راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 6) —- یاسر رضا آصف

0

سمیر کے نہانے کے بعد میں نے بھی دلیرانہ فیصلہ لیا اور غسل خانے میں گھس گیا۔ پہلا پانی کا ڈبہ سر پر ڈالنے کے بعد خوب صلواتیں سنانے لگا۔ باہر قہقہوں کی آواز سے مجھے اندازہ ہوگیا مجھے پھنسایا گیا تھا۔ پانی اتنا ٹھنڈا تھا جتنا کوئی شخص کھل کر جھوٹ بول سکے۔ جسم پر کپکپی طاری تھی۔ میں جب باہر آیا تو تینوں کمرے سے باہر کھڑے دانت نکال رہے تھے اور میری بے بسی پر جملے کس رہے تھے۔ میں نے باتوں کی پرواہ نہ کی اور فوراً کمبل میں گھس گیا۔ باقی سب بھی میری دیکھا دیکھی کمبلوں میں دبک گئے۔ کافی دیر تک ٹھنڈا پانی گفتگو کا موضوع بنا رہا۔ میں نے آپ بیتی سنانی شروع کی۔ خانیوال سے آگے ملتان روڈ پر تحصیل کبیروالا آتا ہے۔ وہاں سے آگے ایک قصبہ بلاول پور ہے۔ ایک شادی کے سلسلے میں وہاں جانا ہوا۔ جنوری کا آدھا مہینہ گزر چکا تھا۔ دھند ابھی بھی تخت پر براجمان تھی۔ سفید چادر چاروں جانب خیمے کی صورت تنی ہوئی تھی۔ سورج کو درشن دیے کافی دن بیت گئے تھے۔ دوسرے روز نہانے کا پروگرام بنا تو میزبان نے بتایا کہ یہاں پر مسجد سے ملحقہ کچھ غسل خانے بنائے گئے ہیں۔ مقامی لوگ وہاں ہی جا کر نہاتے ہیں۔

ایک چھوٹا لڑکا تولیہ اور صابن لیے گائیڈ کے فرائض سر انجام دیتا ہوا مجھے ان غسل خانوں تک لے گیا۔ گائوں کی سڑکیں کافی کشادہ تھیں۔ گلیاں البتہ تنگ تھیں۔ ہم بھینسوں کے طبیلوں اور گھروں کے صحنوں سے گزرتے ہوئے مسجد تک جاپہنچے۔ آٹھ دس غسل خانے ایک قطار کی صورت میں بنے ہوئے تھے۔ جن پر لکڑی کے دروازے لگے تھے۔ غسل خانوں کے اوپر لمبائی کے رخ پانی کی ٹینکی تھی۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ وہاں عروج پر تھی۔ چوبیس گھنٹوں میں بمشکل چار یا پانچ گھنٹے ہی بجلی ٹکتی تھی۔ ٹینکی کی چھت سے ایک نل غسل خانے میں جھانک رہا تھا۔ ویسے غسل خانہ پکا تھا اور صاف بھی تھا۔ میں نے دروازے کی رسی کو کیل میں پھنسایا اور اپنے کپڑے دروازے پر ٹانک دیے۔ بند دروازے کے اوپر سے آسمان کی سفیدی کو واضح دیکھا جا سکتا تھا۔ دھند کے ساتھ ٹھنڈ اور سردی بھی اندر آرہی تھی۔ غسل خانوں کے سامنے فصلیں تھیں اور دور تک یہ سلسلہ چلا جاتا تھا۔ دھند میں کھیتوں کا کچھ حصہ ہی نظر آرہا تھا۔

میں نے بسم اللہ پڑھتے ہوئے نل کھولا اور اناللہ پڑھتے ہوئے فوراً بند کردیا۔ پانی ٹینکی میں اللہ جانے کب سے ٹھہرا ہوا تھا اور شدید ٹھنڈا تھا۔ جیسے تیسے کرکے نہانے کی رسم ادا کی اور گائوں والوں کی بہادری پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ جب باہر آیا تو کپکپی تھی کہ روکے سے بھی نہ رکتی تھی۔ وہاں لوگ دھڑا دھڑ نہا رہے تھے اور چہرے پر مسکان سجائے باہر آرہے تھے۔ ساری شادی میں نے ٹھٹھرتے کانپتے گزاری۔ میں نے اپنی بات ختم کی تو سبھی ہنسنے لگے۔

بلال نے برطانیہ کی برفباری اور سردی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ سمیر نے فیری میڈوز کی روداد چھیڑ دی۔ بہرحال شبیر نے صرف سننے پر اکتفا کیا اور کوئی بات نہ سنائی۔ ہم لوگ کمرے سے باہر بالکونی میں آگئے۔ موسم کی ٹھنڈک نے اب مزہ دینا شروع کردیا تھا۔ گرمیوں کے مہینے میں ایسی سردی کا لطف ہم نے پہلے کبھی نہیں اٹھایا تھا۔

جب بلال ادھر ادھر ہوا تو سمیر نے دھیرے سے ہمیں بتایا کہ بلال شروع دن سے انگریزوں کی تلاش میں ہے اسے گوریوں کی کسک یہاں تک کھینچ کر لائی ہے۔ ہم سب قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔ سبھی اپنے کمروں سے باہر بالکونی میں آچکے تھے۔ جرسیاں، جیکٹس اور طرح طرح کے سوئیٹرز زیب تن کیے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ تصاویر لے رہے تھے اور کھانے کا پروگرام بنا رہے تھے۔

ہوٹل سے نکل کر سبھی لوگ ڈھلوانی سڑک پر آگئے۔ اردگرد خشک میوہ جات، گرم کپڑوں اور دستکاری کی مصنوعات کی دکانیں سجی ہوئی تھیں۔ بازار میں خاصی چہل پہل تھی۔ لوگ دکانوں پر خریداری میں مصروف تھے۔ فٹ پاتھ پر چلنے والوں کی کثرت تھی۔ بازار کی چہل پہل میں موجود لوگ چہرے مہرے سے آسودہ گھرانوں سے لگ رہے تھے۔ کھانے کے لیے چارپائی ہوٹل کا انتخاب کیا گیا۔ چارپائیاں مربع شکل میں لگا دی گئیں۔ درمیان میں پلاسٹک کے میز رکھے گئے۔ شنواری دنبے کے گوشت سے تیار کی گئی کڑاہی کو کہتے ہیں جو دودھ کی بالائی اور مکھن سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ مقامی ڈش ہے اور اس علاقے میں خاصی مقبول بھی ہے۔ شنواری کے ساتھ بڑی نان نما روٹی منگوائی گئی۔ سب لوگ مزے لے لے کر کھانا کھاتے رہے اور ساتھ طرح طرح کے چٹکلے بھی سناتے رہے۔

روشنی کا تعلق باہر کی نسبت اندر سے زیادہ گہرا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد جیسے دماغ اور آنکھیں روشن ہو گئیں۔ بلال، سمیر اور میں چہل قدمی کے لیے نکل گئے۔ بلال نے چلتے چلتے اچانک قہوہ کی خواہش ظاہر کی۔ سمیر بھی بضد تھا کہ قہوہ لازمی پینا ہے۔ سردی کافی تھی۔ مجھے دونوں کی خواہش کے سامنے شکست تسلیم کرنا پڑی۔ ویسے انسان شکست کھا جائے تو ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ میں تو جیت رہا تھا۔ بس غلطی ہو گئی اور ہار گیا۔ حالاں کہ اس میں مدِمقابل کی محنت اور ذہانت بھی شامل ہوتی ہے۔ میں نے اپنی دانست میں مشورہ دیا کہ قہوہ مقامی بندے سے پینا چاہیے۔

بلال برطانیہ پلٹ ہے۔ مشینوں پر حد درجہ اعتماد رکھتا ہے۔ انسانی دستکاری اور ہنر مندی سے مبرّا ہو کر سوچتا ہے۔ وہ ہمیں ایک بڑے شاہانہ ہوٹل کے سامنے پڑی الیکٹرانک مشین تک لے گیا۔ قہوے کا حکم صادر کیا گیا۔ قہوے کا ذائقہ گرین ٹی سے گیا گزرا تھا۔ دونوں نے گھونٹ بھر کر بیک وقت میری طرف دیکھا اور یک زبان اقرار کیا ’’تو ٹھیک کہہ رہا تھا یار۔ ہمیں قہوہ پٹھان لڑکے سے ہی پینا چاہیے تھا‘‘۔ میں نے پنجوں کے بل ہو کر خود کو بڑا محسوس کیا۔ انسان مشورہ بھی کسی کے فائدے سے زیادہ اپنی برتری قائم کرنے کے لیے دیتا ہے۔

بلال نے تینوں کپ اسے واپس کیے اور بحث کرنے لگا۔ وہ باقاعدہ اشتعال میں آگیا۔ دکان دار لڑکے کو بے نطق سنانے لگا۔ ہم نے مل کر اسے سنبھالا اور حوصلہ دیا۔ بلال کی طبیعت ایسی نہیں ہے چوں کہ اس نے قہوے کے روپے بھرے تھے شاید اس لیے دلی تکلیف محسوس کر رہا تھا۔ روپے پیسے کا زیاں بھی عجیب ہے۔ انسان کا دامن پکڑ لیتا ہے اور ذہن سے جونک کی طرح چمٹ جاتا ہے۔ آپ کتنی کوشش کرلیں اسے اپنے وجود سے الگ نہیں کرسکتے۔ ہم تینوں پٹھان لڑکے کے پاس پہنچ گئے۔

وہ لڑکا فٹ پاتھ پر مداری کی طرح مختلف جڑی بوٹیاں سجائے بیٹھا تھا۔ گیس پر چلنے والا چولہا تھا اور اوپر گول کیتلی رکھی تھی۔ اس نے ہمیں جو قہوہ دیا وہ واقع ہی قہوہ تھا۔ ہم نے تعریف کی تو وہ کھِل اٹھا۔ رنگ برنگی باتیں بتانے لگا۔ اس نے بتایا کہ میرا تعلق بالاکوٹ سے ہے۔ میں چھوٹا سا تھا جب زلزلہ آیا۔ میں اپنی والدہ کے ساتھ صحن میں بیٹھا تھا۔ دادی کمرے میں تھی۔ زلزلے سے ہمارا مکان ملبہ بن گیا۔ دادی وفات پا گئی۔ بہت سے لوگ جاں بحق ہوئے۔ جب زلزلہ آیا تو کچھ لوگ امداد کرنے والے تھے اور کچھ ایسی حالت میں بھی لوٹ مار کرنے والے تھے۔

ملبے سے لاشیں نکالتے ہوئے جب ایک شخص عورت کے کنگن نہ اتار سکا تو اس نے عورت کا بازو کاٹ کر اپنی قمیض میں چھپا لیا۔ چیک پوسٹ پر سے گزرا تو ٹپکتے خون کی وجہ سے پکڑا گیا۔ ایسی اور کئی طرح کی کہانیاں سننے کے بعد ہم بازار کی جانب پلٹ آئے۔ بلال نے انکشاف کیا ’’بندہ جب مرجاتا ہے تو اس کا خون جم جاتا ہے۔ یہ ٹپکتے ہوئے خون والی بات میری سمجھ میں نہیں آئی‘‘ ہم نے بے ساختہ اس نکتے پر غور کیا تو بلال کی ذہانت کی داد کی۔ ’’تم نے پٹھان لڑکے کے سامنے یہ بات کیوں نہیں کی‘‘؟ میں نے بلال کو ٹٹولا۔ بلال مسکرادیا اور بات کا رخ کسی اور طرف موڑ دیا۔ بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ وہ جس ماحول میں لندن رہ کر آیا ہے وہاں منھ پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اخلاقیات کے تقاضے کے مطابق وہ بات سب کی سنتے ہیں ٹوکتے نہیں۔

ہم کھلنڈرے ماحول میں رہنے والے لوگ ہیں۔ پاکستان میں بڑی سے بڑی بات منھ پر کہنا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ کسی بھی بات پر اعتراض کرنا، مخالف بیان دینا، دلیل کے بغیر چیخنایا سرے سے انکاری ہو جانا ہمارے ہاں معمول کی بات ہے۔ ہمارے ہاں چرب زبانی عقل مندی تصور کی جاتی ہے۔

سمیر اور بلال نے ہوٹل پر چلنے کا کہا ’’یار تم لوگ چلو میں تھوڑی دیر ٹہلنا چاہتا ہوں‘‘ میں نے جیسے تنہائی کے لیے مہلت مانگی۔ میری بات سننے کے بعد دونوں نے اثبات میں گردن ہلائی اور مجھے فٹ پاتھ پر چھوڑ کی واپس مڑ گئے۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور سگریٹ سلگا لی۔ سگریٹ کا سوچنے سے کیا تعلق ہے آج تک میں یہ نہیں جان سکا۔ پر جب یہ سلگتی ہے تو سوچ کسی نہ کسی سمت چل پڑتی ہے۔ خود بہ خود ہی منظر پہ منظر دکھائی دینے لگتا ہے۔ میں نے سگریٹ کو پائوں سے مسلا اور جیبوں میں ہاتھ ڈال کر خراماں خراماں ٹہلنے لگا۔ میں ہر منظر کو اپنے اندر جذب کرنا چاہ رہا تھا۔ لوگوں کے چہروں کی رونق کو آنکھوں کی پتلیوں میں قید کرنا چاہتا تھا پر آنکھوں میں بھی تصویروں کی ایک حد تک گنجائش ہوتی ہے۔

واپسی پر ٹہلتے ہوئے اس قہوے والے لڑکے نے سلام کیا۔ مجھے کٹے بازو والی بات یاد آگئی۔ زبیر اسلام آباد میں رہتا تھا۔ وہ قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھتا اور ساتھ پیزا ڈلیوری کے طور پر اپنا جیب خرچ بھی بنا لیتا۔ ٹیوشن وغیرہ بھی پڑھاتا۔ محنت شاید اس کی گھٹی میں تھی۔ خیر ایک روز ہم بیٹھے مختلف موضوعات پر گفتگو کر رہے تھے کہ زلزلہ جسے گزرے چند ماہ ہی ہوئے تھے گفتگو کا مرکز بن گیا۔ محفل میں موجود ہر بندے نے اپنی اپنی دانست کے مطابق گفتگو شروع کردی۔ زبیر نے آپ بیتی سنانی شروع کی۔

اسلام آباد میں موسم اس دن بہت خوشگوار تھا۔ میں موٹر سائیکل پر یونیورسٹی جانے سے پہلے پیزا دے کر واپس آرہا تھا۔ اچانک زمین ہلنے لگی۔ موٹر سائیکل ڈول گئی۔ میں اپنے کمرے میں پہنچا، تیار ہوا اور یونیورسٹی کے لیے نکلا۔ راستے میں ایک دوست کو بھی لینا تھا جو ہر روز میرے ساتھ جاتا تھا۔ وہ شروع دن سے بڑا سست تھا۔ میں کھڑا کافی دیر انتظار کرتا پھر جا کر کہیں وہ آتا۔ یہ روز کا معمول بن چکا تھا۔ اس نے آتے ہی کہا کہ شاید آج چھٹی ہو۔ زلزلہ نے مارگلہ ٹاورز گرا دیے ہیں۔ ہم ٹاورز کے بہت ہی قریب تھے۔ یونیورسٹی کو بھول گئے اور ٹاورز والی جگہ پر پہنچے۔ ملبہ ہٹایا جارہا تھا۔ مقامی آبادی کے سبھی نوجوان مدد کررہے تھے۔ ہم لوگ بھی فٹا فٹ جا پہنچے۔ جو میں نے دیکھا بتانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ سبزی منڈی سے پلٹتے ہوئے مزدوروں کے جتھے نے اپنا کام دکھا دیاتھا۔ وہ کیلے کے لُنگر کے کاٹنے کے لیے درانتی جیسا تیز دھار آلہ ستعمال کرتے ہیں۔ وہ زلزلے کے فوراً بعد پہنچ گئے تھے۔ زیادہ تر عورتوں کے ہاتھ کٹے ہوئے تھے۔ کان اور ناک بھی چیرے پڑے تھے۔ لاشوں کی ایسی بے حرمتی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ مجھے ابکائیاں آنے لگیں۔ ایسی طبیعت خراب ہوئی کہ دو دن تک بستر پر پڑا رہا۔ چیک پوسٹ پرپکڑا جانا چھوڑ کر مجھے قہوہ والے لڑ کے کی بات میں صداقت نظر آتی تھی۔ ہم اندر سے سفاک اور لالچی لوگ ہیں۔ شریف النفس وہ ہے جسے موقع نہ ملے۔ ہمیں جیسے ہی موقع ملتا ہے ہوس اور لالچ ہم پر سوار ہوجاتی ہے۔ میں ایسی ہی بہت سی باتیں سوچتا ہوا ہوٹل پہنچ گیا۔ مجھ پر یاسیت کی گرفت کافی مضبوط ہوچکی تھی۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میں تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا تیسری منزل پر پہنچ گیا۔ میری سانس پھول چکی تھی۔ میں بالکونی میں کھڑا ہو کر اکھڑی ہوئی سانسوں کو درست کرنے لگا۔ دو کمروں کو تالا لگا ہوا تھا اور تیسرے کمرے سے آوازیں آرہی تھیں۔

یہ کمرہ اسلام کا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا۔ تمام لوگ سلنڈر کے اردگرد بیٹھے آگ تاپ رہے تھے۔ چائے پیتے ہوئے ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے۔ فخر نے مجھے جگہ دی اور میں سلنڈر چولہے کے پاس بیٹھ گیا۔ اسلام نے چائے کا کپ لبالب بھر کر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں میکانکی انداز میں کپ سے چسکیاں بھرنے لگا۔ وہ سب جو کہہ رہے تھے وہ پس منظر میں چلا گیا۔ میں ابھی تک ملبے سے کٹی پھٹی لاشیں نکالنے میں مصروف تھا۔ عابد نے میرے شانے پر ہاتھ رکھا تو میں جیسے تڑپ گیا۔ اس نے مسکراتے ہوئے مجھے گفتگو میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ مجھے واپس آنا پڑا۔ میں یاسیت کا جال اپنی ہنسی سے کاٹنے لگا۔ جال کافی مضبوط تھا اور قہقہوں کے دانت نوکیلے بھی نہیں تھے۔ مجھے خاصی محنت کرنا پڑی۔ اگلے روز کی پلاننگ شروع ہو گئی۔ ہر شخص کی اپنی اپنی رائے تھی۔ کچھ کا خیال تھا کہ صبح ہوتے ہی یہاں سے نکل جائیں اور شام تک ہم لوگ ہنزہ کی وادی میں ہوں گے۔ وہاں رات گزاری جائے اور اگلی صبح چائنہ بارڈر تک جایا جائے اور راستے میں عطا آباد جھیل پر رک کر واپس آجائیں گے۔ اگلے روز جی بھر کر ہنزہ کی وادی دیکھی جائے پھر گلگت سے ہو کر ناران آئیں گے۔ اگر وقت ہوا اور زیادہ نہ تھکے تو آسانی سے جھیل سیف الملوک دیکھ سکیں گے۔ کسی نے نلتر جھیل کا ٹہوکا لگایا تو کوئی فیری میڈوز کے گیت گانے لگا۔ مگر کچھ دوست صبح جھیل سیف الملوک جانے کے لیے زور دے رہے تھے۔ خیر جتنے منھ اتنی باتیں والی صورتِ حال تھی۔

پہلے بات چیت ہوئی پھر دلیل سے سمجھانے کی کوشش ہونے لگی۔ پھر بات بحث تک جا پہنچی۔ ٹیلی ویژن سے لے کر روز مرہ کی زندگی تک ہم لوگ بحث کے عادی ہو چکے ہیں۔ دوسروں کو اپنی مرضی پر لانے کے لیے طرح طرح کے حوالے دینا ہمارا وتیرہ بن چکا ہے۔ ہم نے لاحاصل بحث کو اپنا مشغلہ بنا رکھا ہے۔ مجھے بحث پسند نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ بات سلیقے اور دلیل سے ہو اور فیصلہ جمہوری ہو۔ بالآخر فیصلہ میری مرضی کے مطابق جمہوری سطح پر طے پا گیا اور اگلے روز جھیل سیف الملوک دیکھنے کا پروگرام کینسل ہوگیا۔ ہم ہنزہ کی وادی کے حسین نظارے آنکھوں میں سجائے اپنے اپنے بستروں میں گھس گئے۔

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیئے۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20