پریشانی سے پریشانی تک — حبیبہ طلعت کا شگفتہ انشائیہ‎

0

اگر آپ پریشان ہیں تو ہمارے پاس آئیے ہم آپ کو اور پریشان کر دیں گے۔ ویسے بھی چچا غالب کہہ گئے ہیں کہ
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

محمد حسین آزاد بجا طور پر لکھ گئے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا مگر ٹھہریے یہ تو صدی پرانی بات تھی۔۔۔ اکیسویں صدی عیسوی میں اب کا انسان، خوش رہنے کی خاطر بھی پریشان پھرتا ہے۔ سوچیے پریشان کون نہیں ہوتا۔ کوئی پریشان حال ہے تو کوئی پریشان خیال۔ کسی کا خلف پریشان ہے تو کسی کی زلف۔

بوئے گل نالہِ دل دود چراغِ محفل کی حد تک تو غنیمت تھا، لیکن پریشان خٹک کو ایرپورٹ لینے آنے والا ڈرائیور بھی پریشان نکلے گا یہ اسی طرح ہمارے وہم و گمان میں نہیں تھا جیسے سامنے والے مکان میں بھی چراغ کا نہ ہونا۔ لیکن ہمیں یہ پریشانی ہے کہ ان پریشانیوں میں بیچاری پری کی شان خوامخواہ رگیدی گئی۔

سوچیں تو ہمارے بچپن کی پریاں کس قدر پرسکون اور باعث تسکین ہوتی تھیں۔ کومل کومل، پیاری پیاری، نیلی لال ہری پریاں۔ جو ثریّا کی سوتی ہوئی گڑیا کے پاس آجاتی تھیں۔ لیکن صاحب کیا آفت کی پرکالہ گڑیا تھی وہ بھی کہ ایک تو فٹافٹ آنکھیں کھول دیتی تھی، اور پتا نہیں بند کرتی بھی تھی یا نہیں۔ ویسے سچّی بات ہے ہم نے تو کبھی نہیں سنا کہ گڑیا کی آنکھ بند ہوتے ہی گڈّے نے نیا بیاہ رچا لیا ہو۔ شاید اسی لیے گڑیاں آنکھ بند کرتی ہی نہ ہوں۔ لیکن اس گڑیا نے تو آنکھ کھول کر پری کو دیکھا اور لگی چیخنے ہائے میں مرگئی۔ ہمارا تو خیال ہے کہ اس گڑیا کا ادبی ذوق یقیناً بہت اعلیٰ رہا ہوگا اور اس نے سراج اورنگ آبادی کی وہ غزل ضرور پڑھی ہوگی جس کا مطلع ہے ‘خبر تحیّر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی’، جبھی تو اپنے سامنے پری کو دیکھ کر اسے یقین ہو گیا ہوگا کہ تحیّر عشق کی خبر غلط تھی اور اسی بنا پر اس نے اتنا واویلا کیا ہوگا۔

اب آپ کو کیا بتائیں کہ جامعہ پنجاب میں ہمارے ہم جماعت تھے، جانے ان کو کیا پریشانی لاحق رہا کرتی تھی جہاں ہم لڑکیوں کو دیکھتے تھے پریشان ہوجایا کرتے تھے۔ خاص طور سے ہمیں دیکھ کر تو ان کا منہ حیرت کی زیادتی سے کھلے کا کھلا رہ جاتا تھا۔۔۔ حالانکہ ان دنوں ہم، دوستوں کی جانب سے “گاوں کے اندر بد روح” کے خطاب سے سرفراز کیے گیے تھے۔۔۔۔ اب اس کی وجہ کیا تھی؟ نہیں معلوم، تاہم ہم نے ان کو دیکھ کر متعدد بار پکا ارادہ کیا کہ ہم ان جیسے تمام افراد کی پریشانی رفع دفع کرنے کی خاطر ایک ادارہ قایم کریں گے، جدھر بڑا عمدہ سا بل بورڈ لگا ہوگا، اس پر شاندار سی خطاطی میں یہ عبارت لکھوائیں گے کہ “اگر آپ پریشان ہیں تو ہمارے پاس آئیے ہم آپ کو مزید پریشان کر دیں گے۔”

یہ سب یوں ہی بے سبب نہیں تھا یہ قومی خدمت کا ہی انداز ہے اور انسانیت کا تقاضا بھی ہے کہ ذرا ذرا سی پریشانیوں کا علاج جی بھر کر پریشان ہونے، پریشان رہنے اور پریشان کرنے سے ہی کیا جانا چاہیے اسکا ایک فوری نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ پھر ‘ذرا سی پریشانی’ نہیں رہتی۔

بہرحال اتنا تو طے ہے کہ ہر شخص پریشان ہے۔ اور اگر نہیں بھی ہے تو پریشانی مول لینا کون سا مشکل ہے، ایک بکری ہی تو خریدنے کی دیر ہے۔ اکثر تو جن کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی وہ اس بات پر پریشان ہوتے ہیں کہ دوسروں کو کیسے پریشان کیا جائے۔ لیکن صاحب ہم ہرگز ان لوگوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہم تو دوسروں کی پریشانیوں کا علاج سوچتے سوچتے پریشان ہو گئے ہیں۔

اس سلسلے میں ہمارا بنیادی فلسفہ ہے کہ ‘لوہے کو لوہا کاٹتا ہے’۔ یا یوں سمجھ لیجیے کہ انسان کو انسان کاٹتا ہے۔ ویسے تو انسان کو کون نہیں کاٹتا۔مچھر،کھٹمل، جوں، پسّو، کتّا اور خود اس کے اپنے بچّے۔ کسی کو انتظار کاٹتا ہے تو کسی کوغم، لیکن ہم اس وقت صرف اس موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیں کہ جیسے لوہے کو لوہا کاٹتا ہے ویسے ہی پریشانی کو پریشانی کاٹتی ہے۔ اسی لیے تو غالب جن کو غم کھانے کے لیے مئے گلفام کا کم ہونا ہی بہت تھا، جب حقیقی پریشانیوں میں مبتلا ہوئے تو ان کی شراب ہی چھوٹ گئی۔ تو ہمارے خیال میں بھی معمولی پریشانیوں کا علاج یہی ہے جو شخص پریشان ہو اسے مزید پریشان کیا جائے۔ جو قوم پریشان ہو اسے مزید پریشان کیا جائے۔ یہاں تک کے تیرے بھی دن گزر جائیں اور میرے بھی۔

ویسے حکّام ہمیشہ سے اسی بات پر عمل پیرا رہے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ اگر حاکم رعایا کو امن اور خوشحالی میں مبتلا کرتا ہے تو اس کو دنیا میں ہی اس کی سزا مل جاتی ہے۔ اب چونکہ سکون، سکون کو کاٹتا ہے اس لیے وہی لوگ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اس کی عاقبت سنوار کر ہی رہتے ہیں۔ اسی لیے حکّام ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے آئے ہیں کہ عوام کے ساتھ کوئی بھلائی نہ ہو جائے۔ یہ جو ہر سال بجٹ پیش کیا جاتا ہے یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وہ قدیم چینی کہانی کس نے نہیں پڑھی ہو گی کہ ایک غریب کسان اپنے گرو کے پاس فریاد لے کر گیا کہ بہت پریشان ہوں۔ ایک ہی کمرہ ہے اس میں بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہوں کچھ کیجیے۔گرو بیچارہ کچھ کرنے کے لائق ہوتا تو گرو کیوں ہوتا؟ وہ تو پریشان حال کو مزید پریشان ہی کر سکتا تھا۔ سو اس نے کہا کہ اپنی بکری کو بھی کمرے میں باندھو۔ اگلی ملاقات پر گرو نے کہا کہ گائے کو بھی کمرے میں باندھو۔ بیچارہ کسان۔ اس زمانے تک مکیش نے وہ گانا بھی نہیں گایا تھا ‘میں پریشاں ہو مجھے اور پریشاں نہ کرو’، سو کسان اسے گا کر بھی اپنے دل کا بوجھ کم نہیں کر سکتا تھا۔ ناچار گرو کی بات ماننا پڑی۔ ویسے شکر ہے گرو نے ایک عارضی پریشانی میں مبتلا کیا اسے اور اگلی ملاقات پر کسان کو گائے اور بکری کو کمرے سے نکالنے کی اجازت دے دی، جس پر کسان اسی طرح تہہ دل سے شکر گزار ہوا تھا جیسے بجلی کا بل زبردستی پچاس ہزار روپے آجائے تو سائل اسی بات پر بچھ بچھ جاتا ہے کہ اسے یہ بل قسطوں میں ادا کرنے کی اجازت مل گئی۔

تو آئیے اے خواتین و حضرات! اگر آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہے تو ہمارے پاس آئیے۔ ہم پریشان کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ ہمارا نام ڈاکٹر ہے، ہمارا نام ٹیچر ہے۔ ہمارا نام ساس ہے، ہمارا نام داماد ہے۔ ہم وکیل ہیں، ہم پولیس ہیں، ہم نادرا ہیں، ہم ٹیکس وصول کرنے والے ہیں۔ ہم ٹرانسپورٹر ہیں۔ ہم بلدیہ ہیں۔ ہم منصف ہیں ہم مفتی ہیں۔ اور “ہم آپ کے حاکم ہیں”۔ آپ کہ سہولت کے لیے ہم نے آپ کے گھر کے دروازے پر آپ کو پریشان کرنے کا بھی بندوبست کیا ہوا ہے۔ بس ایک کال پر ہم حاضر۔ آزمایش شرط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غفور شہزاد: مزاح نہ آئے تو قصے واپس -------- اظہر عزمی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20