قدیم ہندوستان کی تاریخ: تہذیب، آریا سماج اور ہندوتوا کا ارتقاء — احمد رضا سلیم

0

انگریز 1924ء سے قبل یونانیوں اور ان سے قبل انکے ہم نسل آریاؤں کو ہی ہندوستان میں تہذیب کے وارث سمجھتے تھے جو وسطی ایشیائی چراگاہوں سے 1500ق۔ م سے 2000ق۔م کے دوران وارد ہوئے مگر موہونجودڑو کی کھدائی کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ چار ہزار برس قبل پختہ اینٹوں، نکاسی آب، عوامی غسل خانوں اور آبپاشی کے نظام کے حامل قدیم ہندوستانی شہر بابلی تہذیب کے ہمعصر تھے۔ بعد ازاں بلوچستان میں موجود چھے ہزار برس پرانی مہرگڑھ تہذیب کی دریافت نے قدیم ہندوستانی تہذیب کی صداقت پرمہر تصدیق ثبت کردی۔ قدیم ہڑپہ شہر بھی مہنجودڑو کا ہمعصر ہے۔ بد قسمتی سے ہندوستانی قدیم تہذیب کی زبان کو مصری یا بابلی تہذیب کی تحریروں کی طرح دریافت نہیں کیا جا سکا۔ ہندوستان میں موجودہ حکمران جماعت قدیم ہندوستان کو آریاؤں کا اصل وطن قرار دے کر ہندوتوا کے فلسفے کو بنیادیں فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

قدیم ہندوستانی تاریخ

  • قدیم ہندوستانی تاریخ آریاؤں کی آمد سے نہیں بلکہ سیاہ رنگت کے حامل دراوڑی لوگوں سے منسوب ہے جو اندازا 6 ہزار برس قبل یہاں وارد ہوئے جبکہ آریاؤں کی آمد 1500 سے 2000قبل مسیح سے قبل نہیں ہوئی۔
  • انگریزوں نے یورپی یونانیوں سے قدیم تہذیب کی ابتداء کی جبکہ قوم پرست ہندؤں نے آریا یا ویدوں کے زمانے سے قدیم تاریخ کی ابتداء کر کے یہاں کے قدیم لوگوں کو الگ کردیا جو یقینا تہذیب یافتہ تھے۔
  • موہنجودڑو اور ہڑپہ کے آثارقدیمہ میں کشادہ گلیاں، نکاسی آب، زرعی آلات، پختہ اینٹوں کے مکانات اور مہروں کی دریافت اسے ترقی یافتہ تہذیب ظاہر کرتی ہے۔ یہ شہر 2500قبل مسیح میں اپنے بام عروج پر تھے۔
  • کھلونوں میں بیل گاڑی اور دیگر جانوروں کے مجسموں سے ظاہر ہوتا ہے وہ جانوروں کو گھریلو استعمال کیلئے سدھانا جان چکے تھے۔
  • قبروں میں مردوں کے ساتھ پرتعیش اشیاء کی موجودگی، یعنی وہ حیات بعد از موت پر یقین رکھتے تھے۔
  • سر جان مارشل کے مطابق وادی سندھ کے آثار کی کھدائی میں پتھر کے ساتھ کانسی کے کچھ اوزار بھی ملے ہیں جبکہ بابلی تہذیب پتھر کے آخری دور سے گزر رہی تھی۔
  • وسطی ایشیاء سے آریائی قبیلوں کی آمد نے ان دراوڑی لوگوں کو جنوب کی جانب دھکیل دیا۔ جنوب کی زبانیں یعنی تامل اور تلگو وغیرہ بھی آریائی خاندان سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ دراوڑی ہیں۔ محققین لسانیات کے مطابق بلوچستان میں بولی جانے والی براہوی زبان بھی دراوڑی قبیل سے ہے۔
  • اس قدیم ہندوستانی تہذیب کی تباہی کی واضح وجوہات تو نامعلوم ہیں مگر غالب امکان یہی ہے کہ چراگاہوں کے متلاشی آریائی قبائل جو جنگجو طبیعت کے مالک تھے، اس تباہی کا مؤجب بنے۔

آریائی آمد اور قدیم ویدک عہد

آریاؤں کی آمد سے قبل کی تاریخ آثار قدیمہ کی صورت میں ہی موجود ہے مگر یہ بات ذہن نشین رہے کہ آثار قدیمہ کی تاریخ عام آدمی اور سماج کی غیر جانبدار تاریخ ہے کیونکہ اس میں سماجی زندگی کی ہی عکاسی ہوتی ہے۔ گھڑھ سوار آریائی مقامی لوگوں سے عسکری لحاظ سے بہتر تھے لہذا ان کو جنوب کی جانب دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے۔ وی آئے سمتھ کے مطابق آریاؤں نے کاشت کاری، تجارت اور دیہی و شہری سماجی زندگی مفتوحہ درواڑیوں سے سیکھی۔ جنوب نے عموما درویشوں اور فنکاروں کو جبکہ شمال نے حملہ آوروں کو جنم دیا۔ آریائی اپنے ساتھ مقدس وید لائے۔ ابتداء میں ذات پات کا نظام نہ تھا مگر جلد ہی نیا سماج تشکیل دیا گیا۔ برہمن کو مقدس ذات، کھشتری کو جنگجو، ویش کو تاجر جبکہ مقامی لوگوں کو شودر، ملیچھ یا چنڈال قرار دے کر سب سے نچلی ذات میں شمار کیا گیا۔ ابتداء میں ذاتوں کی تعداد زیادہ تھی جن کا تعلق بنیادی طور پر پیشوں سے تھا۔ جنوب میں چول سلطنت اور تامل زبان دراوڑی باقیات کے طور پر مزاحمت کرتی رہی۔

ARYANS (INDO-EUROPEANS), DRAVIDIANS AND THE PEOPLE OF ANCIENT INDIA | Facts and Detailsویدک دور

  • بقول ڈاکٹر رادھا کرشنن ابتدائی ویدک عہدمیں محض زمین، سورج، ہوا، پانی اور آگ کو ہی دیوتا کا فرجہ حاصل تھا۔ دیوتا کا ماخذ یونانی لفظ ڈائیس ہے۔
  • وید کا سنسکرت میں مطب پاک یا اعلی کا ہے۔ وید چار ہیں۔
  • رگ وید (حمد وثناء اور ہزار سے زائد بھجنوں پر مشتمل ہے).
  • سام وید (سنگیت)
  • یجروید (رسومات و قربانی)
  • اتھر وید (علم سحر)
  • محض براہمن ہی ان مقدس صحیفوں کے وارث تھے۔ نچلی ذات کے ہندو نہ تو انھیں پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی سن سکتے تھے۔

اپنیشد

اپنیشد کا لفظی مطلب قریب بیٹھنا ہے۔ یہ فلسفہ و نفسیات پر مبنی عالمانہ گفتگو تھی۔ اسے ویدوں کے بعد سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ یہ 800 ق۔ م سے 500 ق۔م کے درمیان لکھی گئیں۔

  • اس دور کو ہندو قوم پرست سنہری دور سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس دور میں وسطی و شمالی ہندوستان کومجھم دیش یا آریہ ورت کہا جانے لگا۔ بعد ازاں اسے بھارت، جو آریاؤں کے سب سے بڑے قبیلے کا نام تھا، سے پکارا جانے لگا۔ مگر یہ نام گنگا و جمنا کی وادی تک ہی محدود تھے۔ ویدوں میں بھی وادی سندھ کے پانچ بڑے دریاؤں اور گنگا و جمنا کا تذکرہ ملتا ہے مگر جنوب کے کسی دریا کا ذکر نہیں۔

1 جین مت

چھٹی صدی ق۔ م میں بہار میں پیدا ہونے والے مہاویر نے اس مذہب کی بنیادرکھی۔ فاقہ کشی اور سنیاس کی حمایت کرنے والا یہ مذہب ثنویت کے عقیدے کا قائل ہے۔ اہنسا اسکا متاثر کن پہلو ہے۔ جین کا لفظی مطلب فاتح کا ہے۔

2 بدھ مت

اس مذہب کا بانی سدھارتھ یعنی مہاتما بدھ 563 ق۔ م میں شمالی ہند میں واقع ریاست کپل وستو کے راجہ کے ہاں پیدا ہوا مگر سب کچھ چھوڑ کر روحانیت میں پناہی لی۔ ذات پات کے نظام کی نفی کی اور نفس کشی و نروان کی تبلیغ کی۔ عدم تشدد اسکا بھی متاثر کن پہلو ہے۔ 483 ق۔ م میں اپنی موت تک مہاتما بدھ 1200 بھکشوؤں کی وفادار جماعت تیار کر چکا تھا جس نے گھوم پھر کے بدھ مت کی تبلیغ کی۔

موریہ سلطنت (پہلی ہندوستانی سلطنت)

  • ہندوستان پر 327ق۔ م میں سکندر کے حملوں نے ایک بے چینی پیدا کردی۔ ٹیکسلا کے راجہ امبھی نے اس سے دوستی کرلی مگر جہلم کے قریب راجہ پورس نے اس کی زبردست مزاحمت کی۔ سکندر لوٹ گیا مگر ہندوستان میں پہلی مرتبہ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف ایک مضبوط سلطنت کی ضرورت محسوس کی گئی۔
  • چندر گپت موریا نے یونانیوں کو پنجاب سے نکال باہر کیا اور بہار میں واقع شہر پاٹلی پتر میں نند حکومت کا خاتمہ کرکے موریہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اسے اپنے مربی، کوتلہ چانکیہ جو ارتھ شاستر کا خالق تھا، کی حمایت حاصل تھی۔
  • چندر گپت نچلی ذات سے تعلق رکھتا تھا، مگر حاکم بننے کے بعد اس نے اپنی ذات بدل لی۔ ایک اندازے کے مطابق وہ 5 لاکھ تک کی فوج رکھتا تھا۔ تاہم اسکی سلطنت بھی شمالی ہند تک محدود تھی۔

اشوک اعظم - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیااشوک اعظم

  • چندر گپت کا پوتا اشوک 272 ق۔ م سے 232ق۔ م تک حکمران رہا۔ جنوب میں کالنگھ کی خونی جنگ کے بعد اس نے بدھ مذہب اختیار کر کے تلوار نیام میں ڈال لی۔
  • ذاتی طور پر اس نے شکار ترک کردیا اور گوشت خوری سے گریز کیا۔
  • اشوک نے رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام مذاہب کو آزادی دی اور اپنے احکامات غاروں اور پتھرکے ستونوں پر کندہ کروائے جو اشوک کی لاٹیں کہلاتی ہیں۔ یہ ستون افغانستان سے اڑیسہ تک ملتے ہیں۔
  • ستونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امن رواداری کی تلقین، دوسروں کے عقائد میں مداخلت سے گریز اور جان ومال کے تحفظ وغیرہ جیسے اعلی اصول اس نے اپنائے۔
  • ہندو ازم ترک کرنے پر وہ ہندؤں باالخصوص برہمنوں کی ناپسندیدگی کا باعث بنا رہا۔ 1873ء میں سانچی کے اسٹوپا پر اس کے احکامات ملے مگر نام دیانم پیاپداسی لکھا تھا۔ 1915 ء میں واضح ہوگیا کہ یہ اشوک کا خطاب تھا جسکا مطلب تھا دیوتاؤں کا پیارا۔
  • اشوک نے انسانوں اور جانوروں کیلئے شفا خانے، بھکشوؤں کیلئے ویہار اور خانقاہیں تعمیر کروائیں۔ غلامی کو ممنوع قرار دیا مگر ذات پات کا نظام قائم رہا۔ آبپاشی اور زراعت کو ترقی دی۔ گجرات میں آبپاشی کیلئے جھیل بنوائی۔
  • اشوک کے دور کے سکے بھی ملے ہیں۔ ٹیکسلا میں اسکی لاٹ کا ٹکڑا بھی ملا ہے۔ زیادہ تر ستون پراکرت زبان میں ہیں۔ یعنی اس وقت تک سنسکرت کے بجائے پراکرت کو عوامی زبان کا درجہ حاصل تھا۔
  • اشوک کے بعد اس موریہ سلطنت زوال کا شکار ہوگئی اور 184 ق۔ م میں اسکا خاتمہ ہو گیا۔
  • اس نے دھم یعنی مذہب کے پرچار کیلئے بدھ مبلغ مشن سری لنکا سے مصر تک بھیجے۔

دیگر حکمران خاندان

شنگ (185 ق۔ م تا 73 ق۔ م)
کن ( 73 ق۔ م تا 28 ق۔ م)
شک اور ستواہن ( 53 ق۔ م تا 320ء)
کشان ( 78ء تا تیسری صدی)

*کشان اور شک یا ساکا بیرونی حملہ آور تھے۔ کشنان چینی شباہت کے بدھ مت تھے جنہوں نے موجودگی یوپی سے لے وسطی ایشیاء تک سلطنت قائم کی۔
* کشان خاندان نے نئے دارالحکومت، پرش پور کی بنیاد رکھی جسے اب پشاور کہتے ہیں۔ گندھارا تہذیب کے سرپرست بھی یہی تھے۔ ان کے دور میں پشاور، ٹیکسلا اور متھرا تہذیبی مراکز بنے۔ کنشک عظیم کشان حکمران تھا جس نے بدھ مت کے مہایان فرقے کی سرپرستی کی۔

گپت خاندان (320 ء تا 540ء)

  • Silver karshapana 550-461 BC Magadha Janapanada, Ancient India - Series I  silver coin, Bhattiya to Ajatashatru (ca.550-461 BC) G/H #189 | MA-Shopsاسکی بنیاد چندر گپت اول نے رکھی
  • اسکے بیٹے سمندرگپت (330ء تا 3380ء)نے اشوک کی طرح ستون نصب کروائے۔ قدیم آریاؤں کی طرح اشومیدھ (گھوڑے کی قربانی) کی رسم جاری کی۔
  • چندرگپت دوئم (380ء تا 415ء) اہم ترین گپت حکمران تھا۔ اس نے دربار میں فن کی سرپرستی کی۔ کالیداس اسی کے دربار کا شاعر تھا جس نے مشہور ناٹک شکنتلا تخلیق کیا۔ اس نے ہندومت کی بھرپورسرپرستی کی۔ ہندو مذہب کی موجودگی شکل اسی دور میں بنی۔ نالندہ کی عظیم درسگاہ کی بنیاد بھی اسی دور میں پڑی۔

پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں ہنوں کے حملوں نے گپتا سلطنت کا تقریبا خاتمہ کردیا۔

گپت عہد میں ہندومت کا احیاء

*گپت عہد میں براہمنوں کو سرکاری عہددیئے گئے۔

*Havel کے بقول رامائن اور مہابھارت انہی کے دور میں لکھی گئیں جو آریاؤں کی مہم جوئی کو بیان کرتی ہیں۔ یہ مذہبی لٹریچر پران کہلاتے ہیں جو موجودگی ہندو مذہب کی تشکیل کا اہم ترین جزو ہیں۔

*برہمنوں کی املاک کو محصولات سے مستثنی قرار دیا گیا۔

*دستور منوں، جسے منوں نے اندازا 200ق۔ م کے قریب ترتیب دیا، کو الہامی درجہ ملا۔

*Elliot کے بقول برہمن مت نے اپنی آغوش میں بدھ مت کو قتل کر ڈالا۔ مہاتما بدھ اور اسکے پیروکار ہندو ازم کے مختلف تھے لہذا انہوں نے اپنا لٹریچر سنسکرت میں نہیں بلکہ پالی زبان میں تحریر کیا۔ مہایان فرقے نے بدھ کی مورتی بنانے اور پوجنے کی اجازت دیدی۔ جلد ہی ہندومت نے مہاتما بدھ کو اوتار قرار دے دیا۔

*جین مت کا انجام بھی بدھ مت جیسا ہوا۔ مہاویر کے اہنسا کے فلسفے کو ہندومت میں پناہی ملی اور جلد ہی یہ بھی انفرادیت کھو کر ہندومت میں ہی ضم ہوگیا۔

*Elliot کے مطابق تریمورتی کا تصور بھی اسی دور میں آیا۔ برہما تمام دیوتاؤں کا آقا، وشنو محبت وطاقت کا دیوتا جبکہ شیوا تباہی کا دیوتا تھا۔

*Dubious کے مطابق اب ہندؤں کے پاس بہت دیوی دیوتا تھے مگر اہم فرقے دو تھے۔ وشنو پرست ماتھے پہ سہہ شاخی علامت جبکہ شیوا پرست ماتھے پہ افقی لکیریں لگاتے تھے۔

*Winterwitzکے مطابق 500ق۔ م سے 500عیسوی کے دوران اٹھارہ اہم پران تخلیق ہوئے۔ ان میں ویاسا کی مہابھارت معروف ترین ہے۔

منو سمرتی

*دستور منو ہندوستان میں ملوکیت کی مضبوط بنیاد بن کر ابھری۔ مذہب پر برہمن مت کا قبضہ ہوگیا۔

*ذات پات کا نظام مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو گیا۔ ذات کے حساب سے پیشے تقسیم ہوئے۔ منو تقریبا اٹھارہ ذاتوں کا ذکر کرتا ہے مگر چار راہمن، کھشتری، ویش اور شودر ہی اہم سماجی تقسیم تھی۔

*وید برہمنوں کے سپرد ہوگئے۔ پران مقبول ہوئے جو کھشتریوں کی بہادری کی داستانوں اور دیو مالائی قصوں پر مشتمل تھے۔

*ہندوستان میں بس جانے والے یونانی، ہن اور ساکا جلد ہندو ہو گئے۔ ایک اور تبدیلی یہ آئی کہ راجپوت جنگجو طبقے کے طور پر ظاہر ہوئے اور کھشتری غائب ہوگئے۔ بعض مؤرخین کی رائے میں راجپوت اور جاٹ قومیں بنیادی طور پر جنگجو ہن اور ساکا قوموں کے وارث ہیں۔

*شیو اور وشنومت مقبول ہوگئے۔ سماج تقسیم کو گیا مگر منو سمرتی کے اصولوں نے ہندو مت کو خارجی اثرات سے بھی بچایا۔

*گنگا اور گائے مقدس ہوگئے۔ سنسکرت کو علماء سے عوام کی زبان کا درجہ ملا اور پراکرت زبان غائب ہوتی گئی۔

ہرش وردھن کا دور

ہرش وردھن 606ء سے 647ء تک شمالی ہندوستان کا حکمران رہا۔ اس نے راجہ دھیراج، یعنی راجاؤں کے راجہ کا لقب اختیار کیا۔ اس نے قنوج کو دارلحکومت بنایا۔ وہ شیوہ پرست تھا مگر بعد میں بدھ مت اختیار کیا۔ وہ ہندوستان کا آخری بڑا حکمران ثابت ہوا۔ ہمیشہ کی طرح ہندوستان مختلف ریاستوں کا مرکب بن گیا۔ راجپوتوں نے جلد ہی باہم چپقلش کے نتیجے میں شمالی ہند میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم کیں۔ مسلمانوں نے ہندوستان کو سیاسی طور پر اسی حالت میں پایا۔

قدیم ہندوستان میں سائینسی ترقی

ہر تہذیب اپنے اندر علم و دانش کا ذخیرہ رکھتی ہے اور بالآخر انسانیت کی مجموعی ترقی میں حصہ ڈالتی ہے۔ ریاضی، ادب اور علم طب میں ہندوستان نے بہت ترقی کی۔ تاہم مختصر تبصرہ درج ذیل ہے۔

*آریہ بھرت ( 476ءتا 560ء) عظیم ترین ماہر ریاضیات اور منجم تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ سبھی ستارے چاند کی طرح ہیں جبکہ زمین حالت گردش میں ہے۔ اس نے سیاروں کے مدار کے بیضوی ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ البیرونی نے اسکا تذکرہ کیا ہے اور اسی کے ذریعے عرب دنیا تک اسکے ریاضی، ٹرگنومیٹری اور فلکیات کے اثرات پہنچے۔

*اعشاری نظام اور صفر کا استعمال بھی عربوں نے ہندوستان سے مستعار لیا۔

  • بھاسکر (پیدائش 1114ء) عظیم ماہر الجبرا تھا۔ اس نے منفی اعداد کا تصور پیش کیا اور الجبرا کی مساواتوں پر کام کیا۔
  • غالبا چھٹی یا پانچویں صدی عیسوی میں فلسفی، کناڈا، نے وششکا کے نام سے نظریہ دیتے ہوئے کائنات کو ناقابل تقسیم ذرات پر مشتمل قرار دیا جنھیں اس نے پرمانو یعنی ایٹم کا نام دیا۔
  • ہندو طب کا تعلق وید سے منسلک ہے جن میں ہوا، پانی، بلغم اور خون کو بیماری کے بنیادی اجزاء قرار دیا گیا ہے۔
  • سوشٹرا معروف ترین ماہر طب تھا جو پانچویں صدی ق۔ م میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنی تحریر، سوشروٹا سماہتی، میں ایک ہزار سے زائد بیماریوں کا تذکرہ کیا اور سات سو سے زائد طبی جڑی بوٹیوں کی تفصیل بیان کی۔ Sorting کے مطابق تو اس نے آلات جراحی کی بھی تفصیل بیان کی ہے۔
  • چراکا دوسرا بڑا ماہر طب تھاجو سو ق۔ م کے قریب پیدا ہوا۔ اس نے ادویات کا انسائیکلوپیڈیا، چراکا سمیہتا، مرتب کیا جس کے ایک سو بیس ابواب میں دو ہزار سے زیادہ دواؤں کا تذکرہ ہے۔
  • پبدقسمتی سے ہندوستان میں فیثا غورث یا سقراط کی طرح کا فلسفی جو منطق علم پر اطلاق کی بات کرتا، پیدا نہ ہوسکا۔ الہامی اور توہم پرستانہ عقائد منطق پر حاوی رہنے کی وجہ سے سائینس کے دیگر شعبوں میں وہ ترقی نہ ہو سکی جو ریاضی، فلکیات یا طب میں ہوئی۔

قدیم ہندوستان میں ادب اور آرٹ

دراوڑی آثار قدیمہ کی زبان کے ناقابل فہم ہونے سے اس دور کے ادب اور فنون کو واضح نہیں کیا جا سکتا مگر غاروں سے کچھ تصاویر اور دیو مالائی داستانوں کا تصور ابھرتا ہے۔ ویدک عہد میں سنسکرت صرف اعلی طبقے کی زبان تھی اور پراکرت عام لوگوں کی۔ بدھ متوں نے پالی زبان میں اپنا کام محفوظ کیا۔ جنوب میں تامل زبان مقدس ہوگئی۔ اپنیشدوں اور پرانوں کے بعد گپتا عہد میں سنسکرت کو عوامی سطح پر جگہ ملی۔ مختصر تعارف درج ذیل ہے۔

  • تعلیم اعلی طبقے تک محدود تھی۔ استاد کو اچاریہ یا بھاٹ بھی کہا جاتا تھا۔ ابتدائی تعلیم میں کردار اور نظم و ضبط پر توجہ دی جاتی تھی۔ اعلی تعلیم کیلئے پانچ ستر یعنی علوم، صرف و نحو، فنون وہنر، طب، دستکاری اور فلسفہ اہم تھے۔
  • مہابھارت کو ہندوستان کی ایلیڈ کہا جا سکتا۔
  • رامائن بھی قدیم مذہبی داستان ہے جس میں رام کا تذکرہ ہے۔ والمیکی کو اسکا مؤلف کہا جاتا ہے۔
  • مہابھارت اور رامائن دونوں دراصل کھشتریوں کی عظمت کے قصے کہے جا سکتے ہیں۔
  • پانینی عظیم ماہر لسانیات تھا جس نے سنسکرت گرامر مرتب کی۔ اس نے 4000 سے زائد ستر لکھے۔ اس کے بعد بھرتری ہری کا نام آتا ہے جس نے ساتویں صدی عیسوی میں سنسکرت زبان اور شاعری پر کام کیا۔
  • ڈرامے کی روایت غالبا یونان سے ہندوستان پہنچی۔ پہلا معروف ناٹک لکھاری آشواگوش کشان حکمران، کنشک کے دربار سے وابستہ تھا۔ پہلا ڈراما، مراچھیکیقا، کو کہا جاتا ہے۔
  • معروف ترین ناٹک، شکنتلا، کا خلق کالیداس مہاراجہ چندرگپت دوئم کے دربار سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ المیہ نگاری شکنتلا اور مہاراجہ دھشنت کے گرد گھومتی ہے۔ انہی کی اولاد بھرت کے وارثوں کے مابین مہابھارت ہوتی ہے۔
  • رقص اور موسیقی کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ وشنو خود رقص کا دیوتا تھا لہذا یہ بھی ہندومت کا جزو بن گیا۔
  • مجسمہ سازی کو کشان اور گپتا عہد میں بڑا عروج ملا۔ آج بھی اس دور کی مورتیاں اور مجسمے محفوظ ہیں۔
  • اورنگ آباد سے سو کلومیٹر دور، اجنٹا کے غار جو غالبا پانچویں صدی میں پہاڑوں کو کاٹ کر بنائے گئے، عظیم شاہکار ہیں۔ ان میں ہندومت، جین مت اور بدھ مت کی جھلک نظرآتی ہے۔
  • اورنگ آباد کے قریب کی ایلورہ کے غار بھی مجسمہ سازی کا شاہکار ہیں۔ اورنگ زیب جیسے مذہبی سوچ کے حامل بادشاہ نے اپنے بیٹے کو خط میں لکھا کہ دکن سے واپسی پر ایلورا کے غار جیسا شاہکار دیکھنا نہ بھولے۔

 قدیم ہندوستانی سماج اور معاشرہ

*موہنجودڑو اور وادئ سندھ کی تہذیب کے آثار بتاتے ہیں کہ سماج منظم تھا۔ تجارت اور کاشتکاری کے ساتھ گلہ بانی بھی بطور پیشہ موجود تھے۔ موہنجودرو کے دور میں کپاس کی کاشت کی جاتی تھی۔

*میگھستنیز جو سکندر کے بعد ایشیائی علاقوں کایونانی حاکم بننے والے، سلیوکس کا چندرگپت موریہ کے دربار میں سفیر تھا، نے موریہ عہد کے ہندوستان کی تفصیل بیان کی ہے۔ ہر بڑے شہر میں چھے کمیٹیاں تھیں جو محصولات، پیدائش وموت کے حساب سے لے کر تاجروں تک کے معاملات دیکھتی تھیں۔

*زراعت سب سے بڑا ذریعہ معاش تھا۔ دھان، گیہوں، ہلدی، کپاس، مصالحہ جات اور جڑی بوٹیوں کی پیداوار عام تھی۔ ہیروڈوٹس نے ہندوستان کی کالی مرچ کو کالا سونا قرار دیا۔

*جنوبی ہند بالخصوص چولا سلطنت کم وسائل کے ساتھ زیادہ خوشحال تھی کیونکہ وہ سمندری تجارت کیلئے ساحلوں کو کھلا رکھتے تھے۔

*موریہ خاندان، کشان اور گپتا خاندان کے ادوار کے سکے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارت میں مال کے بدلے مال نہیں کرنسی کا استعمال ہوتا ہوگا۔

*کشان سلطنت کے دور میں تجارت عروج پر تھی کیونکہ یہ وسطی ایشیاء تک وسیع تھی۔ پشاور، ٹیکسلا اور متھرا بڑے تجارتی مراکز بن گئے۔

*ویدک عہد میں عورت کو کسی حد تک آزادی حاصل تھی مگر شاستروں کے دور میں یہ جاتی رہی۔ ویدک دور میں شادی کی عمر 16برس تھی جو شاستروں کے دور میں دس برس ہوگئی۔ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہ تھی تاہم چند بڑے خاندانوں میں اسکی بعض مثالیں ملتی ہیں۔ ستی کی رسم بعد ازاں راجپوت دور میں راسخ ہوئی۔

*قدیم ہندوستان کے بارے میں کم معلومات کی وجہ یہ ہے کہ تاریخ نویسی کو فروغ حاصل نہ ہوسکا۔ معاشرہ جامد رہا کیونکہ سماج میں پیشوں کے اعتبار سے منقسم تھا۔ کوئی چاہ کر بھی ذات بدل نہیں سکتا تھا۔ اس امر نے سماج کی توانائیوں کو بڑی حد تک نقصان پہنچایا۔

تنقیدی جائزہ

ہندوستان میں ہندوتوا کی مودی لہر نے قدیم ہندوستان کو تاریخی طور پر مسخ کرکے ہندومت اور آریاؤں کو مقامی قرار دینے کی مہم چلا رکھی ہے۔ مگر آریاؤں سے قبل دراوڑی تہذیب کے آثار پاکستان میں وادئ سندھ کے آثار قدیمہ کی شکل میں موجود ہیں۔ اس مہم کا مقصد آریاؤں کے علاؤہ تمام برصغیر کے لوگوں کو غاصب قرار دینا ہے۔

تمام تہذیبیں ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں۔ دانشوری کے تبادلے کا یہ عمل جہاں سبک رفتار ہوگا، وہ معاشرہ ترقی کی منازل پا لیتا ہے۔ یونانیوں اور عرب مسلمانوں نے ریاضی، فلکیات اور طب میں بہت کچھ ہندوستان سے سیکھ کر آگے بڑھایا۔ ہندوستان کی زرخیزی بیرونی اقوام کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ یہی وجہ کی جو قومیں حملہ آور ہوئیں یہا ں بس کر اس کی تہذیب کا حصہ بن گئیں ماسوائے انگریز حکمرانوں کے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20