راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 8) —- یاسر رضا آصف

0

پانی پہاڑوں کے درمیان آرام سے لیٹا ہوا تھا۔ سبز پہاڑوں کا عکس جھیل کے پانی پر زندہ نقوش ابھار رہا تھا۔ جھیل کے پانی کی چمک دیکھنے کے قابل تھی۔ خاموشی اتنی گہری اور سکوت ایسا واضح تھا کہ شہر کی پر شور سڑکوں پر ترس آنے لگتا تھا۔ میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا جھیل کی جانب بڑھنے لگا۔ ڈھلوان پر پائوں جما کر رکھنا پڑتا تھا پھر کوئی حفاظتی باڑ یا سیڑھیاں بھی موجود نہیں تھیں۔ مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے میں آہستگی سے جھیل میں اتر رہا ہوں۔

اسلام، عابد اور سمیر مسکراتے ہوئے میرے ساتھ آ ملے۔ ایسے علاقوں میں اترائی پر بندہ بلاوجہ بھاگتا چلا جاتا ہے جیسے پیچھے سے کوئی دھکا لگا رہا ہو۔ میں زور لگا کر خود کو روکے ہوئے تھا اور قدم پوری قوت سے رکھ رہا تھا۔ اسلام جھیل کی بابت کچھ باتیں بتانے لگا کہ جب ہم لوگ چار پانچ سال پہلے آئے تھے تو ایسی گہما گہمی نہیں تھی۔ پارکنگ کا کوئی انتظام بھی نہیں تھا۔ جب ہم جھیل کے قریب پہنچے تو منظر پوری طرح کھُل گیا۔

ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چہرے سے ٹکرا رہے تھے۔ میں جھیل کے پاس بیٹھ گیا اور اونچے پہاڑوں کو دیکھنے لگا۔ جنھوں نے اپنے وجود کی مضبوطی سے پانی کو اس جگہ ٹھہرایا ہوا تھا۔ پہاڑ حد درجہ خاموش تھے۔ خاموشی کی بھی کئی اقسام ہیں۔ کمرے کی خاموشی اور ویرانے کی خاموشی میں کافی بُعد پایا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اندر اور باہر کی خاموشی بھی خاصی مختلف ہے۔ یہ خاموشی خود ساختہ نہیں تھی بلکہ فطری اور قدرتی تھی جو من کو بوجھل نہیں کر رہی تھی اور نہ ہی اداسی کا سبب بن رہی تھی بلکہ یہ تو شدید گرمی میں ٹھنڈی سکنجبین کے گلاس کی طرح جسم کو زندگی بخش رہی تھی۔

عابد اور سمیر آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اسلام ایک پتھر پر بیٹھا فون پر بات کررہا تھا۔ مطالعاتی بائیولوجیکل گروپ جنھوں نے اپنے سینے پر کارڈ سجا رکھے تھے میرے قریب ہی جھیل کی ہیئت، بناوٹ، ماخذ اور درجات پر محوِ گفتگو تھا۔ وہ انگریزی میں اپنی تعلیمی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے بات کررہے تھے جن کا کچھ فی صد ہی میرے پلے پڑ رہا تھا۔ ایک ادھیڑ عمر شخص جس کی کنپٹیوں پر بال سفید تھے انھیں بریفنگ دے رہا تھا۔ وہ شخص جب بولنے لگتا تو سبھی لڑکے ہاتھ باندھ کر مؤدب انداز میں بات سننے لگتے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ گروپ کا سربراہ اور پروفیسر تھا۔

میں واپس چڑھائی چڑھتے ہوئے سڑک پر آگیا۔ میں نے اسلام سے واش روم کا پوچھا تو اس نے بائیں جانب اشارہ کردیا۔ میں نے سڑک پار کی اور ہوٹل کی پُشت پر موجود ٹین کے ڈبوں کے پاس بنے چھوٹے چھوٹے پتھر کے واش رومز کی قطار تک جا پہنچا۔ وہاں پہلے سے ہی فیاض، ذیشان اور شبیر منتظر کھڑے تھے۔ ایسی جگہوں پر واش رومز اور ہوٹل جیسی سہولیات کا ہونا اشد ضروری ہے۔ انتظار کے لمحات میں ہم نے سگریٹ کے دھویں سے مرغولے بنائے اور بات چیت کی۔ فیاض اور ذیشان کی باتیں ان کی ذات کے اردگرد گردش کرتی تھیں۔ وہ دونوں اپنے آپ سے چمٹے ہوئے تھے۔ آج کل ایسے لوگوں کی کثرت ہوتی جارہی ہے جو بری طرح خود پسندی اور خود تشہیری مہم کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ تمام عمر اپنی ذات کے بت کو کاندھے پر اٹھائے چلتے رہتے ہیں۔ وقت بہ وقت اس کا بنائو سنگھار کرتے چلے جاتے ہیں۔ اسے زیور سے آراستہ کرتے ہیں۔ میک اپ بھی کرتے ہیں۔ پھر ہر محفل میں اس کو پیش کرتے ہیں۔ میں ان کی گفتگو سنتا گیا اور سوچتا گیا۔

حرکت ہی زندگی ہے اوروین پھر سے حرکت میں آچکی تھی۔ اس مرتبہ وین اونچائیوں کے سفر پر روانہ تھی۔ پہاڑ چھوٹے اور سڑکیں منحنی ہوتی جارہی تھیں۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا کہ یہ وین کسی بادل میں پھنس جائے گی۔ مسلسل یوٹرن جیسے موڑ کاٹتے ہوئے اور اوپر ہی اوپر جاتے ہوئے وین سفر جاری رکھے ہوئی تھی۔ بعض اوقات تو دل ڈولنے لگتا۔ مسحور کن احساس رخصت ہو جاتا اور اس کی جگہ ایک واہمہ اور اندیشہ سر اٹھانے لگتا۔ اگر خدا نخواستہ وین سڑک سے پھسل جائے تو کیا ہوگا۔

میں ماڈل پبلک سکول میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ سکول کا ٹرپ لاہور گیا۔ فروری کا مہینہ تھا اور سورج کی دھوپ بھلی معلوم ہوتی تھی۔ سکول بس مینارِ پاکستان کے پاس رک گئی تو سبھی بچے ٹولیوں میں ادھر ادھر بکھر گئے اور مستیاں کرنے لگے۔ کچھ بھاگ رہے تھے۔ کچھ کرکٹ کھیل رہے تھے۔ ہم چار دوستوں نے مینار پر جانے کی سازش تیار کی۔ آہستگی سے ہم کھسکے اور دروازے تک جا پہنچے۔ ٹکٹ خریدے اور لفٹ سے اوپر جا پہنچے۔

دانش جانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ تھوڑے دل کا واقع ہوا تھا۔ اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ چہرے پر خوف نمایاں تھا لیکن ہمارے بار بار کہنے پر تیار ہو گیا۔ اسے معلوم تھا اگر میں ان کے ساتھ نہ گیا تو بعد میں بزدلی کے طعنوں سے جان عذاب میں پڑ جائے گی۔ مرد چاہے چھوٹی عمر کا بھی ہو وہ کبھی بھی یہ برداشت نہیں کرتا کہ اسے بزدل کہا جائے۔

نچلے حصے پر ہمیں اتار دیا گیا۔ آخری حصہ جو اونچائی پر تھا اسے بند کیا ہوا تھا۔ ہم اوپر سے شہر کا نظارا کرنے لگے اور بچوں کی دلچسپی کی چیزوں پر بڑھ چڑھ کر تبصرے کرنے لگے۔ اس دوران دانش خاموش رہا اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اردگرد دیکھتا رہا۔ عبدالرحمن اور مشتاق شرارتی لڑکے تھے۔ وہ باتوں باتوں میں اسے کنارے تک لے گئے۔ آگے باڑ لگی تھی۔ انھوں نے دانش کے کندھوں پر اپنے اپنے ہاتھ رکھ کر مذاق میں جھٹکا دیا۔ اس کا رنگ پیلا پڑ گیا وہ خوف سے وہیں ڈھیر ہو گیا۔

ڈیوٹی پر موجود شخص لمبا تڑنگا تھا۔ اس کے چہرے پر کرختگی تھی اور ہاتھ کافی بڑے تھے۔ وہ ہم لوگوں پر برس پڑا۔ اس نے جھپٹ کر پانی کی بوتل پاس کھڑے لڑکے سے چھینی اور دانش کے چہرے پر چھینٹے مارنے لگا۔ دانش کے ہوش کچھ ٹھکانے پر آئے تو اس نے بازوئوں سے پکڑ کر ہمیں لفٹ میں سوار کیااور نیچے لے آیا۔ دانش ادھ مُوا ہو رہا تھا۔ ہمارے پرنسپل کو جب سارے واقعے کا پتہ چلا تو خوب کھچائی ہوئی۔ کافی دنوں تک کلاس میں دانش کی کلاس ان دونوں کے ہاتھوں لگتی رہی۔ میں دانش کا ساتھ دیتا تھا اس لیے مجھے ڈرپوک کہا جانے لگا۔ کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے مجھ میں دانش کی روح آگئی تھی۔ میں خود کو غیر محفوظ تصور کر رہا تھا اور اپنی زندگی کے متعلق خاصا فکر مند ہو رہا تھا۔

میں نے خود پر قابو پایا اور اچھی اچھی باتیں سوچنے لگا۔ گاڑی مسلسل آگے سے اوپر کی طرف اٹھتی جا رہی تھی۔ بابو سر ٹاپ پر آکر گاڑی رک گئی۔ موسم خوشگوار تھا۔ وہاں دھند چھائی ہوئی تھی۔ سب نے اپنے ہاتھ جیبوں میں ٹھونس لیے۔ اچانک پھوار پڑنے لگی۔ غور کیا تو پتہ چلا کہ برف گر رہی ہے۔

یہ باقاعدہ برف باری نہیں تھی۔ پھوار نے ٹمپریچر کم ہونے کی وجہ سے برف کی عارضی شکل اختیار کر لی تھی۔ وہاں موسم اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے۔ اپنی جون تبدیل کرتا رہتا ہے۔ آپ نظارہ کر رہے ہیں اور کہیں سے ایک بادل کا ٹکڑا آئے گا اور برس کر چلا جائے گا۔ اگر موسم زیادہ سرد ہو تو برف باری بھی ہو سکتی ہے۔ پھر چند لمحوں بعد ہی سورج پوری آب و تاب سے چمکنے لگے گا۔ آپ دانتوں میں انگلی دبائے دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔ قدرت بابو سر ٹاپ پر اپنی جولانیوں پر تھی۔

ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ جس پھوار کو ہم لوگ برف باری کہہ رہے تھے پل بھر میں غائب ہوگئی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھکڑ چلنے لگے۔ بادل ہوا کے رتھ پر سوارہو کر رخصت ہوئے اور سورج ہمارے سامنے جلوہ گر ہوگیا۔ جیسے ہی سورج چمکا دور تک خوب صورت منظر واضح ہوتا چلا گیا۔ سورج نے کہرے کو مات دے دی اور ہماری آنکھوں کے سامنے سے سفید پردہ ہٹا دیا۔

سب اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ادھر ادھر بکھر گئے۔ امداد اور امجد خاموش طبع اشخاص ہیں۔ ہر وقت خاموشی سے اپنی سیٹوں پر بیٹھے رہنے والے اور کسی بھی بات میں دخل اندازی نہ دینے والے۔ ایسے لوگ سفر میں اپنی موجودگی کااحساس تک نہیں ہونے دیتے۔ اس کے برعکس فہیم نے سارے رستے باتیں کرنے کا ریکارڈ قائم کر دیا تھا۔ اس نے اپنے سکول کے واقعات سے محفل کو زعفرانی بنائے رکھا تھا۔ امداد نے امجد سے کچھ کہا اور دونوں خاموشی سے ایک طرف چلنے لگے۔ فہیم نے حسبِ عادت ان پر جملہ کسا ’’یہاں سے پکوڑے بہت اچھے ملتے ہیں۔ سنا ہے جو کھائے فرفر بولنے لگتا ہے‘‘۔ سبھی ہنسنے لگے ’’فہیم کو یار ان پکوڑوں سے دور ہی رکھنا۔ تمھاری مہربانی ہوگی‘‘ میں نے موقع ضائع نہیں جانے دیا۔ فہیم یار باش آدمی ہے۔ کسی بھی بات کا اثر نہیں لیتا۔ نصیحت کے معاملے میں ابھی تک اس سے میرا واسطہ نہیں پڑا۔ باقی ایسا آدمی جو اپنی کمزوریوں پر ہنسنا جانتا ہو، بہادر انسان ہوتا ہے۔ اپنی غلطیوں پر مسکرانے والا بڑے دل گردے کا مالک شخص ہوتا ہے۔

سید جلال پہلے کچی بستی کہلاتی تھی جسے اب کالونی کا درجہ مل چکا ہے۔ ہمارا ایک ہم جماعت وہاں رہا کرتا تھا۔ جسے وہاں کے سبھی لوگ کالی چرن کے نام سے پکارتے اور وہ خندہ پیشانی سے دونوں ہاتھ جوڑ کر دھنے واد کہہ دیتا۔ میرے لیے یہ بات انوکھی بھی تھی اور دلچسپ بھی۔ اس کا رنگ سیاہ نہیں تھا بلکہ گہرا سیاہ تھا۔ آنکھیں موٹی اور سرخ تھیں۔ بال جھاڑ نما تھے اور ہر وقت الجھے الجھائے رہتے تھے۔ اس پر اگر جسم فربہ ہوتا تو شاید کچھ بات بن جاتی پر جسم بھی چھریرا تھا۔ چہرے کی ہڈیاں نمایاں تھیں۔

کالی چرن کا اصل نام عبدالخالق تھا۔ اس کا باپ قوالی کیا کرتاتھا اور یہ ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ آواز تو جیسے ان کے خاندان کو تحفے میں ملی تھی۔ سُر اور لَے کے پکے لوگ تھے۔ میں اکثر ان کی بیٹھک میں جا پہنچتا۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوتیں۔ ہنسی مذاق چلتا اور پھر وہ ہارمونیم پر مہدی حسن یا غلام علی کی کوئی غزل چھیڑ دیتا۔ آواز تھی کہ کانوں میں رس گھول دیتی تھی۔ شکل و صورت اور آواز کے حوالے سے قدرت کا یہ تضاد دیکھنے لائق تھا۔ عام بول چال میں بھی اس کے لہجے میں شگفتگی، ٹھہرائو اور بانکپن کو محسوس کیا جا سکتا تھا۔ سکول میں نعت، ملی نغمہ اور گیت پر اسی کی حکومت تھی۔

ڈریکولا، شیش ناگ اور کالی چرن جیسے نام اس کی شخصیت کا حصہ بن چکے تھے۔ مجھے کوئی بھی بات چھُری کی طرح لگتی تھی اور میں فوراً رنجیدہ اور غمزدہ ہو جاتا تھا۔ وہ اکثر میری دلجوئی کرتا اور ہنسی مذاق سے میرا جی بہلانے لگتا۔ ایک روز ایسا ہی کوئی موقع تھا۔ میرے نئے جوگر جو میں نے بڑے چائو سے خریدے تھے عتاب کا نشانہ بن گئے۔ میں مٹی کی ڈھیری کی طرح سُن بُن سا ہو گیا۔

عبدالخالق نے میرا دفاع کیا اور مجھے اپنے گھر کے سامنے خالی پلاٹ میں لے گیا۔ مجھے ہر چیز سے نفرت ہورہی تھی۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگ ہا تھا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنے ٹیڑھے میڑھے دانتوں کی نمائش کرنے لگا۔ مجھے لطیفے سنانے لگا۔ میرا موڈ جب کافی بہتر ہوا تو اس نے مجھے نصیحت کی۔ مجھے ویسے تو نصیحت سے نفرت رہی ہے۔ ناصح کو میں شروع دن سے ہی ناپسند کرتا ہوں۔ پر ا س کا انداز مشورہ دینے والا تھا اس لیے آج تک وہ بات مجھے یاد بھی ہے اور میری زندگی کا حصہ بھی بنی ہوئی ہے۔ اس نے ٹھہر ٹھہر کر ہنستے ہوئے کہنا شروع کیا کہ دیکھو یار اگر دنیا کی باتوں کی اس قدر پرواہ کرو گے تو تم اپنی زندگی برباد کر لو گے۔ لوگوں کا کام تو باتیں کرنا ہے۔ تم ان کی باتوں کو ایک کان سے سنو اور اسی کان سے نکال دیا کرو۔ زندگی آسان ہو جائے گی۔ جب کوئی ایسی ویسی بات کرے تو نظر انداز کر دیا کرو جیسے وہ تمھیں کہہ ہی نہ رہا ہو۔ ورنہ ایسے ہی محسوس کرتے کرتے سڑے ہوئے امرود کی طرح ہو جائو گے۔ جس میں کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ میں بے اختیار ہنسنے لگا۔ وہ بات مرہم ثابت ہوئی اور آئندہ بھی زخموں پر پھاہے رکھتی رہی۔

فہیم میں مجھے عبدالخالق کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔ وہ فربہ جسم کا مالک تھا۔ دوست اسے تھیلا اور ٹینکی کہتے تھے اور وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ، نہایت خندہ پیشانی سے ان ناموں کو اعزاز سمجھتے ہوئے قبول کرتا جاتا تھا۔

میں سڑک پر تنہا نہیں تھا۔ سبھی دوست میرے ساتھ تھے اور طرح طرح کے جملے ایک دوسرے پر کس رہے تھے۔ ہم اسی طرح ہنستے ہنساتے بابو سرٹاپ کے پتھر کے بنے نقشے کے پاس آگئے جس کے ماتھے پر بابو سر ٹاپ 13700 فٹ لکھا تھا اور ساتھ نقشہ بنا ہوا تھا۔ مختلف مقامات کا فاصلہ بھی درج تھا۔ تصاویر بننے لگیں۔ کیمروں کی کلک کے ذریعے ہم ان لمحات کو قید کرنے لگے۔ میں اور عابد ٹہلتے ہوئے ایک طرف چلے گئے۔ وہاں چھوٹے چھوٹے پتھر بکھرے ہوئے تھے۔ پیچھے سر سبز پہاڑیاں تھیں اور ان کے پیچھے پہاڑوں پر برف جمی تھی۔ دور تک وادی اور درّے دکھائی دے رہے تھے۔ ہم نے سگریٹ نوشی کرنے کا فیصلہ کیا۔

آکسیجن کی کمی کے باعث لائٹرنے جواب دے دیا۔ عابد بھاگ کر گیا اور کہیں سے ایک ماچس لے آیا۔ اس نے مجھے ہوا کے آگے سینہ سپر ہونے کا کہا۔ اتنے میں فہیم بھی آگیا۔ ہم نے ماچس کی کئی تیلیاں جلائیں۔ ہوا کے جھونکے اس قدر تیز تھے کہ چنگاری پوری طرح شعلہ بھی نہ بنتی تھی اور بجھ جاتی تھی۔ آخر کار ہم لوگ ایک سگریٹ سلگانے میں کامیاب رہے۔ اس سے باقی دو کو ٹوچن کیا اور پھولے سانسوں کے ساتھ لمبے لمبے کش لینے لگے۔

بابوسرٹاپ سے پہاڑی سلسلہ ٹیلوں کا نشیب و فراز لگ رہا تھا۔ یخ بستہ ہوا چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔ آکسیجن کی کمی کے باعث تھوڑی سی چڑھائی پر سانس پھولنے لگتا تھا۔ کئی بادل دھوئیں کی شکل میں پاس سے گزر جاتے تھے۔ نگاہ کی وسعت اس مقام کو مزید دلفریب بنا رہی تھی۔ نظر دور تک جاتی تھی اور شاداب لوٹ آتی تھی۔

میں منظر کی وسعت میں کھویا ہوا تھا۔ پہاڑوں کی بناوٹ کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ نظر ہٹانے کا جی نہیں چاہتا تھا۔ بلال نے سڑک پر کھڑے ہو کر مجھے پکارا۔ میری نگاہیں منظر میں پیوست ہو چکی تھیں۔ میرا پلٹنا شاید ممکن نہ ہوتا اگر عابد مجھے شانے سے پکڑ کر نہ ہلاتا۔ میں نے سڑک کی طرف دیکھا۔ سر پر گول ہیٹ لیے اور بڑا سا لمبا کوٹ پہنے بلال مجھے شرلاک ہومز کا کردار لگ رہا تھا وہ مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلا رہا تھا۔ میں نے سگریٹ کو پھینکا اور پتھریلی زمین پر پائوں رکھتا ہوا سڑک پر آگیا۔

میں بلال کے ساتھ ایک چھپر نما ڈھابے میں داخل ہوا جسے مومی لفافوں سے ڈھانپا گیا تھا۔ ٹرے میں پکوڑے دھرے تھے اورچولہے پر رکھے پتیلے میں چائے پھدک رہی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھوں کوآپس میں رگڑا اور پلیٹ سے پکوڑے اٹھا کر کھانے لگا۔ چائے بھی جلد ہی آگئی۔ پکوڑوں کے ساتھ سُڑک سُڑک کر چائے پینے کا لطف، ایسے ٹھنڈے ٹھار ماحول میں نہ بھولنے والا تھا۔ بلال نے بتایا کہ مجھے سخت بھوک لگ رہی تھی۔ پیٹ میں بل پڑ رہے تھے۔ سوچا تمھیں بھی بھوک لگی ہو گی اس لیے بلا لیا۔ میں نے مناسب الفاظ میں اپنی بھوک کی شدت کو واضح کیا اور ہم دونوں بھوک سے بے نیاز ہونے لگے۔ اس وقت ہمیں وہ پکوڑے من و سلویٰ سے کسی صورت کم نہیں لگ رہے تھے۔ چائے واجبی سی تھی پر ایسی یخ بستگی میں جنت کا مشروب لگ رہی تھی۔

چائے کے متعلق ہمارے دوستوں کا ایک مقولہ ہے کہ چائے اچھی ملے، چاہے سندھ سے بھی ملے اور پیدل ہی جانا پڑے، پہنچ جائو۔ خرم، تبسم اور میں اکثر گھر سے پیدل نکلتے۔ گھر سے دو تین کلومیٹر دور ایک ڈھابے پر جاتے اور چائے پیتے۔ چائے تو ایک بہانہ تھی۔ احباب کا ساتھ، حالات حاضرہ پر تبصرہ، شکوے شکایتیں اور ہنسی مذاق ملاقات کا مقصد ہوتا تھا۔ آج بھی جب کبھی ہماری ملاقات ہو پہلا اور آخری آپشن چائے ہی ہوتی ہے۔ اب یہ رواج لوگوں میں کافی فروغ پا رہا ہے۔ جگہ جگہ کیفے کھلنے لگے ہیں۔ دن بھر کے تھکے ہارے لوگ کیفوں پر خوش گپیوں سے اپنا کتھارسس کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ کسی قوم کا یوں سڑکوں کی فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر وقت گزارنا وہاں امن اور خوشحالی کی نشانی بھی ہے۔

چائے اور پکوڑوں کے بعد ہم دونوں ہنستے مسکراتے وین میں آگئے۔ سوائے تین لوگوں کے باقی سبھی انتظار کی کیفیت میں غصے سے غبارہ بنے ہوئے تھے۔ بلال اور میں نے بھوک کا عذرپیش کیا تو فہیم نے کہا کہ یار تم لوگوں کی بات نہیں ہے۔ تم لوگوں کو تو عابد دیکھ آیا تھا۔ انتظار فیاض، ذیشان اور شبیر کا ہو رہا ہے۔ وہ یہاں دور دور تک کہیں بھی نہیں ہیں۔ ہم نے سبھی جگہ دیکھ لیا ہے۔ واش رومز تک ہو آئے ہیں۔ امجد بتا رہا تھا کہ شمال کی سمت پہاڑوں پر گئے ہیں۔ یہ سب جان کر مجھے بھی فکر ہونے لگی۔

انتظار کی کیفیت میں گھڑی کی ٹک ٹک بھی ٹائم بم کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ جیسے جیسے لمحات گزرتے ہیں کرب بڑھتا جاتا ہے اور ان کا بوجھ ذہن پر پڑنے لگتا ہے۔ معاملہ یہ نہیں تھا کہ وہ چلے گئے تھے۔ معاملہ یہ تھا کہ انھوں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ پھر ایسے پہاڑوں میں آئے روز ہم لوگوں کے پھسل کر کھائی میں گرنے کی خبر سنتے رہتے تھے۔ اجنبی دیس میں پہاڑوں کی ویرانی بھی خطرات کو جنم دیتی ہے۔

وہ پچیس تیس منٹ ایسے گزرے جیسے پچیس تیس سال ہوں۔ بالآخر وہ تینوں شمالی سڑک کی جانب سے ہنستے مسکراتے چلے آتے تھے۔ فہیم نے آئو دیکھا نہ تائو ان پر برس پڑا۔ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے تینوں ہی خاموشی سے وین میں بیٹھ گئے۔ انھوں نے فہیم کی ڈانٹ کو برداشت کیا۔ چوں کہ وہ غلطی پر تھے۔ انھیں بتا کر جانا چاہیے تھا۔ اس لیے قریب قریب سبھی لوگوں کے چہرے کچھے ہوئے تھے۔ ماتھے شکن زدہ تھے۔ آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں۔ میرے دماغ میں بھی ادھم مچا ہوا تھا۔ کانوں میں شاں شاں ہو رہی تھی۔ میں جیسے جیسے سوچتا گیا غصہ بڑھتا چلا گیا۔ وین چل پڑی۔ میں کسی طور بھی انھیں معاف کرنے کو تیار نہ تھا۔ میرے دل میں ان کے خلاف عجیب سی نفرت جنم لینے لگی۔

جاری ہے—-

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں۔

اگلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20