راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 7) —- یاسر رضا آصف

0

میں صبح سات بجے کے قریب بیدار ہوا تو کمرے میں خاصی چہل پہل تھی۔ میرے تینوں رفیق اپنی اپنی تیاری میں مصروف تھے۔ مجھ سے ایک دم بستر نہیں چھوڑ اجاتا یا شاید بستر مجھے نہیں چھوڑتا۔ مجھے مجبوراً اٹھنا پڑا۔ پانی رات کی نسبت زیادہ ٹھنڈا تھا اس لیے منھ ہاتھ دھونے پر ہی اکتفا کیا۔ کپڑے تبدیل کیے، بیگ میں چیزوں کو ترتیب سے رکھا اور سفر کی تیاری باندھ لی۔ اسلام صبح سویرے ہی اٹھ گیا تھا اور ناشتہ تیار کرکے ہمارا انتظار کررہا تھا۔ ایسی سہولت تو فقط گھروں میں ملتی ہے۔ اسلام کی مستعدی کو دیکھتے ہوئے ہم نے اس کا نام ’’ماں جی‘‘ رکھ دیا جسے اسلام نے خندہ پیشانی سے قبول کرلیا۔ سلائس پر آڑو کا جیم لگا ہوا تھا۔ یہ جیم اسلام گھر سے خود تیار کروا کے لایا تھا۔ ٹھنڈی بالکونی میں کھڑے ہو کر گرم گرم چائے کے گھونٹ بھرنے کا الگ ہی لطف تھا۔

ناشتہ اس لیے بھی ہلکا پھلکا رکھا گیا چوں کہ کئی احباب کو سفر میں قے کا مسئلہ تھا۔ پھر پہاڑی سفر میں گاڑی گھومتی بھی کچھ زیادہ تھی یوں یہ مسئلہ دو چند ہونے کا خطرہ بھی موجود تھا۔ آٹھ بجے ہم نے چابیاں کائونٹر پر جمع کروادیں اور وین میں پہنچ گئے۔ ناران کو الوداع کہنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ پلٹ کر واپس آنے کی آس میں یہ بھی کرنا پڑا۔ آس بھی بڑی کارآمد شے ہے۔ انسان کی سانس کو جاری رکھتی ہے۔ اچھے دنوں کی آس پر انسان برے دنوں کو ہنس کر گزار دیتا ہے۔ باقی ہمیں ابھی تک کسی بھی برے دن سے واسطہ نہیں پڑا تھا اور ہمارا خیال تھا کہ واسطہ پڑے گا بھی نہیں لیکن ہم لوگ غلط تھے۔

وین سے کچھ سیٹوں کو نکلوانے کے بعد بھی پندرہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود تھی۔ ہم بارہ تھے۔ اس لیے جو تھک جاتا وہ آخری سیٹ پر جا کرآرام کر لیتا۔ میں نے دروازے کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ وہاں سے منظر کی وسعت پوری طرح کھُل رہی تھی۔ اونچی نیچی سڑک پر وین مناسب رفتار سے چل رہی تھی۔ پہاڑوں کو کاٹ کر جس طرح سڑک کو تیار کیا گیا تھا وہ حیرت انگیز طور پر دلچسپ بات تھی۔ گہری کھائیاں تھیں اور دیدہ زیب پہاڑ تھے۔ حسن اور خطرے کا امتزاج سفر کو دلکش بنا رہا تھا۔

سر سبز پہاڑوں کے بدلتے نظاروں کے درمیان وین چلتی جارہی تھی۔ ان پہاڑوں پر خال خال ہی مکانات دکھائی دیتے تھے۔ مجھے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے گاڑی کسی خواب زار میں محوِ سفر ہو۔ سورج ا پنی پوری آب و تاب سے روشن ہوا تو منظر مزید نکھر گیا۔ ہمیں سفر کرتے ہوئے کئی گھنٹے گزر گئے۔ پرتکان نام کی کوئی شے ہمیں چھو کر بھی نہیں گزری۔ ایک آبشار نے ہمیں رکنے پر مجبور کردیا۔ آبشار کا پانی پتھروں سے ٹکرا کر دودھیا رنگ کی جھاگ اڑا رہا تھا۔ آنکھوں کو پتھرا دینے والا منظر تھا۔ کسی الف لیلوی داستان سے برآمد ہونے والا منظر جس میں پانی کے اچھال سے پریاں پھڑ پھڑاتی ہوئی باہر آجائیں۔ آبشار کا بہتا پانی سڑک پر سے ہوتا ہوا نیچے نشیب میں گر رہا تھا۔ گاڑی ایک طرف کھڑی ہو ئی تو مکئی کے بھُٹوں کی خوشبو نے ہماری بھوک کو دو آتشہ کردیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی ہر ہاتھ نے مکئی کا بھٹا پکڑا ہوا تھا۔ فکر کہیں دور جا چکی تھی۔ میں ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا جیسے سر سے کوئی بھاری بوجھ اتار آیا ہوں۔ تمام لوگ ٹولیوں میں بٹ گئے۔ کچھ نے آبشار کو قریب سے دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ کچھ سڑک کو پار کرکے نالے میں اتر گئے۔ میں کھڑا رہ گیا۔ میں مبہوت ہو کر گرتے ہوئے پانی کو تکے جارہا تھا۔ میں آبشار کے تھوڑا قریب ہوا اور اچھلتے پانی کی مترنم آواز کو سننے لگا۔

قدرت ان پہاڑوں میں نغمہ سرا تھی۔ یہ کوئی عام گیت نہیں تھا بلکہ دل کے تاروں کو چھیڑنے والی ازلی دھن تھی۔ یہ ایسا مقام تھا کہ جہاں شاعری خاموش ہو جاتی ہے اور الفاظ دم توڑ دیتے ہیں۔ ذیشان، فیاض اور شبیر آبشار سے ملاقات کے بعد مسکراتے ہوئے نیچے اتر رہے تھے۔ ان سب کے چہرے دھوپ کی تمازت سے نہیں بلکہ خوشی سے سرخی مائل ہورہے تھے۔ دوسری جانب سے عابد، فہیم اور فخر نشیب سے فراز کا درس لے کر اوپر چڑھتے آرہے تھے۔ ان کے چہروں پر اطمینان بھری مسکان تھی۔ مجھے اس روز فطرت کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ مجھے لگا کہ انسان نے شہروں میں پتھروں، اینٹوں اور دیواروں سے اپنے لیے پنجرے بنا رکھے ہیں۔

تصاویر بنائی جانے لگیں۔ سب نے اپنا اپنا موبائل نکالااور حسین لمحوں کو قید کرنے لگا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ تصاویر یاد بھی ہیں اور یہاں پر ہماری موجودگی کا ثبوت بھی ہیں۔ جب تصاویر کا سلسلہ نہیں ہوتا تھا تو انسان لفظوں کا سہارا لیتا تھا۔ اپنی روداد بیان کرتا تھا۔ چوپالیں سجتی تھیں۔ قصہ گو اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں کہانیاں بیان کرتے تھے۔ سامعین خیال کے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کہانیوں میں سفر کرتے تھے اور اس قدر محو ہو جاتے کہ خودکو ان قصوں کا حصہ سمجھنے لگتے تھے۔

مکئی کے ذرے دانتوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ چبائے گئے دانوں کا ذائقہ زبان میں ابھی باقی تھا کہ اسلام نے روانگی کا عندیہ دے دیا۔ چارو ناچار روانہ ہونا پڑا۔ آبشار تھی کہ پکارے جاتی تھی۔ مسافر لوگ کسی مقام پر مستقل قیام تھوڑی دیرکرتے ہیں۔ ان کی نظر تو منزل پر ہوتی ہے۔ وین دوبارہ بل کھاتی سڑک پر ڈولتی ہوئی چلنے لگی۔ آڑھی ترچھی سڑک کے موڑ زندگی میں آنے والے موڑ سے کچھ کم خطرناک نہ تھے۔ جی میں آئی کاش یہ وین یونہی چلتی رہے اور قدرتی مناظر ایسے ہی بدلتے رہیں۔ وقت پر کس کا اختیار ہے۔ لمحوں کی یہ دوڑ انسان کی سوچ سے بھی تیز ہے۔ چوں کہ انسان کو کچھ سوچنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ مجھے بے اختیار آئن سٹائن یاد آگیا میں بلاوجہ ہی مسکرانے لگا۔ جو تمام عمر وقت کی گتھی کو سلجھانے میں لگارہا۔

وین حسین وادیوں میں سفر کرتی جارہی تھی۔ میں کسی اور دنیا میں کھویا ہوا تھا۔ مجھے آغاز سے ہی حسین مناظر سے محبت رہی ہے۔ ایسے مناظر جن میں سر سبز پہاڑ ہوں۔ بہتی ہوئی آبشاریں ہوں۔ خاموش جھیل ہو اور ڈوبتے سورج کی سرخی میں ایک کشتی دھیرے دھیرے تیر رہی ہو۔ میں لاہور ہوتا تھا۔ صبح سے شام تک کام کرنا پڑتا۔ جوتوں کے جوڑوں کو ڈبوں میں سے نکالنا، گاہکوں کو نئے ڈیزائن دکھانا یہ سب کام کا حصہ تھا۔ مسلسل بولنا پڑتا۔ چرب زبانی کو عمدہ سیل مین کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ گاہک کو سوچنے کا موقع دیے بغیر بس بولتے چلے جانا بھی ایک فن ہے۔

اتوار کے روز چھٹی ہوتی۔ دو تین چھٹیاں جب کام کی نذر ہو جاتیں تو مہینے کے آخر میں تین چار چھٹیوں کے ساتھ گھر روانگی ہوتی۔ ٹرین سے ساہیوال آتا پھر وہاں سے پاک پتن اپنے گھر کا رخ کرتا۔ ٹرین نے جب مجھے ساہیوال پہنچایا تو بھوک اپنے زوروں پر تھی۔ بھوک اور نیند کے معاملے میں خاصہ کمزور ہوں۔ لہٰذا جب بھوک نے اپنے ہاتھ پائوں مارے اور پیٹ میں بل پڑنے لگے تو اسٹیشن سے نکل کر گھوڑا چوک آگیا۔

وہاں ایک ریڑھی والا ’’سٹوڈنٹ بریانی‘‘ کا بورڈ سجائے کھڑا تھا۔ میری حالت غیر ہو رہی تھی۔ بریانی کی پلیٹ کا آرڈر دیا اور جلدی جلدی چاولوں کو منھ میں پھینکنے لگا۔ زبان جلتی تو پانی کے گھونٹ بھر لیتا۔ پانچ منٹ میں ہی پلیٹ خالی کرکے ریڑھی والے کے ہاتھ میں تھما چکا تھا۔ اکتوبر کا مہینہ تھا اور موسم خوشگوار تھا۔ آسمان پر بادلوں کے سفید رتھ سورج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے میں مصروف تھے۔ کبھی دھوپ نکل آتی کبھی سورج چھپ جاتا۔ مجھے باہر والے اڈے تک جانا تھاتاکہ بس پکڑوں اور گھر پہنچ جائوں۔ ایسے حسین موسم میں آٹو رکشہ میں بیٹھ کر جانا عجیب سا لگا۔ لہٰذا پیدل ہی چل پڑا۔

روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ پر مختلف سٹال لگے تھے۔ کوئی کپڑے بیچ رہا تھا۔ تھوڑا آگے بچوں کے کھلونے رکھے تھے۔ میں بیگ دونوں کاندھوں میں پھنسائے اور کسی گیت کی دھن گنگناتا ہوا چل رہا تھا۔ کافی وقت چلنے کے بعد ایک شخص دکھائی دیا جس نے دیوار پر تصاویر لٹکا رکھی تھیں۔ جن پر بالی ووڈ اور لالی ووڈ کے اداکار اپنی مصنوعی مسکراہٹوں کے ساتھ جلوہ گر تھے۔ انھیں تصویروں میں کچھ فطری مناظر بھی تھے اور کچھ مذہبی پوسٹر بھی تھے۔ جب سے انٹرنیٹ آیا ہے یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ وہاں ایک ایسی تصویر تھی جس نے میرے قدموں کو تھام لیا۔

ایک گاڑی تیزی سے ہارن دیتی ہوئی میری جانب آرہی تھی اور میں اس کاغذ پر بنے منظر میں اتر چکا تھا۔ میں وہاں جسمانی طور پر تھا مگر ذہنی طور پر تصویر کے اندر جا چکا تھا۔ میں فٹ پاتھ سے نیچے سڑک پر کھڑا تھا اور وہ تصویر فٹ پاتھ کے ساتھ دیوار پر آویزاں تھی۔ گاڑی قریب آتی گئی اور میں سبز پہاڑ سے گرتی آبشار کے دودھیا پانی میں ڈوبتا چلا گیا۔ ایک ادھیڑ عمر آدمی جو وہاں شاید کچھ خریداری کررہا تھا۔ اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر اوپر کھینچ لیا۔ میں اگلے ہی لمحے فٹ پاتھ پر تھا۔ دو گاڑیاں جو آپس میں مقابلے کے باعث تیزی سے دوڑ رہی تھیں۔ ان میں سے ایک میری کمر پر موجود بیگ سے مس ہوتی ہوئی گزر گئی۔ میں فٹ پاتھ پر رکھی تصویروں کے اوپر جا گرا اور پوری طرح اس آبشار میں ڈوب گیا۔

گاڑی کا سائیڈ مرر یعنی پشت پر نگاہ رکھنے والاشیشہ ٹوٹ گیا۔ دور تک کانچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھیل گئے۔ کار والے نے بریک کی زحمت نہیں کی اور تیزی سے بھگا کر چلتا بنا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ مجھے خراش تک نہیں آئی تھی۔ میں نے ادھیڑ عمر شخص کا مناسب الفاظ میں شکریہ ادا کیا اور وہاں سے چل دیا۔ میں نے اس تصویر کو نہیں خریدا نہ ہی قیمت پوچھی غالباً وہ کسی پینٹنگ کی کاپی تھی۔ جسے دیکھنے پر میں بال بال بچا اسے اپنے ساتھ رکھنے پر میرے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ سوچ کر میں آج بھی مسکرا دیتا ہوں۔

مجھے مسکراتا دیکھ کر فخر نے آہستہ سے پوچھا ’’بھائی جی ایسا کیا یاد آگیا؟‘‘ اس کے چہرے پر ناچتی شرارت میں صاف پڑھ رہا تھا۔ ’’ایک دلربا حسینہ‘‘ فخر نے بے اختیار قہقہہ لگا دیا۔ چوں کہ وہ ایسے ہی کسی جوا ب کا منتظر تھا۔ فخر ہر لمحہ چاہتا ہے کہ اس کے اردگرد ٹھٹھہ ہوتا رہے، قہقہے بکھرتے رہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو چھیڑتے رہیں۔ ہنسی مذاق کرنا اس کی عادت ہے۔ میرے اندر بھی ایک شخص ایسا ہے جو یہ سب کرنے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔ پر اکثر میں اپنے آپ میں نہیں ہوتا۔ اس وقت بھی میں اپنے آپ میں نہیں تھا۔ میں ناسٹیلجیا کا شکار شخص ہوں۔ بیٹھے بیٹھے اچانک سے ماضی میں جاپہنچتا ہوں۔ مجھے بڑی مشکل سے خود کو کھینچ کر لمحہء موجود میں لانا پڑتا ہے لیکن ایساکچھ وقت کے لیے ہوتا ہے پھر ماضی کی جانب کوئی نئی کھڑکی کھُل جاتی ہے اور میں اپنے آپ سے دور ہوتا چلا جاتا ہوں۔

وین میں وقت گزار ی کے لیے نعرہ بازی ہو رہی تھی۔ سب مل کر جعفر زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ چوں کہ اس نے شام تک ہنزہ پہنچ جانے کی نوید سنائی تھی۔ نعرے بازی کا سلسلہ رکا تو پچھلی سیٹوں پر ہلچل ہونے لگی۔ نمکو کے پیکٹ کے لیے ذیشان اور فیاض آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ سب جانب سے شاوا، بہت خوب، گردن سے پکڑو جیسے مشورے ملنے لگے۔ فیاض سڈول وجودکا کسرتی جسم رکھنے والا نوجوان ہے۔ اس نے ذیشان سے آسانی سے پیکٹ چھین لیا اور مزے لے لے کر نمکو کھانے لگا۔ کئی دوستوں نے ہاتھ پیچھے کی طرف بڑھائے اور حوصلہ افزائی کا انعام مانگا۔ فیاض بھی بڑا سیانا تھا۔ چھوٹے سے پیکٹ کو سینے سے چمٹا کر ٹھینگا دکھانے لگا۔ اب وہی مجمع جو پہلے اس کا ہم نواتھا اس پر لعنت بھیجنے لگا۔ فیاض ذرا بھی شرمندہ نہیں ہوا اور ہنستے ہوئے معاملے کو رفع دفع کر گیا۔ میں نے جیب سے ہینڈ فری نکالی اور نصرت فتح علی خاں کے گیت سننے میں مگن ہوگیا۔

میرے کانوں میں نصرت کے گیت گونج رہے تھے اور آنکھوں کے سامنے دیدہ زیب مناظر رقص کر رہے تھے۔ بہت ہی پر لطف ماحول تھا۔ وین رک گئی۔ میں نے ہینڈ فری اتار کر جیب میں رکھ لی اور دوستو ں کے ساتھ سڑک پر قدم رکھا۔ ایک ریڑھی والا خشک میوہ جات کا ٹھیلہ سجائے کھڑا تھا۔ میں قدم بڑھاتا ہوا اس کے پاس چلا گیا۔ اخروٹ، کاجو، بادام اور خشک خوبانیاں قرینے سے سجی ہوئی تھیں۔ میں نے کاجو اور بادام خریدے۔ سڑک کے دوسری جانب عمارت زیرِ تعمیر تھی۔ وہاں کافی ساری گاڑیاں کھڑی تھیں۔ لوگ جوق در جوق مٹیالی پہاڑی سے نیچے اتر رہے تھے۔ یہ ’’لولوسرجھیل‘‘ تھی جسے دریائے کنہار کا منبع بھی کہا جاتا ہے۔ میں نے جھیل کو قریب سے دیکھنے کا ارادہ باندھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20