ماں کی ترجیح: ملازمت یا گھر؟ —- وحید مراد

0

مشہور فلسفی فوکالٹ کے مطابق “جدید انسان سترھویں صدی کی پیداوار ہے اس سے قبل اس قسم کے انسان کا کوئی معاشرتی وجود نہیں تھا”۔ تحریک تنویر سے قبل مغرب میں بھی انسان خدا کا بندہ تھا اور اس کا مقصد حیات اپنے نفس کو خدا کی رضا کے آگے جھکا دینا تھا اسی طرح انسانی زندگی کا مقصد دنیاوی زندگی کو پرلطف بنانا نہیں بلکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ وہ انسان یہ تصور نہیں کرتا تھا کہ یہ زندگی اسکو کسی حق کے طور پر دی گئی ہے اور وہ اسے جیسے چاہے گزارے بلکہ وہ اس زندگی کا مقصد آزمائش اور حصول رضائے الہی تصور کرتا تھا۔ لیکن جدید انسان خود کو قائم بالذات اور آزاد تصور کرتے ہوئے زندگی کو اپنا حق سمجھتا ہے اور اسکا خیال ہے کہ اسے اپنے ہر ارادے اور خواہش کو پورا کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ مگر یہ مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک مادی ترقی نہ ہو کیونکہ مادی ترقی ہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے خواہشات کی زیادہ سے زیادہ تکمیل ہوتے ہوئے آزادی اور مساوات کا اظہار ممکن ہے۔

ہر ارادے اور خواہش کی تکمیل کیلئے جس سرمائے کی ضرورت ہے اسکا حصول صرف مادی ترقی کی جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قانع نہیں ہو سکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کیلئے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے اس لئے اب دنیا کے ہر خطے میں خواتین کے لئے گھر سے باہر جاب کرنا قابل قبول ہو چکا ہے۔ اس لئے اب اچھی اور سچی ماں کا روائیتی تصور بھی تبدیل ہو گیا ہے اور اسکی جگہ ذمہ دار ماں ‘intensive mother’ کا تصور آگیا ہے۔ ذمہ دار ماں کیلئے بچوں کی پرورش، نگرانی اور انکی ضروریات پوری کرنے کا کام اپنے ہاتھ سے سرانجام دینا ضروری نہیں۔ وہ جاب میں مصروف ہو تویہ کام کسی اور فرد یا ادارے کے ذریعے بھی کروا سکتی ہے۔ اور جو والدین یہ ذمہ داری بھی نہیں نبھاتے انکے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری ریاست لے لیتی ہے۔

ماں کے مذکورہ کردار میں تبدیلی کے باجود دنیا بھر میں بالغوں کی ایک بڑی تعداد، یعنی 27 فیصد خواتین اور 29 فیصد مردوں کی یہ خواہش ہے کہ عورتوں کو جاب کی بجائے گھر میں رہنا چاہیے اور بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت کرنی چاہیے۔ ان ترجیحات کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں مذہبی خیالات، تہذیبی روایات اور عملی مسائل مثلاً بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات اور مناسب سہولیات تک رسائی نہ ہونا شامل ہیں۔ امریکہ میں بچوں کی دیکھ بھال پر آنے والے اخراجات کالج کی تعلیم سے زیادہ ہوتے ہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے حکومتی سطح پر کوئی معقول بندوبست نہیں ہے۔ ساٹھ فیصد امریکی والدین کے مطابق انہیں گھر کے پاس، بچوں کی مناسب دیکھ بھال کے قابل اعتماد ذرائع میسر نہیں ہیں اور کام کرنے والی خواتین کیلئے بچوں کی دیکھ بھال ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

ایک کنیڈین محقق Adrienne (کوآرڈینیٹر آف پالیسی اینڈ کمیونیکیشن، نیشنل فائونڈیشن فار فیملی ریسرچ) کے مطابق

“آجکل کی معاشی مسابقت کی صورتحال میں کنیڈین لوگ بچوں کی پرورش کے حوالے سے ڈے کئیر کو غیر تسلی بخش حل تصور کرتے ہیں اور اگر انکے پاس مناسب ذرائع موجود ہوں تو چھوٹے بچوں کی پرورش کے حوالے سے والدین میں سے کسی ایک کےگھر پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور حکومت کیلئے یہ ممکن نہیں کہ تمام لوگوں کو انکی پسند کے مطابق معیاری ڈے کئر سینٹرز مہیا کرے”۔

کنیڈیین عورتوں کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے کہ جب انکے ہاں بچے ہوں تو وہ گھر پر رہ کر بچوں کی پرورش کریں لیکن Joseph Michalski کی ایک رپورٹ کے مطابق

“کنیڈین معاشرے میں والدین میں اس بات پر وسیع پیمانے پر اتفاق رائے نہیں پایا جاتا کہ جب انکے ہاں بچے ہوں تو انکی پرورش کے حوالے سے ان میں سے کسی ایک کو لازمی طور پر گھر پر رہنا چاہیے یا نہیں۔ بہت سی مائیں یہ چاہتی ہیں کہ وہ بچوں کی اچھی پرورش کیلئے گھر پر رہیں لیکن بہت سی معاشی اور سماجی ضروریات اور مشکلات کے تحت سب کیلئے ایسا فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہوتا اور انہیں پارٹ ٹائم یا فل ٹائم جاب کرنا ہی پڑتی ہے”۔

چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد فیملی پلاننگ کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک سے زائد بچے پیدا کرنے پر پابندی لگادی گئی تھی اور یوں چین نے خواتین کی بڑی تعداد کو افرادی قوت میں شامل کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ خواتین کو آزادی سے ہمکنار کر دیا گیا ہے۔ لیکن اسی چین نے 2016 میں دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی اور اسکے ساتھ ہی مردوں کی چھٹیاں کم کرکے خواتین کی چھٹیاں بڑھا دیں۔ چین میں اب حاملہ عورتیں 190 دن تک کی چھٹیاں مع تنخواہ لے سکتی ہیں۔ مگر چونکہ پرائیویٹ کمپنیاں یہ سب سہولیات مہیا نہیں کر سکتیں اس لئے اب وہ خواتین کو مردوں کی نسبت ترجیح نہیں دیتیں اور یوں چین کی افرادی قوت میں عورتوں کی تعداد بھی مسلسل کم ہو رہی ہے لیکن اب چین اس بات کو عورتوں کی آزادی کے خلاف قدم قرار نہیں دیتا۔

2016 -2017 میں چین کے سرکاری میڈیا نے “گھر واپس آنے والی خواتین” کی خوبیوں کے حوالے سے ایک عوامی آگہی کی مہم چلائی جس میں بتایا گیا کہ خواتین کا گھر میں رہنا نہ صرف بچوں کی افزائش، نشونما، تعلیم و تربیت کیلئے مفید ہے بلکہ خاندان کے استحکام کا بھی باعث ہے اور پورے معاشرے پر بھی اسکے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی مہم کے دوران پوسٹرز کے ذریعے بتایا گیا کہ “اچھی ماں بننا خواتین کیلئے سب سے بڑی کامیابی ہے”۔

امریکہ میں صنفی مساوات، تعلیم، روزگار اور سیاست میں قابل ذکر ترقی کے باوجود، مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین گھروں میں رہتی ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک جنہوں نے جنسی برابری کو خاص طور پر فروغ دیا ہے ان میں بھی اگرچہ خواتین کی لیبر فورس بڑھی ہے لیکن پھر بھی مردوں کے مقابلے میں کم ہے۔ بچوں کی پیدائش کے بعد مائوں کی ایک بہت بڑی تعداد ملازمت سے دستبردار ہو جاتی ہے یا پارٹ ٹائم ملازمت کو ترجیح دیتی ہے OECD ممبر ممالک میں پارٹ ٹائم کام کرنے والی خواتین کی تعداد 26 فیصد ہے جبکہ پارٹ ٹائم کام کرنے والوں مردوں کی تعداد صرف 7 فیصد سے بھی کم ہے۔

خواتین کی جاب کی شرح کا طلاق، علیحدگی اور گھریلوں جھگڑوں وغیرہ سے بھی بہت گہرا تعلق ہے۔ ان ممالک میں چونکہ ایک بہت بڑی تعداد ان مائوں کی پائی جاتی ہے جو single parent ہیں اور گذر بسر کرنے کیلئے جاب کرنا انکی مجبوری ہوتی ہے اس لئے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ خواتین کی بہت بڑی تعداد جاب کرتی ہے۔ جاب کرنے والی خواتین میں سے اگر غیر شادی شدہ خواتین اور اکیلی رہنے والی خواتین کو الگ کر دیا جائے تو جاب کرنے والی ان خواتین کی تعداد بہت ہی کم رہ جاتی ہے جو اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں بھی خواتین گھر کے کام اور کنبہ کی دیکھ بھال پر مردوں سے دوگنا زیادہ وقت گزارتی ہیں اور بغیر معاوضہ کے گھریلو کام کے علاوہ کنبہ کے بزرگوں اور بیماروں اور ضرورتمند افراد کی نگہداشت کا کام بھی سرانجام دیتی ہیں۔

صنفی مساوات کے قائل فیمنسٹ اسکالر گھر میں رہنے والی مائوں کی مخالفت کرتے ہیں اور کچھ تو بچے پیدا کرنے کو قابل مذمت فعل سمجھتے ہیں۔ وہ صرف ان عورتوں کو ماڈرن سمجھتے ہیں جو اپنے کیرئیر پر توجہ دیتی ہیں، مردوں کے مقابلے میں ہر کام کرنے کو تیار ہوتی ہیں اور اپنی آزادی کے حصول کیلئے اپنی ذہانت اور قابلیت کا استعمال کرنا جانتی ہیں۔ مثلاً 1975 میں فرانسیسی فیمنسٹ Simone de Beauvoir نے کہا تھا کہ

“کسی بھی عورت کو گھر میں رہنے اور بچوں کی پرورش کا اختیار نہیں دینا چاہیے کیونکہ اگر عورتوں کو انتخاب کا اختیار دیا جائے تو زیادہ تر اسی بات کا انتخاب کریں گی کہ انہیں گھر پر رہنا ہے”۔

ابھی حال ہی میں آسٹریلین میگزین اسٹیلر کی چیف اڈیٹر Sarrah Le Marquan نے لکھا ہےکہ

“اسکول کی عمر کے بچوں کی مائوں کا گھر پر رہنا غیر قانونی قرار دیا جانے چاہیے کیونکہ صنفی مساوات تو اسی وقت قائم اور برقرار رہ سکتی ہے جب خواتین مردوں کی طرح گھر سے باہر کام کریں، پیسے کمائیں اور گھر کے اندر بھی تمام کام کاج میاں، بیوی مل کر بانٹیں اور مساوی طور پر سرانجام دیں”۔

کچھ ممالک میں فیمنزم کے مذکورہ خیالات کے زیر اثر خواتین کو لیبر فورس میں شامل ہونے کیلئے ترغیبات دی جاتی ہیں مثلاً معاشی آزاددی، خود انحصاری، ریٹائرمنٹ کے بعد بیٹیوں کیلئے رول ماڈل بننے کے فوائد، خاندان کے معاشی استحکام، بیماری اور معاشی بدحالی سے نمٹنے کا بندوبست اور دیگر مراعات شامل ہیں۔ لیکن اسکے باوجود خواتین کی اکثریت اب بھی گھر پر رہنے یا جز وقتی کام کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ مثلاً امریکہ میں 2015 میں ہونے والے گیلپ سروے کے مطابق وہ خواتین جن کے بچوں کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہوتی ہیں انکی نصف سے زیادہ تعداد گھر سے باہر کام کرنے کی بجائے گھر پر رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔ وہ خواتین جن کے بچوں کی عمریں اٹھارہ سال سے زیادہ ہیں انکی بھی 40 فیصد تعداد گھرکے اندر کردار ادا کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

فیمنزم کے سب نظریات اور مفروضات کا بنیادی مقصد عورتوں کو انتخاب کی آزادی دینے کی حمایت کرنا ہے۔ مثلاً اجرت کی مساوات اور کیرئیر کےانتخاب کےپیچھے یہ سوچ ہے کہ عورت کے پاس اپنی ملکیت اور وسائل ہوں تاکہ وہ مرد کی مرہون منت نہ ہوں اور اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے۔ اینٹی ہراسمنٹ پالیسی اور سسٹم بنانے کے پیچھے یہ محرک ہے کہ عورت کو جنسی انتخاب میں آزادی ہو اور وہ اپنی مرضی سے جو چاہے جنسی فیصلہ کرے۔ لیکن اسی اصول کے تحت ان عورتوں کو انتخاب کی آزادی کیوں نہیں دی جا رہی جو اپنی مرضی سے گھر پر رہنے اور گھر کے کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ انکے بارے میں یہ کیوں سمجھ لیا گیاہے کہ وہ اپنے حقوق سے غافل ہیں۔

جب ہم اپنی مرضی سے کیرئیر کا انتخاب کرتے ہیں تو جتنا وقت ہم اس کیرئیر پر لگاتے ہیں وہ وقت ہم اپنی بیوی بچوں کے ساتھ تو نہیں گزار سکتے ہیں گویا ہم فیملی کو دئے جانے والے وقت کی قربانی دے کر کیرئیر بناتے ہیں بالکل اسی طرح جو خاتون گھر سنبھالتی ہے اور بچوں کی پرورش کرتی ہے اور اپنی فیلی کو وقت دیتی ہے اسے اس وقت کو قربان کرنا پڑتا ہے جو وہ کیرئیر پر لگا سکتی تھی۔ وقت کی قربانی تو دونوں صورتوں میں ہے پھر کیا وجہ ہے کہ فیمنسٹ اسکالر ایک طرح کی وقت کی قربانی کو توقابل قبول سمجھتے ہیں لیکن دوسری طرح کی وقت کی قربانی کو قابل قبول نہیں سجھتے۔

اگر گھر پر رہنے والی خاتوں یہ سمجھتی ہے کہ اسکا یہ فیصلہ اسکے انفرادی صوابدیدی اختیارات کے مطابق ہے تو پھر اسکے اس انتخاب اور کیرئیر کا انتخاب کرنے والی خاتوں کے فیصلے میں کسی بھی قسم کا فرق روا نہیں رکھا جانا چاہیے لیکن فیمنسٹ اسکالر اور رہنما اس میں تفریق کرتے ہیں اور بے جا مداخلت کرکے اپنے ہی اصول آزادی انتخاب کی نفی کرتے ہیں۔ انہیں یا کسی ریاستی ادارے کو اس وقت تک اس معاملے میں مداخلت کا کوئی حق نہیں پہنچتا جب تک کسی خاتون کو گھر پر رہنے اور کیرئیر کا انتخاب نہ کرنے کے معاملے میں دھونس، جبر یا زبردستی کا سامنا نہ کرنا پڑ رہا ہو اور اسکی کوئی باقاعدہ شکایت یا تصدیق موجود نہ ہو۔ اگر کسی شکایت کے بغیر لوگوں کے انتخاب اور آگاہی کے بارے میں مفروضوں کی بنیاد پر مداخلت کی جائے گی تو اسے متعصبانہ رویے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

فیمنسٹ اسکالر اور رہنما اس بات کے معتقد کیوں ہو گئے ہیں کہ فیمنسٹ ہونے کیلئے ضروری ہے کہ خاتون جاب کرتی ہو، بچے پیدا کرنے میں دلچسپی نہ رکھتی ہو، خاوند، بچوں اور خاندان کی خدمت کرنے کو اپنی توہین سمجھتی ہو، خاوند سے ہر معاملے میں برابری کرنے کیلئے طلاق تک نوبت آنے اور گھر کے اجڑنے کی بھی پرواہ نہ کرتی ہو وغیرہ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قطعاً ضروری نہیں کہ آپ کی شخصیت کا ایک پہلو آپ کی پوری شخصیت کی مکمل نمائندگی کرتا ہو۔ ہوسکتا ہے ایسی خواتین بھی ہوں جو یہ سب کرتے ہوئے بھی فیمنزم کی حامی نہ ہوں اور ہو سکتا ہے ایسی خواتین بھی ہوں جو مذکورہ تمام باتوں سے نفرت کرتی ہوں لیکن پھر بھی خواتین کے حقوق کی حمایت کرتی ہوں۔

اسی طرح اگر کوئی حاملہ خاتون جاب چھوڑ کر گھر میں اس وقت تک رہنا چاہتی ہو جب تک اسکا پیدا ہونے والا بچہ سمجھدار اور خودمختار نہ ہوجائے تو ضروری طورر پر اسکا یہ مطلب نہیں کہ جب تک وہ آفس میں کام کر رہی تھی وہ فیمنسٹ تھی اور اب گھر میں بیٹھ جانے پر اس نے فیمنزم کو چھوڑ دیا ہے۔ سیاست انسانی شخصیت اور کردار کا صرف ایک پہلو ہوتا ہے اور یہ بالکل ضروری نہیں کہ وہ اسکی شخصیت اور کردار کے تمام پہلوئوں پر حاوی ہو۔ Puglia اپنی کتاب “Free Women, Free Men” میں لکھتی ہیں کہ

“فیمنسٹ ماہرین کے نزدیک افزائش نسل اور تولیدی معاملات کی اہمیت اور احترام صفر سے بھی کم ہے اور فیمنزم نے کبھی بھی زندگی میں ماں کے کردار کے ساتھ دیانتداری سے کام نہیں لیا”۔

خواتین کے گھر پر رہنے یا کام کرنے کے حوالے سے بہت سی تحقیقات ہو چکی ہیں۔ جن محققین نے اپنی تحقیقات سے اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں گھر پر رہنے کے حق میں دلائل دئےانکے مطابق خاتون کے گھر پر رہنے سے بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت بہتر انداز سے ہوتی ہے، انکی تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے، بچوں میں تنہائی کا احساس، چڑچڑاپن اور غصے جیسی کیفیات کم ہوتی ہیں اور ایسی خواتین کے گھر اور خاندان میں اطمینان پایا جاتا ہے۔ اسکے مقابلے میں وہ محقیقین جو خواتین کے کام کرنے کے حق میں دلائل دیتے ہیں انکے مطابق خواتین کچھ عرصہ کیلئے تو بچوں کی پرورش کے دوران گھر پر وقت گزار سکتی ہیں لیکن یہ دورانیہ جب بہت طویل ہو جاتا ہے تو خواتین میں دوبارہ کام پر جانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے تاکہ وہ مالی طور پر مستحکم ہوں، اپنے اکیلے پن اور چڑچڑے پن کو ختم کر سکیں، اور سماجی کردار نبھانے کی خواہش کو پورا کر سکیں۔

Pew ریسرچ سینٹر فار سوشل اینڈ ڈیموگرافک ٹرینڈز کے مطابق 60 فیصد امریکن کا کہنا ہے کہ اگر والدین میں سے کم از کم ایک گھر پر بچوں کے ساتھ رہے تو انکی پرورش اچھی ہوتی ہے جبکہ 35 فیصد کا کہنا ہے کہ اگر والدین میں سے دونوں کام کرتے ہوں تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح Bettinger (2014) کی ایک تحقیق کے مطابق چھوٹے بچوں سے لیکر ہائی اسکول تک کے وہ بچے جن کی تعلیم و تربیت میں والدین خصوصی دلچسپی لیتے ہیں اور اسکے لئے اپنا وقت نکالتے ہیں انکی کارکردگی ان بچوں سے زیادہ اچھی ہوتی ہے جن کے والدین انکی تعلیم و تربیت کیلئے وقت نہیں دے پاتے یا اس میں خصوصی دلچسپی نہیں لیتے۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اور انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ڈیویلپمنٹ (University of Minnesota) نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ جن بچوں کی پرورش ڈے کئیر سینٹرز میں ہوتی ہے انکے غصے اور چڑچڑے پن کا لیول ان بچوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جنکی پرورش گھر میں ماں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔

سینٹر فار ٹیلنٹ انوویشن کی ایک تحقیق کے مطابق امریکہ میں تقریباً 90 فیصد مائوں کی خواہش ہوتی ہے کہ جب انکے بچے ذرا بڑے ہوجائیں تو وہ پارٹ ٹائم یا فل ٹائم کچھ نہ کچھ ایسا کام کریں جس سے انہیں آمدن ہو۔ 2012 کے گیلپ پول کے مطابق وہ خواتین جو زیادہ عرصے سے گھر پر ہوتی ہیں ان میں تنہائی، پریشانی، دبائو اور غصے کے احساسات ان خواتین سے زیادہ ہوتے ہیں جو کام کرتی ہیں۔

جہاں تک تحقیقات کی بات ہے تو وہ مختلف قسم کے مشاہدات کی روشنی میں مختلف قسم کے نتائج اخذ کرتی رہتی ہیں۔ آپ اگر کسی ایک تحقیق کی تجاویزکے مطابق اپنا کوئی لائحہ عمل بنائیں گے تو اگلے روز ایک ایسی تحقیق آجائے گی جو اسکے بالکل الٹ تجاویز دے گی۔ بالآخر آپ کو ایسا لائحہ عمل بنانا پڑے گا جو آپ کے گھر اور خاندان کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کرتا ہو اور جس کو اپنا کر آپ اور آپکا خاندان زیادہ سے زیادہ خوشی اور سکون حاصل کر سکیں۔ کوئی بھی تحقیق آپ کو یہ معلومات تو دے سکتی ہے کہ اس معاشرے میں بہت سے لوگ کس انداز سے سوچتے اور عمل کرتے ہیں لیکن خاص طور پر آپکے گھر اور خاندان کی کیا ضرورت ہے اسکے حوالے سے کوئی رہنمائی نہیں کر سکتی۔ آپکے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپکو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپکا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی دوسرے گھر اور خاندان کا فیصلہ ہو سکتا ہے انکے لئے بہترین ہو لیکن آپ کیلئے مفید نہ ہو اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کیلئے قابل عمل ہو۔

References:

  1. Duncan, Apryl (2019), Surprising Facts and Research About Stay at Home Moms? https://www.verywellfamily.com/research-stay-at-home-moms-4047911
  2. The “mothers would rather stay at home’ argument https://www.childcarecanada.org/sites/default/files/Chap%206.pdf
  3. R, Elizabeth, Pare & Heather E. Dillaway (2005) “Staying at Home” versus “Working” A call for Broader Conceptualizations of parenthood and Paid Work https://quod.lib.umich.edu/cgi/p/pod/dod-idx/staying-at-home-versus-working-a-call-for-broader.pdf?c=mfr;idno=4919087.0010.105;format=pdf
  4. Stubbings, Trisha (2015) “Its not all a Hollywood film is it? Discourses of stay at home mothers over thirty” https://mro.massey.ac.nz/bitstream/handle/10179/7578/02_whole.pdf
  5. Richardson, Sophie (2017) “China Tells Women to ‘Go Home and Live Well’” https://www.hrw.org/news/2017/08/28/china-tells-women-go-home-and-live-well

6. Qin, Amy (2019) “A Prosperous China Says ‘Men Preferred‘ and Women Lose” https://www.nytimes.com/2019/07/16/world/asia/china-women-discrimination.html

  1. Touhy, Wendy (2015) “ A Women’s place is in the home. Really? https://www.dailytelegraph.com.au/rendezview/a-womans-place-is-in-the-home-really/news-story/ddcba9c52f07ec6b99171956d64b9f6b
  2. Chamie, Joseph (2018) “More Women Stay at Home Than Men” https://yaleglobal.yale.edu/content/more-women-stay-home-men
  3. Public Views on Staying at Home Vs. Working https://www.pewsocialtrends.org/2014/04/08/chapter-4-public-views-on-staying-at-home-vs-working/

10. Women at Work post World War II . https://www.striking-women.org/module/women-and-work/post-world-war-ii-1946-1970

11. Mothers Should Stay at Home . http://louisganzlerwebspace.weebly.com/uploads/1/3/2/7/13279623/mothers_should_stay_at_home.pdf

12. Redkar, Nikita (2016) “5 Sexist Assumptions About Stay at Home Moms All Feminists Need to Shut Down”. https://everydayfeminism.com/2016/03/myths-stay-at-home-moms

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20