راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 5) —- یاسر رضا آصف

0

میں اور بلال دونوں کولر سمیت صحیح سلامت اپنے دوستوں تک پہنچ گئے۔ وہاں عجب ہی سماں تھا۔ اسلام سلنڈر کے چولہے پر پتیلا دھرے چائے بنا رہا تھا۔ یہ دریا کے اندر کا علاقہ تھا۔ کچھ دوست مختلف ٹولیوں میں بکھرے ہوئے سیلفیاں بنانے میں مصروف تھے۔ کچھ پہاڑوں کی اونچائی کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے۔ کچھ جوتوں کو اتارے ٹھنڈے پانی میں پائوں ڈبوئے سگریٹ کے کش لے رہے تھے۔ میں نے بھی جھٹ سے جوتے اتارے۔ پائینچے اوپر چڑھائے اور ٹھنڈے پانی میں جا کھڑا ہوا۔ میں جس تیزی سے پانی میں گیا تھا اس سے دگنی رفتار سے واپس آگیا۔ پانی بے حد ٹھنڈا تھا۔ میں نے یہ عمل کئی مرتبہ دہرایا۔ میں ٹھنڈے پانی میں زیادہ دیر پائوں رکھ نہیں پا رہا تھا۔

اسلام نے نوید سنائی کہ چائے تیار ہوگئی ہے۔ سب نے اپنے اپنے بیگ سے کپ نکالے اور چائے لینے کے لیے پہنچ گئے۔ یہاں سے روانہ ہونے سے قبل ہی یہ طے ہوگیا تھا کہ ہر بندہ اپنے اپنے استعمال کے برتن ساتھ لے کر جائے گا تا کہ کسی قسم کی کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ بلال نے اپنا جگ نما کپ اسلام کے آگے کر دیا۔ اسلام کپ دیکھ کر سہم سا گیا۔ اگر وہ کپ بھر دیتا تو چائے ختم ہو جاتی۔ اسلام کی بے بسی اور بلال کی دیدہ دلیری دیکھنے والی تھی۔ اس تضاد کو دیکھ کر سبھی ہنسنے لگے۔ کنارے پر کئی پتھر بکھرے ہوئے تھے۔ جس پر آسانی سے بیٹھا جا سکتا تھا۔ ایک پتھر جو کافی اونچا تھا اس پر ایک شخص بیٹھا مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔ چھوٹے پتھر پانی کے مسلسل بہائو کی وجہ سے گیلے اور پھسلن زدہ ہو چکے تھے۔ ان کی گولائی قدرتی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت تھی اور ان کی نمی مسلسل بھیگے رہنے کی گواہ تھی۔

میں نے اپنا کپ لیا اور مچھیرے کے پاس جا کر بڑے پتھر پر بیٹھ گیا۔ مجھے وہاں تک پہنچنے میں پھسلن کے باعث خاصی دشواری ہوئی۔ میں قریب سے مچھلیاں پکڑنے کے عمل کو دیکھنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے سلام کیا اور چائے کا پوچھا۔ اس نے بھرپور مسکراہٹ سے نفی میں سر ہلا دیا۔ اجنبی کے سر پر پٹھانی ٹوپی تھی۔ اس کا رنگ سفید تھا جس میں سرخی کی جھلک تھی۔ چہرے پر مونچھیں قرینے سے سجی ہوئی تھیں اور اس نے سرمئی رنگ کی واسکٹ پہن رکھی تھی۔ اس نے اپنے قریب ایک شاپر میں کسی جانور کے دل کے ٹکڑے رکھے ہوئے تھے۔ وہ سرخ لوتھڑے کو چاقو سے کاٹتا پھر اسے کانٹے پر لگا کر دریا میں اپنی پوری قوت سے پھینک دیتا اور گراری کو چکر دینے لگتا۔ میکانکی انداز میں وہ اس عمل کو مسلسل دہرا رہا تھا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے دو تین شکار بھی پکڑ لیے۔ جالی دار تھیلے میں وہ انھیں رکھتا گیا۔ مچھلیاں زیادہ بڑی نہیں تھیں مگر اس کے چہرے پر کھیلتی ہوئی مسرت کئی گنا بڑی تھی۔

میں دھیرے دھیرے چسکیاں لے کر چائے پینے کا عادی ہوں۔ کئی لوگ تو چائے کے کپ کو ٹرے سے اٹھانے کے بعد اس وقت ہی رکھتے ہیں جب ختم کرچکے ہوتے ہیں۔ میرا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ میں پہلے اسے نیم گرم ہونے دیتا ہوں۔ پھر ہلکے ہلکے گھونٹ لیتا ہوں۔ دریا کا شور ناگوار نہیں گزر رہا تھا۔ چائے کی لذت اور میری سوچ میں یہ شور مخل نہیں ہو رہا تھا بلکہ ان لمحات کو میرے لیے حسین یاد میں تبدیل کر رہا تھا۔ اور اب صورت حال یہ ہے کہ جب بھی میں تنہا بیٹھ کر چائے پیتا ہوں تو آنکھیں میچ لیتا ہوں۔ خود کو اسی پتھر پر بیٹھا محسوس کرتا ہوں۔ میرے سامنے دریائے کنہار اپنے شفاف پانی کی جھاگ اڑاتا ہے۔ مترنم شور کرتا ہے۔ مجھے اس شور میں پہاڑوں کا نغمہ سنائی دیتا ہے۔ جیسے کسی نے رباب پر کوئی دھن چھیڑ دی ہو پر اس سب میں مچھیرا کہیں نہیں ہوتا۔

جھاگ اڑاتے پانی نے میرے اندر بھی جھاگ اڑانا شروع کردی۔ میں پتھر پر بیٹھا خود بھی پتھر ہوگیا۔ بارش کے بعد کھیتوں اور کھلیانوں سے چھوٹے چھوٹے مینڈک کے بچے کچی سڑک پر پھدک رہے تھے۔ میں اور میرا دوست خرم انھیں پکڑنے میں مگن تھے۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے ہاتھ انھیں قابو میں لانے کے لیے کبھی کھلتے تو کبھی بند ہوجاتے۔ ہماری بے حد کوشش کے بعد ایک آدھ ہمیں پکڑائی دے جاتا تو ہم خوشی سے اچھلتے اور گیند بنی مٹھی میں اس کی ہلچل سے گدگدی محسوس کرتے۔ مینڈکوں کے بچوں سے کھیلتے اور اپنے بچپنے سے لطف اندوز ہوتے ہم راجباہ کے پل پر پہنچ گئے۔ جہاں پانی کی رفتار کو بڑھانے کے لیے تھوڑی اونچائی دے کر چھوٹی سی مصنوعی ڈھلوان بنائی گئی تھی۔ جسے مقامی لوگ جھال کے نا م سے پکارتے ہیں۔ یہیں سے ایک چھوٹا سا کھال شمال کی جانب بھی کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے نکالا گیا تھا۔ زیادہ تر بچے اس چھوٹے کھال میں ہی نہایا کرتے تھے۔ اس روز ہلکی ہلکی بوندا باندی وقفے وقفے سے جاری تھی۔ نہانے والا کوئی نہیں تھا۔ ہماری توجہ ڈھلوان سے گرتے پانی پر تھی۔ ڈھلوان کے آگے پانی جھاگ بناتا تھا اور گول گول چکروں میں گھومتا تھا۔ اس جھاگ میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پھدک رہی تھیں۔ ہم نے مینڈک کے ننھے کھلونوں کو چھوڑ کر مچھلیاں پکڑنے کا ارادہ بنایا۔

دونوں نے اپنی اپنی قمیضیں اتاریں انھیں آپس میں گانٹھیں لگائیں اور ایک دستی جال تیار کرلیا۔ بازوئوں کی طرف سے ایک کونہ اس نے تھام لیا اور ایک میں نے پکڑ لیا۔ ہم کنارے پر کھڑے ہو کر اسے جھال میں ڈبکیاں دینے لگے۔ کافی دیر یہ کھیل جاری رہا۔ بالآخر ایک مچھلی کپڑے میں پھنس گئی۔ ا س کی تڑپ اس قدر زیادہ تھی اور ہمارے لیے اچانک بھی تھی کہ ہمارے ہاتھوں سے کونے چھوٹ گئے۔ دونوں قمیضیں جھاگ میں ڈبکیاں کھانے لگیں اور آنکھوں سے اوجھل ہوگئیں۔ ہم اتنے سیانے ضرور تھے کہ چھلانگ نہیں لگائی۔ جھکی گردنوں اور افسردہ چہروں کے ساتھ اپنے اپنے گھرلوٹ آئے۔ ایک آواز نے مجھے پتھر سے دوبارہ جیتے جاگتے جسم میں تبدیل کردیا۔ یہ آواز سمیر کی تھی جو کوچ کا نقارہ بجا رہی تھی۔ ہم نے اپنے اپنے کپ دھوئے۔ انھیں بیگ میں رکھا اور دوبارہ سامان چھت پر باندھنے لگے۔ کام کے معاملے میں، میں خاصہ سست ہوں۔ مجھ سے کوئی مشورہ لے لے جی بسم اللہ۔ کسی موضوع پر اظہارِ خیال کروالے مگر کام کرتے ہوئے جان جاتی ہے۔ میں نے گاڑی کے پاس کھڑے ہو کر خوب مشورے دیے پر سامان کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔

ہماری گاڑی دوبارہ سڑک پر دوڑنے لگی۔ بالا کوٹ حسین اور خوب صورت یادوں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ ہم سے دور ہوتا چلا گیا۔ گاڑی پُرپیچ راستوں پر چلتی ہوئی کاغان کی وادی میں داخل ہوگئی۔ وادی کاغان میں مناظر کی یکسانیت نہیں ہے۔ ہر موڑ کے بعد ایک نیا منظر کھل جاتاہے۔ جسے آپ کیمرے کی آنکھ سے محفوظ نہیں کرسکتے ہیں۔ انسانی آنکھ جس تفصیل اور باریک بینی سے منظر کو دیکھتی ہے ویسے کیمروں کی مدد سے ممکن نہیں۔ میں نے بارہا کوشش کی۔ ایک ڈی۔ ایس۔ ایل کیمرے کی مدد بھی لی۔ میں ویسا امیج بنانے میں ناکام رہا جیسا اپنی آنکھ سے دیکھ رہا تھا۔ انسانی آنکھ کا تعلق دل سے بھی ہوتا ہے۔ اس طرح آنکھ کے ساتھ جذبات بھی وابستہ ہیں۔ یہ کہہ کر میں نے خود کو تسلی دی اور آنکھوں کے عدسوں پربھروسہ کرتے ہوئے ذہن پر تصاویر کو محفوظ کرنے لگا۔ فطرت اپنی جادوگری کے ساتھ ہر جگہ چھائی ہوئی تھی۔ مجھے ذہنی سکون مل رہا تھا اور اندر کی ہلچل کم ہوتی جارہی تھی۔

گاڑی ناران میں داخل ہوئی توشام اپنے پر تول رہی تھی۔ اردگرد سبز پوش پہاڑ نہایت دلکش معلوم ہو رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شام نے رات کا لبادہ اوڑھ لیا۔ سبھی پہاڑ پس منظر میں چلے گئے اور ان کے ہیولے دکھائی دینے لگے۔ یہ ہیولے حفاظت کا احساس دلا رہے تھے۔ پہاڑوں میں گھرے آپ خود کو کسی قدر محفوظ تصور کرتے ہیں جیسے یہ ہر آنے والی آفت کو اپنے سینے پر روکنے کے لیے ایستادہ ہوں۔ جیسے جیسے رات بڑھتی گئی بازار کی چہل پہل میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

ناران دراصل ایک سڑک پر مشتمل ہے جو ڈھلوان کی صورت ہے اور مسلسل اونچائی کی جانب بڑھتی جاتی ہے۔ ارد گرد دکانیں ہیں، مارکیٹیں ہیں اور ہوٹل ہیں۔ عابد نے بتایا کہ چند سال قبل ایسا منظر نہیں تھا چند ایک دکانیں تھیں۔ باقی سنسانیت کے ڈیرے تھے۔ پر اب وہاں لوگوں کی چہل پہل دیکھنے کے قابل تھی۔ اسلام نے صاحبزادہ صداقت کے ذریعے پہلے ہی ’’سکون ہوٹل‘‘ کا انتخاب کر رکھا تھا۔ ہم وین سے اتر گئے اور وین کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے ہوٹل کی پارکنگ تک جا پہنچے۔ تین منزلہ ہوٹل کے بالمقابل ایک خالی پلاٹ تھا جسے پارکنگ کے لیے چھوڑا گیا تھا۔ سامنے ایک داڑھی والا باوقار نوجوان رجسٹر پر مختلف ناموں کے اندراج میں مصروف تھا۔

نوجوان نے کاروباری مسکان کے ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا۔ ہمارے ناموں کا اندراج کیا۔ اس نے ایک کمرہ دکھایا۔ جس کے فرش پر پتھر لگا تھا اور واش روم بھی خاصہ دیدہ زیب تھا۔ ہم فوراً ریجھ گئے۔ تیسری منزل پر تین کمروں کی چابیاں ہمارے حوالے کر دی گئیں۔ ہم بارہ لوگ تھے اور تیرہواں ڈرائیور تھا۔ میرے ساتھ کمرے میں سمیر، شبیر اور بلال تھے۔ ڈبل بیڈ کے ساتھ ایک چھوٹا لکڑی کا بیڈ بھی تھا جو چارپائی سے مشابہ تھا۔ بلال نے جاتے ہی اس پر قبضہ جما لیا۔ ایک میٹرس اور کمبل ہوٹل والوں نے فرش پر رکھ چھوڑا تھا جو شبیر کے حصہ میں آیا۔ میں نے اور سمیر نے ڈبل بیڈ کو ایک رات کے لیے ملکیت جانا۔ بستر صاف ستھرے اور آرام دہ تھے۔

کمرے کی چھت پر پلاسٹر کا کام دیکھنے لائق تھا۔ دیواریں رنگا رنگ ثقافتی تصاویر سے مزین تھیں۔ ریسیپشن پر موجود لڑکے نے ہمیں بتایا تھا کہ گرم پانی صبح نو بجے سے گیارہ بجے تک میسر ہوگا۔ ہم میدانی علاقوں کے عادی لوگ گرم پانی کی اہمیت سے واقف نہ تھے۔ سبھی لوگ وائی فائی کا کوڈ لگا کر دھڑا دھڑ تصاویر پوسٹ کرنے میں مصروف ہوگئے۔
’’کمرہ تو جاندار ہے سونے کا مزہ آئے گا‘‘ شبیر نے رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’یہ تو کچھ بھی نہیں انگلینڈ میں اس سے کھلے واش روم ہوتے ہیں‘‘۔ بلال نے اپنا روایتی انداز اپناتے ہوئے مغربی بالا دستی کا جھنڈا بلند کیا۔ ’’یار ہم نے یہاں سونا ہے کرکٹ نہیں کھیلنی ‘‘ میں نے حسبِ سابق بات کا رخ موڑا۔ ’’نہانے کا کیا پروگرام ہے؟‘‘ سمیر نے موبائل کی سکرین پر بدستور نظریں جمائے ہوئے پوچھا تو سبھی نے ہاں میں ہاں ملائی۔ شبیر نے کپڑے اٹھائے اور نہانے چلا گیا۔ واپسی پر اس نے ہمیں تسلی دی۔ ’’پانی زیادہ ٹھنڈا نہیں ہے۔ ساری تھکاوٹ اتر گئی۔ مزہ آگیا یار‘‘۔ بلال نے حوصلہ کیا اور نہا لیا۔ سمیر نے موبائل چارجنگ پر لگایا اور مجھ سے ناران کی خوبصورتی پر باتیں کرنے لگا۔ خوبصورتی سے زیادہ ہماری گفتگو کا موضوع کھانا تھا۔ بھوک اپنے زوروں پر تھی۔ اس لیے بار بار بات کا رخ کھانوں کی اقسام کی جانب خود بہ خود ہی ہو جاتا تھا۔

میری نانی مجھے ایک بات سنایا کرتی تھیں۔ کسی کا داماد جب سسرال پہنچا تو سواری نہ ہونے کے باعث پیدل چل کر گیا۔ فاصلہ پندرہ بیس کوس ہوگا۔ گھر والوں نے لسی پانی تو پلایا پر روٹی نہ دی۔ سسرالی گھر ہونے کی وجہ سے اس نے بھی برملا اظہار نہ کیا۔ رات کو آگ تاپتے ہوئے پہیلیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جس پہیلی کا بھی جمائی راجہ سے پوچھا جاتا اس کا جواب روٹی ہوتا۔ ساس سمجھدار عورت تھی فوراً بولی پہلے روٹی پکا کردو بعد میں باتیں کرنا۔ ساس نے اندرونی معاملہ بھانپ لیا اور یوں اس کے پیٹ کی آگ بجھ گئی۔ ہمارا حال بھی اسی جمائی راجہ جیسا تھا۔ پر وہاں کوئی سمجھدار ساس کا کردار ادا کرنے والا ابھی تک موجود نہیں تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20