے فضائل و برکات؟

ہمارا کوئی جذبہ آزادی ٹریفک سگنل توڑنے سے زیادہ ہم سے کچھ تقاضانہیں کرتا، ہماری ہر بہادری زیادہ سے زیادہ ہمیں بھتہ لینے کے لائق بنا دیتی ہے۔ تو جو بہادری بھتہ لینے کی صلاحیت پر تمام ہو جائے اور جو آزادی ٹریفک کے سگنل توڑنے پر تسکین حاصل کر لے اس قوم کو کوئی انسانوں میں گن سکتا ہے؟ ہم نے اپنے معاشرے میں ایسا ماحول بنا دیا ہے جو انسان بننے سے روکتا ہے یا جو انسان نہ بننے کی دعوت دیتا ہے۔ ہمارا ماحول ایسا ہے کہ یہ انسان بننے کو مشکل بناتا ہے، انسان نہ بننے کو پرکشش بناتا ہے ورنہ ہمارے ایسے لیڈر ہو سکتے تھے؟ کوئی قوم جو صرف ایک اجتماعی انسانی ذہن رکھتی ہو اسکے حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں ایسے لوگ ہو سکتے تھے جن کی لڑائی پر وہ اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کریں؟ اگر پستی کی ایک انتہا دیکھنی ہو تو یہ دیکھئے کہ اس قوم کی پولیٹیکل لیڈر شپ کی حالت کیا ہے۔ جو لوگ پولیٹیکل لیڈر ہیں وہ کیا انسان بننے میں کامیاب ہیں؟

آج کی مسلم سائیکی میں تہذیبی نمونہ کمال صرف مغرب ہے۔ ہم زبان سے کہیں یا نہ کہیں مگر ایسا ہی ہے جیسا کہ میں نے اسکا تجزیہ کیا ہے۔ یہ عناصر جو انسان ہونے کی کوشش کرتے ہیں یہ ناموافق ماحول میں انسان ہونے کی ساری تعریفیں من و عن بغیر کسی تنقیدی نظر کے، بغیر کسی کانٹ چھانٹ کے، غالب تہذیب سے اپنے کشکول میں بھر کے اپنا متاع زندگی بنا لیتے ہیں اور اس مانگی ہوئی چیز پر اتراتے ہیں اور یہ گھٹیا پن کی دوسری قسم ہے۔ یہ ایک طرح سے مفلس کا تکبر (حدیث میں آیا ہے کہ مفلس کا تکبر بہت بری چیز ہے) ہے کہ ہماری سوسائٹی میں ایسے لوگ ہیں جو انسان بننے کی کوشش کر تے ہیں اور اس تہذیب میں جو گراوٹ قانون بن چکی ہے اس سے خود کو فاصلے پر رکھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی دوسری طرح کی پستی میں مبتلا ہیں۔

تہذیب میں ترقی کا ہر عمل اسکے اندرونی آرگنزم سے ہوتا ہے، مانگے تانگے سے تہذیبیں survive نہیں کرتیں اور نہ ترقی کرتی ہیں۔ یہ لوگ وہ ہیں جو دوسری تہذیب سے انسان ہونے اور بننے کا وہ عمل سیکھتے ہیں جو ہمارے بنیادی آئیڈڈیا سے ٹکرائو رکھتا ہے۔ وہ بنیادی اصول جسے ہماری تہذیب گری پڑی حالت میں بھی own کرتی ہے اور خواہ اسکی کوئی جھلک ہماری عملی زندگی میں نظر نہ آتی ہو لیکن بہرحال ہماری تہذیب نے اپنے ایک فرسودہ سے حافظے میں تو اسے محفوظ اور محسوس کر رکھا ہے۔ تو دوسری تہذیب کا وہ تصور انسان ہمارے حق و باطل کے پیراڈائیم سے متصادم ہے لیکن یہ لوگ انسان کے تہذیبی وجود کی تعمیر کا عمل وہاں سے سیکھتے ہیں۔ یعنی انسان کی تعریف وہاں سے لیتے ہیں اس میں ذرہ برابر کمی یا اضافہ کئے بغیریا ان اجنبی تعریفات کی اپنے حالات کے ساتھ کوئی effective relevance پیدا کئے بغیر اور منہ ٹیڑھا کرکے اس تہذیب میں لتھڑےہوئے لوگوں کو حقارت سے مخاطب کرتے ہیں۔ انکا جو سبب تحقیر ہے وہ انکے کشکول میں ہے، انکے ذہن میں نہیں ہے۔ مطلب وہ آئیڈیاز انہوں نے پروڈیوس نہیں کئے ہیں بلکہ پوری طرح سے سمجھے بغیر محض انکی فارم سے آنکھیں چندھیا گئی ہیں اس لئے انہیں اختیار کر لیا ہے۔ فارم تک محدود رہنے والا ذہن کبھی پنپ نہیں سکتا کبھی اسکے تصورات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے۔ فارم تک محدود رہنے والا ذہن ہماری تہذیب کے اس حصے کا بھی ہے جو روائیت کا کم از کم رسماً نام لیتا ہے اور اسکا بھی ذہن مختلف نہیں ہے جو اس روائیت کے خلاف اعلان جہاد کر رہا ہے اور اس جہاد کو جیتنے کا تمام تر سامان سر جھکا کر، مغرب سے بلا کسی جرح و قدح کے اخذ کر رہا ہے ۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ شخص سر اکڑانے کا مریض ہے، نہیں اسکی گردن جتنی مغرب کے آگے جھکی ہوئی ہے اتنی ہم رسمی مسلمانوں کی گردن ایسے اللہ کے سامنے نہیں جھکتی۔ ۔ تہذیب میں اصول تصادم ہوتا ہے جس سے وہ ترقی کرتی ہے، جس سے اسکا survival بڑھتا ہے، اسکی تکمیل کے نئے نئے مراحل پیدا ہوتے ہیں ۔ کسی تہذیب کےتصادم والے پولز اگر اس درجے پر ہو جائیں تو اس تہذیب کو مردہ تہذیب ڈکلئیر کرنے کیلئے کسی بڑی سند کی ضرورت نہیں ہے۔ اس تہذیب کا المیہ یہ ہے کہ اس میں تصادم رکھنے والے دونوں طبقات خالی الذہن ہیں۔ یہ مانگے کی اقدار والے اور انکے قدردان وہ اپنی اقدار کے ناقدردان، دونوں جبلی وجود ہیں۔ تقلید مغرب انکا بھی جبلی تقاضا ہے اور اپنی زندگی کی اس سطح کو برقرار رکھنا اور اپنے آدمی ہونے کو حیوانی شرائط پر پورا اتارنے کی مسلسل عملی جدوجہد اور تگ و دو انکا خاصہ ہے۔ تو انکا انسان وہ ہے جس انسان کی تعمیر میں انکا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ہمارا کم ازکم تصور انسان وہ ہے جس کو عمل میں لانے سے ہمیں دلچسپی نہ سہی لیکن وہ تصورانسان اپنی پوری تفصیل کے ساتھ محفوظ ضرور ہے گوکہ جن کی حفاظت میں ہے وہ اس سے دلچسپی نہیں رکھتے۔

اس میں خاص طور پر نوجوانوں کا یہ بہت بڑا کام ، ذمہ داری اور فریضہ ہے کہ آدمی بننے کی صلاحیت سے اس ہمہ گیر محرومی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کریں جوہم پر بری طرح مسلط ہو چکی ہے۔ اب ہم گویا اپنی تہذیبی کمتری پر راضی بھی ہو گئے ہیں اور اس کمتری سے نکلنے کے کسی بھی تصور سے بری طرح وحشت زدہ اور نامانوس بھی ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال میں ہم سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے ؟یعنی انسانوں کے آئیڈیل کو اس سطح پر محفوظ نہیں رکھا جا سکتا جس سطح پر ہماری زندگی گزر رہی ہے، جس سطح پر ہمارا ذہن سوچنے کا عادی ہے، جس سطح پر ہمارے ارادے کی ساری قوت صرف ہو رہی ہے۔ یہاں آدمیت کو فائدہ پہنچانے والا کوئی آئیڈیا رسمی طور پر بھی زیادہ دن محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اسکی فکر کریں۔ ہمارا کل اصول علم، اصول تہذیب اور اصول زندگی یہ ہے کہ عقل وحی سے مانوس ہو جائے عقل، وحی سے تعقل کی بنیادیں اخذ کرے، وحی سے عقل خود پر اعتماد کرنے کے لائق ہو کردنیا پر تصرف کرے۔ اب دنیا کو سمجھنے میں غلطی سے نہ ڈرے کیونکہ جہاں بھی ذہن ایکٹو ہو کر آبجیکٹ پر اپلائی ہوگا وہاں علمی غلطی یقینی ہے۔ علم میں اضافہ لازمی ہے کیونکہ کہیں بھی علم کا سفر نہیں رکے گا اور علم کی صحت بھی عارضی ہے۔ جو علم کارآمد ہوگا بس وہی کارآمد ہے۔ اس میں کیا مسئلہ ہےکہ میرا علم غلط ہوتے ہوئے بھی انسانوں کیلئے مفید ہے یا انسانوں کیلئے دنیا کو مفید بنانے کی کوششوں کا ایک پروڈکٹو حصہ ہے۔ ہم ہر سائنسی تھیوری کو قرآن میں دکھا نے کے خبط میں مبتلا ہیں، ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ قرآن ان علوم کی کتاب ہی نہیں ہے جن میں غلطی کا ہونا ضروری ہے۔ علم دنیاوی معاملات میں ہے، عقل کی جو صلاحیتیں ہیں مدلل تسلیم اور مسلسل علم۔ مدلل تسلیم کا تعلق وحی سےہے اور مسلسل دانش اورعلم کا تعلق دنیا سے ہے۔ وحی، عقل کو اس قابل بناتی ہے کہ دنیا کے علوم میں غلطی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، اسی میں عقل کی آزادی ہے۔ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ عقل کی غلطی بھی اسکے لئے مفید ہے۔ ہم نے اس چیز کو بالکل نظر انداز کئے رکھا اس لئے دین اوردنیا میں ایک تصادم پیدا ہوگیا اور اللہ کے اوجھل ہونے اور دنیا کے حاضر ہونے کی وجہ سے ہماری طبیعت کا فیصلہ دنیا کی طرف ہو گیا اور دنیا کی طرف ہونے والے اس فیصلے کو نبھانے کیلئے ہم پیدا ہونے سے مرنے تک مصروف رہتے ہیں بس اس دوران اللہ کا نام لیتے رہتے ہیں کہ اللہ کا فضل ہے۔ اور اللہ کے فضل کا جنت وغیرہ کا بھی کوئی تصور نہیں رہا اب اللہ کے فضل کا تعلق صرف اس سے ہے کہ نوکری مل گئی، گھر مل گیا، گاڑی مل گئی، اقتدار مل گیا وغیرہ۔ یعنی اللہ کے فضل کو بھی صرف دنیاوی مظاہر تک محدود سمجھتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں --------- احمد جاوید

 

ہندو ذہن نے اپنے میٹافزیکل تصورات کو تسلسل میں رکھا اور اسے فزیکل سائنسز کے متوازی رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ ہندو ذہن survive کر گیا، آئن اسٹائن گاندھی سے ملنے آتا تھا۔ ایک فزکس کا سب سے بڑا آدمی تھا اور دوسرا میٹا فزکس کا معمولی آدمی اور وہ اسکی طرف متوجہ ہوگیا۔ ہم نے اس دنیا میں جو ہدایت اور فطرت کا متوازی پن چل رہا ہے اس متوازی پن parallelism کو برقرار رکھنے میں ہمیں جو کردار ادا کرنا ضروری تھا کیا ہم نے وہ ادا کیا؟ہندو جوگی تو یہ کبھی نہیں کہے گا کہ فزکس نے یہ دریافت کرکے ہمارے دعوے کی تصدیق کر دی۔ وہ یہ کہتا ہے کہ فزکس جو بھی کر رہی ہے وہ سب دھوکا ہے انہوں نے اپنے تصورات کو متوازی رکھا ہوا ہے۔ وہ فزکس کو جانتا بھی ہے، ہمارے ہاں تو کوئی آدمی نہیں جس نے ہمارے علم العقائد کو موجودہ فلسفیانہ روائیت سے متوازی رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہو۔ اس مایوسی سے نکلنے کی کوشش گویا اپنے survival کی کوشش ہے یعنی انسان ہونے کی کوشش کرو اگر انسان ہونا چاہتے ہو۔ اس وقت اپنا سب سے بڑا مقصد یہ بنائو کہ میں نےانسان ہونے کے لائق بننا ہے جو کہ میں ہوں نہیں۔

انسان ہونے کی جو بالکل فزیکل، مورل بنیادیں ہیں بلکہ سطحی بنیادیں ہیں ہم ان پر بھی پورا نہیں اترتے جیسے اپنی، اپنے گھر کی، اپنی گلی محلے، بستی اور شہر کی صفائی رکھنا، قطار بنا دینا، دوسرے کو دیکھ کر مسکر ادینا وغیرہ یہ انسان کی طبعی زندگی کے عوامل ہیں یہ کوئی higher morality نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہمارے ہاں انسانی اجتماعیت کے بننے کے تمام امکانات فوت ہو چکے ہیں۔ اجتماعیت کوئی شرعی چیز تھوڑی ہی ہوتی ہے، بابرکت اجتماعیت وہ ہوتی ہے جو انسانوں کے باہمی نظام تعلق کے مبنی بر خیر ہونے پر گواہی دے۔ خیر کے نناوے فیصدپہلو یونیورسل ہیں وہ شریعت نے بتائے نہیں ہیں، بلکہ شریعت نے انکو endorse کیا ہے۔ اچھا پڑوسی ہونےکی تعریف ایک مسلم اور غیر مسلم میں مشترک ہے جبھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں نے مظلوم کی مدد کا جو معاہدہ (حلف الفضول) نبوت سے پہلے کروایا تھا وہ مجھے اتنا محبوب ہے کہ کاش آج بھی کوئی ایسے معاہدے کا موقع ملے۔ خیر فطری چیز ہے۔ ہمارے ہاں اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ ہم معاشرت کو سادہ انسانی مکینکس پر چلانے کی کوئی خواہش اور اس سے بڑھ کر کوئی اہلیت رکھتے ہیں۔ ہم نے کبھی ایسا کام کیا نہیں ہے اس لئے ہم میں اہلیت ہی موجود نہیں ہے۔ وہاں چار آدمی بھی کھڑے ہونگے تو قطار بنائیں گے اور ہمارے ہاں چار ہزار آدمی بھی کھڑے ہونگے تو قطار نہیں بنائیں گے۔ اسی پر وہ ہمیں طعنے دیتے ہیں کہ یہ ریوڑ ہے جس کو اتفاق سے زبان آتی ہے۔ یہ صرف جبلی وجود ہیں۔ ہمارے ہاں یہ تصورات سے گر کر فارم اور فارم سے گر کر جسم اور جسم سے گر کر جبلت کے سوا کیا ہیں؟ اس سوسائٹی میں کسی بھی بڑے خیال کو جماہی لئے بغیرسن لینے کی سکت نہیں ہے سمجھنا تو بہت دو ر کی بات ہے۔ اس سے نوجوانوں کو لڑنا ہے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھیں۔ آزادی کا تصور انسان کا سب سے زیادہ قیمتی تصور ہے اور اصل میں یہ اخلاقی تصور ہے ہم نے اسکو جبلی اور حیوانی تصور بنا لیا اس جرم میں مغرب بھی شامل ہے لیکن انکی تنظیمی قوت اتنی زیادہ ہے کہ انہوں نے انسان کی ڈی ہیومنائز ہونے والی خواہشات کو ڈسپلن کر رکھا ہے۔ یہ سب انہوں نے تہذیبی قوت سے نہیں تنظیمی قوت سے کر رکھا ہے۔ آزادی بھی جبلی ہو جائے تو گویا انسا ن ہونے کا آخری موقع بھی گنوا دیا گیا۔

انسان کے شرف میں سے سب سے بڑی دلیلوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ایگو بائونڈ نہیں ہے جو آدمی ایگو بائونڈ ہے انسان ہونے کیلئے ڈسکوالیفائی کرتا ہے۔ دنیا کی کسی مخلوق میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ اپنی جبلت کو توڑ سکے۔ اصل انسانی امتحان یہ ہے کہ ہم آدمی اور انسان کوائیلفائی کریں سب سے بنیادی کوالیفیکشین یہ ہے کہ۔ جو لوگ آدمی اور انسان ہونا کوالیفائی کرتے ہیں وہ مذہب کے مخاطب ہوتے ہیں انسان بننے کی پہلی پہچان، پہلی شرط ہے کہ آپ اپنے شیلٹر آف آئی ایم نیس کو توڑیں۔ انسان کا جو persona کا جو نقاب ہوتا ہے وہ ایگو کو بناتا ہے اور اس لحاظ سے انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ابراہیم ؑ کیلئے اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم اپنی ذات سے امت ہیں تو ہم ابراہیمی روایت کے وارث ہیں ہم پر گویا اس جہت سے بھی ایک فریضہ ہے کہ ہم اپنی ذات سے ہٹ کر قوم بن کر سوچیں اور انسانی ذہن کا کوئی خیال collectivity کے substance سے کٹ کر وجود میں نہیں آسکتا سب سے پہلے اس بات کو سمجھیں اور اپنی ایغو کی، خواہشات کی، اپنی فوری ضروریات کی قربانی کا جو کام ہے اس پر خوشی سے آمادہ رہیں پھر انشاء اللہ نہ صرف یہ کہ آپ قوم کو تاریخ کی یلغار سے محفوظ رکھیں گےبلکہ یہ قوم جس تصور انسان کو مانتی ہے اس تصور انسان کو بھی آپ عملی حالت میں برقرار رکھ سکیں گے۔

تہذیبیں اپنے تصور انسان سے پہچانی جاتی ہیں۔ پھر اس تہذیب کے دیگر تصورات، اسکی سیاست اس تصور انسان کے تابع ہوتی ہیں حتی کہ تصور خدا بھی اسی کے مطابق ہوتا ہے۔ جب تصور یہ ہوگا کہ انسان خدا کا بندہ ہے تو میرا تصور انسان دوسری تہذیبوں کےتصور خدا سے بھی مختلف کر دیتا ہے۔ ہم اپنے تصور انسان کو اپنے ذہن کا ہدف بنا کر، اپنی کوششوں کا مقصود بنا کر، ایمانداری کے ساتھ، بغیر کسی ذاتی خواہش کے، ان تھک انداز میں کوشش کرو یہی اب ہماری زندگی کی واحد سبیل رہ گئی ہے اور یہ ساری سبیل یعنی ہمارے زندہ رہنے کا دارومدار نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اورہم ان سے اپیل کرتے ہیں۔

یہ دنیا شعور اور مادے سے بنی ہوئی کائنات ہے انسان شعور کا فعال ایجنٹ ہے اور کائنات مادے کا ایک انرجیٹک انبار ہے۔ ان دونوں کے درمیان پروڈکٹو نسبت پیدا کرنا انسان کی ذمہ داری ہے لیکن اس ذمہ داری کے راستے میں ایک بڑی فورس تاریخ ہے جو انسان کو کبھی چیلنج کرتی ہے اور کبھی شاباش دیتی ہے۔ تاریخ کا گہر اشعور پیدا کئے بغیر نہ کوئی علم بن سکتا ہے اور نہ کوئی بامعنی عمل وجود میں آسکتا ہے۔ یہ تاریخی شعور ہمیں یہ بتاتا ہے کہ گلوبل سطح پر تاریخ کا رخ ہماری مخالفت میں اور ہماری ڈسٹرکشن کی سمت میں ہے۔ اور اسکا سامنا کرنے کیلئے بڑے عزم اور پیشن کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو نوکری حاصل کرنے اور دیگر شعبوں میں مہارت حاصل کرنے سے پہلے پورا کرنا چاہے۔

(احمد جاوید صاحب نے مختلف مواقع پر نوجوانوں سے خطاب کیا۔ یہ تحریر ان خطابات کی تدوین پہ مبنی ہے۔ مرتب: وحید مراد)

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20