قدیم میسو پوٹامیا کی مختلف سلطنتیں: مختصر تاریخی تعارف — وقاص صارم

0

قدیم میسوپوٹامیا (دجلہ و فرات کی وادی) کے عوام دراصل دو بڑے نسلی گروہوں پر مشتمل تھے، شمالی عراق اور کردستان میں سامی النسل اکاد Akadians قوم (جو بعد میں اسوریا/اسیریا اور بابلی کہلائے) اور جنوبی ڈیلٹا میں آباد سومیری Sumerians جو ایک الگ تھلگ لسانی قوم تھی. تہذیب کی ابتدا وادت مسیح کے پانچ ہزار سال پہلے جنوبی عراق کے سمیریوں نے کی۔ ابتدا میں یہ لوگ متحدہ قوم نہیں تھے، بلکہ مختلف چھوٹی شہری ریاستوں میں منقسم تھے۔ چار ہزار سال قبل از مسیح ہمیں انسانیت کے پہلے باقاعدہ مذہب کا ثبوت اسی علاقے سے ملتا ہے جو کہ 3500 قبل مسیح میں منخنی لکھائی Cuneiform کی ایجاد کے بعد، لکھی گئی مذہبی کتھائوں اور دعائیہ کلام کے ملنے سے ثابت ہوا ہے۔

اگرچہ یہ معلوم نہیں ہے کہ سومیری لوگ پراگی اتہاسک زمانے میں اس علاقے میں ہجرت کر کے پہنچے تھے یا وہ یہاں کے قدیم/اصل باشندے تھے. بہرحال وہ جنوبی میسوپوٹیمیا میں آباد تھے، جو سومیر کے نام سے مشہور ہوا، جبکہ سامی النسل اکاد قوم سومیریوں کے شمال میں آباد تھی۔ سمیریوں نے اکادیوں کی ثقافت پر کافی اثر ڈالا۔

سومری باشندے ترقی یافتہ تھے۔ لکھنے کی ایجاد کے ساتھ ساتھ انہوں نے ریاضی کی ابتدائی شکلیں، ابتدائی پہیے والی گاڑیاں، فلکیات، علم نجوم، تحریری قانون، منظم طب، جدید زراعت اور فن تعمیر جیسے علوم اور ابتدائی کیلنڈر بھی ایجاد کیے۔ قدیم مصر اور سندھو-سرسوتی تہذیب کے ہمعصر سمیریوں نے دنیا کی ابتدائی شہری ریاستیں قائم کیں جیسے کہ اورک، ار، لاگیش، ایسن، کیش، اما، ایریڈو، اداب، اکشک، سیپور، نیپور اور لارسا۔ غالبا اریڈو یا اورک سب سے پرانے شہر تھے۔ (موجودہ عراق دراصل اورک کی بگڑی شکل ہے) ان چھوٹی چھوٹی شہری ریاستوں کے حکمرانوں کو وہ “اینسی” کہتے تھے.

اکاد کی ریاستوں کے حکمرانوں کے نام ہمیں کھنڈرات سے ملی تختیوں پر لکھی ‘بادشاہوں کی فہرستوں’ میں پہلی بار سن 2800 قبل مسیح میں ملتے ہیں۔ 3500 ق م سے پہلے سومری-اکاد تہذیب پر سومیریوں کا غلبہ تھا، تاہم 2335 قبل مسیح میں اکاد حکمران سارگون عظیم نے سمیر پر قبضہ کرکے تمام میسوپوٹیمیا کو اکیڈین سلطنت کے ماتحت متحد کردیا۔ یہ دنیا کی پہلی باقاعدہ سلطنت یا بادشاہت تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ سومیری اور اکاد ثقافتوں اورمذاہب کے بیچ انضمام ہوتا گیا، بادشاہوں کو دیوتاوں کے نمائندے کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ سارگون اول کی قائم کردہ اکاد سلطنت کی حدود قدیم مغربی ایران، لیوانت (شام و عراق)، ایشیائے کوچک (ترکی)، کنعان ( اسرائیل و لبنان) اور جزیرہ نما عرب کے کچھ شمالی حصوں تک پھیلی ہوئیں تھی۔ سارگون کی قائم کردہ یہ پہلی اکاد Akadian سلطنت دو صدیاں ہی قائم رہ سکی۔ معاشی زوال، داخلی تنازعات اور شمال مشرق سے آنے والے گوتی حملہ آوروں کے حملوں کی وجہ سے اکادین سلطنت دو صدیوں بعد ڈیہہ گئی۔

اکادیوں کے زوال کے بعد نو سومیری سلطنت کا زمانہ آیا۔ 2100 ق۔ م میں شمال میں ایک اور سامی النسل قوم اسوریہ یا اسیریا Assyrian کا عروج شروع ہوا۔ جبکہ جنوبی میسوپوٹیمیا (سمیر) متعدد شہری ریاستوں میں بٹ گیا۔ جن میں ایسن، لارسا اور ایشنا اہم شہر تھے. 1894 ق م میں مغربی سامی قوم ہامور نے بابل نام کے نئے شہر کی بنیاد رکھی۔ یہ لوگ مغرب میں کنعان Phoenicia کے علاقے سے میسوپوٹامیا پر حملہ آور ہوئے تھے۔ بابل کی پوری تاریخ میں شاذ و نادر ہی مقامی لوگوں نے اس پر حکومت کی تھی۔

اس کے بعد ہمیں سومیر قوم کا وجود آثار قدیمہ(کی تحریروں) میں نہیں ملتا یقینا وہ بابلی سلطنت کے دیگر قبائل میں ضم ہوگئے ہوں گے۔ سن 1750 قبل مسیح کے لگ بھگ بابل کے ہاموری نسل کے حکمران، ہمورابی نے میسوپوٹامیا کا بیشتر حصہ فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کیا، لیکن یہ بابل کی سلطنت اس کی موت کے ساتھ ہی ایشیاء کوچک (موجودہ ترکی) سے آنے والے کاسی نام کے پہاڑی لوگوں کے حملوں کی وجہ سے تباہ ہوگئی، اگلے 500 سے زیادہ سال تک کاسی بابل کے حکمران رہے۔

اس کے بعد ایک مرتبہ پھر اسیریوں نے طاقت پکڑی اور درمیانی-اسیری سلطنت (1391ق م -1050ق م) کے دوران قائم رہی۔ اسی عرصے میں اسیریا نے اپنے شمال میں انطالیہ (ترکی) میں طاقتور ہو رہے، ہند- یورپی ( آریائی) قبائل ہیتی اور میتانی کو شکست دی۔ نیز یہ مصریوں سے کنعان (اسرائیل و لبنان) چھیننے والی پہلی میسوپوٹامیائی سلطنت تھی۔ سلطنت اسیریا اپنے عروج پر کوہ قاف سے لے کر بحرین تک اور قبرص سے مغربی ایران تک پھیلی ہوئی تھی۔

اسکے بعد قائم ہونے والی ایک نئی نیو-اسیریائی سلطنت (911- 605 ق م) سطح زمین پر اپنے وقت کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ اسی نیو اسیریا کے زمانے میں آرامی Aramaic زبان کو عروج حاصل ہوا۔ عربی اور عبرانی دونوں کی ماں سمجھے جانے والی اس مغربی سامی خاندان کی زبان کو اس وقت تک بین الاقوامی زبان کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔ اس زمانے تک بہت سے قدیم سمیری مذہبی تصورات عبرانی یہودیوں میں سرایت کرچکے تھے۔

یہ سلطنت 605 قبل مسیح میں آخری آرامی شہنشاہ آشور اوبلاۃ II کی موت کے بعد اندرونی تنازعات کا شکار ہوئی۔ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بابل، کالدیا اور ایرانی (مادیا اور پارسا) اقوام کے مشترکہ لشکر نے سن 625 قبل مسیح میں بابل کے شہنشاہ نبوپلاسر کی سربراہی میں حملہ کیا اور بچی کھچی اسیریا ایمپائر کو شکست دی۔

بابل کا آخری بادشاہ نبوند، چاند دیوتا، جنا کی پوجا پاٹ میں ایسا مستغرق ہوا کہ اپنا تاج و تخت اپنے بیٹے بیلش ضر کے حوالے کرکے امور سیاست سے کنارہ کش ہو گیا۔ اسی زمانے میں مشرق میں ایرانی-آریائی قبائل فارس اور میدیا طاقت پکڑ رہے تھے اب تک صدیوں سے اسیریا کی طاقتور ریاست نے انہیں باجگزار بنا کر اپنے ماتحت رکھا ہوا تھا۔

تاہم اب میسوپوٹیمیا کی اس آخری اسیری-بابلی سلطنت کے زوال کے زمانے میں مشرقی سمت کوروش Cyrus نامی ایرانی شہنشاہ نے دو پرانے آریائی حریف قبیلوں (پارسا اور میدیا) کو متحد کرکے نئی علاقائی طاقت ہخا منشی Achaemenid سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اس پہلی فارسی سلطنت نے 552 قبل مسیح میں میسوپوٹامیا کے دارالحکومت بابل کو فتح کیا اور یوں قدیم میسو پوٹیمیا کے مشرق وسطی پر تین ہزار سال سے زاید راج کا عہد تمام ہوا۔۔۔!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20