انسانی تذلیل: ٹی وی اینکرز اور سوشل میڈیا کا کردار

0
اینکر صاحب آدھا گھنٹہ اخلاقیات پر وعظ فرمانے کے بعد پنجاب یونیورسٹی کے استاد سے یوں گویا ہوتے ہیں:
“اگر بچے آپ کی بات نہیں سنتے اور چالیس ہزار بچے آپ سے نہیں سنھالے جاتے تو پھر آپ وہاں کیا کررہے ہیں؟ یونیورسٹی کے سامنے جوس بیچیں”۔

اینکر صاحب کی خوش گفتاری کو تو نظر انداز کیجئے لیکن اس طرح افراد کی تذلیل کرنے کا ایک رواج سا ہوچلا ہے۔ عدالتوں اور کمیشنوں میں بھی آئے روز پولیس افسران کی اس طرح کی تذلیل کی سرخیاں بنتی رہتی ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی خبر آئی تھی کہ ایک کمیشن کے سربراہ نے دہشت گردی روکنے میں ناکامی پر ایک پولیس افسر کی یہ کہہ کر تذلیل کی کہ آپ سے اس طرح کے واقعات نہیں روکے جارہے تو لعنت ہو آپ پر۔

کسی صورتِ حالات سے الگ تھلگ ہو کر اسے دیکھتے ہوئے گلے پھاڑنا اور ایسی جذباتی سخن طرازی فرمانا بہت آسان ہوتا ہے لیکن محدود وسائل اور محکمہ جاتی، معاشرتی اور سیاسی جکڑبندیوں کے اندر رہتے ہوئے کچھ چیزوں پر قابو پانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور انہی جج صاحب کو یا کسی سوشل میڈیا واعظ کو اگر مذکورہ پولیس افسر کی جگہ بیٹھنا پڑے تو دہشت گردی روکنے میں وہ بھی اتنے ہی ناکام رہیں گے۔

یہ کہنا مقصود نہیں ہے کہ کسی پولیس افسر کو کچھ نہ کہاجائے یا اس سے کبھی جواب ہی نہ طلب کیا جائے لیکن اپنی محفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر کسی مخصوص شخص کی ایسی تذلیل کرتے ہوئے ایک دفعہ خود کو اس کی جگہ پر رکھ کر سوچ لینا چاہیے۔

یہاں کچھ لوگ یہ نعرہ بھی بلند کریں گے اگر کوئی اتنا ہی بے بس ہے تو پھر وہ کوئی اور کام کیوں نہیں کرلیتا۔ تو حضرات یہ بھی نعرہ لگانے کی حد تک تو بہت آسان ہے لیکن عمل کرنے میں بہت مشکل ہے۔ یہی مثال دیکھ لیجیے کہ ملک میں نظام انصاف کی ابتر حالت کے باوجود آج تک کتنے جج صاحبان بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے گھرتشریف لے گئے ہیں؟ سوشل میڈیا واعظین و صالحین بھی وضاحت فرمائیں کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں خامیوں اور ان کو ٹھیک کرنے میں ناکامی کے احساس کی وجہ سے کتنے کیریئرز اب تک قربان فرما چکے ہیں؟

درخواست یہ ہے کہ کسی ادارے یا محکمے کی مجموعی ناکامی یا خامی پر تنقید کرنا تو بلاشبہ ایک جائز سرگرمی ہے اور اس کا دائرہ مخصوص افراد کے دائرہ اختیار میں ہونے والے واقعات تک بھی وسیع کیا جاسکتا ہے لیکن کارکردگی دکھانے یا محض غصہ نکال کر ذرا طبیعت ہلکی کرلینے کی نیت سے کسی مجموعی ناکامی پر کسی مخصوص فرد کی تذلیل کرنا کوئی اچھا رویہ نہیں ہے۔ ایسا کرتے وقت ایک لمحے کیلئے خود کو اس شخص کی جگہ رکھ کر تصور کرلینا آپ کی نیت میں کافی اچھی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

رہے اینکر صاحب تو احقر کی جانب سے انہیں دعوت ہے کہ چالیس ہزار بچے تو خیر بہت زیادہ ہوتے ہیں، کسی دن تشریف لائیے اور اور ذرا 50 مائل بفساد بچوں کی ایک جماعت کو ہی قابو کر کے اپنی استادی کو مظاہرہ فرمائیے۔ نہ ہوسکا تو جوس کا اسٹال تو موجود ہی ہے وہاں چند گھنٹے اپنی صلاحیتوں کا جادو جگا لیجئے گا۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: